89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 89:1–2

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

قسم ہے فجر کی

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی،

ان آیات میں چند سابقہ قوموں کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے جو امت حاضرہ کے لیے باعث عبرت و موعظت ہے، پہلے پانچ چیزوں کی قسم کھائی : اولاً فجر کی قسم کھائی جیسا کہ اسی طرح سورة التکویر میں ﴿ وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ0018﴾ فرما کر صبح کی قسم کھائی۔ ثانیاً دس راتوں کی قسم کھائی اور دس راتوں سے عشرہ اولیٰ ذی الحجہ کی راتیں مراد ہیں درمنثور میں بروایت حضرت جابر بن عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے یہی نقل کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر ؓ سے بھی یہی منقول ہے۔ بعض احادیث میں ان دنوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ذی الحجہ کے ان دس دنوں میں نیک عمل کرنا دوسرے تمام دنوں میں نیک عمل کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ان دنوں کا عمل دوسرے دنوں میں جہاد کرنے سے بھی زیادہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں جہاد کرنے سے بھی افضل ہے، الا یہ کہ کوئی شخص ایسی حالت میں نکلا کہ اس نے اپنی جان و مال کو دشمنوں سے مقابلہ کرتے ہوئے ختم کردیا پھر کچھ بھی لے کر واپس نہ ہوا۔ (صحیح بخاری صفحہ 132: ج 1)
Ayah 89:3

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت کی اور طاق کی،

ثالثاً : ﴿وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ003﴾ جفت اور طاق کی قسم کھائی، جفت جوڑے کو اور طاق بےجوڑے کو کہتے ہیں سنن ترمذی (ابواب التفسیر) میں حضرت عمران بن حصین ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ﴿وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ﴾كے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے نماز مراد ہے (کیونکہ) بعض نمازیں ایسی ہیں جو شفع ہیں یعنی دو یا چار رکعت کر کے پڑھی جاتی ہیں اور وتر سے وہ نمازیں مراد ہیں جن کی طاق رکعتیں ہوں یعنی مغرب اور وتر کی نماز۔ وفیہ راو مجھول۔ تفسیر در منثور میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وتر اللہ کی ذات ہے اور تم سب لوگ شفع ہو پھر حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا فرمایا آسمان ہے اور زمین ہے خشکی ہے اور سمندر ہے، انسان ہیں اور جن ہیں، چاند ہے اور سورج ہے اور ذکور ہیں، اناث ہیں یعنی مرد اور عورت اور اللہ تعالیٰ وتر ہے یعنی تنہا ہے وفیہ اقوال آخر۔
Ayah 89:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی، جب وہ چلنے لگے،

رابعاً : ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَسْرِۚ004﴾ فرمایا اس میں رات کی قسم کھائی، لفظ یسر مضارع کا صیغہ ہے۔ امام حفص (رح) کی قرات میں ” ی “ حذف کردی گئی ہے سری یسری سرناً جانے کے معنی ہیں اسی لیے حصرت ابن عباس ؓ نے ﴿ اِذَا يَسْرِ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کما قال فی الدر المنثور کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رات کی قسم ہے جب وہ چلی جائے سورة التکویر میں بھی یہ قسم گزری ہے وہاں ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ0017﴾ فرمایا ہے۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیا اس میں قسم ہے عقل والے کے لیے،

چاروں قسموں کے بعد فرمایا ﴿ هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍؕ005﴾ کیا اس میں قسم ہے عقل والے کے لیے۔ یہ استفہام تقریری ہے جس سے تاکید کلام مقصود ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ قسمیں سمجھدار آدمی کے لیے کافی ہیں۔ قال صاحب الروح تحقیق وتقریر لفخامة الاشیاء المذکورة المقسم بھا وکونھا مستحقة لان تعظم بالاقسام بھا فیدل علٰی تعظیم المقسم علیہ و تاکیدہ من طریقہ الکنایة۔ قسموں کے بعد جواب قسم محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ آپ مخاطبین میں جو لوگ منکر ہیں ان کا انکار پر اصرار کرنا عذاب لانے کا سبب ہے جیسا کہ ان سے پہلے مکذب اور منکر امتیں اور جماعتیں ہلاک ہوئیں اسی طرح یہ منکرین بھی ہلاک ہوں گے۔
Ayahs 89:6–7

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا تیرے رب نے کیا کیا قوم عاد کے ساتھ

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

جو قوم ارم تھی یہ لوگ ستون والے تھے

اس کے بعد بعض گزشتہ اقوام کی بربادی کا تذکرہ فرمایا خطاب بظاہر رسول اللہ ﷺ کو ہے اور آپ کے واسطہ سے تمام انسانوں کو ہے تاکہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں یہاں ان اقوام کی ہلاکت کا اجمالی تذکرہ فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں دیگر مواقع میں ان کے تفصیلی حالات جگہ جگہ مذکور ہیں، فرمایا ﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ006﴾ (کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا جو ارم نام کے ایک شخص کی نسل میں سے تھے اور ذات العماد تھے) ان کے بڑے بڑے قد تھے، مشہور ہے کہ ان کے قدر بارہ ہاتھ کے تھے (كما ذکرہ فی الروح) یہ ذات العماد کا ایک معنی ہے اور بعض حضرات نے اس کا لغوی یہ معنی لیا ہے کہ وہ لوگ ستونوں والے تھے خیمے لیے پھرتے تھے جنگلوں میں جہاں سبزہ دیکھا وہیں خیمے لگا دیتے تھے اور خیموں کو ستونوں سے باندھ دیتے تھے پھر جب سبزہ ختم ہوجاتا تھا تو اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے تھے۔
Ayah 89:8

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

ان کے جیسے لوگ شہروں میں پیدا نہیں کیے گئے

﴿ الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ۪ۙ008﴾ اس قبیلہ کے لوگ ایسے تگڑے اور قوت والے تھے کہ ان جیسے شہروں میں پیدا نہیں کیے گئے۔ اسی قوت کے زور پر انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ كون ہے جو قوت کے اعتبار سے ہم سے زیادہ سخت ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا کا عذاب بھیج دیا جو سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط رہی اور سب ہلاک ہو کر رہ گئے۔ روح المعانی میں لکھا ہے کہ ارم حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام بن نوح کا بیٹا تھا اور عاد اور بن عاصی اس کا پوتا تھا۔ وھو عطف بیان لعاد للایذان بانھم عاد الاولی وجوز ان یکون بدلا ومنع من الصرف للعلمیة والتانیث باعتبار القبیلة وصرف عاد باعتبار الحیی وقد یمنع من الصرف باعتبار القبیلة ایضا۔
Ayah 89:9

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور قوم ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں پتھروں کو تراشا

قرآن مجید میں کئی جگہ قوم عاد کی ہلاکت کا تذکرہ ہے سورة اعراف اور سورة ٴ ہود کی تفسیر کا مطالعہ کرلیا جائے۔ ﴿وَ ثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بالْوَادِ۪ۙ009﴾ اور قوم ثمود کے ساتھ آپ کے رب نے کیا معاملہ کیا جنہوں نے وادی القریٰ میں پتھروں کو تراش لیا تھا، قوم ثمود کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا یہ لوگ حجاز اور شام کے درمیان رہتے تھے ان کے رہنے کی جگہ کو حجر کہا جاتا تھا اور وادی القری بھی کہتے تھے۔ سورة الحجر میں فرمایا :﴿وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِيْنَۙ0080 وَ اٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَۙ0081 وَ كَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ 0082 فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِيْنَۙ0083 فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَؕ0084﴾ (اس میں شک نہیں کہ حجر والوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں دیں سو وہ ان سے روگردانی کرنے والے تھے اور وہ امن وامان سے رہتے ہوئے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنا لیتے تھے سو صبح کی چیخ نے ان کو پکڑ لیا سو ان کے کچھ بھی کام نہ آیا جو وہ کماتے تھے) ۔ ان لوگوں کی ہلاکت اور بربادی کا قصہ سورة ٴ اعراف، سورة ٴ ہود اور سورة ٴ شعراء سورة ٴ نمل میں گزر چکا ہے، ان لوگوں نے جو پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے تھے۔ وہ ابھی تک باقی ہیں، رسول اللہ ﷺ تبوک تشریف لے جاتے وقت ان کی بستیوں سے گزرے تو سر ڈھانک لیا اور سواری کو تیز کردیا اور فرمایا کہ روتے ہوئے یہاں سے گزر جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اوپر بھی عذاب آجائے۔ (رواہ البخاری)
Ayah 89:10

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا،

﴿وَ فِرْعَوْنَ ذِي الْاَوْتَادِ۪ۙ0010﴾ یہ بھی ما قبل پر معطوف ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کے رب نے فرعون کو ہلاک کردیا جو میخوں والا تھا۔ عاد وثمود کی طرح وہ بھی ہلاک ہوا اور اس کی حکومت بھی اور ڈوبنے کے عذاب میں مبتلا ہوا۔ لفظ الاوتاد، وتد کی جمع ہے وتد عربی میں میخ کو کہتے ہیں۔ فرعون کو جو ﴿ذِي الْاَوْتَادِ﴾ (میخوں والا) فرمایا اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کے بہت سے لشکر اور بہت سے خیمے تھے۔ لشکر جہاں جہاں ٹھہرتے تھے وہاں خیمے لگاتے تھے اور میخیں گاڑتے تھے اس لیے فرعون کے بارے میں ﴿ذِي الْاَوْتَادِ﴾ فرمایا اور ایک قول یہ ہے کہ فرعون جب کسی کو سزا دیتا تھا تو چار میخیں گاڑ کر ان میخوں سے اسے باندھ دیتا تھا، پھر اس کی پٹائی کرواتا تھا، یا دوسری سزا دیتا تھا۔
Ayah 89:11

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی،

بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا کہ اسے لٹا کر ہاتھوں میں کیلیں گڑواتا تھا۔ سورة ص کے پہلے رکوع میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے۔ ﴿الَّذِيْنَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ۪ۙ0011﴾ یہ قومیں جن کا اوپر ذکر ہوا (عاد اور ثمود اور فرعون) انہوں نے شہروں میں سرکشی کی اور نافرمانی میں بہت آگے بڑھ گئے۔
Ayah 89:12

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

سو انہوں نے بہت فساد مچایا،

﴿فَاَكْثَرُوْا فِيْهَا الْفَسَادَ۪ۙ0012﴾ (سو ان لوگوں نے شہروں میں زیادہ فساد کردیا) ۔ کفر و شرک اور طرح طرح کی نافرمانیاں اللہ کے بندوں پر ظلم ان سب چیزوں میں منہمک ہوگئے اور بڑھ چڑھ کر برے اعمال و اشغال کو اختیار کیا۔
Ayah 89:13

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

سو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔

﴿فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ0013﴾ (سو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا) ۔ لفظ صب کا اصل ترجمہ (ڈال دیا) ہے اور ترجمہ میں اردو کا محاورہ اختیار کیا گیا ہے یعنی ان لوگوں پر برابر طرح طرح کا عذاب نازل کیا جاتا رہا۔ جب کسی کو زیادہ سخت سزا دینی ہو تو کثیر تعداد میں کوڑوں سے پٹائی کی جاتی ہے اسی طرح ان لوگوں پر مسلسل طرح طرح کا عذاب آتا رہا اور بالآخر صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا رب گھات میں ہے۔

﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ۠ؕ0014﴾ (بلاشبہ آپ کا رب گھات میں ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال اور احوال سے غافل نہیں ہے اسے سب کچھ خبر ہے جو نافرمان دنیا میں موجود ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ سابقہ اقوام ہی عذاب کی مستحق تھیں ہم عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ دنیا میں اگر کوئی شخص جرم کر کے بھاگنے لگے اور اس کے راستہ میں پکڑنے والے بٹھا دیئے جائیں جو خوب گہری نظروں سے دیکھتے رہیں اور گھات میں لگے رہیں کہ یہاں سے کب گزرے اور کب پکڑیں، اسی طرح سمجھ لیں کہ مجرمین پکڑے جائیں گے یہ نہ سمجھیں کہ ہم کہیں بھاگ کر بچ جائیں گے۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ﴾ میں اس مضمون کو ادا فرمایا ہے۔ قال صاحب الروح والمرصاد المکان الذی یقوم بہ الرصد ویترقبون فیہ، مفعال من رصدہ کالمیقات من وقتہ وفی الکلام استعارة تمثیلیة الی آخرہ۔
Ayahs 89:15–16

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

سو انسان کو اس کا پروردگار جب آزماتا ہے سو اس کا اکرام فرماتا ہے اور اسے نعمتیں دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے میرا اکرام کیا

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب وہ اس کو آزماتا ہے سو اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔

ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ شانہ نے ابتلاء اور امتحان کا تذکرہ فرمایا ہے اور ساتھ ہی انسان کا مزاج بھی بتادیا۔ اللہ تعالیٰ شانہ اپنے بندوں کا کبھی انعام و اکرام کے ذریعہ امتحان لیتا ہے اور کبھی ان کے رزق میں تنگی فرما کر آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ مضمون، مضمون سابق سے متصل ہے اسی لیے مضمون کے شروع میں ”“ لائی گئی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے مخاطبین ہیں انہیں چاہیے تھا کہ سابقہ اقوام کے احوال سے عبرت لیتے اور نصیحت پکڑتے اور کفر و شرک اور نافرمانی سے توبہ کرتے لیکن انسانی مزاج کے مطابق انہوں نے اپنا وہی دنیاداری کا مزاج بنا رکھا ہے اور یہ دنیاداری کا مزاج اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری پر نہیں آنے دیتا، دنیا کی نعمتیں مل جانا اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبولیت کی دلیل نہیں ہے اور دنیا کی چیزوں سے محروم ہونا، رزق کی تنگی ہونا، یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مردود ہے اسی لیے کافر بھی تنگ دست اور مالدار ہوتے ہیں اور اہل ایمان میں بھی دونوں طرح کے بندے پائے جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ انعام و اکرام اور فقر و فاقہ اور تنگدستی ان احوال میں مبتلا کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان لیا جاتا ہے انسان پر لازم ہے کہ نعمتیں مل جائیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اس کی نافرمانی نہ کرے اور تکبر کی شان اختیار نہ کرے اور اپنے مال پر نہ اترائے اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ چیزیں دے کر میرا امتحان کیا گیا ہے اور اگر تنگدستی کی حالت آجائے پیسہ پاس نہ ہو مال چلا جائے نعمتیں جاتی رہیں تو صبر سے کام لے نہ اللہ تعالیٰ کی شکایت کرے نہ نافرمانی کرے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے۔
Ayahs 89:17–18

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم یتیم کا اکرام نہیں کرتے

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے

ان آیات میں اول تو انسان کے اس خیال کی تردید فرمائی کہ مالدار ہونا اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہونے کی اور تنگدست ہونا اللہ تعالیٰ کا مردود بندہ ہونے کی دلیل ہے اور اس کو ﴿كَلَّا ﴾ فرما کر بیان فرمایا یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا تم سمجھتے ہو۔ اس کے بعد انسانوں کی دنیاداری اور حب مال کا مزاج بیان فرمایا ﴿ بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَۙ0017 وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِۙ0018﴾ (بلکہ تم لوگ یتیم کا اکرام نہیں کرتے (جو مدد کا مستحق ہے) اور نہ صرف یہ کہ یتیم کا اکرام نہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کا کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتے۔
Ayahs 89:19–20

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال سے بہت محبت رکھتے ہو۔

﴿ وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ0019﴾ (اور تم میراث کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو) ۔ جب کوئی مرنے والا مرجاتا ہے تو مال کی محبت کی وجہ سے دوسروں کے حصوں کا مال بھی کھا جاتے ہو چھوٹے بچے جو یتیم ہوتے ہیں اور مرنے والوں کی بیویاں جو بیوہ ہوجاتی ہیں اور جو وارث غائب ہوتے ہیں ان سب کا مال جس کے ہاتھ لگ جاتا ہے لے اڑتا ہے اور اصحاب حقوق کو نہیں دیتا۔ ﴿ وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ0020﴾ (اور تم مال سے بہت محبت رکھتے ہو) اس آخری جملہ میں جب مال کی مذمت فرما دی، جتنے طریقوں سے بھی مال حاصل کیا جاتا ہے ان سب طریقوں میں لگ کر جو لوگ مال کے کمانے میں منہمک ہوجاتے ہیں اور آخرت کو بھول جاتے ہیں اور احکام شرعیہ کا لحاظ نہیں رکھتے اور نماز سے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہوجاتے ہیں آیت شریفہ کے الفاظ میں مجموعی طور پر ان سب کی مذمت بیان فرما دی، بلکہ جہاں جہاں وجوباً یا استحباباً مال خرچ کرنے کا حکم ہے وہاں خرچ نہ کرنا بھی اسی مذمت کی ذیل میں آگیا، درحقیقت مال کی محبت انسان کو اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے اور بہت سے گناہوں پر آمادہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : الدنیا دار من لا دار لہ ومال من لا مال لہ ولھا یجمع من لا عقل لہ (دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہیں اس لیے وہ شخص جمع کرتا ہے جس کو عقل نہیں) ۔ ہر شخص اس دنیا کو چھوڑ کر جائے گا اور جو کمایا ہے اسے بھی یہیں چھوڑے گا پھر اس کا کیا رہا ؟ بقدر ضرورت حلال ماں کما لے اگر اللہ تعالیٰ شانہ زیادہ دے دے جو حلال ہو تو اسے اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے بندوں پر خرچ کر دے، حضرت محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو چیزیں ہیں جنہیں انسان مکروہ سمجھتا ہے موت کو مکروہ سمجھتا ہے حالانکہ موت مومن کے لیے بہتر ہے تاکہ فتنوں سے محفوظ رہے اور مال کی کمی کو مکروہ سمجھتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کی کمی کا ذریعہ ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 448)
Ayah 89:21

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہرگز ایسا نہیں، جب زمین کو پوری طرح چورا چورا کردیا جائے گا،

كَلَّاۤ ہرگز ! ایسا نہیں ہے جیسا تم سمجھتے ہو کہ میراث کا مال سمیٹنا اور مال سے محبت کرنا تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور اس پر مواخذہ نہیں ہوگا بلکہ یہ چیزیں تمہارے حق میں مضر ہیں اور باعث عذاب ہیں۔ اس کے بعد قیامت کے ہولناک مناظر کا تذکرہ فرمایا ﴿ كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ0021﴾ (جب زمین کو توڑ پھوڑ کر چورا چورا کردیا جائے گا) اور اس پر کوئی پہاڑ اور عمارت اور درخت باقی نہیں رہے گا اور برابر ہموار میدان ہوجائے گا۔
Ayah 89:22

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار آجائے گا اور فرشتے آجائیں گے تو صفیں بنا لیں گے

﴿ وَّ جَآءَ رَبُّكَ﴾ اور آپ کا پروردگار آجائے گا یعنی اس کا حکم پہنچ جائے گا اور اس کے فیصلوں کا وقت آجائے گا ﴿ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ0022﴾ معالم التنزیل میں حضرت عطا کا قول نقل کیا ہے کہ ہر آسمان کے فرشتے الگ الگ صف بنا لیں گے۔
Ayah 89:23

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا اس دن انسان کی سمجھ میں آجائے گا اور اب سمجھنے کا موقع کہاں رہا ؟

﴿وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ 1ۙ۬﴾ (اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس دن جہنم کو لایا جائے گا جس کی ستر ہزار باگیں ہوں گی اور ہر باگ کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لا رہے ہوں گے۔ ﴿ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ ﴾ اس دن انسان کی سمجھ میں آجائے گا۔ ﴿ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ؕ0023﴾ (اور سمجھنے کا موقع کہاں رہا) یعنی سمجھنے کا وقت تو دنیا میں تھا جہاں ایمان لانے اور عمل صالح کرنے کا موقع تھا اب تو دار الجزا میں پہنچ گئے۔ اب نہ سمجھنے کا موقع رہا نہ عمل کا، نہ توبہ کا۔ جب انسان اپنی محرومی کو دیکھ لے گا اور محاسبہ اور مواخذہ سامنے آئے گا۔
Ayah 89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا کاش میں اپنی زندگی کے لیے آگے بھیج دیتا

﴿ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيْۚ0024﴾ (حسرت اور افسوس کے ساتھ یوں کہے گا ہائے كاش میں اپنی زندگی کے لیے خیر اور عمل صالح آگے بھیج دیتا) وہاں پہنچ کر احساس ہوگا کہ دنیا میں نیک بندہ بن جاتا اور گناہوں سے بچ جاتا اور ایمان اور اعمال صالحہ آگے بھیج دیتا تو آج کے دن مصیبت سے چھٹکارا پائے ہوئے ہوتا اس دن کی زندگی کو زندگی سے تعبیر کرے گا کیونکہ وہ ایسی زندگی ہے کہ ختم نہ ہوگی اور اس کے بعد موت نہ ہوگی۔
Ayah 89:25

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

سو اس دن اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا نہ ہوگا

﴿فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ0025﴾ (سو اس دن اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا نہ ہوگا) ۔
Ayahs 89:26–28

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور اس کی جیسی بندش کوئی نہیں کرے گا۔

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے نفس مطمئنہ

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

لوٹ جا اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو خوش ہو اور تجھ سے بھی اللہ تعالیٰ خوش ہے،

﴿وَّ لَا يُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ0026﴾ (اور اس دن کی جیسی بندش کوئی نہ کرے گا) یعنی اس دن ایسی سخت سزا دی جائے گی کہ اس سے پہلے کسی نے کسی کو اتنی سخت سزا نہ دی ہوگی اور اس سے پہلے کسی نے ایسی سخت جکڑ بندی نہ کی ہوگی۔ سورة ٴ سبا میں فرمایا ﴿ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْۤ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے) اور سورة ٴ مومن میں فرمایا ﴿فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَۙ0070 اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ 1ؕ﴾ (سو ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں) اس کے بعد اہل ایمان کو بشارتیں دیں اور فرمایا ﴿يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُۗۖ0027 ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًۚ0028﴾ (اے نفس مطمئنہ تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا تو راضی خوشی ہے اور تیرا رب بھی تجھ سے راضی ہے) ۔ نفس مطمئنہ سے کہا جائے گا کہ تو اپنے رب کی طرف یعنی اس کے ثواب کی طرف اور جو کچھ اس نے تیرے لیے اپنی جنت میں تیار کیا ہے اس کی طرف لوٹ جا (ذكرہ فی کنز العمال الادعیة المطلقہ حدیث صفحہ 687 ض ج 2 بمعہ حلب وعزا فی الروح الی الطبرانی ایضًا) ۔ راضیة (اس حال میں کہ تو اللہ سے راضی ہے اور جو نعمتیں اس نے تیرے لیے تیار فرمائی ہیں ان سے تو خوش ہے) ۔ مرضیۃ مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ تیرا رب بھی تجھ سے راضی ہے۔ مفسر ابن کثیر نے لکھا کہ نفس مطمئنہ کو یہ خوشخبری موت کے وقت دی جاتی ہے اور قیامت کے دن بھی اسے یہ خوشخبری دی جائے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک حدیث میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر نیک بندہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے پاکیزہ نفس جو پاکیزہ بدن میں تھی تو اللہ کی نعمت اور اللہ کے رزق پر خوش ہوجا اور اس بات پر خوش ہوجا کہ تیرا رب تجھ پر غصہ نہیں ہے۔ حضرت ابوامامہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دعا بتائی (کہ اس کو پڑھا کرو) اللھم انی اسالک نفسا مطمئنة تو من بلقائك وترضی بقضآئك وتقنع بعطآئك (اے اللہ میں آپ سے نفس مطمئنہ کا سوال کرتا ہوں جو آپ کی ملاقات کا یقین رکھتا ہو اور آپ کی قضا پر راضی اور آپ کی عطا پر قناعت کرتا ہو) ۔ اس دعا میں نفس مطمئنہ کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ وہ اللہ کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے، یعنی یہی اصل چیز ہے اور یہ ہی اطمینان کا ذریعہ ہے جب کسی کو آخرت کے دن کی حاضری کا یقین ہوگا تو اپنی عبادات اور معاملات اور تمام امور اچھی طرح انجام دے گا اور یوم الحساب کی حاضری کا یقین ہوگا تو دینی کاموں کو اچھی طرح ادا کرے گا مثلاً نماز میں جلدی نہیں کرے گا اطمینان سے ادا کرے گا۔ نفس مطمئنہ کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی قضا یعنی اس کے فیصلہ پر راضی ہو وہ جس حال میں رکھے اس پر راضی رہے، یہ بھی اطمینان کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ نفس مطمئنہ کی تیسری صفت بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ وہ اللہ کی عطا پر قناعت کرے، قناعت بھی بہت بڑی نعمت ہے اللہ نے جو کچھ عطا فرمایا اس پر قناعت کرتا رہے تو بڑے اطمینان میں رہتا ہے، مال زیادہ کمانے کی حرص نہیں رہتی، مال کمانے کے لیے نہ گناہوں میں ملوث ہونا پڑتا ہے اور نہ عبادات میں کوتاہی ہوتی ہے، خیانت کرنے سے کسی کا حق دبانے سے، غصب سے، چوری سے کمائی کے تمام حرام طریقوں سے حفاظت رہتی ہے۔
Ayahs 89:29–30

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

سو تو میرے بندوں میں شامل ہوجا

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری جنت میں داخل ہوجا۔

﴿فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْۙ0029﴾ اے نفس مطمئنہ تو میرے بندوں میں داخل ہوجا۔ ﴿ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ (رح) 0030﴾ (اور میری جنت میں داخل ہوجا) ۔ اس میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نفس مطمئنہ کو یہ خطاب بھی ہوگا کہ تو میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا یعنی جنت میں تنہا داخل ہونا نہیں ہے انسان مدنی الطبع ہے اسے انس اور الفت کے لیے دوسرے افراد بھی چاہئیں۔ آیت کریمہ میں یہ بھی بیان فرما دیا کہ جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہاں دوسرے اہل جنت سے بھی ملاقاتیں رہیں گی۔ سورة ٴ حجر میں فرمایا ﴿ وَ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ 0047﴾ (اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب دور کردیں گے کہ سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے) ۔ اور سورة ٴ طور میں فرمایا ﴿ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ0023﴾ (وہاں آپس میں جام و شراب میں چھینا جھپٹی بھی کریں گے اس میں نہ کوئی لغو بات ہوگی اور نہ کوئی گناہ کی بات) جنت میں آپس میں میل محبت سے رہیں گے کسی کے لیے کسی کے دل میں کوئی کھوٹ، حسد، جلن، بغض نہ ہوگا، اگرچہ وہاں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی لیکن بطور دل لگی مشروبات میں چھینا جھپٹی کریں گے اور ایک دوسرے سے پیالے چھینیں گے۔ جعلنا اللہ تعالیٰ ممن ؓ وارضاہ وجعل الجنة مثواہ وھذا آخر سورة الفجر، والحمد للہ اولا و آخرا والصلوة علی من ارسل طیبا وطاھرا