89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsمعارف القرآن

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

قسم ہے فجر کی

خلاصہ تفسیر قسم ہے (فجر کے وقت) کی اور (ذی الحجہ کی) دس راتوں (یعنی دس تاریخوں) کی کہ وہ نہایت فضیلت والی ہیں کذا فسر فی الحدیث) اور جفت کی اور طاق کی (جفت سے مراد دسویں تاریخ ذی الحجہ کی اور طاق سے نویں تاریخ، کذا فی الحدیث اور ایک حدیث میں ہے کہ اس سے نماز مراد ہے کہ کسی کی طاق رکعتیں ہیں کسی کی جفت، اور پہلی حدیث کو روایتہ بھی واضح کہا گیا ہے کہ، کذا فی الروح اور درایتہ بھی وہ ارجح ہے کیونکہ اس سورت میں جن چیزوں کی قسم کھائی گئی وہ سب زمانے اور اوقات کی قسم سے ہیں۔ درمیان میں شفع اور وتر بھی اوقات ہی کی قسم سے ہو تو تناسب واضح رہتا ہے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ شفع اور وتر بھی اوقات ہی کی قسم سے ہوت تو تناسب واضح رہتا ہے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ شفع و وتر سے مراد ہر وہ جفت اور طاق ہوں جو لائق تعظیم ہیں، اوقات و ایام بھی اس میں داخل ہیں اور عدد رکعات نماز بھی) اور (قسم ہے) رات کی جب وہ چلنے لگے (یعنی گزرنے لگے، کقولہ تعالیٰ والیل اذا ادبر۔ آگے بطور جملہ معترضہ کے تاکید کے لئے اس قسم کا عظیم ہونا بیان فرماتے ہیں کہ) کیا اس (قسم مذکور) میں عقلمند کے واسطے کافی قسم بھی ہے (یہ استفہام تقریر و تاکید کے لئے یعنی ان مذکورہ قسموں میں ہر قسم تاکید کلام کے لئے کافی ہے اور گو سب قسمیں جو قرآن میں مذکور ہیں ایسی ہی ہیں مگر اہتمام کے لئے اس کے کافی ہونے کی تصریح فرما دی کما مرفی قولہ تعالیٰ فی سورة الواقعہ وانہ لقسم لو تعلمون عظیم اور جواب قسم مقدر ہے کہ منکروں کو ضرور سزا ہوگی کما فی الجلالین جس پر آئندہ کلام رینہ ہے جس میں منکرین سابقین کی تعذیب کا ذکر ہے یعنی) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کے قدو قامت ستون (وعمود) جیسے (دراز) تھے (اور) جن کی برابر (زور و قوت میں دنیا بھر کے) شہروں میں کوئی شخص نہیں پیدا کی اگی (اس قوم کے دو لقب ہیں، عاد اور ارم، کیونکہ عاد بیٹا ہے عاص کا اور وہ ارم کا اور وہ سام بن نوح کا کبھی ان کو باپ کے نام پر عاد کہتے ہیں اور کبھی دادا کے نام پر ارم کہتے ہیں اور اس ارم کا ایک بیٹا عابر ہے اور عابر کا یٹا ثمود جس کے نام سے ایک قوم مشہور ہے پس عاد اور ثمود دونوں ارم میں جاملے ہیں۔ عاد بواسطہ عاص کے اور ثمود بواسطہ عابر کے اور یہاں ارم اس لئے بڑھا دیا کہ اس قوم عاد میں دو طبقے ہیں، ایک متقدمین جن کو عاد اولیٰ کہتے ہیں دوسرے متاخرین جن کو عاد اخری کہتے ہیں، پس ارم بڑھا دینے سے اشارہ ہوگیا کہ عاد اولیٰ مراد ہے کیونکہ بوجہ قرب و قلت وسائط کے ارم کا اطلاق عاد اولیٰ پر ہوتا ہے (کذا فی الروح و ہذا التحقیق عندی قابض علی ماسبق فی الاعراف والنجم واللہ اعلم) اور (آگے عاد کے بعد دوسری ہلاک ہونے والی امتوں کا بیان فرماتے ہیں کہ آپ کو معلوم ہے کہ) قوم ثمود کے ساتھ (کیا معاملہ کیا) جو وادی القریٰ میں (پہاڑ کے) پتھروں کو تاشا کرتے تھے (اور مکانات بنایا کرتے تھے۔ وادی القریٰ ان کے شہروں میں سے ایک شہر کا نام ہے جیسا ایک کا نام حجر ہے اور یہ سب حجاز اور شام کے درمیان میں ہیں اور سب میں ثمود رتے تھے کذا فی بعض التفاسیر) اور میخوں والے رفعون کے ساتھ (درمنثور میں ابن مسعود و سعید بن جبیرو مجاہد و حسن وسدی سے اس کی تفسیر میں منقول ہے کہ وہ جس کو سزا دیتا اس کے چاروں ہاتھ پاؤں چار مخیوں سے باندھ کر سزا دیتا اور ایک تفسیر اس کی سورة ص میں گزر چکی آگے سب کی صفت مشترکہ فرماتے ہیں کہ) جنہوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا اور ان میں بہت فساد مچا رکھا تھا سو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا (یعنی عذاب نازل کیا پس عذاب کو کوڑے سے اور اس کے نازل کرنے کو برسانے سے تعبیر فرمایا، آگے اس عذاب کی علت اور موجودین کی عبرت کے لئے ارشاد ہے کہ) بیشک آپ کا رب نافرمانوں کی گھات میں ہے (جن میں سے مذکورین کو تو ہلاک کردیا اور موجودین کو عذاب کرنے والا ہے) سو (اس کا مقضنایہ تھا کہ کفار موجودین عبرت پکڑتے اور اعمال موجبہ للعذاب سے بچتے لیکن کافر) آدمی (کا یہ حال ہے کہ اعمال موجبہ للعذاب کو اختیار کرتا ہے جن سب کی اصل حب دنیا ہے چناچہ اس) کو جب اس کا پروردگار آزماتا ہے یعنی اس کو ظاہرا انعام اکرام دیتا ہے (مثل مال و جاہ وغیرہ جس سے مقصود اس کی شکر گزاری کا دیکھنا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو آزمانے سے تعبیر فرمایا) تو وہ (اس کو اپنا حق لازم سمجھ کر فخر و غرور سے) کہتا ہے کہ میرے رب نے میری قدر بڑھا دی (یعنی میں اس کا مقبول ہوں کہ مجھ کو ایسی ایسی نعمتیں دیں) اور جب اس کو (دوسری طرح) آزماتا ہے یعنی اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا ہے (جس سے مقصود اس کے صبر و رضا کا دیکھنا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو آزمانے سے تعبیر فرمایا) تو وہ شکایت کرتا ہے) کہتا ہے کہ میرے رب نے میری قدر گھٹا دی (یعنی مجھ کو باوجود استحقاق اکرام کے اپنی نظر سے آج کل گرا رکھا ہے کہ دنیوی نعمتیں کم ہوگئیں، مطلب یہ کہ کافر دنیا ہی کو مقصود بالذات سمجھتا ہے کہ اس کی فراخی کو دلیل مقبولیت اور اپنے کو اس کا متحق اور تنگی کو دلیل مرد و دیت اور اپنے کو اس کا غیر مستحق سمجھتا ہے پس اس میں دو غلطیاں ہیں، ایک دنیا کو مقصود بالذات سمجھنا جس سے آخرت کا انکار اور اس سے اعراض پیدا ہوتا ہے اور دوسرے دعوائے استحقاق جس سے نعمت پر فخر و غرور اور ناشکری اور مصیبت پر شکوہ اور لئے صبری پیدا ہوتی ہوتی ہے اور یہ سب اعمال سبب عذاب ہیں، آگے اس پر زجر و تنبیہ ہے کہ) ہرگز ایسا نہیں (یعنی نہ تو دنیا مقصود بالذات ہے اور نہ اس کا ہونا نہ ہونا دلیل مقبولیت یا مخذولیت کی ہے اور نہ کوئی کسی اکرام کا مستحق ہے اور نہ کوئی صبر و شکر کے وجوب سے مستثنیٰ ہے آگے بصیغہ خطاب بطور التفات کے فرماے ت ہیں کہ تم لوگوں میں صرف یہی اعمال سبب عذاب نہی) بلکہ (تم میں اور اعمال بھی مذموم و نامرضی عنداللہ و موجب عذاب ہیں چنانچہ) تم لوگ یتیم کی (کچھ) قدر (اور خاطر) نہیں کرتے ہو (مطلب یہ کہ یتیم کی اہانت اور اس پر ظلم کرتے ہو کہ اس کا مال کھا جاتے ہو) اور دوسروں کو بھی مسکنی کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے (یعنی دوسروں کے حقوق واجبہ نہ خود ادا کرتے ہو اور نہ اوروں کو حقوق واجبہ ادا کرنے کو کہتے ہو اور عملاً اس کے تارک اور اعتقاداً اس کے منکر ہو اور کافر کے لئے ترک واجب زیادتی عذاب کا سبب ہوتا ہے اور اعتقاد کا فاسد یعنی کفر و شرک اصل عذاب کی بنیاد ہی اور (تم) میراث کا مال سارا سمیٹ کر کھا جاتے ہو (یعنی دوسروں کا حق بھی کھا جاتے ہو اور میراث بتفصیل موجود گو مکہ مکرمہ میں مشروع نہ تھی مگر نفس میراث شرع ابراہیمی و اسماعیلی سے متوارث چلی آتی تھی چناچہ جاہلیت میں بچوں اور لڑکیوں کو میراث کا مستحق نہ سمجھنا اس کی دلیل ہے کہ میراث کا حکم پہلے سے بھی تھا جس کا بیان سورة نساء کے پہلے رکوع آیت للرجال نصیب الخ کے تحت میں گزر چکا ہے اور (تم لوگ) مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو (اور اعمال مذکورہ سب اسی کی فرع ہیں کیونکہ حب دنیا سب خطیبات کی اصل ہے۔ غرض یہ سب اعمال قولیہ وفعلیہ و حالہ موجب تعذیب ہیں۔ پس انسان کا یہ حال ہے کہ مضامین عبرت سن کر بجائے اس کے عبرت پکڑتا ایسے اعمال اختیار کرتا ہے جو اور زیادہ موجب عذاب ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا ہے کمال قال تعالیٰ ان ربک لبا لمرصاد آگے ان لوگوں پر زجر و تنبیہ ہے جو ان افعال کو سبب عذاب نہیں سمجھتے) ہرگز ایسا نہیں (جیسا تم سمجھتے ہو کہ ان اعمال پر عذاب نہ ہوگا، ضرور ہوگا، آگے جزاء و سزا کا وقت بتلاتے ہیں جس میں ان کو عذاب اور اہل اطاعت کو اجر وثواب ملے گا پس ارشاد ہے کہ) جس وقت زمین کے (کے بلند اجزاء پہاڑ وغیرہ) کو توڑ توڑ کر (اور) ریزہ کر کے زمین کو برابر کردیا جاوے گا (کقولہ تعالیٰ لا تری فیھا عوجاوہ امتا سورة طہ) اور آپ کا پروردگار اور جوق جوق فرشتے (میدان محشر میں) آویں گے (یہ حساب کے وقت ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا آنا متشابہات میں سے ہے جس کی حقیقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) اور اس روز جہنم کو لایا جاوے گا (جیسا سورة مدثر میں وما یعلم جنود ربک کے متعلق بیان ہوچکا ہے) اس روز انسان کو سمجھ آوے گی اور اب سمجھ آنیکا موقع کہاں رہا (یعنی اب سمجھ آنے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے کیونکہ وہ دار الجزاء رہے دارالعمل نہیں۔ آگے سمجھ آنے کے بعد جو اس کا قول ہوگا اس کا بیان ہے کہ وہ) کہے گا کاش میں اس زندگی (اخروی) کے لئے کوئی (نیک) عمل آگے بھیج لیتا پس اس روز نہ تو خدا کے عذاب کی برابر کوئی عذاب دینے والا نکلے گا اور نہ اس کے جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا نکلے گا (یعنی ایسی سخت سزا اور قید کرے گا کہ دنیا میں کبھی کسی نے کسی کو نہ اتنیھ سخت سزا دی ہوگی نہ ایسی سخت قید کی ہوگی یہ سزا تو ان لوگوں کی ہوگی جو اعمال عذاب کے مرتکب ہوئے اور جو اللہ کے فرمانبردار تھے ان کو ارشاد ہوگا کہ) اے اطمینان والی روح (یعنی جس کو امر حق میں یقین واذعان تھا اور کسی طرح کا شک و انکار نہ تھا اور تعبیر روح سے بااعتبار جزء اشرف کے ہے) تو اپنے پروردگار (کے جوار رحمت) کی طرف چل اس طرح سے کہ تو اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش، پھرا (ادھر چل کر) تو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہوجا (یہ بھی نعمت روحانی ہے کہ انس اور وہ تجھ سے خوش، پھر (ادھر چل کر) تو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہوجا (یہ بھی نعمت روحانی ہے کہ انس کے لئے احباب سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں) اور میری جنت میں داخل ہوجا (لفظ مطمئنہ میں ان لوگوں کے اعمال حسنہ کی طرف اشارہ ہوگیا اور اعمال حسنہ کی طرف اشارہ اور اعمال عذاب کی تفصیل بیان فرمانا شاید اس لئے ہے کہ زیادہ مقصود یہاں اہل مکہ کو سنانا ہے اور اس وقت وہاں ایسے اعمال کے مرتکب زیادہ تھے) معارف و مسائل اس سورت میں پانچ چیزوں کی قسم کھا کر اس مضمون کی تاکید کی گئی ہے جو آگے ان ربک لبا لمرصاد میں بیان ہوا ہے یعنی اس دنیا میں تم جو کچھ کر رہے ہو اس پر جزاء و سزا ہونا لازمی اور یقینی ہے تمہارا رب تمہارے سب اعمال کی نگرانی میں ہے خواہ اسی جملے ان ربک لبالمرصاد کو جواب قسم کہا جائے یا مخدوف قرار دیا جائے۔ وہ پانچ چیزیں جن کی قسم کھائی ہے ان میں پہلی چیز فجر یعنی صبح صادق کا وقت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مراد ہر روز کی صبح ہو کر وہ عالم میں ایک انقلاب عظیم لاتی ہے اور حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ الفجر کے الف لام کو عہد کا قرار دے کر اس سے کسی خاص دن کی فجر مراد ہو مفسرین صحابہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت ابن عباس ابن زبیر سے پہلے معنے یعنی عام وقت فجر کسی روز کا ہو منقول ہے اور حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں اس سے مراد ماہ محرم کی پہلی تاریخ کی فجر ہے جو اسلامی قمری سال کا آغاز ہے۔ حضرت قتادہ نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی یوم النحر کی صبح اس کی مراد قرار دی ہے۔ مجاہد و عکرمہ کا یہی قول ہے اور حضرت ابن عباس سے بھی ایک روایت میں یہ قول منقول ہے وجہ اس یوم النحر کی تخصیص کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دن کے لئے ایک رات ساتھ لگائی ہے جو اسلامی اصول کے مطابق دن سے پہلے ہوتی ہے صرف یوم النحر ایسا دن ہے کہ اسکے ساتھ کوئی رات نہیں کیونکہ یوم النحر سے پہلے جو رات ہے وہ یوم النحر کی نہیں بلکہ شرعاً عرفہ ہی کی رات قرار دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی حج کرنے والا عرفہ کے دن میدان عرفان میں نہ پہنچ سکا رات کو صبح صادق سے پہلے کسی وقت بھی عرفات میں پہنچ گیا تو اس کا وقوف معتبر اور حج صحیح ہوجاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ روز عرفہ کی دو راتیں ہیں ایک اس سے پہلے دوسری اسکے بعد اور یوم النحر کی کوئی رات نہیں، اس لحاظ سے صبح یوم النحر تمام ایام دنیا میں ایک خاص شان رکھتی ہے (قرطبی)
Ayah 89:2

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی

دوسری چیز جس کی قسم ہے وہ لیال عشر یعنی دس راتیں، حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد سدی، ضحاک، کلبی، ائمہ، تفسیر کے نزدیک ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں کیونکہ حدیث میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عبادت کرنے کے لئے اللہ کے نزدیک سب دنوں میں عشرہ ذی الحجہ سب سے افضل ہے اسکے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کی برابر اور اس میں ہر رات کی عبادت شب قدر کی برابر ہے (رواہ الترمذی وابن ماجہ بسند ضعیف عن ابی ہریرہ مظہری) اور ابو الزبیر نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے والفجر والیال عشر کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد عشرہ ذی الحجہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ دس راتیں وہ ہی ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کے قصے میں آئی ہیں۔ واتمعنھا بعشر، کیونکہ یہی دس راتیں سال کے ایام میں افضل ہیں۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ حضرت جابر کی حدیث مذکور سے افضل ایام ہونا عشرہ ذی الحجہ کا معلوم ہوا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے لئے بھی یہی دس راتیں ذی الحجہ کی مقرر کی گئی تھیں۔
Ayahs 89:3–6

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت اور طاق کی

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور اس رات کی جب رات کو چلے

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

ہے ان چیزوں کی قسم پوری عقلمندوں کے واسطے

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے عاد کے ساتھ

والشفع والوتر، شفع کے لغوی معنے جوڑ کے ہیں جس کو اردو میں جفت کہتے ہیں اور وتر کے معنے طاق اور فرد کے ہیں۔ قرآن کریم کے الفاظ میں یہ متعین نہیں کہ اس جفت اور طاق سے کیا مراد ہے اسلئے ائمہ تفسیر کے اقوال اس میں بیشمار ہیں مگر خود حدیث مرفوع جو ابوالزبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ہے اسکے الفاظ یہ ہیں۔ (والفجر ولیال عشر) ھو الصبح وعشر النحر والو تریوم عرفہ والشفع یوم النحر رسول اللہ ﷺ نے والفجر ولیال عشر کے متعلق فرمایا کہ فجر سے مراد صبح اور عشر سے مراد عشرہ نحر ہے (اور یہ عشرہ ذی الحجہ کا پہلا ہی عشرہ ہوسکتا ہے جس میں یوم نحر شامل ہے) اور فرمایا کہ وتر سے مراد روز عرفہ اور شفع سے مراد یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) ہے۔ قرطبی نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا کہ یہ اسناد کے اعتبار سے اصح ہے بہ نسبت دوسری حدیث کے جو حضرت عمر ان بن حصین کی روایت سے نقل ہوئی ہے جس میں شفع ووتر نماز کا ذکر ہے۔ اسی لئے حضرت ابن عباس، عکرمہ ؒ ، نحاس ؒ نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ شفع سے مراد یوم النحر اور وتر سے مراد یوم عرفہ ہے۔ اور بعض ائمہ تفسیر ابن سیرین، مسروق، ابوصالح، قتادہ نے فرمایا کہ شفع سے مراد تمام مخلوقات ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سب مخلوقات کو جوڑ جوڑ جفت پیدا کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے ومن کل شیء خلقنا زوجین، یعنی ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ کفر و ایمان، شقادت وسعادت، نورو ظلمت، لیل ونہار، سردی گرمی، آسمان و زمین، جن وانس، مرد و عورت اور ان سب کے بالمقابل وتر وہ صرف اللہ جل شانہ کی ذات ہے ھو اللہ الاحد الصمد، والیل اذایسر، یسر، سری سے مشتق ہے جس کے معنے رات کو چلنے کے ہیں۔ یہاں خود رات کو کہا گیا کہ جب وہ چلنے لگے یعنی ختم ہونے لگے۔ یہ پانچ قسمیں ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے غفلت شعار انسان کو ایک خاص انداز میں سوچنے سمجھنے کی دعوت دینے کے لئے فرمایا ھل فی ذلک قسم لذی حجر، حجر کے لفظی معنے روکنے کے ہیں انسان کی عقل اس کی برائی اور مضرت رساں چیزوں سے روکنے والی ہے اسلئے حجر بمعنے عقل بھی استعمال ہوتا ہے یہاں یہی معنے مراد ہیں۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ کیا عقل والے آدمی کے لئے یہ قسمیں بھی کافی ہیں یا نہیں۔ یہ صورت تو استفہام کی ہے مگر درحقیقت انسان کو غفلت سے بیدار کرنے کی ایک تدبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان پر اور اسکے قسم کھا کر ایک بیان کو بیان کرنے پر اور خود ان چیزوں کی عظمت پر جن کی قسم کھائی گئی ہے ذرا سا غور کرو تو جس چیز کے لئے یہ قسم کھائی گئی اس کا یقینی ہونا ثابت ہوجائے گا اور وہ چیز یہی ہے کہ انسان کے ہر عمل کا آخرت میں حساب ہونا اور اس پر جزا وسزا ہونا شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ یہ جواب قسم اگرچہ صراحة مذکور نہیں مگر سباق کلام سے ثابت ہے اور آگے جو کفار پر عذاب آنیکا بیان ہو رہا ہے وہ بھی اسی کا بیان ہے کہ کفر و معصیت کی سزا آخرت میں تو ملنا طے شدہ ہی ہے کبھی کبھی دنیا میں بھی ایسے لوگوں پر عذاب بھیج دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں تین قوموں کے عذاب کا ذکر فرمایا۔ اول قوم عاد، دوسرے ثمود، تیسرے قوم فرعون، عادوثمود دو قومیں جنکا سلسلہ نسب اوپر جاکر ارم میں ملجاتا ہے اس طرح نفط ارم عادوثمود دونوں کے لئے بولا جاسکتا ہے۔ یہاں صرف عاد کے ساتھ ارم کا ذکر کرنے کی وجہ خلاصہ تفسیر میں عادوثمود کے دونوں قوموں کے تحقیقی حالات کے ساتھ گزرچکی ہے۔
Ayahs 89:7–9

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

وہ جو ارم میں تھے بڑے ستونوں والے

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

کہ بنی نہیں ویسی سارے شہروں میں

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے تراشا پتھروں کو وادی میں

ارم ذات العماد، لفظ ارم عاد کا عطف بیان یا بدل ہے اور مقصود اس سے قبیلہ عاد کی دو قسموں میں سے ایک کی تعین ہے یعنی عاد اولیٰ جو انکے متقدمین ہیں ان کو عاد ارم کے لفظ سے اسلئے تعبیر کیا کہ یہ لوگ اپنے جدا علی ارم سے بہ نسبت عاد اخری کے قریب تر ہیں۔ ان کو اس جگہ قرآن کریم عاد ارم کے لفظ سے اور سورة نجم میں اھلک عاد الاولی کے عنوان سے تعبیر فرماتا ہے۔ ان کی صفت میں قرآن کریم نے ذات العماد فرمایا۔ عماد اور عمود ستون کو کہتے ہیں۔ قوم عاد کو ذات العماد اسلئے کہا گیا کہ انکے قدر وقامت بڑے طویل تھے اور یہ قوم اپنے ڈیل ڈول اور قوت و طاقت میں سب دوسری قوموں سے ممتاز تھی ان کے اس امتیاز کو خود قرآن کریم نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا طاقت میں سب دوسری قوموں سے ممتاز تھی ان کے اس امتیاز کو خود قرآن کریم نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا لم یخلق مثلھا فی البلاد، یعنی ایسی طویل القامت قومی دنیا میں اس سے پہلے پیدا نہیں کی گئی تھی۔ قرآن کریم نے انکے طول قامت اور ڈیل ڈول کا دنیا کی ساری قوموں سے زیادہ ہونا تو واضح فرما دیا مگر ان کی کوئی پیمائش ذکر کرنا ضرورت سے زائد کام تھا اس کو چھوڑ دیا۔ اسرائیل روایات میں انکے قدوقامت اور قوت کے متعلق عجیب عجیب اقوام مذکور ہیں۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل سے ان کی قامت کا طول بارہ ہاتھ یعنی چھ گز یا فٹ 81 فٹ منقول ہے اور ظاہر یہ ہے کہ ان کا یہ قول بھی اسرائیل روایات ہی سے ماخوذ ہے واللہ اعلم اور بعض حضرت مفسرین نے فرمایا کہ ارم اس جنت کا نام ہے جو عاد کے بیٹے شداد نے بنائی تھی اور اسی کی صفت ذات العماد ہے کہ وہ ایک عظیم الشان عمارت بہت سے عمودوں پر قائم ہونے چاندی اور جواہرات سے تعمیر کی تھی تاکہ لوگ آخرت کی جنت کے بدلے اس نقد جنت کو اختیار کرلیں مگر جب یہ عالیشان محلات تیار ہوگئے اور شداد نے اپنے روسائے مملکت کیساتھ اس میں جانیکا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا یہ سب ہلاک ہوگئے اور وہ محلات بھی مسمار ہوگئے (قرطبی) اس اعتبار سے اس آیت میں قوم عاد کے ایک خاص عذاب کا ذکر ہوا جو .... شداد بن عاد اور اس کی بنائی ہوئی جنت پر نازل ہوا اور پہلی تفسیر جس کو جمہور مفسرسین نے اختیار کیا ہے اس میں قوم عاد پر جتنے عذاب آئے ہیں ان سب کا بیان ہے۔
Ayahs 89:10–12

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون کے ساتھ وہ میخوں والا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ سب تھے جنہوں نے سر اٹھایا ملکوں میں

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

پھر بہت ڈالی ان میں خرابی

و فرعون ذی الاوتاد، اوتاد، وتد کی جمع ہے میخ کو کہتے ہیں۔ فرعون کو ذی الاوتاد کہنے کی مختلف وجوہ حضرات مفسرین نے بیان فرمائی ہیں، مشہور جمہور مفسرین کے نزدیک وہی ہے جو خلاصہ تفسیر میں اوپر آچکی ہے کہ اس لفظ میں اسکے ظلم وجور اور وحشیانہ سزاؤں کا ذکر ہے وہ جس پر خفا ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں چار میخوں میں باندھ کر یا خود ان میں میخیں گاڑ کر اس کو دھوپ میں لٹا دیتا اور اس پر سانپ بچھو چھوڑ دیتا تھا۔ اور بعض مفسرین نے اس کی اپنی بیوی حضرت آسیہ کے متعلق ایک طویل قصہ انکے مومن ہونے اور پھر فرعون کے سامنے اظہار ایمان کرنے کا اور پھر فرعون کی اسی قسم کی سزا کے ذریعہ ہلاک کرنے کا ذکر کیا ہے۔ (مظہری)
Ayah 89:13

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

پھر پھینکا ان پر تیرے رب نے کوڑا عذاب کا

قصب علیہم ربک سوط عذاب، قوم عادوثمود اور قوم فرعون کے شروفساد کا تذکرہ فرماتے ہوئے جو عذاب ان پر نازل ہوا اس کو عذاب کو کوڑا برسانے کے عنوان سے تعبیر کیا ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح کوڑا مختلف اطراف بدن پر پڑتا ہے ان پر بھی مختلف قسم کے عذاب نازل کئے گئے۔
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک تیرا رب لگا ہے گھات میں

ان ربک لبا لمرصاد، مرصاد اور مرصد رصدگاہ اور انتظار گاہ کو کہا جاتا ہے جو کسی مقام بلند پر ہو جہاں بیٹھ کر کوئی شخص دور دور تک کے لوگوں کو دیکھ سکے اور انکے افعال و اعمال کی نگرانی کرسکے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ حق تعالیٰ ہر انسان کے تمام اعمال اور حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہے اور سب کو ان کی جزا وسزا دینے والا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ جملہ ہی ان قسموں کا جواب ہے، جو والفجر والیال عشر میں مذکور ہوئی ہیں۔
Ayahs 89:15–16

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

سو آدمی جو ہے جب جانچے اس کو رب اس کا پھر اس کو عزت دے اور اس کو نعمت دے تو کہے میرے رب نے مجھ کو عزت دی

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور وہ جس وقت اس کو جانچے پھر کھینچ کرے اس پر روزی کی تو کہے میرے رب نے مجھے ذلیل کیا

دنیا میں رزق کی فراخی اور تنگی اللہ کے نزدیک مقبول یا مردود ہونے کی علامت نہیں فاما الانسان الایتہ، یہاں انسان سے مراد اصل میں تو کافر انسان ہے جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جو چاہے خیال باندھ لے مگر مفہوم عام کے اعتبار سے وہ مسلمان بھی اس خطاب میں شریک ہے جو اس جیسے خیال میں مبتلا ہو اور وہ خیال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے رزق میں وسعت اور مال و دولت صحت و تندرستی سے نوازے تو شیطان اس کو دو باطل خیالات میں مبتلا کرتا ہے اول یہ کہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ میری ذاتی صلاحیت اور عقل وفہم اور سعی وعمل کا لازمی نتیجہ ہے جو مجھے ملنا ہی چاہئے میں اس کا مستحق ہوں دوسرے یہ کہ ان چیزوں کے حاصل ہونے سے یہ قرار دے کہ میں اللہ کے نزدیک بھی مقبول ہوں اگر مردود ہوتا تو وہ مجھے یہ نعمتیں کیوں دیتا۔ اسی طرح جب کسی انسان پر رزق میں تنگی اور فرقہ وفاقہ آوے تو اس کو اللہ کے نزدیک مردود ہونے کی دلیل سمجھے اور اس پر اسلئے خفا ہو کہ میں تو مستحق انعام و اکرام کا تھا مجھے بےوجہ ذلیل و حقیر کردیا، ایسے خیالات کفار و مشرکین میں تو ہوتے ہی تھے اور قرآن کریم میں کئی جگہ کفار کے ان خیالات کا اظہار مذکور بھی ہے افسوس ہے کہ آجکل بہت سے مسلمان بھی گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے ان آیات میں ایسے انسانوں کا حال ذکر کرکے فرمایا کلا یعنی تمہارا یہ خیال بالکل باطل بےبنیاد ہے نہ دنیا میں وسعت رزق نیک اور مقبول عنداللہ ہونے کی علامت ہے اور نہ تنگی رزق اور فقر وفاقہ اللہ کے نزدیک مردود یا ذلیل ہونے کی علامت ہے بلکہ اکثر معاملہ برعکس ہوتا ہے۔ فرعون کو دعوائے خدائی کے ساتھ کبھی درد سر بھی نہ ہوا اور بعض پیغمبروں کو دشمنوں نے آرے سے چیر کردو ٹکڑے کردیئے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرات مہاجرین میں سے جو فقیر ومفلس تھے وہ اغنیا مہاجرین سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے (رواہ مسلم عن عبداللہ بن عمر، مظہری) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس بندہ سے محبت فرماتے ہیں اس کو دنیا سے ایسا پرہیز کراتے ہیں جیسے تم لوگ اپنے بیمار کو پانی سے پرہیز کراتے ہو (رواہ احمد والترمذی عن قتادة بن النعمان، مظہری)
Ayahs 89:17–18

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

کوئی نہیں پر تم عزت سے نہیں رکھتے یتیم کو

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور تاکید نہیں کرتے آپس میں محتاج کے کھلانے کی

یتیم پر صرف خرچ کرنا کافی نہیں اس کا احترام بھی ضروری ہے اس کے بعد کفار کو ان کی چند بری خصلتوں پر تنبیہ ہے اول لاتکرمون الیتیم یعنی تم یتیم بچے کا اکرام نہیں کرتے اس میں اصل بتلانا تو یہ ہے کہ یتیم کے حقوق ادا نہیں کرتے اس پر ضروری خرچ نہیں کرتے لیکن اس کی تعبیر اکرام کے عنوان سے کی گئی جس میں اشارہ ہے کہ عقل و انسانیت کا اور اللہ نے جو مال تمہیں دیا ہے اسکے شکر کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم یتیم کو فقط یہی نہیں کہ اس کا حق دو اور اس پر خرچ کرو بلکہ واجب ہے کہ اس کا اکرام بھی کرو اپنے بچوں کے مقابلے میں اس کو ذلیل وخقیر نہ جانو۔ یہ بظاہر کفار کے اس قول کا جواب ہے کہ دنیا کی فراخی کو اکرام اور تنگی کو اہانت سمجھا کر کرتے تھے اس صرف بل کے ساتھ یہ ذکر فرمایا کہ اگر تمہیں کبھی تنگی رزق پیش آتی ہے تو وہ اس وجہ سے کہ تم ایسی بری عادتوں میں پھنسے ہوئے ہو کہ یتیم جیسے قابل رحم بچوں کے حقوق بھی ادا نہیں کرتے۔ دوسری بری خصلت ان کی یہ بتلائی ولا تحضون علی طعام المسکین، یعنی تم خود تو کسی مسکین غریب کو کیا دیتے دوسروں کو بھی اس کی ترغیب نہیں دیتے کہ وہ بھی یہ کام کرلیں۔ اس عنوان میں بھی ان کفار کی بری عادت اور مذمت کے بیان کے ساتھ اس طرف اشارہ ہے کہ غربا و مساکین کا حق جیسے اغنیا اور مالداروں پر ہے کہ ان کو اپنے پاس سے دیں اسی طرح جو لوگ خود دینے کی قدرت نہیں رکھتے انکو بھی اتنا تو کرنا چاہئے کہ دوسروں ہی کو اسکے لئے ترغیب دیں۔
Ayah 89:19

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور کھا جاتے ہو مردے کا مال سمیٹ کر سارا

تیسری بری خصلت یہ بیان فرمائی وتاکلون التراث اکلا لما، لم کے معنے جمع کرنیکے ہیں، مطلب یہ ہے کہ تم میراث کا مال حلال و حرام سب کو جمع کرکے کھا جاتے ہو اپنے حصے کے ساتھ دوسوں کا حصہ بھی غصب کرلیتے ہو۔ یہاں خصوصیت سے میراث کے مال کا ذکر کیا گیا حالانکہ ہر ایک مال جس میں حلال و حرام کو جمع کیا گیا ہونا جائز ہی ہے۔ وجہ خصوصیت کی شاید یہ ہو کہ میراث کے مال پر زیادہ نظر رکھنا اور اسکے درپے ہونا بڑی کم ہمتی اور کم حوصلہ ہونے کی دلیل ہے کہ مردار خور جانوروں کی طرح تکئے رہیں کہ کب ہمارا مورث مرے اور کب ہمیں یہ مال تقسیم کرنے کا موقع ہاتھ آئے۔ اولو العزم اور باہمت لوگ اپنی کمائی پر خوش ہوتے ہیں۔ مردوں کے مال پر ایسی حریصانہ نظر نہیں ڈالتے۔
Ayahs 89:20–21

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور پیار کرتے ہو مال کی جی بھر کر

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

کوئی نہیں جب پست کردی جائے زمین کوٹ کوٹ کر

چوتھی بڑی خصلت یہ بتلائی وتحبون المال حبا جما، جم کے معنے کثیر کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم مال کی محبت بہت کرتے ہو، بہت کے لفظ سے اسطرف اشارہ ہوگیا کہ مال کی ایک درجہ میں محبت تو انسان کی فطری تقاضا ہے وہ سبب مذمت نہیں بلکہ اس کی محبت میں حد سے بڑھنا اور انہماک کرنا یہ سبب مذمت ہے۔ کفار کی ان بڑی خصلتوں کے بیان کے بعد پھر اصل مضمون کی طرف عود کیا گیا جو شروع سورت میں پانچ قسموں کے ساتھ موکد کیا گیا ہے یعنی آخرت کی جزا وسزا، اس سلسلہ میں اول قیامت کے آنیکا ذکر فرمایا۔ اذا دکت الارض دکا دکا، لفظ دک کے لفظی معنے کسی چیز کو ضرب مار کر توڑنے کے ہیں مراد قیامت کا زلزلہ ہے جو پہاڑوں کو باہم ٹکرا کر ریزہ ریزہ کر دے گا اور دکا دکا کو مکرر لانے سے اسطرف اشارہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ یکے بعد دیگر مسلسل رہے گا۔
Ayah 89:22

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور آئے تیرا رب اور فرشتے آئیں قطار قطار

وجاء ربک والملک صفا صفا، یعنی آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف بصف مراد میدان حشر میں آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آنے کی کیا شان ہوگی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، یہ متشا بہات میں سے ہے اور فرشتوں کا صف بصف آنا بظاہر ہے وجای یومذ بجھنم، یعنی لاجائیگا اس روز جہنم کو، جہنم کو لائے جانے کا کیا مطلب ہے اور کس طرح میدان حشر میں لائی جائے گی اس کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ظاہر یہ ہے کہ جہنم جو اب ساتویں زمین کی تہ میں ہے اس وقت وہ بھڑک اٹھے گی اور سمندر سب آگ ہو کر اس میں شامل ہوجائیں گے اس طرح جہنم عرصہ حشر میں سب کے سامنے آجائے گی۔
Ayahs 89:23–26

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور لائی جائے اس دن دوزخ اس دن سوچے گا آدمی اور کہاں ملے اس کو سوچنا

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے کیا اچھا ہوتا جو میں کچھ آگے بھیج دیتا اپنی زندگی میں

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پھر اس دن عذاب نہ دے اس کا سا کوئی

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ باندھ کر رکھے اس کا سا باندھنا کوئی

یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری، اس جگہ تذکر سے مراد سمجھ میں آجاتا ہے یعنی کافر کو اس روز سمجھ آئے گی کہ مجھے دنیا میں کیا کرنا چاہئے تھا اور میں نے کیا کیا مگر اس وقت یہ سمجھ میں آنا بےسود ہوگا کہ عمل اور اصلاح حال کا زمانہ گزرچکا آخرت دارالعمل نہیں دارالجزا ہے آگے اس تذکر کا بیان ہے کہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش میں دنیا میں کچھ نیک عمل کرلیتا۔ یلیتنی قدمت لحیاتی، پھر اس میں تمنا کا باطل اور غیر مفید ہونا بتلایا کہ اب جبکہ کفر و شرک کی سزا سامنے آگئی اب اس تمنا سے کچھ فائدہ نہیں اب تو عذاب اور پکڑ کا وقت ہے اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی برابر کوئی پکڑ نہیں ہوسکتی۔ کفار کے عذاب بیان کرنے کے بعد آخر میں مومن کا ثواب اور ان کا جنت میں داخل کیا جانا ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 89:27

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے وہ جی جس نے چین پکڑ لیا

یایتھا النفس المطمئنة، یہاں مومن کی روح کو نفس مطمئنہ کے لقب سے خطاب کیا گیا ہے۔ مطمئنہ کے لفظی معنے ساکنہ کے ہیں۔ مراد وہ نفس ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے سکون وقرار پاتا ہے اسکے ترک سے بےچینی محسوس کرتا ہے اور یہ وہی نفس ہوسکتا ہے جو ریاضات ومجاہدات کرکے اپنی بری عادات اور اخلاق ذیلہ کو دور کرچکا ہو۔ اطاعت حق اور ذکر اللہ اس کا مزاج اور شریعت اس کی طبیعت بن جاتی ہے اس کو خطاب کرکے فرمایا گیا ارجعی الی ربک یعنی لوٹ جاؤ اپنے رب کی طرف، لوٹنے کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پہلا مقام بھی اب کے پاس تھا اب وہیں واپس جانیکا حکم ہورہا ہے، اس سے اس روایت کی تقویت ہوتی ہے جس میں یہ ہے کہ مومنین کی ارواح انکے اعمالناموں کے ساتھ علیین میں رہیں گی اور علیین ساتویں آسمان پر عرش رحمن کے سایہ میں کوئی مقام ہے۔ کل ارواح انسان کا اصلی مسقرد وہی ہے وہیں سے روح لا کر انسان کے جسم میں ڈالی جاتی ہے اور پھر موت کے بعد وہیں واپس جاتی ہے۔
Ayah 89:28

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

پھر چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

راضیة مرضیة، یعنی یہ نفس اللہ تعالیٰ سے اسکے تکوینی اور تشریعی احکام پر راضی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہے کیونکہ بندہ کا اللہ تعالیٰ کے تقدیری احکام پر راضی ہونا ہی اس کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس سے راضی نہ ہوتا تو اسکو و رضا بالقضا کی توفیق ہی نہ ہوتی۔ یہ نفس اپنی موت کے وقت موت پر بھی راضی اور خوش ہوتا ہے۔ حضرت عبادہ ابن صامت کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاہ، ومن کرہ لقاء اللہ کرہ اللہ لقاہ، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے یہ حدیث سن کر حضرت صدیقہ عائشہ نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ سے ملنا تو موت ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے لیکن موت تو ہمیں یا کسی کو بھی پسند نہیں، آپ نے فرمایا یہ بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ مومن کو موت کے وقت فرشتوں کے ذریعہ اللہ کی رضا اور جنت کی بشارت دیجاتی ہے جس کو سن کر اس کو موت زیادہ محبوب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کافر کو موت کے وقت عذاب اور سزا سامنے کردی جاتی ہے اسلئے اس کو اس وقت موت سے بڑھ کر کوئی چیز بری اور مکروہ معلوم نہیں ہوتی (رواہ البخاری ومسل، مظہری) خلاصہ یہ ہے کہ موت کی محبت یا کراہت اس وقت کی معتبر نہیں بلکہ نزع روح کے وقت جو مرنے اور اللہ سے ملنے پر راضی ہے اللہ بھی اس سے راضی یہی مفہوم ہے راضیة مرضیہ کا۔
Ayah 89:29

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

پھر شامل ہو میرے بندوں میں

فادخلی فی عبدی وادخلی جنتی، نفس مطمئنہ کو مخاطب کرکے یہ حکم ہوگا کہ میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ اس میں پہلے اللہ کے صالح اور مخلص بندوں میں شامل ہونیکا حکم ہے پھر جنت میں داخل ہونیکا، اس میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ جنت میں داخل ہونا اس پر موقوف ہے کہ پہلے اللہ کے صالح مخلص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو ان سب کے ساتھ ہی جنت میں داخل ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو دنیا میں صالحین کی صحبت ومعیت اختیار کرتا ہے یہ علامت اس کی ہے کہ یہ بھی انکے ساتھ جنت میں جائے گا اسی لئے حضرت سلیمان ؑ نے اپنی دعا میں فرمایا واد خلنی برحمتک فی عبادک الصلحین اور حضرت یوسف ؑ نے دعا میں فرمایا والحقنی بالصلحین، معلوم ہوا کہ صحبت صالحین وہ نعمت کبری ہے کہ انبیا ؑ بھی اس کی دعا سے مستغنی نہیں۔
Ayah 89:30

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور داخل ہو میری بہشت میں۔

وادخلی جنتی، اس میں جنت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرکے میری جنت فرمایا جو بڑا اعزازو اکرام ہے اور اس میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ جنت میں صرف یہی نہیں کہ ہر طرف کی راحتیں جمع ہیں اور دائمی ہیں بلکہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا مقام ہے۔ آیات مذکورہ میں مومنین کی جزا وثواب کو اس طرح ذکر کیا گیا کہ ان کی ارواح کو حق تعالیٰ کی طرف سے بواسطہ ملائک اعزازو اکرام کے ساتھ خطاب کیا جائے گا جو ان آیات میں مذکور ہے۔ یہ خطاب کس وقت ہوگا اس میں بعض ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ قیامت میں حساب کتاب کے بعد یہ خطاب ہوگا اور سباق آیات سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ اوپر جو عذاب کفار کا بیان ہوا ہے وہ آخرت میں قیامت کے بعد ہی ہوگا اس سے ظاہر ہے کہ مومنین کا یہ خطاب بھی اسی وقت ہو۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ خطاب مومنین کی موت کے وقت دنیا ہی میں ہوتا ہے بہت سی صحیح احادیث اس پر شاہد ہیں۔ اسی لئے ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ ظاہر یہ ہے کہ دونوں وقتوں میں یہ خطاب ارواح مومنین کو ہوگا موت کے وقت بھی، پھر قیامت میں بھی۔ وہ احادیث جن سے اس خطاب کا بوقت موت ہونا معلوم ہوتا ہے ایک تو وہی حدیث عبادہ ابن صامت ہے جو اوپر گزرچکی ہے اور ایک طویل حدیث حضرت ابوہریرہ کی مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ میں ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب مومن کی موت کا وقت آتا ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا سامنے کرکے اس کی روح کو خطاب کرتے ہیں اخرجی راضیة مرضیة الی روح اللہ وریحانہ، یعنی اس بدن سے نکلو اس حادلت میں کہ تم اللہ سے راضی ہو اور اللہ تم سے راضی اور یہ نکلنا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور جنت کی دائمی راحتوں کی طرف ہوگا۔ الحدیث، اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں نے ایک روز یہ آیت یایتھا النفس المطمئنة آنحضرت ﷺ کے سامنے پڑھی تو صدیق اکبر جو مجلس میں موجود تھے کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ یہ کتنا اچھا خطاب اور اکرام ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سن لو فرشتہ موت کے بعد آپ کو یہ خطاب کریگا (ابن کثیر) چند واقعات عجیبہ حضرت سعید بن جبیر ؒ نے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کا طائف میں انتقال ہوا، جنازہ تیار ہونے کے بعد ایک عجیب و غریب پرندہ جس کی مثال پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی آیا اور جنازہ کی نعش میں داخل ہوگیا پھر کسی نے اس کو نکلتے ہوئے نہیں دیکھا جس وقت نعش قبر میں رکھی جانے لگی تو قبر کے کنارے ایک غیبی آواز نے یہ آیت پڑھی یایتھا النفس المطمئنة سب نے تلاش کیا کون پڑھ رہا ہے کسی کو معلوم نہ ہوگا (ابن کثیر) اور امام حافظ طبرانی نے کتاب العجائب میں اپنی سند سے فتان بن رزین ابی ہاشم سے ان کا اپنا واقعہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہمیں بلا دروم میں قید کرلیا گیا اور وہاں کے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا اس کافر بادشاہ نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم اس کا دین اختیار کریں، اور جو اس سے انکار کرے گا اس کی گردن مادی جائے گی ہم چند آدمی تھے ان میں سے تین آدمی جان کے خوف سے مرتد ہوگئے بادشاہ کا دین اختیار کرلیا۔ چوتھا آدمی پیش ہوا اس نے کفر کرنے اور اس کے دین کو اختیار کرنے سے انکار کیا، اس کی گردن کاٹ کر سر کو ایک قریبی نہر میں ڈال دیا گیا، اس وقت تو وہ سر پانی کی تہ میں چلا گیا، اسکے بعد پانی کی سطح پر ابھرا اور ان لوگوں کی طرف دیکھ کر انکے نام لے کر آواز دی کہ فلانے فلانے اور پھر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یایتھا النفس المطمنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة فادخلی فی عبدی وادخلی جنتی، اس کے بعد پھر پانی میں غوطہ لگا دیا۔ یہ عجیب واقعہ سب حاضرین نے دیکھا اور سنا، اور وہاں کے نصاریٰ یہ دیکھ کر تقریباً سب مسلمان ہوگئے اور بادشاہ کا تخت ہل گیا، یہ تین آدمی جو مرتد ہوگئے تھے یہ سب پھر مسلمان ہوگئے اور پھر خلیفہ ابو، جعفر منصور نے ہم سب کو ان کی قید سے رہا کرایا (ابن کثیر) الحمد اللہ کہ تفسیر سورة والجفر آج 12 شعبان 1931 میں تمام ہوئی، جبکہ اس ناکارہ گنہگار کی عمر کا چھیترواں سال ختم اور ستترواں شروع ہو رہا ہے۔ یوں نصف صدی سے زیادہ حق تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت کی غفلتوں گناہوں میں برباد کرنے پر حسرت وافوس جتنا بھی ہو کم ہی ہے مگر قدم قدم پر حق تعالیٰ شانہ کے انعامات کے بارش اور اپنی کتاب کی اس ناچیز خدمت کو قریب الختم پہنچا دینے کا احسان عظیم عفو وکرم ہی کی امید دلایا رہا ہے۔ یامن لاتضرہ الذنوب ولا تنقصہ المغفرة ھب لی مالا ینقصک واغفرلی ملا یضرک واجعلنی من الذین یقال لھم یایتھا النفس المطمنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة فادخلی فی عبادی وادخلی