89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

صبح کی قسم6

ف 6 صبح سے مراد ہر صبح ہے یا خاص یکم محرم کی صبح کیونکہ اس سے سال کی ابتدا ہوتی ہے یا یکم ذی الحجہ کی صبح کیونکہ اس سے ان دس راتوں کی ابتدا ہوتی ہے جن کا ذکر بعد کی آیت میں آرہا ہے۔
Ayah 89:2

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور ذیحجہ کی دس راتوں کی7

ف 7 اگرچہ دس راتوں کا لفظ عام ہے مگر حضرت جابر کی ایک مرفوع روایت کے مطابق اس سے عشرہ ذی الحجہ کی پہلی راتیں مراد ہیں۔ وتر سے مراد عرفہ اور شفیع سے مراد یوم نحر (10 ذی الحجہ) امام حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اس لئے جمہور مفسرین اسی طرف گئے ہیں کہ اس سے ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں مراد ہیں حافظ ابن کثیر نے اس روایت کے موقوف ہونے کی تصحیح کی ہے۔ ایک حدیث میں ان دس راتوں کے نیک عمل کو دوسرے دنوں کی نیکی سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیح بخاری ص ابن عباس)
Ayah 89:3

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت اور طاق کی8

ف 8 اگرچہ جفت اور طاق کے الفاظ عام ہیں اس لئے ان سے مراد وہ تمام چیزیں ہوسکتی ہیں جو جفت اور طاق ہوں لیکن ان سے خاص طور پر یوم النحر (ذی الحجہ) اور یوم عرفہ مراد ہے جیسا کہ اوپر حضرت جابر کی روایت میں بیان ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جفت سے مراد مخلوق اور طاق سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جیسا کہ صحیحین میں ہے کہ اللہ تعالیٰ طاق ہے، طاق کو پسند کرتا ہے واللہ اعلم (ابن کثیر)
Ayah 89:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ گذرنے لگے9

ف 9 مراد ہر رات ہے۔ بعض نے مزدلفہ کی رات مراد لی ہے۔ (شوکانی) شاہ صاحب نے اس سے مراد وہ رات لی ہے جس میں آنحضرت معراج پر تشریف لے گئے۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

عقلمند کے نزدیک تو ان چیزوں کی بھاری قسم ہے10

ف 10 کیونکہ یہ تمام چیزیں اپنی جگہ بڑی عظمت رکھتی ہیں۔
Ayahs 89:6–7

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

کیا تو نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ تیرے مالک نے عاد

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

ارم کے11 لوگوں کے ساتھ کیا کیا جو بڑے قدر آور تھے۔12

ف 11 ” ارم “ قوم عاد کے اجداد میں ایک شخص کا نام تھا۔ عاد کی اس کی طرف نسبت کرنے سے شاید یہ بتانا مقصود ہے کہ یہاں ” عاد “ سے مراد عاد اولیٰ سے نہ کر عادثانیہ۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے واللہ اعلم۔12 ” ذات العماد “ کے لفظی معنی ہیں ’ دستونوں والے۔ “ ان کا یہ لقب یا تو اس لئے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے اور یا اس لئے ہے کہ وہ بڑے بڑے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے واللہ اعلم۔
Ayahs 89:8–9

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

ان کے برابر دنیا کے شہروں میں کوئی نہیں پیدا ہا

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ کیا کیا جنہوں نے وادی القریٰ میں جو مدینہ کے نزدیک ہے شام کو جاتے ہوئے پہاڑ کو تراشا تھا۔13

ف 13 مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنہوں نے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس ” وادالقریٰ “ کا نام ” اعلاء “ ہے اور وہ مدائن صالح جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ (دیکھیے حجر :82)
Ayahs 89:10–12

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون کے ساتھ کیا کیا جو میخوں والا تھا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

فوجوں اور لشکروں والا

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

ان لوگوں نے دنیا کے شہروں میں دھند مچا رکھا تھا اور ان میں بہت فساد پھیلا رکھا تھا۔14

ف 14 یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک اور اس کی مخلوق پر ظلم و ستم۔
Ayah 89:13

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

آخر اے پیغمبر تیرے مالک نے ان پر عذاب کا کوڑا پھٹکارا۔15

ف 15 ان میں سے کوئی آندھی سے تباہ ہوا کوئی غرق ہو کر اور کوئی زبردست زلزلے سے
Ayahs 89:14–15

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک تیرا مالک تو بدکاروں کی تاک میں لگا ہے

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

لیکن آدمی کا یہ حال ہے جب اس کا مالک اس کو چین آرام دیکر آزماتا ہے دولت اور نعمت دیتا ہے یا عزت اور دولت تو وہ کہتا ہے میرے مالک نے میری عزت کی اور16

ف 16 یعنی میں اسی لائق تھا اس لئے اس نے مجھے عزت اور دولت سے نوازا۔
Ayah 89:16

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

پس جب وہ اس کو دوسری طرح پر آزماتا ہے اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے مالک نے مجھ کو ذلیل کردیا1

ف 1 میری قدر نہ کی … کافر یہ بات اس لئے کہتا ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ ددنیا کے مال و متاع کو عزت اور افلاس کو ذلت سمجھتا ہے۔
Ayah 89:17

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

یہ بات نہیں2 ہے یہ کہ تم اس سے بدتر کام کرتے ہو تم یتیم کی خاطر داری نہیں کرتے اس کی خبر نہیں لیتے

ف 2 یعنی تمہارا یہ خیال درست نہیں کہ جس پر وہ روزی تنگ ہے وہ اس کی نظر میں ذلیل ہے اور جس کو وہ بھرپور دولت دیتا ہے وہ اس کے نزدیک پسندیدہ ہے بلکہ بسا اوقات کفار کو دنیاوی مال و متاع سے نوازا جاتا ہے تاکہ اپنی سرکشی میں مزید ترقی کرتے رہیں۔ اسی کا نام اسد درج ہے۔
Ayahs 89:18–19

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور محتاج کو کھانا کھلانے کے لئے اپنے تئیں یا دوسروں کو رغبت نہیں دلاتے

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

دوسرے کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو3

ف 3 یعنی اس کے ترکہ میں سے یتیموں کا حصہ بھی اڑا لیتے ہو اور عورتوں کا حصہ بھی ادا نہیں کرتے۔
Ayah 89:20

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کی محبت میں مرے جاتے ہو4

ف 4 یعنی تمہارا نقطہ نظر خالص مادی ہے اور اخلاقیات کی تمہاری نظر میں کوئی قیمت نہیں ہے۔
Ayah 89:21

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

دیکھو ایسا نہیں کرنا چاہیے جب زمین مارے دھکوں کے چکنا چور ہوجائے۔5

ف 5 یا مطلب یہ ہے کہ اس کے تمام پہاڑ اور ٹیلے کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیئے جائیں اور وہ چٹیل میدان ہوجائے۔
Ayahs 89:22–23

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) تیرا مالک تشریف لائے اور فرشتے قطاریں باندھ کر حاضر ہوں

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور اس دن دوزخ سامنے6 لائی جائے اس دن آدمی سمجھے گا اور اپنے اعمال پر شرمند ہوگا لیکن اس وقت اس کو سمجھنے سے فائدہ کیا ہو

ف 6 حضرت عبداللہ بن معسود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : اس روز دوزخ کو ستر ہزار باگیں لگا دی جائیں گی اور ہر باگ کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے۔ (شوکانی بحود مسلم ترمذی)
Ayah 89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا کاش میں اپنی آخرت کی زندگی کے لئے آگے سے کچھ سامان7 بھیجتا

ف 7 یعنی دنیا میں نیک اعمال کا توشہ فراہم کر لیات۔
Ayahs 89:25–28

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

اس دن خدا تو ایسی سزا دیگا جو کسی نے ایسی سزا نہ دی ہوگی

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور ایسا مضبوط جکڑ یگا کہ ایسا کسی نے نہیں جکڑا ہوگا

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اور مومن سے اللہ تو یوں فرمائیگا چین سے رہنے والی جان

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

تو اپنے8 مالک کے پاس لوٹ چلی تو اس سے خوش وہ تجھ سے خوش

ف 8 چین سے رہنے والی جان سے مراد وہ جان ہے جو حق کے ساتھ رہتی ہے اور حق کے ساتھ پھرتی ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 89:29–30

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

اور میرے نیک بندوں میں جامل

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میرے بہشت میں9

ف 9 یہی بشارت مومن کو وفات کے وقت بھی دی جاتی ہے۔ (ابن کثیر)