89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 89:1–30

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

فجر کی قسم

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت اور طاق کی

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب جانے لگے

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

(اور) بیشک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

(کافروں کو ضرور عذاب ہوگا) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی (قری) میں پتھر تراشتے (اور گھر بناتے) تھے

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار تاک میں ہے

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے کہ اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب (دوسری طر ح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کے مال کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

تو آج زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کر پشت کردی جائے گی

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (جلو فرما ہوگا) اور فرشتے قطار باندھ کر آموجود ہوں گے

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہوگا مگر تنبہ (سے) اسے فائدہ کہاں (مل سکے گا)

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا کاش میں نے اپنی (جادوانی کے لیے) کچھ بھیجا ہوتا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ کوئی ویسا جکڑے گا

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے اطمینان پانے والی روح !

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

تو میرے (ممتاز) بندوں میں داخل ہوجا

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری بہشت میں داخل ہوجا

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور سمجھ لے کہ خدا کی نافرمان قومیں اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والی بڑی سے بڑی طاقت ور قوم جب اس طرح ہلاک کردی گئی تو پھر کس کی مجال ہے کہ اللہ کے پیغمبر کا انکار کرکے اس کے عذاب سے بچ سکے، ارشاد فرمایا قسم ہے فجر کے وقت کی جس کے طلوع اب کفر وضلالت کی ظلمتوں اور شرک وبدعات کی تاریکیوں کو پیغمبر خدا ﷺ کا نور رسالت دور کرنے کے لئے صبح صادق بن کر طلوع ہوچکا ہے، اور قسم ہے دس راتوں کی ماہ ذوالحجہ کی جو اپنی فضیلتوں اور برکتوں میں بہت ہی اعلی مقام رکھتی ہیں اور قسم ہے جفت اور طاق کی جو کہ یوم النحر یعنی ذوالحجہ کی دسویں تاریخ ہے اور یوم عرفہ جو نویں تاریخ اور طاق ہے یا وہ نمازیں جو شفع اور جفت ہیں مثلا صبح، ظہر، عصر، اور عشاء اور جو طاق ہے مثلا مغرب اور صلوۃ الوتر، یا رمضان کے عشرہ اخیرہ کی طاق اور جفت راتیں اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ ڈھلے۔ حاشیہ (ان الفاظ میں اشاہ ہے اس امر کی طرف یہ مضمون اور (آیت) ” اذا یسر “ کا مفہوم آیت مبارکہ (آیت) ” والیل اذ ادبر والصبح اذا اسفر “ ہی والا مضمون ہے۔ ) اور گذرتے ہوئے تاریکی کی آخری منزل پر پہنچ جائے حتی کہ صبح کا نور اس پر چھا جائے، کیا نہیں ہے ان چیزوں میں قسم پوری پوری عظمت والی، عقل والوں کیلئے ؟ بلاشبہ ان احوال اور اوقات کی عظمت ہر صاحب عقل جانتا ہے اور کلام الہی میں ان کی قسم کھائی گئی تو یقیناً وہ اس قسم کی عظمت کو سمجھے گا، جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” وانہ لقسم لوتعلمون عظیم “۔ اور بلاشبہ غور کرے گا کہ جن احوال اور زمانوں کو بطور قسم ذکر کیا جا رہا ہے جواب قسم اور مدعی کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، اور یہ قسم بہت بڑی قسم ہے بیشک وہ پروردگار بڑی قدرت و عظمت والا ہے وہی یکتا خالق و قادر ہے اس لئے ہر انسان کو چاہئے کہ اس کی اطاعت وفرمانبرداری کے لئے تیار ہوجائے اس کے پیغمبر کی بات پر ایمان لائے اور سمجھ لے کہ نافرمانی کا انجام ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں، اور یہ محض دعوی ہی نہیں بلکہ تاریخی حقائق اور وہ عبرتناک واقعات ہیں جن سے اہل عرب بھی بخوبی واقف ہیں تو اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ کیسا کیا تیرے رب نے قوم عاد کے ساتھ جو ارم میں تھے۔ حاشیہ (بعض مورخین کہتے ہیں کہ ارم قوم عاد کے جدا اعلی کا نام تھا، ان ہی کو عاد اولی بھی کہا گیا۔ 12) بڑے بڑے ستونوں والے، ان کی عالیشان عمارتیں اور بلند ستونوں پر قائم محلات اور سیروسیاحت میں اونچے اونچے خیمے انکی عظمت اور طاقت و شوکت کے واضح نشانات تھے، کہ ان جیسی کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی تھی، دوسرے تمام شہروں میں خود انکے ڈیل ڈول، طویل قد و قامت اور مضبوط بدن اور مال و دولت کی فراوانی اور عیش و عشرت کا یہ مقام کہ اونچے محلوں اور قلعوں میں زندگی گذار رہے ہوں تاریخی لحاظ سے اسی قوم کو یہ تمام عظمتیں اور نعمتیں حاصل تھیں اور قوم ثمود کے ساتھ جنہوں نے پتھروں اور چٹانوں کو تراشا وادی میں اور وادی القری میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ ومضبوط مکانات بنائے تھے اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا کہ اس کی سرکشی وظلم کی حد نہ تھی اور لوگوں کو دیوار کے ساتھ ساتھ پاؤں۔ حاشیہ (بعض مفسرین ذوالاوتاد اور میخوں والے کی تفسیر میں اس کا لاؤ لشکر بیان کرتے ہیں کہ جب وہ باہر نکلتا اور اس کا لشکر ساتھ ہوتا تو جنگلوں اور میدانوں میں ٹھیرنے کے لئے خیمے گاڑے جاتے اور ان خیموں کو نصب کرنے کے لئے میخیں ساتھ ہوتیں تو اس لحاظ سے فرعون کو ذوالاوتاد یعنی میخوں والا کہا گیا۔ 12) میں میخیں ٹھوک کر نصب کرتا تھا۔ جنہوں نے سرکشی اختیار کر رکھی تھی شہروں میں اور جگہ جگہ ظلم وستم ڈھاتے پھرتے، بس ان کی شان و شوکت اور فوجی طاقت اسی بات کے لئے تھی، تو انہوں نے خوب دل کھول کر فساد برپا کیا اور ان شہروں میں، معصوموں اور بےگناہوں کا قتل عام شروع کردیا، خدا کی نافرمانی کے علاوہ یہ ظلم وستم اور سرکشی کا انجام ظاہر ہے کہ ہلاکت اور بربادی کی صوت میں رونما ہونا تھا چناچہ خوب برسایا ان پر اے مخاطب تیرے رب نے عذاب کا کوڑا اور وہ ایسا عذاب تھا کہ ان قوموں کا نام ونشان مٹ گیا، بیشک تیرا رب تو لگا ہوا ہے گھات میں مجرموں کی، پھر کون مجرم ہے جو اس کی گرفت سے نکل سکے، چناچہ یہ قومیں جن کو ان کے مال و دولت عیش و عشرت اور طاقت وسلطنت نے مغرور ومست بنادیا تھا اور طغیانی وسرکشی میں انہوں نے وہ ظلم وستم دھائے کہ حد نہ چھوڑی اور ایسا سراٹھایا کہ گویا ان کے سروں پر کوئی حاکم ہی نہیں اور تصور تک نہ رہا کہ ان سے انتقام لینے والا بھی کوئی حاکم موجود ہے تو اس رب العالمین نے جو کائنات کا مالک ہے اس کی طاقت کے سامنے دنیا کی کوئی حقیقت نہیں ان کو اپنی گرفت میں ایسا پکڑا کہ پلک جھپکنے کی بھی مہلت نہ مل سکی، آنافانا ان طاقتور اور مغرور قوموں کا نام ونشان مٹا دیا گیا، وہ قادر مطلق مجرموں سے غافل اور لاعلم نہیں ہوتا بلکہ وہ گھات اور تاک میں رہتا ہے کہ کب اور کس وقت ان کو عذاب سے تباہ کرے، یہ اس کی حکمت سے موقع کا انتظار اور مہلت ہوتی ہے، نہ کہ غفلت اس لئے کسی مجرم کو خدا کے مقابلہ میں سرکشی اور بغاوت کا خیال بھی نہ لانا چاہئے ، یہ تاریخی واقعات اور قدرت خداوندی کے شواہد ایسے ہیں کہ ہر ایک کو اس رب کائنات کی قدرت و عظمت پر ایمان لانا چاہئے مگر کیا کہا جائے انسان اپنی طبعی افتاد سے عجیب واقع ہوا ہے منعم کی نعمتوں کا شکر اور اطاعت تو درکنار عموما یہی ہوتا ہے کہ بس جب بھی کسی انسان کو اس کے رب نے آزمایا پھر اس کو عزت دی اور نعمتوں سے مالا مال کردیا تو کہنے لگا کہ میرے رب نے مجھے عزت دی کیونکہ میں اسی لائق تھا اور اس کی طرف سے مجھے عزت اور نعمتوں سے نوازنا میری خوبیوں کی وجہ سے تھا اور جب اس انسان کو ایک اور انداز سے آزمایا پھر اس پر اس کا رزق تنگ کردیا تو کہنے لگا میرے رب نے مجھ کو ذلیل کردیا، اور میری بےقدری کی اور میں اپنی خوبیوں اور اوصاف سے جن چیزوں کا مستحق تھا وہ مجھے نہیں دی گئیں تو یہ انسان بھی اپنی طبعی خصلت اور مزاج کے لحاظ سے عجیب واقع ہوا کہ خدا کے انعامات کو انعامات خداوندی نہیں سمجھتا ہے اور جب شامت اعمال سے مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو بجائے عبرت اور توجہ کرنے کے شکوہ وناراضگی کا رخ اختیار کرتا ہے اور بڑی بےحیائی سے کہتا ہے کہ میرے رب نے تو مجھے ذلیل کردیا اور پھر یہ نہیں سمجھتا کہ راحت وعزت اور نعمت ومصیبت ہوسکتا ہے کہ اس کی عملی زندگی کا نتیجہ ہو، اس لئے اے مخاطبو، تم اس حقیقت سے ہرگز غافل نہ بنو کہ دنیوی مصائب بسا اوقات انسان کے برے اعمال کی شامت ہوتے ہیں چناچہ تمہاری عملی خرابیوں پر ہم متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں خبردار یہ نہیں کہ عزت و راحت سے نکل کر مصیبت وذلت میں مبتلا ہونا خداوند عالم کی طرف سے کسی پر کوئی ظلم اور زیادتی سے بلکہ تم کود ایسے ہو کہ یتیم کو عزت سے نہیں رکھتے ہو، اور نہ تم ایک دوسرے کو مسکین و محتاج کو کھلانے کی تاکید وترغیب کرتے ہو یہ تو کیا ہوتا کہ محتاجوں اور مسکینوں پر خرچ کرتے ان کو کھلاتے اور اس کے برعکس تم تو مردے کا مال سارا ہی سمیٹ کر کھاجاتے ہو، حلال و حرام حق وناحق کی تمیز نہیں کرتے مرنے والوں کے وارثوں اور یتیم بچوں کا کوئی خیال نہیں کرتے بس جو ہاتھ لگا اس کو کھاگئے، اور حرص و لالچ کی کوئی انتہانہ رہی یہاں تک کہ تم مال کی محبت کرتے ہو جی بھر کر محبت کرنا گویا اس کی محبت تمہارے دل کے رگ وریشہ میں رچ گئی ہے، اس کی پرستش کو اپنا شیوہ بنالیا، مال کی اس قدر محبت کہ اس کو کعبہ مقصود ٹھہرالے،۔ حاشیہ (یہ الفاظ میرے محترم شیخ (رح) کے ہیں جو انہوں نے اپنے فوائد میں تحریر فرمائے۔ 12) صرف کافر کا شیوہ ہوسکتا ہے، خبر دار ایسے دھوکہ اور غلطی میں کسی انسان کو ہرگز مبتلا نہ ہونا چاہئے، اس کو سوچنا چاہئے جب زمین کوٹ کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی، اور اے مخاطب آجائے گا، تیرا پروردگار اپنی قہری تجلی کے ساتھ جس طرح بھی اس کی شان کبریائی کے لائق ہو، اور فرشتے بھی آجائیں گے قطار در قطار صف بستہ حکم خداوندی کے منتظر ہوں گے، میدان حشر ہوگا، تمام مخلوق اور فرشتے منتظر ہوں گے کہ فرمان الہی کیا صادر ہوتا ہے، اور لائی جائے گی۔ 1 حاشیہ 1 (یہ تفسیر اس حدیث کے پیش نظر کی گئی جو صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس روز جہنم کو کھینچ کر لایا جائے گا، اس طرح کہ ستر ہزار زنجیروں میں جکڑی ہوگی اور ہر زنجیر پر ستر ہزار فرشتے اسکو گھیسٹ کر لاتے ہوں گے، قیامت اور احوال آخرت کا انسانی افکار وعقول ادراک نہیں کرسکتیں جبکہ ہماری نظروں میں نظر آنے والا کوئی ستارہ زمین کے کرہ سے کروڑہاکروڑ بڑا ہے تو ظاہر ہے کہ ملکوت سماوات کی وسعت کیا ہوگی، اور عالم جہنم کتنا وسیع عالم ہوگا، اور اس کا کھینچ کر لانا یا اس کا چلنا اور حرکت کرنا کیا باعث تعجب ہوسکتا ہے، چاند سورج اور مریخ یہ متحرک سیارے ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں تو خداوند عالم کی قدرت اس طرح اگر جہنم کو ایک مقام سے گھسیٹ کر کسی دوسرے مقام (محشر) تک لے آئے تو کیا تعجب ہے۔ آمنا باللہ العزیز وعلی قدرتہ وما اخبرنا بہ رسولہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ ) جہنم اس دن محشر والوں کے سامنے، لاکھوں فرشتے اس کی جگہ سے کھینچ کر محشر والوں کے سامنے لے آئیں گے تو اس دن یہ انسان سوچے گا کہ یہ کیا ہوا اور میں نے کس قدر سخت غلطی اور بھول کی کہ ساری زندگی غفلت اور نافرمانی میں گذار دی، مگر کہاں کام آئے گا اس کے واسطے اس وقت سوچنا، سوچنے اور سمجھنے کا جو موقع تھا وہ تو اس نے ضائع کردیا، وہ دارالعمل دنیا کی زندگی تھی، اب یہ تو دار الجزاء ہے، اس لئے جو موقع ہاتھ سے نکل چکا وہ کیونکر اس کو حاصل ہوگا اس وجہ سے بڑی ہی حسرت سے کہتا ہوگا اے کاش میں پہلے سے کچھ بھیج دیتا اپنی زندگی کے لئے جو مجھے کچھ کام آجاتا، اصل زندگی تو یہی ہے دنیا کی زندگی تو اس حیات جاودانی کے لیے سامان مہیا کرنے کے لئے تھی جو میں نے ضائع کرڈالی، تو بس یہ دن ہوگا ایسے شدید اور ہولناک عذاب کا کوئی عذاب دینے والا ایسا عذاب نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی پکڑ سکتا ہے اسی جیسی پکڑ کرنا۔ غرض یہ عذاب وذلت اور گرفت ہر نافرمان انسان کے لئے ہے جو غفلت میں اپنی زندگی گذار دے اور نفس امارہ اس کو سرکشی اور ظلم وعدوان کے راستہ پر چلاتا رہے لیکن انسانی نفس میں جس نفس کو رضاء خداوندی اور اس کی اطاعت و بندگی پر آمادہ کرلیا گیا اور وہ اسی پر مطمئن ہوگیا، استقامت و پختگی سے اتباع حق کو اپنا شیوۂ زندگی بنالیا تو اس کے لئے بارگاہ خداوندی سے ایسا اعزاز واکرام ہوگا کہ کہا جائے گا اے نفس مطمئنہ جو۔ 2 حاشیہ (” نفس مطمئنہ “ نفس کی ریاضت وتربیت کے بعد نفس کی اس حالت کا نام ہے جب کہ نہ وہ امارہ بالسؤر ہے جو اس کا مزاج اور طبعی خاصہ ہے کہ برائیوں پر آمادہ کرنا، اور نہ وہ لوامہ رہے جبکہ وہ دوران تربیت اگرچہ مطمئنہ کی شان تو حاصل نہیں کرتا لیکن اس قدر صلاحیت حاصل کرلیتا ہے کہ برائی کے ارتکاب کے بعد ملامت کرنے لگتا ہے تو یہ درجہ آخری اور اعلی ترین درجہ ہے جس کے بعدنفس رضائے الہی کا تابع اور طالب بن جاتا ہے، اب یہ نفس اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جو حدیث انس بن مالک ؓ میں ہے، لایؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعالماجئت بہ اور ثلث من کن فیہ وجدبھن حلاوۃ الایمان۔ 12) اللہ کی بندگی پر راضی ومطمئن ہوا اور اسی کی رضا و خوشنودی کو اپنے لئے سکون وچین بنالیا، لوٹ جا تو اپنے رب کی طرف اس طرح کہ تو بھی خوش ہونے والا ہو اپنے رب کے انعامات پر اور تجھے پسند کیا جارہا ہو، تیرے رب کی بارگاہ میں تیرے ایمان وعمل صالح کو قبول کرتے ہوئے، صرف اسی حد تک اعزاز واکرام نہ ہوگا کہ یہ بشارت اپنے مرنے کے وقت سن لے، جب کہ فرشتے اس کی روح قبض کرکے اسے اس کے پروردگار کے پاس لیجا رہے ہوں جہاں سے وہ آیا تھا اور اب اپنی اصلی جگہ لوٹ کر جارہا ہے اسی وجہ سے اس کو خطاب لفظ ارجعی یعنی لوٹ جا تو “ سے کیا جاتا ہوگا اور اللہ کا جو مقرب بندہ اس مقام پر پہنچا ہوگا وہ بلاشبہ حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان کا مصداق ہوگا (آیت) ” من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاء ہ۔ بلکہ مزید برآں یہ بھی کہا جائے گا پھر داخل ہوجا میرے مخصوص ومقرب بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں۔ جو فردوس اعلی ہے، اور اللہ رب العزت نے اپنے ان بندوں کے واسطے اس کو مہیا کر رکھا ہے جن پر اسکا خصوصی انعام ہوگا، اور اس طرح یہ نفس مطمنۂ رکھنے والا مومن بندہ مطیع ومنیب الی اللہ ہونے کی وجہ سے اسی گروہ میں شامل کردیا جائے گا، جن کے بارے میں ارشاد فرمادیا گیا۔ (آیت) ” فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھدآء والصالحین وحسن اولئک رفیقا “۔ قدیم اقوام میں ارم ذات العماد کی تاریخی عظمت اور قہر خداوندی سے ہلاکت : اس آیت مبارکہ ” الم تر کیف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد “۔ میں حق تعالیٰ نے قوم عاد کے اس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو اس عظیم اور طاقتور قوم کی ہلاکت و بربادی کا اہل عرب میں مشہور ومعروف تھا (آیت) ” ارم ذات العماد “۔ لفظ عاد سے بدل اور اس کا بیان ہے جو بطور تفسیر و توضیح لفظ عاد کے بعد ذکر فرمایا گیا، یہ قوم عاد ارم کے عنوان سے معروف تھی، اور ان کو عاد اولی بھی کہا جاتا تھا جیسا کہ (آیت) ” وانہ اھلک عادان الاولی “۔ آیت میں گذر چکا ارم انکے جد اعلی کا نام تھا، اور عرب میں قوموں اور قبیلوں کا انتساب جد اعلی کی طرف مروج تھا یہ لوگ نہایت بلند قدوقامت والے تھے، مال و دولت کی فراوانی کی بھی حد نہ تھی، بلند ترین مکانات قلعے اور محلات تعمیر کرتے تھے، اسی وجہ سے ان کو ذات العماد یعنی ” ستونوں والے “ کے لقب سے تاریخ میں تعبیر کیا گیا، یہ قوم اپنے بزرگوں کے مقابر بھی نہایت بلند اور عالیشان بنایا کرتے تھے انکی عمارات اور شان شوکت کے آثار خود اپنی مثال تھے دیگر علاقوں اور شہروں میں اس کی مثال مشکل تھی تو اس بناء پر ان کی حالت بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے (آیت) ” لم یخلق مثلھا فی البلاد “۔ بھی فرمایا۔ تاریخی نقول سے معلوم ہوتا ہے کہ عاد دو فرقوں پر مشتمل قوم گذر ہی ہے، ایک عاد اولی جس کو عاد قدیم بھی کہا جاتا تھا، ان ہی کو اس مقام پر عاد ارم سے تعبیر کیا گیا، ان کے جد امجد ارم کے نام سے یہاں ایک خوبصورت شہر بھی تھا، جو عرب علاقوں میں بےمثال شہر ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ملک یمن کے علاقہ حضرموت میں احقاف کی سرزمین میں رہا کرتے تھے، خداوند عالم کی دی ہوئی نعمتوں سے اس قدر مست ہوئے کہ حد نہ رہی، عیش و عشرت نفس پرستی اور بدکاری اپنا شیوہ بنالیا ان ہی کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے، جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” والی عاد اخاھم ھودا “۔ لیکن جب نافرمانی اور سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ہوا کا طوفان اس ان پر مسلط ہوا اور ہلاک کردیئے گئے بعض مورخین کا خیال ہے کہ یہ قوم حضرت (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد یمن میں آباد ہوئی، ان کا عروج اس حد تک پہنچا کہ عرب، مصر اور بعض دیگر ممالک پر بھی انکی سلطنت ہوگئی، بدکاری اور عیاشی میں اس قدر بڑھ گئے کہ جانوروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، انبیاء (علیہم السلام) نے ہرچند نصیحت کی لیکن راہ راست پر نہ آسکے حتی کہ ہود (علیہ السلام) کا زمانہ آیا اور انکی نافرمانی میں جب حد سے زیادہ غلو ہوا تو ہوا کے طوفان نے ان کو ہلاک کرڈالا، اور عذاب الہی کا کوڑا جب ان پر برسنا شروع ہوا تو سلطنتیں بھی ختم ہوگئیں، تمام عیش و عشرت کے سامان بھی ہاتھ سے نکل گئے اور مصائب اور پریشانیوں میں اس قدر گھرے کہ شاید ہی دنیا میں کوئی قوم ایسے افلاس ومصائب کا شکار بنی ہو، عاد قدیم اور عاد اولی سے بچے کچھے لوگوں کو عاد اخیرہ سے بھی تعبیر کیا گیا۔ حضرت العلامہ حقانی دہلوی قدس اللہ سرہ نے اپنی تفسیر میں ان تاریخی نقول کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” مروی ہے کہ عاد کے دو بیٹے تھے، شدید اور شداد، یہ ملکوں پر قابض ہوئے، شدید مرگیا توشداد اس کا قائم مقام ہوا، اس کے اقبال نے ترقی کی بڑے بڑے شہر اس کے مطیع ہوگئے، اس نے (انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات میں) جنت کا ذکر سنا تو کہا کہ میں بھی ایک ایسی بہشت تیار کرتا ہوں تب اس نے یمن کے بعض جنگلوں میں شہر ارم کی بنیاد ڈالی اور تین سو برس میں ایک شہر آباد ہوا جس میں سونے چاندی کے محل اور زبرجد کے ستون تھے، اقسام و انواع کے اس میں باغ لگائے، نہریں جاری کیں، یہ شہر جب بن کر تیار ہوگیا تو تمام ارکان سلطنت کو جمع کرکے اپنے ساتھ لے کر اس شہر کی طرف چلا (تاکہ اپنی تیار کی ہوئی بہشت کی سیر کرائے) شداد جب اپنی بہشت کے قریب پہنچا تو آسمان سے ایک ہیبت ناک کڑک آئی اور اس نے سب کو ہلاک کرڈالا، تاریخی نقول سے ظاہر ہوتا ہے (قوم عاد جس جسمانی لحاظ سے تنومند ڈیل ڈول میں مضبوط طویل القامت ہوتے تھے اسی طرح ان کی عمریں بھی طویل ہوتی تھیں اس بنا پر تاریخی روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ) شداد نوسو برس تک زندہ رہا۔ یہ بھی ایک روایت بعض کتب تواریخ میں مذکور ہے (واللہ اعلم بالصواب) کہ حضرت ابو قلابہ ؓ ایک مرتبہ گمشدہ اونٹ تلاش کرتے ہوئے اس جنگل میں جا نکلے جہاں شہر ارم تھا، وہاں ان کو کچھ جواہرات ملے جو اٹھالائے، امیر معاویہ ؓ کو اس کی خبر ہوئی تو بلاکر وہاں کے احوال دریافت کیے اور سن کر یہی خیال ظاہر کیا کہ شاید یہ وہی کھنڈرات ہوں جہاں ارم شہر آباد تھا۔ (کذافی تفسیر فتح المنان المعروف بہ تفسیر حقانی، ج 8) عذاب خداوندی کی عظمت وشدت : (آیت) ” فیومئذلا یعذب عذابہ احد “۔ کی تفسیر بالعموم مفسرین کے یہاں یہی کی جاتی ہے کہ ان الفاظ میں حق تعالیٰ شانہ نے روز قیامت مجرمین پر جو عذاب ہوگا اس کی شدت بیان کی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ قیامت کے روز جو عذاب اللہ رب العزت مجرمین کو دے گا دنیا کی طاقت اس طرح کا شدید عذاب دے ہی نہیں سکتی، یہ مفہوم تو واضح اور ظاہر ہے جس طرح آخرت کی نعمتوں اور راحتوں کے برابر دنیا کی کوئی راحت ونعمت نہیں ہوسکتی تو بالکل اسی طرح آخرت کی کلفت اور عذاب کی ہم پلہ کوئی اور کلفت و عذاب نہیں ہوسکتا، اسی طرح خدا کی قید اور گرفت بھی ہے لیکن حضرت شاہ عبدالعزیز قدس اللہ سرہ ان کلمات کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں کہ اس روز نہ مارے گا اس کا سامارنا کوئی نہ آگ نہ دوزخ کے مؤکل نہ سانپ بچھو جو دوزخ میں ہوں گے کیوں کہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے اور حق تعالیٰ کا عذاب اس طور سے ہوگا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کردے گا، جو عذاب روحانی ہے اور ظاہر ہے کہ عذاب جسمانی کو عذاب روحانی سے کیا نسبت، نیز نہ باندھے گا اس جیسا باندھنا کوئی کیونکہ دوزخ کے پیادے ہرچند کہ دوزخیوں کے گلے میں طوق ڈال دیں گے اور زنجیروں سے جکڑیں گے اور دوزخ کے دروازے بند کرکے اوپر سے سر پوش رکھ دیں گے (جیسے کسی غار کو چٹان سے ڈھانک دیا جائے اور بند کردیاجائے) لیکن اس کی عقل اور خیال کو تو بند نہ کرسکیں گے اور عقل اور خیال کی عادت ہے کہ بہت سی باتوں کی طرح التفات کرتا ہے اور ان میں سے بعض باتیں بعض دوسری باتوں کے واسطے حجاب ہوجاتی ہے اسی لیے عین قید کی تنگی میں انسان کو عقلی اور خیالی وسعت حاصل ہوجاتی ہے برخلاف اس (مجرم) شخص کے کہ اللہ تعالیٰ اس کے خیال اور عقل کو ادھر ادھر جانے سے روک دے اور بالکل ہمہ تن دکھ اور درد ہی کی طرف متوجہ رکھے تو ایسی قید بدنی قید سے ہزاروں درجہ سخت ہے (اور ظاہر ہے کہ ایسی قید کسی کی طاقت میں نہیں، اس قید و گرفت میں بس اللہ ہی کی پکڑ کرسکتا ہے) اسی لیے مجنون سودائیوں کو عین باغوں اور جنگلوں کی سیر کے وقت بھی (باوجود باغوں کی شادابی اور جنگلوں کی وسعت کے) تنگی اور گھبراہٹ، وہم و خیال کے سبب پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ باغ اور وسیع جنگل اس کی نظر میں تنگ معلوم ہوئے ہیں۔ (ازفوائد شیخ الاسلام، حضرت عثمانی (رح)) فائدہ : شاہ ولی اللہ قدس سرہ ازالۃ الخفاء میں بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے آپ ﷺ کی مجلس میں آیۃ (آیت) ” یایتھا النفس المطمئنۃ “۔ تلاوت کی اور اس مجلس میں صدیق اکبر ؓ بھی موجود تھے آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ؓ ! بوقت وفات فرشتہ تم سے یہی کہے گا اور (آیت) ” یایتھا النفس المطمئنۃ “۔ کہہ کر تمہیں مخاطب کرے گا۔ تفسیر ابن کثیر میں بحوالہ ابن ابی حاتم سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی جب وفات ہوئی تو ان کے جنازہ کی تیاری کے بعد ان کی نعش میں ایک ایسا عجیب الخلقت پرندہ داخل ہوا کہ اس جیسا کوئی پرندہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا، اور اس کے بعد اس کو کسی نے نکلتے ہوئے بھی نہیں دیکھا جب جنازہ دفن کیا جانے لگا تو قبر کے ایک کنارہ سے سنائی دے رہا ہے، کوئی یہ آیت تلاوت کررہا ہے (آیت) ” یایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ “۔ اسی طرح ایک اور عجیب واقعہ بروایت حافظ ابن المنذر (رح) بیان کیا، فتان بن رزین ابوہاشم نے خود اپنا قصہ بتایا کہ ہم بلاد روم میں ایک مرتبہ گرفتار کرلیے گئے تھے تو وہاں کے نصرانی بادشاہ نے ہمیں عیسائی مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا، اور دھمکی دی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو قتل کردیئے جاؤ گے تو ہم میں سے تین آدمیوں نے تو بحالت اضرار اپنی زبان سے یہ کہہ دیا لیکن چوتھا شخص عزیمت پر قائم رہا اور اس نے کلمہ ارتداد اپنی زبان سے نہیں نکالا، جس پر اس کی گردن اڑا دی گئی اور کسی نہر میں اس کا سر ڈال دیا گیا، عام طور پر مشاہدہ کیا گیا کہ وہ سرپانی پر نمودار ہو کر ان تینوں کو نام بنام پکار کر یہ آیت پڑھتا رہا پھر پانی میں ڈوب گیا، اس واقعہ سے بادشاہ کانپ اٹھا اور بہت سے انصاری مسلمان ہوگئے۔ اللہم۔ حاشیہ (حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں برویات ابن عساکر ابو امامہ ؓ کی سند سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا یہ دعا مانگ اللہم انی اسأ لک نفسا مطمئنۃ نؤمن بلقاءک وترضی بقضائک وتقنع بعطاء ک۔ آمین برحمتک یا ارحم الراحمین “۔ اجعلنی منھم اللہم اجعلنی منھم اللہم اجعلنی منھم بفضلک وکرمک آمین یا رب العلمین۔ اے پروردگار عالم اس آیت مبارکہ کی برکت سے اس گنہگار کو بھی اپنے ان عبادمخلصین میں محض اپنے لطف وکرم سے شامل فرمالے جن کے واسطے تیرے فرشتے یہ پیغام بشارت لے کر آتے ہیں، اے رب العالمین آپ غفور رحیم اور عفو کریم میں عاملنی بما انت اھلہ ولا تعاملنی بما انا اھلہ انت اھل التقوی والمغفرۃ یارب یا رب یارب۔ ان تغفرفانت لذاکا وان تطردفمن یرحم سوا کا۔ فارحمنی یا مولای یا ارحم الراحمین وارحم لمن استغفرلی یا اکرم الاکرمین۔ آمین یا ذالجلال والاکرام۔