90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 90:1–20

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

ہمیں اس شہر کی قسم

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا ؟

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

بھلا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر اور شر کے) دو نور بھی دکھا دئیے

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی کی گردن کا چھڑانا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن کھانا کھلانا

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

یتیم رشتہ دار کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا فقیر خاکسار کو

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہوا جو ایمان لائے اور صبر کی نصحیت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر اس کی عظمتوں کو اس طرح مخاطب کے سامنے ظاہر کرتے ہوئے عمل کی تقسیم خیر وشر کی طرف کی جارہی ہے، اور یہ کہ اسی طرح انسانوں کے گروہ بھی ان دو قسموں میں منقسم ہیں ایک گروہ ابرار ونیکو کاروں کا اور دوسرا نافرمان اور فاجروں کا، اس ضمن میں انسانی عقول کو حق وہدایت کی رہنمائی اور ترغیب فرمائی گئی، اور ہلاکت وشر سے بچنے کی تنبیہ کی گئی۔ ارشاد فرمایا۔ قسم کھاتا ہوں میں اس شہر مکہ معظمہ کی، اور آپ ﷺ کے لئے حلت وآزادی ہوگی اس شہر میں جب کہ اس شہر میں کسی کو قتال کی اجازت نہیں مگر فتح مکہ کے وقت یہ آپ ﷺ کے لئے حلال کردیا جائے گا۔ جیسے کہ حدیث میں ارشاد رسول اللہ ﷺ ہے فتح مکہ اور اس وقت کے مقابلہ اور قتال ہی کا ذکر کرتے ہوئے، انھا لم تحل لاحد قبلی ولن تحل لاحد بعدی وانما احلت لی ساعۃ من نھار “۔ کہ شہر مکہ اور حرم مکہ مجھ سے پہلے نہ کسی کے لئے کبھی حلال ہوا اور نہ ہی ہمارے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا اور میرے واسطے صرف دن کے ایک حصہ میں حلال کیا گیا جس میں قتال بھی کیا گیا اور مجرمین کو اسی جگہ اور حدود حرم میں سزا بھی دی گئی حتی کہ کسی مجرم کو دیوار کعبہ کے پاس قتل کیا گیا تاکہ اس مقدس مقام کی ابدی تطہیر ہوجائے یا یہ کہ آپ اس شہر میں اترنے والے ہیں، اور حل بمعنی حال نازل ہو، یعنی اگرچہ اس وقت یعنی مکی زندگی میں اہل مکہ کی طرف سے اے پیغمبر آپ ہر قسم کی تکلیف ومشقت اور مصائب میں گھرے ہوئے ہیں لیکن آپ اسی شہر میں جس کو چھوڑ کر ہجرت بھی کرنا پڑے گی خدا کی قدرت اور اس کے فضل وکرم سے فاتحانہ انداز میں اتریں گے جیسے کوئی معزز مہمان کسی جگہ عزت کے ساتھ اتارا جائے، چناچہ یہ وعدہ الہی جو مکہ زندگی میں اس وقت کیا گیا جب کہ مادی اسباب میں کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، 8 ہجری ؁ میں فتح مکہ کی صورت میں رونما ہوا۔ 1 حاشیہ 1 (سورۃ الفجر کے مضمون سے اس سورت کے مضمون کی مناسبت ایک وجہ سے اس طرح بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ سورة فجر میں عاد وثمود اور قوم فرعون کی ہلاکت کا ذکر تھا کہ ان پر کس طرح خدا کا عذاب نازل ہوا اب اس مناسبت سے سورة البلد میں مکہ مکرمہ کی عظمت بیان کرکے یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جس کو اللہ نے امن کی جگہ بنایا حتی کہ (آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ اور اس سرزمین کے گھانس اور درختوں کے کاٹنے سے بھی منع کردیا گیا، جانوروں کا شکار بھی حرام کردیا گیا، اس طرح یہ شہر ان مقامات کے قطعا برعکس ہوا وہ علاقے محل عذاب تھے، یہ امن و عافیت کی جگہ حتی کہ اس جگہ کے مجرمین بھی عذاب خداوندی سے محفوظ کردیئے گئے جیسا کہ فرمایا گیا ، (آیت) ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم لیستغفرون۔ 12) آپ کعبۃ اللہ کے سامنے کھڑے تھے اور سرداران عرب سرنگوں معافی مانگتے ہوئے آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہورہے تھے اور آپ انکو معاف فرماتے جاتے، اور قسم ہے باپ کی اور اولاد کی یعنی آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم کی، بیشک ہم نے انسان کو بڑی ہی مشقت میں پیدا کیا، ابتداء آفرینش سے لے کر عمر بھر کے تمام مرحلے مشقتوں اور طرح طرح کے افکار وآلام اور مصائب میں گذرتے ہیں جن سے ہر ذی عقل یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ ہر انسان عاجز محض ہے اور اس کی زندگی میں پیش آنے والے تغرات کسی قادر مطلق کے قبضہ قدرت میں ہیں، اور اس کا فطری تقاضا یہی تھا کہ ہر انسان اپنے خالق کا مطیع و فرمانبردار ہوتا، لیکن نافرمان، و کافر انسان بڑی غلطی میں پڑا ہوا ہے کہ وہ اس چیز سے غافل ہے کہ قیامت اور جزاء وسزا کا مرحلہ آنے والا ہے ،۔ 2 حاشیہ 2 (حسن بصری (رح)۔ (آیت) ” وانت حل بھذا البلد “ کی تفسیر میں حضور اکرم ﷺ کے لئے حرم مکہ کی حلت کا مفہوم بیان فرمایا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے یہ وہی بات ہے جو حدیث بخاری اور مسلم میں آنحضرت ﷺ سے وارد ہوئی، آپ نے ارشاد فرمایا، ان ھذا البلد حرمہ اللہ یوم خلق السموت والارض فھو حرام الی یوم القیمۃ لایعضد شجرہ ولا یختلی خلاہ وانما احلت لی ساعۃ من نھار وقد عادت حرم تھا الیوم کحرم تھا بالامس، الا فلیبلغ الشاھد الغائب، ان آیات میں مکہ مکرمہ کی قسم کھانے کے بعد (آیت) ” ووالدوما ولد “ ، کی قسم کھائی گئی، جمہور مفسرین کی رائے یہی ہے کہ والد سے مراد آدم (علیہ السلام) اور ولد سے ان کی ذریت اور اولاد آدم ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی ذریت کی قسم کھانا گویا آدم (علیہ السلام) کی عظمت اور ان کی خلافت فی الارض کی طرف اشارہ ہے اور ذریت کی قسم کھانا گویا تاریخ عالم میں انسانوں کے احوال ان کے ادوار، ان کے اعمال واخلاق اور ان کے عادات و طبائع کے عظیم ترتفاوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہر مخاطب کی نظروں کے سامنے عالم انسانیت کا پورا نقشہ پیش کردیا اور ظاہر ہے کہ عظمت خداوندی کا اس طرح ثبوت کلیۃ بہم پہنچ رہا ہے ، مجاہد (رح) اور حسن بصری (رح) سے منقول ہے، فرمایا رب العزت نے (آیت) ” لا اقسم بھذا البلد “۔ اس شہر کی قسم کھائی جو ام القری اور ام المساکن یعنی انہی جگہوں میں سب سے پہلی جگہ (جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا “ ) ت اس کے بعد مناسب ہوا کہ ساکنین میں اس ساکن کی قسم کھائی جائے جو سب سے اول اور اصل زمین پر تمام آباد ہونے والوں کی، وہ ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ 12) تو کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کسی کو قدرت نہ ہوگی پکڑ کی اور اس کے کفر ونافرمانی پر سزا دینے کی یہ انسان کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال خرچ کردیا ہے جیسا کہ کفا رم کہ آنحضرت ﷺ اور اسلام کے خلاف اپنی دولت خرچ کرکے کہتے یا یہ انسان وہ ہے جو اپنے واسطے محفوظ مکانات کی تعمیر میں خادموں، محافظوں کی تنخواہوں، اپنے خاندان کے لوگوں پر انعام واکرام اور امداد واعانت میں، راحت و آرام اور عیش و عشرت کے اسباب مہیا کرنے میں خرچ کرکے کہتا ہے میں نے تو بہت سا مال خرچ کرڈالا ہے تو اب ان محفوظ قلعوں اور اس قدر محافظین اور جانثار فوج اور خادموں کے ہوتے ہوئے مجھے کون پکڑ سکتا ہے، اور کون ہے جو مجھے کسی مصیبت و پریشانی میں ڈال سکے، میں جو کچھ کررہا ہوں مجھے اس کی سزا کوئی نہیں دے سکتا، لیکن اس انسان کا یہ سوچنا اور کہنا قطعا غلط ہے، اس کے یہ تمام وسائل واسباب ہرگز ہرگز خداوند عالم کی گرفت اور اس کے عذاب سے نہیں بچا سکتے وہ قادر مطلق ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے، اس کے احاطہ قدرت اور علم سے کوئی نہیں نکل سکتا، کیا اس کا یہ گمان ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا، اور اس کے اعمال کسی قادر مطلق کی نظروں کے سامنے نہیں، یہ بات بھی قطعا عقل و شعور کے خلاف ہے، بھلا کیا نہیں دی ہیں اس کو دو آنکھیں۔ 1 حاشیہ (حافظ ابن کثیر دمشقی (رح) نے اپنی تفسیر میں بروایت ابن عساکر مکحول کی سند سے یہ روایت ذکر کی ہے، بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ رب العزت فرماتا ہے، اے ابن آدم میں نے تجھ پر بڑے عظیم انعامات کئے ہیں جن کی کوئی حدوانتہا نہیں، میرے عظیم تر انعامات میں سے یہ ہے کہ میں نے تجھے دو آنکھیں دی ہیں جن سے تو دیکھتا ہے اور ان پر ایک پردہ بھی بنادیا ہے تو ان آنکھوں سے تو وہ چیز دیکھ جو تیرے واسطے حلال ہے، اور اگر تیرے نگاہیں ایسی چیز پر پڑیں جو میں نے تجھ پر حرام کردی تو اپنی آنکھیں اس پردہ سے بند کرلے اور تجھے زبان دی اور اس کے واسطے ایک غلاف بنادیا (یعنی دہن اور ہونٹ) اس لئے اس زبان سے تو وہ چیز بول جو تیرے لئے حلال ہے، اور جس چیز کا زبان سے بولنا میں نے حرام کردیا ہے تو اس بےزبان کو اپنے دہن میں بند رکھ۔ الی آخر الحدیث۔ (آیت) ” وھدیناہ النجدین “۔ لغت میں النجد طریقہ اور راستہ کو کہا جاتا ہے، تو نجدین سے دونوں قسم کے راستے ہوئے خیر وشر کے چناچہ سفیان ثوری (رح) نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہی تفسیر کی ہے حضرت علی ؓ ابن عباس ؓ ، مجاہد (رح) عکرمہ (رح) اور عطاء خراسانی (رح) سے بھی اسی طرح منقول ہے، ابن وہب (رح) نے بروایت انس بن مالک ؓ بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے تھے، اے لوگو ! یہ دو راستے ہیں (جن کو قرآن النجدین فرما رہا ہے) کہ انسان کو چاہئے کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر عقل و شعور سے سمجھ کر یا کسی سے پوچھ کر خیر و فلاح ہی کا راستہ اختیار کرے، بعض مفسرین نے عورت کے دونوں بستان بھی مراد لئے ہیں (آیت) ” فک رقبۃ “۔ رقبہ گردن کو کہتے ہیں اور فک کسی گرفت کو کھولنا اس میں ہر پریشان اور گرفتار مصیبت شخص کو مصائب کی گرفت سے چھڑانا بھی داخل ہے جیسے کسی غلام کو غلامی سے رہا کرانے میں حصہ لینا یا پورے طور پر اعتاق رقبہ یعنی اس کو آزاد کردینا جب کہ وہ اسی کا مملوک ہے۔ 12 روح المعانی ج 4) جس سے یہ سب کچھ دیکھتا ہے اور کیا ہم نے نہیں بنائی ہے اس کی زبان اور دو ہونٹ جن سے یہ دن رات بولتا ہے اور خدا کی پیدا کی ہوئی نعمتیں کھارہا ہے، اور کیا ہم نے اس کو نہیں دکھلادیں دو گھاٹیاں اور رہنمائی نہیں کردی ہے دونوں راستوں خیر اور شر کی کہ عقلی اور فکری صلاحیت سے سمجھ سکتا ہے کہ کیا چیز خیر ہے اور کیا چیز شر ہے، کون سی بات مفید ہے اور کون سی مضر، تو جو رب العالمین اس انسان کو دو آنکھیں عطا کرنے والا ہے اور ہر جاندار مخلوق کو اس نے بینائی دی ہے کیا وہ اس انسان اور اس کے اعمال واطوار کو نہیں دیکھ رہا ہوگا، جو رب ساری دنیا کو بینائی دے وہ خود کچھ نہ دیکھ سکے گا یہ تصور کوئی پاگل انسان ہی اپنے دماغ میں قائم کرسکتا ہے، پھر جس خالق حکیم نے اپنی قدرت و حکمت سے انسان میں ان تمام چیزوں اس کی زبان اس کے دوہونٹ اور تمام پیکر جسمانی مع اپنی تمام خوبیوں اور حکمتوں کے پھر اس نے عقل و شعور کی صلاحیت دی ہو جس کے ذریعہ انسان ہر خیر وشر کو پہچان سکتا ہے اس کی قدرت اور عظمت سے کوئی انکار کرسکتا ہے ؟ اور اس قادر مطلق کی گرفت سے یہ نافرمان انسان کیسے بچ سکتا ہے۔ یا یہ کہئے کہ جب اس پروردگار نے اس انسان کو آنکھیں دی ہیں تو اس کو چاہئے تھا آنکھوں سے اللہ کی قدرت کے مناظر اور دلائل دیکھتا زبان دی تھی، اس کو چاہئے تھا کہ کسی سے پوچھ لیتا، کسی کی زبان میں اگر گویائی نہ ہو تو گونگوں کی طرح ہونٹوں کے اشارہ سے بات کرنا اور معلوم کرنا ممکن تھا، پھر عقل دی اور خیر وشر ہدایت، ضلالت اور حق و باطل دلائل کی روشنی میں واضح کردیئے تو شر سے بچ کر خیر کا راستہ اختیار کرسکتا تھا، گمراہی اور باطل سے بیزار ہو کر حق قبول کرسکتا تھا، مگر افسوس صد افسوس ! ان تمام باتوں کے باوجود یہ انسان جب گمراہی پر ڈٹا رہا، نافرمانی اور فسق وفجور کے سوا زندگی میں کوئی کام ہی نہ کیا تو اب اس کے بعد کیسے عذاب خداوندی اور اس کی گرفت سے بچے گا، خدا کی عطا کی ہوئی ان نعمتوں اور صلاحیتوں سے تو اس کو چاہئے تھا کہ اس کا مطیع وفرمانبردار ہوتا، جب یہ سب اس کو بارگاہ رب العزت سے ملا تھا تو پھر کیوں نہ گھس پڑا۔ حاشیہ (اقتحام لغت میں کہا جاتا ہے کسی تنگ جگہ میں داخل ہوجانے کو یا تیزی سے کسی مکان میں گھس جانے کو تو اس لفظ کو قرآن کریم نے استعمال کرکے یہ اشارہ کردیا کہ درحقیقت یہ وادی اور گھاٹی امن و عافیت کی ایسی ہے جس میں انسان کو چاہئے کہ بڑی ہی تیزی اور قوت کے ساتھ داخل ہوجائے، اگر خارج میں موانع پیش آرہے ہوں تو پوری قوت سے ان کی مزاحمت کرتا ہوا اندر داخل ہوجائے۔ ) گھاٹی میں ایسی گھاٹی جس میں ہر طرح کی آفت ومصیبت سے حفاظت ہو، سعادت و فلاح کے خزائن وہاں حاصل ہوسکیں، اور اے مخاطب تجھے خبر بھی ہے ؟ کہ کیا ہے وہ عقبہ (گھاٹی) ؟ وہ چھڑانا ہے کسی گردن کا غلامی یا کسی بھی بوجھ اور گرفت سے یا کھانا کھلانا ہے کسی بھوک کے دن یتیم کو بالخصوص جو قرابت والا ہو، یا کسی محتاج کو جو اپنے فقر و احتیاج کے باعث خاک میں رل رہا ہو اور فقر و تنگدستی سے خاک میں لوٹ رہا ہو، درحقیقت خرچ کے تو یہ مواقع ہیں، اس انسان کو چاہئے تھا کہ ایسے مواقع میں اپنے مال کو خرچ کرتا ہے، اور ان ہی مصارف میں مال کا خرچ کرنا سعادت اور فوز و فلاح کی منزل تک پہنچنے کا راستہ ہے، اور یہی وہ گھاٹی ہے جس میں گھس کر انسان امن و عافیت اور دنیا کے ہر فتنہ اور مصیبت سے تحفظ حاصل کرسکتا ہے۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے محض ان مکارم اخلاق اور یتیموں مسکینوں کی اعانت وہمدردی سے فلاح و کامیابی نہیں حاصل ہوتی بلکہ چاہئے کہ وہ ہوجائے ایمان والوں میں سے، اور ایمان وتقوی اور عمل صالح خداوند قدوس کی عبادت و بندگی کے ساتھ ان لوگوں میں ہوجائے جو ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہیں صبر کی اور ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہیں مہربانی کرنے کی کہ حقوق وفرائض ادا کرنے میں صبر و تحمل اور استقامت اختیار کریں، اور اس راہ میں اپنے نفس کی شہوات اور لذتوں پر قابو پانے کی کوشش کریں اور خدا کی مخلوق پر مہربانی اور رحم کو نیکی تاکید کریں، کیونکہ یہی راستہ یعنی ایمان وعمل صالح اور مخلوق خدا پر رحم کرنا آسمان و زمین کے قیام وبقاء کا ذریعہ ہے جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے، ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء (کہ زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا) تو بس یہی لوگ ہیں بڑے نصیب والے اور کامیاب ان ہی کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ اور اس کے برعکس جو لوگ ہماری آیتوں کے منکر ہوئے اور نافرمانی اختیار کرلی وہ بدبختی والے ہیں، انکی نحوست شامت اعمال انکو ہرگز نہ بخش سکے گی، یہاں تک کہ ان ہی پر ایک آگ ہوگی جو ڈھانک دی گئی ہوگی جیسے کسی ڈھکنے یاسر پوش سے کوئی چیز بند کردی جائے اور اس کو ڈھانک دیا جائے کہ اس کے بعد نہ اس کی بھاپ اور شعلے نکل کر کم ہوسکیں گے اور نہ ہی باہر کی کوئی ہوا یا کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی شدت اور لپٹ کو کم کرسکے گی یا یہ کہ جہنم کے تمام دروازے بندکئے ہوئے ہوں گے تو یہ کیونکر ممکن ہوگا کوئی مجرم اس میں سے نکل بھاگنے کا تصور کرسکے۔ فائدہ : (آیت) ” ثم کان من الذین امنوا “۔ یعنی بایں ہمہ اور مذکورہ بالا اوصاف سے متصف ہونے کے علاوہ پھر یہ بھی ہو کہ وہ ایمان والوں میں سے ہو، تو لفظ ثم اس مقام پر محض تراخی ذکری کے لیے ہے جو اہل عربیہ کے یہاں متعدد امور کے ذکر کے بعد کوئی مضمون بیان کرنے کے لئے لایا جاتا ہے، بعض علماء فرماتے ہیں کہ تراخی وقوعی کے لئے ہے یعنی اگر کسی شخص کافر نے اپنی کفر کی زندگی میں اعمال خیرکئے، صدقہ، صلہ رحمی وغیرہ کیئے تو یہ اعمال قابل قبول اور باعث رضاء خداوند اس وقت ہیں جب کہ وہ شخص ایمان لے آئے، چناچہ حکیم بن حزام ؓ نے اسلام لانے کے بعد آنحضرت ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں نے حالت کفر میں کچھ نیک کام کئے ہیں ؟ (کیا وہ قبول ہوں گے یا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اسلمت اسلفت من خیر۔ کہ تم ان تمام نیکیوں کے ساتھ ایمان لائے ہو جو تم پہلے کرچکے، ہم نے ترجمہ آیت کے درمیان اضافہ کئے ہوئے الفاظ میں ان دونوں کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ تواصی بالصبر انفرادی اور اجتماعی فلاح کا باعث ہے : صبر کا مفہوم ضبط نفس ہے، جو استقامت اور پابندی کے معنی کو متضمن ہے، نفس کو خواہشات سے روکنا اور فرائض دین کا پابند بنانا اتباع شریعت کی روح ہے۔ لفظ صبر کا استعمال علی اور عن دونوں صلوں کے ساتھ کلام میں پایا گیا، ائمہ لغت فرماتے ہیں علی کے ساتھ استعمال کسی چیز پر پختگی استقامت اور دوام ہوتا ہے یا کسی چیز کو برداشت کرنا، مثلا کہا جائے صبرت علی الفرائض، یعنی میں نے فرائض کی پابندی کی اور کہا جاتا ہے، فلان صبر علی البلایا “۔ کہ فلان شخص نے مصائب و تکالیف کا تحمل کیا، اور عن کے ساتھ استعمال مثلا صبرت علی المعاصی تو مراد یہ ہوگی کہ گناہوں اور نافرمانیوں سے صبر اور پرہیز کیا، صبرت عن الشھوات یعنی نفس کی خواہشات سے بچا، تو اس طرح صبر کی عملی شکل انسانی حیات میں فرائض کی پابندی مشقتوں کی برداشت، گناہوں سے پرہیز اور خواہشات نفس سے اجتناب کی صورت میں رونما ہوگی اور ظاہر ہے کہ انسان کی عملی زندگی میں ان چار پہلوؤں کی تکمیل کمال سعادت اور ایمانی زندگی کا پیکر ہے اور ان بنیادی عملی پہلوؤں کی دوسروں کو تلقین اصلاح معاشرہ کی ضامن اور اجتماعی زندگی کو اعلی وارفع بنانے والی ہے، صبر وحلم اللہ رب العالمین کی نظر میں بڑا ہی محمود وصف ہے، ارشاد ہے (آیت) ” ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور “۔ کہیں اس کو انبیاء (علیہم السلام) کا خلق عظیم ہونے کی حیثیت سے بیان کیا۔ (آیت) ” فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل۔ انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب “۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو ہلاکت میں ڈالنے والی دوچیزیں ہیں ایک قوت غضبیہ دوسری قوت شہویہ، ان دونوں کا غلبہ انسان کو فسق وفجور اور شہوات وبدامنی سفک وماء ظلم وعدوان جیسی باتوں میں مبتلا کردیتا ہے، وصف صبر سے ان دونوں قوتوں کو انسان اپنے ضبط اور قابو میں لاسکے گا، اور اس طرح جو بھی بےراہ روی، اور سرکشی انسان کی عملی زندگی میں واقع ہوتی ہے اس سے محفوظ رہے گا، ساتھ ہی شدائد و تکالیف کا تحمل اور احکام دین پر استقامت وپابندی اس کو مزید کمال و عظمت کی منزل تک پہنچانے والی ہوگی۔