Ayahs 89:1–3ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے اس مقام پر بھی اسی طرح ہے اللہ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ فجر کے و قت ایک نہایت فضیلت ور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کے اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اس لیے کہ اس کے بعد اللہ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ راتیں فضٗیلت والے ایام پر مشتمل ہیں ان راتوں میں ایسی عبادت وقربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتی۔ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے اور ذوی الحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا کیونکہ اس روز اللہ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور اشیا قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔
Ayah 89:4(وَالَّيْلِ اِذَا يَسْرِ ) اور رات کی 0 قسم) جب جانے لگے۔ یعنی اس کے گزرنے ور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور ستراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔
Ayah 89:5(هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِيْ حِجْرٍ ) ان مذکورہ چیزوں میں عقل مند کے لیے قسم ہے ؟ ہاں اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
Ayahs 89:6–7اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اَلَمْ تَرَ ) یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا اور وہ (ارمَ ) ، ، ارم۔ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ( ذَاتِ الْعِمَادِ ) ستونوں والے۔ یعنی بہت زیادہ قوت سرکشی اور ظلم وجبر والے لوگ تھے۔
Ayah 89:8(الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ) یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہود نے ان سے فرمایا (واذکروا اذ جعلکم۔۔۔ تا۔۔۔ تفلحون۔ الاعراف 69) اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمہیں خوب تنومند کیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا یاد کرو شاید کہ تم فلاح پاؤ۔
Ayah 89:9(وَثَمُوْدَ الَّذِيْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ) اور ثمود کے ساتھ کیا کیا جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔ یعنی وادی القری میں انہوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔
Ayah 89:10(وَفِرْعَوْنَ ذِي الْاَوْتَادِ ) اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔ یعنی لشکروں والا تھا، جنہوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہیں جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔
Ayahs 89:11–13(الَّذِيْنَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ) جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی۔ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کارویہ اختیار کیا اللہ کے بندوں کو ان کے دین میں دنیا میں ستایا اس لیے فرمایا (فَاَكْثَرُوْا فِيْهَا الْفَسَادَ ) اور بہت فساد مچا رکھا تھا یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا انبیا ومرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے، جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔
Ayah 89:14(اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ) بیشک آپ کا رب گھات میں ہے۔ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
Ayahs 89:15–16اللہ تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں وہ جس حالت میں ہوتا ہے اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہوگی۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے جب للہ تعالیٰ (فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ ) اس کا رزق تنگ کردے اور اس کا رزق نپا تلا ہوجائے اور وافر نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی اہانت ہے پس اللہ نے اس کے اس خیال کا رد فرمایا۔
Ayah 89:17(كَلَّا) یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کردیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اپنے اس ثواب جزیل سے نوازے۔ جو ایسا نہ کرے اس کو سخت عذاب میں ڈال دے نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے چناچہ فرمایا (كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ ) ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تم اس کا اکرام نہیں کرتے بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمہارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔
Ayahs 89:18–19(وَلَا تَحٰۗـضُّوْنَ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ ) یعنی تم حاجت مندوں، فقرا اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کی ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا کے مال و دولت پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمہارے دلوں میں سما گئی ہے اس لیے فرمایا (وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ ) اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔ یعنی چھوڑا ہوا مال۔ (اَكْلًا لَّمًّا) سمیٹ کر۔ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔
Ayah 89:20(وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا) یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے (بل توثرون الحیوۃ الدنیا، والاخرۃ خیر وابقی۔ الاعلی۔ 16، 17) بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے (کلا بل تحبون العاجلۃ، وتذرون الاخرۃ۔ القیامہ۔ 20، 21) ہرگز نہیں بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔
Ayahs 89:21–22(كَلَّآ) یعنی ہرگز ایسا نہیں۔ تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو تمہارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں بلکہ تمہارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا حتی کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنادیا جائے گا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہوگا۔ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا تمام اہل آسمان مکرم فرشتے (صفا صفا) صف درصف آئیں گے ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔
Ayah 89:23(وَجِايْۗءَ يَوْمَىِٕذٍۢ بِجَهَنَّمَ ) اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔ فرشتے اسے زنجیروں میں جکر کر لائیں گے پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے۔ (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ ) اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ؟ ( وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى) مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا ؟ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔
Ayah 89:24(يَقُوْلُ ) اس نے اللہ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ( يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيْ ) کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یقول یلتینی اتخذت مع الرسول سبیلا۔ یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا۔ الفرقان 27، 28) کہے گا کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا ہائے میری شامت کاش میں نے فلاں کو کو دوست بنایا ہوتا، ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذت کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقا ہے۔
Ayah 89:25(فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗٓ اَحَدٌ) پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اس کے لی عمل کو فراموش کردیا۔
Ayahs 89:26–27(وَّلَا يُوْثِقُ وَثَاقَهٗٓ اَحَدٌ) اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔ پس انہیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا پس یہی مجرموں کی سزا ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اسی پر مطمئن ہو اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا۔ (يٰٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ) اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس۔ جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
Ayah 89:28( ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ ) اپنے رب کی طرف لوٹ چل۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تیری نشونما کی۔ ( رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔
Ayahs 89:29–30(فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ ۔ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ ) پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔