Ayah 89:1والفجر :”الفجر“ سے مراد صبح ہے۔ سورة تکویر میں بھی یہ قسم مذکور ہے :(والصبح اذا تنفس) (التکویر : 18)”اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے۔“ ضروری نہیں کہ اس سے کسی خاص دن کی صبح ہی مراد لی جائے، ہر صبح ہی قیامت کی دلیل ہے، جس کے ساتھ سوئی ہوئی مخلوق بیدار ہوجاتی ہے اور موت کے بعد اٹھنے کا منظر سامنے آجاتا ہے۔
Ayah 89:2ولیال عشر : بہت سے مفسرین نے ”ولیال عشر“ سے ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں مراد لی ہیں۔ اہل عرب حج کے ایام کی بہت تعظیمک رتے تھے، ان دنوں میں ہر طرف سے لوگوں کا مکہ میں اجتماع قیامت کے دن کے اجتماع کی یاد دلاتا ہے، مگر لفظ عام ہیں تو بہتر ہے مفہوم بھی عام ہی رکھا جائے۔ چاند کی راتوں کا ہر عشرہ نئے انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے، پہلے عشرے میں چاند بڑھتا جاتا ہے، آخری میں گھٹتا جاتا ہے اور درمیانی عشرہ عروج و زوال کا جامع ہونے کے باوجودت قریباً روشن ہوتا ہے۔ یہ انقلاب قیامت قائم ہونے کی دلیل ہے۔
Ayah 89:3(والشفع والوتر : جفت وہ عدد ہے جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہوجائے، جیسے دو ، چار، چھ وغیرہ اور طاق وہ عدد ہے جو اس طرح تقسیم نہیں ہوتا، مثلاً ایک ، تین، پانچ وغیرہ۔ کائنات کی کوئی بھی چیز گنتی کے وقت ان دو حالتوں سے خالی نہیں۔ تمام چیزیں بڑھتے وقت بھی طاق سے جفت اور جفت سے طاق ہوتی چلی جاتی ہیں اور گھٹتے وقت بھی۔ مثلاً ایک سے دو ، پھر تین، پھر چار و علیٰ ہذا القیاس اور دس سے نو، پھر آٹھ سے سات و علی ہذا لاقیاس۔
Ayah 89:4والیل اذا یسر :”یسر“ اصل میں ”یسری“ ہے۔ آیات کے فواصل کی مطابقت کے لئے یاء حذف کر کے راء پر کسرہ باقی رکھا گیا ہے۔”سری یسری سری“ (ض) رات کا چلنا۔ سورة مدثر میں فرمایا :(والیل اذا دبر) (المدثر : 33)”اور قسم ہے رتا کی، جب وہ جانے لگے۔“ یعنی رخصت ہوتی ہوئی رات قیامت قائم ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔
Ayah 89:5(1) ھل فی ذلک قسم لذی حجر :”ھل“ کے معنی کے لئے دیکھیے سورة دہر کی پہلی آیت۔”حجر یحجر“ (ن) منع کرنا، روکنا۔ عقل کو ”حجر“ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو ہر غلط کام سے روکتی اور منع کرتی ہے۔
(2) قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر کسی نہ کسی بات کی شہادت اور دلیل کے لئے آتی ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قسمیں کھا کر عقل والوں کو کیا باور کروایا جا رہا ہے ؟ جواب اگرچہ لفظوں میں موجود نہیں مگر آئندہ آیات سے صاف واضح ہے۔ یعنی ان سب چیزوں پر غور کرو تو تمہیں یقین ہوجائے گا کہ اتنے زبردست تغیرات لانے والے پروردگار اس بات پر قادر ہے کہ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے تمہیں تمہارے اعمال کی جزا و سزا دے اور اگر تم سرکشی پر اڑے رہے تو عاد وثمود اور قوم فرعون کی طرح دنیا میں بھی تم پر عذاب کا کوڑا برسا دے۔
Ayahs 89:6–8(الم ترکیف فعل ربک بعاد)…:”العماد“ اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر آتا ہے، ستون۔”ارم“ نوح ؑ کی اولاد میں سے ایک آدمی کا نام ہے جس کی نسل سے عاد ارم تھے۔ عاد ارم سے مراد عاد اولیٰ ہیں جن کی طرف ہود ؑ بھیجے گئے تھے اور عاد ثانیہ یا عاد اخریٰ ثمود کو کہتے ہیں ڈ۔ بعض کا خیال ہے کہ ارم خاص اس جگہ کا نام تھا جہاں عاد رہتے تھے۔ (واللہ الع) البتہ حفاظ ابن کثیر ؒ نے ان لوگوں کی باتوں کو خرافات قرار دیا ہے جن ہوں نے ارم ایک ایسا شہر بیان کیا ہے جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی تھی۔ ”ذات العماد“ کا لفظی معنی ہے ”ستونوں والے۔“ ان کا یہ لقب اس لئے ہے کہ وہ بڑے قد آور تھے (جس طرح کھجوروں کے تنے۔ دیکھیے حاقہ : 7) اور اسلئے بھی کہ وہ بڑے بڑے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے اور محض شان و شوکت کے اظہار کے لئے اونچی سے اونچی یادگاریں بناتے تھے۔ دیکھیے سورة شعراء (128)۔
Ayah 89:9(وثمود الذین جابوا الصخر بالواد :”جابوا“”جاب یجوب جوباً“ (ن) کاٹنا۔”الصخر) اسم جنس ہے، چٹانیں، مفسرین کہتے ہیں کہ ثمود پہلے لوگ ہیں جنہوں ن ے پہاڑوں کو کاٹ کر گھر بنائے۔ (شوکانی) آج کل اس ”وادی القریٰ“ کا نام ”اعلائ“ ہے جو سعودی عرب میں ہے اور وہ مدائن صالح (جو ثمود کا مرکزی شہر تھا) سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ (دیکھیے سورة حجر : 82) (اشرف الحواشی)
Ayahs 89:10–11(وفرعون ذی الاوتاد :”الاوتاد“ ”وتد“ کی جمع ہے، لکڑی یا لوہے وغیرہ کی میخیں۔ ”ذی اوتاد“ ”مخیوں والا“ یعنی بڑے لشکروں والا، جن کے خیمے گاڑنے کے لئے بہت بڑی تعداد میں میخیں مہیا رہتی تھیں، یا سخت ظالم کہ جس پر ناراضی ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھکرا دیتا تھا۔
Ayah 89:12(فاکثروا فیھا الفساد : یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک اور اس کی مخلوق پر ظلم و ستم (اشرف الحواشی)
Ayah 89:13(فصب علیھم ربم سوط عذاب : ان میں سے کسی پر ہم نے پتھر بسرانے والی آندھی بھیجی، کسی کو چیخ نے پکڑ لیا، کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غقر کردیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة عنکبوت کی آیت (40) کی تفسیر۔
Ayah 89:14(ان ربک لبا لمرصاد :”رصد یرصد رصداً) (ن) کسی کے راستے میں اس پر حملے کے انتظار میں بیٹھنا۔ ”الیمرصاد“ گھات، چھپ کر بیٹھنے کی جگہ جس میں بیٹھ کر دشمن پر حملے کا انتظار کیا جاتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے لئے مقرر کردہ وقت کے انتظار میں ہے، جب مقرر وقت آتا ہے پکڑ لیتا ہے۔
Ayahs 89:15–20(فاما الانسان اذا ماا بتلہ…:) قیامت کے منکرین کے نزدیک چونکہ سبھی کچھ دنیا ہے اس لئے ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں جو آسودہ حال ہے اللہ تعالیٰ اس سے رضای ہے اور جو تنگ حال ہے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ فرمایا یہ بات ہرگز درست نہیں، فرعون اور دوسرے لوگوں کے واقعات ابھی تم نے سنے، ان کی خوشحالی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کوی اد کرو تو سمجھ لو گے کہ دنیا کی آسودہ حلای یا بدحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کافر خوش حالی میں سرکشی اور تنگی میں شکوہ و ناشکری کر کے ناکام ہو اتے ہیں اور مومن نعمت پر شکر کے ساتھ اور مصیبت میں صبر کیساتھ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تمہارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خوش حالی کی نعمت کا شکر ادا کرو اور بطبور شکر مستحقین پر خرچ کرو، تم اتنا بھی نہیں کرتے کہ یتیم کے ساتھ عزت کا برتاؤ ہی کرلو، یا مسکین کو کھلاتے نہیں تو کسی دوسرے کو ترغیب ہی دے دو۔ تم تو میراث کا مال بھی جو تمہیں بغیر محنت کے مل گیا ہے، عطا فرمانے والے کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے حصے پر قناعت کے بجائے سارا ہی لپیٹ جاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم مال عطا فرمانے والے کے بجائے مال سے محبت کرتے ہو اور حد سے بڑھ کر کرتے ہو۔
Ayah 89:21(کلا اذا دکت الارض دکا دکا :”کلا“ ہرگز نہیں، یعنی تمہیں ہرگز ایسے نہیں کرنا چاہیے، بلکہ وہ وقت سامنے رکھنا چاہیے جب قیامت کے پہلے نفخہ کے ساتھ زمین ریزہ ریزہ کر کے ہموار چٹیل میدان بنادی جائے گی۔
Ayah 89:22(1) وجآء ربک والملک صفاً صفاً : اور دوسرے نفخہ کے ساتھ تمام لوگ زندہ ہو کر اس چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر اتنظار کر رہے ہوں گے، اس وقت رب تعالیٰ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے نزول فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرشتے صف در صف آئیں گے، زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور اعمال نامے پیش کئے جائیں گے۔ انبیاء اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ دیکھیے سورة زمر (69) کی تفسیر۔
(2) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے خود صاف الفاظ میں اس دن اپنے آنے کا ذکر فرمایا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے آنے کے عجیب عجیب مطلب نکالے ہیں۔ چناچہ کسی نے کہا رب کا حکم آئے گا، کسی نے کہا یہ صرف تمثیلی انداز ہے، مطلب صرف یہ ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا رعب اس طرح طاری ہوگا جس طرح بادشاہوں کے آنے کے وقت ہوتا ہے۔ بعض بزرگوں نے ترجمے میں تبدیلی کر کے حاشیہ لکھا ہے :”اصل الفاظ ہیں ”وجآء ربک“ جن کا لفظی ترجمہ ہے ”اور تیرا رب آئے گا ”لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔“ ان بزرگوں کی غلطی کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے جیسا سمجھا کہ انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ جائے تو اس کا پہلی جگہ سے منتقل ہونا لازم ہوتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے آسمان دنیا پر اترنے یا زمین پر آنے کا یہ مطلب ہے ہی نہیں کہ وہ عرش پر نہیں رہا۔ اب تو اللہ کی مخلوق میں بھی اس کے عجائبات ظاہر ہو رہے ہیں کہ بجلی اپنے مستقر میں ہونے کے باوجود ریموٹ کے ذریعے سے بغیر تار کے کہاں تک پہنچ جاتی ہے، خلاق کی صفت تو مخلقو سے بہت ہی برتر ہے۔ پھر اس میں صرف یہی خرابی نہیں کہ اللہ کے آنے کی صفت کا انکار کیا، بلکہ اسے مخلوق سے بھی عاجز جانا کہ مخلوق جہاں چاہے آجا سکتی ہے ، مگر خالق میدان محشر میں فیصلے کے لئے بھی نہیں آسکتا۔ مومن کا کام یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا کہ وہ قیامت کے دن آئے گا تو وہ اس پر ایمان رکھے اور یہ بات اللہ کے سپرد کر دے کہ وہ کس طرح آئے گا۔ یقیناً وہ اسی طرح آئے گا جس طرح اس کی شان کے لائق ہے اور جس کی تفصیل سمجھنا عاجز مخلوق کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔
Ayahs 89:23–26(وجای یومئذ بجھنم : عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یوتی بجھنم یومئذ لھا سبعون الف زمام، مع کل زمام سبعون الف ملک یجزونھا) (مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جھنم اعادنا اللہم نھا : 2832)”اس دن جہنم اس حال میں لائیج ائیگ ی کہ اس کی ستر ہزار لگا میں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔“
Ayahs 89:27–30یایھا النفس المطمینۃ :”النفس المطمئنۃ“ اطمینان والی جان، جسے اللہ، اس کے رسول اور ان کے احکام کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ پوری تسلی ہے۔