Ayahs 90:1–4(لا اقسم بھذا البلد…:) قسم سے پہلے ”لا“ (نہیں) فرما کر ان لوگوں کی بات کی نفی کی گئی ہے جو قسم کے بعد آنے والی بات کا اناکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند قسموں کے بعد فرمایا : یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، اگر وہ سمجھے کہ میں دنیا میں عیش و آرام کے لئے آیا ہوں تو اس کا خیال غلط ہے۔ اس حقیقت کا یقین دلانے کیلئے پہلی قسم شہر مکہ کی کھائی، جو اس دعوے کی دلیل بھی ہے، کیونکہ اس شہر کی آبادی کی ابتدائ، اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کی زندگی، ان کے بعد کی تاریح، خصوصاً اس شہر میں رہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی، آپ کی یتیمی اور بےسروسامانی، نبوت کی ذمہ داری کے بعد اپنی ہی قوم کا جان لینے کے در پے ہوجانا، یہ سب چیزیں اس بات کی شاہد ہیں کہ انسان یقیناً مشقت میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جننے والے ماں باپ اور ان کے جنم دیے ہوئے بچے۔ کی قسم ہے۔ ماں باپ کو اولاد کے حصول کی جستجو سے لے کر ان کی پرورش تک جن مصائب سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کے جنم دیئے ہوئے بچے پر نطفہ ہونے سے لے کر ولادت تک، پھر ولادت سے بچپن ، جوانی اور بڑھاپے تک جو کچھ گزرتا ہے، وہ سب کچھ اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے۔ اس تمام عرصے میں وہ شروع سے آخر تک سختیاں اور مصیبتیں ہی جھیلتا رہتا ہے، کبھی بیماری میں گرفتار ہے، کبھی رنج میں، کبھی فقر و فاقہ میں، کبھی کسی اور فکر میں۔ اگر کبھی کسی خوشی یا راحت کا کوئی لمحہ آتا بھی ہے تو اس کیساتھ کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور ہوتی ہے، کوئی اور نہ ہو تو اس کے زوال کی فکر ہی اسے مکدر کرنے کے لئے کافی ہے۔
Ayah 90:5ایحسب ان لن یقدر علیہ احد : جن سختیوں اور مصیبتوں میں آدمی زندگی بسر کرتا ہے ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانتا اور اس میں عاجزی اور انکسار کا جذبہ پیدا ہوتا، لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اکڑفوں دکھاتا ہے اور سمجھتا ہے مجھ پر کون قابو پاسکتا ہے ؟ (اشرف الحواشی)
Ayah 90:6(یقول اھلکت مالاً لبداً : یعنی دین حق کی مخالفت یا جاہالانہ رسم و رواج میں روپیہ لٹانے کو بڑا کمال سمجھتا ہے اور اسے فخر یہ بیان کرتا ہے۔ (اشرف الحواشی)
Ayah 90:7ایحسب ان لم یرہ احد : کیا وہ خیال کرتا ہے کہ جب وہ فخر دریا کے لئے مال لٹا رہا تھا تو کسی نے اسے نہیں دیکھا ؟ یقینا ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
Ayahs 90:8–10(الم نجعل لہ عینین…:”نجد“ کا لغوی معنی ”بلند جگہ“ ہے۔ ”النجدین“ وہ بلند جگہوں سے مراد ماں کی چھاتیاں ہیں۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت کے مطابق ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے، انہیں منہ میں ڈال کر دودھ چوستا ہے جس پر اس کی زندگی کا دار و مدار ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس کی یہ رہنمائی نہ کرے تو کوئی بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ آنکھوں، زبان اور ہونٹوں کے الفاظ کے ساتھ ماں کی چھاتیوں کی مناسبت واضح ہے۔ اکثر مفسرین نے ”النجدین“ سے مراد خیر و شر کے دو واضح راستے لئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ کی بغاوت کرتے ہوئے اور بےتحاشا مال لٹاتے ہوئے یہ گمان کیسے کرلیا کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا اور نہ کوئی اس سے پوچھنے والا ہے ؟ حالانکہ جن آنکھوں سے وہ دیکھ رہا ہے وہ ہم نے بنائی ہیں، زبان اور ہونٹ جن سے ڈینگیں مار رہا ہے وہ بھی ہم نے پیدا کیے ہیں، پھر ہم نے اسے خیر و شر کے راستے کا شعور بھی عطا فرمایا ہے۔ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے آنکھیں عطا کرنے والا خود ہی دیکھ نہ رہا ہو، اسے زبان اور ہونٹ دینے والا اسے پوچھ بھی نہ سکتا ہو اور خیر و شر کا شعور عطا فرمانے والا اس سے اس شعور کے استعمال کے متعلق باز پرس ہی نہ کرے ؟
Ayah 90:11فلا اقتحم العقبۃ : اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو مال کی نعمت عطا فرمائی ہے اس کا تقاضا یہ نہ تھا کہ اسے ناحق اڑاتا، بلکہ یہ تھا کہ وہ بلندیاں جو سخت جدوجہد سے حاصل ہوتیہیں انہیں سر کرنے کے لئے مشکل گھاٹی میں بےدریغ گھس جاتا، مگر اس نے اس مشکل گھاٹی میں گھسنے کی جرأت ہی نہیں کی۔ مشکل گھاٹی اس لئے فرمایا کہ نفس کو ان کاموں کا سرانجام دینا دشوار ہوتا ہے۔”العقبۃ“ کے معنی ہیں گھاٹی، پہاڑ پر چڑھنے کا مشکل راستہ۔
Ayahs 90:12–13وما ادریک ما العقبۃ…: مال دار کے لئے بلندیوں پر لے جانے والا مشکل راستہ کیا ہے ؟ وہ گردن چھڑانا ہے، کیونکہ غلامی سے بڑی ذلت کوئی نہیں اور آزادی دلانے سے بڑھ کر کسی کے ساتھ کو ئح سن سلوک نہیں۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (لا یجزی ولد والدا الا ان یجدہ مملوکا فیشتریہ فیعتقہ) (مسلم ، العتق، باب فضل عتق الوالد : 1510)”کوئی اولاد اپنے والد کا بدلا نہیں دے سکتی سوائے اس کے کہ اسے غلامی کی حالت میں پائے اور خرید کر اسے آزاد کر دے۔“ گردن چھڑانے کی ایک اور فضیلت بھی ہے۔ ابوہیرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من اعتق رقبہ مومنۃ اعتق اللہ بکل عضو منہ عضوا من النار حتی یعتق فرجۃ بفرجہ) (مسلم ، العتق ، باب فضل العتق : 23/1509)”جو شخص مومن گردن کو آزاد کرے اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا ایک عضو آگ سے آزاد کرے گا، حتیٰ کہ اس کی شرم گاہ کے بدلے اس کی شرم گاہ کو آزاد کر دے گا۔“ گردن چھڑانے میں غلام آزاد کرنے کے ساتھ کسی ناحق گرفتار کو رہائی دلوانا اور کسی مقروض کی گردن قرض سے چھڑانا بھی شامل ہے۔
Ayahs 90:14–16(او اطعم فی یوم ذی مسغبۃ…: یوں تو قحط اور بھوک کے وقت کسی بھی یتیم کو کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے، لیکن جو یتیم رشتہ دار بیھ ہو اس کی خبر گیری کرنا مزید اجر کا باعث ہے۔ اسی معنی میں سلیمان بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (الصدقۃ علی المسکین صدقۃ، وانھا علی ذی الرحم اثنان ، صدقۃ وصلۃ) (مسند احمد : 3/213، ح : 18891 ترمذی : 658 ابن ماجہ : 1833، وصححہ الالبانی)”مسکین پر صدقہ کرنا (صرف) صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“
Ayah 90:17(ثم کان من الذین امنوا…: جنت کی بلندیوں پر پہنچنے کے لئے یہی کافی نہیں کہ گردنیں آزاد رکے یا یتیم اور مسکین کو کھانا کھلائے، بلکہا ن کے ساتھ ساتھ ایمان بھی ضروری ہے، اگر ایمان نہیں تو کوئی عمل قبول نہیں۔ (دیکھیے نسائ : 144 نحل : 97۔ بنی اسرائیل : 19) پھر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت اور تاکید بھی ضروری ہے۔ سورة عصر میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔
”ثم کان من الذین امنوا“ کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ مشکل گھاٹی کی چڑھئای کے لئے جو امور ضروری ہیں ان میں پہلے گردن چھڑانا اور یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا ہے پھر اس کے بعد ایمان لانا اور حق و مرحمت کی وصیت کرنا ہے ، مگر اہل علم فرماتے ہیں کہ ”ثم“ ہمیشہ ترتیب زمانی کے لئے نہیں ہوتا، بعض اوقات ترتیب ذکری کے لئے بھی ہوتا ہے، یعنی موقع کی مناسبت سے بعد کی ایک چیز پہلے ذکر کردی جاتی ہے۔ یہاں مال داروں کے لئے خرچ کرنا چونکہ بہت مشکل کام ہے اس لئے پہلے اس کا ذکر فرمایا، پھر ایمان اور تواصی بالحق و المرحمہ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ایمان کے بغیر گردن چھڑانا، کھانا کھلانا یا نیکی کا کوئی بھی کام بےسود ہے۔
Ayahs 90:18–20(اولئک اصحب المیمنۃ…: دائیں ہاتھ والے سے مراد یہ ہے کہ انہیں ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا، اسی طرح بائیں ہاتھ والوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ ”اصحب المیمنۃ“ کا دوسرا معنی ہے برکت والے ، خوش نصیب اور ”اصحب المشمۃ“ کا معنی نحوستو الے، بدنصیب بھی ہے۔