Ayah 91:1والشمس وضحھا : پہلی آیت سے لے کر آٹھویں آیت سے لے کر آٹھویں آیت تک تمام قسموں کا جواب قسم یہ ہے کہ ”جس شخص نے اپنے نفس کو پاک کر لیاوہ کامیاب ہوا اور جس نے اسے مٹی میں دبا دیا وہ ناکام ہوا۔“ ان قسموں اور جواب قسم کی مناسبت یہ ہے (واللہ اعلم) کو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لئے پیدا فرمایا، جیسا کہ فرمایا :(ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً (البقرۃ : 29)”وہ ذات کہ زمین میں جو کچھ ہے اس نے سب تمہارے لئے پیدا فرمایا۔“ حتیٰ کہ آسمان کی چھت ، زمین کا فرش، سورج اور اس کی دھوپ ، اس کے بعد چاند اور اس کی چاندنی اور دن کو آفتاب کا اجالا، پھر رات کا اس کو ڈھانپ لینا اسی کے فائدے کے لئے ہے، فرمایا :(وسخر لکم الشمس والقمر دآئبین ، وسخر لکم الیل والنھار) (ابراہیم : 33)”اور اس نے تمہارے لئے سورج اور چاند کو مسخر کردیا جو مسلسل چلنے والے ہیں اور تمہارے لئے رات اور دن کو مسخر کردیا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا اور نفس انسانی کو بہترین شکل و صورت میں بنا کر اسے نیکی اور بدی کی پہچانبھی کر ادی۔ ہر آدمی ان سب چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور شعور سے محسوس کرتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص ان عظیم الشان مخلوقات کو اور ان کے خلاق کے احسانات کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اپنے آپ کو کفر و شرکت اور ظلم و زیادتی سے پاک کرلیتا ہے یقیناً وہ اپنا مقصد تخلیق پورا کردینے کی وجہ سے کامیاب ہے اور جو شخص ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کر کے اپنے نفس کو شہوت، غضب اور شرک و کفر کے کیچڑ میں دبا دیتا ہے وہ ناکام ہے۔
Ayah 91:2والقمر اذا تلھا :”تلایتلو“ (ن) پیچھے آنا اور چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے ! یعنی سورج غروب ہونے کے بعد جب چاند کی روشنی پھیلتی ہے۔
Ayah 91:3والنھا اذا جلھا :”جلی یجلی تجلیۃ“ (تفعیل) ظاہر کرنا، روشن کرنا اور دن کی قسم جب وہ اس سورج کو ظاہر کرتا ہے ! یعنی جب اس میں سورج پوری روشنی اور گریم کے ساتھ چمکتا ہے۔
Ayah 91:4والیل اذا یغشھا : جب رات سورج کی روشنی کو مکملط ور پر چھپا کر خوب اندھیری وہ جاتی ہے۔
Ayah 91:5والسمآء وما بنھا :”والسمآء وما بنھا :”بنی یبنی بنائ“ (ض) بنانا۔ واضح رہے کہ عام طور پر ”من“ علم والوں، مثلاً اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں کے لئے آتا ہے، جبکہ ”ما“ ان کے علاوہ کے لئے آتا ہے، مگر بعض اوقات کسی خاص مقصد کی وجہ سے اس کا الٹ بھی ہوجاتا ہے اور ”ما“ علم والوں کیلئے بھی آجاتا ہے، جیسا کہ ”ما“ یہاں اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یعنی اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایاچ یہاں ”من“ کے بجائے ”ما“ اس لئے لایا گیا ہے کہ وہ یہاں ”الذی“ کے معنی میں ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ قرآن مجید میں ”ما“ کا لفظ علم والوں کے لئے متعدد مقامات پر آیا ہے، مثلاً :(ولا انتم عبدون ما اعبد) (الکافرون : 3)”اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔“ اور فرمایا :(فانکحوا ما طب لکم من النسآئ) (النسائ : 3)”سو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔“
Ayahs 91:6–7والارض وما طحھا :”طحا یطحو طحوا“ (ن) اور ”’ حا یدحو دحوا“ (ن) کا ایک ہی معنی ہے، بچھانا۔ اور زمین کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا !
Ayahs 91:8–9(فالھمھا فجورھا و تقومھا : لھم یلھم لھما“ (س) ”الشیء“ کسی چیز کو ایک ہی بار نگل جانا۔”الھم اللہ یلھم الھاماً“ (افعال) اللہ تعالیٰ کا دل میں کوئی بات ڈال دینا، سمجھا دینا، اس کی توفیق دے دینا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں اس کی نیکی اور بدی کی پہچان رکھ دی ہے۔ یہ پہچان پہلے عقل و فطرت میں رکھی گئی، پھر انیباء ؓ عنہماکے ذریعے سے دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی، تاکہ لوگ نافرمانی سے بچیں اور پرہیز گاری اختیار کریں۔ دیکھیے سورة دہر (3) اور سورة بلد (10)۔
Ayah 91:10(وقد خاب من دسھا):”’ سا“ ”’ س یدس دسا“ (ن) سے مبالغے کے لئے باب تفعیل ہے، معنی ہے مٹی میں دبا دینا، یہ اصل میں ”’ سس“ تھا، دوسرے سین کو الف کردیا، جیسے ”تقضض البازی“ (باز شکار ٹوٹ پڑا) کو ”تقضی البازی“ کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(ام یدسہ فی التراب) (النحل : 59) ”یا اسے مٹی میں دبا دے۔“
Ayah 91:11”کذبت ثمود بطغوھآ :”طغویٰ“ (سرکشی)”طغا یطغو“ (ن) کا مصدر ہے، جیسا کہ ”’ عا یدعو“ کا مصدر ”’ عویٰ“ ہے۔ بطور مثال تاریخ میں سے ایک قوم کا ذکر فرمایا، جس نے سرکشی کی وجہ سے اپنے آپ کو مٹی میں دبا دیا۔ ثمود صالح ؑ کی قوم تھی، ان کے معجزہ طلب کرنے پر انہیں ایک اونٹنی دی گئی اور انہیں کہا گیا کہ ایک دن اس کے پینے کی باری ہوگی اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کی۔ دیکھیے سورة شعراء (155)
Ayah 91:12(اذا نبعث اشقھا : جن لوگوں کے مویشی زیادہ تھے ان پر یہ پابندی بہت شاق گزری اور انہوں نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالنے پر اتفاق کرلیا، مگر اس کا کام کا بیڑا ان کے سب سے بڑے بدبخت نے اٹھایا۔ تاریخ اور شعر عرب میں اس کا نام قدار بن سالف بیان کی اگیا ہے۔
Ayah 91:13(فقال لھم رسول اللہ ناقۃ اللہ وسقیھا :”ناقۃ اللہ“ (اللہ کی اونٹنی) فعل محذوف ”اتقوا“ کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ نسبت اس اونٹنی کے شرف اور خصوصیت کی وجہ سے ہے، (جیسے ”بیت اللہ“ میں ہے) ورنہ سب اونٹنیاں اللہ ہی کی ہیں۔
Ayah 91:14(1) فکذبوہ فعقروھا : اگرچہ ایک آدمی نے کونچیں کاٹ کر اسے ہلاک کیا تھا، لیکن چونکہ ساری قوم اس کے ساتھ تھی بلکہ انھی کے کہنے پر اس نے یہ کام کیا تھا، اسلئے ان سب کو مجرم قرار دیا گیا اور فرمایا کہ ”انہوں نے اس کو کونچیں کاٹ دیں۔“
(2) فدمدم علیھم ربھم بذنبھم فسوھا : قاموس میں ہے :”’ مم القوم کدمدمھم و دمدم علیھم طحنھم فاھلکھم“”’ مدم علیھم“ اس نے انہیں پیس کر ہلاک کردیا۔ اونٹنی کو مار ڈالنے کے تین دن بعد ان پر ایک زبردست غیبی چیخ کے ساتھ عذاب آیا اور وہ اس طرح نابود ہوگئے جیسے کبھی وہاں تھے ہی نہیں، صرف صالح ؑ اور الہ ایمان بچے۔ سورة ہود (62 تا 68) ، اعراف (73 تا 79) اور سورة شعراء (141 تا 159) میں یہ واقعہ تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Ayah 91:15(ولا یخاف عقبھا :”ھا“ ضمیر کا مرجع وہ ”’ مدمۃ“ ہے جو ”فدمدم علیھم ربھم“ کے ضمن میں موجود ہے۔ یعنی دنیا کے بادشاہ کسی کو قتل کرتے ہیں تو ڈرتے ہیں کہ نامعلوم اس کا انجام کیا ہوگا ؟ مقتول کا کوئی وارث بدلا لینے کے لئے نہ اٹھ کھڑا ہو یا ملک میں بغاوت نہ ہوجائے، لیکن اللہ تعالیٰ کو ایسا کوئی خطرہ نہیں۔