Ayah 89:11 : وَالْفَجْرِ (قسم ہے فجر کی) فجر کی قسم کھائی۔ الفجرؔ صبح کو کہتے ہیں۔ جیسا دوسرے ارشاد میں ہے والصبح اذآ اسفر ] المدثر : 34[ نمبر 2۔ نماز فجر کی قسم اٹھائی۔
Ayah 89:2دس راتیں :
2 : وَلَیَالٍ عَشْرٍ (اور دس راتوں کی) ذی الحجہ کی دس راتیں نمبر 2۔ محرم کی دس ابتدائی راتیں۔ نمبر 3۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ۔ فضیلت کے بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے لیالٍؔ کو نکرہ لائے۔
Ayah 89:3جفت و طاق :
3 : وَّ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (اور جفت اور طاق کی) تمام اشیاء کا جفت و طاق مرادہو یا ان راتوں میں جفت و طاق۔ یا جفت و طاق نمازیں یا یوم نحر کیونکہ وہ دسواں دن ہے جو کہ جفت ہے اور یوم عرفہ نواں دن ہے جو کہ طاق ہے۔ یا مخلوق جفت ہے اور خالق طاق (ان اللہ وتر یحب الوتر )
قراءت : الوِتر۔ حمزہ و علی نے پڑھا۔ باقی قراء نے وائو کا فتحہ پڑھا۔ دراصل یہ دو لغات ہیں الو َتر حجازی لغت ہے الو ِتر یہ تمیمی لغت میں ہے۔
Ayah 89:44 : مخصوص راتوں کی قسم اٹھانے کے بعد علی العموم رات کی قسم اٹھائی۔ پس فرمایا۔ وَالَّیْلِ (اور قسم ہے رات کی) ایک قول میں اس سے لیلۃ القدر مراد ہے۔ اِذَا یَسْرِ (جب وہ چلنے لگے) جب گزر جائے۔
نحو : یسر کی یاء کو درمیان کلام میں کسرہ پر اکتفاء کرتے ہوئے حذف کردیا۔
قول اخفش :
کسی نے اخفش (رح) سے یاء کے گرنے کے متعلق سوال کیا۔ تو آپ نے فرمایا تم ایک سال خدمت میں رہو پھر بتلائوں گا۔ اس نے ایک سال کے بعد سوال کیا تو فرمایا رات چلتی نہیں۔ رات میں چلا جاتا ہے،۔ جب اصل معنی سے عدول کیا تو اس کی موافقت میں لفظ سے بھی عدول کیا۔ ایک قول یہ ہے یسری کا معنی یُسرٰی فیہ ہے۔ جیسا کہتے ہیں لیل نائمٌ ای ینام فیہ۔ رات کو سویا جاتا ہے۔
Ayah 89:55 : ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍ (کیوں اس میں عقلمند کے واسطے کافی قسم بھی ہے) یعنی ان چیزیں میں جن کی تو نے قسم اٹھائی ہے۔ قسم ہے عقل مند کیلئے۔ عقل کو حجرکہنے کی وجہ یہ ہے کہ نامناسب امور میں پلٹ پڑنے سے روکتی ہے۔ جیسا کہ عقل اور نہیۃ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ سمجھتی اور روکتی ہے۔
حاصلِ کلام :
( علیہ السلام) مراد یہ ہے کیا وہ اس کے ہاں حقدار ہیں کہ ان کی قسم اٹھا کر ان کو معظم مانا جائے۔ نمبر 2۔ کیا میری ان چیزوں کی قسم اٹھانے میں عقل والے کیلئے قسم ہے۔ یعنی کیا وہ بڑی قسم ہے جس کے ساتھ مقسم علیہ مؤکد ہوجاتا ہے ؟ نمبر 3۔ کیا ان اشیاء کی قسم میں عقل و فہم والے کیلئے کافی قسم ہے۔
مقسم علیہ :
مقسم علیہ محذوف ہے۔ اور وہ لیعذبن ہے۔ اس پر اَلَمْ تَرَسے لے کر فَصَبَّ عَلَیْھِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 89:6قوم عاد کا حال :
6 : اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے رب نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا) یہاں سے ان اقوام کا تذکرہ فرمایا جن کو تکذیب ِرسل کے نتیجہ میں عذاب دیا گیا۔
Ayah 89:77 : اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ (یعنی قوم ارم کے ساتھ جن کے قدوقامت ستون جیسے تھے) یعنی کیا آپ کو معلوم نہیں اے محمد ﷺ ایسا معلوم ہونا جو یقین میں آنکھوں دیکھے کی طرح ہے۔
نحو : الم ترؔ یہ استفہام تقریری ہے۔ قوم عاد : عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح کی اولاد کو عاد ارم کہا جاتا ہے۔ جیسا بنی ہاشم کو ہاشم کہا جاتا ہے۔ پھر ان میں سے پہلوں کو عاد اولی و عاد ارم کہتے ہیں۔ یہ نام دادے کی وجہ سے ہے۔ اور بعد والوں کو عاد اخیرہ کہتے ہیں پس ارمؔ یہ عاد کا عطف بیان ہے اور اس سے ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ عاد اولی قدیمہ ہے۔ ایک قول یہ ہے : ارم اس شہر اور سر زمین کا نام ہے جہاں وہ مقیم تھے۔ اس پر ابن الزبیر کی قراءت دلالت کرتی ہے۔
قراءت ابن الزبیر :
بعادِ ارمَ : اضافت کے ساتھ تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ بعاد اھل ارم جیسا کہ ارشاد ہے واسئل القریۃ ] یوسف : 82[ ای اہل القریۃ۔ قبیلہ ہو یا سرزمین معرفہ اور تانیث ہونے کی وجہ سے منصرف نہ ہوگی بلکہ غیر منصرف ہوگی۔ ذات العمادؔ۔ نمبر 1۔ اگر اس کو قبیلہ کی صفت مانیں تو معنی یہ ہوگا وہ ستونوں والے بدوی لوگ تھے۔ نمبر 2۔ لمبے قد ہونے کی وجہ سے ان کے قدوں کو ستونوں سے تشبیہ دی۔ نمبر 2۔ اور اگر یہ شہر کی صفت ہے تو معنی یہ ہے کہ وہ ستونوں والے تھے۔
ایک روایت تفسیر :
کہ عاد کے دو بیٹے شداد و شدید تھے۔ وہ دونوں بادشاہ بنے اور سب پر غالب آگئے پھر شدید مرگیا۔ اور تمام حکومت شداد کو مل گئی۔ وہ دنیا کا بادشاہ ہوا۔ اس زمانہ کے بادشاہ اس کے ماتحت ہوگئے۔ اس نے جنت کا ذکر سنا۔ تو کہنے لگا میں ایسی جنت بناتا ہوں۔ اس نے عدن کے کسی صحراء میں ارم شہر تین سو سال میں بنوایا۔ اس کی عمر نو سو سال تھی۔ یہ بہت بڑا شہر تھا۔ اس کے مکانات سونے چاندی کے بنے تھے۔ اور زبر جدویا قوت کے ستون عما رات کے اندر دیئے گئے۔ اس میں قسم قسم کے درخت اور نہریں بھی تھیں۔ جب اس کی تعمیر مکمل ہوچکی تو وہ اہل مملکت کو لے کر اس کی طرف چل دیا۔ جب ایک دن رات کا سفر رہ گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے چیخ بھیج کر ہلاک کردیا۔
عبد اللہ بن قلابہ کا قول ہے :
کہ میں اپنے اونٹوں کی تلاش میں نکلا۔ پس وہاں جا نکلا۔ پس اس میں سے جتنے ہوسکتا تھا اس میں سے اٹھا لایا۔ جب یہ خبر معاویہ ؓ کو پہنچی تو انہوں نے حاضر ہونے کا حکم دیا۔ میں نے واقعہ عرض کردیا۔ انہوں نے کعب کی طرف استفسار کیلئے پیغام بھیجا تو انہوں نے بتلایا کہ یہ ارم ذات العماد ہے۔ اور اس میں تیرے زمانہ میں ایک سرخ و سفیدرنگت والا آدمی داخل ہوگا۔ اس کا قد چھوٹا اور اس کے ابروپرخال کا نشان ہوگا۔ اور اس کی پشت پر خال کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے اونٹ تلاش کرنے نکلے گا۔ پھر متوجہ ہو کر کعب نے مجھے دیکھا تو کہا۔ اللہ کی قسم یہی وہ آدمی ہے۔ ] ابن کثیر : 4/602[ یہ کعب احبار کی طرف منسوب داستانوں میں سے ایک ہے اس کی سند درست نہیں۔ یہ قطعاً بےحقیقت بات ہے۔ (کذاقال ابن کثیر)
Ayah 89:88 : الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ (جن کے برابر شہروں میں کوئی شخص پیدا نہیں کیا گیا) یعنی عاد کی طرح ان کی طاقت اور ان کے لمبے قد میں۔ ایک آدمی کی لمبائی چار سو ہاتھ تھی۔ یا شداد کے شہروں جیسا شہر پیدا نہیں کیا گیا۔
Ayah 89:9قوم ثمود :
9 : وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ( اور قوم ثمود کے ساتھ جو وادی القریٰ میں پتھروں کو تراشا کرتے تھے) جابوا الصخر۔ پہاڑوں کے پتھر کاٹے اور ان میں رہائشی مکانات بنائے۔ ایک قول یہ ہے سب سے پہلے جنہوں نے پہاڑوں کو کاٹا اور تراشا اور انہوں نے پتھروں کے سترہ سو شہربنائے۔ الوادؔ سے وادی القریٰ مراد ہے۔
Ayah 89:1010 : وَفِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ (اور میخوں والے فرعون کے ساتھ) ذی الاوتادؔ : بڑے لشکروں والا۔ ان کے پاس بیشمار خیمے تھے۔ جب وہ کسی مقام پر اتر تے تو وہاں خیمہ زن ہوتے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کے ہاں مخالفین کو میخوں سے عذاب دیا جاتا۔ جیسا آسیہ ؓ کے ساتھ کیا۔
Ayah 89:1111 : الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ (جنہوں نے شہروں میں فساد مچا رکھا تھا)
نحو : ذم کی وجہ سے الذین منصوب ہے۔ نمبر 2۔ ہم مبتدأ کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ نمبر 3۔ عاد، ثمود و فرعون کی صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ طغواؔ انہوں نے حد سے تجاوز اختیار کیا۔
Ayah 89:1212 : فَاَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ (اور ان میں بہت فساد مچا رکھا تھا) فسادؔ کفر، قتل و ظلم و بربریت کر کے۔
Ayah 89:13عذاب کا کوڑا :
13 : فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ (آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا) بلیغ ترین انداز سے وقوع عذاب کو بیان کیا گیا کیونکہ الصبؔ دوام اور سوطؔ زیادتی ایلام کو ظاہر کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے ان کو دردناک دائمی عذاب میں مبتلاکر دیا گیا۔
Ayah 89:1414 : اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ (بیشک آپ کا رب گھات میں ہے) مرصادؔ وہ جگہ جہاں رصد کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہ مفعال کا وزن ہے اور رصدہ سے لیا گیا ہے۔ یہ تمثیل ہے کہ وہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ اور وہ بندے اس سے کسی طرف نکل نہیں سکتے۔ بندوں کے تمام اعمال سے آگاہ ہے۔ اور حافظ و نگہبان ہے۔ پس ان اعمال پر وہ بدلہ دے گا۔ اگر خیر ہونگے تو اچھا اور اگر برے ہونگے تو برا۔
Ayah 89:15انسان کا حال :
15 : فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰہُ رَبُّہٗ فَاَکْرَمَہٗ وَنَعَّمَہٗ فَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَکْرَمَنِ (پس آدمی کو جب اس کا پروردگار آزماتا ہے یعنی اس کو اکرام و انعام دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی )
Ayah 89:1616 : وَاَمَّآ اِذَا مَا ابْتَلٰہُ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗ فَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَھَانَنِ (اور جب اس کو آزماتا ہے یعنی اس کی روزی اسپر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری قدر گھٹا دی) قَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗ رزق کو تنگ کر کے جان بچانے والے لقمے کی مقدار رہنے دیتا ہے۔
قراءت : شامی، یزید نے قدّر پڑھا ہے۔
فَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَھَانَنِ مطلب یہ ہے اس شخص کیلئے ضروری ہے کہ جس کا رب اس کو دیکھ رہا ہو۔ کہ وہ آخرت کی فکر کرے اور جلد آنے والی کو مقصود نہ بنائے۔ حالانکہ اس نے تو اس کا الٹ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے نعمت و وسعت رزق سے اس کا امتحان کیا تاکہ یہ شکر گزار ہو۔ تو یہ کہنے لگا میرے رب نے میرا اکرام کیا یعنی جو کچھ مجھے دیا اس میں مجھے فضیلت دی۔ وہ اکرام اسی بات کو خیال کرتا ہے جبکہ دنیا کثرت سے اس کو ملے۔ اور جب اس کا امتحان فقر سے کیا اور اس کا رزق تنگ کردیا۔ تاکہ صبر سے کام لے تو کہنے لگا۔ ربی اھانن۔ اس نے قلت سرمایہ کو توہین قرار دیا۔ کیونکہ اس کا مقصود دنیا ہے۔ اور جو چیزیں دنیا میں تلذذ اور تعیش والی ہیں وہ اس کو بھاتی ہیں۔
باطل خیال کا رَد :
پس اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے باطل خیال کی تردید فرمائی۔ کلاؔ یہ بات ہرگز نہیں کہ قلت و کثرت مال اکرام و اہانت ہیں۔ بلکہ اکرام یہ ہے کہ طاعت کی زیادہ سے زیادہ توفیق ملے اور اہانت اس میں ہے کہ توفیق چھین کر رسوا کردیا جائے۔
نحو : نمبر 1۔ الانسان مبتدأ اور فیقول یہ اس کی خبر ہے اور خبر پر فاء اس لئے لائی گئی ہے۔ کیونکہ اماؔ میں شرط کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ اور مبتدا و خبر کے مابین ظرف تقدیرتاخیر میں ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا ہے۔ فاما الانسان فقائل ربی اکرمنی وقت الابتلاء۔ اور اسی طرح دوسرا فیقول بھی مبتدأ کی خبر ہے۔ اور تقدیر عبارت یہ ہے۔ واما ھو اذا ما ابتلاہ ربہ۔
ابتلاء :
دونوں کو ابتلاء سے تعبیر کیا گیا۔ کیونکہ ہر ایک بندے کیلئے امتحان و ابتلاء ہے جب وسعت کردی جائے۔ تو اس بات میں امتحان ہے کہ آیا وہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری اختیار کرتا ہے اور جب رزق کو تنگ کردیا جائے تو اس کی حالت کو آزمایا گیا۔ آیا صبر کرتا ہے کہ جزع فزع کا ارتکاب کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے دوسرے ارشاد میں فرمایا گیا۔ وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً ] الانبیاء : 35[
وجہ تعجیب :
اس کے اس قول کو عجیب قرار دیا ربی اکرمن۔ باوجود یکہ اس کو اپنے اس قول سے ثابت کیا فاکرمہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات اس انسان نے قصداً اس بات کی مخالفت کرتے ہوئے کہی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے صحیح اور درست قرار دیا۔ اس مخالفت میں اس کا قصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کچھ بطور اکرام دیا ہے وہ اس کا مستحق ہے جیسا کہ دوسرے ارشاد میں یہ بات موجود ہے۔ انما اوتیتہٗ علی علمٍ عندی ] القصص : 78[ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بلا استحقاق بطور ابتلاء و امتحان دیا ہے۔
Ayah 89:17بری حصاتین :
17 : کَلَّا بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ( ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی قدر نہیں کرتے ہو ) ۔
Ayah 89:1818 : وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ (اور دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے) مطلب یہ ہے بلکہ یہاں تو اس بات سے بھی زیادہ بری حرکت موجود ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مال عنایت فرمایا ہے وہ اس مال میں سے یتیم کا جو حق بنتا ہے۔ اور انہیں بطور اکرام دینا چاہیے تھا۔ وہ نہیں دیتے اور مسکین کو خود کھانا دینا تو بجائے خود رہا دوسروں کو اسے کھانا دینے پر آمادہ تک نہیں کرتے۔
Ayah 89:1919 : وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًالَّمًّا (اور میراث کا مال سارا سمیٹ کر کھا جاتے ہو) التراثؔ میراث کو کہتے ہیں۔ اکـلًا لمًّا اے ذالم۔ حلال و حرام کے جمع کرنے کو کہتے ہیں۔ اہل عرب عورتوں اور بچوں کو وارث نہ بناتے تھے۔ اور ان کا حصہ میراث اپنے حصہ میراث کے ساتھ ملاکرکھا جاتے تھے۔
Ayah 89:2020 : وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا (اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو) عرب کے لوگ حبہ، احبہ، ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ حباجمًا بہت زیادہ کہ جس کے ساتھ حرص اور حقوق کی ڈاکہ زنی بھی شامل ہو۔
قراءت : رَبِّیَ ، حجازی اور ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ اور بصری نے یکرمون، ولا یحضّون و یاکلون ویحبون پڑھا ہے۔
Ayah 89:21قیامت کا حال :
21 : کَـلَّآ (ہرگز نہیں) اس میں ان کو سابقہ بات پر ڈانٹ پلائی۔ اور ان کے فعل کا انکار کیا گیا ہے۔ پھر وعید کا ذکر کر کے ان کی اس حسرت کو بیان کیا جو اس وقت ہوگی جب حسرت کا فائدہ نہ ہوگا فرمایا اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا (جس وقت زمین کو توڑ توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا) دُکت : زمین کو ہلا یا جائے گا۔ دکا : ریزہ ریزہ یعنی بار بار اس کو ریزہ ریزہ کریں گے۔ یہاں تک کہ ذرات بنکر بکھر جائے گی۔
Ayah 89:2222 : وَّجَآ ئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا (اور آپ کا پروردگار اور جوق در جوق فرشتے آئیں گے) یعنی ہر آسمان کے فرشتے اتر پڑیں گے۔ وہ ایک دوسرے کے پیچھے صف بستہ ہوجائیں گے۔ جس سے جن و انس گھیرے میں آجائیں گے۔
Ayah 89:2323 : وَجِایْٓئَ یَوْمَئِذٍم بِجَھَنَّمَ (اور اس روز جہنم کو لایا جائے گا) ایک قول یہ ہے کہ یہ اہل جہنم کے سامنے کردی جائے گی جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ وَبُرِّزَتِ الجحیم للغاوین ] الشعراء : 91[ دوسرا قول یہ ہے کہ جہنم کو چلا کر لایا جائے گا۔ حدیث صحیح میں وارد ہے۔ یوتی بجھنم یومئذ لھا سبعون الف زمامٍ مع کل زمام سبعون الف ملک یجرونھا۔ ] رواہ مسلم : 2842، والترمذی : 2587[ اس دن جہنم کو ستر ہزار لگاموں سے کھینچ کر لایا جائے گا۔ ہر لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے مقرر ہونگے۔ یَوْمَپذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی (اس روزانسان کو سمجھ آوے گی اور اب سمجھ آنے کا موقع کب رہا) یتذکرؔ نصیحت حاصل کرے گا۔ انی لہ الذکریؔ مگر نصیحت کا فائدہ کہاں سے حاصل ہو۔
Ayah 89:2424 : یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ (کہے گا کاش میں اس زندگی کیلئے کوئی عمل آگے بھیج لیتا ) ۔ حیاتی سے یہ آخرت کی زندگی مراد ہے۔ یعنی وہ کہے گا کاش میں نے اپنی فانی زندگی میں کچھ اعمال اپنی باقیہ زندگی کیلئے کئے ہوتے۔
Ayah 89:2525 : فَیَوْمَپذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَہٗ اَحَدٌ (اس روز نہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا ہوگا) یعنی اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی ذمہ دار نہ ہوگا۔ کیونکہ اختیار تمام اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہوگا۔
Ayah 89:2626 : وَّلَا یُوْثِقُ وَثَاقَہٗ اَحَدٌ (اور نہ اس کے جکڑنے کے برابر جکڑنے والا نکلے گا) لا یو ثق : نہ جکڑے گا زنجیروں اور طوقوں کے ساتھ اس کے جکڑنے کی طرح کوئی ایک۔
قول صاحب کشاف :
کوئی شخص کسی کو عذاب نہیں دے سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ عذاب دیتے ہیں۔ اور نہ کوئی جکڑنے والا کسی کو اللہ تعالیٰ کے جکڑنے کی طرح جکڑ سکتا ہے۔ ای لا یعذب احدٌ احدًا کعذاب اللہ ولا یوثق احدٌ احدًا کو ثاق اللہ۔
قراءت : لا یعذَب، ولا یوثق علی نے پڑھا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی قراءت ہے۔ ابو عمرو نے اپنی آخری عمر میں اسی طرف رجوع کرلیا۔ ضمیر اس میں الانسان موصوف کی طرف راجع ہے۔ اور الانسان ؔ سے مراد کافر ہے۔ ایک قول میں ابی بن خلف مراد ہے۔ مطلب یہ ہوا کوئی اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب جیسا عذاب نہ دے گا۔ اور نہ زنجیروں سے اس کے باندھنے کی طرح کوئی باندھے گا کیونکہ وہ اپنے کفر وعناد میں انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔
نحو : پھر مومن کو فرمایا جارہا ہے۔
Ayah 89:27نفس مطمئنہ :
27 : یٰٓـاَیـَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَپنَّۃُ (اے اطمینان والی روح) یہ کلام اس سے بطور اکرام ہوگا۔ جیسا موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام ہوئی یا فرشتے کے ذریعہ کلام ہوگا۔ مطمئنہ : امن والاجس پر خوف و حزن طاری نہ ہو۔ اور وہ مومنہ نفس ہے۔ نمبر 2۔ حق پر اطمئنان والا جس کو حق پر یقین کی برف نے جمایا ہوا ہے کہ شک اس کے قریب نہیں پھٹکتا۔ پہلی تفسیر پر ابی بن کعب کی قراءت شاہد ہے۔ یایتھا النفس الامنۃ المطمئنہ : یہ موت کے وقت اس کو کہا جاتا ہے۔ یا نمبر 2۔ بعث کے وقت کہا جائے گا نمبر 3۔ دخول جنت کے وقت کہا جائے گا۔
Ayah 89:2828 : ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً (تو اپنے پروردگار کی طرف چل اس طرح کہ تو اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش) ارجعی تو لوٹ اپنے رب کے وعدے کے مقام یا اپنے رب کے ثواب کی طرف اس حال میں کہ تو خوش ہونے والا ہے اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں دی گئی۔ مرضیۃؔ اپنے عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہے۔
Ayah 89:2929 : فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ (پھر تو میرے بندوں میں شامل ہوجا) یعنی میرے من جملہ نیک بندوں میں اور ان کی لڑی میں تمہیں پرودیا گیا۔
Ayah 89:3030 : وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ (اور میری جنت میں داخل ہوجا) ان کے ساتھ۔
قولِ ابو عبیدہ :
ای مع عبادی و بین عبادی۔ میرے بندوں کے ساتھ اور ان کے مابین۔ یعنی خاص بندوں میں۔ جیسا دوسرے مقام پر مذکور ہوا وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ ۔ ] النمل : 19[
ایک قول یہ ہے :
کہ النفس روح اور اس کا معنی یہ ہے تو میرے بندوں کے جسم میں داخل ہوجا۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قراءت اس کی تائید کرتی ہے فادخلی فی جسد عبدی۔
ایک نکتہ :
جب عبداللہ بن عباس ؓ کی طائف میں وفات ہوئی تو ایک پرندہ آیا۔ اس جیسا پرندہ پہلے دیکھا نہ گیا تھا۔ وہ پرندہ ان کی نعش میں داخل ہوا جب ان کو دفن کردیا گیا تو یہ آیت ان کی قبر کے کنارے تلاوت کی گئی اور معلوم نہ ہوسکا کہ کس نے تلاوت کی ہے۔
ایک قول یہ ہے :
کہ یہ آیت حمزہ ؓ بن عبدالمطلب کے متعلق نازل ہوئی۔ دوسرا قول یہ ہے خبیب ؓ کے متعلق نازل ہوئی جن کو اہل مکہ نے سولی پر چڑھا دیا تھا۔
قول آخر :
یہ ہے کہ یہ تمام ایمان والوں کیلئے ہے۔ اس لئے کہ عموم الفاظ کا اعتبار ہے خصوصی سبب کا لحاظ نہیں ہوتا۔