Ayah 88:11 : ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ (آپ کو اس محیط عام واقعہ کی کچھ خبر پہنچی ہے) ھلؔ یہ قد کے معنی میں ہے۔ الغاشیہ ؔ وہ بڑی مصیبت جو اپنے شدائد و مصائب کے ساتھ تمام پر چھا جائے گی اور اس کی ہولناکیاں سب کو ڈھانپ لیں گی۔ مراد اس سے قیامت ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ آگ مراد ہے۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا تغشی وجوہھم النار ] ابراہیم : 50[
Ayah 88:2شدائد سے چھانے والی :
2 : وُجُوْہٌ یَّوْمَپذٍ خَاشِعَۃٌ (بہت سے چہرے اس روز ذلیل ہونگے) وجوہؔ سے کفار کے چہرے مراد ہیں۔ چہرے کو خاص اس لئے کیا کیونکہ غم و خوشی کا اثر چہرے میں خوب مستحکم ہوتا ہے۔ یَّوْمَپذٍ (جس دن وہ ڈھانپ لے گی) خَاشِعَۃٌ ذلیل ہونگے اس وجہ سے کہ ان چہرے والوں پر ذلت و رسوائی چھا جائے گی۔
Ayah 88:3دنیا میں برے اعمال :
3 : عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ (مصیبت جھیلتے خستہ ہونگے) وہ آگ میں اتنا کام کریں گے کہ جس سے تھک جائیں گے وہ کام زنجیریں کھینچنے اور طوق گھسیٹنے اور بار بار آگ میں گھس جانے کا ہوگا جس طرح اونٹ کیچڑ میں گھستے ہیں اور ان کا آگ کی وجہ سے مسلسل بلند ہونا اور پھر اس کی گہرائی میں گر جانا۔
ایک قول :
یہ ہے کہ دنیا میں برے اعمال کیے اور ان سے لذت حاصل کرتا رہا اور خوش عیشی میں پڑا رہا وہ ان اعمال کی وجہ سے مشقت میں مبتلا ہوگا۔ ایک قول یہ ہے یہ گر جائوں کے پادری و راہب ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خشیت اختیار کی اور عمل کیے مسلسل روزے سے اپنے اعمال میں مشقت برداشت کی۔ پے در پے تہجد کی تکالیف اٹھائیں۔
Ayah 88:44 : تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً (وہ آتش سوزاں میں داخل ہونگے) وہ اس آگ میں داخل ہونگے اور جو مدت مدید بھڑکائی گئی۔ جس کی گرمی کا مقابلہ کوئی حرارت و گرمی نہیں کرسکتی۔
قراءت : ابوبکر اور ابوعمرو نے تُصلٰی پڑھا ہے۔
Ayah 88:55 : تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ (کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلائے جائیں گے) پانی کے ایسے چشمے سے جس میں انتہائی حرارت ہوگی۔
وجہ ثانیث :
ان صفات و افعال میں تانیث کا استعمال وجوہؔ کی وجہ سے ہے۔ اور وجوہ سے مراد اصحاب وجوہ ہیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت ہے۔ جس میں ھم ؔ ضمیر جمع لوٹائی گئی ہے۔
Ayah 88:66 : لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ (ان کو سوائے ایک خار دار جھاڑی کے اور کوئی کھانا نصیب نہ ہوگا) ضریعٌؔ یہ ایک نبات ہے جس کے تروتازہ پودے کو اشُبْرِقْ بولتے ہیں۔ جب وہ خشک ہو تو ضریع کہلاتا ہے۔ وہ ہلاک کن زہریلا ہوتا ہے۔
اقسامِ عذاب :
عذاب کئی اقسام کے ہونگے اور معذب لوگوں کے بھی طبقات ہونگے۔ ان میں بعض زقوم کھائیں گے۔ بعض غسلین کھائیں گے۔ بعض کو ضریع کھانے کو ملے گی پس اس آیت اور دوسری آیت میں تناقض نہیں۔ وَلَا طَعَامٌ اِلَّامِنْ غِسْلِیْنٍ ۔
] الحاقۃ : 36 [
Ayah 88:77 : لَّا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ (جو نہ فربہ کرے گا۔ اور نہ بھوک کو دور کرے گا) لایُسْمِنُؔ یہ محلاً مجرور ہے۔ کیونکہ ضریع کی صفت ہے۔ ولا یغنی من جوعؔ کہہ کر بتلایا کہ بھوک اور غذا کے فوائد اس میں بالکل نہ ہونگے۔ وہ دونوں فائدے ازالہ بھوک اور بدن کو تقویت دینا ہیں۔
Ayah 88:88 : وُجُوْہٌ یَّوْمَپذٍ (بہت سے چہرے اس روز) نَّاعِمَۃٌ ( بارونق ہونگے) ایمان والوں کے چہروں کی تعریف بیان کی گئی۔
ووجوہؔ نہیں فرمایا کیونکہ کلام اول طویل ہو کر منقطع ہوگیا۔ اس لئے مستقل جملہ لائے۔ ناعمہؔ خوش عیش نعمت یافتہ۔
Ayah 88:99 : لِّسَعْیِھَا رَاضِیَۃٌ (اپنے کاموں کی بدولت خوش خوش ہونگے) اپنے اعمال اور نیکیوں پر خوش ہونگے۔ جب وہ ان پر ملنے والے ثواب و کرامت کو دیکھیں گے۔
Ayah 88:1010 : فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ (بہشت بریں میں ہونگے) عالیہؔ علو مکان یا علو مقدار کی وجہ سے۔
Ayah 88:11جنت کی صفت :
1 1 : لَّا تَسْمَعُ فِیْھَا لَاغِیَۃً (جن میں کوئی لغوبات نہ سنیں گے) اے مخاطب تو ان میں کوئی لغو بات نہ سنے گا۔ یا وہ چہرے اس میں لغوبات نہ سنیں گے۔ لا غیہؔ یعنی لغو۔ یا لغویت والا کلمہ۔ نمبر 3۔ کوئی ایسا شخص جو لغو کہے۔ اہل جنت حکمت کی بات کریں گے اور دائمی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد کے کلمات بولیں گے۔
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے لا یسمع فیھا لا غیۃً اور نافع نے لا تسمع فیھا لاغیۃًپڑھا
Ayah 88:1212 : فِیْھَا عَیْنٌجَارِیَۃٌ (اس میں بہتے چشمے ہوں گے) یعنی بیشمار چشمے ہونگے جیسا کہ اس قول میں علمت نفس ] التکویر : 14[
Ayah 88:1313 : فِیْھَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ (اس میں اونچے اونچے تخت ہونگے) سُرُرٌ جمع سَرِیْر۔ تختہ ‘ چارپائی۔ مرفوعۃ ؔ مقدار کی بلندی یا تاکہ ہر مومن اس پر بیٹھ کر اپنی بادشاہت اور نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دی ہیں وہ دیکھ سکے۔
Ayah 88:1414 : وَّاَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ (اور رکھے ہوئے آبخورے ہیں) وَّاَکْوَابٌ جمع کو ب۔ پیالے۔
ایک قول :
وہ برتن جس کا دستہ نہ ہو۔ مَّوْضُوْعَۃٌ سامنے رکھے ہوئے۔ تاکہ دیکھ کر ان سے لذت اندوز ہوں۔ نمبر 2۔ چشموں کے کناروں پر پانی کیلئے رکھے گئے ہیں۔
Ayah 88:1515 : وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ (اور برابر لگے ہوئے گدے ہیں) نمارقؔ : تکیے۔ مصفوفۃؔ پہلو بہ پہلو ‘ ترتیب وار چنے ہوئے تکیے کہ جنتی جہاں بیٹھنا چاہیں ایک پر بیٹھ جائیں اور دوسرے سے سہارا لگالیں۔
Ayah 88:1616 : وَّزَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ (اور سب طرف قالین پھیلے پڑے ہیں) زرابی جمع زربیۃ۔ عمدہ لمبے چوڑے بچھے قالین۔ مبثوثہؔ پھیلائے ہوئے مجالس کے لحاظ سے الگ الگ بچھے ہوئے۔
Ayah 88:17کفار کے انکار کا جواب :
17 : اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ (کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے) جب جنت کی حالت کے متعلق آیات اتریں اور نبی اکرم ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ ان تختوں کی بلندی ایک ایک سو فرسخ ہوگی۔ رکھے ہوئے پیالوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگی کہ مخلوق کثرت کی وجہ سے ان کا حساب نہیں کرسکتی۔ اور تکیوں کی لمبائی اس قدر اور قالینوں کی چوڑائی اتنی ہوگی۔ کفار نے اس کا انکار کیا اور کہنے لگے ایسی چارپائی پر کس طرح چڑھ سکیں گے۔ اور پیالے لاتعداد کیسے ہوسکتے ہیں۔ تکیوں کی لمبائی اور قالینوں کا اس طرح بچھنا کیونکر ہوگا۔ ہم نے دنیا میں ایسا نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اَفَلاَ یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ وَاِلَی السَّمَآئِ الاٰیۃ۔ کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح طویل پیدا کیا گیا۔ پھر یہ بیٹھ جاتا ہے یہانتک کہ تم اس پر سوار ہوتے۔ اور اس پر اپنا سامان لادتے ہو۔ پھر وہ تمام کو لے کر اٹھ جاتا ہے اسی طرح وہ تخت مومن کے لئے جھک جائیں گے۔ جیسا اونٹ جھکتا ہے پھر سیدھے ہوجائیں گے۔
Ayah 88:1818 : وَاِلَی السَّمَآ ئِ کَیْفَ رُفِعَتْ (اور آسمان کو کس طرح بلند کیا گیا ہے) خوب بلند کرنا۔ ایسی بلندی جو درازی والی ہے اس میں کوئی رکاوٹ اور ستون نہیں۔ پھر اس کے ستارے اتنے زیادہ ہیں کہ مخلوق ان کو گن نہیں سکتی اسی طرح جنت میں مؤمنوں کے پیالے ان گنت بنا دیئے گئے۔
Ayah 88:1919 : وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ (اور پہاڑوں کو کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں) ایسا کھڑا کرنا جو قائم رہنے والا ہے۔ وہ اپنی طوالت کے باوجود ایسے گڑے ہوئے ہیں کہ ایک طرف جھکتے نہیں پس اسی طرح جنت کے تکیے ہونگے۔
Ayah 88:2020 : وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ (اور زمین کو کیسے بچھائی گئی) اس کی سطح ہموار اور بچھی ہوئی ہے۔ تمام ایک بچھونا ہے جو ایک کنارئہ آسمان سے دوسرے کنارئہ آسمانی تک پھیلا ہے اسی طرح جنت کے قالین ہونگے۔ ایک اور انداز : یہ بھی درست ہے کہ معنی یہ ہو۔ کیا وہ ان مخلوقات کو نہیں دیکھتے ہیں جو قدرت الٰہی پر شاہد ہیں۔ تاکہ وہ بعث بعد الموت پر اس کی قدرت کا انکار نہ کریں۔ اورحضور ﷺ کا انذار سن کر آپ پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے تیاری کریں۔
وجہ تخصیص :
ان چار چیزوں کو خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کو خطاب فرما کر ان کو ان قدرتی چیزوں سے استدلال کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔ اور آدمی اس سے استدلال کرتے ہیں۔ جو اکثر و بیشتر مشاہدہ میں آتی رہتی ہوں۔ عام عربوں کی بود و باش جنگلوں میں تھی ان کی نگاہ کے سامنے ہر وقت آسمان زمین پہاڑ رہتے تھے۔ اور ان کا محبوب ترین مال اونٹ۔ اور سواری میں اس کا استعمال تمام حیوانات کی بنسبت زیادہ تھا۔ کیونکہ اس میں حیوانات کی جملہ حاجات موجود تھیں۔ مثلاً نسل، دودھ، بوجھ اٹھانا، سواری کھانے کے کام آنا وغیرہ۔ اس کے برخلاف دیگر حیوانات میں یہ تمام مجتمع نہ تھیں اور اس کو مطیع اس طرح بنایا گیا کہ ہر نکیل پکڑنے والا اس کو لے کر چلتا ہے۔ نہ کمزور کو دشواری نہ بچے کو رکاوٹ لمبی گردن والا بوجھ اٹھانے والا ہے۔ اس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ بیٹھ جاتا ہے تاکہ آسانی اور قریب سے اس پر بوجھ لاد سکیں پھر بوجھ لے کر اٹھ جاتا ہے اس کو دور دراز علاقوں تک لے جاتا ہے اور پیاس کو بہت برداشت کرنے والا یہانتک کہ دس دن یا اس سے زیادہ پیاس برداشت کرلیتا ہے۔ جنگلوں میں اگنے والی ہر چیز کھالیتا ہے جس کو دیگر حیوانات نہیں چرتے۔
Ayah 88:2121 : فَذَکِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ (تو آپ نصیحت کردیا کیجئے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں) پس آپ ان کو دلائل سے نصیحت فرمائیں تاکہ یہ ان میں سوچ و بچار کریں۔ انما انت مذکرؔ آپ کے ذمے تو فقط تبلیغ ہے۔ (منوانا نہیں)
Ayah 88:2222 : لَسْتَ عَلَیْہمْ بِمُصَّیْطِرٍ (آپ ان پر مسلط نہیں ہیں) مصیطرؔ زبردستی نصیحت یاب کرنے پر مسلط نہیں جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِجَبَّارٍ ] ق : 45[
قراءت : بمصیطرؔ مدنی، بصری، عاصم، علی نے پڑھا ہے۔
Ayah 88:2323 : اِلَّا مَنْ تَوَلّٰی وَکَفَرَ (مگر جو روگردانی کرے گا اور کفر کرے گا۔
Ayah 88:2424 : فَیُعَذِّبُہُ اللّٰہُ الْعَذَابَ الْاَکْبَرَ (تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑی سزادیگا )
نحو : یہ استثناء منقطع ہے۔ یعنی تم ان پر مسلط نہیں ہو۔ لیکن جس نے ان میں سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اللہ تعالیٰ کو اس پر کامل ولایت و غلبہ حاصل ہے۔ پس وہ اس کو بڑے عذاب میں مبتلا کریگا اور وہ بڑا عذاب جہنم کا عذاب ہے۔
ایک قول یہ ہے :
فذکرؔ سے استثناء ہے پس آپ نصیحت کریں مگر وہ آدمی جس کے ایمان سے تمہاری امید منقطع ہوچکی ہو۔ اور وہ منہ موڑنے والا ہو تو وہ عذاب اکبر کا حقدار ہے۔ اس صورت میں ان کے مابین یہ جملہ معترضہ ہوگا۔
Ayah 88:2525 : اِنَّ اِلَیْنَآ اِیَابَھُمْ (ہمارے ہی پاس ان کا آنا ہوگا) ایابؔ : رجوع۔ ظرف کو مقدم کرنے کا فائدہ وعید میں شدت ظاہر فرمانا ہے۔ اور بلاشبہ ان کا رجوع ایسے جبار کی بارگاہ میں ہوگا۔ جو انتقام پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 88:2626 : ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَھُمْ (پھر ہمارا ہی کام ان سے حساب لینا ہے) پس وہ ان کے اعمال پر ان سے محاسبہ فرمائے گا۔ اور ان کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔ عَلَیْنَایہ تاکید وعید کیلئے ہے وجوب کیلئے نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کوئی چیز لازم نہیں۔