Ayahs 89:1–141۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘ کیونکہ مسند امام احمد ترمذی 5 ؎ ابو داؤود اور مستدرک حاکم وغیرہ میں مرفوع اور موقوف روایتوں میں یہی تفسیر آچکی ہے۔ بعض مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم ہے اس کا جواب حافظ 1 ؎ ابن کثیر نے دے دیا ہے کہ وہ راوی عمران بن عصام ضبعی ہے۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر کی سند میں اس کی صراحت کردی ہے اور اس عمران بن عصام کو ابن 2 ؎ حبان نے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے اور قتادہ ؓ نے ان عمران کو اپنا استاد قرار دیا ہے بعض مفسروں نے اس سورة کی تفسیر میں شہر ارم کا جو قصہ لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ معاویہ کے زمانہ میں عبد اللہ بن قلابہ ایک شخص نے اس شہر کو جا کر دیکھا ہے۔ اس قصہ کی سند صحیح نہیں ہے اور معتبر مفسرین نے اس قصہ کو نامعتبر ٹھہرایا ہے۔ 3 ؎ صحیح تفسیر یہی ہے کہ عاد بن ارم عاد اولیٰ حضرت ہود کی امت کا نام ہے۔
غرض ارم قبیلہ کا نام ہے کسی شہر کا نام نہیں ہے عاد اولیٰ اسی قبیل ارم کو کہتے ہیں اور عاد ثانی ثمود کو اور یہ دونوں ارم کی طرف نسبت کئے جاتے ہیں واللیل اذا یسر کا یہ مطلب ہے کہ جب کچھ رات آجائے۔ حجر کے معنی عقل کے ہیں ذات العماد سے مراد دراز قد ہے کیونکہ ان میں ہر شخص بارہ گز کے قد کا ہوتا تھا۔ ابی بن کعب کی قرأت میں لم یخلق مثلھم فی البلاد ہے اس کے موافق لم یخلق مثلھا فی البلاد کے معنی یہ ہیں کہ قبیلہ ارم کے مانند کوئی قبیلہ قوت اور زور میں پیدا نہیں ہوا۔ یا عماد کے معنی ان ستونوں اور مناروں کے ہیں جو یہ لوگ بلند مقاموں پر اپنے نام کے لئے بناتے تھے اس صورت میں لم یخلق مثلھا فی البلاد کے معنی یہ ہوں گے کہ اس قبیلہ جیسے مضبوط ستون اور منارے کسی شہر میں کسی قوم نے نہیں بنائے۔ ثمود حضرت صالح کی قوم کا نام ہے یہ لوگ سنگ تراشی کے بڑے ماہر تھے پتھروں کو تراش تراش کے انہوں نے بہت سی عمارتیں بنائیں۔ وادی سے مراد وادی القریٰ ہے جو ملک شام کی طرف ہے فرعون بڑا صاحب لشکر تھا خیموں کی میخیں کثرت سے اس کے لشکر کے ساتھ رہتی تھیں اس لئے اس کو میخوں والا فرمایا سخت آندھی سے عاد اور سخت آواز سے ثمود کو اللہ تعالیٰ نے غارت کیا اور فرعون مع اپنے لشکر کے ڈوب کر مرا۔ ان عذابوں کو کوڑا اس لئے فرمایا کہ گویا بہ نسبت عذاب آخرت کے یہ عذاب ایسے ہیں کہ جس طرح کسی کو چند کوڑے مار دے اوپر کی قسموں کے بعد جو کچھ فرمایا اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کا عمل اللہ کی نگاہ میں ہے جس طرح ان پچھلی قوموں کی سرکشی ان آگے آئی۔ قریش اگر اپنی کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کے آگے آنے والا ہے اور قریش کے صاحب عقل لوگوں کے لئے یہ فہمایش ایسی یقینی ہونی چاہئے کہ اس سے بڑھ کر کوئی یقینی بات ہو نہیں سکتی کیونکہ اللہ نے اس مطلب کو قسم کھا کر فرمایا ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی سے لے کر فتح مکہ تک قریش کے نافرمان لوگوں کے سامنے جو آیا وہ ظاہر ہے۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 505 ج 4
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 505 ج 4‘ تفسیر الدر المنثور ص 345 ج 6
4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 345 ج 6
5 ؎ جامع ترمذی۔ تفسیر سورة الفجر ص 192 ج 2۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 506 ج۔
2 ؎ ایضاً
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 508 ج 4۔
Ayahs 89:15–2015۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں قریش کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے عاد وثمود فرعون کی ہلاکت کا قصہ ان کے راہ راست پر آنے کے لئے ذکر فرمایا تھا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کو قیامت کا انکار ہے اس لئے عقبیٰ کی بھلائی برائی کو تو یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں فقط دنیا کی زیست پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بات یوں نہیں جیسے ان خیال ہے یہ اس لئے فرمایا کہ ابھی فرعون کا قصہ جو ان کو سنایا۔ مثلاً اس میں فرعون کی آسودہ حالی کو اور اس پر جو عتاب الٰہی ہوا اس کو یہ لوگ یاد کریں تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ دنیا کی آسودہ حالی خدا کے نزدیک کچھ ایسی قدر کی چیز نہیں ہے جس پر وہ مہربان ہو اسی کو آسودہ حالی دے بلکہ آسودہ حالی اور تنگ حالی یہ خدا کی ایک مصلحت ہے جس کا حال اسی کو معلوم ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ قریش میں یہ بھی ایک دستور تھا کہ وہ مردہ کے مال میں سے یتیم نو عمر لڑکوں اور عورتوں کو کچھ حصہ نہیں دیتے تھے اسی واسطے آسودہ حالی اور تنگ حالی کے تذکرہ میں یہ بھی قریش کی مذمت فرمائی کہ یہ لوگ دنیا کی آسودہ حالی کو ایسا عزیز جانتے ہیں کہ یتیموں کا حق مار کر مردہ کا سب مال دبا رکھنے کا دستور اور محتاج کو ایک ٹکڑا روٹی کا نہ دینے کا دستور انہوں نے نکال رکھا ہے غرض قریش کے اس غلط خیال کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کی آسودہ حالی تو کچھ خدا کی مہربانی کا سبب نہیں بلکہ دنیا کے آسودہ حال لوگوں کا اس طرح کا برتاؤ جیسا کہ تم لوگوں کا ہے اور الٹا خدا کی خفگی کا سبب ہے۔
Ayahs 89:21–3021۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ ہوگی بلکہ پہاڑوں ٹیلوں اور عمارات ان سب بلندی کی چیزوں کو کوٹ کر پست کردیا جائے گا جس سے کل زمین پست ہوجائے گی اور اس سرے سے اس سرے تک ایک میدان نکل آئے گا۔ محشر کے طرح طرح کے انتظام کے لئے فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے زمین پر نزول فرمانے کا جو ذکر ہے اس کا اور صحاح کی حضرت 1 ؎ ابوہریرہ ؓ کی حدیث کا مضمون ایک ہی ہے۔ فرق اتنا ہی ہے کہ اس حدیث سے پچھلی رات کے وقت ہر شب کو اللہ تعالیٰ کا اول آسمان پر نزول اور حاجت مندوں کی دعا اور گناہ گاروں کی توبہ قبول کرنا ثابت ہوتا ہے اور یہاں کے حساب و کتاب کے لئے میدان محشر میں اللہ تعالیٰ کا نزول فرمانا ثابت ہوتا ہے 2 ؎۔ جس وقت تمام دنیا کے لوگ میدان محشر کی گرمی اور پسینے سے گھبرائیں گے اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس حساب کتاب کی جلدی شروع ہوجانے کی شفاعت بارگاہ الٰہی میں پیش کرنے کی خواہش ان انبیاء سے کریں گے اور سب انبیاء اس شفاعت سے انکار کریں گے۔ آخر خاتم النبین حضرت محمد ﷺ اس شفاعت کا اقرار اہل محشر سے کریں گے اور اپنے اس اقرار کے موافق بارگاہ الٰہی میں شفاعت بھی فرمائیں گے آپ کی شفاعت قبول ہو کر اس وقت خلائق کے حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کا میدان محشر کا یہ نزول ظہور میں آئے گا۔ جس کا یہاں اور سورة بقر میں اور آیتوں اور حدیثوں اور آثار صحابہ میں تفصیل سے ذکر آیا ہے اور سورة آل عمران میں ایات متشابھات کی بحث جو گزری ہے اس میں یہ باان ہوچکا ہے کہ سلف کا مذہب اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کے باب میں یہی ہے کہ بغیر تشبیہ کے ان کے معنوں پر مسلمان آدمی کو ایمان لانا اور ان معنی کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپنا چاہئے اور اسی طرح کی آیتوں اور حدیثوں کے معنی میں تاویل کرنے کو ایک امر خلاف سلف خیال کرنا چاہئے میدان محشر میں دوزخ کے لائے جانے کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ اس وقت انسان اپنے کئے پر پچھتائے گا لیکن اس وقت کا پچھتانا اس کو کچھ فائدہ نہ دے گا اس وقت تو اسی قدر فیصلہ ہوجائے گا کہ جو لوگ عقبیٰ کی باتوں پر یقین اور اطمینان رکھتے تھے جس یقین اور اطمینان کے سبب سے انہوں نے جہاں تک ہوسکا اپنی عقبیٰ سنواری ان کو جنت اور جو ان کے برخلاف تھے ان کو دوزخ کا حکم ہوجائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس 1 ؎ اور سلف نے نفس مطمئنۃ کی تفسیر میں لکھا ہے جس شخص کے دل میں ایمان اور آخرت کی باتیں منافقوں کی طرح اوپری نہ ہوں بلکہ خوب جمی ہوئی ہوں اور آخرت کی ہر ایک بات پر اس کو پورا یقین ہو ایسے ہی نفس کو مطمئنہ کہتے ہیں طبرانی 2 ؎ وغیرہ میں سعید بن جبیر اور عکرمہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کا طائف میں انتقال ہوا اور لوگ ان کو دفن کرنے کے لئے لے گئے تو ایک نئی صورت کا جانور آ کر حضرت عبد اللہ بن عباس کی لاش میں سما گیا اور جب انکی لاش پر لوگ مٹی ڈالنے لگے تو قبر کے اندر سے اس آیت کے پڑھنے کی آواز آئی اوپر گزر چکا ہے کہ اچھے لوگوں کو قبض روح اور دفن اور قبر سے اٹھنے کے وقت اور قیامت کے دن فرشتے نجات کی خوش خبری دیں گے اس لئے یہ خوش خبری کا فرشتہ تھا جو جانور کی صورت میں لوگوں کو نظر آیا۔