90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 90:1–10

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

ہمیں اس شہر کی قسم

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا ؟

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

بھلا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر اور شر کے) دو نور بھی دکھا دئیے

1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس بات کو قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ یہ ہے کہ انسان ایک محنت اور مشقت کی حالت میں ہمیشہ ہے علماء نے لکھا ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ماں کے پیٹ سے لے کر مرتے دم تک کوئی وقت انسان کا محنت اور سختی سے خالی نہیں ہے۔ بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ماں کے سونے اور لیٹنے کے وقت ایک فرشتہ اس بچہ کا سر اونچا کردیتا ہے تاکہ ماں کے لیٹنے کے وقت ماں کے سارے جسم میں جو خون دوڑتا ہے وہ خون بچہ کی ناک اور منہ میں بھر کر بچہ مر نہ جائے پھر پیدا ہونے کے وقت جو سختی ماں اور بچہ پر گزرتی ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسی طرح پیدا ہونے کے بعد بچپنے میں جوانی میں بڑھاپے میں دکھ درد ‘ طرح طرح کا رنج و غم ہر ایک کے پیچھے لگا ہوا ہے تفسیر کلبی میں لکھا 1 ؎ ہے کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابو الاسد بڑا شہ زور تھا اونٹ کی کھال پر کھڑا ہوجاتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچتے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر اس کا قدم تک کھال پر سے نہ ڈگتا تھا جب سورة مدتر کی یہ آیت اتری کہ دوزخ کے خازن انیس فرشتے ہیں تو اسی شخص نے کہا تھا کہ ان فرشتوں کو تو میں اکیلا کافی ہوں۔ آنحضرت ﷺ سے یہ شخص بڑی عداوت رکھتا تھا اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس کو اور اس کی طرح اور جو لوگ اپنی جسمانی قوت یا مالی ثروت پر اتراتے ہیں ان کو نصیحت فرمائی ہے کہ انسان کے حالت اترانے کی نہیں ہے بلکہ جو بلائیں انسان کے پیچھے لگی ہوئی ہیں ان کو اگر ہر انسان دیکھے تو انسان کی حالت پچھتانے کی ہے اور جس اللہ تعالیٰ نے انسان کے خلاف مرضی انسان کے پیچھے اس قدر بلائیں لگا کر انسان کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ منکرین حشر کی خلاف مرضی ان کے مرجانے کے بعد ان منکروں کو پھر پیدا کرے اور ان سے ذرہ ذرہ حساب لے دو گھاٹیوں کی تفسیر وہی ہے جو صحیح 2 ؎ مسلم میں ابومالک اشعری کی حدیث میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر روز صبح اٹھ کر لوگ دو طرح کے کام کرتے ہیں کوئی ایسا کام کرتا ہے جو عقبیٰ میں نجات کا سبب ہے اور کوئی اس کے برخلاف کام کرتا ہے زمانہ جاہلیت میں لوگ دنیا کے نام کے لئے ہزارہا روپے خرچ کرکے اس پر بڑا فخر کرتے تھے اس کو فرمایا کہ کوئی یہ نہ جانے اللہ لوگوں کے ایسے بیجا اخراجات سے غافل ہے نہیں نہیں۔ ایک دن ان سب اخراجات کا حساب ہوگا۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب صلوٰۃ اللیل وعد رکعات النبی ﷺ بالیل الخ ص 258 ج 1) (2 ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ واجراج الموحدین من النار ص 110 ر 111 ج 1۔ ) (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 350 ج 6۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 511 ج 4۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب بعد باب منزل النبی ﷺ یوم الفتح ص 615 ج 2۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 444 ج 4۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب فضل الوضوء ص 118 ج 1۔ )
Ayahs 90:11–20

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی کی گردن کا چھڑانا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن کھانا کھلانا

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

یتیم رشتہ دار کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا فقیر خاکسار کو

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہوا جو ایمان لائے اور صبر کی نصحیت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے

11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور بےکھٹکے جنت میں چلے جاؤ لیکن ان نفلی کاموں کے ثواب کی توقع جب ہے کہ آدمی کے دل میں عقبیٰ کی سزا و جزا کا پورا یقین ہو اور ہر ایک نفلی عمل کے موافق اور ادائے فرائض کے بعد ہو اور اس میں دنیا کے دکھاوے کا کچھ دخل نہ ہو۔ ورنہ اس کے برخلاف نیک عملوں کا حال سورة فرقان میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن وہ ایسے اڑ جائیں گے جس طرح ہوا میں ریت اڑ جاتی ہے۔ اسی واسطے ان نفلی عملوں کے ذکر کے بعد فرمایا ثم کان من الذین امنوا وتوا صوابالصبر جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے نفلی کاموں کا کرنے والا ایمانداروں میں سے ہو اس کے دل میں کسی شرک و بدعت و ریاکاری کا خیال نہ ہو کہ یہ باتیں ایمانداری سے بعید ہیں اور وہ ایسے لوگوں میں سے بھی ہو جن میں ادائے فرائض کی تکلیف پر صبر و تحمل کی قید ہو۔ کیونکہ جس کے ذمہ ترک فرائض پر مواخذہ ہے اس کی نجات فقط نفلی عملوں سے مشکل ہے پھر فرمایا وتواصوا بالمرحمہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص ایسے لوگوں میں سے بھی ہو جن کی عادت خلق اللہ سے شفقت کے ساتھ برتاؤرکھنے کی ہے۔ یہ اس لئے فرمایا کہ خلق اللہ کے ساتھ جو لوگ ظلم و زیادتی کا برتاؤ رکھتے ہیں ان کی نیکیاں قیامت کے دن ظلم و زیادتی کے بدلہ میں مظلوموں کو بٹ جائیں گی چناچہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے اس باب میں اوپر گزر چکی ہیں پھر فرمایا جو اعتقاد اور عمل میں اس کے برخلاف ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ ایصاد کے معنی بند کردینے کے ہیں اس لئے نار موصدہ کے یہ مینو ہیں کہ اس آگ سے نکل بھاگنے کا راستہ ہر طرف سے بند ہے۔ (2 ؎ الترغیب و الترہیب الترغیب فی انشاء السلام ص 673۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب فضل العتق ص 495 ج 1۔ ) 3 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص 320 ج 2۔