Ayahs 91:1–101۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں نے اس آیت کی تفسیر اور طرح بھی کی ہے لیکن صحیح 1 ؎ مسلم اور مسند امام احمد کی حضرت عمران بن حصین کی روایت میں خود صاحب وحی ﷺ نے جو اس آیت کی تفسیر کی ہے اس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اس واسطے جن مفسروں نے اس صحیح حدیث کے موافق تفسیر کی ہے وہی صحیح ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم مسند امام احمد نسائی مصنف ابن ابی شیبہ کی حضرت زید بن ارقم کی اور مسند امام احمد کی حضرت عائشہ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ تو میرے دل کو پرہیزگاری کی خواہش نصیب کر اور میرے دل کو بری خواہش سے پاک کر دے یا اللہ تجھ سے بہتر کوئی انسان کے دل کا پاک کرنے والا نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کی یہ دعا بھی اس آیت کی اسی تفسیر کے موافق ہے جو تفسیر اوپر بیان کی گئی ہے ان آیتوں اور حدیثوں سے اگرچہ بعض علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ ہر ایک شخص کے نیک و بدعمل دیکھ کر دنیا میں ہی یقینی طور پر جنتی اور دوزخی کو پہچانا جاسکتا ہے لیکن صحیح قول یہی ہے کہ نیک عمل ایک ظاہری علامت نیک ہونے کی ہے۔ رہیں یہ باطنی باتیں کہ کس شخص کا خاتمہ نیک ہوگا اور کونسا عمل ریا سے پاک ہونے اور نیت کے خالص ہونے اور شریعت کے قاعدہ کے موافق صحیح ہونے کے سبب سے بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوگیا اور کونسا عمل مقبول نہیں ہوا۔ اس کا علم اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ اوپر گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب قضاء و قدر کا مسئلہ صحابہ کے رو برو بیان فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا تھا کہ حضرت ﷺ جب جنتی اور دوزخی پہلے ہی قرار پا چکے تو اب ہم نیک عمل کیوں کریں جس فریق میں ہماری گنتی ہوچکی ہے اسی فریق میں ہمارا انجام ہوجائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تم نیک عمل کی کوشش کرتے جاؤجس انجام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شخص کو پیدا کیا ہے وہ خواہ مخواہ اسی ڈھنگ پر لگ جاتا ہے حاصل آپ ﷺ کے جواب کا یہ ہے کہ بندہ کو بندگی کرنی چاہئے تاکہ سرکشی نہ ثابت ہو رہی یہ بات کہ وہ بندگی مولا کی مرضی کے موافق ہے یا اس بندگی کے ظہور میں آنے سے پہلے مولا نے جن بعض غلاموں کو اپنے ایک اندازہ سے فرمانبردار غلاموں میں لکھ لیاہو ‘ وہ کون سے غلام ہیں اس کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے جو آدمی کے قیاس سے باہر ایک بات ہے پھر ایسی قیاس سے باہر ایک بات کی بنیاد پر جو بندہ اپنے آگا کی بندگی چھوڑے گا وہ فرمانبردار غلام کیونکر کہلا سکتا ہے ہاں ظاہری چند روزہ فرمانبرداروں اور مرتے دم کے فرمانبرداروں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اندازہ سے جان لیا ہے اس لئے آخر کو ہر شخص اسی اندازہ کے ڈھنگ سے جا لگتا ہے اور یہ ڈھنگ ایک غیب کی بات ہے بغیر آخری وقت کے ظہور میں نہیں آسکتی۔
Ayahs 91:11–1511۔ 16۔ یہ اونٹنی کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ثمود نے حضرت صالح سے ایک دن پہاڑ میں سے ایک حاملہ اونٹنی کے پیدا ہونے کا معجزہ چاہا اور حضرت صالح کی دعاء سے حاملہ اونٹنی پیدا ہوئی اور پھر اس کے پیٹ سے بچہ بھی پیدا ہوا۔ ثمود کے شہر میں پانی کی کشش تھی اس واسطے حضرت صالح نے یہ بات ٹھہرا دی تھی کہ ایک روز وہ اونٹنی پانی پیاکرے اور ایک روز لوگوں کے جانور پیا کریں جس کنویں سے یہ اونٹنی پانی پیتی تھی ‘ اس کا نام ثمود نے اونٹنی والا کنواں رکھ دیا تھا صالح نے باری جو ٹھہراثی تھی اسی باری کے دن کسی طرح کی شرارت کرنے سے حضرت صالح نے ثمود کو ڈرایا ہے جس کا ان آیتوں میں ذکر ہے اس باری کے موافق جس دن اونٹنی اس کنویں سے پانی پیتی تھی تو کنویں کا سب پانی پی لیتی تھی اسی سبب سے اس محلہ کے لوگ اونٹنی کو بری نظروں سے دیکھنے لگے آخر نتیجہ یہ ہوا کہ نو آدمیوں نے ایکا کرکے اس اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا اس اونٹنی کی ہلاکت کے بعد اس کا بچہ پہاڑ میں جا کر غائب ہوگیا ایک شخص قدار بن سالف ان نو آدمیوں کا بڑا سرغنہ اور ثمود میں بڑا شریر آدمی تھا اور اسی نے پہلا وار اس اونٹنی پر کیا صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن زمعہ کی روایت سے یہ لفظ آئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک خطبہ میں فرمایا کہ ایک شریر آدمی نے اونٹنی کو ہلاک کیا۔ وہ شریر آدمی یہی قدار بن سالف تھا۔ اس اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز بعد زمین میں زلزلہ آیا اور آسمان سے ایک سخت آواز آئی جس سے سوار حضرت صالح اور ان کے ساتھیوں کے اور سب مخالف غارت ہوگئے۔ ولایخاف عقبھا کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا کے بادشاہ کسی زبردست قوم پر ہاتھ ڈالنے میں پس و پیش کرتے ہیں اللہ ایسا زبردست ہے کہ ایک دم جو چاہے کر دے۔ اس کو دنیا کے بادشاہوں کی طرح کسی پس و پیش کی پرواہ نہیں۔
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة و الشمس ص 737 ج 2 و صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 383 ج 2۔ )