92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 92:1–11

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

رات کی قسم جب (دن کو) چھپالے

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور دن کی قسم جب چمک اٹھے

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور اس (ذات) کی قسم جس نے نر اور مادہ پیدا کئے

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

کہ تم لوگوں کی کوشش طرح طرح کی ہے

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

تو جس نے (خدا کے راستے میں مال) دیا اور پرہیزگاری کی

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور نیک بات کو سچ جانا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے بخل کیا اور بےپروا رہا

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

اسے سختی میں پہنچائیں گے

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور جب وہ (دوزخ کے گڑھے میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آسکے گا

1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو راستہ پر لانے کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ اس طرح مجبوری کی حالت میں نیک و بد کا وہ امتحان باقی نہیں رہتا جس کے لئے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ہر ایک کام کا نتیجہ جی میں خوب جم جانے سے آدمی کو وہ کام سہل ہوجاتا ہے۔ اس لئے دنیا کے عملوں کے نتیجہ کے طور پر عقبیٰ کی سزا و جوا کا یقین جن لوگوں کے دل میں خوب جم گیا ہے ان کو صدقہ و خیرات اور ہر طرح کے نیک کام عقبیٰ کے ثواب کی امید پر سہل معلوم ہوتے ہیں اور جو لوگ عقبیٰ کے ثواب کے ہی منکر ہیں۔ ان کو بغیر کسی امید کے ہر ایک نیک کام مشکل معلوم ہوتا ہے اور جبراً اس مشکل کو حل کردینا انتظام الٰہی کے خلاف ہے۔ یہ انتظام وہی ہے جس کا ذکر آیت الذی قدر فھدی کی تفسیر میں گزر چکا ہے پھر فرمایا کہ جس مال کی الفت کے سبب سے لوگ صدقہ وہ خیرات میں بخل کرتے ہیں وہ مال قبر میں ان کے ساتھ نہ جائے گا اور اسی بےجا بخل کے سبب سے جب ایسے لوگ دوزخ میں جا پڑیں گے تو یہ مال وہاں ان کے کچھ کام نہ آئے گا غرض مال کی الفت انہی کی سچی ہے جو اپنے مال کو خدا کی راہ میں صرف کرتے ہیں اور ایک ایک کے دس یا سات سو کے نفع سے دنیا سے اٹھتے وقت اپنا مال اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ صحیح 1 ؎ مسلم وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے مال کی تین حالتیں ہیں جو آدمی نے کھانے پینے میں صرف کیا تو وہ گیا گزرا اور جو مرتے وقت چھوڑ گیا وہ دوسروں کا ہے ہاں جو کچھ اللہ کے نام پر دیا وہ مع نفع کے خدا کے خزانہ میں جمع ہے۔ 1 ؎ صحیح مسلم۔ کتاب الزھد ص 407 ج 2۔
Ayahs 92:12–21

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور آخرت اور دنیا ہماری ہی چیزیں ہیں

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور جو بڑا پرہیزگار ہے وہ (اس سے) بچا لیا جائے گا

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور (اس لئے) نہیں (دیتا کہ) اس پر کسی کا احسان (ہے) جس کا وہ بدلا اتارتا ہے

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

بلکہ اپنے خداوند اعلی کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا

12۔ 21۔ مستدرک حاکم 2 ؎ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت بلال ؓ اور عامر بن فہیرہ اور زنیرہ وغیرہ میں یہ سات شخص لونڈی غلام ایسے تھے جو اسلام لے آئے تھے اور وہ مشرک لوگ جن کے یہ لونڈی غلام تھے ان پر روز طرح طرح کی سختی اور مار پیٹ کیا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق نے ان ساتوں مرد و عورتوں کو ان کے مشرک آقاؤں سے خرید کیا اور ساتوں شخصوں کو آزاد کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیق کے باپ ابوقحافہ نے ایک روز حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ تم کو اگر غلام آزاد کرنے منظور تھے ایسے قوی لوگ آزاد کئے ہوتے جو وقت پڑے پر تمہاری کچھ مدد کرسکتے۔ ان عورتوں کے آزاد کرنے سے کیا فائدہ ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جواب دیا میں نے جو کچھ کیا ہے وہ عاقبت کے فائدہ کے لئے کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں لا یصلھا سے آخر سورة تک نازل فرمائیں۔ بعض مفسروں نے اور شان نزول جو ان آیتوں کا بیان کیا ہے اس کی سند قوی نہیں یہ جو فرمایا کہ بڑا بدبخت دوزخ میں جائے گا۔ مرجیہ فرقہ کے علماء نے اس سے یہ مطلب نکالا ہے کہ بڑے بدبخت مشرک لوگ ہیں وہی دوزخ میں جائیں گے کوئی کلمہ گو گناہ گار دوزخ میں نہ جائے گا۔ یہ مطلب قرآن اور حدیث کے مخالف ہے قرآن میں منافق لوگوں کے دوزخ میں جانے کا ذکر ہے۔ صحیح 3 ؎ حدیثوں میں کلمہ گو ایماندار گناہ گاروں کا دوزخ میں جانے اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا شفاعت کے سبب سے پھر اس کے نکلنے کا ذکر ہے لیکن سوا مشرکوں کے اور کلمہ گو گناہ گار لوگ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہیں گے دوزخ ہمیشہ کے لئے اصلی ٹھکانہ مشرکوں کا ہی ہوگا اس لئے اس آیت میں فقط مشرکوں کا ذکر فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے وہ لوگ بڑے بدبخت ہیں۔ ان علینا للھدی سے اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ فرمایا تھا آسمان سے کتابیں نازل فرما کر رسولوں کو بھیج کر فرمانبرداری اور نافرمانی کی سب باتیں ہر ایک زمانہ میں بتا دیں اور اس اپنے وعدہ کو اچھی طرح پورا کردیا اب آدمی اپنے اختیار سے جو کچھ کرے گا اسی پر سزا و جزا کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا لیکن اس فیصلہ سے پہلے یہ نتیجہ علم الٰہی میں دنیا کے پیدا کئے جانے سے پہلے قرار پا چکا ہے کہ دنیا کے پیدا کئے جانے کے بعد باوجود آسمانی کتابیں نازل ہونے اور رسولوں کے سمجھانے کے ایسے بدبخت لوگ بھی دنیا میں ہوں گے کہ وہ آسمانی کتاب اور اللہ کے رسول کسی کو نہ مانیں گے اور آخر دوزخ میں جائیں گے۔ وانا لنا للاخرۃ والاولیٰ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں اللہ کے اختیار اور تصرف میں ہیں۔ آدمی کو دین و دنیا ہر ایک طرح کی حاجت روائی کی خواہش اللہ سے کرنی چاہئے کہ یہ تقویٰ کا بڑا جز ہے۔ نارا تلظی کے معیی خوب دہکتی آگ۔ (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 359 ج 6۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری۔ کتاب الرد علی الجھمیۃ ص 1107 ج 2۔ )