88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 88:1–7

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (قیامت) کا حال معلوم ہوا ہے ؟

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

دہکتی آگ میں داخل ہوں گے

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

اور خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لئے کوئی کھانا نہیں (ہوگا)

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نہ فربہی لائے گا نہ بھوک میں کچھ کام آئے

1۔ 7۔ حضرت عبد اللہ بن 3 ؎ عباس کے قول کے موافق غاشیۃ قیامت کا نام ہے غشاء کے معنی پردے کے ہیں قیامت کی سختیاں لوگوں کی عقل اور ان کے حواس پر پردہ کی طرح چھا جائیں گی جس سے وہ بالکل بدحواس ہوجائیں گے اس لئے قیامت کو غاشیہ کہا گیا۔ آدمی کے اعضاء میں منہ ایک بڑی دکھاوے کی چیز ہے اس لئے منہ کا ذکر کرکے سارا بدن اس سے مراد لیا گیا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ھل کے معنی قد کے ہیں حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے قیامت کے دن نیک و بد جو کچھ حالت گزرے گی اس کا حال تم کو اور تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اس دن طرح طرح سے خوار ہوں گے اور اہل جنت طرح طرح کی عزت اور راحت پائیں گے صحیحین 4 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کی آگ میں دنیا کی آگ سے ستر حصے حرارت زیادہ ہوگی۔ ترمذی 5 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہزار برس تک دوزخ کی آگ کو دہکایا گیا تو اس کا رنگ سرخ ہوا پھر ہزار برس تک دہکایا گیا تو سفیدی مائل رنگ ہوگیا پھر ہزار برس دہکایا گیا تو بالکل سیاہ رنگ ہوگیا اب اس کا رنگ خوفناک بالکل کالا ہے صحیح 1 ؎ مسلم میں حضرت سمرۃ بن جندب سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخی وگ جو دوزخ کی آگ میں ڈالے جائیں گے تو اپنے اپنے عمل کے موافق کسی کے ٹخنوں تلک آگ ہوگی اور کسی کے گھنٹوں تلک اور کسی کی کمر تلک اور کسی کی گردن تلک دوزخ کے گرم پانی کی تفسیر ترمذی 2 ؎ وغیرہ کی روایتوں میں ہے کہ دوزخیوں کے پلانے کے لئے جب وہ پانی ان کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو اس پانی کی گرم بھاپ سے دوزخیوں کے منہ کی کھال اتر جائے گی اور جب وہ پانی پلایا جیائے گا تو انتڑیاں کٹ کر گر پڑیں گی اور وہی پانی ان کے سر پر ڈالا جائے گا جس سے جسم کے اندر تک حرارت پہنچ کر دل اور جگر سب نکل پڑے گا پھر ہر دوزخی کو اصلی حال پر لایا جائے گا اور گھڑی گھڑی یہی عذاب کیا جائے گا اور کانٹوں دار گھانس ان کو نگلائی جائے گی جو ان کے حلق میں پھنس جائے گی اس کو حلق سے اتارنے کے لئے جب وہ پانی مانگیں گے تو یہی گرم پانی پلایا جائے گا اور یہ گھانس کچھ پیٹ میں اترے گی تو اس سے پیٹ نہ بھرے گا مفسرین نے لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ دوزخیوں کی خوراک ضریع کانٹوں دار گھانس ہوگی تو مشرکین مکہ کہنے لگے ضریع تو اچھی چیز ہے اس سے تو ہمارے اونٹ موٹے ہوجاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کا ٹکڑا نازل فرمایا کہ اس گھانس سے نہ کسی کا پیٹ بھرے گا اور نہ کوئی موٹا ہوگا۔ (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 502 ج 4 و تفسیر الدر المنثور ص 342 ج 6۔ ) (4 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ النار و انھا مخلوقۃ ص 461 ج 1 و صحیح مسلم باب جھنم اعازنا اللہ منھا ص 381 ج 2) (5 ؎ جامع ترمذی ابواب صفۃ النار ص 96 ج 2۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار ص 95 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم با جہنم اعاذنا اللہ منھا ص 381 ج 2)
Ayahs 88:8–16

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوگے

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

بہشت بریں میں

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں چشمے بہہ رہے ہوں گے

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور گاؤ تکئے قطار لگے ہوئے

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی

8۔ 16۔ اہل دوزخ کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی ایک ایک نیکی کا دس گنے سے سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اجر پائیں گے تو اپنے عملوں کے نتیجہ سے خوش ہوجائیں گے اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کے درجے ہیں جیسا جس کا عمل ہوگا ویسا ہی اس کو درجہ ملے گا لیکن دوزخ کے مقابلہ میں جنت کا ہر درجہ بلند اور عالی ہے۔ اس لئے فی جنۃ عالیہ فرمایا۔ سورة بقر میں آیت اذتبرا الذین اتبعوا من الذین اتبعوا گزر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل دوزخ آپس میں لغو باتیں اور ایک دوسرے کو لعن طعن کریں گے اس واسطے فرمایا اہل جنت نہ کوئی لغو بات کہیں گے اور نہ کسی لغو بات کسی دوسرے سے سنیں گے پھر فرمایا وہاں طرح طرح کی نہریں جاری ہوں گی ان نہروں کے کناروں پر آبخورے رکھے ہوں گے ‘ نرم نرم تخت بچھے ہوں گے ان تختوں پر جا بجا طرح طرح کے بچھونے اور تکیے ہوں گے جہاں جو کوئی چاہے ‘ بیٹھے لیٹے ‘ ترجمہ میں یہ جو ہے کہ مخمل کے نہا کچھے کھنڈر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مخمل کے نہالچے جا بجا بچھے ہوئے ہوں گے غرض اوپر گزرچکا ہے کہ جنت کی نعمتیں وہ ہیں کہ نہ کسی بادشاہ و امیر نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا تصور گزر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل کرم سے جب وہ نعمتیں نصیب کرے گا اسی وقت ان نعمتوں کی تفصیل معلوم ہوگی اب دنیا کی کسی زبان یا قلم میں وہ طاقت کہاں کہ ان نعمتوں کی تفصیل بیان کرسکے۔
Ayahs 88:17–26

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کئے گئے ہیں

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا ہے

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

تو تم نصحیت کرتے رہو کہ تم نصحیت کرنے والے ہی ہو

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

تم ان پر داروغہ نہیں ہو

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بیشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے

17۔ 26۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر 1 ؎ ابن ابی حاتم میں قتادہ سے روایت ہے کہ اوپر کی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تو مشرکین مکہ کو وہ نعمتیں اور جنت کی چیزیں خلاف عقل معلوم ہوئیں اور جنت کی چیزوں کا تعجب کے طور پر وہ لوگ آپس میں ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے جس اللہ نے خلاف عقل اور جانوروں کی عادت کے خلاف اونٹ کو اس طرح کی عادت کا جانور پیدا کیا کہ کانٹے کھا کر اپنی گزر کرتا ہے اور منزلوں بوجھ لے جاتا ہے اور عرب کا ملک جس طرح کا خشک تھا اور اس ملک میں پانی کی کمی تھی اسی عادت کا یہ جانور ہے کہ دس دس دن تک اس کو پانی کی خواہش نہیں ہوتی۔ غریب ایسا کہ ایک بچہ بھی نکیل پکڑ لے تو جہاں چاہے لے جائے برخلاف اور جانوروں کے یہ اونٹ کی ہی عادت ہے کہ اس کو بٹھا کر اس کی پیٹھ پر بوجھ لادا جاتا ہے۔ اور پھر وہ اسی بوجھ کو پیٹھ پر لے کر کھڑا ہوجاتا ہے اسی طرح جس طرح اللہ تعالیٰ نے خلاف عقل آسمان کو بغیر ستون کے اس طرح قائم کردیا اور زمین کو پانی پر بچھا دیا اور زمین میں پہاڑوں کی کیلیں ٹھونک دیں اس طرح کے ہزارہا کروڑہا عجائبات قدرت الٰہی کو یہ لوگ نظر غور سے دیکھیں گے تو ان کو ہرگز یہ تعجب باقی نہ رہے گا کہ دوزخ یا جنت میں کسی خلاف عقل چیز کو پیدا کرنا اللہ کی قدرت سے باہر ہے دنیا میں انسان کی چند روزہ زیست اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے اور پھر اس چند روزہ زیست کے لئے یہ کچھ عجائبات پیدا کئے ہیں جہاں انسان کا ہمیشہ کا رہنا خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے وہاں جس قدرعجائبات ہوں کچھ عقل سے دور نہیں ہیں غرض جو چیز عقل میں نہ آئے اس کو قدرت الٰہی سے باہر جاننا کسی عقل مند کا کام نہیں ہے خود اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا ہے پھر عقل میں یہ جرأت کیونکر ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی قدرت کا انکار کرسکے غرض اسی عقل غلطی کے سبب سے یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں ان لوگوں کی یہ غلطی بھی عجائبات قدرت پر غور کرنے سے رفع دفع ہوسکتی ہے۔ مسند امام احمد صحیح مسلم ترمذی 1 ؎ نسائی مستدرک حاکم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ نے انما انت مذکر سے اخیر سورة تک اس سورة کی آیتیں پڑھیں اور فرمایا کہ مجھ کو مشرک لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جب تک مشرک لوگ کلمہ گو نہ بن جائیں جب وہ کلمہ گو بن گئے تو جہاد تو ختم ہوگیا لیکن ان کے دل کا حال اور ان کا حساب کتاب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے غرض آنحضرت ﷺ کو یہ جو ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کو کلام الٰہی سنا کر اپنا حق ادا کر دو بس تمہارا اتنا ہی کام ہے ‘ تم ان لوگوں پر داروغہ نہیں ہو کہ کسی پر زور زبردستی کرو۔ اس کا حکم جہاد کے حکم کے نازل ہونے تک محدود تھا اوپر اس طرح کی درگزر کی آیتوں کے حکم کی تفصیل گزر چکی ہے۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 343 ج 6۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی۔ تفسیر سورة الغاشیہ ص 192 ج 2 و تفسیر الدر المنثور ص 343 ج 6۔ )