Ayahs 87:1–131۔ 13۔ ہجرت سے پہلے بلکہ فتح مکہ تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اور احکام میں شرک کا رواج تھا وہ تو سب کو معلوم ہے اس مکی سورة کے اول میں فرمایا کہ اہل مکہ کی شرک کی باتوں سے اے نبی اللہ کے تم اور تمہارے ساتھی اللہ کی توحید ہر دم ورد زبان رکھو تاکہ ان مشرک اہل مکہ کے کان بھی ذرا توحید کی آواز سے آشنا ہوجائیں اسی واسطے اکثر صحابہ 1 ؎ جب اس آیت کو پڑھا کرتے تھے تو سبحان ربی الاعلیٰ کہا کرتے تھے۔ خلق نسوی کا یہ مطلب ہے کہ انسان حیوان سب کو مناسب اعضا مناسب حالت میں پیدا کیا والذی قدر فھدیٰ کی تفسیر کے طور پر مسند امام احمد صحیح مسلم 2 ؎ وغیرہ میں جو صحابہ کی ایک جماعت سے روایت ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو کچھ دنیا میں قیامت تک ہونے والا ہے اس سب کو دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی سے اندازہ کے طور پر معلوم کرلیا ہے اب جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے اخیر کو اسی راہ سے جا لگتا ہے جو راہ اندازہ کے طور پر علم ازلی میں قرار پا چکی ہے لیکن جس طرح پر بیمار کی موت اور تندرستی تقدیر الٰہی ٹھہر چکی ہے اور پھر شریعت میں ہر بیماری کے علاج کرنے کا بھی حکم ہے اور جس بیمار کا علاج تقدیر الٰہی کے موافق پڑتا ہے وہ بیمار علاج سے تندرست بھی ہوجاتا ہے اسی طرح شریعت میں ہر آدمی کو نیک کام کرنے کا حکم ہے جو شخص علم ازلی میں نیک ٹھہر چکا ہے وہ نیک حالت میں دنیا سے اٹھتا ہے اور جو شخص علم ازلی میں بدقرار پا چکا ہے جیسے مرنے والے بیمار کو کوئی علاج مفید نہیں پڑتا اور اخیر کو وہ بیمار مرجاتا ہے اسی طرح اس بد شخص کو ابتدائے عمر سے یا اخیر عمر میں نصیحت شرعی مفید نہیں پڑتی اور عمر بھر یا آخری عمر میں ایسے بدکام کرکے وہ شخص دنیا سے اٹھ جاتا ہے جس سے اس کی عقبیٰ خراب ہوجاتی ہے بہت سی صحیح حدیثوں میں یہ مطلب تفصیل سے آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اس اندازہ کے موافق کسی فعل کے کرنے پر اللہ نے انسان کو مجبور نہیں کیا ہے لیکن وہ خدا غیب دان کا کیا ہوا اندازہ ہے اس واسطے اپنے اختیار سے انسان جو کچھ کرتا ہے وہ اخیر کو اس اندازہ کے مطابق پڑتا ہے۔ چوپاؤں پر انسان کی طرح کچھ تکلیف شرعی نہیں ہے بلکہ وہ فقط انسان کی ہر طرح کی ضرورت کے لئے دنیا میں پیدا کئے گئے ہیں ان کے کھانے پینے کا انتظام دنیا میں کیا جانا اور اس کے برتاؤ کی سمجھ ان کو دے کر پھر ان کو دنیا میں پیدا کردینا یہی ان کا اندازہ تقدیری تھا اس لئے ان کے چارہ کا ذکر الگ فرمایا۔ گھانس کے پہلے سرسبز اور پھر خشک ہو کر سیاہی مائل اور بالکل کوڑے کے مانند ہوجانے کے تذکرہ میں یہ اشارہ ہے کہ یہی حال دنیا کی تمام چیزوں کا ہے کہ اس کی ہر ایک چیز کا کمال زوال سے خالی نہیں اور جب یہ بات ہے تو دنیا فقط اس لئے نہیں پیدا کی گئی ہے کہ اس کا کمال وزوال بغیر کسی نتیجہ کے ایک تماشے کے طور پر ہو بلکہ دنیا کے بعد اس کا ایک بہت بڑا نتیجہ یہی ہے جس کا نام قیامت ہے۔ اسی کے یہ لوگ منکر اور کم عقلی سے دنیا کی پیدائش کو بغیر نتیجہ کا ایک تماشا ٹھہراتے ہیں۔ طبرانی 1 ؎ تفسیر کلبی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) جب وحی لاتے اور آیات قرآن کو آنحضرت ﷺ کے رو برو پڑھنا شروع کرتے تو حضرت جبرئیل کی قرأت کے ختم ہونے سے پہلے آیت کے کچھ لفظ بھول جانے کے خوف سے آنحضرت ﷺ بھی ادھوری آیت کے لفظوں کو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے اللہ تعالیٰ نے آیت سنقرئک فلاتنسی الاماشاء اللہ نازل فرما کر آنحضرت ﷺ سے وعدہ فرمایا کہ وحی کے لفظوں میں سے جو کچھ آنحضرت ﷺ نہیں بھولیں گے اس وعدہ میں یہ جو فرمایا کہ الاماشاء اللہ اس کا مطلب سورة بقر میں گزر چکا ہے کہ قرآن شریف کی آیتوں کے منسوخ ہوجانے میں ایک صورت یہ بھی ہے کہ دل سے ان آیتوں کے لفظوں کی یاد اڑ جاتی ہے چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں سورة برأت کے برابر ایک سورة صحابہ پڑھا کرتے تھے اب اس میں کا فقط یہ ٹکڑا یاد ہے لوکان لا بن ادم وادیان من مال لتبغی وادیا ثالثا ولا یملاء جو فہ الا التراب حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آنحضرت ﷺ سے یہ وحی کے نہ بھولنے کا وعدہ ان آیتوں کے حق میں ہے جو آیتیں منسوخ نہیں ہوئیں۔ منسوخ آیتوں کے حق میں یہ وعدہ نہیں ہے جن کو الا ماشاء اللہ فرما کر اس وعدہ سے الگ کردیا گیا ہے انہ یعلم الجھر و ما یخفیٰ کا مطلب یہ ہے کہ جن آیتوں کی قرأت اللہ کو دنیا میں باقی رکھنی ہے اور جن کی قرأت باقی نہیں رکھنی ہے یہ سب حال خدا کو معلوم ہے اس لئے اس غیب دان نے الا ماشاء اللہ فرما کر بعضی آیتوں کو اس وعدہ سے الگ کردیا ہے پھر فرمایا اے نبی اللہ کے اس وحی کے لفظوں کو یاد رکھنا اور ان کے موافق لوگوں کو نصیحت کا کرنا ہم تمہارے لئے ایسا آسان کردیں گے جس سے تم کو کوئی دقت باقی نہ رہے گی اور اس نصیحت کا اثر سب لوگوں پر یکساں ہو یہ تمہارا کام نہیں تمہارا کام یہی ہے کہ تم سب کو نصیحت کرتے لے جاؤ۔ تقدیر الٰہی کے موافق جو لوگ راہ راست پر آنے والے ہیں وہ خود راہ راست پر آجائیں گے اور جن کی قسمت میں دوزخ ہے وہ اس نصیحت سے بھاگیں گے اور آخر دوزخ میں جائیں گے اور پھر دوزخ میں جانے کے بعد ان پر یہ مصیبت پڑے گی کہ نہ وہ وہاں مریں گے کہ مر کر چھٹکارا ہوجائے نہ ایسی زیست جئیں گے جس زیست سے ان کو کچھ راحت ملے۔ صحیح 1 ؎ بخاری ومسلم و ترمذی وغیرہ کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اور گزر چیک ہے کہ دوزخ کی آگ کی تیزی دنیا کی آگ سے اونہتر حصے بڑھی ہوئی ہے اس واسطے دوزخ کی آگ کو بڑی آگ فرمایا۔ ثم لا یموت فیھا ولا یحییٰ ان کے حق میں ہے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کے قابل ہیں ورنہ بعض کلمہ گو جنہوں نے نیک عمل کچھ نہیں کئے دوزخ میں مر کر کوئلے ہوجائیں گے اور سب شفاعتوں کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی لاشیں لپ پھر کر دوزخ سے باہر نکالے گا اور نہر حیات میں غوطہ دینے سے وہ لوگ پھر زندہ ہو کر جنت میں جائیں گے چناچہ ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے بہت بڑی حدیث جو بخاری 2 ؎ و مسلم میں ہے اس میں اس کا ذکر ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ النار و انھا مخلوقۃ ص 462 ج 1۔
2 ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص 1107 جلد 2 و صحیح مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ ربہم الخ ص 102 ج 1۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 326 ج 6)
(2 ؎ صحیح مسلم باب کراھۃ الحرص علی الدنیا ص 335 ج 1۔ )
Ayahs 87:14–1914۔ 19۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص توحید پر قائم رہا اور اللہ کی یاد دل میں رکھ کر پانچوں وقت کی نماز اس نے ادا کی اس کے لئے عقبیٰ میں بلاشک بھلائی ہے اللہ کی یاد دل میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عبادت میں دنیا کا دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو۔ بعض علماء نے اللہ کی یاد سے زبانی یاد لے کر وذکر اسم ربہ سے تکبیر تحریمہ کے فرض ہونے کا مطلب نکالا ہے مکی آیتوں میں فقط توحید اور نماز کا ذکر اس واسطے ہے کہ روزہ حج زکوٰۃ یہ چیزیں ہجرت کے بعد مدینہ کے قیام میں فرض ہوئی ہیں قد افلح من تزکی کی تفسیر بعض مفسروں نے صدقہ فطر سے جو کی ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان آیتوں میں سے جن کا نزول عمل سے پہلے ہے جیسے آیت و انت حل بھذا البلد کا نزول مکہ میں ہجرت سے پہلے ہوا اور اس کے موافق مکہ میں قتل اور قید کا حلال ہونا فتح مکہ کے وقت ہوا۔ پھر فرمایا کہ عقبیٰ کی بھلائی کے کاموں میں اکثر لوگ کوتاہی اس لئے کرتے ہیں کہ دنیا کے مشغلوں کو چھوڑ کر عقبیٰ کے کاموں میں مصروف ہونا انکو شاق گزرتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ دنیا کے مشغلوں کو نہ چھوڑیں تو نہ چھوڑیں ‘ ایک دن وہ دنیا کے مشغلے خود ان کو چھوڑ دیں گے کیونکہ دنیا اور اس کے مشغلے ان میں کوئی باقی رہنے والی چیز نہیں ہے اور عقبیٰ کے کاموں کو یہ چھوڑ بیٹھے ہیں مگر عقبیٰ ان کو نہیں چھوڑنے کی۔ کس لئے کہ وہ باقی رہنے والی چیز ہے۔ مسند امام احمد صحیح 1 ؎ ابن حبان مستدرک حاکم میں ابودردا سے روایت ہے جس کا حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر روز دو فرشتے یہ لفظ پکار کر کہا کرتے ہیں کہ اے لوگو خدا کے کاموں کی طرف متوجہ رہو۔ دنیا کی بقدر کفایت معیشت اس مال و دولت سے بہت بہتر ہے جو عقبیٰ سے غافل کر دے ان فرشتوں کی آواز کو سوا جن اور انسان کے اور اللہ کی سب مخلوقات روز سنا کرتی ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎ قد افلح من تزکی سے والا خرۃ خیر وابقی تک ایسا مضمون ہے کہ اس کی ترغیب خدا کی طرف سے ابراہیم (علیہ السلام) کے دس صحیفوں اور توراۃ میں بھی موجود ہے۔
(1 ؎ الترغیب والترہیب الترغیب فی الفراغ للعبادۃ الخ ص 203 ج 4)
(2 ؎ ایضاً )