Ayahs 86:1–101۔ 10۔ طارق رات کو آنے والی چیز کو کہتے ہیں صبح کا تارا اور تاروں کی طرح شام سے نہیں نکلتا بلکہ رات کا بڑا حصہ گزر جانے کے بعد نکلتا ہے اس واسطے اس کو بھی طارق کہتے ہیں ثاقب چمک دار چیز کو کہتے ہیں یہ تارا خوب روشن اور چمک دار ہوتا ہے اس لئے اس کو ثاقب فرمایا اس قسم کے بعد یہ بات فرمائی کہ ہر جاندار کے لئے اللہ کی طرف سے محافظ اور نگہبان مقرر ہیں سورة رعد میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ حفاظت اور نیکی بدی لکھنے کے لئے رات اور دن کے الگ الگ فرشتے ہر انسان پر خدا کی طرف سے مقرر ہیں صبح کی نماز کے وقت دن کو تعینات رہنے والے فرشتے اور عصر کے وقت رات کو تعینات رہنے والے فرشتے چوکی بدلوا دیتے ہیں اور ہر وقت انسان کے تمام جسم کی ہر طرح کی آفت سے اس وقت تک آدمی کی حفاظت کرتے ہیں جب تک تقدیری کوئی آفت پیش نہ آئے۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة رعد کی تفسیر میں ہے اہل مکہ میں ایک شخص بڑا شہ زور ابوالاسد تھا اونٹ کی کھال پر جب وہ کھڑا ہوجاتا تو دس دس آدمی اس کھال کو پکڑ کر کھینچتے تھے یہاں تک کہ وہ کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی تھی مگر وہ اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرتا تھا سورة مدثر میں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ دوزخ پر انیس فرشتے تعینات ہیں جن کو دوزخ کا خازن کہتے ہیں تو ابو الاسد نے کہا تھا کہ ان میں سے دس کو میں اکیلا کافی ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کی آیت نازل فرما کر فرمایا کہ انسان کی کیا حقیقت ہے جو اللہ کے فرشتوں سے مقابلہ کرے گا ایک بوند پانی سے انسان پیدا ہوا اور پھر جب شہ زور کہلایا تو ہر وقت اللہ کے فرشتے ہر طرح کی آفت سے اس کی نگہبانی میں لگے رہتے ہیں اس پر اس کی یہ جرأت کہ اللہ کے فرشتوں سے مقابلہ کر دعویٰ کرتا ہے۔ ترائب عورت کی چھاتیوں کے بیچ میں جو جگہ ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں انہ علی رجعہ لقادر کی تفسیر علماء مفسرین 2 ؎ نے دو طرح کی ہے۔ ایک تو یہ کہ جن اعضاء سے اللہ تعالیٰ نے منی کو نکالا ہے پھر ان اعضاء میں ہی منی کو پھیر دینا اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ چاہے تو اس کو پھر ان اعضاء میں پھیر دے اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس اللہ تعالیٰ نے پہلی دفعہ انسان کو پانی جیسی پتلی چیز سے دنیا میں سب کی آنکھوں کے سامنے پیدا کیا ہے حشر کے دن مٹی سے اس انسان کا پیدا کرنا بھی اس کی قدرت میں ہے منکرین حشر کی عقل ناقص ہے ورنہ عقل کا یہ کام نہیں ہے کہ پانی جیسی پتلی چیز سے انسان کے پتلے کے بن جانے کو دیکھ کر مٹی جیسی چیز سے اس پتلے کے بن جانے کا انکار کرے۔ پہلی تفسیر اگرچہ مجاہد کی ہے اور اوپر گزرچکا ہے کہ مجاہد کی تفسیر کے مقابلہ میں سلف میں سے دوسرے تابعین کا قول کم لیا جاتا ہے لیکن قرآن شریف کے آگے کی آیت میں قیامت کا ذکر تھا اور اس ذکر سے دوسری تفسیر کو زیادہ مناسبت تھی اس مناسبت کے سبب سے ابوجعفر ابن جریر 3 ؎ اور مفسروں نے دوسری تفسیر کو یہی صحیح قراردیا ہے یہ دوسری تفسیر ضحاک کے قول کے موافق ہے۔ اگرچہ ضحاک بن مزاحم کے حضرت عبد اللہ بن عباس سے ملاقات کے ہونے اور ان سے تفسیر قرآن کے سیکھنے میں علماء کو کلام ہے مگر سعید بن جبیر سے ضحاک کی تفسیر کے حاصل کرنے میں کسی کو کلام نہیں۔ اس واسطے امام احمد بن معین اور ابوذرعہ وغیرہ نے ضحاک کو ثقہ اور فن تفسر میں بڑا معتبر قرار دیا ہے۔
(1 ؎ صحیح بخایر باب قول اللہ تعرج الملئکۃ والروح الیہ الایۃ ص 1105 ج 2 و صحیح مسلم باب فصل صلاتی الصبح والعصر الخ ص 227 ج 1)
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 498 ج 4۔ )
(3 ؎ ایضا۔ )
Ayahs 86:11–1711۔ 17۔ امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ رجع سے مراد بارش ہے چناچہ حاکم کی روایت میں صحیح سند سے یہ قول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا ثابت ہوا ہے۔ اسی واسطے امام بخاری نے صحیح 1 ؎ بخاری کی کتاب التفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد کی روایت سے اس قول کو لیا ہے ترجمہ میں چکر مارنے والا آسمان جو ترجمہ کیا گیا ہے سلف میں سے یہ قول عبد الرحمن بن زید بن اسلم تبع تابعی کا ہے ان عبد الرحمن نے تفسیر کی روایات اپنے باپ زید بن اسلم کوفی سے لی ہیں یہ زید بن اسلم مشہور مفسر اہل مدینہ میں سے ہیں لیکن عبد الرحمن کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے غرض یہ قول پہلے قول کے مرتبہ کا نہیں ہے اسی واسطے اکثر تفسیروں اور فارسی اور اردو لفظی ترجمہ میں اس قول کو نہیں لیا گیا پہلے قول کو لیا گیا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق صدع کی تفسیر زمین کا وہ شق ہونا ہے جو روئیدگی کے وقت ہوتا ہے علم ہیئت کی کتابوں میں اگرچہ زمین کو گول لکھا ہے لیکن شریعت کی کتابوں میں زمین چوکھونٹی ثابت 2 ؎ ہوئی ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ بہت بڑے دائرہ میں مرکز سے محیط تک جو میدان ہوتا ہے اس میں گولائی باقی نہیں رہتی اسی واسطے اہل ہیئت کا ساتوں اقلیم کی مدنظر تک کی زمین کو گول کہنا صحیح نہیں ہے اوپر کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن دنیا میں نیک راستہ بتانے اور بدی سے روکنے اور عقبیٰ میں جزا و سزا کی خبر سنانے کا ایک فیصلہ قطعی ہے عرب کے اشعار یا قصے کہانیوں کی طرح اس میں کوئی بات ہنسی دل لگی کی نہیں ہے اس لئے یہ لوگ اگر قرآن کو جھٹلائیں تو تھوڑے دنوں تک ان سے درگزر کی جائے کوئی مکر و فریب تو ان لوگوں کا قرآن سے روکنے میں اللہ کی تدبیر کے آگے نہیں چل سکتا۔ بلکہ تھوڑے دنوں کے بعد اللہ کی تدبیر کا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی حیات میں ہی کچھ قرآن کے مخالف لوگ ذلت اور خواری سے ہلاک ہوگئے اور اکثر قرآن کے حامی بن گئے۔
(1 ؎ صحیح بخاری۔ تفسیر سورة الطارق ص 736 ج 2۔ )
(2 ؎ یہ بات محل نظر ہے۔ )