85. Surah Al-Burooj

البروجThe Constellations · 22 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 85:1–10

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ Open ayah 85:1 in the Quran reader

آسمان کی قسم جس میں برج ہیں

وَ الْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِۙ Open ayah 85:2 in the Quran reader

اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے

وَ شَاهِدٍ وَّ مَشْهُوْدٍؕ Open ayah 85:3 in the Quran reader

اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِۙ Open ayah 85:4 in the Quran reader

کہ خندقوں (کے کھودنے) والے ہلاک کر دئیے گئے

النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِۙ Open ayah 85:5 in the Quran reader

(یعنی) آگ (کی خندقیں) جس کا ایندھن (جھونک رکھا) تھا

اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ Open ayah 85:6 in the Quran reader

جبکہ وہ ان (کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے

وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌؕ Open ayah 85:7 in the Quran reader

اور جو (سختیاں) اہل ایمان پر کر رہے تھے ان کو سامنے دیکھ رہے تھے

وَ مَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 85:8 in the Quran reader

ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے جو غالب (اور) قابل ستائش ہے

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌؕ Open ayah 85:9 in the Quran reader

وہی ہے جس کی آسمانوں اور زمین میں بادشاہت ہے۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ Open ayah 85:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا

1۔ 10۔ ان سات تاروں اور بارہ برجوں کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ آسمان کے بارہ حصے ہیں ان کے ہر ایک حصہ کو برج کہتے ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ زہرہ ‘ مریخ ‘ عطارد ‘ مشتری ‘ زحل ‘ تاروں کا دورہ جب ان برجوں میں ہوتا ہے تو اس سے مہینہ سال کی گنتی ‘ تبدیلی موسم ‘ طرح طرح کی اللہ کی قدرتیں نمودار ہوتی ہیں۔ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس آیت میں یوم موعہد قیامت کا نام ہے اور یوم مشھود عرفہ اور شاھد جمعہ کا اس حدیث کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس باب میں اور بھی متفرق روایتیں ہیں جن سے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کی تقویت ہوجاتی ہے۔ علاوہ اس کے جہاں موسیٰ بن عبید کی روایت عبد اللہ بن دینار سے ہو وہاں اس میں ضعف زیادہ مشہور ہے ترمذی کی روایت میں عبد اللہ بن دینار نہیں ہیں اسی واسطے ترمذی نے اس روایت کے بعد موسیٰ بن عبیدہ کی کسی قدر توثیق کی غرض سے یہ کہا ہے کہ یہ موسیٰ ایسے شخص ہیں جن سے شعبہ اور سفیان ثوری جیسے لوگوں نے روایت جائز رکھی ہے۔ 1 ؎ اوپر کی چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ایک بادشاہ کا قصہ لوگوں کو آگ میں جلانے کا بیان فرمایا ہے اس قصہ کی روایت صحیح 2 ؎ مسلم ‘ ترمذی ‘ نسانی وغیرہ میں صہیب کے حوالہ سے ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ اس بادشاہ نے اس زمانہ کے اہل ایمان سے کہا کہ تم اپنے دین سے پھر جاؤ جب ان اہل ایمان نے اس بادشاہ کی بات کو نہ مانا تو اس بادشاہ نے گلی کوچوں میں کھائیاں کھدوا کر ان میں خوب آگ دہکا دی اور بہت سے آدمیوں کو اس آگ میں ڈال کر جلا دیا۔ تفسیر کلبی وغیرہ میں ہے کہ آخر کو وہ آگ اس بادشاہ اور اس کے ساتھیوں پر پلٹ گئی اور وہ سب جل کر خاک ہوگئے متقدمین مفسرین کی تفسیروں میں ایک بہت بڑی تفسیر کلبی ہے ابن عدی نے اس تفسیر کی تعریف کی ہے اور بعض علماء نے تفسیر مقاتل سے اس تفسیر کلبی کو اچھا کہا ہے تفسیر مقاتل بن سلیمان میں جس تفسیر کو امام معتبر کہا کرتے تھے یہ لکھا ہے کہ اگرچہ تاریخ کی کتابوں کی رو سے دنیا میں تین بت پرست بادشاہوں نے لوگوں کو آگ میں جلایا ہے فارس کے ملک میں بخت نصر نے ‘ شام کے ملک میں انطنانوس رومی نے ‘ یمن کے ملک میں یوسف ذونواس نے ‘ لیکن مکہ کے لوگوں میں یمن کا قصہ زیادہ مشہور تھا۔ اس واسطے یہ اسی قصہ کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے ابتدائے اسلام میں مشرک لوگ مکہ میں اہل اسلام کو بڑی بڑی تکلیفیں دیتے تھے اللہ تعالیٰ ان اس قصہ کو ذکر فرما کر اہل اسلام کی یہ تسکین فرمائی کہ دنیا امتحان کی جگہ ہے کچھ تم پر یہ تکلیف نئی نہیں ہے۔ ہر زمانہ کے پابند شریعت لوگوں کو مخالف لوگوں کے ہاتھ سے تکلیف پہنچ چکی ہے لیکن اخیر کو اہل حق کا بول بالا ہوا ہے زمانہ امتحان تک ذرا صبر درکار ہے پھر آخیر کو ہمیشہ کی عادت الٰہی کے موافق اہل حق کا غلبہ ہوگا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اخیر کو مکہ میں جو کچھ اسلام پھیلا اس کا اثر آج تک موجود ہے اس قصہ کی روایت کے بعد حضرت حسن بصری 2 ؎ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کی رحمت کا حال اس قصہ سے معلوم ہوسکتا ہے جن بت پرستوں نے اللہ تعالیٰ کے دوستوں کو شہید کیا ‘ اللہ تعالیٰ کو ان بت پرستوں کی توبہ قبول کرنے میں کچھ دریغ نہ تھا۔ اسی واسطے فرمایا ثم لم یتوبوا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ لوگ توبہ کرتے تو فوراً اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلیتا۔ اس توبہ کے ذکر سے ان علماء کے مذہب کی تائید ہوتی ہے جو قاتل کی توبہ قبول ہونے کے قائل ہیں۔ (1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة البروج ص 191 ج 2) (2 ؎ صحیح مسلم باب قصۃ الصحب الاخدود الخ ص 415 ج 2 و جامع ترمذی۔ تفسیر سورة البروج ص 192 ج 2۔ ) 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 495 ج 4 2 ؎ ایضاً ص 396 ج 4۔
Ayahs 85:11–22

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 85:11 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 85:12 in the Quran reader

بیشک تمہارے پروردگار کی پکڑ بہت سخت ہے

اِنَّهٗ هُوَ یُبْدِئُ وَ یُعِیْدُۚ Open ayah 85:13 in the Quran reader

وہ پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ (زندہ) کرے گا

وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ Open ayah 85:14 in the Quran reader

اور وہ بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے

ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُۙ Open ayah 85:15 in the Quran reader

عرش کا مالک بڑی شان والا

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ Open ayah 85:16 in the Quran reader

جو چاہتا ہے کردیتا ہے

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ Open ayah 85:17 in the Quran reader

بھلا تم کو لشکروں کا حال معلوم ہوا ہے

فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ Open ayah 85:18 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ثمود کا

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍۙ Open ayah 85:19 in the Quran reader

لیکن کافر (جان بوجھ کر) تکذیب میں (گرفتار) ہیں

وَّ اللّٰهُ مِنْ وَّرَآئِهِمْ مُّحِیْطٌۚ Open ayah 85:20 in the Quran reader

اور خدا (بھی) ان کو گردا گرد سے گھیرے ہوئے ہے

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ Open ayah 85:21 in the Quran reader

(یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ Open ayah 85:22 in the Quran reader

لوح محفوظ میں (لکھا ہوا)

11۔ 22۔ اوپر ان اہل ایمان کا ذکر تھا جو دنیا میں ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے آگ میں ڈال کر جلائے گئے تھے ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ نیک لوگوں کو اگر دنیا میں کچھ تکلیف ہوتی ہے تو وہ چند روزہ ہے پھر اس تکلیف پر صبر کے اجر میں عقبیٰ ان کے لئے بڑی راحت کی جگہ ہے مکہ کے مشرک لوگ مکہ کے اہل ایمان کو ہجرت سے پہلے بہت ستاتے تھے اس واسطے ان اہل ایمان کی تسکین کے لئے فرمایا کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وقت مقررہ کی دیر ہے گھر اگر مکہ کے یہ سرکش مشرک باز نہ آئے تو ان میں سے وقت مقررہ تک جو زندہ رہے گا وہ دنیا میں بھی اپنی کرتوت کا خمیازہ بھگت لے گا اور جو لوگ وقت مقررہ سے پہلے دنیا سے اٹھ گئے تو جس اللہ نے ان سب کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے وہ وقت مقررہ پر دوبارہ ان سب کو پیدا کرکے ان کو ان کے کرتوت کا پورا مزہ چکھا دئے گا کیونکہ وہ جو چاہے سو کرسکتا ہے اس کے ارادہ کو کوئی روک نہیں سکتا یہ جو فرمایا تھا کہ اللہ کی پکڑ سخت ہے اس کے دل میں جم جانے کے لئے ثمود و فرعون کے دو قصے جو عرب میں زیادہ مشہور ہیں وہ اہل مکہ کو یاد دلائے تاکہ ان دو قصوں سے وہ عبرت پکڑیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کو جو جھٹلاتے ہیں تو یہ یاد رکھیں کہ اللہ کی قدرت ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے وہ جب چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے پھر فرمایا کہ ان کا کلام الٰہی کو جھٹلانا اگر اس خیال سے ہے کہ وہ کلام الٰہی نہیں ہے تو یہ خیال انکا غلط ہے بلاشک یہ اللہ کا کلام ہے جس کو اس نے لوح محفوظ سے اپنے رسول پر اتارا ہے اور اس کی دلیل ان لوگوں کو پہلے ہی سمجھا دی گئی ہے کہ اگر تم لوگ اس کے کلام الٰہی ہونے میں کچھ شبہ رکھتے ہو تو تم بھی کوئی ٹکڑا اس جیسا بنا لو جب یہ بات ان لوگوں سے نہیں ہوسکتی تو پھر اس کے کلام الٰہی ہونے میں شک و شبہ کا کوئی موقع باقی نہیں رہا۔