Ayahs 84:1–151۔ 15۔ یہ دوسرے وقت کا آسمان کا پھٹنا ہے کیونکہ اس کے ساتھ زمین سے مردوں کے اٹھنے کا ذکر ہے اور نئی زمین کے پھیلانے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں عمارت ‘ پہاڑ ‘ ٹیلہ کوئی چیز نہ ہوگی اس سرے سے اس سرے تک فقط چورس زمین ہے خوب پھیلی ہوئی ہوگی۔ زمین میں جو کچھ ہے اس کے باہر آجانے کا مطلب اگر ان خزانوں کے زمین سے باہر آجانے کا لیا جائے جو قیامت کے قریب زلزلہ کے سبب سے نکل آئیں گے۔ جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے تو پھر آسمان کا یہ پھٹنا اول صور کے وقت کا ہوسکتا ہے۔ کدح کے معنی کسی کام میں لگنے اور اس کام کے کرنے میں کوشش کرنے کے ہیں۔ قیامت کا ذکر کے بعد انسان کے عمل کا ذکر فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ زیست بھر دنیا میں نیک و بد جو کچھ ہر شخص کرے گا جس وقت قیامت قائم ہوگی تو اس کا وہ سب عمل اس کے سامنے آجائے گا۔ قیامت کے دن نیک و بدعمل کے سامنے آنے کا مطلب یہ ہے کہ اس دن ہر شخص کو اس کے ہر طرح کے عمل کی جزا و سزا مل جائے گی۔ ورنہ نیک و بدعمل تو ہر شخص کو قبر میں رکھتے ہی اس کے سامنے آجاتا ہے چناچہ جس براء بن عازب کی حدیث کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد نیک شخص کے پاس اس کی قبر میں ایک آدمی اچھی صورت کا اچھا لباس پہنے ہوئے آتا ہے اور مردہ سے کہتا ہے میں تیرا نیک عمل ہوں۔ اسی طرح بد آدمی کے مردہ کی قبر میں بد شکل برے لباس کا ایک شخص اس مردہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے میں تیرا بد عمل ہوں اس کے بعد نیک آدمی قیامت کے جلدی آنے اور اپنے نیک عمل کی جزا پانے کی تمنا کرتا رہتا ہے اور بد آدمی قیامت کے نہ آنے اور اپنے بد عمل کی سزا سے بچ جانے کی آرزو میں لگا رہتا ہے۔ آسان حساب کی بابت مسند امام احمد 3 ؎ مستدرک حاکم ‘ تفسیر عبد بن حمید تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ‘ میں نے آنحضرت ﷺ کو جب یہ دعا مانگتے ہوئے دیکھا اللھم حاسنی حساباً یسیرا تو میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت آسانی حساب ہوجانے کی صورت قیامت کے دن کیا ہوگی آنحضرت ﷺ نے فرمایا آسانی سے حساب ہوجانے کی صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کے نامہ اعمال پر فقط نظر ڈالے گا اور در گزر فرما کر حساب میں زیادہ کرید نہ فرمائے گا کیونکہ جس شخص کے حساب میں کرید نکالی جائے گی وہ ضرور عذاب کا مستحق ٹھہرے گا صحیحین 1 ؎ وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے ایک اور روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس آسانی سے حساب کا اس آیت میں ذکر ہے وہ فقط یہی ہے کہ نامہ اعمال پر سرسری طور سے ایک نظر ڈالی جائے گی ورنہ کرید سے اصلی حساب جس شخص کا ہوگا وہ ضرور عذاب کا مستحق ٹھہر جائے گا۔ بیہقی مستدرک 2 ؎ حاکم مسند بزار طبرانی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص میں یہ تین خصلتیں ہوں گی قیامت کے دن اس کا حساب آسانی سے ہوگا ایک بدمزاج رشتہ داروں سے سلوک اور صلہ رحمی کا کرنا دوسرے جو برائی سے اپنے سے پیش آئے اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا۔ تیسرے اگر کوئی ظلم زیادتی کرے تو اس کو معاف کردینا۔ اللہ تعالیٰ کی جن بندوں پر نظر عنایت ہوگی تو بندوں کے حساب میں آسانی کی صورت یہ بھی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرمائے گا۔ صحیحین 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث اس پر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعض اللہ کے بندے اپنے نامہ اعمال میں جب قیامت کے دن اپنے گناہ لکھے ہوئے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے رو برو ان گناہوں کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح دنیا میں تمہارے گناہوں کو میں نے پوشیدہ رکھا تھا اور تم کو رسوا نہیں کیا تھا آج بھی میں تم کو رسوا نہیں کرتا اور تمہارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں ایک صورت آسانی حساب کی یہ بھی ہوگی کہ تھوڑی سی نیکی کا حساب اللہ تعالیٰ بہت سا عنایت فرمائے گا جس سے بدی کا پلڑا ہلکا ہوجائے گا اور نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو کر حساب میں کچھ دقت باقی نہ رہے گی حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی ترمذی 4 ؎ اور ابن ماجہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں کلمہ توحید کے ثواب کے پلڑا کے بھاری ہوجانے کا ذکر ہے ایک آسانی حساب کی صورت یہ ہوگی کہ نامہ اعمال میں جو گناہ لکھے ہوئے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نیکیوں کے ساتھ بدل دے گا جس کا ذکر صحیح 1 ؎ مسلم کی حضرت ابوذر کی حدیث میں اوپر گزرچکا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ شرک ظاہری اور شرک باطنی سے جس کو ریا کاری کہتے ہیں انسان کو بچنا چاہئے پھر اگر آدمی گناہ گار بھی بغیر توبہ کے مرگیا ہے تو اللہ کی ذات سے اللہ کی رحمت اور آسانی حساب کی توقع ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت ابوذر کی روایت سے بہت بڑی حدیث قدسی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ قیامت کے دن جو شخص اس طرح حساب کے لئے میرے رو برو کھڑا ہوگا کہ اس کے نامہ اعمال میں کسی طرح کا شرک نہ ہوگا تو اگر ایسے شخص کے گناہ اس قدر بھی ہوں گے کہ ان گناہوں سے ساری زمین بھر جائے جب بھی مجھ کو ان گناہوں کے بخش دینے میں کچھ دریغ نہیں ہے یہ ان لوگوں کا ذکر تھا جن کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اب دوسری آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کا اعمال نامہ پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں کہ قیامت کے دن کے حساب و کتاب کے منکر یا اس سے بےفکر تھے ان کے حساب میں طرح طرح کی کرید نکالی جائے گی انجام ان کا دوزخ ہوگا کیونکہ ان کے سب کام اللہ کی نظر میں تھے۔
(1 ؎ صحیح مسلم فصلنی حسر الفرات عن جبل منذھب ص 390 ج 2)
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 488 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری۔ باب من نوتش الحساب عذب ص 969 ج 2)
(2 ؎ الترغیب والترھیب۔ الترغیب فی صلۃ الرحم وان قطعت الخ ص 561 جلد 3)
(3 ؎ صحیح بخاری باب ستر المومن علیٰ نفسہ ص 896 ج 2)
(4 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فیمن یموت وھو یشھد ان لا الہ الا اللہ ص 103 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب فضل الذکر والدعاء والتقدب الی اللہ تعالیٰ ص 443 ج 2)
(2 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص 319 ج 2۔ )
Ayahs 84:16–2516۔ 25۔ اکثر علماء کے قول کے موافق شفق وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب سے عشاء کے وقت تک آسمان پر رہتی ہے وسق کے معنی چند چیزوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رات ایسی چیز ہے جس میں سب چیزیں ایک جگہ ہوجاتی ہیں دن بھر چل پھر کے آدمی رات کو ایک جگہ ٹھکانے سے آن کر سو جاتا ہے جانور بسیرا لیتے ہیں۔ الساق کے معنی برابر ہونے کے ہیں۔ چودھویں رات کا چاند خوب بھرپور اور برابر ہوتا ہے کوئی کونا اس کا دبا ہوا نہیں ہوتا اس لئے چاند کے حق میں یہ لفظ فرمایا ان قسموں کے بعد فرمایا اے لوگو تم کو کھنڈ پر کھنڈ چڑھنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ہمیشہ نہیں زندہ رہو گے بلکہ موت اور موت کے بعد کی سختیاں تم کو جھیلنی ہیں معتبر سند سے مسند امام احمد اور طبرانی میں انس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگرچہ انسان کے لئے موت سخت چیز ہے لیکن موت کے بعد جو چیزیں اس کو پیش آنے والی ہیں وہ موت سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موت کی سختی سے آدمی کی جان نکل جاتی ہے عذاب قبر کی سختی سے حشر و قیامت کی سختی میں یہ بھی نہیں ہے کہ آدمی مر کر اس سختی سے چھوٹ جائے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کو جب یہ سختیاں جھلینی ہیں اور یہ سختیاں بغیر اطاعت خدا اور خدا کے رسول کے کسی طرح آسان نہیں ہوسکتیں تو پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت نہیں کرتے اور جب ان کے رو برو اللہ کا کلام پڑھا جائے تو اس کو دل سے نہیں سنتے اور کلام الٰہی کی تعظیم میں سر نہیں جھکاتے۔ پھر فرمایا بعض تو ان میں اللہ کی فرمانبردار کے ایسے منکر ہیں کہ اللہ کا کلام ماننے کے بجائے الٹا اس کو جھٹلاتے ہیں پھر فرمایا ایسے لوگوں کے دلوں میں جو نافرمانی سمائی ہوئی ہے اللہ اس سے غافل نہیں ہے اس کو سب معلوم ہے اس کے خمیازہ میں وقت مقررہ پر ایسے لوگوں کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا جس طرح کوئی کسی کو بڑی خوش خبری سنتا ہے ہے بجائے کسی دوسری خوش خبری کے خدا کی طرف سے ان کو اس عذاب کی خوش خبری سنا دی جائے ہاں اس فہمایش کے بعد ان میں سے جو لوگ اللہ کی فرمانبرداری قبول کرکے نیک کام کریں گے ان کا بدلہ کہیں مارا نہ جائے گا۔ اجر غیر ممنون کے معنی مفسرین نے اس بدلہ کے کہے ہیں جس میں کسی طرح کی کمی نہ ہو ان آیتوں میں سجدہ کا جو ذکر ہے بعض مفسروں نے تو اس کے معنی وہی اللہ کے کلام کی تعظیم کے لئے ہیں اور بعضوں نے اس کے معنی سجدہ تلاوت کے لئے ہیں سجدہ تلاوت کے سنت یا واجب ہونے میں علماء کا اختلاف ہے حنفی مذہب کی فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ سورة حج کے دوسرے سجدہ کے سوا سجدہ کی جو آیت پڑھی جائے تلاوت کرنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ سننے والے میں خواہ وہ شخص جو قرآن شریف کے سننے کے ارادہ سے وہاں موجود ہو خواہ وہ شخص جو بغیر ارادہ کے وہاں آگیا ہو اور آئمہ فقہ و حدیث اس کے مخالف ہیں اور تلاوت کے سجدہ کو سنت کہتے ہیں اس سبب سے کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ بن عمر کی جو روایتیں ہیں ان سے تلاوت کے سجدہ کو سنت کہتے ہیں اس سبب سے کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عمر اور عبد اللہ بن عمر کی جو روایتیں ہیں ان سے تلاوت کے سجدہ کی زیادہ تاکید ثابت نہیں ہوتی۔ حضرت عمر ؓ کی حدیث کا حاصل تو یہ 1 ؎ ہے کہ ایک جمعہ کو سورة نحل پڑھ کر حضرت عمر ؓ نے سجدہ کیا اور پھر دوسرے جمعہ کو سورة نحل پڑھی اور سجدہ نہیں کیا اور فرمایا کہ جس کسی نے سجدہ کیا تو ٹھیک ہے اور جس کسی نے سجدہ نہیں کیا تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث کا حاصل 2 ؎ یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے تلاوت کا سجدہ فرض نہیں کیا ہے حنفی مذہب کے علماء نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ اس حدیث میں فرض کی نفی کی گئی ہے اور فرض کی نفی سے واجب کی نفی لازم نہیں آتی اور مذہب کے علماء نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ فرض کے علاوہ اصطلاحی طور پر حنفی مذہب میں واجب جو نکالا گیا ہے یہ واجب صحابہ کے زمانہ میں نہیں تھا پھر کسی صحابی کے قول سے اس واجب کا مطلب نکالنا کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتا حضرت عمر ؓ کی حدیث کا کوئی جواب کسی حنفی مذہب کی فقہ کی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر اور شعبی کا قول یہ ہے کہ تلاوت کا سجدہ بغیر وضو بھی جائز ہے۔ 3 ؎
1 ؎ صحیح بخاری باب من رای ان اللہ عز و جل لم یوجب السجود ص 147 ج 1
2 ؎ صحیح بخاری باب من رای ان اللہ عز و جل لم یوجب السجود الخ 147 ج 1۔
3 ؎ صحیح بخاری باب سجود المسلمین مع المشرکین الخ ص 146 ج 1۔