89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

فجر کی قسم

یہ پوری سورت مکی ہے اس میں تیس آیات اور ایک سو انتالیس کلمات اور پانچ سو ستانوے حروف ہیں۔
Ayahs 89:2–4

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت اور طاق کی

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب جانے لگے

(41) قسم ہے فجر کی، یا دن کی روشنی کی، یا پورے دن کی اور ذی الحجہ کی پہلی دس تاریخوں کی، اور یوم عرفہ اور یوم النحر کی، اور یوم النحر کے بعد والے تین دن کی، یا یہ کہ قسم ہے شفع نمازوں کیا جیسا کہ صبح، ظہر، عصر، عشاء اور وتر سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ ان مزدلفہ کی رات کی جب وہ چلنے لگے کہا گیا ہے کہ اس رات میں آدمی آتے جاتے رہتے ہیں۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

(اور) بیشک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں

اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کی قسمیں کھا کر فرماتے ہیں کہ اے محمد ﷺ آپ کا رب راستہ کی اور راستہ پر چلنے والوں کی بڑی گھات میں ہے کیا ان باتوں میں عقل مند کے لیے کافی قسم بھی ہے
Ayah 89:6

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

(کافروں کو ضرور عذاب ہوگا) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا

اے محمد ﷺ کیا آپ کو بذریعہ قرآن معلوم بھی ہے کہ آپ کے رب نے قوم عاد یعنی ارم بن ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا، کہ ان کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کردیا۔
Ayahs 89:7–8

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے

(87) جن کے قد و قامت ستون جیسے لانبے تھے جن کے برابر زور و قوت میں کوئی نہیں پیدا کیا گیا، یا یہ کہ ارم اس شہر کا نام ہے جو انہوں نے بہت مضبوط بنایا تھا جس میں سونے اور چاندی کے ستون تھے۔ اس کی خوبصورتی میں کوئی شہر اس کے برابر نہیں تھا۔
Ayahs 89:9–12

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی (قری) میں پتھر تراشتے (اور گھر بناتے) تھے

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے

(129) اور قوم ثمود کو کس طرح ہلاک کیا جو وادی قریٰ میں پہاڑ کے پتھروں کو تراشا کرتے تھے اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور میخوں والا اس واسطے نام پڑا کہ وہ جس کو عذاب دیتا تھا تو چار میخوں سے باندھ کر سزا دیتا تاکہ وہ مرجائے چناچہ اپنی بیوی حضرت آسیہ کو اسی طرح اس نے سزا دی تھی، اس نے سرزمین مصر میں کفر اور نافرمانیاں برپا کر رکھی تھیں اور اس میں قتل اور بتوں کی پرستش سے بہت فساد مچا رکھا رکھا تھا۔
Ayahs 89:13–16

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار تاک میں ہے

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے کہ اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب (دوسری طر ح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا

(1613) سو آپ کے رب نے ان پر سخت عذاب نازل کیا، اللہ تعالیٰ ان کی گزر گاہ اور تمام مخلوق کی گزر گاہ پر بڑی گھات میں ہے، یا یہ کہ فرشتے راستوں پر بندوں کو سات مقامات پر روکتے ہیں اور سات خصلتوں کے بارے میں باز پرس کرتے ہیں لیکن کافر یعنی ابی بن خلف یا امیہ بن خلف، جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت بکثرت دے کر اور عیش و شرت عطا کر کے آزماتا ہے تو وہ بولتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی اور جب تنگی اور فاقہ کے ذریعے اس کو آزماتا ہے تو وہ بولتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی اور جب تنگی اور فاقہ کے ذریعے اس کو آزماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر گھٹا دی
Ayahs 89:17–20

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کے مال کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو

(2017) ہرگز ایسا نہیں، نہ میں مال و دولت سے قدر بڑھاتا ہوں اور نہ ان چیزوں کی کمی سے گھٹاتا ہوں، میں تو معرفت و توفیق سے قدر بڑھاتا ہوں اور انکار و ذلت سے گھٹاتا ہوں بلکہ تمہارے زیر پرورش جو یتیم ہیں تم ان کی کچھ قدر اور خاطر نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے پر آمادہ نہیں کرتے تم میراث کا سارا مال کھا جاتے ہو اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو۔
Ayahs 89:21–22

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

تو آج زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کر پشت کردی جائے گی

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار (جلو فرما ہوگا) اور فرشتے قطار باندھ کر آموجود ہوں گے

(2321) ہرگز ایسا نہیں بلکہ جب زمین میں یکے بعد دیگرے زلزلے آئیں گے اور صف بہ صف فرشتے آئیں گے جیسا کہ دنیا میں نمازیوں کی صف ہوتی ہے اس روز جہنم کو محشر کی طرف ستر ہزار لگاموں سے گھسیٹ کر لایا جائے گا اور ہر ایک لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوئے ہوں گے اور اس روز کافر کو یعنی ابی بن خلف یا امیہ بن خلف کو سمجھ آئے گی اس وقت سمجھ اور نصیحت آنے کا موقع کہاں رہے گا۔
Ayahs 89:23–26

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہوگا مگر تنبہ (سے) اسے فائدہ کہاں (مل سکے گا)

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا کاش میں نے اپنی (جادوانی کے لیے) کچھ بھیجا ہوتا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ کوئی ویسا جکڑے گا

(2426) اور تمنا کرے گا کہ کاش میں اس ابدی حیات کے لیے حیات فانیہ میں کچھ کرلیتا اور اس زندگی کے لیے کچھ نیک اعمال بھیج دیتا، سو قیامت کے دن نہ تو اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا نکلے گا اور نہ جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا ہوگا، یا یہ مطلب ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کو عذاب دینے پر غلبہ اور قدرت حاصل ہے کسی کو نہیں ہوسکتی۔
Ayahs 89:27–30

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے اطمینان پانے والی روح !

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

تو میرے (ممتاز) بندوں میں داخل ہوجا

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری بہشت میں داخل ہوجا

(3027) اے عذاب سے اطمینان والی توحید خداوندی کی تصدیق کرنے والی، نعمت خداوندی پر شکر کرنے والی، مصیبتوں پر صبر کرنے والی، قضاء الہی پر راضی ہونے، عطا خداوندی پر قناعت کرنے والی، روح تو ان نعمتوں کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے لیے تیار کر رکھی ہیں، یا اپنے جسم کی طرف جا اس طرح سے کہ تو ثواب خداوندی سے خوش اور اللہ تعالیٰ تیری توحید سے خوش ہو اور پھر ادھر چل کر تو میرے خاص بندوں اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ شان نزول یَا ایَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّهُ الخ ابن ابی حاتم نے بریدہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اور جبیر عن الضحاک کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بئر رومہ کو کون خریدتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے تاکہ اس سے شیریں پانی لیا جاسکے، چناچہ حضرت عثمان ؓ نے اس کو خرید لیا، آپ نے ان سے فرمایا کیا اچھا ہو کہ تم اس کے پانی کو لوگوں کے لیے وقف کردو۔ انہوں نے فرمایا بہت اچھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عثمان ؓ کی فضیلت میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔