Ayahs 89:1–2والفجر۔ ولیال عشر۔
اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم اٹھائی، یہاں پانچ قسمیں ہیں فجر کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قوم کا نقطہ ہے کہ یہاں فجر سے مراد ہر روز دن سے ظلمت کا چھٹ جانا ہے، یہ حضرت علی شیر خدا، ابن زبیر اور حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد تمام دن ہے اس کو فجر سے تعبیر کیا کیونکہ یہ دن کا پہلا جز ہوتا ہے، ابن محصین نے عطیہ سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں اس سے مراد محرم کے دن کی فجر ہے، قتادہ نے بھی اس کی مثل کہا ہے کہ یہ محرم کے پہلے دن کی فجر ہے، اس سے سال شروع ہوتا ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ صبح کی نماز ہے، ابن جریج نے عطاء سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں کہ فجر سے مراد یوم نحر کی صبح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دن کے لیے اس سے پہلی رات بنائی ہے مگر یوم نحر۔ اس کے لیے صرف پہلی یا بعد والی رات نہیں بنائی کیونکہ یوم عرفہ کی دوراتیں ہیں، اس کے قبل والی رات اور اس کے بعد والی رات ہے، جس نے یوم عرفہ کے بعد والی رات میں طلوع فجر تک مقام عرفات میں وقوف کو پالیا تو اس نے حج کو پالیا، یہ مجاہد کا قول ہے، عکرمہ نے کہا، فجر سے مراد مزدلفہ کے دن فجر کا پھوٹنا ہے محمد بن کعب قرظی سے مروی ہے، کہ فجر سے مراد دس دنوں کے آخری دن کی فجر ہے، جب تومزدلفہ سے روانہ ہو، ضحاک نے کہا، ذی الحجہ کی فجر مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنوں کو اس کے ساتھ ملایا ہے ارشاد فرمایا، ولیال عشر، یعنی ذی الحجہ کی دس راتیں، یہ حضرت ابن عباس نے فرمایا، مسروق نے کہا، اس سے وہ دس راتیں مراد ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا، واتممنھا بعشر، الاعراف 142) اور ہم نے انہیں دس کے ساتھ مکمل کردیا۔ یہ سال کے افضل ترین دن ہیں۔
ابوزبیر نے حضرت جابر سے روایت نقل کی ہے، کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، والفجر، ولیال عشر۔ کہا اس سے مراد دسویں ذی الحجہ کی فجر ہے اس قول کی بنیاد پر یہ دس راتیں ہیں کیونکہ یوم نحر کی رات بھی اس میں داخل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے خاص کیا کہ اسے اس آدمی کے لیے وقوف کا وقت بنادیا جس نے یوم عرفہ کو وقوف نہ پایا تھا اسے نکرہ ذکر کیا ہے اسے معرف ذکر نہیں کیا کیونکہ اسے غیر پر فضیلت حاصل ہے اگر اسے معرفہ ذکر کیا جاتا تو یہ اس فضیلت کی حامل نہ ہوتی جو فضیلت نکرہ میں ہوتی ہے تو جن چیزوں کی قسم اٹھا لی گئی ہے ان میں سے اسے نکرہ ذکر کیا کیونکہ اسمیں وہ فضیلت ہے جو غیر میں نہیں، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، یہ رمضان شریف کی آخری دس راتیں ہیں یہ ضحاک نے کہا، حضرت ابن عباس، یمان اور طبری نے کہا، یہ محرم کا پہلا عشرہ ہے جس کا دسواں یوم عاشور ہوتا ہے، حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے کہ وہ اضافت کی صورت میں یہ پڑھتے ولیال عشر، اس سے ان کی مراد دس دنوں کی راتیں ہیں۔
Ayah 89:3والشفع والوتر۔
شفع سے مراد دو اور وتر سے مراد فرد ہے اسمیں اختلاف کیا گیا ہے، حضرت عمران بن حصین سے مرفوع حدیث مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ شفع اور وتر سے مراد نماز ہے نمازوں میں سے کچھ جفت ہیں اور کچھ طاق ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے یوم عرفہ اور شفع سے مراد یوم نحر ہے، یہ حضرت ابن عباس اور عکرمہ کا قول ہے۔ نحاس نے اسے پسند کیا ہے کہا، ابوزبیر کی حضرت جابر سے مروی ہے جو حدیث ہے یہی نبی کریم سے ثابت ہے یہ اسناد کے اعتبار سے عمران بن حصین کی حدیث سے سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔ یوم عرفہ وتر ہے کیونکہ وہ نواں ہے اور یوم نحر شفع ہے کیونکہ وہ دسواں ہے حضرت ابوایوب سے مروی ہے کہ نبی کریم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان والشفع والوتر، کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا، شفع سے مراد یوم عرفہ، اور یوم نحر ہے اور وتر سے مراد یوم نحر کی رات ہے، مجاہد اور حضرت ابن عباس نے بھی یہی کہا، شفع سے مراد اس کی مخلوق ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وخلقکم ازواجا۔ النبائ) اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا بنایا، وتر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، مجاہد سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی سے روایت کرتے ہیں، کہا، ہاں، حضرت ابوسعید خدری سے وہ نبی کریم سے اس کی مثل محمد بن سیرین، مسروق ابوصالح اور قتادہ سے مروی ہے کہا، شفع سے مراد مخلوق ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان، ومن کل شئی خلقنازوجین۔ الذاریات 49) ہم نے ہر شی کے جوڑے بنائے، کفر و ایمان، شقاوت، وسعادت، ہدایت وگمراہی، نوروظلمت، رات ودن، گرمی وسردی، سورج و چاند، موسم گرما، موسم سرما، آسمان و زمین، جن و انسان اور وتر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قل ھواللہ احد، اللہ الصمد۔ اخلاص) کہہ دیجئے وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے وہ بےنیاز ہے، نبی کریم نے ارشاد فرمایا، شفع سے مراد صبح کی نماز اور وتر سے مراد تیسری رکعت ہے حضرت ابن زبیر نے کہا، شفع سے مراد منی کے وہ دن ہیں گیارہویں اور بارھویں اور تیرھویں کا دن وتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ، ومن تاخر فلا اثم علیہ (البقرہ 203) جو دودنوں میں جلدی واپس چلاجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جاس سے تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ضحاک نے کہا، شفع سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں اور وتر سے مراد منی کے تین دن ہیں، یہ عطا کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، شفع اور وتر سے مراد آدم وحوا ہیں کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) تنہا تھے تو انہیں ان کی بیوی کی وجہ سے جفت بنادیا گیا پس وہ طاق کے بعد جفت بن گئے اے ابن ابی نجیح نے روایت کیا ہے قشیری نے اسے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے ایک روایت میں ہے شفع سے مراد حضرت آدم وحوا ہیں اور وتر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، شفع اور وتر سے مراد مخلوق ہیں کیونکہ مخلوق جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے گویا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی قسم اٹھائی، اللہ تعالیٰ اپنے اسماء اور صفات کی قسم اٹھاتا ہے کیونک ہوہ انہیں جانتا ہے وہ اپنے افعال کی قسم اٹھاتا ہے کیونکہ وہ ان پر قادر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وماخلق الذکر والانثی۔ اللیل) اور جو دوسرے مذکر ومونث پیدا کیے، وہ اپنے مفعولوں کی قسم اٹھاتا ہے اس کی صنعت میں عجائب ہیں جس طرح فرمایا والشمس وضحھا۔ الشمس 1) والسماء ومابنھا، والسماء والطارق۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے شفع سے مراد جنت کے درجات ہیں جو آٹھ ہیں وتر سے مراد جہنم کے گڑھے ہیں کیونکہ وہ سات ہیں یہ حسین بن فضل کا قول ہے گویا جنت اور آگ کی قسم اٹھائی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، شفع سے مراد صفا اور مروی ہے اور وتر سے مراد کعبہ ہے مقاتل بن حیان نے کہا، اشفع سے مراد دن اور راتیں ہیں اور وتر سے مراد وہ دن ہے جس کے بعد کوئی رات نہ ہو۔ یہ یوم قیامت ہے سفیان بن عیینہ نے کہا، وتر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے شفع سے مراد بھی وہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، مایکون من نجوی ثلاثہ الاھورابعھم۔ المجادلہ 7) تین افراد میں سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ چوتھا ہوتا ہے ابوبکر وراق نے کہا، شفع سے مراد مخلوقات کے اوصاف کا تضاد ہے عزت، ذلت، قدرت، عجز، قوت، ضعف، علم، جہالت، زندگی، موت، بینائی، اندھاپن، سماعت، بہرپن، گفتگو، گونگاپن اور وتر سے مراد اللہ کی صفات ہیں وہاں عزت تو ہے ذلت نہیں قدرت تو ہے عجز نہیں، قوت تو ہے ضعف نہیں علم تو ہے جہالت نہیں، زندگی تو ہے موت نہیں، بینائی تو ہے اندھاپن نہیں، گفتگو تو ہے گونگا پن نہیں، سماعت تو ہے بہرہ پن نہیں وغیرہ۔
حضرت حسن بصری نے کہا : شفع اور وتر سے تمام اعداد ہیں کیونکہ کوئی بھی عدد ان سے خالی نہیں پس یہ حساب کی قسم اٹھاتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، شفع سے مراد حج اور عمرہ کو ملانا ہے یا حج کے ساتھ عمرہ سے لطف اندوز ہونا ہے یعنی حج قرآن اور حج تمتع، وتر سے مراد حج مفرد ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، شفع سے مراد حیوان ہے کیونک ہوہ مذکر ومونث ہوتا ہے اور وتر سے مراد جماد ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ شفع سے مراد ہے جو چیز بڑھتی ہے اور وتر سے مراد جو چیز نہیں بڑھتی، اس کے لیے بھی کئی اقوال ہیں، حضرت ابن مسعود، آپ کے اصحاب، کسائی، حمزہ اور خلف نے وتر پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے وتر پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں دونوں کا معنی ایک ہی ہے صحاح میں ہے وتر سے مراد فرد ہے اور وتر سے مراد کینہ اور عداوت ہے یہ اہل عالیہ کی لغت ہے جہاں تک اہل حجاز کی لغت کا تعلق ہے وہ ان سے متضاد ہے جہاں تک بنوتمیم کا تعلق ہے دونوں میں کسرہ دیتے ہیں۔
Ayahs 89:4–5واللیل اذا یسر۔ ھل فی ذالک قسم الذی حجر۔
واللیل اذا یسر۔ یہ پانچویں قسم ہے پہلے دس خاص راتوں کی قسم اٹھائی اب عام رات کی قسم اٹھائی، یسر کا معنی ہے جس میں چلا جاتا ہے جسطرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، لیل نائم، نھارصائم، شاعر نے کہا : لقد لمتنا یا ام غیلان فی السری، ونمت ومالیل المطی بنائ۔ اے ام غیلان، تو نے رات کے چلنے میں ہماری ملامت کی تو خود سو گئی اور سواری کی رات نہ سوئی۔ اس معنی میں ہے بل مکراللیل والنھار۔ السبا 34) یہ اکثر علماء معانی کا نقطہ نظر ہے یہی قتبی اور اخفش کا قول ہے اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یسر کا معنی ہے وہ چلا اور گیا، قتادہ اور ابوالعالیہ نے کہا، معنی ہے آیا اور متوجہ ہوا، ابراہیم سے مروی ہے جب وہ قائم ہوگئی عکرمہ، کلبی، مجاہد اور محمد بن کعب نے کہا، اللیل سے مراد خاص کر مزدلفہ کی رات ہے کیونکہ اس رات میں لوگ خصوصا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لیے اکھٹے ہوتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد لیلۃ القدر ہے کیونکہ رحمت اس میں سرایت کرجاتی ہے اور یہ ثواب کی زیادتی کے ساتھ خاص ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے تمام راتوں کا ارادہ کیا ہے میں کہتا ہوں یہی بات زیادہ نمایاں ہے جس طرح پہلے گزرا ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
ابن کثیر، ابن محیصن اور یعقوب نے یسری پڑھا ہے دونوں حالتوں میں یاء کو ثابت رکھا، جس طرح اصل قاعدہ ہے کیونکہ یہ مجزوم نہیں اسمیں یاء ثابت ہے نافع اور ابوعمر و نے وصل کی صورت میں اسے ثابت رکھا ہے اور وقف کی صورت میں اسے حذف کیا ہے اور کسائی سے مروی ہے ابوعبید نے کہا، کسائی ایک دفعہ مصحف کی اتباع میں وصل کی صورت میں یاء کو ثبت کرنے کا کہا کرتے اور وقف میں حذف کا کہا کرتے پھر دونوں حالتوں میں یاء کو حذف کرنے کا قول کیا کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے، یہی اہل شام اور کوفہ کے قراء کی قرات ہے اور ابوعبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے وہ خط کی اتباع کرتے ہیں اور کیونکہ وہ مصحف میں بغیر یاء کے ہے، خلیل نے کہا، اس سے یاء ساقط ہوگی کیونکہ یہ آیات کے سرے ہیں فراء نے کہا، عرب کبھی یاء کو حذف کردیتے ہیں اور کبھی ماقبل کے کسرہ پر اکتفا کرتے ہیں شاعر نے کہا : کفاک کف ماتلیق درھما، جو دا واخری تعط باالسیف الدما۔ تیرے لیے وہ ہاتھ کافی ہے جو سخاوت کے طور پر درہم دیتا ہے اور دوسری دفعہ تلوار کے ذریعے قصاص دیتا ہے اس شعر میں تعط محل استدلال ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، فلان مایلیق درھما من جو دہ فلاں آدمی اپنی سخاوت میں درہم کو نہیں روکتا اور نہ اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے مورج نے کہا، میں نے اخفش سے یسر میں یاء کے اسقاط کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : میں تجھے کوئی جواب نہ دوں گا یہاں تک تو میرے دروازے پر ایک سال گزارے تو میں نے اس کے دروازے پر ایک سال گزارا تو انہوں نے کہا، اللیل لایسری وانما یسری فیہ۔ رات نہیں چلتی بلکہ اس میں چلا جاتا ہے، اسے اصل سے پھیرا گیا ہے جس کو تو اس کی جہت سے پھیرے گا تو اس کو اس کے اعراب سے گھٹا دے گا، کیا تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی طرف نہیں دیکھتا، وماکانت امک بغیک۔ مریم) اسے بغیہ نہیں کہا، کیونکہ اسے باغیۃ سے پھیرا گیا ہے زمخشری نے کہا، یسری کی یاء درمیان کلام میں حذف ہوجاتی ہے کیونکہ حرف کسرہ پر اکتفا کیا جاتا ہے، جہاں تک وقف کا تعلق ہے تو اسے کسرہ کے ساتھ حذف کردیا جاتا ہے۔ یہ تمام اسماء قسم کے ساتھ مجرور ہیں جواب محذوف ہے وہ لیعذبن ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا قول دلالت کرتا ہے، الم ترکیف فعل ربک بعاد۔۔۔ تا۔۔ سوط عذاب۔ الفجر) ابن انباری نے کہا، جواب ان ربک لباالمرصاد۔ ہے مقاتل نے کہا، یہاں ھل ان کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی ان فی ذالک قسما لذی حجر، پس یہاں ھل جواب قسم کے محل میں ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ اس استفہام کے باب سے ہے، جس کا معنی پختہ کرنا ہوتا ہے جس طرح تیرا یہ قول ہے، الم انعم علیک۔ یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب تو نے انعام کیا ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد اس کی تاکیدہوتی ہے جس کے ساتھ قسم اٹھائی کی جائے یا جس پر قسم اٹھائی جائے معنی یہ ہوگا بلکہ دانش مند کے لیے اس میں کفایت ہے اس صورت میں جواب، ان ربک لباالمرصاد۔ ہے یا وہ مضمر محذوف ہے اور لذی حجر کا معنی ہے دانش وعقل والا ہے۔ وکیف یرجی ان تتوب وانما، یرجی من الفتیان من کان ذا حجر۔ تجھ سے توبہ کی امید کیسے کی جاسکتی ہے نوجوانوں میں سے دانش مند سے ایسی امید کی جاسکتی ہے۔ عام مفسرین نے اسی طرح کہا ہے مگر ابومالک نے کہا، لذی حجر، کا معنی ہے لوگوں میں سے پردہ والے کے لیے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، حلم والے کے لیے، پردہ والے کے لیے، سب عقل کے معنی میں ہیں، حجر کا اصل معنی روکنا ہوتا ہے جو اپنے نفس کا مالک ہو اور اسے روکے اسے کہتے ہیں ذوحجر، اس معنی میں حجر ہے کیونکہ وہ اپنی سختی کی وجہ سے محفوظ ہوتا ہے اس معنی میں حجرا الحاکم علی فلان، حاکم نے فلاں کو تصرف سے روک دیا اس وجہ سے حجرہ کو حجرہ کہتے ہیں کیونکہ اس کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کمرہ کی وجہ سے محفوظ ہوتا ہے، فراء نے کہا، عرب کہتے ہیں، ان لذوحجر جب وہ نفس پر غالب اور ضابط ہو گویا اس نے یہ حجرت علی الرجل سے اخذ کیا ہے۔
Ayahs 89:6–7الم ترکیف فعل ربک بعاد۔ ارم ذات العماد۔
الم ترکیف فعل ربک بعاد۔ ارم، ربک سے مراد تیرا مالک اور تیرا خالق ہے، عام قرات عاد ہے، حضرت حسن بصری اور ابوالعالیہ نے بعاد ارم کی صورت میں پڑھا ہے، جس نے مضاف، مضاف الیہ نہیں بنایا اس نے ارم کو اس کا نام بتایا ہے اور غیر منصرف قرار دیا ہے کیونکہ اس نے عاد کو ان کے رب کا نام اور ارم کو قبیلہ کا نام قرار دیا ہے اور ارم کو اس کا بدل یا عطف بیان بنایا ہے جس نے اسے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اس نے اسے ان کی ماں کا لفظ یا ان کے شہر کا نام قرارد یا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی بعاد اھل ارم۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وسئل القریۃ۔ یوسف 82) یہ منصرف نہیں ہوگا خواہ وہ قبیلہ کا نام ہو یا علاقہ ہو کیونکہ تعریف اور تانیث کا خاصہ موجود ہے عام قرات ارم ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے حضرت حسن بصری سے بعاد ارم ہے کہ دونوں اسم مفتوح ہیں اسے بعاد ارم پڑھا گیا ہے یعنی راء کو ساکن اور تخفیف کے ساتھ پڑھا گیا ہے جس طرح بورقکم پڑھا گیا ہے اسے بعاد ارم ذات العماد، اس صورت میں ارم کو ذات العماد کی طرف مضاف کردیا گیا ہے۔ ارم، علم ہے مراد ہوگا عاد کے ساتھ جو اس علم والے ہیں اسے بعاد ارم ذات العماد بھی پڑھا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ستونوں والے کو بوسیدہ بنادیا ہے، مجاہد، ضحاک اور قتادہ نے ارم ہمزہ اور را کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے مجاہد نے کہا : جس نے اسے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس نے انہیں آرام کے ساتھ تشبیہ دی ہے جس کا معنی اعلام ہے اس کا واحد ارم ہے کلام میں تقدیم وتاخیر ہے ای، والفجر وکذا وکذا ان ربک لباالمرصادالم تر۔ یعنی قسم ہے فجر کی اس کی بیشک تیرا رب تاڑرہا ہے کیا تو نے اسے نہیں دیکھا کیا تیرا وہ علم جو اس بارے میں ہے کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ہے تجھے نہیں روکتا یہ دیکھادل کا دیکھا ہے خطاب نبی کریم کو ہے مراد عام ہے، عاد اور ثمود کا امر مشہور تھا کیونکہ یہ عرب علاقوں میں تھے اور جو ثمود آج بھی موجود ہیں فرعون کے معاملہ کو وہ اپنے پڑوسی اہل کتاب سے سنا کرتے تھے اس کے بارے میں اخبار مشہور ہیں اور فرعون کا مالک عرب علاقہ کے ساتھ متصل ہے سورة بروج میں یہ بات پہلے گزرچکی ہے عاد سے مراد قوم عاد ہے۔ شہر بن حوشب نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ قوم عاد کا ایک آدمی پتھر سے دروازے کا ایک پٹ بناتا اگر اس امت کے پانچ سو آدمی جمع ہوجائیں تو اس کو نہ اٹھاسکیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک زمین میں اپنا قدم داخل کرنا چاہتا تو اس میں داخل کردیتا، ارم کے بارے میں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد سام بن نوح ہے یہ حضرت ابن اسحاق کا قول ہے عطاء نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے ابن اسحاق سے یہ بھی مروی ہے کہ عاد، ارم کا بیٹا تھا، اس تعبیر کی صورت میں ارم، عاد کا باپ ہوگا، نسب یوں ہوگا عاد بن ارم بن عوض بن سام بن نوح، پہلے قول کی صورت میں یہ عاد کا دادا ہے، حضرت ابن اسحاق نے کہا، سام بن نوح کی اولاد میں سے عمالقہ، فراعنہ، جبابرہ، اور سرکش اور نافرمان بادشاہ ہوئے مجاہد نے کہا، ارم امتوں میں سے ایک امت ہے ان سے یہ بھی مروی ہے، ارم کا معنی قدیمی ہے یہ ابن نجیح نے روایت کیا ہے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی قوی ہے، قتادہ نے کہا، یہ عاد کا قبیلہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے دوعاد قومیں گزری ہیں پہی عاد ارم تھے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وانہ اھلک عاد الاولی، النجم) اس نے پہلی عاد کو ہلاک کیا بعد والی کو عاد کا نام دیا گیا ہے جس کا نسب یہ تھا عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح جس طرح بنی ہاشم کو ہاشم کہتے ہیں پھر ان میں سے پہلوں کو عاد اولی اور ارم کہتے ہیں ان کو یہ نام ان کے جداعلی کی وجہ سے دیا گیا اور بعد والوں کو عادا خیرہ کا نام دیا گیا، ابن رقیات نے کہا : مجدا تلیدا بناہ اولھم ادرک عادا وقبلہ ارما۔ پرانی بزرگی جسے ان کے بزرگوں نے بنایا تھا انہوں نے عاد اور ان سے قبل ارم کو پالیا۔ معمر نے کہا، ارم پر عاد اور ثمود جمع ہوتے ہیں جس طرح یہ کہا جاتا ہے، عاد ارم، ثمود ارم، قبائل ارم کی طرف منسوب ہوتے۔
ذات العماد، التی لم یخلق مثلھافی البلاد۔ علاء کی روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، ان میں سے ایک آدمی کا قد پانچ سو ہاتھ ہوتا اور ان میں سے چھوٹے قد والا تین سو ہاتھ لمبا ہوتا ہے اس کا یہ ہاتھ اپنے ہاتھ کے برابر ہوتے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے لمباآدمی ستر ہاتھ کا ہوتا ہے ابن عربی نے کہا یہ قول باطل ہے کیونکہ صحیح میں ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا ان کی لمبائی ہوا میں (قد) ساٹھ ہاتھ تھی لگاتار مخلوق میں کمی آرہی ہے۔ قتادہ نے گمان کیا ان کے آدمی کا قدبارہ ہاتھ ہوتا ہے، ابوعبیدہ نے کہا، ذات العماد سے مراد ہے لمبے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، رجل معمد جب وہ لمباہو۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے اس کی مثل مروی ہے، قتادہ سے یہ بھی مروی ہے وہ قوم کے سردار تھے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، فلان عمیدالقوم وعمودھم یعنی وہ ان کا سردار ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہیں یہ نام اس لیے دیا گیا ہے وہ گھاس کے حصول کے لیے اپنے گھر ایک جگہ دوسری جگہ منتقل کرتے تھے وہ خیموں اور ستونوں نام اس لیے دیا گیا وہ گھاس کی طلب میں رہتے پھر اپنے گھروں کو پلٹ آتے، ایک قول یہ کیا گیا، ذات العماد سے مراد بلند عماروتوں والے ہیں جو ستونوں پر بنائی جاتیں وہ ستون بناتے اور ان پر محلات بناتے، ذات العماد سے مراد عماروتوں کو ستونوں کے ذریعے پختہ کرنا، صحاح میں ہے عماد سے مراد بلند عمارت ہے اسے مذکر اور مونث تسلیم کیا جاتا ہے۔
عمرو بن کلثوم نے کہا : ونحن اذا عماد الحی خرت، علی الاخفاض نمنع من یلینا۔ اور ہم جب قبیلہ کی بلند عمارات سامان پر آگریں تو ہم ان لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں جو ہمارے پڑوسی میں ہوتے ہیں۔ عماد کا واحد عمادہ ہے فلان طویل العماد، جب اسکا مکان ملاقاتی کے لیے جاناپہچانا ہو، اخفاض یہ خفض کی جمع ہے۔ اس سے مراد گھرکاسامان ہے جب اسے لادنے کے لیے تیار کیا جائے یعنی وہ سامان پر گرپڑیں اس شعر کو عن الاحفاض بھی روایت کیا گیا ہے یعنی وہ سامان ان اونٹوں پر گرپڑا جن پر گھر کا سامان لادا گیا تھا، ضحاک نے کہا، ذات العماد سے مراد ہے قوت والا، یہ قوۃ الاعمدۃ، سے ماخوذ ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وقالو من اشد مناقوۃ، فصلت 15) انہوں نے کہا : ہم میں سے کون قومی ہے ؟ عوف نے خالد ربعی سے روایت نقل کی ہے کہ ارم ذات العماد۔ سے مراد ہے دمشق، یہ عکرمہ اور سعید مقبری کا قول ہے اسے ابن وہب اور اشہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے، محمد بن کعب قرظی نے کہا، اس سے مراد اسکندریہ ہے۔
Ayah 89:8التی لم یخلق مثلھا فی البلاد۔
مثلھاکی ضمیرقبیلہ کی طرف لوٹتی ہے یعنی اس قبیلہ جیسا شہروں میں کوئی پیدا نہیں کیا گیا، یعنی قوت، مضبوطی، بڑے جسم اور لمبے قد ہیں، حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء سے یہی مروی ہے، حضرت عبداللہ کی قرات میں التی لم یخلق مثلھم فی البلاد۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ضمیر مدینہ کی طرف لوٹتی ہے پہلازیادہ نمایاں اور اسی پر اکثر علماء کا اتفاق ہے جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے جس نے ارم کو شہر تسلیم کیا ہے اس نے حذف کو مقدر کیا ہے، پھر معنی یہ ہوگا تیرے رب نے عام ارم کے شہر کے ساتھ کیا کیا ؟ اس تعبیر کی صورت میں ارم مونث معرفہ ہوگا، ابن عربی نے یہ رائے اپنائی ہے کہ اس سے مراد مشتق ہے کیونکہ شہروں میں اس جیسا شہر کوئی نہیں پھر اس کی تعریف کی کہ اسمیں بہت زیادہ پانی اور اس کی اچھائیاں ہیں۔ پھر کہا : اسکندریہ میں بڑے عجائب ہیں اگر منارہ کے سوا کوئی چیز نہ ہوتی کیونکہ یہ ظاہر اور باطن میں ستونوں پر بنا ہوا ہے، لیکن اس کی کئی امثلہ موجود ہیں عجائب ہیں اگر منارہ کے سوا کوئی چیز نہ ہوتی کیونکہ یہ ظاہر اور باطن میں ستونوں پر بنا ہوا ہے لیکن اس کی کئی امثلہ موجود ہیں جہاں تک دمشق کا تعلق ہے اس کی کوئی مثال نہیں۔ معن نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہ اسکندریہ میں ایک مکتوب پایا گیا یہ پتہ نہ چلتا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے بعد میں معلوم ہوا کہ اسمیں یہ تحریر ہے، میں شداد بن عاد ہوں جس نے عمارتوں کو بلند کیا میں نے انہیں اس وقت بنایا جب بڑھاپا اور موت نہیں۔ امام مالک نے کہا، ان پر سوسال گزرجاتا تو وہ اس میں کوئی جنازہ نہ دیکھتے، ثور بن زید سے یہ مذکور ہے کہ اس نے کہا، میں شداد بن عاد ہوں میں نے عمارات کو بلند کیا، میں وہ ہوں جس نے اپنے بازوں سے وادی کے بطن کو بند کردیا تھا، وہ میں ہوں جس نے ساتھ ہاتھوں پر خزانہ دبادیا ہے اسے حضرت محمد کے سوا کوئی امت نہ نکالے گی ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ عاد کے دوبیٹے تھے شداد اور شدید۔ دونوں بادشاہ ہوئے اور بڑے جابر بادشاہ ہوئے پھر شدید مرگیا اور شداد کے لیے حکومت خالص ہوگئی وہ پوری دنیا کا بادشاہ ہواتمام چھوٹے بادشاہ اس کے باجگزار ہوئے اس نے جنت کا ذکر سنا اس نے کہا، اس کی مثل میرے لیے بناؤ، عدن کے ایک صحراء میں ارم تین سوسالوں میں بنایا گیا اس کی عمر نوسوسال تھی یہ بڑا شہر تھا اس کے محلات سونے، اور چاندی کے تھے اس کے ستونوں زبرجدویاقوت کے تھے اسمیں مختلف قسم کے درخت اور جاری نہریں تھیں جب وہ باغ مکمل ہوگیا تو وہ عمائدین مملکت کے ساتھ اس کی طرف چلا، جب وہ ایک دن اور رات کی مسافت پر تھا تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ایک چیخ ان پر بھیجی تو وہ ہلاک ہوگئے۔
عبداللہ بن قلابہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے اونٹوں کی تلاش میں نکلے تو اس باغ تک جاپہنچے وہاں سے جو چیز اٹھانا ممکن تھی وہ اٹھائی اس کی خبر حضرت معاویہ ؓ تک جاپہنچی حضرت امیر معاویہ نے انہیں طلب کیا اور عبداللہ نے تمام واقعہ بیان کیا حضرت امیر معاویہ نے کعب الاحبار کی طرف پیغام بھیجا اور اس سے اس بارے میں پوچھا انہوں نے جواب دیا یہ ارم ذات العماد ہے مسلمانوں میں سے ایک آدمی آپ کے دور میں اس میں داخل ہوگا جس کا رنگ سرخ، قد چھوٹا ہوگا اس کے آبرو پر تل ہوگا اور اس کی پشت پر ایک تل ہوگا وہ اپنے اونٹوں کی تلاش میں نکلے گا پھر متوجہ ہوا تو ابن قلابہ کو دیکھا کہا، اللہ کی قسم یہ وہی آدمی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے عاد کی عمارت جو ستونوں کی وجہ سے معروف ہیں ان کی مثل نہیں بنائی گئی کنایہ عماد کی وجہ سے ہے اس تعبیر کی صورت عماد، عمد کی جمع ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ارم کا معنی ہلاکت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، ارم بنوفلاں، بنوفلاں ہلاک ہوگئے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، ضحاک نے کہا، ارم ذات العماد انہیں ہلاک کردیا اور ریزہ ریزہ کردیا۔
Ayah 89:9وثمودالذین جابوالصخر بالواد۔
ثمود، حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ہے، جابو، کا معنی ہے انہوں نے کاٹا اسی معنی میں فلان یجوب البلاد ہے فلاں شہروں کو طے کرتا ہے قمیص کی جیب کو یہ نام دیا گیا ہے کیونکہ اسے بھی کاٹا جاتا ہے شاعر نے کہا، جب کہ وہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عبداللہ بن زبیر نے اس کے حق میں ساٹھ وسق کا پروانہ لکھ دیا جو وہ کوفہ سے لے سکتا تھا تو اس نے کہا، راحت رواحا قلوصی وھی حامدۃ، آل الزبیر ولم تعدل بھم احدا۔ میری اونٹنی واپس پلٹی جب کہ وہ آل زبیر کی تعریف کررہی تھی وہ کسی کو بھی ان کا ہم پلہ نہیں دے رہی تھی۔ راحت بستین وسقا فی حقیب تھا، ماحملت حملھا الادنی ولا السداد۔ وہ لوٹی جب کہ اس کے تھیلے میں ساٹھ وسق ہیں نہ اس نے ادنی بوجھ اٹھایا اور نہ درست بوجھ اٹھایا تھا۔ ماان رائیت قلوصا قبلھا حملت، ستین وسقا ولاجابت بہ بلدا۔ میں نے اس سے قبل کوئی اونٹنی نہیں دیکھی جس نے ساٹھ وسق اٹھائے ہوں اور نہ ہی اس کے ساتھ شہروں کو قطع کیا ہو۔ یہاں جابت کا معنی قطع کرنا ہے، مفسرین نے کہا، سب سے پہلے جس نے پتھروں کو کا تا، تصویریں بنائیں، اور سنگ مرر تراشا وہ قوم ثمود ہی تھی، انہوں نے شہروں میں سے ایک ہزار سات سو شہر بنائے سب پتھر کے بنے ہوے تھے بڑے چھوٹے شہروں میں انہوں نے ستائیس لاکھ گھر بنائے، سب پتھر کے تھے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وکانواینحتون من الجبال بیوتا امنین۔ الحجر) یعنی وہ وہ کھود کر بنایا کرتے تھے پہاڑوں کو اپنے گھر، اور وہ بےخوف وخطررہا کرتے تھے وہ اپنی قوت کے باعث چٹانے نکالتے پہاڑوں میں نقب لگاتے اور انہیں اپنے گھر بنالیتے۔ وادی سے مراد وادی قری ہے، یہ محمد بن اسحاق کا نقطہ نطر ہے ابواشہب نے ابونضرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر وادی ثمود میں تشریف لائے جبکہ آپ سرخ گھوڑے پر تشریف فرما تھے فرمایا تم جلدی چلو کیونکہ تم ایک معلون وادی میں ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے پہاڑوں کے بیچ میں وادی تھی وہ ان پہاڑوں میں کمرے گھر اور حوض بناتے تھے پہاڑوں یاٹیلوں کے درمیان جو کھلی جگہ پانی کی گزرگاہ ہو اسے وادی کہتے ہیں۔
Ayah 89:10وفرعون ذی الاوتاد۔
ذی الاوتاد سے مراد چھوٹے بڑے لشکر ورجمعتیں جو اس کے ملک کی تقویت کا باعث ہوتی تھیں، یہ حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ لوگوں کو میخوں کے ساتھ عذاب دیا کرتا تھا اور انہیں ان کے ساتھ باندھے رکھتا یہاں تک کہ وہ مرجاتے یہ سب اس کی جانب سے سرکشی اور جبر کے طور پر ہوتا تھا، اس نے اپنی بیوی حضرت آسیہ اور اپنی بیٹی کی کنگی کرنے والی کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جیسا سورة تحریم کے آخر میں گزرا ہے عبدالرحمن بن زید نے کہا، اس کے پاس ایک چٹان تھی جس کو چرخیوں کے ذریعے اوپر اٹھایا جاتا پھر انسان پکڑا جاتا اس میں لوہے کے کیل گاڑے جاتے ہیں پھر اس پر وہ پتھر چھوڑ دیا جاتا جو اسے کچل کے رکھ دیتا، سورة ص میں اوتاد ذکرگزرچکا ہے جو کافی وشافی ہے، الحمدللہ۔
Ayahs 89:11–13الذین طغوافی البلاد۔۔۔۔ تا۔۔۔ عذاب۔
الذین سے مراد قوم عاد، قوم ثمود اور قوم فرعون ہے انہوں نے سرکشی اور ظلم وعدوان میں حد سے تجاوز کیا اور وہ ظلم اور اذیت میں بہت آگے بڑھ گئے، الذین طغوا کے بارے میں بہترین توجیہ یہ ہے کہ یہ مذمت کے طور پر محل نصب میں ہو، یہ بھی جائز کہ یہ محل رفع میں ہوتقدیر کلام یوں ہوگی، ھم الذین طغوا یا مذکورہ قوموں یعنی عاد، ثمود ورفرعون کی صفت کے طور پر مجرور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب انڈیل دیا اور پھینک دیا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، صب علی فلان خلقہ، فلاں نے مجھ پر خلقت پھینک دی نابغہ نے کہا : فصب علیہ اللہ احسن صنعہ، وکان لہ بین البریہ ناصرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر بہترین احسان کیا مخلوقات میں وہ اس کا مددگار تھا۔
سوط عذاب۔ سے مراد عذاب کا حصہ ہے ایک قول یہ بھی کیا جاتا ہے، اس سے مراد سخت عذاب ہے کیونکہ ان کے نزدیک سوط سے مراد وہ چیز ہے کہ جن چیزوں کے ساتھ عذاب دیا جاتا ہے ان میں سے آخر حد ہے، شاعر نے کہا : الم تر ان اللہ اظھر دینہ، وصب علی الکفار سوط عذاب۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کیا اور کفار پر عذاب نازل کیا۔ فراء نے کہا، یہ ایسا کلمہ ہے جسے عرب ہر قسم کے عذاب کے لیے استعمال کرتے ہیں اصل اس کا معنی ہے کہ سوط وہ عذاب ہے جس کے ساتھ انہیں عذاب دیا جاتا ہے پس ہر کسی کے لیے عذاب جاری ہوگیا، کیونک اس میں ان کے لیے انتہاء درجے کا عذاب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے ایسا عذاب ہوگا جو گوشت اور خون کے ساتھ خلط ملط ہوجائے گا یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے۔ ساطہ یسوطہ سوطا، یعنی اس کے ساتھ خلط ملط ہوگیا، اس سے اسم فاعل کا صیغہ، سائط ہے السوط سے مراد ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ مل جانا، اس سے مسواط ہے وہ گھوڑا جو چابک کے بغیر نہ چلے، ساطہ یعنی اسے ملادیا اس سے اسم فاعل کا صیغہ سائط ہے اکثر طور پر یہ جملہ بولا جاتا ہے، سوط فلان امورہ، فلاں نے اپنے امور کو خلط ملط کردیا ہے۔ ابوزید نے کہا یہ جملہ بولا جاتا ہے اموالھم سویطۃ بینھم، ان کے اموال آپس میں ملے ہوئے ہیں یعقوب نے اس سے یہ حکایت بیان کی ہے زجاج نے کہا، ان کے سوط جس کے ساتھ ان کو مارا اسے عذاب بنادیا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، ساط دابتہ یسوطھا، اسے سوط کے ساتھ مارا۔ عمرو بن عبید سے مروی ہے، حضرت حسن بصری جب اس آیت تک پہنچتے تو فرماتے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں بیشمار کوڑے ہیں ان میں سے ایک کوڑے کے ساتھ انہیں پکڑ لیا، قتادہ نے کہا، ہر شی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ عذاب دے وہ عذاب کا کوڑا ہے۔
Ayah 89:14ان ربک لباالمرصاد۔
وہ انسان کے ہر عمل کی تاک میں ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے اس عمل کے بدلے میں بدلہ دیتا ہے، یہ حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ بندوں کے راستہ پر ہے کوئی اسے مفقود نہیں پاتا۔ مرصد اور مرصاد کا معنی راستہ ہے سورة برات میں گزرچکا ہے، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ جہنم کے اوپر سات پل ہیں پہلے پل کے پاس انسان سے ایمان کے بارے میں پوچھاجائیگا اگر وہ اسے مکمل لے آیا تو وہ دوسرے پل کی طرف چلاجائے گا پھر اس سے نماز کے بارے میں پوچھاجائے گا اگر وہ انہیں بجالایا تھا تو وہ تیسرے پل کی طرف چلاجائے گا پھر اس سے زکوۃ کے بارے میں پوچھا جائے گا اگر وہ اسے بجالایا تھا توچو تھے پل کی طرف چلاجائیگا پھر اس سے رمضان شریف کے روزوں کے بارے میں پوچھاجائیگا اگر وہ اسے بجالایا تھا تو وہ پانچویں پل کی طرف چلاجائے گا پھر اس سے حج اور عمرہ کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اگر وہ ان دونوں کو بجالایا تھا تو چھٹے پل کی طرف چلاجائے گا پھر اس سے صلہ رحمی کے بارے میں پوچھاجائے گا اگر وہ اسے بھی بجالایاتھاتو وہ ساتویں پل کی طرف چلاجائے گا پھر اس سے مظالم کے بارے میں پوچھاجائیگا ایک ندا کرنے والاندا کرے گا، اگر کسی کا کوئی حق ہوتوآئے تو اس سے لوگوں کا قصاص لیاجائے گا اور لوگوں سے اس کا بدلہ لیاجائے گا، اللہ تعالیٰ کے فرمان، ان ربک لباالمرصاد، کا یہی معنی ہے ثوری نے کہا، لباالمرصاد سے مراد جہنم ہے جس پر تین پل ہیں ایک پل میں رحم ہے ایک پل میں امانت ہے اور ایک پل میں اللہ تعالیٰ جلوہ افرز ہے۔ میں کہتا ہوں : اس کی حکمت، ارادہ اور امر ہے۔ واللہ اعلم۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ لباالمرصاد سے مراد ہے وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ اچھا قول ہے وہ ان کے اقوال اور سرگوشیاں سنتا ہے اور ان کے اعمال اور اسرار کو جانتا ہے وہ ہر کسی کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا، ایک عرب کے بارے میں مروی ہے اسے کہا گیا تیرا رب کہاں ہے ؟ اس نے کہا، تاڑ میں۔ عمرو بن عبید سے مروی ہے کہ اس نے یہ سورت منصور کے پاس پڑھی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچا تو کہا، اے ابوجعفر تیرا رب تیری تاڑ میں ہے، زمخشری نے کہا، اس ندا میں روئے سخن اس کی طرف پھیرا کیونکہ یہ بھی ان میں سے ایک تھا جن جابروں کو اس کے ساتھ دھمکی دی گئی تھی اللہ کے قبضہ میں ہی سب بھلائیاں ہیں۔ یدق الظلمہ بانکارہ، وہ اپنے انکار کے ساتھ ظالموں کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے۔ ویقمع اھل الاھواء والبدع باحتجاجہ، وہ اپنی دلیل کے ساتھ بدعتوں کو نیست ونابود کردیتا ہے۔
Ayahs 89:15–16فاما الانسان اذا۔۔۔ تا۔۔۔ اھانن۔
الانسان سے مراد کافر ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا، اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور ابوحذیفہ بن مغیرہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد امیہ بن خلف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ابی بن خلف ہے۔ جب اسے نعمت دی تو آزمائش میں ڈالا اور امتحان لیا، اذا ما میں ما زائدہ ہے مال دے کر اسے عزت دی اور وسعتیں بخش کر اسے نعمتوں سے نوازا اور وہ اس کے ساتھ خوش ہوتا ہے مگر اس کی حمد نہیں کرتا اور جب اسے فقر کے ساتھ آزماتا ہے اور اسپررزق کو تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلت عطا کی ہے یہ کافر کی صفت ہے جو قیامت پر ایمان نہیں لاتے اس کے نزدیک کرامت اور ذلت دنیاوی مال کی کمی اور زیادتی کے ساتھ ہوتی ہے جہاں تک مومن کا تعلق ہے اس کے نزدیک کرامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی اطاعت اور توفیق سے نوازتا ہے اور آخرت کے حصہ کی طرف لے جاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں وسعت عطا فرمائے تو وہ اس کی حمد کرتا ہے اور شکربجالاتا ہے۔
میں کہتا ہوں : دونوں آیتیں ہر کافر کی صفتیں ہیں مسلمانوں میں سے کثیر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو عطا کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کرامت اور فضیلت کی وجہ سے ہے بعض اوقات وہ اپنی جہالت کی وجہ سے یہ کہتا ہے، اگر میں اس کا مستحق نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ مجھے یہ عطا نہ کرتا۔ اس طرح اگر اللہ تعالیٰ اس پر مال کی کمی کردیتا ہے تو وہ گمان کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی بےقدری کی وجہ سے ہے، عام قرات فقدر ہے یعنی وال پر شد نہیں، ابن عامر نے اسے مشددپڑھا ہے، یہ دونوں لغتیں ہیں پسندیدہ تخفیف ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، ومن قدر علیہ رزقہ، (الطلاق 7) اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا، ابوعمرو نے کہا، قدر کا معنی کمی کرنا ہے، قدر کا معنی ہے اتنا دینا جو اسے کفایت کرجائے، اگر اس کے ساتھ یہ معالہ کیا جاتا تو وہ یہ نہ کہتا کہ ربی اھانن۔ اھل حرمین اور ابوعمرو نے ربی، یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، بزی، ابن محیصن اور یعقوب نے اکرمن، اور اھانن کی یاء کو دونوں حالتوں میں ثابت رکھتا ہے کیونکہ یہ اسم ہے اسے حذف نہیں کیا جاتا، مدنیوں نے وصل میں ثابت رکھتا ہے اور وقف میں ثابت نہیں رکھا وہ مصحف کی اتباع کرتے ہیں ابوعمرو فصل میں ثابت یا حذف میں اختیار دیا ہے کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے اور وقف کی صورت میں حذف کو اپنایا ہے وجہ مصحف کے خط کا لحاظ ہے باقی قراء نے اسے حذف کیا ہے کیونک دونوں جگہ یہ یاء کے بغیرآئے ہیں سنت یہی ہے کہ مصحف کے خط کی مخالفت نہ کی جائے کیونکہ یہ صحابہ کا اجماع ہے۔
Ayah 89:17کلابل تکرمون الیتیم۔۔۔۔ تا۔۔۔ حباجما۔
کلا یہ رد کرنے کے لیے ہے یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا گمان کیا جارہا ہے اور مال دولت کی کثرت اس کے فضل کی علامت نہیں اور نہ ہی فقر وتنگ دستی اس کی طرف سے ذلت ورسوائی ہے بیشک فقر وغنا تو میری تقدیر ہے فراء نے کہا، یہاں کلا اس معنی میں ہے کہ بندہ کے لیے نہیں چاہیے کہ وہ اس طرح ہو بلکہ غنا اور فقر دونوں صورتوں میں وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، کلا انی لا اکرم، من اکرمت بکثرۃ الدنیا ولا اھین من اھنت بقل تھا انما اکرم من اکرمت بطاعتی، واھین من اھنت بمعصیتی۔ ہرگز نہیں جسے میں عزت دیتا ہوں میں اسے مال کی کثرت کے ذریعے عزت نہیں دیتا اور جسے میں ذلیل کرتا ہوں میں اسے مال کی کمی کے ساتھ ذلت نہیں دیتا جسے عزت دیتا ہوں اپنی اطاعت کے ساتھ عزت دیتا ہوں جسے ذلیل کرتا ہوں اپنی معصیت کے ساتھ ذلت دیتا ہوں۔
بل لاتکرمون الیتیم۔ جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان امور کی خبر دی جارہی ہے کہ یتیم کو میراث نہیں دیتے، اسراف کرکے اس کا مال کھاجاتے اور جلدی جلدی مال کھاجاتے کہ وہ بڑا نہ ہوجائے ابوعمرو اور یعقوب نے یکرمون، یغضون، یاکلون اور یحبون کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ انسان کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اس سے مراد جنس ہے اسے جمع کے لفظ کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے باقی قراء نے چاروں صیغوں کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ خطاب کے صیغے ہیں گویا انہیں یہ بات زجر وتوبیخ کے لیے کی یتیم کے اکرام کو ترک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے حق نہ دینا اور اس کا مال کھاجانا، جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے، مقاتل نے کہا، یہ قدامہ بن مظعون کے حق میں آیات نازل ہوئیں جو امیہ بن خلف کی گود میں یتیم تھا۔
Ayah 89:18ولاتحضون علی طعام المسکین۔ وہ اپنے گھروالوں کو حکم نہیں دیتے کہ جو یتیم ان کے پاس آئے وہ اسے کھلادیاکریں کو فیوں نے اسے ولاتخاضون پڑھا ہے، یعنی تاء مفتوحہ، حاء اور الف کیساتھ پڑھا ہے یعنی وہ ایک دوسرے کو برانگیختہ نہیں کرتے اصل میں یہ تتحاضون تھا ایک تاء کو حذف کردیا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتی ہے یہ ابوعبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے ابراہیم اور شیزری نے کسائی اور سلمی سے روایت نقل کی ہے کہ تخاضون تاء کے ضمہ کے ساتھ ہے یہ حض سے تفاعلون کے وزن پر ہے اس کا معنی برانگیختہ کرنا ہے۔
Ayah 89:19وتاکلون التراث اکلالما۔ تراث سے مراد یتیموں کی میراث ہے اس کی اصل وارث ہے یہ وراثت سے مشتق ہے جس طرح تجاہ، تخمہ، تکاہ، اور تودہ ہے، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے لما کا معنی ہے شدیدا، یہ سدی کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے لما کا معنی ہے سب کا سب، یہ عربوں کے اس قول سے لیا گیا ہے، لممت الطعام، جب تو سب کا سب کھاجائے یہ حضرت حسن بصری اور ابوعبیدہ کا نقطہ نظر ہے کلام عرب میں لم کا معنی جمع کرنا ہے، یہ جملہ بوجالاتا ہے، لممت الشئی المتہ لما، جب تو اسے جمع کرے اس معنی میں کہا جاتا ہے لم اللہ شعثہ، اس کے جو امور متفرق تھے ان کو جمع کرلیا نابغہ نے کہا، ولست بمستحق اخا لاتلمہ، علی شعث ای الرجلا المھذب۔ تو ایسے بھائی کو باقی رکھنے والا نہیں جسے تو پراگندے کی حالت میں اپنے ساتھ جمع نہیں کرتا توبتاؤ توسہی کون سا آدمی مہذب ہے۔ مرناق طائی، علقمہ بن سیف کی مدح کرتے ہوئے کہتا ہے۔ لاحبنی حب الصبی ولمنی، لم الھدی الی الکریم الماجد۔ اس نے مجھ سے بچے کی محبت جیسی محبت کی اور مجھے یوں اپنے ساتھ جمع کیا جیسے شب زفاف کو دلہن کریم آدمی کے ساتھ جم ہوتی ہے۔ لیث نے کہا، لم کا معنی سختی سے جمع کرنا ہے، اس سے حجر ملموم ہے اور کتیہ ملمومۃ، ہے کھانے والاثرید کو جمع کرتا ہے اسے لقمہ بناتا پھر کھا جاتا ہے، مجاہد نے کہا، اس کا معنی ہے وہ پھانکتا ہے حضرت حسن بصری نے کہا، وہ اپنا اور دوسروں کا حصہ کھا جاتا ہے۔ حطیہ نے کہا : اذا کان لما یتبعہ الدم ربہ۔ جب اپنا اور غیر کا حصہ جمع کرنے والا ہوگا تو یہ عمل ایسا کرنے والے کو مذمت تولازم کرے گا۔ یعنی وہ اپنے اور دوسروں کے حصہ کو کھانے میں جمع کرتے ہیں، ابن زید نے کہا، یعنی جب وہ اپنا مال کھاتا ہے تو غیر کے مال کو بھی اپنے ساتھ ملالیتا ہے اور اسے کھا جاتا ہے وہ سوچ بچار بھی نہیں کرتا وہ خبیث اور پاکیزہ سب کھا جاتا ہے کہا، مشرک عورتوں اور بچوں کو ورثہ نہ دیا کرتے تھے بلکہ اپنی میراث ان کی میراث کے ساتھ ملالیا کرتے تھے اور کھاجایا کرتے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے میت نے طلم سے جو مال جمع کیا ہوتا تھا وہ اسے کھاجاتے جب کہ انہیں سب کچھ علم ہوتا وہ کھانے میں حلال و حرام کو جمع کرلیتے تھے یہ بھی جائز ہے کہ وارث کی مذمت کی جارہی ہو جو آسان طریقہ سے مال لے لیتا ہے جبکہ اس میں اس کا پسینہ بھی نہیں بہتا وہ اس کے خرچ کرنے میں اسراف سے کام لیتا ہے اور کھلا، کھا جاتا ہے جبکہ وہ ہر خواہش کو جمع کرنے والا ہوتا ہے وہ چیز کھانے سے تعلق رکھتی ہے مشروبات ہوں یاپھل، جس طرح باطل وارث کرتے ہیں۔
Ayah 89:20وتحبون المال حباجما۔ جما سے مراد ہے کثیر، یعنی حلال و حرام، جم کا معنی ہے کثیر جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، جم الشئی یجم جموما فھو جم، جام۔ اس معنی میں جم الماء فی الحوض ہے، جب پانی جمع ہوجائے اور کثیر ہوجائے شاعر نے کہا : ان تغفراللھم تغفر جما، وای عبدلک لا الما۔ اے اللہ اگر بخشنا ہے تو سب کو بخش دے اور تیرا کون سابندہ ہے جس نے غلطی نہ کی ہو۔ جمہ ایسی جگہ کو کہتے ہیں جس میں پانی جمع ہوجاتا ہے، جموم ایسے کنویں کو کہتے ہیں جہاں بہت زیادہ پانی جمع ہو، جموم مصدر ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے جم الماء یجم جموما، جب وہ کنویں میں بہت زیادہ ہوجاتے جبکہ اسمیں جو کچھ پانی تھا نکال لیا گیا تھا۔
Ayah 89:21کلا اذا دکت الارض دکا دکا۔
یہ مناسب نہیں کہ معاملہ اسی طرح ہو یہ ان لوگوں کا رد کیا جارہا ہے جو دنیا پر منہ کے بل گرے ہوتے ہیں اور اس پر جمع ہیں کیونکہ جس نے اس طرح کیا جس دن زمین ریزہ ریزہ ہوگی وہ اس روز شرمندہ ہوں گے جب کہ شرمندگی کچھ نفع نہ دے گی، دک بمعنی توڑنا اور باریک کرنا ہے یہ بحث پہلے گزرچکی ہے یعنی زمین پر زلزلہ برپا ہوگاتو وہ ایک دوسرے کو ریزہ ریزہ کردے گی، مبرد نے کہا، معنی ہے وہ پست ہوجائے گی اور اس کی بلندی ختم ہوجائے گی جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ناقہ دکائ، جس کی کہ ان نہ ہو اس کی جمع دک آتی ہے اس بارے میں گفتگو سورة الاعراف میں اور سورة الحاقہ میں گزرچکی ہے لوگ کہتے ہیں، دک الشئی یعنی اس کو گرادیا گیا جس طرح کسی نے کہا، ھل غیر غاردک غار فانعدم۔ کیا کثیر جماعت کے علاوہ کثیر جماعت کو کسی نے گرایا ہو تو وہ گرگئی ہو۔ دکا دکا، یعنی یکے بعد دیگرے، اس میں زلزلہ برپا ہوگا اس کے بعض کو بعض نے توڑ دیا، پس زمین پر جو کچھ بھی ہوگا وہ ٹوٹ جائیگا ایک قول یہ کیا گیا ہے پہاڑوں کو گرایاجائیگا یہاں تک وہ برابر ہوجائیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے بچھنے میں برابر ہوجائیں گے، دک کا معنی ہے زمین میں سے بلند جگہ کو پھسلانے کے ساتھ پست کرنا، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود کے قول کا بھی یہی معنی ہے کہ زمین کو چمرے کی طرح پھیلا دیا جائے گا۔
Ayahs 89:22–23وجاء ربک والملک۔۔۔ تا۔۔۔ لہ الذکری۔
یہاں ربک سے مراد تیرے رب کا امر اور اس کا فیصلہ ہے یہی حضرت حسن بصری کا قول ہے، یہ کلام اس اسلوب سے تعلق رکھتی ہے جس میں مضاف حذف ہوتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ان کے پاس ان کا رب عظیم آیات لایا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، الاان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام۔ البقرہ 210) کہ آئیے ان کے پاس اللہ کا عذاب چھائے ہوئے بادلوں کی صورت میں اس آیت میں فی ظلل، بظلل کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے آیات کے آنے کو اس کا آنا بنادیا گیا ہے مقصود ان آیات کی عظمت شان بیان کرنا ہے، اس معنی میں حدیث میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یا بن آدم مرضت فلم تعدنی واستسقیتک فلم تسقنی، واستطعمتک فلم تطعمنی، اے انسان میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی، میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے مجھے پانی نہ پلایا، اور میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، وجاء ربک کا مفہوم یہ ہے آج تمام شبہات زائل ہوگئے تمام معارف ضرریہ ہوگئے جس طرح جس چیز میں شک کیا جارہاہو وہ آجائے تو اس کے بارے میں جتنے شکوک و شبہات ہوتے ہیں وہ زائل ہوجاتے ہیں، اشارہ کی زبان میں گفتگو کرنے والے کہتے ہیں اس کی قدرت ظاہر ہوئی اور ہر چیز پر چھاگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے جس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہونے کی صفت بیان نہیں کی جاتی۔ اس ذات کے لیے یہ انتقال کیسے تصور کیا جاسکتا ہے نہ اسکے لیے کوئی امکان ہے اور نہ ہی اس کے لیے وقت ہے نہ اس پر کوئی وقت جاری ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی زمان جاری ہوسکتا ہے، کیونکہ کسی شی پر وقت کا جاری ہونا اس سے اوقات کافوت ہونا ہے اور جس سے کوئی شی فوت ہوجائے وہ عاجز ہوتا ہے۔
اور فرشتے صف درصف ہوں گے، اس روز جہنم لائی جائے گی، حضرت ابن مسعود اور مقاتل نے کہا، جہنم کو سترہزار لگاموں کے ساتھ کھینچا جارہا ہوگا ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے اسمیں جوش اور چنگھاڑ ہوگی یہاں تک کہ اسے عرش کی بائیں جانب کھڑا کردیاجائیگا صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اس روز جہنم کو لایاجائیگا جس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے وہ اس جہنم کو کھینچ رہے ہوں گے، حضرت ابوسعید خدری نے کہا، یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ کا رنگ بدل گیا، اور آپ کے چہرہ سے یہ عیاں ہونے لگا یہاں تک کہ صحابہ کرام پر یہ بڑا شاق گزرا پھر رسول اللہ نے فرمایا جبرائیل امین نے مجھے یہ آیات پڑھ کرسنائیں، حضرت علی نے کہا، میں نے عرض کی یارسول اللہ کیف یجاء بھا ؟ یارسول اللہ اس جہنم کو کیسے لایاجائیگا فرمایا اسے لایاجائیگا جب کہ ستر ہزار لگاموں کے ساتھ اسے کھینچا جارہا ہوگا ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے وہ ایک دفعہ بدکے گی تو اسے چھوڑ دیا جائے گا تو وہ تمام مخلوقات کو جلادپھر جہنم میرے سامنے آئے گی تو وہ کہے گی اے محمد مجھے آپ سے کیا سروکار اللہ تعالیٰ نے تیرا گوشت مجھ پر حرام کردیا ہے ؟ کوئی نفس نہیں بچے گا مگر وہ کہہ رہا ہوگا، نفسی نفسی مگر حضرت محمد کی ذات ہوگی، آپ فرما رہے ہوں گے رب امتی، رب امتی۔ اس روز انسان نصیحت حاصل کرے گا اور وہ توبہ کرے گا، یہاں انسان سے مراد کافر ہے یا جس کے اکثر مقاصد دنیا سے متعلق تھے، اب اس کے لیے کہاں سے نصیحت اور توبہ ہے جب کہ اس نے دنیا میں کوتاہی سے کام لیا تھا، ایک قول یہ کیا جاتا ہے اس کے لیے کہاں سے نصیحت یا نفع ہے۔ یہاں مضاف کا مقدر ہونا ضروری ہے ورنہ، یومئذ یتذکر، اور وانی لہ الذکری، میں منافات ہوگی، یہ زمخشری کا نقطہ نظر ہے۔
Ayah 89:24یقول یلیتنی قدمت لحیاتی۔
لحیاتی، میں لام فی کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے میں نے اپنی زندگی کے لیے اچھاعمل بھیجا ہوتا یعنی ایسی زندگی کے لیے جس میں موت نہ ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے اہل نار کی زندگی کوئی مبارک نہ ہوگی گویا ان کے لیے کوئی زندگی نہیں معنی اس کا یہ ہے کہ ہائے کاش، میں نے اس آگ سے بچاؤ کے لیے کوئی بھلائی بھیجی ہوتی تو میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جن کے لیے مبارک زندگی ہوتی۔
Ayahs 89:25–26فیومئذلایعذب۔۔ تا۔۔۔ وثاقہ احد۔
اللہ تعالیٰ کے عذاب جیسا کوئی عذاب نہ دے گا اور نہ اس کے باندھنے جیسا کوئی باندھے گا، ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے یہ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری کا قول ہے کسائی نے دونوں افعال لایعذب اور لایوثق کو مجہول کا صیغہ پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس روز کافر کو جیسا عذاب دے گا اس طرح کسی کو عذاب نہیں دیا جارہا ہوگا اور جیسا کافر کو جکڑا گیا ہوگا ایسا کسی کو نہ جکڑا گیا ہوگا، اس سے مراد ابلیس ہے کیونکہ اس امر پر دلیل قائم ہے کہ اس کے جرموں کی وجہ سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ عذاب اسے دیا جارہا ہوگا پھر کلام کو مطلق رکھا گیا تھا کیونکہ ساتھ والی آیات مطلق ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا مصداق امیہ بن خلف ہے، یہ قول فراء نے کیا ہے جیسا عذاب اس کافر کو دیا جارہا ہے ایسا عذاب کسی کو بھی نہیں دیاجائیگا اور جیسا اسے زنجیروں میں اور بیڑیوں میں جکڑا جائے گا ایسا کسی کو نہیں جکڑاجائیگا کیونکہ وہ کفر اور عناد میں انتہا کو پہنچاہوا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی جگہ کسی کو عذاب نہ دیا جائے گا اور نہ ہی کسی سے فدیہ لیاجائیگا عذاب، تعذیب کے معنی میں اور وثاق ایثاق کے معنی میں ہے اس معنی میں شاعر کا قول ہے۔ وبعد عطائک المائۃ الرتاعا۔ یہاں الرتاع، ارتاع کے معنی میں ہے یعنی ایسا آدمی جو کافر نہیں اسے کافر جیسا عذاب نہیں دیاجائیگا، اور ابوعبیدہ اور ابوحاتم نے ذال اور تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ضمیر کافر کے لیے ہوگی کیونکہ یہی معرفت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب جیسا کسی کو عذاب نہیں دیاجائیگا ابوقلابہ نے نبی کریم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ نے تاء اور ذال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ بھی روایت کی گئی کہ ابوعمرو نے نبی کریم کی قرات کی طرف رجوع کرلیا تھا، ابوعلی نے کہا، یہ جائز ہے کہ ضمیر کافر کے لیے ہو کیونکہ ایک جماعت کی قرات یہی ہے یعنی کوئی کسی کو ایسا عذاب نہیں دے گا جس طرح اس کافر کو عذاب دیا جارہا ہے پس عذابہ اور وثاقہ کی ضمیر کافر کے لیے ہوگی احد سے مراد فرشتے ہوں گے جو جہنمیوں کو عذاب دینے کے ذمہ دار ہیں۔