88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 88:1

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (قیامت) کا حال معلوم ہوا ہے ؟

ھل اتاک حدیث الغاشیہ ھل، قد کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے، ھل اتی علی الانسان حین من الدھر۔ الدھر) یقینا انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے یہ قطرب کا قول ہے معنی یہ ہے اے محمد یقینا آپ کے پاس قیامت کی خبر آچکی ہے جو اپنی ہولناکیوں کے ساتھ مخلوقات پر چھاجائے گی یہ اکثر مفسرین کا نقطہ نظر ہے، سعید بن جبیر اور محمد بن کعب نے کہا، الغاشیہ سے مراد آگ ہے جو کفار کے مونہوں تک جاپہنچے گی، یہ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اس کی دلیل، وتغشی وجوھھم النار۔ ابراہیم) آگ ان کے چہروں پر چھاجائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے مخلوقات پر چھاجائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جو دوبارہ اٹھائے جانے کے لیے پھونکا جائے گا کیونکہ وہ تمام مخلوقات پر غالب آجائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے، غاشیہ سے مراد جہنمی ہیں جو اس پر چھا جائیں گے اور اس میں داخل ہوجائیں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے ھل اتاک کا معنی ہے یہ نہ آپ کو پتہ تھا نہ آپ کی قوم کو پتہ تھا، حضرت ابن عباس نے فرمایا جس طرح یہاں مذکور ہے اس تفصیل کے ساتھ آپ کو معلوم نہ تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ رسول اللہ کے لیے بطور استفہام کلام ذکر کی گئی ہے اس کا معنی ہے اگر آپ تک غاشیہ کی خبر نہیں پہنچی تھی تو اب وہ آپ تک پہنچ چکی ہے یہ کلبی کا قول کا معنی ہے۔
Ayahs 88:2–3

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے

وجوہ یومئذ خاشعیہ، عاملۃ الناصبہ۔ حضرت ابن عباس نے کہا رسول اللہ تک ان کی خبر نہیں پہنچی تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا، یومئذ سے مراد یوم قیامت ہے۔ سفیان نے کہا، خاشعہ سے مراد عذاب کے ساتھ ذلیل کرنا ہے ہر کمزور پست ہمت عاجزی کرنے والا ہوتا ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، خضع فی صلاتہ، جب اس نے نماز میں سرجھکایا اور عاجزی کا اظہار کیا، خشع الصورت آواز پست ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وخشعت الاصوات للرحمن۔ طہ 108) اللہ تعالیٰ کے حضور آوازیں پست ہیں۔ وجوہ (چہروں) سے مراد اصحاب وجوہ ہیں قتاہ اور ابن زید نے کہا، آگ میں عاجز و ذلیل ہوں گی۔ اس سے مراد تمام کفار کے وجوہ ہیں یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد یہودونصاری کی وجوہ ہیں یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ وہ دنیا میں تھکے ماندے ہوں گے کیونکہ دارآخرت عمل کا مکان نہیں معنی یہ ہوگا وہ دنیا میں مشقت میں مبتلا، تھکے ماندے ہوں گے وہ آخرت میں ذلیل رسوا ہوں گے علماء لغت نے کہا، جب ایک آدمی لگاتار مصروف کار رہے تو کہتے ہیں، عمل الرجل عملا، وہ بادل جو لگاتار چمکتا رہے اسے کہتے ہیں، عمل السحاب عملا، ذا سحاب عمل، ہذلی نے کہا، حتی شاھا کلیل موھنا عمل، لگاتار کمزور بجلی رات کے ایک حصہ تک اسے ہانکتی رہی۔ ناصبۃ تھکے ماندے۔ نصب ینصب نصبا کا معنی ہے وہ تھک گیا انصبہ غیرہ۔ اسے کسی دوسرے نے تھکا دیا، ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور کفر میں تھکادیا جیسے بت پرست اور اہل کتاب میں سے راہب وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ان سے کسی چیز کو قبول نہیں فرماتا مگر جو اس کے لیے خالص ہوتا ہے، سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ اس سے مراد ہے دنیا میں اس نے اللہ تعالیٰ کی طاعت سے تکبر کیا اللہ تعالیٰ نے اسے جہنم میں کام میں لگادیا اور اسے تھکایا کہ وہ بھاری بیڑیاں کھینچتے ہیں طوق اٹھاتے ہوئے وہ میدان محشر میں نن کے پاؤں کھڑے ہیں جس میں ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے کلبی نے کہا، انہیں منہ کے بل جہنم میں گھسیٹا جائے گا ان سے اور دوسرے علماء سے یہ بھی مروی ہے جہنم میں انہیں لوہے کے پہاڑ پر چڑھنے کا مکلف بنایا جائے گا تو وہ بیڑیوں اور طوقوں اور آگ میں داخل ہونے کی وجہ سے جو مشقت اٹھاتے ہیں اس سے زیادہ تھکیں گے وہ آگ میں یوں دھنس جائیں گے جس طرح اونٹ کیچڑ میں دھنس جاتا ہے اور وہ آگ کے پہاڑ پر چڑھیں گے اور اس سے نیچے اتریں گے اس کے علاوہ انہیں عزاب کا سامنا کرنا ہوگا حضرت ابن عباس نے کہا، ابن محصین، عیسیٰ ، حمید نے اور عبیدنے شہبل سے وہ ابن کثیر سے ناصبہ روایت کرتے ہیں کیونکہ یہ حال ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اسے بطور مذمت منصوب پڑھا گیا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے صفت کے اعتبار سے منصوب پڑھا ہے یا مبتدا مضمر ہے تو وقف خاشعۃ پر ہوگا، جس نے اسے آخرت پر تعبیر کیا ہے اس کے لیے جائز ہے کہ یہ وجوہ سے خبر کے بعد خبر ہو اس صورت میں خاشعہ پر وقف نہ کیا جائے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے دنیا میں مصروف کار، آخرت میں تھکے ماندے اور زلیل ہوں گے۔ عکرمہ اور سدی نے کہا، دنیا میں وہ نافرمانیاں کرتے تھے، سعید بن جبیر اور زید بن اسلم نے کہا، وہ راہب ہیں جو گرجاگھروں میں رہتے تھے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے ضحاک کی روایت بھی پہلے گزرچکی ہے حضرت حسن بصری سے مروی ہے، جب حضرت عمر بن خطاب شام آئے تو ایک بوڑھا (متقھل) پراگندہ حال راہب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جب حضرت عمر نے اسے دیکھاتو آپ رونے لگے اس نے پوچھا اے امیر المومنین کس چیز نے آپ کو رلایا ہے ؟ فرمایا اس مسکین نے ایک امر کو طلب کیا تو اسے نہ پایا ایک امید کی تو اس میں غلطی کی اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی وجوہ یومئذ خاشعہ، عاملۃ الناصبہ۔ کسائی نے کہا : تقھل کا معنی براحال ہے۔ رجل متقھل جس کا چمڑا خشک اور براحال ہو جس طرح متقحل ہے ابوعمرو نے کہا، تقھل کا معنی ضرورت کی شکایت کرنا ہے اور یہ شعر پڑھا۔ لعوا اذا لاقیتہ تقھلا۔ جب میں اسے ملاتو اس کا اخلاق برا اور حال بھی برا تھا۔ القھل کا معنی احسان کی ناشکری کرنا ہے، قد قھل یقھل قھلاجب اس نے بری تعریف کی، اقھل الرجل ایسے امر کا تکلف کیا جو اس کے نفس کو عیب دار بناتا ہے اور اس کی ذات کو آلودہ کردیتا ہے۔ انقھل کا منعی ہے کمزور ہونا اور اگر جانا، یہ جوہری کا نقطہ نظر ہے حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے اس سے مراد اہل حروراء ہیں یعنی وہ خارجی ہیں رسول اللہ نے جن کے بارے میں ذکر کیا ہے فرمایا، تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ میں، اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے اعمال ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر جانو گے وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
Ayah 88:4

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

دہکتی آگ میں داخل ہوں گے

تصلی ناراحامیہ۔ ان چہروں کو آگ کی تپش اور لپک پہنچے گی، حامیہ سے مراد سخت گرم ہے یعنی اسے طویل مدت تک روشن کیا گیا اور جلایا گیا اسی سے یہ جملہ بولا جاتا ہے، حمی النھار حمی التنور حمیا۔ یعنی اس کی گرمی شدید ہوگی، کسائی نے کہا، اشتد حمی الشمس وحموھا کا معنی ایک ہی ہے ابوعمرو، ابوبکر اور یعقوب نے ضمہ کے ساتھ تصلی پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اسے تصلی بھی پڑھا گیا ہے اس بارے میں گفتگو، اذالسماء انشقت۔ میں پہلے گزرچکی ہے ماوردی نے کہا، اگر یہ کہا جائے اس کی صفت حمی سے لگانے کی کیا وجہ ہے جبکہ قوم آگ تو گرم ہی ہوتی ہے۔ جب کہ یہ تو اس کے احوال میں سے کم حالت ہے تو اس ناقص صفت کے ساتھ مبالغہ کی کیا وجہ ہے ؟ تو جواب دیا جائے گا، حامیہ سے مراد یہاں چار وجوہ سے مختلف ہے۔ (1) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ گرم ہوگی یہ دنیا کی آگ جیسی نہ ہوگی کہ جس کی گرمائش بجھانے کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ (2) حامیہ سے مراد یہ ہے کہ یہ ممنوعات کے ارتکاب کی محفوط چراگاہ ہے اور محارم کی پامالی کی محفوظ جگہ ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ان لکل ملک حمی وان حمی اللہ محارمہ ومن یرتع حول الجمی یوشک ان یقع فیہ۔ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں جو آدمی چراگاہ کے اردگرد چرتا ہے ممکن ہے کہ وہ اسمیں جاواقع ہو۔ (3) وہ اپنے آپ کو محفوط رکھتی ہے کہ کوئی اس کو چھوسکے یا اس کو مس کرنے کا قصد کرے جس طرح شیر اپنی کچھار کی حفاظت کرتا ہے، اس کی مثل نابغہ کا شعر ہے۔ تعدوالذئاب علی من لاکلاب لہ، وتتقی صولۃ المستاسید الحامی۔ بھیڑیے اس پر حملہ کرتے ہیں جس کے کتے نہیں ہوتے اور شیر دل حفاظت کرنے والے کے حملہ سے بچتے ہیں۔ (4) وہ غضبناک ہے انتقام کی شدت میں مبالغہ کرنے والی ہے اس سے کسی شے یا ذات کا گرم ہونا مراد نہیں جس طرح کہا جاتا ہے، قد حمی فلان جب وہ انتقام کے ارادہ سے غضبناک ہو، اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ساتھ اس معنی کو واضح کیا فرمایا تکاد تمیز من الغیظ۔ ملک 8) قریب ہے غصہ سے پھٹ جائے۔
Ayah 88:5

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا

تسقی من عین آنیہ۔ الآنی سے مراد وہ چیز ہے جس کی گرمی انتہا کو پہنچ جائے، یہ ایناء سے مشتق ہے جس کا معنی تاخیر ہے اس معنی میں ہے، آئیت واذیت تو دیر سے آیا اور تو نے اذیت دی، آناہ یونیہ ایناء اسے گرم کیا، اسے روکا اور اسے موخر کیا، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے یطوفون بینھا وبین حمیم ان۔ الرحمن) وہ گردش کرتے رہیں گے جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان۔ من عین آنیہ۔ کا معنی تفاسیر میں یہ کیا گیا ہے اس کی گرمی انتہا کو پہنچے ہوئی ہے اگر اس کا قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر گرے تو وہ پگھل جائیں حضرت حسن بصری نے کہا، آنیہ سے مراد ہے اس کی گرمی اپنے کمال کو آپہنچی ہے جب سے اسے تخلیق کیا گیا ہے اس پر جہنم کو بھڑکا یا گیا ہے ان جہنمیوں کو اس کی طرف پیاسا ہانکاجائے گا، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ وہ اپنی گرمی کی انتہا کو پہنچ گیا ہے اور اس کے پینے کا وقت آچکا ہے۔
Ayah 88:6

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

اور خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لئے کوئی کھانا نہیں (ہوگا)

لیس لھم طعام الامن ضریع۔ لھم کی ضمیر سے مراد جہنمی ہیں جب پہلے ان کے مشروب کا ذکر کیا اب ان کے کھانے کا ذکر کیا عکرمہ اور مجاہد نے کہا، ضریع ایک ایسی جڑی بوٹی ہے جس کے کانٹے ہوتے ہیں جو زمین کے ساتھ لگی ہوتی ہے جب تک وہ تر ہوتوا سے شبرق کہتے ہیں جب وہ خشک ہوجائے تو اسے ضریع کہتے ہیں کوئی جانور اور چوپایہ اس کے قریب نہیں جاتا اور نہ ہی اسے کھاتا ہے وہ قاتل زہر ہے یہ سب سے خبیث اور براکھانا ہے عام مفسرین کی یہی رائے ہے مگر ضحاک کی رائے مختلف ہے اس نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ ایسی چیز ہے جسے سمندر باہر پھینکتا ہے جسے ضریع کہتے ہیں یہ انسانوں کی بجائے حیوانوں کی خوراک ہے جب اونٹ اسے کھائیں توسیر نہیں ہوتے اور کمزوری کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ صحیح وہی ہے جو جمہور کا نقطہ نظر ہے کہ یہ ایک بوتی ہے ہذلی نے کہا، اور اونٹوں اور ان کی بری چراگاہ کا ذکر کیا۔ وحبسن فی ھزم الضریع فکلھا، حدباء دامیۃ الیدین حرود۔ انہیں ٹوٹے پھوٹے ضریع پر روک دیا گیا ہے سب کی پشت کی ہڈیاں ظاہر ہیں ہاتھوں سے خون بہہ رہا ہے اور دودھ دوہنے سے انکاری ہیں۔ خلیل نے کہا : ضریع سبز بوٹی ہے جو بدبودار ہوتی ہے سمندر جسے پھینکتا ہے۔ والبی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے یہ آکا درخت ہے اگر یہ دنیا میں ہوتاتوزمین اور اس پر جو کچھ ہے سب کو جلا دیتا ۔ سعید بن جبیر نے کہا یہ پتھر ہے یہی بات عکرمہ نے کہی ہے زیادہ غالب یہی ہے کہ یہ کانٹے دار درخت ہے جیسے دنیا میں ہوتا ہے، حضرت ابن عباس نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے، ضیع ایسی چیز ہے جو جہنم میں ہوگی جو کانٹے کے مشابہ ہے مصبر سے زیادہ کڑوی ہوگی مردار سے زیادہ بدبودار ہوگی آگ سے زیادہ گرم ہوگی اللہ تعالیٰ نے اس کا نام ضریع رکھا ہے۔ خالد بن زیاد نے کہا : میں نے متوکل بن حمدان سے سنا جب کہ ان سے آیت کے بارے میں پوچھا جارہا تھا انہوں نے جواب دیا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ضریع جہنم کی آگ کا ایک درخت ہے اس کا پھل، پیپ اور خون ہوگا وہ مبصر سے زیادہ کڑوا ہوگا یہ ان کا کھانا ہوگا۔ حضرت حسن بصری نے کہا، یہ عذاب میں سے ان چیزوں میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھا ہے۔ ابن کیسان نے کہا، یہ ایسا کھانا ہے جس کے پاس وہ گڑاگڑائیں گے، ذلیل ورسوا ہوں گے اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ زاری کریں گے، اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس کا کھانے والا اس کو ناپسند کرنے اور اس کی سختی کے باعث آہ زاری کرے گا کہ اس عذاب سے اسے بری کردیا جائے ابوجعفر نحاس نے کہا، یہ ضارع سے مشتق ہے جس کا معنی ذلیل ہے یعنی ذوضراعۃ ذلت والا۔ حضرت حسن بصری سے یہ مروی ہے : یہی زقوم ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ جہنم میں ایک وادی ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا، فلیس لہ الیوم ھھناحمیم۔ ولاطعام الامن غسلین۔ الحاقہ) آج اس کا یہا کوئی دوست نہیں اس کا کوئی کھانا نہیں مگر غسلین، یہاں فرمایا، الا من ضریع، یہ غسلین کے علاوہ کھانا ہے دونوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جہنم کے کئی درجے ہیں انمیں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کا کھانا زقوم ہے ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا کھانا غسلین ہے ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا کھانا ضریع ہے ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا مشروب حمیم ہے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا مشروب پیپ ہے، کلبی نے کہا، ضریع ایسے درجے میں ہے جس میں کوئی اور نہیں زقوم ایک اور دجہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ دونوں آیتوں کو دو حالتوں پر محمول کیا جائے جس طرح ارشاد فرمایا، یطوفون بینھا وبین حمیم ان۔ الرحمن) وہ گردش کرتے رہیں گے جہنم اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان قتبی نے کہا، یہ جائز ہے کہ ضریع اور زوقوم جہنم کی دو جڑی بوٹیاں ہوں یا دونوں کا جوہر ایسی چیز ہے جسے آگ نہیں کھاتی۔ اسی طرح زنجیریں، اس کے طوق، اس کے بچھو اور اس کے سانپ ہیں اگر یہ اس طرح ہوتے جس طرح ہم جانتے ہیں تو وہ آگ پر باقی نہ رہتے۔ کہا، اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں موجود ہم سے غائب پر ہماری راہنمائی کی اس چیز کی مدد سے جو ہمارے پاس حاضر ہے آسمان کی دلالت متفق ہے اور معانی مختلف ہیں، اس طرح جنت میں جو بھی درخت اور بستر ہیں زیادہ مناسب قول وہ ہے جو قتبی کا قول ہے کہ جو چیز کافروں کو جہنم میں ہمیشہ رکھتی ہے تاکہ ان پر عذاب دائمی ہو وہی چیز نباتات اور زقوم کے درخت کو آگ میں باقی رکھتی ہے تاکہ اس کے ذریعے کفار کو عذاب دے۔ بعض علماء کا خیال ہے ضریع بعینہ آگ میں نہیں اگتا اور نہ ہی وہ اسے کھاتے ہیں ضریع چوپاؤں کی خوراک ہے یہ لوگوں کی خوراک نہیں جب اونٹ اسے کھائیں توسیر نہیں ہوتے اور کمزوری کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ اس سے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ ایسی چیز سے روزی حاصل کرتے ہیں جوان کو سیر نہیں کرتی۔ ضریع کا ذکر بطور ضرب المثل کیا ہے کہ انہیں بھوک کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا جس طرح اسے تکلیف دی جاتی ہے جسے ضریع کھلایاجائے۔ ترمذی حکیم نے کہا، یہ قول کرنے والے کی جانب سے مریض نظر وفکر ہے اور حقیر تامل ہے گویا یہ اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں متحیر ہیں وہ ذات پاک جس نے اس مٹی میں ضریع کو اگا گیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ دہکتی آگ میں اس ضریع کو اگائے، اللہ تعالیٰ نے سرسبز شاداب درخت سے ہمارے لیے آگ بنائی نہ آگ اس درخت کو جلاتی ہے اور نہ اس درخت میں پانی کی رطوبت آگ بجھاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، الذی جعل لکم الارض من الشجر الاخضر نارا فاذا انتم منہ توقدون۔ یاسین) وہ ذات پاک جس نے تمہارے لیے شاداب درخت سے آگ بنائی پس جس سے تم آگ روشن کرتے ہو جس طرح یہ بات کی گئی جب یہ آیت ونحشرھم یوم القیامۃ علی وجوھھم۔ الاسراء 97) ہم انہیں قیامت کے روز ان کے مونہوں کے بل اٹھائیں گے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ وہ اپنے مونہوں کے بل کیسے چلیں گے فرمایا وہ ذات جس نے انہیں پاؤں کے بل چلایا وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ انہیں منہ کے بل چلائے اس جیسی مثال میں سوائے دل کے ضعیف کے کوئی متحیر نہیں یا کیا ہم نے خبر نہیں دے دی جب بھی جلدیں پک جائیں گی تو ان کی جلدیں کسی اور چیز دے بدل دیں گے اسی طرح فرمایا، سرابیلھم من قطران۔ ابراہیم 50) اور فرمایا، ان لدینا انکالا۔ المزمل 12) یعنی ہمارے پاس بیڑیاں ہیں۔ ذاغصتہ کا معنی ہے کانٹوں والا، ان پر عذاب ان اشیاء کی وجہ سے مختلف ہوگا۔
Ayah 88:7

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نہ فربہی لائے گا نہ بھوک میں کچھ کام آئے

لایسمن ولایغنی من جوع۔ یعنی ضریع کو کھانے والا موٹا نہیں ہوگا جو کانٹے کھاتا ہے وہ کیسے موٹا ہوگا ؟ مفسرین نے کہا، یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکوں نے کہا ہمارے اونٹ توضریع کھاکر موٹے ہوجاتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی انہوں نے جھوٹ بوالا کیونکہ اونٹ اسے اس وقت کھاتا ہے جب وہ تر ہو جب وہ خشک ہوجائے تو اسے نہیں کھاتا ایک قول یہ کیا گیا ہے ان پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا انہوں نے اسے گمان یہ کیا کہ یہ بھی دوسری نفع مند چیزوں جڑی بوٹیوں کی طرح ہے کیونکہ مضارعۃ کا معنی مشابہت ہے انہوں نے اسے پایا کہ وہ نہ موٹا کرتی ہے اور نہ ہی بھوک مٹاتی ہے۔
Ayahs 88:8–10

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوگے

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

بہشت بریں میں

وجوہ یومئذ ناعمۃ، لسعیھا راضیہ، فی جنۃ عالیہ۔ یہاں ناعمہ نسبت کے معنی میں ہے یعنی ذات نعمہ یہ مومنوں کے چہرے ہوں گے انہوں نے اپنے امر اور اپنے عمل صالح کا انجام دیکھا تو وہ خوش ہوگئے جب انہیں اپنے عمل کے بدلے جنت دی جائے گی تو وہ ناراض ہوجائیں گے اس کا مجازی معنی یہ ہوگا انہوں نے جو عمل کیا ہوگا اس پر وہ راضی ہوگا یہاں واؤ مضمر ہے معنی ہے ووجوہ یومئذ واؤ مضمر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اور متقدم وجوہ کے درمیان فاصلہ ہے وجوہ سے مراد نفوس (ذاتیں) ہیں۔ وہ بلند جنت میں ہوں گے کیونکہ یہ آسمانوں سے بھی اوپر ہے جس طرح یہ پ ہے گزرچکا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ قدرومنزلت میں بلند ہیں کیونکہ ان میں وہ کچھ ہے جس کی نفوس خواہش کرتے ہیں اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 88:11

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے

لاتسمع فیھا لاغیہ۔ کوئی ایسی گفتگو نہیں سنیں گے جوان کے مقام سے فروتر ہو اور ناپسندیدہ ہو کہا، لاغیہ لغو اور لغا سب کا ایک ہی معنی ہے کہا عن اللغا ورفث التکلم لغو بات اور بےحیائی کی باتوں سے۔ فراء اور اخنس نے کہا، اس میں تو کوئی لغو کلمہ نہیں سنے گا اس کی مراد میں چھ وجوہ ہیں۔ (1) اس میں جھوٹے، بہتان اور اللہ تعالیٰ کا انکار نہ سنیں گے یہ حضرت ابن عباس کا فرمان ہے۔ (2) نہ باطل اور نہ گناہ کی کوئی بات سنیں گے یہ قتادہ کا قول ہے۔ (3) اس سے مراد گالی ہے یہ مجاہد کا قول ہے۔ (4) وہ معصیت کے بارے میں نہ سنیں گے یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ (5) کسی قسم اٹھانے والے کے بارے میں نہ سناجاجائے گا کہ وہ جھوٹی قسم اٹھاتا ہے یہ فراء کا قول ہے، کلبی نے کہا، جنت میں کسی آدمی کے بارے میں نہیں سناجائے گا کہ وہ سچی یاجھوٹی قسم اٹھاتا ہے۔ (6) ان کی گفتگو میں کوئی لغو کلمہ نہیں سناجائے گا کیونکہ جنتی صرف حکمت کی بات کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جن دائمی نعمتوں سے نوازا ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں یہ بھی فراء کا قول ہے، یہ سب سے اچھا قول ہے کیونکہ جو کچھ ذکر کیا گیا سب کو عام ہے۔ ابوعمرو اور ابن کثیر نے اسے لایسمع پڑھا ہے کہ یہ نائب الفاعل ہے اسی طرح نافع نے بھی بات کی ہے مگر تاء مضموم کے ساتھ ہے کیونکہ لاغیہ اسم مونث ہے فعل کو اس کی وجہ سے مونث ذکر کیا گیا ہے جس نے اسے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس کے نزدیک وجہ یہ ہے کہ فعل اور فاعل کے درمیان جار مجرور ہے باقی قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور مفتوح پڑھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وجوہ کی طرف منسوب ہے معنی یہ بنے گا اس میں وجوہ کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔
Ayahs 88:12–16

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں چشمے بہہ رہے ہوں گے

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور گاؤ تکئے قطار لگے ہوئے

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی

فیھا عین جاریہ۔۔۔ تا۔۔۔ مبثوثہ۔ اس میں اچھلتے پانیوں والے جاری چشمے ہوں گے اور مختلف قسم کے لذیذ مشروبات ان کی زمین پر بغیر کسی کھائی کے جاری ہوں گے سورة الانسان میں یہ بات پہلے گزرچکی ہے اس میں چشمے ہوں گے۔ عین، عیون کے معنی میں ہے واللہ اعلم۔ اس میں بلند پلنک ہوں گے روایت بیان کی گئی ہے اس کی بلندی اس قدر ہوگی جتنی آسمان اور زمین کے درمیان ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ولی اپنے اردگرد اپنے ملک کو دیکھ سکے۔ اس میں لوٹے اور برتن ہوں گے ابریق اسے کہت ہیں جس کا دستہ اور سنت ہوتی ہے کو ب ایسے برتن کو کہتے ہیں جس کا دستہ اور سنت نہیں ہوتی سورة زخرف اور دوسری سورتوں میں یہ گزرچکا ہے۔ تکیے ہوں گے نمارق کی واحد نمرقہ ہے وہ ایک دوسرے کے پہلو میں ہوں گے شاعر نے کہا : وانا لنجری الک اس بین شروبنا، وبین ابی قابوس فوق النمارق۔ بیشک ہم بھرا ہواجام اپنی باری اور ابوق اس کے درمیان تکیوں پر چلاتے ہیں اور ایک شاعر نے کہا : کھول وشبان حسان وجوھھم، علی سرر مصفوفہ ونمارق۔ پکی عمر کے اور جوان جن کے چہرے حسین ہیں وہ صف درصف پلنگوں اور تکیوں پر ہیں۔ صحاح میں ہے، النمرق اور النمرقہ دنوں سے مراد چھوٹا تکیہ ہے اسی طرح نموقہ بھی ایک لغت ہے یعقوب نے اس کی حکایت بیان کی ہے بعض اوقات کجاوے کے اوپر جو چٹائی سی رکھی جاتی ہے اسے نمرقہ کہتے ہیں یہ ابوعبید سے مروی ہے۔ ابوعبید نے کہا، زرابی سے مراد قالین ہے حضرت ابن عباس نے کہا، زرابی ان چٹائیوں کو کہتے ہیں جن کارواں نرم ہوتا ہے اس کا واحد زربیہ ہے کلبی اور فراء نے کہا، مبثوثہ کا معنی پھیلائی گئی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ایک دوسرے کے اوپر ہوں گی یہ عکرمہ نے کہا ایک قول یہ کیا گیا ہے بہت زیادہ، ایک قول یہ کیا گیا ہے مجالس میں متفرق، یہ قتبی کا قول ہے۔ میں کہتا ہوں، آخری معنی زیادہ صحیح ہے وہ قالین بہت زیادہ اور الگ الگ جگہ پر ہوں گے اس معنی میں وبث فیھا من کل دابہ۔ البقرہ) کا لفظ ہے ابوبکر انباری نے کہا، ہمیں احمد بن حسین نے انہیں حسین بن عرفہ نے انہیں عمار بن محمد نے روایت نقل کی ہے میں نے منصور بن معتمر کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے ھل اتاک حدیث الغاشیہ۔ پڑھی اس میں وزرابی مبثوثہ۔ پڑھا یعنی اس میں بچھے قالین ہوں گے جن میں ٹیک لگائے ہوئے خوش وخرم ہوں گے۔
Ayah 88:17

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کئے گئے ہیں

افلاینظرون الی الابل کیف خلقت۔ مفسرین نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے جنت و دوزخ کے اہل کا ذکر کیا تو کفار اس پر متعجب ہوئے انہوں نے جھٹلایا اور انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنی صنعت اور قدرت کا ذکر کیا اور یہ ذکر کیا کہ وہ ہر چیز پر قادر اس طرح ہے جس طرح اس نے حیوانات، آسمان اور زمین کو پیدا کیا پھر پہلے اونٹ کا ذکر کیا کیونکہ عربوں میں یہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور انہوں نے ہاتھیوں کو نہیں دیکھا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم مخلوق پر متنبہ کیا اللہ تعالیٰ اسے ایک چھوتے سے بچے کے لیے مسخر کردیا ہے جو اس کی مہار پکڑ لیتا ہے اور اسے بٹھاتا ہے اور اٹھاتا ہے وہ اس کے اوپر سامان لادتا ہے جب کہ وہ بیٹھا ہواہوتا ہے وہ بھاری وزن کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے یہ وصف کسی اور جاندار میں نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے ایک عظیم چیز دکھائی جو اس کی مخلوقات میں سے ایک چھوٹی سی چیز کے لیے مسخر کردی گئی ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کی توحید اور عظیم قدرت پر راہنمائی کرتی ہے۔ ایک حکیم کے بارے میں حکایت بیان کی گئی ہے۔ اس کے سامنے اونٹ اور اس کی عجیب و غریب تخلیق کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے جبکہ وہ ایسے علاقے میں پیدا ہوا تھا جہاں اونٹ نہیں ہوتے تھے اس نے غور کیا اور کہا ممکن ہے اس کی گردن لمبی ہو اور جب اللہ تعالیٰ نے اسے خشکی کی کشتیاں بنایا تو اسے پیاس برداشت کرنے پر صابربنادیا یہاں تک کہ وہ دس دن سے زائد پیاسارہ سکتا ہے اور اسے اس قابل بنایا کہ جنگلوں اور صحراؤں میں ہر شی کو چرلیتا ہے جسے دوسرے جانور نہیں چرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے بلند پلنگوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا ہم اس پر کیسے چڑھیں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل کیا اور یہ واضح کیا اونٹ بیٹھتے ہیں یہاں تک کہ ان پر بوجھ لادا جاتا ہے پھر وہ کھڑے ہوجاتے ہیں اس طرح وہ پلنگ نیچے ہوجاتے ہیں پھر بلند ہوجاتے ہیں اس معنی کی وضاحت قتادہ، مقاتل اور دوسرے علماء نے کی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں ابل سے مراد بادل کے عظیم ٹکڑے ہیں یہ مبرد نے کہا، ثعلبی نے کہا، ابل کا یہاں معنی بادل کیا گیا ہے ہم نے ائمہ کی کتابوں میں اس کی کوئی اصل نہیں دیکھی۔ میں کہتا ہوں، اصمعی ابوسعید، عبدالملک بن قریب نے ذکر کیا اور ابوعمرو نے کہا، جس نے، افلاینظرون الی الابل کیف خلقت۔ میں الابل کو تخفیف کے ساتھ پڑھا اس نے اس سے مراد اونٹ لیا ہے کیونکہ یہ چار ٹانگوں والا ہے وہ بیٹھتا ہے تو اس پر بوجھ لادا جاتا ہے جب کہ دوسرے جانوروں پر اس وقت بوجھ لادا جاتا ہے جب وہ کھڑے ہوتے ہیں جس نے الابل کو لام شدہ کے ساتھ پڑھا ہے اس نے اس سے مراد بادل لیا ہے جو پانی اور بارش کو اٹھاتا ہے۔ ماوردی نے کہا : ابل میں تو دو توج ہیں ہیں۔ دونوں سے زیادہ نمایاں اور مشہور ہے وہ یہ ہے کہ یہ چوپایا ہے۔ یہ بادل ہے اگر اس سے مراد بادل ہو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اور تمام مخلوقات کے منافع عام پر دال ہے اگر مراد چوپاؤں میں سے اونٹ ہیں تو کیونکہ تمام حیوانات سے زیادہ منافع کو جامع ہے کیونکہ حیوانات کی چارقسمیں ہیں۔ (1) دودھ دینے والے (2) سواری والے (3) کھائے جانے والے (4) باربرداری کے کام آنے والے۔ اونٹ ان چاروں کو جامع ہے اس میں نعمت عام ہے اور اس میں قدرت زیادہ مکمل ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کا خصوصا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ گھٹلی اور وقت (صحرائی دانہ) کھاتا ہے اور دودھ دیتا ہے، حضرت حسن بصری سے اس کے بارے میں پوچھا گیا اور کہا، ہاتھی عجوبہ ہونے میں بڑھ کر ہے ؟ فرمایا عرب کا اس سے کوئی تعلق واسطہ نہ تھا پھر وہ خنزیر کی طرح ہے اس کا گوشت نہیں کھایا جاتا اس کی پیٹھ پر سوار نہیں ہوا جاتا اور اس کا دودھ نہیں دوہا جاتا، قاضی شریح کہا کرتے تھے، ہمیں کناسہ (کوفہ کی منڈی) کی طرف لے چلو تاکہ ہم اونٹ کو دیکھیں کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا ہے، الابل کے لفظ میں کوئی واحد نہیں یہ مونث ہے کیونکہ اسم جمع کے لفظوں میں کوئی واحد نہیں ہوتا جب اسم جمع غیرانسانوں کے لیے استعمال ہو تو اس میں تانیث لازمی ہوتی ہے جب تو اس کو مصغر بنائے تو اس پر ھا داخل کرے گا تو تو کہے گا، ابیلۃ اغنیمۃ، وغیرہ بعض اوقات ابل کو ابل پڑھتے ہیں اس کی جمع آبالی آتی ہے۔
Ayahs 88:18–20

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا ہے

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی

والی السماء کیف۔۔۔ تا۔۔۔۔ سطحت۔ یعنی آسمانوں کو بغیر ستونوں کے زمین سے بلند کیا گیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اسے بلند کیا گیا کہ اسے کوئی چیز نہیں پہنچتی۔ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کیسے زمین پر نصب کردیا گیا ہے کہ وہ زائل نہیں ہوتے اس کی وجہ یہ بنی کہ جب زمین کو پھیلایا گیا تو وہ ایک طرف جھکنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پہاڑوں کے ذریعے قائم کردیا جس طرح فرمایا، وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبھم، الانبیاء 31) اور ہم نے بنادیے زمین میں بڑے بڑے پہاڑ تاکہ زمین لرزتی نہ رہے ان کے ساتھ۔ زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اسے پھیلادیا گیا ہے، حضرت انس نے کہا، میں نے حضرت علی کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے ان تمام افعال کو واحد متکلم ماضی کا صیغہ پڑھا اور ضمیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا، محمد بن سمیقع اور ابولعالیہ بھی اسی طرح پڑھتے تھے، مفعول بہ محذوف ہے معنی ہے میں نے اسے پیدا کیا اس طرح باقی ماندہ افعال ہیں۔ حضرت حسن بصری، ابوحیوۃ، ابورجاء نے اسے سطحت پڑھا ہے، ایک جماعت نے اس طرح پڑھا مگر ظاء میں تخفیف کی ابل کو پہلے ذکر کیا اگر کسی اور چیز کو پہلے ذکر کیا تو جائز ہے، قشیری نے کہا، یہ ایسی چیز نہیں جس میں کسی قسم کی حکمت کا مطالبہ کیا جائے، ایک قول یہ کیا گیا ہے عربوں کے حق میں یہ لوگوں کے سب سے قریب ہے کیونکہ ان کے ہاں اونٹ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اونٹ کے بارے میں یہ لوگوں کی بنسبت زیادہ جانتے ہیں نیز اونٹوں کے فوائد دوسرے حیوانات کی بنسبت بہت زیادہ ہیں اس کا گوشت کھایا جاتا ہے اس کا دودھ پیا جاتا ہے یہ باربرداری اور سواری کے قابل ہے لمبی مسافتیں اس پر طے کی جاتی ہیں یہ پیاس پر صبر کرسکتا ہے چارہ کم کھاتا ہے بہت زیادہ بوجھ اٹھاتا ہے عربوں کا سب سے قیمتی مال ہے عرب اونٹوں پر تنہا سفر کرتے ہیں جبکہ وہ لوگوں سے وحشت محسوس کرتے تھے وہ اپنی سواری میں دیکھتا پھر اس کی نظر آسمان کی طرف چلی جاتی پھر زمین کی طرف چلی جاتی اس وجہ سے انہیں ان چیزوں میں غوروفکر کا حکم دیا گیا کیونکہ یہ مختار اور قادر صانع پر واضح ترین دلیل ہے۔
Ayahs 88:21–22

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

تو تم نصحیت کرتے رہو کہ تم نصحیت کرنے والے ہی ہو

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

تم ان پر داروغہ نہیں ہو

فذکر انماانت۔۔۔ تا۔۔۔۔ حسابھم۔ اے محمد ﷺ ! انہیں نصیحت کیجئے اور انہیں خبردار کیجئے آپ تو محض نصیحت کرنے والے ہیں آپ کو ان پر مسلط نہیں کیا گیا کہ آپ انہیں قتل کردیں پھر اسے جہاد والی آیت نے منسوخ کردیا ہے، ہارون اعور نے اسے بمسیطر پڑھا ہے اسی طرح المصیطرون۔ طور) پڑھا ہے، یہ بنوتمیم کی لغت ہے صحاح میں ہے : مسیطر اور مصیطر کا معنی ہے جو کسی پر مسلط ہو تاکہ اس پر نگاہ رکھے، اس کے احوال کا جائزہ لے اور اس کے عمل کو لکھے اصل میں یہ سطر سے مشتق ہے کیونکہ سطر کا معنی ہے کہ وہ تجاوز نہ کرے، کیونکہ کتاب مسطر ہے جو ایسا کرتا ہے وہ مسطر اور مسیطر ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، سیطرت علینا تو نے ہم پر تسلط پالیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لست علیھم بمصیطر، یعنی اس کو پچھاڑ دیا۔
Ayahs 88:23–26

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بیشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے

الا من تولی وکفر۔ یہ مستثنی منقطع ہے لیکن جو وعظ اور تذکیر سے روگردانی کرے عذاب اکبر سے مراد جہنم ہے اس کا عذاب دائمی ہے یہاں آخرت کے عذاب کے لیے اکبر کا لفظ ذکر کیا کیونکہ دنیا میں انہیں بھوک، قحط، قید اور قتل کی سزا دی گئی اس تاویل کی دلیل حضرت ابن مسعود کی قرات ہے، الامن تولی وکفر فانہ یعذبہ اللہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مستثنی متصل ہے معنی یہ ہوگا آپ مسلط نہیں ہیں مگر ان لوگوں پر جنہوں نے اعراض کیا، اور کفر کا ارتکاب کیا آپ ان پر جہاد کے ذریعے مسلط ہیں اس کے بعد اللہ تعایل انہیں عذاب اکبر دے گا اس تعبیر کی بنا پر آیت میں کوئی نسخ نہیں۔ روایت بیان کی گئی کہ حضرت علی کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے ارتداد اختیار کیا تھا آپ نے تین دن تک اس سے توبہ کا مطالبہ کیا تو وہ اسلام کی طرف نہ لوٹا آپ نے اس کی گردن اڑادی اور یہ آیت تلاوت کی، الا من تولی وکفر۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے اسے الا پڑھا ہے اس سے مراد نئی کلام کا آغاز اور تنبیہ ہے جس طرح امراء القیس کا قول ہے : الاربک یوم لک منھن صالح۔ خبردار تیرے لیے ان کے کئی اچھے دن ہیں۔ من، اس تعبیر کی بنا پر شرط کا معنی دے گا اس کا جواب، فیعذبہ اللہ، ہے فاء کے بعد مبتداء مضمر ہے تقدیر کلام یوں ہوگی فھو یعذبہ اللہ کیونکہ اگر جواب کا ارادہ فعل سے ہوتا جو فاء کے بعد ہے تو کلام یوں ہوگا، الا من تولی وکفر یعذبہ اللہ۔ موت کے بعد ان کا رجوع ہماری طرف ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، اب یئوب جس کا معنی لوٹنا ہے عبید نے کہا، وکل ذی غیبۃ، یئوب و غائب الموت لایتوب۔ ہر غائب لوٹ آتا ہے موت کا غائب ہونے والا نہیں لوٹتا۔ ابوجعفر نے ایابھم پڑھا، ابوحاتم نے کہا، تشدید جائز نہیں اگر یہ جائز ہوتاتو پھر صیام اور قیام میں بھی جائز ہوتا ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں جن کا معنی ایک ہی ہے، زمخشری نے کہا، ابوجعفر مدنی نے ایابھم پڑھا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ فیعال کا وزن ہے ایب کا مصدر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ایاب ہے یا یہ اصل میں اواب ہے فعال کا وزن ہے جو اوب سے مشتق ہے پھر ایواب بناجس طرح دیوان اصل میں دوان تھا پھر اس کے ساتھ وہ معاملہ کیا گیا ہے جو سید کے ساتھ کیا گیا۔