Ayah 87:1سبح اسم ربک الاعلی۔
قاری کے لیے مستحب یہ ہے کہ جب وہ اس آیت کو پڑھتے تو اس کے بعد وہ سبحان ربی الاعلی کہے، یہ نبی کریم کا فرمان ہے، صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کا بھی یہی نقطہ نظر ہے جن کا ذکر بعد میں ہورہا ہے، جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جس کو حزقیائیل کہتے ہیں جس کے اٹھارہ ہزار پر ہیں ایک پر سے دوسرے پر کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اس کے دل میں خیال آیا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ تو تمام عرش کو دیکھے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اتنے ہی پروں کا اضافہ کیا، اس کے چھتیس ہزار پر ہوگئے ایک پر سے دوسرے کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی، اے فرشتے تو اڑ وہ بیس ہزار سال تک اڑتا رہا تو وہ عرش کے پائیوں میں سے ایک پائے تک نہ پہنچ سکا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے پروں اور قوت میں اضافہ کردیا اور اسے حکم دیا کہ وہ اڑے وہ تیس ہزار سال تک مزید اڑتا رہا تو وہ بھی نہ پہنچ سکا اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی، اے فرشتے اگر تو اپنی قوت اور پروں کے ساتھ صورپھونکنے تک اڑتا رہے تب بھی میرے عرش کے پائے تک نہ پہنچ سکے فرشتے نے کہا، سبحان ربی الاعلی، تو اللہ تعالیٰ اس آیت کو نازل فرمایا، نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اجعلوھا فی سجود، کہ تم اسے اپنے سجدہ میں رکھ لو، ثعلبی نے یہ روایت اپنی کتاب العرائس میں ذکر کی ہے، حضرت ابن عباس اور سدی نے کہا، کہ اس آیت کا معنی ہے اپنے بلندو برتر رب کی عظمت بیان کیجئے۔ اسم صلہ زائد ہے مقصود مسمی کی عظمت بیان کرتا ہے جس طرح لبید نے کہا : الی الحول ثم اسم السلام علیکما۔ ایک سال تک روتی رہو پھر تمہیں امن و سکون آئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے اپنے رب کی، بری بات اور ملحد جو کچھ اس کے بارے میں کہتے ہیں اس سے پاکی بیان کرو، طبری نے یہ ذکر کیا ہے کہ معنی ہے، اپنے رب کی اس بات سے پانی بیان کرو، کہ تو یہ نام کسی اور کے لیے منتخب کرے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اپنے رب کے نام اور اس کے ذکر کو پاک کرو اس طرح کہ تو اس کا ذکر کرے تو خشوع کا اظہار کرنے والا اور تعظیم بجالانے والا ہو، اس کا ذکر محترم ہے علماء نے اسم کو تسمیہ کے معنی میں لیا ہے اولی یہ ہے کہ اسم، مسمی کے معنی میں ہو، نافع نے حضرت ابن عمر سے روایت نقل کی ہے، تو علی اسم اللہ نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام ہی الاعلی ہے۔ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ معنی ہے اپنے بزرگ و برتر رب کے حکم سے نماز ادا کروکہاتویہ کہے سبحان ربی الاعلی، حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت ابن زبیر، حضرت ابوموسی، اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ جب وہ اس سورت کی قرات کا آغاز کرتے تو وہ کہتے، سبحان ربی الاعلی، تاکہ اس امر کی اطاعت ہوجائے جو اس سورت کے آغاز میں ہے، اس لیے قرات میں ان کی اقتداء کرنا پسندیدہ ہے اس لیے نہیں کہ سبحان ربی الاعلی، قرآن حکیم کا حصہ ہے، جس طرح بعض کج رو لوگ کہتے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت ابی کی قرات میں ہے سبحان ربی الاعلی، حضرت ابن عمر بھی یہی پڑھا کرتے تھے حدیث میں ہے کہ رسول اللہ جب اس آیت کو پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلی۔ ابوبکر انباری نے کہا، مجھے محمد بن شہر یار نے انہوں نے حسین بن اسود سے انہوں نے عبدالرحمن بن ابی حماد سے انہوں نے عیسیٰ بن عمر سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی شیر خدا نے نماز میں اس سورت کو پڑھا تو کہا، سبحان ربی الاعلی، جب نماز ختم ہوئی تو ان سے عرض کی گئی اے امیر المومنین کیا آپ قرآن میں اضافہ کرتے ہیں پوچھا وہ کیا ؟ لوگوں نے کہا، سبحان ربی الاعلی، فرمایا تمہیں ایک چیز کا حکم دیا گیا پس میں نے وہ کہا ہے۔ عقبہ بن عامر جہنی سے مروی ہے، جب سبح اسم ربک الاعلی، نازل ہوئی تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اسے تم اپنے سجدہ میں رکھو لو، یہ سب دلائل اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ اسم سے مراد مسمی ہے کیونکہ انہوں نے یہ نہیں کہا، سبحان اسم ربی الاعلی۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : سب سے پہلے جس نے سبحان ربی الاعلی کہا وہ حضرت میکائیل (علیہ السلام) ہیں، نبی کریم نے حضرت جبرائیل امین سے فرمایا، جس آدمی نے نما یا غیر نماز میں سبحان ربی الاعلی کہا، اس کا ثواب کیا ہے ؟ حضرت جبرائیل امین نے عرض کی اے محمد ﷺ جو مومن مرد یا عورت سجدہ میں غیر سجدہ میں کہے تو یہ کلمہ اس کے میزان میں عرش، کرسی اور دنیا کے پہاڑوں سے بڑھ کر بھاری ہوگا اللہ تعالیٰ فرمائے گا، میرے بندے نے سچ کہا ہے میں سب چیزوں پر غالب ہوں اور مجھ کوئی غالب نہیں اسے میرے فرشتوں گواہ رہو، میں نے اسے بخش دیا ہے اور اسے جنت میں داخل کردیا ہے جب ایسا بندہ فوت ہوجاتا ہے تو حضرت میکائل ہر ورز اس کی زیارت کرتے ہیں اور جب قیامت کا دن ہوگا تو اسے اپنے پروں پر بٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کریں گے وہ عرض کرے گا اے میرے رب اس کے حق میں میری سفارش قبول کیجئے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اس کے بارے میں تیری شفاعت قبول کی اسے جنت کی طرف لے جا۔ حضرت حسن نے کہا : اس کا معنی ہے اپنے برتررب کے لیے نماز پڑھ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے اسماء کے ساتھ نماز پڑھو نہ کہ مشرکین کی طرح نماز پڑھو جو سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے، اپنے رب کا ذکر کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کیجئے، جریر نے کہا : قبح اللہ وجوہ تغلب کلما، سبح الحجیح وکبرو تکبرا۔ اللہ تعالیٰ تغلب کے وجوہ کو رسوا کرے جب بھی حاجی اس کے ذکر کے ساتھ آواز بلند کریں اور تکبیر کہیں۔
Ayah 87:2الذی خلق فسوی۔۔ تا۔۔۔ احوی۔
الذی خلق فسوی۔ تسویہ کا معنی سورة الانفطار اور دوسری صورتوں میں گزرچکا ہے یعنی جو بنایا اس کو درست بنایا اس کی تخلیق میں کوئی بھدا پن نہیں ہے زجاج نے کہا، اس کی قدوقامت کو مناسب بنایا، حضرت ابن عباس سے مروی ہے جو پیدا کیا اس کو حسین بنایا، ضحاک نے کہا، حضرت آدم کو بنایاتوان کی خلقت کو مناسب کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے آباء کی پشتوں میں پیدا کیا اور ماؤں کے رحموں میں درست کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے اجسام کو ابنایا اوذہنوں کو درست کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے انسان کو بنایا اور اسے مکلف بنانے کے لیے تیار کیا۔
Ayah 87:3والذی قدر فھدی۔ حضرت علی، اسلمی اور کسائی نے اسے قدر پڑھا ہے جب کہ باقی قراء نے اسے مشدد پڑھا ہے، دونوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی ہر ایک شکل مقدر کی اور اس کو تیار کیا اور اس کی راہنمائی کی، مجاہد نے کہا، شقاوت اور سعادت کو مقدر کیا اور ہدایت اور گمراہی کی طرف راہنمائی کی، ان سے ایک قول یہ بھی مروی ہے انسان کی ہدایت اور سعادت کی طرف راہنمائی کی اور چوپاؤں کی چراگاہوں کی طرف راہنمائی کی، ایک قول یہ کیا، ان کے رزق کو مقدر کیا اگر وہ انسان تھے تو ان کی معاش کی طرف ان کی راہنمائی کی اور اگر چوپائے تھے تو ان کی چراگاہوں کی طرف ان کی راہنمائی کی۔ حضرت ابن عباس، سدی، مقاتل، اور کلبی نے فھدی کے بارے میں یہ قول کیا ہے کہ مخلوق کو پہچان کرائی گئی کہ مذکر ومونث کے پاس کیسے آئے جس طرح سورة طہ میں، اعطی کل شئی خلقہ ثم ھدی۔ کے ضمن میں بیان فرمائی، یعنی مذکر کی مونث کی طرف راہنمائی کی، عطا نے کہا، ہر جانور کے لیے وہ بنایاجو اس کے لیے مناسب تھا، اور اس کی اس چیز کی طرف راہنمائی کی ایک قول یہ کیا گیا ہے، اشیاء میں منافع کو پیدا کیا اور انسان کی راہنمائی کی کہ وہ کس طرح ان منافع کو حاصل کریں ایک قول یہ کیا گیا ہے ہر حیوان کے لیے اس چیز کو مقدر کیا جو اس کے لیے موزوں تھا اور اس کی اس طرح راہنمائی کی اور اس سے نفع اٹھانے کا طریقہ بتایا۔ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ سانپ کی عمر جب ایک ہزار سال ہوجاتی ہے تو وہ اندھا ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے الہام کرتا ہے کہ وہ ترسمار کے پتوں کے ساتھ اپنی آنکھ کو ملے تو اس کی نظر اس کی طرف لوٹ آئے گی بعض اوقات وہ خشک علاقہ میں ہوتا ہے اور اس کے اور ریف کے درمیان کئی دنوں کی مسافت ہوتی ہے وہ اس مسافت کو طوالت اور اندھا ہونے کے باوجود طے کرتا ہے یہاں تک کہ وہ کسی باغ میں سمار کے درخت تک جاپہنچتا ہے۔ وہ اس میں کوئی غلطی نہیں کرتا، اس کے ساتھ اپنی آنکھ رگڑتا ہے اور اللہ کے حکم سے اس کی آنکھ نور والی ہوجاتی ہے۔ انسان کی جو اس کی مصالح کی طرف راہنمائی کی جاتی ہے اور اس کے حوائج کی طرف جو راہنمائی کی جاتی ہے وہ کسی حدوشمار میں نہیں غذاؤں سے متعلق ہو، دواؤں سے متعلق ہو، دنیا کے معاملات سے ہو یا دین کے معاملات میں سے ہے۔ چوپاؤں اور پرندوں اور حشرات الارض کے الہامات کا باب بہت وسیع و عریض ہے کسی بیان کرنے والا کا وصف اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ فسبحان ربی الاعلی۔
سدی نے کہا : جنین کے لیے رحم میں نوماہ کی مدت کو مقید کیا کچھ کم اور کچھ زائد پھر رحم سے نکلنے کا طریقہ بنایا، فراء نے کہا، یعنی مقدر کیا پس ہدایت دی اور گمراہ کیا، ان دوچیزوں میں سے ایک کے ذکر پر اکتفا کیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، سرابیل تقیکم الحر، النحل 81) ایسے لباس جو بچاتے ہیں تمہیں گرمی سے یہ بھی احتمال موجود ہے کہ اس کا معنی ہو ایمان کی طرف دعوت دی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وانک لتھدی الی صراط مستقیم۔ الشوری) بیشک آپ راہ مستقیم کی طرف دعوت دینے والے ہیں، اور سب کو ایمان کی طرف دعوت دی، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے افعال کے ذریعہ اپنی توحید پر راہنمائی کی اور اپنے عالم اور قادر ہونے کی راہنمائی کی، اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جس نے دل کو مشدد پڑھا ہے تو اسے تقدیر سے مانتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وخلق کل شئی فقدرہ تقدیرا۔ الفرقان) اور ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کا اندازہ لگایا، اور جس نے اسے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے تواحتمال موجود ہے کہ وہ تقدیر سے ہو اور دونوں کا معنی ایک ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ قدرت اور ملک کے معنی میں ہو یعنی وہ اشیاء کا مالک ہے اور جس کے بارے میں اسے ہدایت دی۔ میں کہتا ہوں : میں نے اپنے ایک شیخ سے سناوہ کہتے ہیں الذی خلق فسوی وقدر فھدی یہ علو کی تفسیر ہے جو تمام مخلوقات پر اللہ تعالیٰ کے جلال کے مناسب ہے۔
Ayahs 87:4–5والذی اخرج المرعی۔
بعض اوقات کھیتی گوبروالی زمین پر پیدا ہوجاتی ہے۔
فعلہ غثاء احوی۔ غثاء سے مراد وہ چیز ہے جسے سیلاب وادی کی اطراف پر پھینک دیتا ہے وہ گھاس ہو، نباتات ہو یاچھوٹے چھوٹے ریزے ہوں، اسی طرح جب یہ لفط مشدد استعمال ہو اس کی جمع اغثاء آتی ہے قتادہ نے کہا، غثاء سے مراد خشک چیز ہے سبزی اور گھاس جب ٹکرے ٹکڑے اور خشک ہوجائے تو اسے غثاء کہتے ہیں جس طرح کہا : کان طمیۃ المجیمرۃ غدوۃ، من السیل والاغثاء فلکۃ مغزل۔ گویا مجیمر کا پہاڑ اس صبح سیلاب اور گھاس پھوس کی وجہ سے چرخے کا دمکڑا تھا۔ اہل لغت نے یہ حکایت بیان کی ہے، غثا الوادی وجفا اسی طرح پانی ہے جب اس پر جھاگ اور چھوتے چھوٹے ذرات غالب آجائیں جن سے نفع نہ اٹھایاجاسکتا ہو، احوی کا معنی سیاہ ہے یعنی نباتات زیادہ سبز ہونے کی وجہ سے سیاہی مائل ہوتی ہیں جس طرح ایک چیز سیاہ ہوتی ہے، حوہ کا معنی سیاہ ہے۔
صحاح میں ہے : حوہ کا معنی ہونٹ کا گندم گو ہونا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، رجل احوی، امرۃ احوا، وقد حویت بعیر احوا۔ جب اسکی سبزی میں سیاہی اور زردی مل جائے۔ احوی کی تقصیر احیوآتی ہے یہ اس کی لغت کے مطابق ہے جو اسیود کہتا ہے۔ پھر کہا گیا یہ جائز ہے کہ احوی المرعی سے حال ہے اس کا معنی ہوگا اس کے انتہائی سرسبز ہونے کی وجہ سے اسے سیاہی مائل سمجھا جاتا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی، اخرج المرعی احوی فعلہ غثاء، یہ جملہ بولا جاتا ہے، حوی النبت یہ کسائی نے بیان کیا ہے اور کہا : وغیث من الوسمی حوتلاعہ۔ موسم بہار کی پہلی بارش کی وجہ سے اس کے ٹیلے سیاہ ہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ احوی، غثاء، کی صفت ہو اس کا معنی ہوگا وہ سرسبز و شاداب ہونے کے بعد اس طرح ہوگئی ابوعبیدہ نے کہا : اس کے جلنے اور پرانا ہونے کی وجہ سے سیاہ بنادیا، ترچیز جب خشک ہوجاتی ہے تو وہ سیاہ ہوجاتی ہے۔ عبدالرحمن بن زید نے کہا اس نے سبزچراگاہ نکالی پھر جب خشک ہوئی تو اس کے جلنے کی وجہ سے سیاہ ہوگئی، اور غثاء بن گئی جسے ہوائیں اور سیلاب کا پانی بہا کرلے جاتا ہے، یہ ضرب المچل ہے جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے بیان فرمائی ہے کہ کیونکہ دنیا تروتازگی کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔
Ayahs 87:6–7سنقرئک فلا تنسی۔۔۔ تا۔۔۔ للیسری۔
سنقرئک فلا تنسی۔ اے محمد ﷺ ہم تجھے قرآن پڑھائیں گے اور تجھے تعلیم دیں گے اور آپ نہ بھولیں گے یعنی آپ یاد رکھیں گے یہ ابن وہب نے امام مالک سے روایت کی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بشارت ہے، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کو ﷺ کو بشارت دی کہ اس نے اسے واضح نشانی عطا فرمائی ہے وہ یہ کہ جبرائیل امین آپ پر جو بھی پڑھتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے جبکہ رسول اللہ امی ہیں نہ لکھنا سیکھا اور نہ پڑھا آپ ﷺ اسے یادرکھتے ہیں اور اسے بھولتے نہیں، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ بھول جانے کے ڈر سے اسے یاد کیا کرتے تھے تو آپ کو کہا گیا میں تجھے اس کی جانب سے کافی ہوں، اس تعبیر کی بنا پر جو قول فراء نے کیا ہے استثناء کی صورت یہ ہوگی، الاماشاء اللہ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا کہ آپ کچھ بھولیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، خالدین فیھا مادامت السماوات والارض الاماشاء ربک (ہود 107) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین موجود رہیں مگر جب تیرا رب چاہے اور وہ ایسا نہیں چاہے گا۔ کلام عربی میں بھی یوں بات کی جاتی ہے، لاعطیتک کل ماسالت الاماشئت۔ میں تجھے ضرور عطا کروں گا جو تومجھ سے سوال کرے گا مگر جو میں چاہوں، یعنی جو توسوال کرے گا میں تجھے ضرور دوں گا مگر جو میں روکنا چاہوں گا جب کہ نیت یہ ہو کہ وہ اس سے کوئی چیز نہ روکے گا، قسموں میں یہی طریقہ مروج ہے ان میں سے کسی چیز کی استثناء کی جاتی ہے، جبکہ قسم اٹھانے والے کی نیت ہوتی ہے کہ وہ اس کو مکمل کرے گا، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ اس آیت کے نزول کے بعد نہ بھولے، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوامگر جو اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ کوئی چیز نہ بھولتے مگر جو اللہ تعالیٰ چاہتا، ان اقوال کی بنا پر یہ قول کیا گیا ہے مگر جو اللہ چاہے کہ بھولیں، مگر اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ کچھ نہ بھولے، ایک قول یہ کیا گیا مگر جو اللہ تعالیٰ چاہے کہ بھولیں پھر آپ کو بعد میں یاد آجاتا ہے جب کبھی آپ بھولتے تو آپ کو یاد آجاتا، آپ کلی طور پر نہ بھولا کرتے تھے ایک روایت بیان کی گئی ہے کہ آپ نے نماز میں ایک آیت کو چھوڑ دیا حضرت ابی نے گمان کیا کہ وہ منسوخ ہوگئی ہے، حضرت ابی نے رسول اللہ سے پوچھا تو رسول اللہ نے فرمایا، میں بھول گیا تھا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ نسیان سے مشتق ہے معنی یہ ہوگا مگر جو اللہ تعالیٰ تجھے بھلانا چاہے، پھر یہ کہا گیا کہ یہ نسخ کے معنی میں ہے پھر معنی یہ ہوگا مگر جو اللہ تعالیٰ منسوخ کردے، استثناء بھی نسخ کی ایک صورت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ نسیان کا معنی ترک کرنا ہے معنی یہ ہوگا اللہ تعالیٰ تجھے محفوظ رکھے گا کہ آپ کسی عمل کو ترک کریں مگر جو اللہ تعالیٰ چاہے کہ آپ اسے ترک کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا، یہ عمل کا نسخ ہوگا اور پہلامعنی قرات کے نسخ کے بارے میں ہوگا، فرغانی نے کہا، جنید بغدادی کی مجلس میں ایک صاحب علم آتا اور ابن کیسان نحوی بھی آتا تھا وہ ایک جلیل القدر انسان تھے، ایک دن ابن کیسان نے کہا، اے اباالقاسم آپ اللہ تعالیٰ کے فرمان سنقرءک فلاتنسی، کے بارے میں کیا فرماتے ہیں تو انہوں نے جلدی جواب دیا گویا ان سے پہلے کئی دفعہ سوال ہوچکا تھا اس پر عمل کرنا نہیں بھولتے ابن کیسان نے کہا، اللہ تعالیٰ تیرے منہ کو سلامت رکھے تجھ جیسے آدمی گفتگو سے اپنی رائے سے پھرا جاسکتا ہے، اس آیت میں لانفی کے لیے ہے نہی کے لیے نہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے لانہی کے لیے ہے فعل کے آخر میں یاء اس لیے ثابت ہے کیونکہ آیات کے سرے اس طرح ہیں معنی یہ ہوگا اس کی قرات اور تکرار سے غافل نہ ہوں کہ آپ اسے بھول جائیں مگر جو اللہ تعالیٰ اسے بھلادے یا اس کی وجہ سے یہ ہو کسی مصلحت کے تحت اس کی تلاوت منسوخ کردی۔ پہلا نقطہ نظر پسندیدہ ہے کیونکہ نہی سے استثناء نہیں ہوگی مگر وہ موقت اور معلوم ہوتی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ یاء تمام مصاحف میں موجود ہے اس پر قراء کا اتفاق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے مگر اللہ تعالیٰ جس کے نازل کرنے کو موخر کردے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے اسے غثا احوی بنادیا، مگر جسے انسان اور حیوان کھالیں، کیونکہ وہ چیز اس طرح نہیں ہوتی۔
انہ یعلم الجھر ومایخفی۔ جھر سے مراد اعلانیہ قول اور عمل ہے اور یخفی سے مراد رات ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس سے مراد ہے جو تیرے دل اور نفس میں مخفی ہے محمد بن حاتم نے کہا، اللہ تعالیٰ صدقہ کے اظہار اور اس کے اخفاء کو جانتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جھر سے مراد جو تونے اپنے سینے میں قرآن کو محفوظ کیا ہے، اور مایخفی سے مراد جو تیرے سینے سے مٹادیا گیا ہے۔
Ayah 87:8ونیسرک للیسری ،۔ اس کا عطف سنقرءک اور انہ یعلم الجھر ومایخفی۔ درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ یسری کا معنی ہے آسان راستہ، یہ بھلائی کا عمل ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، ہم تجھے اچھا عمل کرنے کی توفیق دیں گے، حضرت ابن مسعود نے کہا، یسری سے مراد جنت ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم تجھے شریعت یسری کی توفیق دیں گے، اس سے مراد، حنیفتہ، سمحہ سھلہ، ایسی شریعت جس میں یہ صلاحیتیں موجود ہیں، یہ ضحاک نے معنی بیان کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ہم آپ پر وحی کو آسان کردیں گے، یہاں تک آپ یاد کرلیں گے اور اس پر عمل کرلیں گے۔
Ayah 87:9فذکر ان نفعت الذکری۔
اے محمد ﷺ آپ اپنی قوم کو قرآن کے ذریعے نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت نفع دے، یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے یہ مومن کے لیے نصیحت اور کافر کے خلاف دلیل ہے، حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے یہ میرے دوستوں کو نفع دیتی ہے اور میرے دشمنوں کو نفع دیتی ہے اور میرے دشمنوں کو نفع نہیں دیتی۔ جرجانی نے کہا، نصیحت کرنا واجب ہے اگرچہ وہ نفع نہ دے اس کا معنی یہ ہے نصیحت کیجئے اگر نصیحت نفع ندے یا نصیحت نفع نہ دے تو کلام میں حذف ہے جس طرح ارشاد ہے، سرابیل تقیکم الحر۔ النحل 81) پائجامے تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مخصوص افراد کے لیے ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان، ما کے معنی میں ہے یعنی آپ نصیحت کریں جب تک نصیحت نفع دے تو ان، مامصدریہ کے معنی میں ہوگا، شرط کے معنی میں نہیں کیونکہ نصیحت ہر حال میں نفع دینے والی ہے، ابن شجرہ نے کہا، بعض علماء عربیہ نے کہا، ان، اذا کے معنی میں ہے یعنی جب وہ نفع دے جس طرح اللہ تعالیٰ فرمان ہے، وانتم الاعلون ان کنتم مومنین۔ آل عمران) تمہیں غالب ہو جب تم مومن ہو، یہاں بھی، ان اذا کے معنی میں ہے یعنی تم غالب ہو جب تم مومن ہو، ان کے غالب آنے کی خبر نہیں دی گئی مگر ایمان لانے کے بعد وہ غالب ہوں گے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ان قد کے معنی میں ہے۔
Ayah 87:10سیذکر من یخشی۔
جو اللہ تعالیٰ سے تقوی اختیار کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے وہ نصیحت حاصل کرے گا، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابن مکتوم کے حق میں نازل ہوئی، ماوردی نے کہا : جو آدمی اس سے امیدر کھتا ہے وہ بھی نصیحت حاصل کرتا ہے مگر ڈرنے والے کا نصیحت حاصل کرنا امیدر کھنے والے کے نصیحت حاصل کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔ اس وجہ سے یہاں تذکرہ کو خشیت کے ساتھ معلق کیا ہے رجاء کے ساتھ معلق نہیں کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ وعظ ونصیحت ہر کسی کو کریں گے اگرچہ واعظ اسے نفع دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے لیکن تجھے دعوت کا ثواب تو مل جائے گا یہ قشیری نے بیان کیا ہے۔
Ayahs 87:11–13ویتجنبھا الاشقی۔۔۔ تا۔۔ ولایحییٰ ۔
وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کے علم میں بدبخت ہے وہ نصیحت سے اجتناب کرے گا اور اس سے دور بھاگے گا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئیں۔ کبری سے مراد بڑی آگ ہے یہ جہنم کے طبقوں میں سے سب سے نچلا طبقہ ہے یہ فراء نے کہا، حضرت حسن بصری سے مروی ہیی، کبری سے مراد جہنم کی آگ ہے اور صغری سے مراد دنیا کی آگ ہے یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ وہ نہ مرے گا کہ عذاب سے آرام پائے اور نہ ایسی زندگی پائے گا جو اسے نفع دے، جس طرح شاعر نے کہا : الامالنفس لات موت فینقضی، عناھا ولاتحیا حیاۃ لھاطعم۔ خبردار نفس کے لیے موت نہ ہوگی کہ اس کی مشقت ختم ہوجائے اور نہ اس کے لیے ایسی زندگی ہے جس کے کھانا ہو، سورة النساء اور دوسری سورت میں حضرت ابوسعید خدری کی حدیث گزرچکی ہے کہ مومنوں میں سے موحد جب جہنم میں داخل ہوں گے، فراء کے قول کے مطابق، یہ نار صغری ہوگی وہ اس میں جل جائیں گے اور اس سے مرجائیں گے یہاں تک کہ ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے بدبخت لوگ اپنی بدبختی میں مختلف ہوتے ہیں یہ وعید بدبخت ترین کے لیے ہے اگر کوئی شقی ہوگا تو اس رتبہ کو نہ پہنچے گا۔
Ayahs 87:14–15قد افلح من تزکی۔۔۔ فصلی
اس میں تین مسائل ہیں :
تزکی سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ قدافلح، جس نے ایمان کے ذریعے شرک سے پاکیزگی حاصل کی اس نے جنت میں بقا کو پالیا، حضرت حضرت ابن عباس، عطا اور عکرمہ کا قول ہے، حضرت حسن بصری، اور ربیع نے کہا، جس کا عمل بڑھنے والا تھا اس نے کامیابی حاصل کی، معمر نے قتادہ سے ذکر کیا ہے جس نے اچھے عمل کے ذریعے تزکیہ کیا، ان سے، عطا سے اور ابوالعالیہ سے مروی ہے، یہ حکم صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوا۔ ابن سیرین نے کہا : وہ نکلا اور صدقہ فطر کی ادائیگی کے بعد نماز ادا کی، عکرمہ نے کہا، آدمی کہا کرتا تھا میں صدقہ فطر اپنی نماز سے پہلے ادا کرتا ہوں، سفیان نے کہا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قدافلح۔ حضرت ابوسعید اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے یہ صدقہ فطر اور نماز عید کے متعلق ہے ابوالعالیہ نے بھی اسی طرح کہا ہے اور کہا، اہل مدینہ اس سے اور پانی پلانے سے بہتر کوئی صدقہ خیال نہ کرتے تھے، کثیر بن عبداللہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا، قد افلح من تزکی سے مراد ہے جس نے صدقہ سے مراد ہے جس نے صدقہ فطر دیا، وذکر اسم ربہ فصلی۔ سے مراد ہے جس نے عید کی نماز پڑھی، حضرت ابن عباس اور ضحاک نے کہا جس نے راستے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور نماز عید پڑھی، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ہے تمام اموال کی زکوۃ دی، یہ ابواحوص اور عطا کا نقطہ نظر ہے، ابن جریج نے روایت نقل کی ہے میں نے عطا سے کہا، قد افلح من تزکی صدقہ فطر کے لیے ہے، فرمایا، یہ تمام ترصدقات کے لیے ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد اعمال کی زکوۃ ہے، اموال کی زکوۃ مراد نہیں یعنی اس نے اپنے اعمال کو ریاکاری اور کوتاہی سے پاک کیا کیونکہ اکثر مال کے بارے میں کہا جاتا ہے، اس نے زکوۃ دی پاکیزہ نہ ہوا، حضرت جابر بن عبداللہ نے روایت نقل کی ہے، قد افلح من تزکی کا معنی ہے جس نے لا الہ اللہ کہا اور انداد کا قلادہ اپنے گلے سے اتارپھینکا یہ گواہی دی کہ میں اللہ کا رسول ہوں، حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ تزکی کا معنی ہے جس نے لا الہ الاللہ کہا، عطانے ان سے روایت نقل کی ہے یہ آیت حضرت عثمان بن عفان کے حق میں نازل ہوئی کہ مدینہ طیبہ میں ایک منافق تھا اس کا مدینہ طیبہ میں ایک کھجور کا درخت تھا جو ایک انصاری کے گھر میں جھکا ہوا تھا جب ہواچلتی توکچی اور پکی کھجوریں انصاری کے گھر میں گرجاتیں، وہ انصاری اور اس کے گھروالے ان کو کھاتے منافق نے اس انصاری سے جھگڑا کیا اس صحابی نے رسول اللہ کی بارگاہ میں شکایت کی رسول اللہ نے اس منافق کو بلابھیجا جب کہ اس کا نفاق ظاہر نہ تھا فرمایا تیرے انصاری بھائی نے ذکر کیا ہے کہ تیری کچی پکی کھجوریں اس کے گھر میں گرتی ہیں جنہیں وہ اور اس کے گھر والے کھاتے ہیں کیا تو یہ پسند کرتا ہے کہ میں اس کھجور کے بدلے جنت میں تجھے کھجور کا درخت دے ودں ؟ اس منافق نے کہا، میں موجودہ مال کو موخر مال کے بدلے میں بیچ دوں میں ایساہرگز نہ کروں گا، علماء نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عثمان غنی نے اس ایک کھجور کے بدلے کھجوروں کا ایک باغ عطا فرمایا، تو آپ کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی اور منافق کے بارے میں، ویتجنبھا الاشقی، نازل ہوئی ضحاک نے ذکر کیا ہے یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں نازل ہوئی۔
صدقہ فطر مراد لینے کی صورت میں تاویل۔
مسئلہ نمبر 2۔ ہم نے سورة بقرہ میں صدقہ فطر کی بحث مکمل کردی ہے یہ بات پہلے گزرچکی ہے کہ جمہور علماء کے نزدیک یہ سورت مکی ہے مکہ مکرمہ میں نہ عید تھی نہ صدقہ فطر تھا قشیری نے کہا، یہ کوئی بعید نہیں کہ اس آدمی کی تعریف کی گئی ہو جو زمانہ مستقبل میں فطر اور صلاۃ عید کا امر بجالانے والا تھا۔
اللہ تعالیٰ کے نام کے ذکر اور نماز پڑھنے سے کیا مراد ہے ؟۔
مسئلہ نمبر 3۔ وذکراسم ربہ فصلی۔ اس نے اپنے رب کا ذکر کیا، عطا نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کیا ہے اور کہا، ارادہ یہ کیا ہے کہ اس کے معاد اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے موقف کا ذکر کرے پس اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی نماز پڑھی، ایک قول یہ کیا گیا ہے نماز کے شروع میں تکبیر کے واجب ہونے کا استدلال کیا جاتا ہے اور یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ یہ نماز کا جز نہیں کیونکہ نماز کا اس پر عطف کیا گیا ہے اس میں اس آدمی کے لیے دلیل موجود ہے جو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر نام کے ساتھ نماز شروع کرنا جائز ہے فقہاء کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے، سورة بقرہ کے شروع میں اس بارے میں گفتگو ہوچکی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ عید کی تکبیرات ہیں، ضحاک نے کہا، عیدگاہ کے راستہ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس نے نماز عید پڑھی، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے کہ وہ نماز کے وقت دل سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے، اس کے عتب سے ڈرے، اس کے ثواب کی امید رکھے تاکہ نماز کے پورے پورے حقوق ادا کرے اورس میں خشوع و خضوع کرے جیسا اس کا خوف اور اس کی امید ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ہر سوت کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ کرے اور نماز پڑھے اور ذکر کرے ان دونوں جملوں میں کوئی فرق نہیں۔ اکرمتنی فزرتنی، زرتنی، فاکرمتنی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، یہ فرض نماز کے بارے میں ہے وہ پانچ نمازیں ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد دعا ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی ضروریات کے بارے میں دعا کی، ایک قول یہ کیا گیا اس سے مراد عید کی نماز ہے، یہ حضرت ابوسعید خدری، حضرت ابن عمر، اور دوسرے علماء کی رائے ہے یہ پہلے گزرچکا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ زکوۃ کی ادائیگی کے بعد نفلی نماز پڑھے اور یہ ابواحوص کا نقطہ نظر ہے عطا کے قول کا مقتضا بھی یہی ہے حضرت عبداللہ سے مروی ہے جس نے نماز قائم کی اور زکوۃ ادا نہ کی تو اس کی کوئی نماز نہیں۔
Ayah 87:16بل توثرون الحیوۃ الدنیا۔
یہ عام قراء کی قرات ہے اس کی تصدیق حضرت ابی کی قرات بھی کرتی ہے بل انتم توثرون، ابوعمرو اور نصر بن عاصم نے اسے بل یوثرون یاء کے ساتھ پڑھا ہے تقدیرکلام یہ ہے بل یوثرون الاشقون الحیاۃ الدنیا۔ پہلی تعبیر کی صورت میں معنی یہ ہوگا بلکہ اے مسلمانو ! تم دنیا کی کثرت چاہتے ہو تاکہ تم زیادہ ثواب حاصل کرسکو، حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی اور پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ ہم نے دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے ؟ کیونکہ دنیاحاضر ہے اس کی پاکیزگیاں، اس کا کھانا، اس کا مشروب، اس کی لذت اور رونقیں جلدی نصیب ہوتی ہیں، جب کہ آخرت ہم سے غائب ہے پس ہم نے دنیا کو لے لیا اور آخرت کو ترک کردیا۔
ثابت نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے ہم حضرت ابوموسی کے ساتھ ایک سفر میں تھے جبکہ لوگ باتیں کررہے تھے اور دنیا کا ذکر کررہے تھے حضرت ابوموسی نے فرمایا اے انس، ان لوگوں میں سے ہر ایک اپنی جان کے ساتھ چمڑے کاٹ کر رکھ دے گا آؤ ہم اپنے رب کا ذکر کریں پھر کہا، اے انس کس چیز نے لوگو کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روک لیا ہے ؟ میں نے کہا، دنیا اور شہوات نے، فرمایا نہیں دنیا کو پہلے لیا گیا ہے اور آخرت کردیا گیا ہے، اللہ کی قسم اگر یہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھتے تو نہ کسی چیز کو اس کا ہم پلہ قرار دیتے اور نہ ہی شکایت کرتے۔
Ayah 87:17والاخرۃ خیروابقی۔
دارآخرت یعنی جنت افضل ہے اور دنیا کے مقابلہ میں دائمی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مالدنیا فی الاخرۃ الا کمایضع احدکم اصبعہ فی الیم فلینظر بمایرجع۔ دنیا آخرت کے مقابلہ میں اس قدر سے جس طرح تم میں سے کوئی ایک اپنی انگلی سمندر میں رکھے تو وہ دیکھے انگلی کیا چیز لے کر آتی ہے، یہ روایت بھی گزری ہے مالک بن دینار نے کہا، اگر دنیا سونے کی ہوتی جو ختم ہوجاتا ہے اور آخرت ٹھیکری کی ہوتی جو باقی رہتی ہے تو ضروری ہے کہ باقی رہنے والی ٹھیکری کی ہے جو فنا ہونے والی ہے۔
Ayah 87:18ان ھذالفی الصحف الاولی۔ صحف ابراہیم وموسی۔
قتادہ اور ابن زید نے کہا : اسم اشارہ سے مراد والاخرۃ خیروابقی۔ ہے دونوں نے کہا، جس طرح تم سنتے ہو اللہ تعالیٰ کی کتب میں تواتر سے یہ بات آتی ہے کہ آخرت کا دنیا کے مقابلہ میں بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، ان ھذالفی الصحف الاولی۔ سے مراد اللہ تعالیٰ کی تمام کتب ہیں، کلبی نے کہا، اس سے مراد قد افلح من تزکی۔ سے لے کر آخر تک ہے یہ تعبیر حضرت ابوذر کی حدیث کی وجہ سے ہے جو ابھی آرہی ہے ضحاک نے کہا یہ قرآن پہلی کتابوں میں ہے۔
Ayah 87:19صحف ابراھیم وموسی۔ سے مراد وہ کتابیں ہیں جو ان پر نازل ہوئیں، ان سے یہ مراد نہیں کہ بعینہ یہی الفاظ ان صحیفوں میں تھے بلکہ مقصود معنی ہے یعنی ان کلام کا معنی ان صحیفوں میں تھا، آجری نے حضرت ابوذر سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ، صحف ابراہیم سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا، وہ سب امثال تھیں اے بادشاہ جس نے تسلط جمایا ہوا ہے آزمائش میں مبتلا ہے اور دھوکہ میں ڈالا گیا ہے میں نے تجھے اس لیے دنیا میں نہیں بھیجا کہ تو دنیا کو ایک دوسرے کے اوپر جمع کرے بلکہ میں نے تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ تو مظلوم کی دعا کی مجھ سے لوٹائے میں اس کی دعا کو نہیں لوٹاؤں گا اگرچہ وہ کافر کے منہ سے نکلے اس سے مراد امثال تھیں عقل مند پر لازم ہے کہ اس کی تین گھڑیاں ہوں، ایک گری میں وہ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرے، ایک ساعت ایسی ہو جس میں وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے جس میں وہ اللہ تعال کی صفت میں غوروفکر کرے ایک ساعت ایسی ہو جس میں وہ اپنے کھانے پینے کا اہتمام کرے، دانش مند پر لازم ہے کہ وہ تین چیزوں کے سوا کسی کے لیے سفر نہ کرے آخرت کے لیے زاد راہ، زندگی کو بہتر بنانے کے لیے حلال چیز میں لذت پانے کے لیے، دانش مند پر یہ بھی لازم ہے وہ اپنے زمانہ پر نظر رکھتا ہو اپنی حالت کی طرف متوجہ ہو اور اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا ہو، جو آدمی زبان کو بھی اپنے اعمال میں شمار کرتا ہے تو اس کی گفتگو کم ہوجاتی ہے مگر جو اس کے لیے معاون ہو۔
میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفے کیا ہیں ؟ فرمایا، سب عبرت آموز باتیں تھیں۔ میں تعجب کا اظہار کرتا ہوں اس آدمی پر جو موت کا یقین رکھتا ہے کہ وہ کیسے خوش رہتا ہے، میں تعجب کا اظہار کرتا ہوں اس آدمی پر جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے تو وہ کیسے اس پر مطمئن ہوجاتا ہے، میں متعجب ہوتا ہوں اس آدمی پر جو حساب پر یقین رکھتا ہے پھر وہ عمل نہیں کرتا، میں نے عرض کیا فرمایا، ہاں ابوذر پڑھو، قدافلح من تزکی۔۔۔ تا۔۔۔ ابراھیم وموسی۔