90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

ہمیں اس شہر کی قسم

لا اقسم بھذالبلد۔ یہ جائز ہے کہ لا زائدہ ہوں جس طرح لا اقسم بیوم القیامہ، میں روز قیامت کی قسم اٹھاتا ہوں یہ اخفش کا قول ہے، یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں کیونکہ ارشاد فرمایا ہے بھذالبلد جبکہ پہلے شہر کی قسم اٹھائی وھذالبلدالامین، یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اس کی قسم کا انکار کرے جب کہ اس کی قسم اٹھائی، شاعر نے کہا : تذکرت لیلی فاعترتنی صبابۃ۔ وکا صمیم القلب لایتقطع۔ میں نے لیلی کو یاد کیا تو مجھے عشق نے آلیا قریب تھا کہ صمیم قلب ٹکڑے ٹکرے ہوجاتا۔ شعر میں حرف لاصلہ (زائدہ) ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، مامنعک الاتسجد اذا امرتک۔ الاعراف 12) کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا اس پر دلیل سورة ص میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، مامنعک ان تسجد۔ (ص 75) حضرت حسن بصری، اور اعمش اور ابن کثیر نے لاقسم پڑھا ہے لام کے بعد الف ذکر نہیں کیا گیا لاقسم میں لام کے بعدالف اقسم کا ہے اخفش نے اس کو جائز قرار دیا ہے کہ یہ الا کے معنی میں ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ قسم کی نفی نہیں بلکہ یہ توعربوں کے قول کے مطابق ہے، لاو اللہ لافعلت کذا، لاو اللہ ماکان کذا۔ لاو اللہ فعلن کذا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ صحیح نفی ہے معنی یہ ہے جب آپ اس سے نکل جائیں گے تو میں اس شہر کی قسم نہیں اٹھاؤ گا یہ مکی نے حکایت بیان کی ہے، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہی روایت نقل کی ہے، کہا لا ان پر رد کرنے کے لیے ہے، یہ ابن عربی کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ اس نے کہا، جس نے یہ کہا کہ یہ رد ہے تو وہ ایسا قول ہے جس کا رد نہیں کیونکہ اس کے ساتھ معنی صحیح ہوتا ہے اور وہ لفظ مراد دونوں متمکن ہیں یہ اس آدمی کا رد ہے جو موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتا ہے پھر قسم کا آغاز کیا۔ قشیری نے کہا، یہ اس چیز کا رد ہے کہ اس سورت میں مذکورہ انسان جو دنیا سے دھوکہ میں مبتلا ہے اس کا رد بنے، یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح وہ گمان کرتا ہے، کہ اس پر کوئی قادرنہ ہوگا، پر قسم کا آغاز ہوگا، البلد سے مراد مکہ مکرمہ ہے تمام علماء کا اس پر اجماع ہے یعنی میں اس بلد حرام کی قسم اٹھاتا ہوں جس میں آپ موجود ہیں کیونکہ تجھے عزتوں سے نوانا میرے ذمہ کرم پر ہے اور اس سے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں واسطی نے کہا ہم آپ کی وجہ سے اس شہر کی قسم اٹھاتے ہیں جسے آپ نے اپنی زندگی میں ٹھہر کر شرف بخشا اور وصال کے بعد برکت عطا کرکے شرف بخشا اس سے مراد مدینہ طیبہ ہے پہللاقول زیادہ صحیح ہے کیونکہ تمام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

وانت حل بھذالبلد۔ یعنی مستقبل میں، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، انک میت وانھم میتون۔ الزمر) کلام عرب میں اس کی مثالیں عام ہیں، جس سے تو عزت اور عطیہ کا وعدہ کرتا ہے، اسے تو کہتا ہے، انت مکرم مجلو اللہ تعالیٰ کے کلام میں بھی یہ عام ہے کیونکہ اس کے نزدیک آنے والے احوال موجودہ احوال کی طرح ہیں تیرے لیے دلیل کافی ہے، کہ یہ استقبال کے لیے اور حال کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کرنا محال ہے کیونکہ یہ سورت باالاتفاق فتح مکہ سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی، منصور مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے، وانت حل، یعنی تو نے اس میں جو کیا ہے وہ آپ کے لیے حلال ہے، حضرت ابن عباس نے اس طرح کہا، جس روز آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے آپ کے لیے حلال کردیا گیا تھا کہ جس کو چاہیں قتل کردیں تو آپ نے ابن خطل، مقیس، بن صبابہ وغیرہ کو قتل کرنے کا حکم دیا، رسول اللہ کے بعد کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہاں کسی کو قتل کرے۔ سدی نے کہا : معنی ہے جو آدمی آپ سے قتال کرے اسے قتل کرنا آپ کے لیے حلال ہے، ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ دن کی کچھ گھڑیوں میں آپ کے لیے قتال کو حلال کیا گی پھر تاقیامت اسے حرام کردیا گیا وہ فتح مکہ کے دن ہوا نبی کریم سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا، ان اللہ حرم مکۃ یو مخلق السماوات والارض فھی حرام الی ان تقوم الساعۃ فلم تحل لاحد قبلی ولاتحل لاحد من بعدی ولم تحل لی الا ساعۃ من نھار۔ اللہ تعایل نے جب سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا مکہ مکرمہ کو حرمت والا بنایا یہ حرام ہی رہے گا یہاں تک کہ قیامت برپا ہوگی مجھ سے قبل یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوامیرے بعد نہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوگا اور میرے لیے یہ دن کی کچھ ساعتوں میں حلال کیا گیا۔ سورة المائدہ میں یہ بحث پہلے گزرچکی ہے ابن زید نے کہا، نبی کریم کے علاوہ کوئی بھی حلال نہ تھا یعنی کسی سے تعرض نہ کیا جاتا تھا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، آپ اس مقیم ہیں اور وہ آپ کا محل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ اس میں احسان کرنے والے ہیں تجھ سے اس میں راضی ہوں، اہل لغت نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہ کہا جاتا ہے، رجل حل، حلال ومحل، رجل حرام، ومحل، رجل حرام، وحرم۔ قتادہ نے کہا، آپ یہاں حلال کام کرنے والے ہیں آپ گناہ گار نہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ نبی کریم کے لیے ثنا ہے یعنی آپ اس شہر میں ایسی چیز کا ارتکاب کرنے والے نہیں جس کا ارتکاب آپ کے لیے حرام ہو، آپ اس بیت کا حق پہنچانتے ہیں آپ مشرکوں کی طرح نہیں جو اس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرنے والے ہیں، یعنی میں اس معظم گھر کی قسم اٹھاتا ہوں جس کی حرمت کو آپ پہچانتے ہیں آپ اس میں مقیم ہیں اس کی تعطیم بجالانے والے ہیں جو چیز آپ پر حرام ہے اسکا ارتکاب کرنے والے نہیں، شرجیل بن سعید نے کہا، آپ اس شہر میں حلال ہیں، وہ مکہ مکرمہ کو حرام سمجھتے ہیں کہ یہاں کسی شکار کو قتل کریں یا کسی درخت کو کاٹیں اس کے باوجود تیرے یہاں سے نکالنے اور آپ کے قتل کے درپے ہونے کو حلال جانتے ہیں۔
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

ووالدوماولد۔ مجاہد، قتادہ اور ضحاک، حسن بصری اور ابوصالح نے کہا، ووالد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور وما ولد سے مراد جوان کی اولاد ہوئی ان کی قسم اٹھائی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر جو کچھ پیدا کیا ہے اس میں سے سب سے عجیب ہے کیونکہ اس انسان میں بولنے، بیان کرنے اور تدبیر کی صلاحیت موجود ہے، ان میں انبیاء اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی صالح اولاد کی قسم ہے گویا غیرصالح لوگ چوپائے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے والد سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ماولد سے مراد آپ کی ذریت ہے یہ ابوعمران جو لانی کا قول ہے پھر یہ احتمال ہے کہ تمام اولاد مراد ہے یا اولاد میں سے مسلمان مراد ہیں، فراء نے کہا، ما لوگوں کے لیے بھی درست ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ماطاب لکم (النساء 3) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وماخلق الذکر والانثی۔ اللیل) وہی مذکر ومونث کا خالق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مابعد سے مل کر مصدر کے حکم میں ہے مراد والد اور اس کی ولادت کی قسم ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، والسماء ومابنھا۔ الشمس) عکرمہ اور سعید بن جبیر نے کہا، والد سے مراد جس کی اولاد ہو اور ماولد سے مراد بانجھ ہے جس کی اولاد نہ ہو یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، اس صورت میں مانافیہ ہے یہ بعید ہے اسم موصول کو مضمر ماننے کے بغیر یہ صحیح نہیں تقدیر کلام یہ بنتی ہے، ووالد والذی ماولد۔ یہ بصریوں کے نزدیک جائز نہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ہر والد اور مولود کو عام ہے، یہ عطیہ عوفی کا قول ہے، حضرت ابن عباس سے بھی یہی مروی ہے، یہ طبری کا پسندیدہ مسلک ہے، ماوردی نے کہا، یہ احتمال موجود ہے، کہ ولد سے مراد نبی کریم کی ذات ہو اور ماولد سے مراد آپ کی امت ہو کیونکہ نبی کریم کا ذکر پہلے گزرچکا ہے اور حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے، انما انالکم بمنزلہ الولد اعلکم میری تمہارے لیے حیثیت والد کی سی ہے، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں، پہلے آپ کے شہر کی قسم اٹھائی پھر آپ کی اور آپ کی امت کی قسم اٹھائی مقصود حضور کی شرافت میں مبالغہ کا اظہار ہے۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

لقد خلقنا الانسان فی کبد۔ یہاں پر قسم ختم ہوگئی تھی یہ آیت جواب قسم ہے اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ اپنی مخلوقات کی تعظیم کے لیے جس کی چاہے قسم اٹھائے جس طرح پہلے گزرچکا ہے یہاں انسان سے مراد ابن آدم ہے کبد کا معنی شدت اور تھکاوٹ ہے یہ مکابدۃ الدنیا سے مشتق ہے، کبد کا اصل معنی شدت ہے اسی سے ایک جملہ بولا جاتا ہے، تکبداللبن دودھ گاڑھا ہوگیا، سخت ہوگیا اسی سے کبد جگر ہے کیونکہ یہ بھی خون ہوتا ہے جو گاڑھا اور سخت ہوجاتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، کا بدت ھذا الامر میں نے اس امر کی سختی کو برداشت کیا لبید نے کہا : یاعین ھلا بکیت اربد اذ، قمنا وقام الخصوم فی کبد۔ اے آنکھ تواربد کے مقام پر کیوں نہ روئی جب ہم اور جھگڑا کرنے والے مشقت میں کھڑے ہوئے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری نے کہا، فی کبد، کا معنی ہے سختی اور تھکاوٹ میں، حضرت ابن عباس سے مروی ہے شدت میں یعنی حمل ولادت، دودھ پلانا، دانتوں کا نکلنا وغیرہ، عکرمہ نے آپ سے ہی یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ میں سیدھا ہوتا ہے، کبد کا معنی استواء اور استقامت ہے یہ خلقت میں انسان پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں کسی جاندار کو پیدا نہیں کیا مگر وہ اپنے منہ کے بل اوندھا ہوتا ہے، صرف انسان کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ سیدھا ہوتا ہے یہ مجاہد، نخعی اور دوسرے علماء کا قول ہے ابن کیسان نے کہا، ماں کے پیٹ میں اس کا سر سیدھا کھڑا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اسے باہرنکلنے کی اجازت دیتا ہے تو اس کے سر کو اس کی ماں کی ٹانگوں کی طرف کردیتا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، وہ دنیا اور آخرت کے مصائب اور تکالیف برداشت کرتا ہے ان سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ خوشحالی کے دور میں شکر کام میں لاتا ہے اور تنگدستی کے دور میں صبر کو کام میں لاتا ہے کیونکہ وہ ان دونوں سے خالی نہیں ہوتا، اسے حضرت ابن عمر نے روایت کیا ہے یمان نے کہا، اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی جو اتنی مشقت برداشت کرتی ہوجیسی مشقت انسان، برداشت کرتا ہے جب کہ یہ مخلوقات میں سے کمزور ترین ہمارے علماء کہتے ہیں سب سے پہلے جس مشقت کو وہ برداشت کرتا ہے اور وہ اس کی ناف کا کٹنا ہے پھر گہوارہ میں ڈالنے کے لیے اس پر جو کپڑے لپیت دیے جاتے ہیں وہ تنگی اور تھکاوت کو برداشت کرتا ہے وہ دودھ پینے کی مشقت کو برداشت کرنا ہے اگر یہ چیز اسے نہ ملے توفوت ہوجائے پھر دانتوں کے اگنے اور زبان کو حرکت دینے کی تکلیف برداشت کرتا ہے پھر وہ دودھ چھڑانے کی تکلیف کا سامنا کرتا ہے جو اس کے لیے طمانچے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے پھر وہ ختنہ کرانے دردوں اور غموں کا سامنا کرتا ہے پھر وہ معلم اور اس کی سختی، مودب اور اس کے رویہ اور استاد اور اس کی ہیبت کا سامان کرنا ہے پھر وہ شادی کی مصروفیت اور اس میں جلدی کا سامنا کرتا ہے پھر وہ اولاد، خادموں اور لشکروں کے معاملات میں جاپڑتا ہے پھر وہ گھروں اور محلات کے بنانے میں لگ جاتا ہے پھر بڑھاپے، گھٹنوں اور قوموں کے ضعف کا سامنا کرتا ہے ایسے ایسے مصائب دیکھتا ہے جن کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اور ایسے دکھ دیکھتا ہے جن کا عرصہ بڑاطویل ہوتا ہے جیسے سردرد، داڑھوں کا درد، آشوب چشم، قرض کا غم، دانت اور کان کا درد، اسی طرح وہ مال اور نفس میں امتحانات کا سامنا کرتا ہے جس طرح مار پیٹ اور قید۔ کوئی دن اس پر نہیں دیکھتا اور اس کی تاریکی دوبارہ اٹھانا، اور اللہ تعالیٰ پر پیشی، یہاں تک وہ قرار پذیر ہوجاتا ہے، یاتویہ جنت میں جاکرٹھہرتا ہے یا دوزخ میں ٹھکانہ بناتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لقد خلقنا الانسان فی کبد۔ اگر یہ انسان کے بس میں ہوتا تو وہ ان مصائب کو کبھی برداشت نہیں کرتا۔ یہ سب چیزیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کا کوئی خالق ہے اس نے ان احوال کا اس پر فیصلہ کیا ہے پس انسان کو چاہیے کہ اس ذات کے حکم کی پیروی کرے۔ ابن زید نے کہا، یہاں انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں فی کبد سے مراد آسمان کا درمیان ہے، کلبی نے کہا، یہ حکم بنی جمح کے بارے میں نازل ہوا جسے ابوالاشدین کہتے ہیں وہ عکاظی چمڑا لیتا ہے اسے اپنے قدموں کے نیچے بچھا جاتا وہ کہتا جس نے مجھے اس سے گرادیا ہے اس کے لیے یہ انعام ہے اس چمڑے کو دس آدمی کھینچتے یہاں تک کہ وہ چمرا پھٹ جاتا اور اس کے قدم اپنی جگہ سے نہ ہلتے وہ نبی کریم کے دشمنوں میں سے تھا اس کے بارے میں یہ نازل ہوا، ایحسب ان لن یقدرعلیہ احد۔ یعنی وہ اپنی قوت کی بنا پر یہ گمان کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے : فی کبد کا معنی ہے قوی وہ قریش میں سب سے طاقتور اور مضبوط جسم کا مالک تھا رکانہ بن ہاشم بن مطلب اسی طرح تھا وہ طاقت اور قوت میں مثال تھا، ایک قول یہ کیا گیا، فی کبد، کا معنی ہے وہ دل کا جری اور سخت ہے جب کہ اس کی خلقت کمزور مادہ حقیر ہے، ابن عطاء نے کہا وہ ظلمت وجہالت میں ہے ترمذی نے کہا، جو بامقصد کام ہیں ان کو ضائع کرنے والا ہے، اور جو بےمقصد امور ہیں ان میں مصروف رہنے والا ہے۔
Ayahs 90:5–9

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا ؟

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

بھلا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)

ایحسب الن یقدر۔۔۔ تا۔۔۔ شفتین۔ کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سزا نہیں دے گا وہ کہتا ہے میں نے کثیر مال خرچ کردیا، کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے سب اعمال کو جانتا ہے وہ اس بات میں جھوٹا ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے مال خرچ کیا ہے جب کہ اس نے مال خرچ نہیں کیا جاتا، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ بندے کو کھڑا کیا جائے گا اسے کہا جائے گا، میں تجھے جو رزق دیا تھا اس کا تونے کیا کیا، وہ کہے گا میں نے اس کو خرچ کیا اور اس کی زکوۃ ادا کی، اسے کہا جائے گا، گویا تو نے یہ کیا تاکہ کہا جائے کہ وہ بڑا سخی ہے تو وہ تو کہا جاچکا ہے پھر اسے آگ میں ڈالنے کا حکم دے دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوالاشدین کہا کرتے تھے میں نے حضرت محمد ﷺ کی دشمنی میں بہت زیادہ مال خرچ کیا ہے جب کہ وہ جھوٹا تھا، مقاتل نے کہا، یہ حارث بن عامر بن نوفل کے بارے میں نازل ہوئی اس نے گناہ کیا اس نے نبی کریم سے فتوی طلب کیا تو نبی کریم نے اسے حکم دیا کہ وہ کفار ادا کرے، اس نے کہا، میں جب سے حضرت محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوا ہومیرامال توکفارت اور نقصانات میں خرچ ہوگیا ہے اس کا یہ قول اس چیز کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ اس نے جو مال خرچ کیا تھا وہ اس کو جانتے تھے تو یہ اس کی جانب سے سرکشی ہوگی یا بطور افسوس کیا ہو تو اس کی جانب سے شرمندگی ہوگی۔ ابوجعفر نے لبدا پڑھا ہے کیونکہ یہ لابد کی جمع ہے جس طرح راکع کی جمع رکع۔ ساجد کی جمع سجد اور شاھدہ کی جمع شھد آتی ہے اور مجاہد اور حمید نے باء کو مضموم اور لام کو بغیر شد کے پڑھا ہے اس وقت یہ لبود کی جمع ہوگی باقی قراء نے لام کے ضمہ اور اس کے کسروہ اور باء کو فتحہ غیر مشدد پڑھا ہے اس وقتیہ لبد اور لبدۃ کی جمع ہوگی اس سے مراد وہ چیز ہے جو تہہ در تہہ ہے مراد کثرت کا اظہار ہے سورة الجن میں اس بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔ نبی کریم سے یہ مروی ہے کہ آپ دونوں جگہ ایحسب پڑھا کرتے تھے حضرت حسن بصری نے کہا : معنی یہ بنتا ہے وہ کہتا ہے میں نے بہت زیادہ مال خرچ کیا ہے جو اس کے متعلق میرا محاسبہ کرے گا مجھے چھوڑ دو کہ میں بھی اس کا محاسبہ کروں کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے محاسبہ پر قادر ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو دیکھ رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر نعمتوں کو شمار کیا۔ کیا ہم نے اس کے لیے آنکھیں نہیں بنائیں جن کے ساتھ وہ دیکھتا ہے زبان نہیں بنائی جس کے ساتھ وہ بولتا ہے ہونٹ نہیں بنائے جن کے ساتھ وہ دانتوں کو چھپاتا ہے اس کا معنی یہ ہے ہم نے یہ کہا اور ہم اس قدرت رکھتے ہیں کہ ہم اسے دوبارہ اٹھائیں گے اور اس نے جو عمل کیا ہم اس کو شمار کریں، ابوحازم نے کہا، نبی کریم نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اے انسان اگر زبان ان معاملات میں تجھ سے نزاع کرے جو میں نے تجھے پر حرام کیے ہیں تو میں نے تیری دو طبق ددوہنٹ سے مدد کی ہے ان کو بند کردے، اگر تیری آنکھ سے ایسے امور میں جھگڑا کرے جو میں نے تجھ پر حرام کیے ہیں تو میں نے تیری دو طبق یعنی دو چھپر وہ) سے تیری مدد کی ہے ان کو بند کرلے اگر تیری شرمگاہ تیرے ساتھ ان معاملات میں جھگڑا کرے جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر حرام کیے ہیں، تو اس کے خلاف میں نے دو طبق سے تیری مدد کی ہے تو انہیں بند کردے۔ الشفعۃ اصل میں شفعھہ، تھا اس سے ھاء کو حذف کردیا گیا اس کی تصغیر شفیھۃ آتی ہے اس کی جمع شفاہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، شفھات، شفوات، ھائ، زیادہ موزوں ہے اور واؤ عام ہے جس طرح سنوات میں واوعام آتی ہے۔ ازہری نے کہا، وصل کی صورت میں ھذہ شفعۃ کہتے ہیں اور شفعہ بھی کہتے ہیں یعنی یہ لفظ تاء اور ھاء دونوں کے ساتھ آتا ہے، قتادہ نے کہا اللہ تعالیٰ کی ظاہری نعمتیں تجھے متوجہ کرتی ہیں کہ تو ان کا شکر بجالائے۔
Ayah 90:10

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر اور شر کے) دو نور بھی دکھا دئیے

وھدینہ النجدین۔ النجدین سے مراد دوراستے ہیں بھلائی اور برائی کا راستہ یعنی ہم نے ان دونوں نے اس کو اس لیے بیان کیا جو ہم نے اس کی طرف رسول بھیجے ہیں نجد اس راستہ کو کہتے ہیں جو بلندی کی طرف جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء کی رائے ہے، قتادہ نے کہا، ہمارے لیے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی کریم کہا کرتے تھے، یا ایھا الناس ھما النجدان، نجدالخیر، ونجد الشر، فلم نجعل نجدالشر احب الیک من نجدالخیر۔ اے لوگو ! وہ دونوں راستے ہیں بھلائی کا راستہ اور برائی کا راستہ ہم نے شر کے راستہ کو خیر کے راستہ سے تیرے لیے زیادہ محبوب نہیں بنایا، عکرمہ یہ مروی ہے کہ نجدان سے مراد پستان ہیں یہ سعید بن مسیب اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے، حضرت ابن عباس اور حضرت علی سے یہ مروی ہے یہ دونوں بچے کی زندگی اور رزق کے لیے دوراستوں کی طرح ہیں، نجد کا معنی بلندی ہے اس کی جمع نجود آتی ہے اس وجہ سے نجد کے علاقہ کو نجد کہتے ہیں کیونکہ وہ تہامہ کے زیریں ہونے کی بنسبت بلند ہے۔ پس نجدان دوبلند راستے ہیں۔
Ayah 90:11

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

فلا اقتحم العقبہ۔ وہ مال جس کے بارے میں وہ گمان رکھتا ہے کہ اس نے حضور کی عداوت میں خرچ کیا ہے اس نے وہ مال اقتحام عقبہ میں کیوں خرچ نہیں کیا، وہ امن پاتا، اقتحام کا معنی اپنے کو بغیر سوچے سمجھے کسی چیز میں پھینک دینا اس سے یہ جملہ بولا جاتا ہے، قحم فی الامر قحوما، یعنی اس نے بغیر سوچے سمجھے اپنے آپ کو اس میں پھینک دیا قحم الفرس فارسہ تقحیما علی وجھہ۔ یعنی گھوڑے نے اسے منہ کے بل گرادیا، تقحیم النفس فی الشئی کا معنی ہے اس کا بغیر سوچے سمجھے اپنے آپ کو کسی چیز میں داخل کرنا، القحمہ سے مراد ہلاکت اوسخت سال ہے اصابت الاعراب القحمہ، جب انہیں قحط نے آلیاتو وہ اس میں داخل ہوگئے قحم سے مراد مشکل راستہ ہے فراء اور زجاج نے کہا، ایک دفعہ حرف لا داخل کیا گیا ہے جب کہ عرب ایسے موقع پر کم ہی لا اکیلا داخل کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ دوسری کلام میں اس کا اعادہ کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فلاصدق ولاصلی، القیامہ، نہ اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، ولاخوف علیھم ولاھم یحزنون۔ البقرہ) نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے یہاں سے مفروذکر کیا ہے کیونکہ کلام کا آخر اس کے معنی پر دلالت کرتا ہے یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ثم کان من الذین امنوا۔ تکریر کے قائم مقام ہوگویایوں فرمایا، فلا اقتحم العقبہ ولامن۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ دعا کے قائم مقام ہے جس طرح کسی کا قول ہے، النجاولاسلم۔ سفیان بن عیینہ نے کہا : ہر وہ شی جس کے بارے میں فرمایا، وما ادراک، القدر 2) اس کے بارے میں آپ کو آگاہ کردیا اور ہر وہ شے جس کے بارے میں فرمایا، ومایدریک (الاحزاب 63) اس کے بارے میں آپ کو خبر نہ دی، فلا اقتحم العقبہ کا معنی ہے وہ عقبہ میں داخل نہیں ہوا۔ جس طرح زہیر کا قول ہے۔ فلاھوا ابدھاولم یتقدم۔ یہ فلم بیدھا ولم تیقدم کے معنی میں ہے مبرد اور ابوعلی نے اسی طرح کہا، لا، لم کے معنی میں ہے، امام بخاری نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے فلم یقتحم العقبہ فی الدنیا، یعنی دنیا میں وہ عقبہ میں داخل نہیں ہوا تو اسے تکرار کی ضررت نہیں ہر عقبہ اور اس پر سوار ہونے کی وضاحت کی، اور فرمایا، غلام کو آزاد کرنا اور یہ کرنا اور یہ کرنا، اور مالی عبادتوں کی وضاحت کی، ابن زید اور مفسرین کی ایک جماعت نے کہا، کلام کا معنی وہ استفہام ہے جو انکار کے معنی میں ہے تقدیر کلام یوں گی، افلا اقتحم العقبہ اوھلا اقتحم العقبہ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اس نے غلام آزاد کرنے میں بھوکوں کو کھاناکھلانے میں اپنا مال کیوں خرچ نہ کیا تاکہ اس کے ذریعے عقبہ سے گزرجاتا ہے تو یہ صورت حضور کی عداوت میں مال خرچ کرنے سے بہتر ہوتی، پھر ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اقتحام عقبہ یہاں ضرب المچل ہے معنی یہ ہوگا کیا اس نے بڑے بڑے امور کو برداشت کیا ہے جو اس نے اپنے رب کی اطاعت میں مال خرچ کرنے کی صورت میں تھے ور اس پر ایمان لانے کی صورت میں تھے یہ تعبیر اس آدمی کے قول کے مناسب ہوگی جو فلا اقتحم العقبہ کو دعا پر محمول کرتا ہے یعنی جس نے اپنا مال اس صورت میں خرچ نہ کیا اس نے نہ نجات پائی نہ ہی وہ سلامت رہا ایک قول یہ کیا گیا ہے بڑے گناہوں، ان کے بوجھ اور شدت کو عقبہ سے تشبیہ دی گئی ہے جب وہ غلام آزاد کرے اور اچھے عمل کرے تو اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو عقبہ میں داخل ہو اس سے مراد وہ گناہ ہیں جو اسے نقصان پہنچاتے ہیں اسے اذیت دیتے ہیں اور مشقت میں ڈالتے ہیں۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا یہ عقبہ جہنم میں ایک پہاڑ ہے ابورجاء سے مروی ہے کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ عبقہ اس پر سات ہزارسال تک انسان چڑھتا رہے گا اور اس سے اترنے میں بھی اسے سات ہزار سال لگیں گے حضرت حسن اور قتادہ نے کہا، یہ آگ میں سخت مشکل راستہ ہے جو پل سے پہلے ہے اللہ تعالیٰ کی طاعت کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ مجاہد، ضحاک اور کلبی نے کہا، اس سے مراد وہ پل ہے جو جہنم میں ڈالا گیا ہے جو تلوار سے تیز ہے اس کی مسافت تین ہزار سال ہے اس میں نرم جگہ، بلند ورپست جگہ ہیں، مومن پر یہ اتنے وقت کے لیے جتنا عصر سے عشاء کا وقت ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مومن اتنے وقت کے لیے اس میں داخل ہوگا جتنا وقت فرض نماز کا ہوتا ہے۔ حضرت ابودرداء سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا، ہمارے سامنے عقبہ ہے اس میں سے سب سے نجات پانے والا ہوگا، وہ جس کا سامان سب سے کم ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا ہے جہنم بذات خود عقبہ ہے ابورجاء نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے جس مسلمان نے کسی غلام کو آزاد کیا تو یہ جہنم سے آزادی کا فدیہ بن جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ جس نے ایک غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ ہر عضو کے بدلے میں اس کے عضو کو آزادی دے دے گا، صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، من اعتق رقۃ اعتق اللہ بکل عضو منھا عضوا من اعضاء من النار حتی فرجہ بفرجہ۔ جس نے کوئی غلام آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا عضو جہنم سے آزاد کردے گا یہاں تک کہ شرمگاہ کے بدلے شرمگاہ۔ ترمذی شریف میں حضرت ابوامامہ اور دوسرے صحابہ سے یہ روایت مروی ہے کہ جس مسلمان نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا وہ غلام جہنم سے اس کی رستگاری کا باعث ہوجائے گا غلام کا ہر جز مالک کے ہر جز کے بدلے میں ہوجائے گا اور جس طرح مسلمان عورت نے مسلمان لونڈی کو آزاد کیا تو وہ لونڈی جہنم سے اس کی آزادی کا باعث ہوگی، ہر عضو دوسرے عضو کا بدلہ ہوجائے گا کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، عقبہ سے مراد پیشی کی ہولناکی سے اسے چھٹکارادینا ہے قتادہ اور کعب نے کہا، یہ پل سے پہلے آگ ہے حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ کی قسم یہ شدید گھاٹی ہے انسان کا اپنے نفس اپنی خواہش اور اپنے دشمن شیطان کے ساتھ جہاد کرنا ہے کسی نے یہ شعر کہے، انی بلیت باربع یرمیننی، بالنبل قد نصبوا علی شراکا۔ مجھے چارچیزوں کے ساتھ آزمایا گیا ہے جو مجھ پر تیرمارہی ہیں اور انہوں نے مجھ پر اپنے تسمے باندھ رکھے ہیں۔ ابلیس والدنیا ونفسی الھوی، من این ارجو بینھن فکاکھا۔ ابلیس، دنیا، میرا نفس اور خواہش میں ان کے درمیان سے کیسے چھٹکارے کی امید رکھوں۔ یارب ساعدنی بعفو اننی، اصبحت لا ارجو لھن سوا کا۔ اے میرے رب میری مدد فرما مجھے معاف کرکے میں، تیرے سو ان کے بارے میں کوئی امید نہیں رکھتا۔
Ayah 90:12

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے

وما ادراک مالعقبہ۔ اس کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی، وما ادراک ماقتحام العقبہ۔ یہ دین کے امر کو لازم پکڑنے کی عظمت بیان کرنا ہے، خطاب نبی کریم کو ہے تاکہ آپ عقبہ سے آگاہ ہوجائیں قشیری نے کہا، عقبہ کو عقبہ جہنم پر محمول کرنا بہت ہی بعید ہے کیونکہ دنیا میں کوئی آدمی عقبہ جہنم میں داخل نہیں ہوا مگر اس صورت میں کہ اسے اس امر پر محمول کیا جائے مراد یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو کیوں تیار نہیں کیا، اس کے لیے قیامت کے روز عقبہ جہنم میں داخل ہوناممکن ہوتا، امام بخاری نے مجاہد کا قول ہے پسند کیا ہے کہ وہ دنیا میں عقبہ میں داخل نہیں ہوا۔ ابن عربی نے کہا، یہ قول اس لیے اختیار کیا کیونکہ دوسری آیت یہ فرمایا، وما ادراک ما العقبہ۔ تیسری آیت میں فرمایا، فک رقبہ، چوتھی آیت میں فرمایا، اواطعھم فی یوم ذی مسغبہ۔ پھر پانچویں آیت میں فرمایا، یتیماذامقربہ، چھٹی آیت میں فرمایا، او مسکینا ذامتربہ، یہ اعمال تو دنیا میں ہوں گے معنی ہوگا کہ دنیا میں وہ ایسے امور نہیں لایا جو آخرت میں عقبہ میں داخل ہونے کو اس کے لیے آسان بنا دیتا ۔
Ayah 90:13

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی کی گردن کا چھڑانا

فک رقبہ۔ اس میں تین مسائل ہیں۔ فک رقبہ کی تشریح۔ مسئلہ نمبر 1۔ فک رقبۃ۔ کا معنی ہے اسے قید سے آزاد کرنا ایک قول ہے اسے غلامی سے آزاد کرنا حدیث میں ہے فک رقبۃ کا معنی ہے تو اس کی قیمت میں اس کی مدد کرے پھر حضرت براء کی حدیث ہے سورة براء میں پہلے گزرچکا ہے، فک سے مراد قید کو کھول دینا ہے اور غلامی بھی ایک قید ہے غلام کو رقبہ کہتے ہیں کیونکہ وہ غلامی کے ساتھ اس قیدی کی طرح ہے جس کی گردن میں رسی بندھی ہوئی ہو اس کی آزادی کو فک کا نام دیاجس طرح توقیدی کو قید سے آزاد کرے تو اسے فک سے تعبیر کرتے ہیں، حضرت حسان نے کہا، کم من اسیر فککناہ بلاثمن۔ کتنے ہی قیدی ہیں جن کو ہم نے قیمت کے بغیر آزاد کیا۔ عقبہ بن عامر جہنی نے کہا، رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا تو یہ اس کے جہنم سے آزاد ہونے کا فدیہ ہوجائے گا، ماوردمی نے کہا، دوسرا احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آ نے یہ ارادہ کیا ہو کہ یہ اس نے گناہوں سے اجتناب کرکے اور اچھے اعمال کرکے اپنی گردن کو آزاد کردیا اور نفس کو خلاصی عطا کردی، حدیث اس تاویل کے مانع نہیں یہ زیادہ صحیح ہے۔ کافر کے بجائے مسلمان غلام کو آزاد کرنا۔ مسئلہ نمبر 2۔ اصبغ نے کہا : کافر غلام جو زیادہ قیمت والا ہو وہ آزادی میں اس غلام سے افضل ہے جو مومن ہو اور کم قیمت والا ہو، کیونکہ نبی کریم کا ارشاد ہے جب کہ آپ سے پوچھا گیا تھا کہ کون ساغلام آزاد کرنا افضل ہے ؟ فرمایا، جس کی قیمت زیادہ ہو اور مالکوں کے نزدیک اچھا ہو، ابن عربی نے کہا، اس حدیث میں مراد مسلمان غلام ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جس نے مسلمان کو آزاد کیا جس نے مومن کو غلام آزاد کیا۔ اصبغ نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ غلط ہے اس نے صرف مال کی کمی کی طرف دیکھا ہے جب کہ غلام کو عبادت کے لیے آزاد کرنا اور توحید کے لیے فارغ کرنا زیادہ مناسب ہے۔ غلام آزاد کرنا صدقہ کرنے سے افضل ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ آزاد کرنا اور صدقہ کرنا بہترین عمل ہے حضرت امام ابوحنیفہ سے مروی ہے آزادی صدقہ سے افضل ہے جبکہ صاحبین کے نزدیک صدقہ افضل ہے آیت کریمہ امام ابوحنیفہ کے قول پر زیادہ دلالت کرتی ہے کیونکہ آزادی کو صدقہ پر مقدم کیا ہے امام شعبی سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کہاں مال خرچ کرے وہ قریبی رشتہ داروں کودے یا غلام آزاد کرے ؟ فرمایا غلام آزاد کرنا افضل ہے کیونکہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، جس نے غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اسکاعضو جہنم سے آزاد کردے گا۔
Ayahs 90:14–16

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن کھانا کھلانا

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

یتیم رشتہ دار کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا فقیر خاکسار کو

او اطعم فی یوم ذی مسغبہ۔۔۔ تا۔۔۔ متربہ۔ مسغبہ کا معنی ہے بھوک، سغب کا معنی بھوک ہے اور ساغب بھوکے کو کہتے ہیں، حضرت حسن بصری نے یوں قرات کی فی یوم ذامسغبہ، ابوعبید نے یہ شعر پڑھا ہے۔ فلوکنت جاریابن قیس بن عاصم، لما بت شبعانا وجارک ساغبا۔ اے ابن قیس بن عاصم، اگر تو جوار کا حق ادا کرتا توسیر ہو کر اور تیرا پڑوسی بھوکارات نہ گزارتا۔ کھانا کھلانافضیلت ہے جب بھوک ہوتویہ بہت ہی افضل ہے، امام نخعی نے اس ارشاد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ایسے دن میں کھانا کھلانا جس میں کھانا درونایاب ہو، نبی کریم سے مروی ہے، من موجبات الرحمۃ اطعام المسلم السغبان۔ رحمت کے موجبات میں سے یہ بھی ہے کہ بھوکے مسلمان کو کھاناکھلایاجائے مقرربہ کا معنی قرابت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، فلان ذوقرابہ وذو مقربتی اللہ تعالیٰ تجھے تعلیم ارشاد فرماتا ہے کہ قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا غیر قریبی رشتہ دار پر صدق کرنے سے افضل ہے، جس طرح ایسے یتیم پر صدقہ کرنا جس کا کوئی کفیل نہ ہوں اس یتیم پر صدقہ کرنے سے افضل ہے جس کا کوئی نہ کوئی کفیل ہو، اہل لغت کہتے ہیں اس کے ضعف کی وجہ سے یتیم کہا گیا یہ جملہ بولا جاتا ہے، یتم الرجل یتما جب وہ کمزور ہو، علماء نے یہ ذکر کیا ہے لوگوں میں یتیم تو باپ کی جانب سے ہوتا ہے اور چوپاؤں میں ماں کی جانب سے ہوتا ہے سورة بقرہ میں مکمل بحث گزرچکی ہے بعض علماء لغت نے کہا، یتیم اسے کہتے ہیں جس کے والدین فوت ہوجائیں، قیس بن ملوح نے کہا۔ الی اللہ اشکو فقد لیلی کماشکا، الی اللہ فقد الوالدین یتیم۔ لیلی کے گم ہونے پر اللہ کی بارگاہ میں شکایت کرتا ہوں جس طرح یتیم والدین کے فوت ہوجانے پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرتا ہے۔ ذامتربہ۔ سے مراد ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، یہاں تک گویا وہ فقر کی وجہ سے مٹی مل گیا ہے جس کی جائے پناہ مٹی کے سوا کچھ نہیں، حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد وہ آدمی ہے جو راستہ میں پڑا ہو جس کا کوئی گھر نہ ہو، مجاہد نے کہا، اس سے مراد وہ شخص ہے جسے نہ لباس اور نہ ہی کوئی اور چیز مٹی سے بچاتی ہے قتادہ نے کہا، اس سے مرادجس کا کوئی بھی نہ ہو، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد ہے جس کا کوئی بھی نہ ہو، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اس سے مراد ایسا فساد ہے جو وطن سے بہت ہی دور ہو، ابوحامد خارنجی نے کہا، یہاں متربہ سے مراد برحال، یہ جملہ بولا جاتا ہے، ترب، جب وہ محتاج ہو، بذلی نے کہا، وکنا اذا ما الضیف حل بارضنا، سفکنا دماء البدن فی تربۃ الحال۔ جب کوئی مہمان ہمارے علاقے میں اترتا ہے، تو ہم تنگدستی کے عالم میں بھی اونٹوں کو ذبح کردیتے ہیں۔ ابن کثیر ابوعمرو، کسائی نے اسے فک پڑھا ہے کیونکہ یہ فککتکا مصدر ہے، رقبہ یہ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے اور اطعام باب افعال کا مصدر اور مرفوع پڑھا گیا ہے ابوعبید اور ابوحاتم نے اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ یہ وما ادراک ما العقبہ، کی تفسیر ہے پھر اس کی وضاحت کی اور فرمایا، فک رقبۃ او اطعام، اقتحام العقبہ، کا معنی بھی ہے غلام آزاد کرنا اور کھاناکھلانا جس نے اسے منصوب پڑھا ہے تو اس نے معنی پر محمول کیا ہے۔ ولافک رقبہ، ولا اطعم فی یوم ذامسغبہ۔ تو اس کے لیے عقبہ سے گزرنا کیسے ممکن ہوگا، ابوالحسن اور رجاء نے کہا، ذامسغبۃ منصوب ہے، کیونکہ یہ اطعام کا مفعول ہے یعنی وہ بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں اور یتیما اس سے بدل ہے جب کہ باقی قراء نے ذی مسغبہ پڑھا ہے جو یوم کی صفت ہے یہ بھی جائز ہے کہ نصب کی قرات جارمجرور کے محل کی صفت کے طور پر ہو کیونکہ فی یوم کا قول ظرف ہے جس کا محل منصوب ہے تو یہ معنی کے اعتبار سے اس کی صفت ہے لفظ کے اعتبار سے صفت نہیں۔
Ayahs 90:17–20

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہوا جو ایمان لائے اور صبر کی نصحیت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے

ثم کان من الذین۔۔۔ تا۔۔۔ موصدہ۔ یعنی جس نے غلام کو آزاد کیا یابھوک والے دن کھانا کھلایا تو وہ عقبہ میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہوں نے تصدیق کی، کیونکہ طاعت کے قبول ہونے کی شرط اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے، انفاق کے بعد ایمان کچھ نفع نہ دے گا بلکہ ضروری ہے کہ طاعت ایمان کے ساتھ ملی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں فرمایا، وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفرو بااللہ وبرسولہ۔ التوبہ 54) اور نہیں منع کیا ہے انہیں کہ قبول کیے جائیں ان سے کے اخراجات سوائے اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ۔ حضرت عائشہ نے عرض کی یارسول اللہ، ابن جدعان دور جاہلیت میں صلہ رحمی کیا کرتا تھا، کھانا کھلایا کرتا تھا قیدیوں کو چھڑایا کرتا تھا، غلاموں کو آزاد کیا کرتا تھا اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اونٹ پر کسی کو سوار کرتا تھا کیا یہ امور اسے نفع دیں گے، فرمایا نہیں اس نے کسی دن بھی یہ نہیں کیا، اے میرے رب اور جزا میری خطا کو معاف کردے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، ثم کان من الذین آمنوا، کا مطلب ومعنی یہ ہے کہ اس نے یہ اعمال کیے ہوں گے جب کہ وہ مومن ہو پھر وہ وفات تک ایمان پر قائم رہا ہو، اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، وانی لغفارلمن تاب وامن وعمل صالحا ثم اھتدی۔ طہ) اور میں بخشنے والا ہوں اسے جو تائب ہوا اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے پھر ہدایت یافتہ ہوا ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے یہ عبادات اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے کیں، پھر وہ حضرت محمد پر ایمان لایا، حضرت حکیم بن حزام نے اسلام لانے کے بعد عرض کی، یارسول اللہ ہم دور جاہلیت میں کچھ اعمال کرتے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتے کیا وہ ہمارے لیے نفع مند ہوں گے ؟ رسول اللہ نے فرمایا، سابقہ دور میں تو نے جو بھلائی کی اس وجہ سے تو مسلمان ہوا، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ثم، واؤ کے معنی یہ ہوگا غلام آزاد کرنے والا، بھوک میں کھانا کھلانے والا ایمان لانے والوں میں سے ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، معاصی اور صبر اور انہیں جو مصیبت اور آزمائش پہنچی اس پر ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں اور مخلوقات پر رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں جب انہوں نے ایسا کیا تو انہوں نے یتیم اور مسکین پر رحم کیا، یہی لوگ دائیں ہاتھ والے ہیں، یعنی جن کو ان کی کتاب ان کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی محمد بن کعب قرظی اور دوسرے علماء نے کہا، یحییٰ بن سلام نے کہا، کیونکہ وہ اپنی ذاتوں کے لیے یمن و برکت ہیں، ابن زید نے کہا، کیونکہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دائیں پہلو سے لیے گئے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کیونکہ ان کا مقام دائیں جانب ہوگا، یہ میمون بن مہران نے کہا ہے۔ جنہوں نے قرآن کا انکار کیا وہ اصحاب مشامہ میں وہ اپنی کتابیں اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑنے والے ہوں گے یہ محمد بن کعب اور یحییٰ بن سلام نے کہا، کیونکہ وہ اپنی ذاتوں کے لیے بدبخت ہیں ابن زید نے کہا، کیونکہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بائیں پہلو سے لیے گئے ہیں میمون نے کہا، ان کا مقام بائیں جانب ہوگا۔ میں کہتا ہوں : ان تمام اقوال کا جامع یہ قول ہے کہ اصحاب میمنہ اصحاب جنت ہیں اور اصحاب مشامہ اصحاب نار ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واصحب الیمین ما اصحب الیمین، فی سدر مخضود۔ الواقعہ) واصحب الشمال، ما اصحاب الشمال، فی سموم وحمیم۔ واقعہ) اور اس کی مثل جو آیات ہیں موصدہ کا معنی ہے بند شاعرنے کہا : تحن الی اجبال مکہ ناقتی، ومن دونھا ابواب صنعاء موصدہ۔ میری اونٹنی مکہ کے پہاڑوں کی مشتاق ہے اور اس کے پیچھے صنعاء کے دروازے اس کے لیے بند ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے موصدہ کا معنی مبہم ہے یہ معلوم نہیں کہ اسمیں کیا داخل ہے اہل لغت کہتے ہیں، اوصدت الباب واصدتہ، یعنی میں نے دروازے کو بند کردیا، جس نے اوصدت کہا تو اس کے نزدیک اس کا اسم وصاد آتا ہے جس نے آصدتہ کہا تو پھر اسم اصاد آتا ہے، ابوعمرو، حفص، حمزہ، یعقوب اور شیزری نے کسائی سے موصدہ یہاں بھی اور سورة الہمزہ میں بھی ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے، باقی قراء نے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں ابوبکر بن عیاش سے مروی ہے کہ ہمارے امام تھے وہ موصدہ میں ہمزہ پڑھا کرتے تھے تو میں خواہش کرتا کہ جب میں سنوں تو اپنے کانوں کو بند کرلوں۔