Ayah 89:1[وَالْفَجْرِ : قسم ہے فجر کی ]
نوٹ۔ 1: یہاں پانچ چیزوں کی قسم کھا کر اس مضمون کی تاکید کی گئی ہے جو آگے اِنَّ رَبَّکَ لَیا لْمِرْصَادِ میں بیان ہوا ہے، یعنی اس دنیا میں تم جو کچھ کر رہے ہو اس پر جزاء وسزا ہونا لازمی اور یقینی ہے۔ تمہارا رب تمہارے سب اعمال کی نگرانی میں ہے۔
وہ پانچ چیزیں جن کی قسم کھائی ہے، ان میں پہلی چیز فجر یعنی صبح صادق ہے۔ ہوسکتا ہے اس سے مراد ہر روز کی صبح ہو، کیوں کہ وہ عالم میں ایک انقلاب عظیم لاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت علی ؓ ، ابن عباس ؓ اور ابن زبیر ؓ سے یہی معنی منقول ہے۔ بعض مفسرین نے ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی یوم النحر (خون بہانے کا دن) کی صبح کو اس کی مراد قرر دیا ہے۔ مجاہد (رح) و عکرمہ (رح) کا یہی قول ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی ایک روایت میں یہ قول منقول ہے۔ اس یوم النحر کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دن کے ساتھ ایک رات لگائی ہے جو اسلامی اصول کے مطابق دن سے پہلے ہوتی ہے۔ صرف یوم النحر ایک ایسا دن ہے کہ اس کے ساتھ کوئی رات نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوم النحر سے پہلے جو رات ہے وہ یوم النحر کی نہیں بلکہ شرعاً یوم العرفہ ہی کی رات قرار دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی حج کرنے والا عرفہ کے دن میدان عرفات میں نہ پہنچ سکا لیکن رات کو صبح صادق سے پہلے کسی وقت بھی عرفات میں پہنچ گیا تو اس کا وقوف معتبر اور حج صحیح ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ روز عرفہ کی دو راتیں ہیں اور یوم النحر کی کوئی رات نہیں۔ اس طرح یوم النحر کی صبح ایک خاص شان رکھتی ہے۔
دوسری قسم دس راتوں کی ہے۔ حضرت ابن عباس (رح) ، قتادہ (رح) ، مجاہد (رح) ، سُدّی (رح) ، ضحاک (رح) ، کلیبی (رح) ، ائمۂ تفسیر کے نزدیک ذی الحجہ کی ابتدائی دس راتیں اس سے مراد ہیں۔ کیونکہ حدیث میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ دس راتیں وہ ہی ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں آئی ہیں۔ امام قرطبی (رح) نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے بھی یہی دس راتیں ذی الحجہ کی مقرر کی گئی تھیں۔
وَالشَفْعِ وَالْوَتْرِ ۔ قرآن کریم کے الفاظ سے یہ متعین نہیں کہ اس جفت اور طاق سے کیا مراد ہے۔ اس لیے اس میں ائمۂ تفسیر کے بیشمار اقوال ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں جسے ابوزبیر نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے، یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وَالْفَجْرِوَ لَیَالٍ عَشْر کے متعلق فرمایا کہ فجر سے مراد صبح اور عشر سے مراد عشرۂ نحر ہے۔ اور فرمایا کہ وتر سے مراد روز عرفہ اور شفع سے مراد یوم النحر ہے۔ قرطبی (رح) نے اس روایت کو نقل کر کے فرمایا کہ یہ اسناد کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے بہ نسبت دوسری حدیث کے جس میں شفع اور وتر نماز کا ذکر ہے۔ اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ ، عکرمہ (رح) ، نحاس (رح) نے اسی کو اختیار کیا کہ شفع سے مراد یوم النحر اور وتر سے مراد یوم عرفہ ہے۔
وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ ۔ یَسْرِیْ کی معنے رات کو چلنے کے ہیں۔ یہاں خود رات کو کہا گیا کہ جب وہ چلنے لگے یعنی ختم ہونے لگے۔ یہ پانچ قسمیں ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو سوچنے سمجھنے کی دعوت دینے کے لیے فرمایا کہ کیا عقل والے آدمی کے لیے یہ قسمیں کافی ہیں یا نہیں۔ (معارف القرآن ج 8 ۔ ص 738 تا 740 سے ماخوذ)
نوٹ۔ 2: یہاں جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں کہ اس کائنات کا مدبر حقیقی اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی باگ ہے۔ وہی جب چاہتا ہے ایک چیز کو نمودار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو اوجھل کردیتا ہے۔ وہ جس کو جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اپنی مقرر کردہ حد سے آگے بڑھے یا اس کے اختیار میں مداخلت کرسکے۔ (تدبر قرآن۔ ج 9 ۔ ص 346)
ان اضداد سے پہلی دلیل تو قرآن نے توحید پر قائم کی ہے۔ (جیسا کہ اوپر وضاحت کی گئی ) ۔ اور قرآن نے اس سے دوسری دلیل قیامت پر قائم فرمائی ہے۔ وہ مختصر الفاظ میں یوں ہے کہ اس دنیا میں اس کے خالق نے ہر چیز جوڑے جوڑے پیدا کی ہے۔ اور ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنی غایت کو پہنچتی ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہی حکم اس دنیا پر بھی لگ سکتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ آخرت کو نہ ملائیے تو اس کے اندر ایک ایسا خلا رہ جاتا ہے جو آخرت کو مانے بغیر کسی طرح نہیں بھرتا۔ اس میں نیکی اور بدی، عدل اور ظلم میں ہر وقت جو کشمکش برپا ہے اس کا فطری مطالبہ یہ ہے کہ ایک ایسا روز انصاف آئے جس میں اس کا خالق لوگوں کا محاسبہ کرے۔ پھر اچھے بندوں کو صلہ دے اور بروں کو ان کے کیفرِ کردار کو پہنچا دے۔ تیسری حقیقت یہ واضح فرمائی ہے کہ جس طرح انسان کے مادی وجود کے لیے دن کی روشنی اور حرارت کے ساتھ رات کی تاریکی اور خنکی بھی ضروری ہے، اسی طرح اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو تنگی اور فراخی، صحت اور مرض کی آزمائشوں سے گزارا جائے، تاکہ اس کے صبر اور شکر کی تربیت ہو اور وہ رَاضِیَۃً مَرْضِیَۃً کا مقام حاصل کرنے کا اہل بنے۔ چوتھی حقیقت یہ واضح فرمائی کہ کسی کو، خواہ وہ کتنا ہی زور اور اثر رکھنے والا ہو، خدا کی ڈھیل سے اس گھمنڈ میں نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ اس کی گرفت سے باہر ہے۔ جب سورج اور چاند، رات اور دن اس کے کنٹرول سے باہر نہیں تو انسان کی کیا حقیقت ہے کہ وہ خود کو اس کے اقتدار سے باہر سمجھے۔ (تدبر قرآن۔ ج 9 ۔ ص 351 تا 353)
Ayah 89:2[وَلَيَالٍ عَشْرٍ : اور قسم ہے دس راتوں کی ]
ترکیب : (آیت۔ 2) لَیَالٍ دراصل لَیَالِیٌ ہے جو قاعدہ کے مطابق تبدیل ہو کر لَیَالٍ لکھی جاتی ہے۔
Ayah 89:3[وَّالشَّفْعِ : اور قسم ہے جفت کی ][ وَالْوَتْرِ : اور قسم ہے طاق کی ]
Ayah 89:4[وَالَّيْلِ : اور قسم ہے رات کی ][ اِذَا يَسْرِ : جب وہ چلتی (ڈھلتی) ہے ]
(آیت۔ 4) یَسْرِ مادہ ” ی س ر “ سے نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ اس کا ماضی ہوتا تو یَسَرَ یا یَسْرَ ہوتا اور اگر مضارع ہوتا یَیْسِرُ یا یَیْسُرْ ہوتا، کیونکہ یہ باب ضَرَبَ اور کَرمَ دونوں سے آتا ہے۔ یہاں یَسْرِ میں سین پر علامت سکون اور را کی کسرہ بتارہی ہے کہ یہ مادہ ” س ر ی “ کا مضارع یَسْرِیْ ہے، جس کی یا گری ہوئی ہے۔
Ayah 89:5[هَلْ فِيْ ذٰلِكَ قَسَمٌ: کیا اس میں کوئی قسم ہے ][ لِذِيْ حِجْرٍ : کسی عقل والے کیے لیے ]
Ayah 89:6[اَلَمْ تَرَ : کیا آپ ﷺ نے دیکھا نہیں ][ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ : (کہ) کیسا کیا آپ ﷺ کے رب نے ][ بِعَادٍ : عاد کے ساتھ ]
نوٹ۔ 3: جزا وسزا پر شب وروز کے نظام سے استدلال کرنے کے بعد آیات۔ 6 تا 14 ۔ میں انسانی تاریخ سے استدلال کیا گیا ہے۔ تاریخ کی چند معروف قوموں کے طرز عمل اور ان کے انجام کے ذکر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے بہرے قانون فطرت (Law of Nature) پر نہیں چل رہی ہے بلکہ ایک خدائے حکیم اس کو چلا رہا ہے۔ اس خدا کی خدائی میں صرف ایک وہی قانون کار فرما نہیں ہے جسے تم قانون فطرت کہتے ہو۔ بلکہ ایک قانون اخلاق بھی کارفرما ہے جس کا لازمی تقاضا مکافاتِ عمل اور جزاء وسزا ہے۔ اس قانون کی کارفرمائی کے آثار خود اس دنیا میں بھی بار بار ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ یہاں جن قوموں نے بھی آخرت سے بےفکر ہو کر اپنی زندگی کا نظام چلایا وہ آخرکار مفسد بن کر رہے اور اس پر کائنات کے رب نے آخرکار عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ انسانی تاریخ کا یہ مسلسل تجربہ دو باتوں کی واضح شہادت دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آخرت کا انکار ہر قوم کو بگاڑنے اور بالآخر تباہی میں دھکیلنے کا موجب ہوا ہے۔ اس لیے آخرت فی الواقع ایک حقیقت ہے جس سے ٹکرانے کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو حقیقت سے ٹکرانے کا ہوا کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جزائے اعمال کسی وقت مکمل طور پر بھی واقع ہونے والی ہے۔ کیونکہ فساد کی آخری حد پر پہنچ کر عذاب کا کوڑا جن لوگوں پر برسا، ان سے پہلے صدیوں تک بہت سے لوگ اس فساد کے بیچ بو کر دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ ان پر کوئی عذاب نہیں آیا تھا۔ خدا کے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی وقت ان سب کی بھی باز پرس ہو اور وہ بھی سزا پائیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 89:7[اِرَمَ : (یعنی عادِ ) ارم کے ساتھ ][ ذَاتِ الْعِمَادِ : جو ستونوں والے تھے ]
(آیت۔ 7) قبیلہ عاد دو تھے۔ عادِ اولیٰ کا دوسرا نام اِرَمُ (غیر منصرف) ہے۔ یہاں یہ عَادٍ کے بدل کے طور پر آیا ہے اس لیے اِرَمَ حالت جَر میں ہے۔ ذَاتِ اِلْعِمَادِ اِرَمَ کی صفت ہے اس لیے ذَاتِ حالت جر میں آیا ہے۔ اور عَادٍ ایک قبیلہ ہے اس لیے ذَاتِ مونث کا صیغہ آیا۔
Ayah 89:8[الَّتِيْ لَمْ يُخْلَقْ : وہ، پیدا نہیں کیا گیا ][ مِثْلُهَا : جن کے جیسا ][ فِي الْبِلَادِ : سارے شہروں میں ]
(آیت۔ 8) لَمْ یُخْلَقْ کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مِثْلُھَا میں مِثْلُ حالت رفع میں آیا ہے۔
Ayah 89:9[وَثَمُوْدَ : اور ثمود کے ساتھ ][ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْر : جنھوں نے تراشیں چٹانیں ][َ بِالْوَادِ : اس وادی میں ]
(آیات۔ 9 ۔ 10) ثَمُوْدَ اور فِرْعَوْنَ ، یہ دونوں لِعَادٍ کی بِ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جَرّ میں ہیں۔
Ayah 89:10[وَفِرْعَوْنَ : اور فرعون کے ساتھ ][ ذِي الْاَوْتَادِ : جو میخوں والا تھا ]
Ayah 89:11[الَّذِينَ طَغَوْا : وہ لوگ جنھوں نے سرکشی کی ][ فِي الْبِلَادِ : شہروں میں ]
(آیت۔ 11) اَلَّذِیْنَ جمع کا صیغہ بتارہا ہے کہ یہ عاد، ثمود اور فرعون تینوں کے لیے ہے۔
Ayah 89:12[فَاَكْثَرُوْا فِيْهَا : پھر انھوں نے کثرت دی ان میں ][ الْفَسَادَ : فساد کو ]
Ayah 89:13[فَصَبَّ عَلَيْهِمْ : تو برسایا ان پر ][ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ : آپ ﷺ کے رب نے ایک عذاب کا کوڑا ]
Ayah 89:14[ان رَبَّكَ : بیشک آپ ﷺ کا رب ][ لَبِالْمِرْصَادِ : یقینا گھات میں ہے
Ayah 89:15[فَاَمَا الْانسَان : پس وہ جو ہے انسان ][ اِذَا مَا : (تو) جب کبھی بھی ][ ابْتَلٰىهُ : آزمائش میں ڈالتا ہے اس کو ][ رَبُّهٗ : اس کا رب ][ فَاَكْرَمَهٗ : تو وہ عزت دیتا ہے اس کو ][ وَنَعَّمَهٗ : اور وہ بتدریج نعمت دیتا ہے اس کو ][ ڏ فَيَقُوْلُ رَبِيْٓ: تو وہ (انسان) کہتا ہے میرے رب نے ][ اَكْرَمَنِ : مہربانی کی مجھ پر ]
نوٹ۔ 1: آیات۔ 15 ۔ 16 ۔ میں انسان سے مراد اصل میں تو کافر انسان ہے۔ مگر مفہوم عام کے اعتبار سے وہ مسلمان بھی اس خطاب میں شریک ہے جو اس جیسے خیال میں مبتلا ہو۔ اور وہ خیال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے رزق میں وسعت سے نوازے تو شیطان اس کو دوباطل خیالات میں مبتلا کرتا ہے۔ اول یہ کہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ میری ذاتی صلاحیت، عقل وفہم اور محنت کا نتیجہ ہے جو مجھے ملنا ہی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ ان چیزوں کے حاصل ہونے سے وہ یہ سمجھ بیٹھے میں اللہ کے نزدیک بھی مقبول ہوں۔ اسی طرح سے جب کسی انسان پر رزق میں تنگی آئے تو اس کو اللہ کے نزدیک مردود ہونے کی دلیل سمجھے۔ ایسے خیالات کفار و مشرکین میں تو ہوتے ہی ہیں، مگر افسوس ہے کہ آج کل بہت سے مسلمان بھی اس گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ (معارف القرآن)
اس دنیا میں انسان کو تنگی کی حالت پیش آئے یا فراخی کی، یہ دونوں ہی بطور امتحان پیش آتی ہیں۔ کسی کو فراخی بخشنے سے مقصود اس کے شکر کو جانچنا ہوتا ہے کہ نعمتیں پا کر وہ مغرور بن جاتا ہے یا اپنے رب کا شکر گزار اور اس کے بندوں کا خدمت گزار بنتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا رزق تنگ کرتا ہے تو اس سے مقصود اس کے صبر کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کے فیصلے پر قانع و مطمئن اور اپنے کردار میں پختہ ثابت ہوتا ہے یا حوصلہ ہار دیتا ہے۔ انسان کے صبروشکر کی پختگی ہی پر اس کے تمام دین کی پختگی کا انحصار ہے، اس لیے ان دونوں چیزوں کا امتحان برابر ہوتا رہتا ہے۔ جس نے اپنے اندر یہ دونوں صفات پیدا کرلیں، اس کو نفس مطمئنہ کی دولت حاصل ہوگئی اور اسی کو اللہ تعالیٰ کے ہاں رَاضِیَۃً مَرْضِیَّۃً کی بادشاہی حاصل ہوگی۔ (تدبر قرآن)
Ayah 89:16[وَاَمَآ : اور وہ جو ہے ][ اِذَا مَا : (کہ) جب کبھی بھی ][ ابْتَلٰىهُ : وہ آزمائش میں ڈالتا ہے اس کو ][ فَقَدَرَ عَلَيْهِ : تو وہ اندازہ (تنگی) کرتا ہے اس پر ][ رِزْقَهٗ : اس کے رزق کا ][ ڏ فَيَقُوْلُ رَبِيْٓ: تو وہ کہتا ہے میرے رب نے ][ اَهَاننِ : اہانت کی میری ]
Ayah 89:17[كَلَّا بَلْ : ہرگز نہیں، بلکہ (بات یہ ہے کہ)][ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ : تم لوگ مہربانی نہیں کرتے یتیم پر ]
Ayah 89:18[وَلَا تَحٰۗـضُّوْنَ : اور تم لوگ ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے ][ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ : مسکین کے کھانا (کھلانے) پر ]
Ayah 89:19[وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ : اور تم لوگ کھاتے ہو میت کا مال ][ اَكْلًا : جیسے کھاتے ہیں ] لَّمًّا : سمیٹتے ہوئے ]
Ayah 89:20[وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ : اور تم لوگ محبت کرتے ہو مال سے ][ حُبًّا : جیسا محبت کرنے کا حق ہے ][ جَمًّا : کثرت سے جمع کرتے ہوئے ]
ج م م
[جَمُوْمًا : (ن۔ ض) کسی چیز کا کثرت سے جمع ہونا۔ (لازم)]
[جَمًّا : کسی چیز کو کثرت سے جمع کرنا۔ (متعدی) ، زیر مطالعہ آیت۔ 20 ۔]
Ayah 89:21[كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ : ہرگز نہیں، جب ہموار کی جائے گی زمین ][ دَكًّا دَكًّا : کوٹ کوٹ کر ]
Ayah 89:22[وَّجَاۗءَ رَبُّكَ : اور آئے گا آپ ﷺ کا رب ][ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا : اور سارے فرشتے قطار در قطار ]
Ayah 89:23[وَجِايْۗءَ يَوْمَىِٕذٍۢ بِجَهَنَّمَ : اور (نزدیک) لائی جائے گی اس دن جہنم ][ ڏ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْانسَان : (تب) اس دن یاد کرے گا انسان ][ وَ : اس حال میں (کہ)][انٰى لَهُ : کہاں ہوگی اس کے لیے ][ الذِّكْرٰى: وہ بڑی نصیحت ]
Ayah 89:24[يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ : (پھر) وہ کہے گا اے کاش میں نے آگے بھیجا ہوتا ][ لِحَيَاتِيْ : اپنی زندگی کے لیے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 24 ۔ میں الفاظ ہیں جَائَ رَبُّکَ ۔ ان کا لفظی ترجمہ ہے ” تیرا رب آئے گا۔ “ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کو ایک تمثیلی انداز بیان ہی سمجھنا ہوگا۔ جس سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اس کی سلطانی کے آثار اس طرح ظاہر ہوں گے جیسے دنیا میں کسی بادشاہ کے تمام لشکروں کی آمد سے وہ رعب طاری نہیں ہوتا جو بادشاہ کے خود دربار میں آجانے سے طاری ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 89:25[فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ : تو اس دن عذاب نہیں دے (سکے) گا ][ عَذَابَهٗٓ: اس (اللہ ) کے عذاب (جیسا)][ اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ]
نوٹ۔ 3: آیات۔ 25 ۔ 26 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن مجرموں کو ایسی سخت سزا دے گا اور ایسی سخت قید میں رکھے گا کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کی سختی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ ” اس روز نہ مارے گا اس کا سامارنا کوئی، نہ آگ نہ دوزخ کے مؤکل، نہ سانپ بچھو، جو دوزخ میں ہوں گے۔ کیونکہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے۔ اور حق تعالیٰ کا عذاب اس طور سے ہوگا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کر دے گا، جو عذاب روحانی ہے، اور ظاہر ہے کہ عذاب روحانی کو عذاب جسمانی سے کیا نسبت۔ نیز نہ باندھے گا اس کا سا باندھنا کوئی۔ کیونکہ دوزخ کے پیادے ہرچند کہ دوزخیوں کے گلے میں طوق ڈالیں گے، زنجیروں سے جکڑیں گے اور دوزخ کے دروازے بند کر کے اوپر سے سر پوش رکھ دیں گے لیکن ان کی عقل اور خیال کو بند نہ کرسکیں گے۔ اور عقل و خیال کی عادت ہے کہ بہت سی باتوں کی طرف التفات کرتا ہے اور ان میں سے بعض باتیں دوسری باتوں کے لیے حجاب ہوجاتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ عقل و خیال کو ادھر ادھر جانے سے روک دے گا اور بالکل ہمہ تن دکھ درد ہی کی طرف متوجہ رکھے گا۔ تو ایسی قید بدنی قید سے ہزاروں درجے سخت ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
نوٹ۔ 4: نفس مطمئن سے مراد وہ انسان ہے جس نے کسی شک وشبہ کے بغیرپورے پورے اطمینان اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اللہ وحدہٗ لاشریک کو اپنا رب اور انبیاء کے لائے ہوئے دین کو اپنا دین قرر دیا ہے۔ جو عقیدہ اور جو حکم بھی اللہ اور اس کے رسول سے ملا اسے سراسر حق مانا۔ جس چیز سے بھی اللہ کے دین نے منع کیا اسے بادل ناخواستہ نہیں بلکہ اس یقین کے ساتھ چھوڑا کہ فی الواقع وہ بری چیز ہے۔ حق پرستی کی راہ میں جس قربانی کی بھی ضرورت پیش آئی، بےدریغ پیش کردی۔ جن مشکلات، تکالیف اور مصائب سے بھی اس راہ میں سابقہ پڑ، انھیں پورے سکون قلب کے ساتھ برداشت کیا اور دوسرے راستوں پر چلنے والوں کو اس دنیا میں جو فوائد منافع اور لذتیں حاصل ہوتی ہیں ان سے محروم رہ جانے پر اسے کوئی حسرت لاحق نہیں ہوئی، بلکہ وہ اس بات پر پوری طرح مطمئن رہا کہ دین حق کی پیروی نے اسے ان گندگیوں سے محفوظ رکھا ہے۔ (تفہیم القرآن)
11 ۔ ذی الحجہ 1431 ھ بمطابق 18 ۔ نومبر 2010 ء
Ayah 89:26[وَّلَا يُوْثِقُ : اور نہیں جکڑے گا ][ وَثَاقَهٗٓ: اس کا (سا) جکڑنا ][ اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ]
Ayah 89:27[يٰٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ : (پھر کہا جائے گا) اے مطمئن ہونے والی جان ]
Ayah 89:28[ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِكِ : تو واپس چل اپنے رب کی طرف ][ رَاضِيَةً : راضی ہوتے ہوئے (اپنے رب سے)][ مَّرْضِيَّةً : پسندیدہ ہوتے ہوئے (اپنے رب کی)]
Ayah 89:29[فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ : پھر تو داخل (شامل) ہوجا میرے بندوں میں ]
Ayah 89:30[وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ : اور تو داخل ہوجا میری جنت میں ]