Ayah 88:1[هَلْ اَتٰىكَ : کیا پہنچی آپ ﷺ کے پاس ][ حَدِيْثُ الْغَاشِـيَةِ : اس چھا جانے والی (قیامت) کی بات ]
نوٹ۔ 1: پہلی آیت میں سوال ہے کیا آپ 1 کو پہنچی۔ اس انداز میں جو سوال ہوتا ہے وہ جواب طلب کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز ہیبت یا اس کی عظمت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ آگے وُجُوْہٌ سے مراد اگرچہ افراد ہیں لیکن ان کو تعبیر وُجُوْہٌ سے اس لیے کیا ہے کہ ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اور کیفیات کا اظہار سب سے زیادہ نمایاں طریقہ پر چہروں ہی سے ہوتا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 88:2[وُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ : کچھ چہرے (کچھ لوگ) اس دن ][ خَاشِعَة : عاجزی کرنے والے ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 2 ۔ 3 ) ۔ وُجُوْہٌ حالانکہ نکرہ ہے لیکن یہاں یہ مبتدا ہے۔ مفہوم کی ادائیگی کے تقاضے کے تحت اس کو معرفہ کے بجائے نکرہ لایا گیا ہے۔ خَاشِعَۃٌ اس کی خبر ہے۔ آگے عَامِلَۃٌ اور نَاصِبَۃٌ کو بھی اگر اس کی خبر مانیں تو مفہوم بنتا ہے کہ کچھ چہرے اس دن عاجزی کرنے والے ہیں، عمل کرنے والے ہیں، محنت کرنے والے ہیں یہ مفہوم خلاف واقعہ ہے۔ اور اگر عَامِلَۃٌ اور ناصِبَۃٌ کو وُجُوْہٌ کی صفت مانیں تو پھر مفہوم بنتا ہے کہ کچھ عمل کرنے والے محنت کرنے والے چہرے اس دن عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور یہی مفہوم حضرت عمر ؓ سے مفقول ہے (دیکھیں معارف القرآن) ۔
نوٹ۔ 2: آیت۔ 2 ۔ 3 ۔ میں کافروں کے چہرے کا ایک حال یہ بتایا ہے کہ وہ خاشعہ ہوں گے۔ خشوع کے معنے جھکنے اور ذلیل ہونے کے ہیں۔ نماز میں خشوع کا یہی مطلب ہے کہ اللہ کے سامنے جھکے اور ذلت و پستی کے آثار اپنے وجود پر طاری کرے۔ جن لوگوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع اختیار نہیں کیا، ان کو اس کی سزا قیامت میں یہ ملے گی کہ وہاں ان کے چہروں پر ذلت اور رسوائی چھائی ہوئی ہوگی۔ ان کے چہروں کا دوسرا اور تیسرا حال یہ بیان فرمایا کہ عاملہ اور ناصبہ ہوں گے کفار ومجرمین کا یہ حال کہ وہ عمل اور محنت سے تھکے اور درماندہ ہوں گے، ظاہر ہے کہ ان کی دنیا کا ہے۔ کیونکہ آخرت میں کوئی اور محنت نہیں ہے۔ اسی لیے قرطبی وغیرہ مفسرین نے اس کا یہ مفہوم قرار دیا ہے کہ خاشعہ کا حال تو آخرت میں ہوگا، جبکہ عاملہ اور ناصبہ کے دونوں حال ان لوگوں کے دنیا ہی میں ہوتے ہیں۔ بہت سے کفار اور فجار مشرکانہ عبادت اور باطل طریقوں سے مجاہدہ اور ریاضت دنیا میں کرتے رہتے ہیں۔ ہندوئوں کے جوگی اور نصاریٰ کے راہب وغیرہ کے علاوہ بہت سے ایسے بھی ہیں جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کی رضاجوئی کے لیے دنیا میں عبادت و ریاضت کرتے ہیں اور اس میں محنت شاقہ برداشت کرتے ہیں مگر وہ عبادات مشرکانہ اور باطل طریقہ پر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی اجر و ثواب نہیں رکھتی۔ (عبدالدینار اور عبدالدر ہم قسم کے لوگ بھی عبادت میں نہیں بلکہ دنیا میں اپنی روزی کمانے کے لیے اللہ پر توکل اور قناعت کرنے والوں سے کئی گنا زیادہ محنت ومشقت کرتے ہیں، چاہے نماز پڑھتے ہوں، چاہے روزے رکھتے ہوں۔ اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ ان کے نماز روزے انھیں خاشعہ سے بچا لیں گے، لیکن عاملہ اور ناصبہ کی سزا تو نقد ہے۔ یہ لوگ دنیا تو خوب کماتے ہیں لیکن دنیا کے حقیقی لطف و سرور سے بالعموم محروم چلے جاتے ہیں۔ اِلاَّ مَاشَائَ اللّٰہ۔ مرتب) ۔
حضرت حسن بصری (رح) نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ جب ملک شام میں تشریف لے گئے تو ایک نصرانی راہبب ان کے پاس آیا جو اپنے مذہب کی عبادت و ریاضت میں لگا ہوا تھا۔ محنت سے اس کا چہرہ بگڑا ہوا، بدن خشک اور لباس خستہ تھا۔ جب حضرت عمر ؓ نے اس کو دیکھا تو آپ رو پڑے۔ لوگوں نے سبب پوچھا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ مجھے اس کے حال پر رحم آگیا کہ اس بیچارے نے رضائے الٰہی کے لیے بڑی محنت کی مگر وہ اس کو نہیں پاسکا۔ اور حضرت عمر ؓ نے یہی آیات۔ 2 ۔ 3 ۔ تلاوت فرمائیں۔ (معارف القرآن)
نوٹ۔ 3: قرآن مجید میں کہیں فرمایا گیا ہے کہ جہنم کے لوگوں کو زقوم کھانے کے لیے دیا جائے گا۔ کہیں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے لیے غسلین کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ انھیں خاردار سوکھی گھاس کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ ان بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کے بہت سے درجے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے اور مختلف قسم کے عذاب ان کو دئیے جائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ زقوم کھانے سے بچنا چاہیں گے تو غسلین ان کو ملے گا اس سے بھی بچنا چاہیں گے تو خاردار گھاس کے سوا کچھ نہ پائیں گے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 4: اہل دوزخ کے متعلق قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ دوزخ کے باڑے میں پہنچتے ہی وہ ایک دوسرے پر لعنت کریں گے کہ فلاں نے ہم کو گمراہ کیا۔ وہ گمراہ نہ کرتا تو ہم ہدایت پر ہوتے۔ لیڈروں اور ان کی پیروی کرنے والوں میں تو تکار ہوگی۔ اپنے اپنے پیروں اور لیڈروں کے لیے وہ لوگ دونے عذاب کا مطالبہ کرینگے۔ لیڈر جواب دیں گے کہ تم نے خود اپنی شامت بلائی کہ جان بوجھ کر ہماری پیروی کی۔ اس کے برعکس اہل جنت کا یہ حال بیان ہوا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہونے کے بعد ایک فتح مند ٹیم کی طرح ایک دوسرے کا خیرمقدم تحیت وسلام سے کریں گے۔ آپس میں مبارک سلامت کے تبادلے ہوں گے۔ نہایت خوشگوار موڈ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے اور ان میں مجلس محبت و اخلاص کی عطر بیزیوں سے معمور ہوگی۔ (تدبر قرآن)
Ayah 88:3[عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ: جو عمل کرنے والے محنت کرنے والے تھے ]
Ayah 88:4[تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً : وہ گریں گے ایک دہکنے والی آگ میں ]
(آیت۔ 4 ۔ 5) تَصْلٰی اور تُسْقٰی واحد مؤنث کے صیغے ہیں۔ وَجُوْہٌ جمع مکسر ہے، اس لیے لفظی رعایت کے تحت واحد مؤنث کے صیغے آئے ہیں۔ تُسْقٰی، ثلاثی مجرد اور باب افعال، دونوں کا مجہول ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں کے مضارع مجہول ہم شکل ہوجاتے ہیں۔ اگر ثلاثی مجرد سے مانیں تو مطلب ہوگا، ان کو پلایا جائے گا۔ اگر باب افعال سے مانیں تو مطلب ہوگا انھیں پینے کو دیا جائے گا۔
Ayah 88:5[تُسْقٰى: انھیں پینے کو دیا جائے گا ][ مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ : ایک انتہائی (گرم) چشمے سے ]
Ayah 88:6[لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ: نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی کھانا ][ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ : مگر ایک خاردار درخت سے ]
(آیت۔ 6) وُجُوْہٌ کی لفظی رعایت کے تحت لَیْسَ لَھَا آنا چاہیے تھا لیکن یہاں معنوی رعایت کی گئی ہے اس لیے لَھُمْ آیا ہے۔ (آیت۔ 11) لَاغِیَۃً اسم الفاعل کے وزن پر صفت ہے۔ اس کا موصوف محذوف ہے جو کَلِمَۃً ہوسکتا ہے۔
Ayah 88:7[لَّا يُسْمِنُ : وہ موٹا نہیں کرے گا ][ وَلَا يُغْنِيْ : اور نہ وہ بےنیاز کرے گا ][ مِنْ جوعٍ : بھوک سے ]
Ayah 88:8[وُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ : کچھ چہرے (لوگ) اس دن ][ نَاعِمَةٌ: تروتازہ ہونے والے ہیں ]
Ayah 88:9[لِسَعْيِهَا : اپنی کوشش (کے نتیجے) سے ][ رَاضِيَةٌ: راضی ہونے والے ہیں ]
Ayah 88:10[فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ : (وہ لوگ ہوں گے) ایک اعلیٰ باغ میں ]
Ayah 88:11[لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا : وہ نہیں سنیں گے اس میں ][ لَاغِيَةً : کوئی لایعنی (بات)]
Ayah 88:12[فِيْهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ: اس میں جاری ہونے والے چشمے ہیں ]
(آیت۔ 12 تا 16) ان آیات میں عَیْنٌ جَارِیَۃٌ۔ سُرُرٌ مَّرْفُوْعَۃٌ۔ اَکْوَابٌ مَّوْضُوْعَۃٌ۔ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَۃٌ۔ زَرَابیُّ مَبْثُوْثَۃٌ۔ یہ سب مبتدامؤخرنکرہ ہیں اور ان کی خبریں محذوف ہیں۔ آیت۔ 12 ۔ 13 ۔ میں متعلق خبر فِیْھَا آیا ہے۔ آگے اس کو محذوف کردیا گیا ہے۔
Ayah 88:13[فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌ: اس میں بلند کیے ہوئے تخت ہیں ]
Ayah 88:14[وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ: اور چنے ہوئے جام ہیں ]
Ayah 88:15[وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌ: اور قطار بنائے ہوئے قالین ہیں ]
Ayah 88:16[وَّزَرَابِيُّ مَبْثُوْثَةٌ: اور بکھیرے ہوئے گائو تکیے ہیں ]
Ayah 88:17[اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ : تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹوں کی طرف ][ كَيْفَ خُلِقَتْ : (کہ) کیسا اس کو بنایا گیا ]
ترکیب : (آیات۔ 17 ۔ تا 20 ۔ ) میں تمام افعال واحد مونث آئے ہیں۔ اس کی وجہ سمجھ لیں۔ اَلْاِبِلِ اسم جنس ہے جس میں تمام اونٹ اور اونٹنیاں شامل ہیں۔ اس طرح یہ اسم جمع کے حکم میں ہے جس کے لیے فعل واحد مذکر یا واحد مونث، دونوں میں سے کسی طرح لانا جائز ہوتا ہے۔ (دیکھیں آسان عربی گرمر، حصہ دوم، پیراگراف۔ 4:31) اَلسَّمَائِ اور اَلْاَرْضِ ، دونوں مؤنث سماعی ہیں، جبکہ اَلْجِبَالِ غیر عاقل کی جمع مکسر ہے اَلسَّمَائِ اور اَلْجِبَالِ پر لام جنس ہے جبکہ اَلْاَرْضِ پر لام تعریف ہے۔
نوٹ۔ 1: آیات۔ 17 تا 20 کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ آخرت کی باتیں سن کر کہتے ہیں کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے تو کیا اپنے گرد و پیش کی دنیا پر نظر ڈال کر انھوں نے کبھی نہ سوچا کہ یہ اونٹ کیسے بن گئے۔ آسمان کیسے بلند ہوگیا۔ پہاڑ کیسے قائم ہوگئے، زمین کیسے بچھ گئی۔ یہ ساری چیزیں اگر بن سکتی ہیں اور بنی بنائی ان کے سامنے موجود ہیں تو آخرت میں ایک دوسری دنیا کیوں نہیں بن سکتی۔ جنت اور دوزخ کیوں نہیں ہوسکتیں۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 1: آیات۔ 17 تا 20 کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ آخرت کی باتیں سن کر کہتے ہیں کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہوسکتا ہے تو کیا اپنے گرد و پیش کی دنیا پر نظر ڈال کر انھوں نے کبھی نہ سوچا کہ یہ اونٹ کیسے بن گئے۔ آسمان کیسے بلند ہوگیا۔ پہاڑ کیسے قائم ہوگئے، زمین کیسے بچھ گئی۔ یہ ساری چیزیں اگر بن سکتی ہیں اور بنی بنائی ان کے سامنے موجود ہیں تو آخرت میں ایک دوسری دنیا کیوں نہیں بن سکتی۔ جنت اور دوزخ کیوں نہیں ہوسکتیں۔ (تفہیم القرآن)
کائنات کی بیشمار چیزوں میں سے ان چار چیزوں کی تخصیص بقول ابن کثیر (رح) اس لیے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے تھے۔ اس وقت ان کے سامنے یہی چار چیزیں ہوتی تھیں۔ سواری میں اونٹ، اوپر آسمان، نیچے زمین اور اردگرد پہاڑ۔ اس لیے ان ہی علامات میں غور کرنے کے لیے ارشاد ہوا۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
ان میں سے دو نشانیاں، اونٹ اور زمین، ربوبیت کے پہلو سے اور دو نشانیاں، آسمان اور پہاڑ، خالق کی قدرت و حکمت کے پہلو سے زیادہ نمایاں ہیں۔ خالق کی انہی صفات پر قیامت اور جزاء وسزا کے پورے پہلو کی بنیاد ہے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2: جانوروں میں اونٹ کی کچھ ایسی خصوسیات بھی ہیں جو غور کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت و قدرت کا آئینہ بن سکتی ہیں۔ اول تو عرب میں ڈیل ڈول کے اعتبار سے سب سے بڑا جانور اونٹ ہی ہے، ہاتھی وہاں ہوتا نہیں۔ دوسرے اللہ تعالیٰ نے اس عظیم جانور کو ایسا بنادیا کہ عرب کے بدو اور مفلس آدمی بھی اتنے بڑے جانور کو پالنے اور رکھنے میں کوئی مشکل محسوس نہ کریں، کیونکہ اس کو چھوڑ دیں تو یہ اپنا پیٹ خود بھر لیتا ہے۔ اونچے درختوں کے پتے توڑنے کی زحمت بھی آپ کو نہیں کرنا پڑتی یہ خود درختوں کی شاخیں کھا کر گزارہ کرلیتا ہے۔ اس کی خوراک ہاتھی اور دوسرے جانوروں کی طرح نہیں جو بہت مہنگی پڑتی ہے۔ عرب میں پانی ایک بہت کمیاب چیز ہے، ہر جگہ ہر وقت نہیں ملتا۔ قدرت نے اس کے پیٹ میں ایک ریزروٹن کی ایسی لگا دی ہے کہ سات آٹھ روز کا پانی وہ اس ٹنکی میں محفوظ کرلیتا ہے اور تدریجی رفتار سے وہ اپنی پانی کی ضرورت کو پورا کرتا رہتا ہے۔ اتنے اونچے جانور پر سوارہونے کے لیے سیڑھی لگانی پڑتی مگر قدرت نے اس کے پائوں کو تین تہہ میں تقسیم کردیا یعنی ہر پائوں میں دو گھٹنے بنا دئیے، جسے وہ طے کر کے بیٹھ جاتا ہے تو اس پر چڑھنا اور اترنا آسان ہوجاتا ہے۔ محنت کش اتنا کہ سب جانوروں سے زیادہ بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ عرب کے میدانوں میں دھوپ کی وجہ سے دن کا سفر سخت مشکل ہے۔ قدرت نے اس کو رات بھر چلنے کا عادی بنادیا۔ مسکین طبع ایسا ہے کہ ایک بچی اس کی مہار پکڑ کر جہاں چاہے لے جائے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی خصوصیات میں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت بالغہ کا سبق دیتی ہیں۔ (معارف القرآن)
یہ واحد جانور ہے کہ اس کو بیٹھا کر اس کی پیٹھ پر بوجھ لادیں، پھر اس کو کھڑا کریں تو یہ بوجھ سمیت اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ کسی دوسرے جانور میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ پیٹھ پر بوجھ لاد کر بیٹھے سے اٹھ کھڑا ہو۔ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے اپنے ایک دانا بزرگ کو بتایا کہ میں نے ایک ایسا جانور دیکھا ہے جو بوجھ لاد کر اٹھ کھڑا ہوجاتا ہے۔ تو بزرگ نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو اس کی گردن ضرور لمبی ہوگی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اونٹ کی گردن بوجھ اٹھانے کے لیے لیور کا کام دیتی ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب)
Ayah 88:18[وَاِلَى السَّمَاۗءِ : اور آسمانوں کی طرف ][ كَيْفَ رُفِعَتْ : (کہ) کیسا ان کو بلند کیا گیا ]
Ayah 88:19[وَاِلَى الْجبالِ : اور پہاڑوں کی طرف ][ كَيْفَ نُصِبَتْ : (کہ) کیسا ان کو گاڑا گیا ]
Ayah 88:20وَاِلَى الْاَرْضِ : اور اس زمین کی طرف ][ كَيْفَ سُطِحَتْ : (کہ) کیسا اس کو بچھایا گیا ]
س ط ح
(ف) سَطَحًا بچھانا۔ ہموار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 20 ۔
Ayah 88:21[فَذَكِّرْ : تو آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیں ][ انمَآ انتَ مُذَكِّرٌ: آپ ﷺ تو بس نصیحت کرنے والے ہیں ]
نوٹ۔ 3: اب آیت۔ 21 ۔ اور اس سے آگے نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ آپ 1 کے انذار کو جھٹلا رہے ہیں وہ اس وجہ سے نہیں جھٹلا رہے ہیں کہ اس انذار کے حق میں دلائل نہیں ہیں۔ دلائل تو آسمان سے لے کر زمین تک چپہ چپہ پر ہیں لیکن ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے اندر خشیت ہوتی ہے۔ رہے وہ لوگ جن کے دلوں پر قساوت چھا چکی ہے وہ ان نشانیوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اس لیے آپ 1 ان کے ردوقبول سے بےنیاز ہو کر اپنی تذکیر و تبلیغ جاری رکھیں اور مطمئن رہیں کہ آپ 1 کا فرض تذکیر و تبلیغ ہی ہے۔ آپ 1 پر یہ ذمہ داری نہیں ہے آپ ان کے دلوں میں ایمان اتار ہی دیں۔ اللہ نے آپ کو یاد دہانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے، ان کے ایمان کا ٹھیکیدار بنا کر نہیں بھیجا ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کی پرسش آپ 1 سے ہو۔ (تدبر قرآن)
Ayah 88:22[لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِر : ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں ]
Ayah 88:23[اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ : (اس لیے نصیحت کرتے ہیں) سوائے اس کے جس نے منہ موڑا اور (سننے سے ہی) انکار کیا ]
(آیت۔ 23) اِلاَّ سے استثناء کا تعلق سابقہ آیت میں مُصَیْطِرٍ سے نہیں ہے بلکہ اس سے بھی پہلے کی آیت میں فَذَکِّرْ سے ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ آپ 1 نصیحت کرتے رہیں سوائے اس کے جو منہ موڑے اور انکار کرے، کیونکہ آپ نصیحت کرنے والے ہیں، داروغہ نہیں ہیں۔
Ayah 88:24[فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ : تو ان کو تو عذاب دے گا اللہ ] [الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ : وہ بڑا (دوزخ کا) عذاب ]
Ayah 88:25[ان اِلَيْنَآ : یقینا ہماری طرف ہی ][ اِيَابَهُمْ : ان کی واپسی ہے ]
Ayah 88:26[ثُمَّ ان عَلَيْنَا : پھر یقینا ہم پر ہی ہے ][ حِسَابَهُمْ : ان سے حساب لینا ]