87. Surah Al-A'laa

الأعلىThe Most High · 19 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 87:1

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ Open ayah 87:1 in the Quran reader

(اے نبیؐ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو

[سَبِحِ : آپ ﷺ تسبیح کریں ][ اسْمَ رَبِكَ الْاَعْلَى: اپنے اعلیٰ رب کے نام کی ] ترکیب : (آیت۔ 1) الْاَعْلٰی پر رفع، نصب، جر ظاہر نہیں ہوتی۔ اس لئے گرامر کے لحاظ سے یہ ممکن ہے کہ اس کو حالت نصب میں مانا جائے تو یہ اِسْمَ کی صفت ہوگا اور اگر حالت جر میں مانیں تو یہ رَبِّ کی صفت ہوگا۔ لیکن مضمون کے لحاظ سے مناسب یہی ہے کہ اس کو رَبِّکی صفت مانا جائے۔ نوٹ۔ 1: لفظ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے پاک اور برتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ شان کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا صحیح تصور ہی تمام علم و معرفت اور قوت و اعتماد کا سرچشمہ ہے۔ اگر اس میں کوئی خلل پید اہو جائے تو انسان صحیح معرفت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا ہے۔ اور شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ تسبیح کی سب سے اعلیٰ شکل تو نماز ہے لیکن جس طرح سانس انسان کی مادی زندگی کے لیے ہر وقت ضروری ہے اسی طرح سے اللہ تعالیٰ کی یاد اس کی روحانی زندگی کے لیے ہر وقت ضروری ہے۔ اس لیے صرف نماز کے اوقات ہی میں نہیں بلکہ زندگی کی دوسری سرگرمیوں کے اندر بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے دل کو آباد رکھنا چاہیے تاکہ شیطان کو اس پر غلبہ پانے کا موقع نہ ملے (تدبیر قرآن)
Ayah 87:2

الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ Open ayah 87:2 in the Quran reader

جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا

[الَّذِي خَلَقَ فَسَوّٰى: وہ، جس نے پیدا کیا پھر اس نے نوک پلک درست کی (اس کی)] (آیت۔ 2 ۔ 3) خَلَقَ ۔ سَوّٰی۔ قَدَّرَ ۔ ھٰدٰی۔ اِن افعال کے مفعول محذوف ہیں۔ اس لیے مفہوم میں وسعت پیدا ہوئی اور یہاں ساری مخلوق مراد ہے، جس میں فرشتے، جن واِنس، حیوانات، نباتات، جمادات وغیرہ سب شامل ہوگئے۔ (حافظ احمد یار صاحب) ۔ آگے آیات۔ 2 تا 5 میں رَبِّ اَعْلٰی کی صفات کا ذکر ہے جو تخلیق کائنات میں اس کی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کے مشاہدہ سے متعلق ہیں۔ خلق کے معنی محض صنعت گری کے نہیں بلکہ عدم سے وجود میں لانا بھی ہے۔ دوسری صفت فَسَوّٰی ہے۔ برابر کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز کو جو وجود عطا فرمایا ہے اس میں اس کی جسامت، شکل و صورت اور اعضاء وغیرہ کی وضع قطع میں ایک خاص تناسب ملحوظ رکھا ہے۔ تیسری چیز سلسلہ میں فرمائی قَدَّرَ ، جس کے معنی ہر چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور خاص تجویز کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی چیزوں کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہر چیز کو کسی خاص کام کے لیے پیدا کیا اور اس کے مناسب اس کو وسائل دئیے اور اسی کام میں اس کو لگا دیا۔ غور کیا جائے تو یہ بات کسی خاص جنس یا نوع مخلوق کے لیے مخصوص نہیں۔ ساری کائنات کی مخلوقات ایسی ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے خاص خاص کاموں کے لیے بنایا ہے اور ہر چیز اپنے رب کی مقرر کردہ ڈیوٹی میں لگی ہوئی ہے۔ چوتھی چیز فرمائی فَھَدٰی۔ یعنی خالق کائنات نے جس چیز کو جس کام کے لیے پیدا فرمایا اس کو اس کی ہدایت بھی فرما دی کہ وہ کس طرح اس کام کو انجام دے۔ یہ ہدایت تمام کائنات کی مخلوقات کو شامل ہے۔ کیونکہ ایک خاص قسم کی عقل و شعور اللہ تعالیٰ نے ان سب کو دیا ہے، گو وہ انسان کے عقل و شعور سے کم ہو۔ انسان کو حق تعالیٰ نے عقل و شعور سب سے زیادہ عطا فرمایا ہے۔ اور زمین میں پیدا ہونے والی اشیاء انسان کی خدمت اور اس کے نفع کے لیے پیدا ہوئی ہیں۔ مگر ان سے فائدہ اٹھانا مختلف قسم کے منافع حاصل کرنا اور مختلف چیزوں کو جوڑ کر ایک نئی چیز پیدا کرلینا، بڑے علم وہنر کا تقاضہ کرتا ہے۔ قدرت نے انسان کے اندر فطری طور پر یہ عقل وفہم ودیعت کر رکھا ہے۔ اور یہ علم وہنر فلاسفہ کی تحقیقات اور کالجوں کی تعلیمات پر موقوف نہیں، بلکہ دنیا کی ابتدا سے اَن پڑھ جاہل یہ سب کام کرتے آئے ہیں۔ یہی فطری سائنس ہے جو حق تعالیٰ نے انسان کو فطرتاً بخشی ہے۔ پھر فنی اور علمی تحقیقات کے ذریعہ اس میں ترقی کرنے کی استعداد بھی اسی قدرت ربانی کا عطیہ ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ سائنس کسی چیز کو پیدا نہیں کرتی، بلکہ قدرت کی پیدا کردہ اشیاء کا استعمال سکھاتی ہے۔ اس استعمال کا ادنیٰ درجہ تو حق تعالیٰ نے انسان کو فطرۃً سکھا دیا۔ آگے اس میں فنی تحقیقات اور ترقی کا بڑا وسیع میدان رکھا ہے اور انسان کی فطرت میں اس کو سمجھنے کی استعداد و صلاحیت رکھی ہے جس کے مظاہر اس سائنسی دور میں نت نئے سامنے آ رہے ہیں اور معلوم نہیں آگے اس سے زیادہ کیا کیا سامنے آئے گا۔ غور کرو تو یہ سب قرآن کے ایک لفظ فَھَدٰی کی شرح ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 87:3

وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدٰى۪ۙ Open ayah 87:3 in the Quran reader

جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی

[وَالَّذِي : اور وہ، جس نے ][ قَدَّرَ : اور وہ، جس نے ][ فَهَدٰى: پھر اس نے راہ سجھائی (اس کو)]
Ayah 87:4

وَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى۪ۙ Open ayah 87:4 in the Quran reader

جس نے نباتات اگائیں

[وَالَّذِيٓ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى: وہ، جس نے نکالا چارا ]
Ayah 87:5

فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحْوٰىؕ Open ayah 87:5 in the Quran reader

پھر اُن کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا

[فَجَعَلَهٗ : پھر اس نے کردیا اس کو ][ غُثَاۗءً اَحْوٰى: سیاہ کوڑا ]
Ayah 87:6

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ Open ayah 87:6 in the Quran reader

ہم تمہیں پڑھوا دیں گے، پھر تم نہیں بھولو گے

[سَنُقْرِئُكَ : ہم پڑھائیں گے آپ ﷺ کو ][ فَلَا تَنْسٰٓى: تو آپ ﷺ نہیں بھولیں گے ] نوٹ۔ 2: آیت نمبر۔ 6 ۔ کے یہ الفاظ کہ ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے پھر تم نہیں بھولو گے یہ بتاتے ہیں کہ یہ سورة اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ ﷺ کو ابھی وحی اخذ کرنے کی اچھی طرح مشق نہیں ہوئی تھی اور نزول وحی کے وقت آپ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں اس کے الفاظ بھول نہ جائیں۔ اس آیت کے ساتھ سورة طٰہٰ کی آیت۔ 114 ۔ اور سورة قیامہ کی آیات۔ 16 تا 19 ۔ کو ملا کر دیکھا جائے تو واقعات کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اس سورة میں حضور ﷺ کو اطمینان دلایا گیا کہ ہم یہ کلام آپ کو پڑھوا دیں گے اور آپ ﷺ اسے نہ بھولیں گے۔ پھر ایک مدت کے بعد جب سورة قیامہ نازل ہو رہی تھی تو حضور 1 بےاختیار وحی کے الفاظ کو دہرانے لگے۔ اس وقت فرمایا گیا کہ اس وحی کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ اس کو یاد کرا دینا، پڑھوا دینا پھر اس کا مطلب سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ آخری مرتبہ سورة طٰہٰ کے نزول کے موقعہ پر آپ ﷺ کو ندیشہ لاحق ہوا کہ یہ 113 ۔ آیتیں جو متواتر نازل ہو رہی ہیں ان میں سے کچھ میرے حافظے سے نکل نہ جائے اور آپ ﷺ ان کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگے اس پر فرمایا گیا کہ قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں جب تک آپ ﷺ کی طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے۔ اس کے بعد پھر کبھی اس کی نوبت نہیں آئی۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص۔ 308) آگے فرمایا گیا اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہُ ۔ اس فقرے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ پورے قرآن کا لفظ بلفظ آپ ﷺ کے حافظے میں محفوظ ہوجانا آپ ﷺ کی اپنی قوت کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہے، ورنہ اللہ چاہے تو اسے بھلا سکتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی وقتی طور پر آپ ﷺ کو نسیان لاحق ہوجانا اور آپ ﷺ کا کسی آیت یا لفظ کو کسی وقت بھول جانا اس وعدے سے مستثنیٰ ہے۔ وعدہ جس بات کا کیا کیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ مستقل طور پر قرآن کے کسی لفظ کو نہیں بھول جائیں گے۔ اس مفہوم کی تائید بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ قرأت کے دوران میں ایک آیت چھوڑ گئے۔ نماز کے بعد حضرت ابی بن کعب ؓ نے پوچھا کہ کیا یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں میں بھول گیا تھا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 87:7

اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ وَ مَا یَخْفٰىؕ Open ayah 87:7 in the Quran reader

سوائے اُس کے جو اللہ چاہے، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی

[اِلَّا مَا : سوائے اس کے جو [ شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ: چاہا اللہ نے ][ انهٗ يَعْلَمُ الْجَـهْرَ : بیشک وہ جانتا ہے نمایاں کرنے کو ][ وَمَا يَخْفٰى: اور اس کو جو پوشیدہ ہوتا ہے ]
Ayah 87:8

وَ نُیَسِّرُكَ لِلْیُسْرٰىۚۖ Open ayah 87:8 in the Quran reader

اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں

[وَنُيَسِّرُكَ : اور ہم آسان کریں گے (پہنچائیں گے) آپ ﷺ کو ][ لِلْيُسْرٰى: اس آسان (طریقت) تک ] (آیت۔ 8) پَسَّرَ ، باب تفعیل، میں جس چیز کو آسان کرتے ہیں وہ مفعول بنفسہٖ آتا ہے اور جس کے لیے آسان کرتے ہیں اس پر لام کا صلہ آتا ہے۔ یہاں نُیَسِّرُ کا مفعول ضمیر مفعولی کَ ہے۔ ترجمہ اسی لحاظ سے ہوگا۔ یُسْرٰی صفت ہے۔ اس کا موصوف یہاں محذوف ہے۔ نوٹ 3: آیت۔ 8 ۔ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کو طریقہ یُسْریٰ کے لیے آسان کردیں گے۔ اس مقام کا تقاضہ یہ تھا کہ فرمایا جاتا کہ ہم اس طریقہ اور شریعت کو آپ ﷺ کے لیے آسان کردیں گے لیکن قرآن کریم نے اس کو چھوڑ کر یہ فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کواِس طریقہ کے لیے آسان کردیں گے۔ اس میں یہ بتادینا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو طبعی طور پر اور مادی طور پر ایسا بنادیں گے کہ شریعت آپ کی طبیعت بن جائے اور آپ ﷺ شریعت کے سانچے میں ڈھل جائیں۔ (معارف القرآن) عام طور پر مفسرین نے ان دو فقروں (آیات۔ 8 ۔ 9) کو الگ الگ سمجھا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک فَذِکِّرْ کا لفظ دونوں فقروں کو باہم مربوط کرتا ہے۔ اور بعد کے فقرے کا مضمون پہلے فقرے کے مضمون پر مترتب ہوتا ہے۔ اس لیے ہم اس ارشاد الٰہی کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ہم تبلیغ دین کے معاملہ میں آپ ﷺ کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے کہ تم بہروں کو سنائو اور اندھوں کو راہ دکھائو بلکہ ایک آسان طریقہ تمہارے لیے میسر کیے دیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ نصیحت کرو جہاں تمہیں یہ محسوس ہو کہ کوئی اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ اب رہی یہ بات کہ کون فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے، تو ظاہر ہے کہ اس کا پتہ تبلیغ عام ہی سے چل سکتا ہے۔ اس لیے عام تبلیغ تو جاری رکھنی چاہیے مگر اس سے مقصودیہ ہونا چاہیے کہ ان لوگوں کو تلاش کرو جو اس سے فائدہ اٹھا کر راہ راست اختیار کرنا چاہیں۔ انہی کی تعلیم و تربیت پر توجہ صرف کرنا چاہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 87:9

فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 87:9 in the Quran reader

لہٰذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو

فَذَكِّرْ : تو آپ ﷺ نصیحت کریں ][ان نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى: اگر نفع دے یہ بڑی نصیحت ] (آیت۔ 9) ذِکْرٰی فاعل ہے اور مؤنث ہے اس لیے اس کا فعل نَفَعَتْ واحد مؤنث ہے۔
Ayah 87:10

سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 87:10 in the Quran reader

جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے گا

[سَيَذَّكَّرُ مَنْ : نصیحت حاصل کرے گا (اس سے) وہ، جو ][ يَّخْشٰى: ڈرتا ہے ]
Ayah 87:11

وَ یَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَىۙ Open ayah 87:11 in the Quran reader

اور اس سے گریز کریگا وہ انتہائی بد بخت

[وَيَتَجَنَّبُهَا : اور اجتناب کرے گا اس سے ][ الْاَشْقَى: بڑا بدبخت ] (آیت۔ 11) یَتَجَنَّبُ کی ضمیر مفعولی ھَا۔ اَلذِّکْرٰی کے لیے ہے۔
Ayah 87:12

الَّذِیْ یَصْلَى النَّارَ الْكُبْرٰىۚ Open ayah 87:12 in the Quran reader

جو بڑی آگ میں جائے گا

[الَّذِي يَصْلَى: وہ، جو گرے گا ][ النَارَ الْكُبْرٰى: بڑی آگ میں ]
Ayah 87:13

ثُمَّ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰىؕ Open ayah 87:13 in the Quran reader

پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا

[ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا : پھر نہ وہ مرے گا اس میں [وَلَا يَحْيٰي : پھر نہ وہ مرے گا اس میں ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 13 ۔ کا مطلب ہے کہ نہ اسے موت ہی آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے اور نہ جینے کی طرح جیئے گا کہ زندگی کا کوئی لطف اسے حاصل ہو۔ یہ سزا ان لوگوں کے لیے ہے جو سرے سے اللہ اور اس کے رسول کی نصیحت کو قبول نہ کریں اور مرتے دم تک کفروشرک یا دہریت پر قائم رہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل میں ایمان رکھتے ہوں مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر جہنم میں ڈالے جائیں تو ان کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ جب وہ اپنی سزا بھگت لیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں موت دے دے گا۔ پھر ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی ہوئی لاشیں جنت کی نہروں پر لا کر ڈالی جائیں گی اور اہل جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو اس پانی سے وہ اس طرح جی اٹھیں گے جیسے نباتات پانی پڑنے سے اُگ آتی ہیں۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 5: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے دوسرے متعدد نبیوں کے صحیفے اسفارِ تورات کی شکل میں موجود ہیں۔ ان میں اگرچہ بہت سی تحریفیں ہوچکی ہیں اور ان کی حیثیت تاریخ کی کتابوں سے زیادہ نہیں ہے، تاہم ان سب میں توحید اور قیامت کی تعلیم نہایت واضح اور مؤثر الفاظ میں اتنی کثرت سے موجود ہے کہ جس صحیفے کو بھی پڑھیے ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو جو تعلیم دی تھی، اگرچہ وہ صحیفے کی شکل میں نہیں تھی بلکہ زبانی تعلیم و تلقین کی صورت میں تھی۔ ان کی ذریت کی ایک شاخ یعنی بنی اسرائیل نے اس کو اپنے صحیفوں میں بشکل تحریر محفوظ کیا اور ان کے انبیا (علیہ السلام) اپنے اپنے دور میں برابر اس کی یاد دہانی کرتے رہے، جس کی ناقابل تردید شہادت آج بھی ان کے صحیفوں میں موجود ہے۔ اور قرآن نے بھی جابجا اس کا حوالہ دیا ہے۔ آپ (علیہ السلام) کی ذریت کی دوسری شاخ بنی۔ اسماعیل نے اس کو تحریری شکل میں محفوظ نہیں کیا۔ انھوں نے روایات کی صورت میں اس کو کچھ مدت تک باقی رکھا پھر اس پر رفتہ رفتہ ذہول کا پردہ پڑگیا۔ پھر نبی ﷺ کی بعثت سے اس کی تحدید اور تکمیل ہوئی۔ (تدبر قرآن) مورخہ 30 ذیقعد 1431 ھ بمطابق 7 ۔ نومبر 2010 ء
Ayah 87:14

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 87:14 in the Quran reader

فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی

[قَدْ اَفْلَحَ مَنْ : اس نے مراد پالی ہے جس نے ][ تَزَكّٰى : پاکیزگی حاصل کی ]
Ayah 87:15

وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ Open ayah 87:15 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی

[وَذَكَرَ : اور اس نے یاد رکھا ][ اسْمَ رَبِهٖ : اپنے رب کے نام کو ][ فَصَلّٰى : پھر نماز پڑھی ]
Ayah 87:16

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ Open ayah 87:16 in the Quran reader

مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

[بَلْ تُـؤْثِرُوْنَ : بلکہ تم لوگ ترجیح دیتے ہو ][ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : اس دنیوی زندگی کو ]
Ayah 87:17

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ Open ayah 87:17 in the Quran reader

حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے

[وَالْاٰخِرَةُ : اس حال میں کہ آخرت ] [خَيْرٌ وَّاَبْقٰى: بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے ]
Ayah 87:18

اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ Open ayah 87:18 in the Quran reader

یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی کہی گئی تھی

[ان هٰذَا : بیشک یہ (بات)][ لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى: یقینا پہلے صحیفوں میں ہے ]
Ayah 87:19

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى۠ Open ayah 87:19 in the Quran reader

ابراہیمؑ اور موسیٰؑ کے صحیفوں میں

[صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى: ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ]