Ayah 86:1[وَالسَّمَاۗءِ : قسم ہے آسمان کی ][ وَالطَّارِقِ : اور قسم ہے رات میں آنے والے کی ]
Ayah 86:2[وَمَآ اَدْرٰىكَ : اور کیا سمجھا تو نے ][ مَا الطَّارِقُ : کیا ہے رات میں آنے والا ]
Ayah 86:3[النَّجْمُ الثَّاقِبُ : وہ چمکنے والا تارا ہے ]
Ayah 86:4[ان كُلُّ نَفْسٍ : نہیں ہے کوئی بھی جان ][ لَمَا عَلَيْهَا حَافِـظٌ ]
ترکیب : (آیت۔ 4) اس آیت میں اِنْ کو اِنْ مخفّفہ بھی مانا گیا ہے اور اِنْ نافیہ بھی۔ جو لوگ اسے اِنْ مخفّفہ مانتے ہیں وہ لَمَّا کو لَمَا (میم بغیر تشدید کے پڑھتے ہیں) اور لام کو اِنَّ کی خبر پر آنے والا لام تاکید مانتے ہیں اور مَا کو زائدہ مانتے ہیں۔ اور جو لوگ اسے اِنْ نافیہ مانتے ہیں وہ لَمَّا کو اِلاً کے مفہوم میں لیتے ہیں۔ ہم اِنْ نافیہ کے طور پر ترجمہ کریں گے۔
نوٹ 1: آیت۔ 4 ۔ میں حافظ سے مراد فرشتے ہیں جو ہر آدمی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کو بلائوں سے بچاتے ہیں اور اس کے عمل لکھتے ہیں۔ اس کے لیے ستاروں کی قسم کھانے میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ جس نے آسمان پر ستاروں کی حفاظت کے لیے سامان کیے ہیں، اس کو زمین پر تمہاری اور تمہارے اعمال کی حفاظت کرنا کیا دشوار ہے۔ نیز جس طرح آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ان کا ظہور شب میں ہوتا ہے، اسی طرح سارے اعمال نامۂ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ ہیں مگر ان کا ظہور قیامت میں ہوگا۔ اس لیے انسان کو قیامت کی فکر کرنا چاہیے اور اگر وہ اس کو بعید از قیاس سمجھتا ہے تو اس کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے۔ نطفہ سے انسان بنادینا زیادہ عجیب ہے بہ نسبت دوبارہ بنانے کے۔ جب یہ عجیب بات اللہ کے حکم سے واقع ہو رہی ہے تو جائز نہیں کہ اس سے کم عجیب بات کے وقوع کا انکار کیا جائے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر مومن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین سو ساٹھ فرشتے اس کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں جو انسان کے ہر ہر عضو کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان میں سے سات فرشتے صرف انسان کی آنکھ کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں۔ یہ فرشتے انسان سے ہر ایسی بلا و مصیبت جو اس کے لیے مقدر نہیں، اس طرح دور کرتے ہیں جیسے شہد کے برتن پر آنے والی مکھیوں کو پنکھے وغیرہ سے دور کیا جاتا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 86:5[فَلْيَنْظُرِ الْانسَان : پس چاہیے کہ غور کرے انسان ][ مِمَّ خُلِقَ : کس چیز سے اس کو پیدا کیا گیا ]
Ayah 86:6[خُلِقَ مِنْ مَاۗءٍ دَافِقٍ : وہ پیدا کیا گیا اچھل کر بہنے والے پانی سے ]
دق
(ن) دُفُوْقًا پانی کا ابل کر گرنا۔ اچھل کر بہنا۔
دَافِقٌ اسم الفاعل ہے۔ اچھل کر بہنے والا۔ زیر
Ayah 86:7[يَّخْرُجُ : جو نکلتا ہے ][ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَاۗىِٕبِ : پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے ]
Ayah 86:8[انهٗ عَلٰي رَجْعِهٖ : بیشک وہ اس کی واپسی پر ][ لَقَادِر : یقینا قدرت رکھنے والا ہے ]
(آیت۔ 8) اِنَّہٗ میں ہٗ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جبکہ رَجْعِہٖ میں ہٖ کی ضمیر اَلْاِنْسَانُ کے لیے ہے۔
Ayah 86:9[يَوْمَ تُبْلَى السَّرَاۗىِٕرُ : جس دن جانچا جائے گا بھیدوں کو ]
Ayah 86:10[فَمَا لَهٗ : تو نہیں ہوگی اس کے لیے ][ مِنْ قُوَّةٍ : کوئی بھی قوت ][ وَّلَا نَاصِرٍ : اور نہ کوئی بھی مدد کرنے والا ]
Ayah 86:11[وَالسَّمَاۗءِ : قسم ہے آسمان کی ][ ذَاتِ الرَّجْعِ : جو بارش والا ہے ]
Ayah 86:12[وَالْاَرْضِ : اور قسم ہے زمین کی ][ ذَاتِ الصَّدْعِ : جو دراڑ والی ہے ]
Ayah 86:13[انهٗ : بیشک یہ (قرآن)][ لَقَوْلٌ فَصْلٌ : یقینا ایک فیصلہ کن بات ہے ]
(آیت۔ 13 ۔ 14) اِنَّہٗ میں ہٗ اور مَاھُوَ میں ھُوَ ، یہ دونوں ضمیریں قرآن مجید کے لیے ہیں۔ فَصْلٌ اور اَلْھَزْلِ ، یہ دونوں قولٌ کی صفت ہیں۔ اَلْھَزْلِ سے پہلے اَلْقَوْلِ محذوف ہے۔ یعنی پورا جملہ یوں ہے وَمَا ھُوَ بِالْقَوْلِ الْھَزْلِ ۔ لَقَوْلٌ فَصْلٌ مرکب توصیفی بن کر اِنَّ کی خبر ہے جبکہ (بِالْقَوْلِ ) الْھَزْلِ مرکب توصیفی پھر مرکب جازی بن کر مَا نافیہ کی خبر ہے۔ اور یہ دونوں خبریں قرآن کے متعلق ہیں۔ (آیت۔ 17) م
نوٹ 2: آیات۔ 13 ۔ 14 ۔ کا مطلب یہ کہ یہ قرآن اور جو کچھ وہ قیامت کے متعلق بیان کرتا ہے، کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ حق و باطل کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ اس سے پہلے آیات۔ 11 ۔ 12 ۔ کی قسم کو اس بات سے یہ مناسبت ہوئی کہ قرآن آسمان سے آتا ہے اور جس میں قابلیت (یعنی حق کی طلب۔ مرتب) ہو اسے مالا مال کردیتا ہے جیسے بارش آسمان سے آتی ہے اور عمدہ زمین کو فیضاب کرتی ہے۔ نیز قیامت میں ایک غیبی بارش ہوگی جس سے مردے زندہ ہوجائیں گے جیسے یہاں بارش سے مردہ زمین سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
Ayah 86:14[وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ : اور یہ لاحاصل (بات) نہیں ہے ]
ھـ ز ل
(ن۔ س) ھَزْلاً لاغر و کمزور ہونا۔
(ض) ھَزْلاً مذاق وٹھٹھا کرنا۔ بےنتیجہ یا لاحاصل بات کرنا۔
ھَزْلٌ اسم صفت بھی ہے۔ کمزور۔ لاحاصل۔ بےنتیجہ۔ (جب یہ قول کی صفت کے طور پر آئے تو کمزور بات کا مطلب ہے ایسی بات جس کی کوئی سند یا دلیل نہ ہو اور لاحاصل بات کا مطلب ہے ایسی بات جس کا اچھا یا برا کوئی بھی نتیجہ نکلنے والا نہ ہو۔ (زیر مطالعہ آیت۔ 14)
Ayah 86:15[انهُمْ يَكِيْدُوْنَ : بیشک یہ لوگ چالبازی کرتے ہیں ][ كَيْدًا : جیسے چالبازی کرنے کا حق ہے ]
Ayah 86:16[وَّاَكِيْدُ : اور میں خفیہ تدبیر کروں گا ][ كَيْدًا : جیسے تدبیر کرتے ہیں ]
Ayah 86:17[فَمَــهِلِ الْكٰفِرِيْنَ : تو آپ ﷺ ڈھیل دیتے رہیں کافروں کو ][ اَمْهِلْهُمْ : (یعنی) آپ ﷺ مہلت دیں ان کو ] رُوَيْدًا : غیر محسوس طریقہ سے ]
مَھِّلْ باب تفعیل کا فعل امر ہے جس میں کام کو تدریحاً اور تسلسل سے کرنے کا مفہوم ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا مطلب ہے تُو ڈھیل دیتا رہ۔ جبکہ باب افعال میں تدریج اور تسلسل کا مفہوم نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کے فعل امر اَمْھِلْ کا مطلب ہے تُو مہلت دے۔
نوٹ 3: آیت 17 ۔ میں کافروں کو مہلت دینے کی وجہ مفسرین نے یہ بتائی ہے کہ یہ لوگ اللہ سے بچ کر کہیں جا تو سکتے نہیں، اس لیے ان کو مہلت دو تاکہ یہ لوگ جو کرنا چاہتے ہیں وہ کرلیں اور ان پر اتمام حجت ہوجائے۔ آخرکار اللہ نے ان کو پکڑنا تو ہے ہی، لیکن میرا ذہن یہ کہتا ہے کہ بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی کافروں کو ڈھیل دیتے رہنے کی ہدایت کو جب ہم عمومیت پر رکھ کر سوچتے ہیں تو اس ہدایت میں ہمیں اپنی رہنمائی کے کچھ اور پہلو بھی سمجھ میں آتے ہیں۔
اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر عقیدے اور مذہب کے مجرمین، اور ہر نوعیت کے مجرمین کو تاحیات مہلت ملی ہوئی ہے، اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہ۔ یہ بات اصولی طور پر بھی سمجھ میں آتی ہے۔ کمرۂ امتحان میں طالب علم جب اپنا پرچہ حل کر رہے ہوتے ہیں تو کوئی طالب علم خواہ کتنا بھی غلط جواب لکھ رہا ہو، اس پر کوئی نہ روک ٹوک ہوتی ہے نہ کوئی گرفت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت ختم ہونے کی گھنٹی بجنے کے بعد جب اس سے کاپی لے لی جائے گی تب دیکھا جائے گا کہ اس نے کیا صحیح لکھا اور کیا غلط۔ پھر اسی لحاظ سے اس کو نمبر ملیں گے۔ اس لیے گھنٹی بجنے تک ہر طالب علم کو مہلت ملی ہوئی ہے اور اسے آزادی (ڈھیل) بھی حاصل ہے کہ جو چاہے جواب لکھے۔ اس مہلت اور ڈھیل کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ غلط جواب لکھتے ہوئے طالب علم کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اور بھولا ہوا سبق یاد آجاتا ہے تو وہ غلط جواب کاٹ کر اس کی جگہ صحیح جواب لکھ دیتا ہے۔ یہ سہولت اسے اس لیے حاصل ہوئی کہ گھنٹی بجنے سے پہلے پہلے اس پر کوئی روک ٹوک اور گرفت نہیں تھی۔
اسی طرح یہ دنیا ہماری زندگی کا کمرۂ امتحان ہے۔ موت کی گھنٹی بجنے تک ہماری مہلت ہے اور کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کی آزادی (ڈھیل) بھی ہم کو حاصل ہے۔ ہم کو یہ ڈھیل بھی حاصل ہے کہ جب چاہیں اپنا کوئی فیصلہ منسوخ کر کے اس کی جگہ کوئی نیا فیصلہ کرلیں۔ اس مہلت اور ڈھیل کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر خود اپنی اصلاح کرنے کا جو میکنزم رکھا ہے، اسے کام کرنے کا پورا پورا موقع ملے۔
البتہ ایک فرق ہے۔ طالب علم کے کمرۂ امتحان میں اس کے کچھ لکھنے یا نہ لکھنے کے فیصلے میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں ہوتی۔ لیکن زندگی کے اس کمرۂ امتحان میں انسان پر کوئی مشکل، کوئی مصیبت آتی رہتی ہے جو کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس طرح مداخلت ہوئی۔ لیکن مہلت اور ڈھیل کی طرح یہ مداخلت بھی انسان کے حق میں مفید ہے۔ انسان کے اندر اپنی اصلاح کرنے کے میکنزم کی بیٹری کبھی اتنی ڈائون ہوجاتی ہے کہ وہ سلف اسٹارٹ نہیں رہتی، لیکن اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق اس بیٹری میں ابھی اتنی جان باقی ہوتی ہے کہ وہ دھکا اسٹارٹ ہوسکتی ہے، اس وقت کسی مشکل یا کسی مصیبت کی شکل میں دھکا لگایا جاتا ہے تاکہ انسان اگر چاہے تو اس کی مدد سے اپنی اصلاح کرنے کی بیٹری کو اسٹارٹ کرلے۔ کچھ لوگ اس دھکے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کچھ لوگ اس موقعہ کو بھی ضائع کردیتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کے دھکوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد اہل ایمان میں دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں مجرمین کی بات ہو رہی ہے اس لیے انھیں کی مشکلات اور مصائب کو یہاں دھکا کہا گیا ہے۔ صالحین، صدیقین اور انبیاء کرام کی مشکلات اور مصائب کی حکمتیں اور مصلحتیں کچھ اور ہیں جن کی وضاحت کا یہ موقعہ نہیں ہے۔
اس ڈھیل دینے اور مہلت دینے کی ہدایت میں ان لوگوں کے لیے بڑی اہم رہنمائی ہے جو کسی کی تربیت کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، جیسے والدین، اساتذہ، افسران، وغیرہ۔ اس رہنمائی کے اہم مدارج کو سورة تغابن کی آیت۔ 14 ۔ میں مزید کھولا گیا ہے۔ وہاں پر قرآن کے الفاظ یہ ہیں۔ وَاِنْ تَعْفُوْا (اور اگر تم لوگ ڈھیل دو ) وَتصْفَحُوْا (اور دیکھی اَن دیکھی کر جائو) وَتَغْفِرُوْا (اور معاف کرو) فَاِنّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ان دونوں مقامات پر غور کرنے سے ہمیں قرآن مجید کا وہ فارمولا مل جاتا ہے جو انسانوں کو عموماً اور اہل ایمان کو خصوصاً اپنے جو نیرز کی تربیت کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ اس فارمولے کی وضاحت ” جینے کا سلیقہ “ حصہ سوم کے صفحہ 74 تا 86 پر کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہاں پر اس کا خلاصہ دنیا بھی ممکن نہیں ہے۔ البتہ اس میں دی گئی مثال کو ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس سے فارمولا کسی حد تک واضح ہوجائے گا۔
ہم ساتویں یا آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے جب ہمیں سنیما دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ والد مرحوم سے اجازت مانگی تو نہیں ملی۔ ہم نے والدہ مرحومہ اور دیگر لوگوں سے سفارش کروائی، رونا دھونا بھی کیا، اسکول کا ہوم ورک کرنے کی ہڑتال کی، دو تین وقت کی بھوک ہڑتال بھی کی۔ یہ سب کچھ کرنے کی ہمیں اجازت ملی یعنی ان حرکتوں پر نہ تو ہماری پٹائی ہوئی اور نہ ڈانٹ پڑی لیکن سنیما دیکھنے کی اجازت پھر بھی نہیں ملی۔ چناچہ ہم نے چوری چھپے سنیما دیکھنے کا فیصلہ کرلیا لیکن اس میں کچھ قباحتوں سے سابقہ پڑا۔ پہلی قباحت یہ تھی کہ اس طرح شوق پورا کرنا ناممکن تھا کیونکہ ہماری خواہش تھی کہ شہر میں جو بھی پکچر لگے وہ سب دیکھی جائے، لیکن اس پر عمل کرنا ممکن نہیں تھا۔ جب کسی پکچر کی بہت تعریف سنتے تھے تب اسے دیکھنے کا پروگرام بناتے تھے۔ شام کو کھیلنے کا جو وقت تھا، اس سے پہلے گھر سے نکلنے کے لیے اور مغرب سے پہلے واپس نہ آنے کے لیے کوئی بہانا گھڑنا پڑتا تھا۔ سنیما ہال کے باہر اور اندر دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کوئی جاننے والا دیکھ نہ لے، وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال اس طرح چوری چھپے پکچر دیکھ کر جب ہم بخیریت گھر واپس آجاتے تھے تو سکھ کا سانس لیتے تھے۔
کچھ ہی عرصہ میں ایک نئی فکر لاحق ہوگئی کہ پتہ نہیں ہماری اس چوری کا والد صاحب کو علم ہے کہ نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گھر واپس آ کر جو ہم سکھ کا سانس لیتے تھے وہ رخصت ہوا۔ اب رات اس ادھیڑ بن میں گزرتی تھی کہ اگر والد صاحب کو پتہ ہے تو وہ اجازت ہی کیوں نہیں دے دیتے۔ اگر نہیں معلوم اور کبھی معلوم ہوگیا تو پھر کیا ہوگا۔ جلد ہی احساس ہوگیا کہ یہ تو گناہ بےلذت ہے۔ پکچر دیکھ کر گناہ بھی کرتے ہیں اور واپس آ کر پریشانی بھی مول لیتے ہیں۔ چناچہ فیصلہ کرلیا کہ اب پکچر نہیں دیکھیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملازمت کے سلسلہ میں جب دوسرے شہروں میں تنہا رہنے کا موقع ملا، اس وقت تک سنیما دیکھنے کا شوق مرجھا چکا تھا۔ احباب کے اصرار پر کبھی کبھار چلے جاتے تھے لیکن کچھ عرصہ بعد یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔
اس رام کہانی کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ دیکھی اَن دیکھی کر جانے کا اثر ہوتا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ اتنی جلدی نہ ہو اور اتنا واضح نہ ہو۔ اس لیے جلد جازی سے کام نہیں لینا چاہیے اور اس ہدایت کو اثر کرنے کا موقع دینا چاہیے۔
مورخہ 23 ۔ ذیعقد 1431 ھ بمطابق یکم نومبر 2010 ء