Ayah 85:1[وَالسَّمَاۗءِ : قسم ہے آسمان کی ][ ذَاتِ الْبُرُوْج : جو (سیاروں کی) منزلوں والا ہے ]
نوٹ 1: اس آیت۔ 1 ۔ میں بروج سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک بڑے بڑے ستارے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول ہے۔ بعض مفسرین نے بروج سے مراد قصور یعنی محلات لیے ہیں اور اس سے مراد وہ مقامات ہیں جو آسمان میں پہرے داروں اور نگراں فرشتوں کے لیے مقرر ہیں۔ بعض متاخرین (بعد میں آنے والے) نے اس سے مراد وہ بروج بتلائے ہیں جو فلاسفہ کی اصطلاح ہے، جس میں کل آسمان کو بارہ حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصہ کو ایک برج کہا جاتا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ثابت ستارے انہی برجوں میں اپنی اپنی جگہ مقیم ہیں۔ اور سیارے حرکت فلک کے ساتھ متحرک ہوتے ہیں۔ اور ان برجوں میں سیاروں کا نزول ہوتا ہے۔ مگر یہ سراسر غلط ہے۔ قرآن کریم سیاروں کو آسمانوں میں مرکوز نہیں قرار دیتا بلکہ سیارے کو اپنی ذاتی حرکت سے متحرک قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسین میں ہے وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ (اور وہ سب کے سب فلک میں تیرتے ہیں) فلک سے مراد یہاں آسمان نہیں بلکہ سیارے کا مدار ہے جس میں وہ حرکت کرتا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 85:2[وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ : اور قسم ہے وعدہ کیے ہوئے دن کی ]
Ayah 85:3[وَشَاهِدٍ : اور قسم ہے حاضر ہونے والے کی ] [ وَّمَشْهُوْدٍ : اور قسم ہے معائنہ کیے جانے والے کی ]
Ayah 85:4[قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ : مارے جائیں خندقوں والے ]
ترکیب : (آیت۔ 4) یہ ہم بتا چکے ہیں کہ فعل ماضی میں دعا کا مفہوم بھی ہوتا ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2/72، نوٹ۔ 2) ۔ یہاں قُتِلَ ماضی مجہول کا بھی دونوں طرح ترجمہ ہوسکتا ہے۔ ہم دعائیہ ترجمہ کریں گے۔
نوٹ 2: اصحاب الاخدود سے کون مراد ہیں ؟ مفسرین نے کئی واقعات نقل کیے ہیں۔ لیکن صحیح مسلم، جامع ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں جو قصہ مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے زمانے میں کوئی کافر بادشاہ تھا۔ اس کے ہاں ایک ساحر رہتا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت قریب ہوا تو اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ایک ہوشیار اور ہونہار لڑکا مجھے دیا جائے تو میں اپنا علم اس کو سکھا دوں تاکہ میرے بعد یہ علم مٹ نہ جائے۔ چناچہ ایک لڑکا تجویز کیا گیا جو روزانہ ساحر کے پاس جا کر اس کا علم سیکھتا تھا۔ راستہ میں ایک عیسائی راہب رہتا تھا جو اس وقت کے دین حق پہ تھا۔ لڑکا اس کے پاس بھی آنے جانے لگا۔ اور خفیہ طور پر راہب کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔ اور اس کے فیض صحبت سے ولایت و کرامت کے درجے کو پہنچا۔ ایک روز لڑکے نے دیکھا کہ کسی بڑے جانور (شیر وغیرہ) نے راستہ روک رکھا ہے جس کی وجہ سے مخلوق پریشان ہے۔ اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر دعا کی کہ اے اللہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے ہاتھ سے مارا جائے۔ یہ کہہ کر پتھر پھینکا جس سے اس جانور کا کام تمام ہوگیا۔ لوگوں میں شور ہوا کہ اس لڑکے کو عجیب علم آتا ہے۔ کسی اندھے نے سن کر درخواست کی کہ میری آنکھیں اچھی کر دو ۔ لڑکے نے کہا کہ اچھی کرنے والا میں نہیں۔ وہ اللہ ہے۔ اگر تو اس پر ایمان لے آئے تو میں دعا کروں۔ امید ہے وہ تجھے بینا کر دے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ خبریں بادشاہ کو پہنچیں۔ اس نے برہم ہو کر لڑکے کو مع راہب اور اندھے کے طلب کرلیا۔ اور کچھ بحث کے بعد راہب اور اندھے کو قتل کردیا۔ اور لڑکے کے لیے حکم دیا کہ اس کو اونچے پہاڑ پر سے گرا کر ہلاک کردیا جائے۔ مگر خدا کی قدرت سے جو لوگ اس کو لے گئے تھے وہ پہاڑ سے گر کر ہلاک ہوگئے اور لڑکا واپس آگیا۔ پھر بادشاہ نے اسے دریا میں غرق کرنے کا حکم دیا۔ وہاں بھی یہی ہوا کہ لڑکا بچ کر آگیا اور جو گئے تھے وہ دریا میں ڈوب گئے۔ آخر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ میں خود اپنے مرنے کی ترکیب بتاتا ہوں۔ آپ سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کریں۔ ان کے سامنے مجھ کو سولی پر لٹکائیں۔ اور یہ لفظ کہہ کر مجھے تیر ماریں ” بسم اللہ رب الغلام “۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا اپنے رب کے نام پر قربان ہوگیا۔ یہ عجیب واقعہ دیکھ کر لوگوں کی زبان سے ایک نعرہ بلند ہوا اٰمَنَّابِرَتِ الْغُلَامِ ۔ لوگوں نے بادشاہ سے کہا کہ جس چیز کی روک تھام کر رہے تھے وہی پیش آئی۔ پہلے تو کوئی ایک دو مسلمان ہوتا تھا لیکن اب خلق کثیر نے اسلام قبول کرلیا۔ بادشاہ نے غصے میں آ کر بڑی بڑی خندقیں کھدوائیں اور ان کو آگ سے بھروا کر اعلان کیا کہ جو شخص اسلام سے نہ پھرے گا اس کو ان خندقوں میں جھونک دیا جائے گا۔ لوگ آگ میں ڈالے جا رہے تھے لیکن اسلام سے نہیں ہٹتے تھے۔ بادشاہ اور اس کے وزیر ومشیر خندقوں کے آس پاس بیٹھے ہوئے مسلمانوں کے جلنے کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
یہ بادشاہ جس کا ذکر اس قصہ میں ہے ملک یمن کا بادشاہ تھا جس کا نام حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں یوسف ذونواس تھا۔ اس کا زمانہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعدت سے ستر سال پہلے کا زمانہ تھا۔ اور یہ لڑکا جس کو ساحر کے پاس اس فن سیکھنے کے لیے بادشاہ نے مامور کیا تھا، اس کا نام عبداللہ بن تامر تھا۔ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ یہ لڑکا جس جگہ مدفون تھا وہ جگہ کسی ضرورت سے حضرت فاروق اعظم ؓ کے زمانے میں کھودی گئی تو اس میں عبداللہ بن تامر کی لاش صحیح سالم اس طرح برآمد ہوئی کہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ اس جگہ پر رکھا ہوا تھا، جہاں تیر لگا تھا۔ کسی نے ان کا ہاتھ اس جگہ سے ہٹایا تو زخم سے خون جاری ہوگیا۔ پھر ویسے ہی رکھ دیا تو بند ہوگیا۔ ان کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی تھی جس پر لکھا ہوا تھا اَللّٰہُ رَبِّی۔ (ابن کثیر) ۔ ابن ابی حاتم کے حوالے سے ابن کثیر (رح) نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آگ کی خندق کا واقعہ دنیا میں ایک ہی نہیں، بلکہ بہت ملکوں اور زمانوں میں ہوئے ہیں۔ پھر ابن ابی حاتم نے ان میں سے تین کا خصوصیت سے ذکر کیا کہ ایک خندق یمن میں تھی، دوسری شام میں اور تیسری فارس میں تھی۔ مگر قرآن کریم نے جس خندق کا ذکر اس سورت میں کیا ہے وہ ملک یمن کی خندق ہے کیونکہ یہی عرب کے ملک میں تھی۔ (معارف القرآن، ص 713 ۔ 714 ۔ سے ماخوذ)
Ayah 85:5[النَارِ : اس آگ (والے) جو ][ ذَاتِ الْوَقُوْدِ : ایندھن والی ہے ]
(آیت۔ 5) ۔ اَلنَّارِ کی جر بتارہی ہے کہ اس سے پہلے اس کا مضاف اَصحٰبُ محذوف ہے۔ یہ مرکب اضافی اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ کا بدل ہے، جبکہ ذَاتِ الْوَقُوْدِ صفت ہے اَلنَّارِ کی ہے۔
Ayah 85:6[اِذْ هُمْ عَلَيْهَا : جب وہ لوگ ان (خندقوں) پر ][ قُعُوْدٌ : بیٹھنے والے تھے ]
(آیت۔ 6) عَلَیْھَا میں ھَا کی ضمیر اُخْدُوْدِ کے لیے بھی ہوسکتی ہے۔ اور اَلنَّارِ کے لیے بھی ۔ (آیت۔ 7) وَھُمْ عَلٰیمیں واو حالیہ ہے۔
Ayah 85:7[وَّهُمْ : اس حال میں کہ وہ ][ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ : اس پر جو وہ لوگ کرتے تھے ][ بِالْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے ساتھ ][ شُهُوْدٌ: حاضر رہنے والے ہوتے تھے ]
Ayah 85:8[وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ : اور ان لوگوں نے سزا نہیں دی ان کو ][ اِلَّآ ان : سوائے اس (بات) کے کہ ][ يُّؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ : وہ لوگ ایمان لائے اللہ پر ][ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ : جو بالا دست ہے حمد کیا ہوا ہے ]
Ayah 85:9[الَّذِي لَهٗ : وہ جس کے لیے ہی ][ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ہے ][ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : اور اللہ ہر چیز پر ][ شَهِيْدٌ: موجود رہنے والا ہے ]
Ayah 85:10[ان الَّذِينَ فَتَنُوا : یقینا جن لوگوں نے مشکل میں ڈالا ][ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ : ایمان لانے والوں کو اور ایمان لانے والیوں کو ][ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا : پھر توبہ (بھی) نہیں کی ][ فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ : تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے ][ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ہی ][ عَذَابُ الْحَرِيْقِ : شعلے کا عذاب ہے ]
Ayah 85:11[ان الَّذِينَ اٰمَنُوْا : بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ][ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انھوں نے عمل کیے نیکیوں کہ ][ لَهُمْ جَنّٰتٌ: ان کے لیے ہی ایسے باغات ہیں ][ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا : بہتی ہیں جن کے نیچے سے ][ الْانهٰرُ : نہریں ][ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْر : یہ ہی سب سے بڑی کامیابی ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 11) اَلْفَوْزُ الْکَبِیْرُ مرکب توصیفی ہے۔ لیکن یہ ذٰلِکَ کا مُشَارٌ اِلَیْہِ نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی خبر معرفہ ہے اور اس سے پہلے ضمیر فاصل ھُوَ محذوف ہے۔ پورا جملہ اس طرح ہے ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوُزُ الْکَبِیْرُ ۔
Ayah 85:12[ان بَطْشَ رَبِكَ : بیشک آپ ﷺ کے رب کی گرفت ][ لَشَدِيْدٌ: یقینا بڑی سخت ہے ]
Ayah 85:13[انهٗ : حقیقت تو یہ ہے کہ ][ هُوَ يُبْدِئُ : وہ (ہی) ابتدا کرتا ہے ][ وَيُعِيْدُ : اور وہ (ہی) لوٹائے گا ]
Ayah 85:14[وَهُوَ الْغَفُوْرُ : اور وہ ہی بےانتہا بخشنے والا ][ الْوَدُوْدُ : انتہائی خیر خواہ ہے ]
Ayah 85:15[ذُو الْعَرْشِ : جو عرش کا مالک ہے ][ الْمَجِيْدُ : وہ ہی عظیم الشان ہے ]
(آیت۔ 15) اَلْمَجِیْدُ کی رفع بتارہی ہے کہ نہ تو یہ اَلْعَرْشِ کی صفت ہے اور نہ ہی ذُوْکا مضاف الیہ ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں یہ حالت جر میں اَلْمَجِیْدِ آتا۔ اس کی رفع سے معلوم ہوا کہ یہ وَھُوَا لْغَفُوْرُ کے مبتدا ھُوَ پر عطف ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس سے پہلے اس کا مبتدا ھُوَ محذوف ہے۔
Ayah 85:16[فَعَّالٌ: وہ کر گزرنے والا ہے ][ لِمَا : اس کا جس کا ][ يُرِيْدُ : وہ ارادہ کرتا ہے ]
(آیت۔ 16) فَعَّالٌ سے پہلے بھی اس کا مبتدا ھُوَ محذوف ہے۔
Ayah 85:17هَلْ اَتٰىكَ : کیا پہنچی آپ ﷺ کے پاس ][ حَدِيْثُ الْجُنُوْدِ : لشکروں کی بات ]
(آیت۔ 17) حَدِیْثُکا مضاف الیہ اَلْجُنُوْدِ ہے، لیکن یہ آگے فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدَ کا مضاف نہیں ہوسکتا کیونکہ مضاف پر لام تعریف نہیں آتا۔ نیز یہ کہ فِرْعَوْنَ اور ثَمُوْدَ دونوں غیر منصرف ہیں۔ اس لیے ان کی یہ حالت نصب بھی ہوسکتی ہے اور حالت جر بھی۔ لیکن یہاں ان کے نصب میں ہونے کی کوئی وجہ یا قرینہ یا قیاس موجود نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں یہ دونوں حالت جر میں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں بھی حَدِیْثُ کا مضاف الیہ ہیں۔ اس طرح یہ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ کا بدل بعض ہیں۔
Ayah 85:18[فِرْعَوْنَ وَثَمُــوْدَ : (جیسے) فرعون اور ثمود کی (بات)]
Ayah 85:19[بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوْا : بلکہ جنھوں نے انکار کیا وہ لوگ ] فِيْ تَكْذِيْبٍ : جھٹلانے میں (پڑے ہوئے) ہیں ]
Ayah 85:20[وَّاللّٰهُ : درآنحالیکہ اللہ ][ مِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ : ان کے پیچھے سے (ان کو)][ مُّحِيْــطٌ: گھیرنے والا ہے ]
Ayah 85:21[بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ: بلکہ وہ ایک ایسا عظیم الشان قرآن ہے جو ]
Ayah 85:22[فِيْ لَوْحٍ : ایک ایسی تختی میں (لکھا ہوا) ہے جو ][ مَّحْفُوْظٍ : محفوظ کی ہوئی ہے ]
نوٹ 1: اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کے بعد سابقہ آیات میں کافروں کو جو دھمکیاں دی گئی ہیں، ان کو مزید موکدّ اور م للّ کرنے کے لیے آیات۔ 12 تا 16 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کچھ مزید صفات کی یاد دہانی کرائی ہے۔ اور ان دھمکیوں کو حقیقی ثابت کرنے کے لیے آیات۔ 17 ۔ 18 ۔ میں تاریخی حقائق کی طرف اشارہ فرما دیا۔ پھر ان میں سے قوم ثمود اور فرعون کا ذکر خاص اہتمام سے فرمایا ہے۔ قریش کے لیڈروں پر ان دونوں قوموں کی عظمت و شوکت کی بڑی دھاک تھی۔ ان کی طرف اشارہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھ لو، جب خدا نے ان کو پکڑا تو چشم زدن میں وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئے (تدبر قرآن۔ ص 292 ۔ 293 ۔ سے ماخوذ)