84. Surah Al-Inshiqaaq

الإنشقاقThe Splitting Open · 25 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 84:1

اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ Open ayah 84:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا

[اِذَا السَّمَاۗءُ انشَقَّتْ : جب آسمان پھٹ جائے گا ]
Ayah 84:2

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ Open ayah 84:2 in the Quran reader

اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے)

[وَاَذِنَتْ لِرَبِهَا : اور وہ کان دھرے گا اپنے رب (کے حکم) کے لیے ][ وَحُقَّتْ : اس حال میں کہ وہ اس لائق کیا گیا ]
Ayah 84:3

وَ اِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْۙ Open ayah 84:3 in the Quran reader

اور جب زمین پھیلا دی جائے گی

[وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ : اور جب زمین دراز کی جائے گی ] نوٹ۔ 1: زمین کے پھیلا دئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دئیے جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دئیے جائیں گے اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدان بنادیا جائے گا۔ سورة طٰہٰ میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک چٹیل میدان بنا دے گا جس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ پائو گے۔ (آیات۔ 106 ۔ 107) ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ زمین ایک دسترخوان کی طرح پھیلا کر بچھا دی جائے گی۔ پھر انسان کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہوگی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس دن تمام انسانوں کو جو روز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے، بیک وقت زندہ کر کے عدالت الٰہی میں پیش کیا جائے گا۔ اتنی بڑی آبادی کو جمع کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل، گھاٹیاں اور پست وبلند علاقے سب کے سب ہموار کر کے کرۂ زمین کو ایک میدان بنادیا جائے تاکہ اس پر ساری نوع انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پاسکیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 84:4

وَ اَلْقَتْ مَا فِیْهَا وَ تَخَلَّتْۙ Open ayah 84:4 in the Quran reader

اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک کر خالی ہو جائے گی

[وَاَلْقَتْ مَا فِيْهَا : اور وہ ڈال دے گی وہ جو اس میں ہے ][ وَتَخَلَّت؛اور خود خالی ہوجائے گی ]
Ayah 84:5

وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْؕ Open ayah 84:5 in the Quran reader

اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)

[وَاَذِنَتْ لِرَبِهَا : اور وہ کان دھرے گی اپنے رب (کے حکم) کے لیے ][ وَحُقَّتْ : اس حال میں کہ وہ اس لائق کی گئی ]
Ayah 84:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ Open ayah 84:6 in the Quran reader

اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے

[يٰٓاَيُّهَا الْانسَان : اے انسان ][ انكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِكَ : یقینا تو تگ و دو کرنے والا ہے اپنے رب کی طرف ][ كَدْحًا : جیسا تگ و دو کرنے کا حق ہے ][ فَمُلٰقِيْهِ : پھر ملاقات کرنے والا ہے اس سے ] [کَدْحًا : (ف) کسی کام میں بہت محنت کرنا۔ کسی چیز کے لیے تگ و دو کرنا۔] [ کَادِحٌ اسم الفاعل ہے۔ تگ ودو کرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 6 ۔] نوٹ۔ 2: کَدْحٌ کے معنے کسی کام میں پوری جدوجہد اور اپنی توانائی صرف کرنے کے ہیں اور اِلٰی رَبِّکَ سے مراد اِلٰی لِقَائِ ربِّکَ ہے۔ یعنی انسان کی ہر سعی اور جدوجہد کی انتہا اس کے رب کی ملاقات کی طرف ہونے والی ہے۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو خطاب فرما کر اسے غور و فکر کے لیے ایک ایسی راہ دکھائی ہے کہ جس میں کچھ بھی عقل و شعور ہو تو وہ اپنی جدوجہد کا رخ صحیح سمت کی طرف پھیر سکتا ہے جو اس کو دنیا اور دین، دونوں میں سلامتی اور عافیت کی ضمانت دے۔ پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ انسان نیک ہو یا بد، مومن ہو یا کافر، وہ اپنی فطرت سے اس کا عادی ہے کہ کسی نہ کسی چیز کو اپنا مقصود بنا کر اس کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرے اور مشقت برداشت کرے۔ ایک نیک انسان اپنی ضروریات زندگی کی تحصیل میں جائز طریقوں کو اختیار کرتا ہے اور ان میں اپنی محنت و توانائی صرف کرتا ہے۔ ایک بدکار انسان بھی اپنے مقاصد کسی محنت اور جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں کرسکتا۔ چور، ڈاکو اور دھوکہ فریب سے لوٹ گھسوٹ کرنے والوں کو دیکھو کیسی کیسی ذہنی اور جسمانی مشقت برداشت کرتے ہیں جب ان کو ان کا مقصود حاصل ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ انسان اگر غور کرے تو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اس کی حرکات ہوں یا سکنات، وہ سب ایک سفر کی منزلیں ہیں جسے وہ غیر شعوری طور پر طے کررہا ہے۔ اس سفر کی انتہا موت ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری۔ اور یہ انتہا ایسی حقیقت ہے کہ جس کا کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ انسان کی ہر جدوجہد کا موت پر ختم ہونا یقینی ہے۔ تیسری بات یہ بتلائی کہ موت کے بعد اپنے رب کے سامنے حاضری کے وقت تمام حرکات و اعمال اور جدوجہد کا حساب ہونا ازروئے عقل و انصاف ضروری ہے تاکہ نیک وبد کا انجام الگ الگ معلوم ہو سکے کیونکہ دنیا میں اس کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ ایک نیک آدمی پورا مہینہ محنت مزدوری کر کے اپنا رزق اور جو ضروریات حاصل کرتا ہے، چور ڈاکو اس کو ایک رات میں حاصل کرلیتے ہیں۔ اگر کوئی حساب اور جزا وسزا کا وقت نہ آئے تو دونوں برابر ہوگئے جو عقل و انصاف کے خلاف ہے۔ آخر میں فرمایا فَمُلٰقِیْہِ ۔ اس کی ضمیر کَدْحٌ کے لیے بھی ہوسکتی ہے ایسی صوت میں معنی ہوں گے کہ جو بھی جدوجہد انسان یہاں کر رہا ہے ان سے وہ اپنے رب کے پاس پہنچ کر مل لے گا۔ اور اس کے اچھے یا برے نتائج اس کے سامنے آجائیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مُلٰقِیْہِ کی ضمیر رب کے لیے ہو۔ تو معنی ہوں گے کہ ہر انسان آخرت میں اپنے رب سے ملنے والا ہے اور اپنے کیے کا حساب دینے والا ہے۔ اس کے آگے نیک وبد انسانوں کے الگ الگ انجام کا ذکر ہے۔ اس سارے مجموعہ پر انسان اگر غور کرے کہ ضروریات زندگی اور مرغوبات نفس کو حاصل تو نیک وبد دونوں ہی کرلیتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح دنیا کی زندگی دونوں کی گزر جاتی ہے مگر ان دونوں کے انجام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک کے نتیجہ میں کبھی نہ ختم ہونے والی راحت ہی راحت ہے اور دوسرے کے نتیجہ میں کبھی نہ ختم ہونے والی مصیبت اور عذاب ہے۔ پھر کیوں نہ انسان اس انجام کو آج ہی سوچ سمجھ کر اپنی کوشش اور عمل کا رخ اس طرف پھیر دے جو دنیا میں بھی اس کی ضرورتوں کو پور کر دے اور آخرت کی دائمی نعمت بھی مل جائے۔ (معارف القرآن)
Ayah 84:7

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖۙ Open ayah 84:7 in the Quran reader

پھر جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا

[فَاَمَا مَنْ : پس وہ جو ہے جس کو ][ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ : دی گئی اس کی کتاب ][ بِيَمِيْنِهٖ : اس کے داہنے ہاتھ میں ]
Ayah 84:8

فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًاۙ Open ayah 84:8 in the Quran reader

اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا

[فَسَوْفَ يُحَاسَبُ : تو جلد ہی اس سے حساب لیا جائے گا ][ حِسَابًا يَّسِيْرًا : ایک ہلکا سا حساب ]
Ayah 84:9

وَّ یَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:9 in the Quran reader

اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا

[وَّيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهٖ : اور وہ لوٹے گا اپنے گھر والوں کی طرف ][ مَسْرُوْرًا : خوش کیا ہوا ہوتے ہوئے ]
Ayah 84:10

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ Open ayah 84:10 in the Quran reader

رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا

[وَاَمَا مَنْ : اور وہ جو ہے جس کو ][ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ : دی گئی اس کی کتاب ][ وَرَاۗءَ ظَهْرِهٖ : اس کی پیٹھ کے پیچھے سے ]
Ayah 84:11

فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ Open ayah 84:11 in the Quran reader

تو وہ موت کو پکارے گا

[فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًا : تو جلد ہی وہ پکارے گا ہلاک ہونے کو ]
Ayah 84:12

وَّ یَصْلٰى سَعِیْرًاؕ Open ayah 84:12 in the Quran reader

اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا

[وَّيَصْلٰى سَعِيْرًا : اور وہ گرے گا آگ میں ]
Ayah 84:13

اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ Open ayah 84:13 in the Quran reader

وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا

[انهٗ كَان فِيْٓ اَهْلِهٖ : بیشک وہ تھا اپنے گھر والوں میں ][ مَسْرُوْرًا : خوش و خرم ]
Ayah 84:14

اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ یَّحُوْرَۚۛ Open ayah 84:14 in the Quran reader

اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے

[انهٗ ظَنَّ : بیشک اس نے گمان کیا ][ ان لَّنْ يَّحُوْرَ : کہ وہ ہرگز واپس نہیں ہوگا ]
Ayah 84:15

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًاؕ Open ayah 84:15 in the Quran reader

پلٹنا کیسے نہ تھا، اُس کا رب اُس کے کرتوت دیکھ رہا تھا

[بَلٰٓى ان رَبَّهٗ : کیوں نہیں یقینا اس کا رب ][ كَان بِهٖ بَصِيْرًا : اس کو ہر حال میں دیکھنے والا تھا ]
Ayah 84:16

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ Open ayah 84:16 in the Quran reader

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی

[فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ : پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں شفق کی ] و س ق [وَسْقًا : (ض) کسی چیز کے متفرق اجزا کو اکٹھا کرنا۔ جمع کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔] نوٹ۔ 1: آیات۔ 16 تا 18 ۔ میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھا کر (یعنی شہادت کے طور پر پیش کر کے۔ مرتب) انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس ذکر بانَّکَ کَادِحٌ الٰی رَبِّکَ میں آچکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اس مضمون کی شاہد ہیں جو جو اب قسم لَتَرَکَبْنَّ طَبَاقًا عَنْ طَبَقٍ میں آنے والا ہے کہ انسان کو ایک حال پر قرار نہیں ہے۔ اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے۔ یہ رات کی ابتداء ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے۔ دوسری رات کی قسم ہے جو انقلاب کی تکمیل کرتی ہے۔ تیسری قسم ان چیزوں کی ہے جن کو رات اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ یعنی وہ چیزیں جو دن کی روشنی میں منتشر پھیلی رہتی ہیں، رات کے وقت وہ سب سمٹ کر اپنے اپنے ٹھکانوں میں جمع ہوجاتی ہیں اور انسان، چرند وپرند، سب اپنے اپنے گھروں اور گھونسلوں میں جمع ہوجاتے ہیں۔ کاروبار کے پھیلے ہوئے سامان کو سمیٹ کر یکجا کردیا جاتا ہے۔ یہ عظیم انقلاب خود انسان اور اس کے متعلقات میں ہے۔ (یعنی اسی طرح انسان بھی اپنے ” وطن “ یعنی جنت سے نکل کر اس دنیا میں منتشر پھرتا رہتا ہے۔ پھر کچھ عرصے بعد اس کو اس کے وطن کی طرف واپس سمیٹ لیا جاتا ہے۔ مرتب) ۔ چوتھی قسم جس چیز کی کھائی گئی وہ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ ہے۔ اس میں چاند کے مختلف اتوار کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے ایک نہایت خفیف قوس کی شکل میں ہوتا ہے۔ پھر اس کی روشنی روزانہ کچھ ترقی کرتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ بدر کامل ہوجاتا ہے۔ مسلسل اور پیہم انقلاباتِ احوال پر شہادت دینے والی چار چیزوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا۔ لَتَرْکَبْنَّ طَبَقًاعَنْ طَبَقٍ ۔ یعنی انسان اپنی تخلیق کی ابتدا سے انتہا تک کسی بھی وقت ایک حال پر نہیں رہتا۔ بلکہ اس کے وجود پر تدریجی انقلابات آتے رہتے ہیں۔ طَبَقاً عَنْ طَبَقٍ کی تفسیر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے خود رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے۔ یہ طویل حدیث قرطبی (رح) نے اور ابن کثیر (رح) نے مفصل نقل کی ہے۔ اس کا مضمون یہ ہے کہ انسان نطفہ سے منجمد خون بنا ۔ پھر اس سے ایک مضغۂ گوشت بنا۔ پھر اس میں ہڈیاں پیدا ہوئیں۔ پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھا اور اعضاء کی تکمیل ہوئی۔ پھر اس میں روح لا کر ڈالی گئی اور وہ ایک زندہ انسان بنا جس کی غذا بطن مادر کے اندر رحم کا گندا خون تھا۔ نو مہینے کے بعد اللہ نے اس کے دنیا میں آنے کا راستہ آسان کردیا اور گندی غذا کی جگہ ماں کا دودھ ملنے لگا۔ دنیا کی وسیع فضا اور ہوا دیکھی، بڑھنے اور پھلنے پھولنے لگا۔ دوبرس کے اندر چلنے پھرنے اور بولنے کی قوت بھی حرکت میں آئی۔ ماں کا دودھ چھوٹ کر اس سے زیادہ لذیذ اور طرح طرح کی غذائیں ملیں، کھیل کود اور لہولعب اس کے دن رات کا مشغلہ بنا۔ کچھ ہوش و شعور بڑھا تو تعلیم و تربیت کے شکنجے میں کسا گیا۔ جوان ہوا تو جوانی کی خواہشات نے ان کی جگہ لے لی اور ایک نیا عالم شروع ہوا۔ نکاح، شادی، اولاد اور خانہ داری کے مشاغل دن رات کا مشغلہ بن گئے۔ آخر یہ دور بھی ختم ہونے لگا۔ قویٰ میں ضعف پید اہوا، بیماریاں آئے دن رہنے لگیں، بڑھاپا آگیا اور اس جہاں کی آخری منزل یعنی قبر تک پہنچنے کے سامان ہونے لگے۔ یہ سب چیزیں تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں۔ کسی کو ان سے انکار کرنے کی مجال نہیں۔ مگر حقیقت سے ناآشنا انسان سمجھتا ہے کہ یہ موت اور قبر اس کی آخری منزل ہے اور آگے کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جو خالق کائنات ہے اور علیم وخبیر ہے، اس نے آگے آنے والے مراحل کو اپنے انبیاء کے ذریعہ انسان تک پہنچایا کہ قبر تیری آخری منزل نہیں بلکہ یہ صرف ایک انتظار گاہ (ویٹنگ روم) ہے۔ آگے اس سے بھی بڑا ایک جہان آنے والا ہے۔ اس میں ایک بڑے حساب کتاب کے بعد انسان کی آخری منزل مقرر ہوجائے گی جو یا دائمی راحت کی ہوگی یا پھر دائمی عذاب کی۔ اور اس آخری منزل پر ہی پہنچ کر انسان انقلابات کے چکر سے نکلے گا۔ ان آیات میں انسان کو اس کی تخلیق اور دنیا میں اس کو پیش آنے والے حالات و انقلابات سامنے کر کے یہ ہدایت دی کہ عقلمند انسان کا کام یہ ہے کہ دنیا میں اپنے آپ کو مسافر سمجھے اور اپنے وطن اصلی کے لیے سامان تیار کرنے اور بھیجنے کی فکر کو ہی دنیا کا سب سے بڑا مقصد بنائے۔ پھر فرمایا کہ ان تمام روشن ہدایات کے باوجود بہت سے لوگ اپنی غفلت سے باز نہیں آتے۔ ایسے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ سب کچھ سننے کے بعد بھی اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اس کے سامنے جھکتے ہیں۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 2: حق تو یہ تھا کہ جب قرآن ان کو ایسی عظیم حقیقت سے آگاہ کر رہا ہے تو اس کو سننے کے بعد اس کی عظمت کے اعتراف میں اپنے رب کے آگے سجدہ میں گرپڑتے لیکن اس کے برعکس وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہاں اہل عرب اور اہل مصر کی یہ روایت پیش نظر رہے کہ جب وہ کسی بات کی عظمت اور صداقت کا جوش وجذبہ کے ساتھ اعتراف کرنا چاہتے تو اس کو دیکھتے یا سنتے ہی سجدے میں گرپڑتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون نے جن ساحروں کو اکٹھا کیا تھا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت اور ان کے معجزات کی عظمت کا اعتراف اسی طرح کیا تھا۔ عرب کے مشہور شاعر لبید کے قصیدے کے ایک شعر پر بھی اس وقت کے مشہور شعراء عرب نے سجدہ کیا جس کی بنا پر اس کا قصیدہ خانۂ کعبہ پر آویزاں کیا گیا ہے ظاہر ہے کہ قرآن اپنی بلاغت و صداقت میں ان چیزوں سے بدر جہا بلند ہے لیکن جو لوگ اس کی قدروقیمت سے ناآشنا تھے (اور ہیں) وہ اللہ کو سجدہ کرنے کے بجائے اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ (تدبر قرآن) مورخہ 7 ۔ شوال 1431 ھ بمطابق 16 ۔ ستمبر 2010
Ayah 84:17

وَ الَّیْلِ وَ مَا وَسَقَۙ Open ayah 84:17 in the Quran reader

اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے

[وَالَّيْلِ وَمَا وَسَقَ : اور رات کی اور اس کی جو اس نے اکٹھا کیا ]
Ayah 84:18

وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ Open ayah 84:18 in the Quran reader

اور چاند کی جب کہ وہ ماہ کامل ہو جاتا ہے

[وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ : اور چاند کی جب وہ کامل ہوا ] [اِتِّسَاقًا : (افتعال) کسی چیز کے متفرق اجزا کا اکٹھا ہونا۔ جمع ہونا، اس طرح کہ وہ چیز پوری ہوجائے۔ کامل ہوجائے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔]
Ayah 84:19

لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ Open ayah 84:19 in the Quran reader

تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے

[لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ : تم لوگ لازماً چڑھو گے ایک منزل پر ایک منزل سے ]
Ayah 84:20

فَمَا لَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 84:20 in the Quran reader

پھر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے

[فَمَا لَهُمْ : تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ][ لَا يُؤْمِنُوْنَ : (کہ) یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ]
Ayah 84:21

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩ Open ayah 84:21 in the Quran reader

اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟

[وَاِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ : اور جب پڑھ کر سنایا جاتا ہے ان کو قرآن ][ لَا يَسْجُدُوْنَ : تو یہ لوگ سجدہ نہیں کرتے (السجدہ 13)]
Ayah 84:22

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:22 in the Quran reader

بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں

[بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَ : بلکہ جنھوں نے انکار کیا وہ جھٹلاتے ہیں ]
Ayah 84:23

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ Open ayah 84:23 in the Quran reader

حالانکہ جو کچھ یہ (اپنے نامہ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے

[وَاللّٰهُ اَعْلَمُ : اور اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ][ بِمَا يُوْعُوْنَ : اس کو جو یہ محفوظ کرتے ہیں ]
Ayah 84:24

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 84:24 in the Quran reader

لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو

[فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ : تو آپ ﷺ بشارت دیں ان کو ایک درد ناک عذاب کی ]
Ayah 84:25

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 84:25 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے

[اِلَّا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ][ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور عمل کیے نیکیوں کے ][ لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ : ان کے لیے ایک ایسا اجر ہے جو غیر منقطع ہے ]