83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 83:1

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ Open ayah 83:1 in the Quran reader

تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے

[وَيْلٌ لِـلْمُطَفِّفِيْنَ؛تباہی ہے کمی کرنے والوں کے لیے ] طف [طَفَّا : (ض) ہاتھ یا پائوں سے کسی چیز کو اٹھانا۔] (تفعیل) تَطْفِیفًا کسی چیز میں ذرا سی کمی کرنا۔ پیمانہ کو تھوڑا سا کم بھرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 1 ۔] نوٹ۔ 1: اس سورت کے انداز بیان اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن میں آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں نازل ہو رہی تھیں۔ بعض مفسرین نے اس کو مدنی قرار دیا ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ دراصل ابن عباس ؓ کی یہ روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینے تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں میں کم ناپنے اور تولنے کا مرض پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل کی اور لوگ بہت اچھی طرح ناپنے تولنے لگے۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ اور تابعین کا یہ عام طریقہ تھا کہ ایک آیت جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہو اس کے متعلق وہ یوں کہا کرتے تھے کہ یہ فلاں معاملہ میں نازل ہوئی۔ اس لیے ابن عباس ؓ کی روایت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب ہجرت کے بعد نبی ﷺ نے مدینہ کے لوگوں میں یہ بری عادت پھیلی ہوئی پائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ 1 نے یہ سورت ان کو سنائی اور اس سے ان کے معاملات درست ہوگئے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 278) نوٹ۔ 2: مُطَفِّفِیْن کا لفظ تَطْفِیْف سے مشتق ہے۔ عربی میں طَفِیْف چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے بولتے ہیں اور تطفیف کا لفظ اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ کام کرنے والا ناپ کر یا تول کر چیز دیتے ہوئے کوئی بڑی مقدار نہیں اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر ہر خریدار کے حصے سے تھوڑا تھوڑا اڑاتا رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن) قرآن وحدیث میں ناپ تول میں کمی کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ کیونکہ عام طور پر معاملات کا لین دین انہی دو طریقوں سے ہوتا ہے اور انہی کے ذریعہ کہا جاسکتا ہے کہ حقدار کا حق ادا ہوا یا نہیں۔ لیکن اس سے مقصود ہر ایک حقدار کا حق پورا پورا دینا ہے اور اس میں کمی کرنا حرام ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ صرف ناپ تول کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر وہ چیز جس سے حق پورا کرنا یا نہ کرنا جانچا جاتا ہے، اس کا یہی حکم ہے۔ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز کے رکوع سجدے وغیرہ پورے نہیں کرتا بلکہ جلدی جلدی نماز ختم کر ڈالتا ہے۔ تو اس سے فرمایا کہ تو نے اللہ کے حق میں تطفیف کردی۔ حضرت عمر ؓ کے اس قول کو نقل کر کے امام مالک (رح) نے فرمایا کہ حق پورا دینا یا کم کرنا ہر چیز میں ہے، یہاں تک کہ نماز، وضو، طہارت وغیرہ میں بھی اور اسی طرح دوسرے حقوق اللہ اور عبادات میں کمی کوتاہی کرنے والا تطفیف کرنے کا مجرم ہے۔ اسی طرح حقوق العباد میں جو شخص مقررہ حق سے کم کرتا ہے وہ بھی تطفیف کے حکم میں ہے۔ ملازم نے جتنے وقت کی خدمت کا معاہدہ کیا ہے اس میں سے وقت چرانا اور چوری کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ وقت کے اندر جس طرح محنت کرنے کا عرف میں معمول ہے اس میں سستی کرنا بھی تطفیف ہے۔ اپنی ملازمت کے فرائض میں کمی کرنے کو کوئی گناہ بھی نہیں سمجھتا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب قوم تطفیف کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کا رزق قطع کردیتا ہے۔ حدیث میں جو رزق قطع کردینے کا ارشاد ہے اس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اس کو رزق سے بالکل محروم کردیا جائے۔ اور یہ صورت بھی قطع رزق میں داخل ہے کہ رزق موجود ہوتے ہوئے وہ اس کو کھا نہ سکے یا استعمال نہ کرسکے جیسے بہت سی بیماریوں میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے اور اس زمانے میں بہت عام ہے۔ اسی طرح قحط کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ اشیاء ضرورت مفقود ہوجائیں اور یہ بھی ہوسکتی ہے کہ موجود ہونے کے باوجود ان کی گرانی اتنی بڑھ جائے کہ خریداری مشکل ہوجائے۔ جیسا کہ آج کل اس کا مشاہدہ اکثر چیزوں میں ہو رہا ہے۔ اس سے وہ شبہات رفع ہوجاتے ہیں جو حدیث کے الفاظ کے متعلق ظاہر حالات کے اعتبار سے ہوسکتے ہیں۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 3: معاشرے کی بیشمار خرابیوں میں سے ایک خرابی کو بطور مثال لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور کوڑی کوڑی کا حساب دینا ہے، اس وقت تک یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کامل راستبازی اختیا کرسکیں۔ کوئی شخص دیانتداری کو اچھی پالیسی سمجھ کر بعض چھوٹے چھوٹے معاملات میں دیانت برت بھی لے، تو ایسے مواقع پر وہ کبھی دیانت نہیں برت سکتا جہاں بےایمانی ایک مفید پالیسی ثابت ہوتی ہو۔ آدمی کے اندر سچی اور مستقل دیانتداری اگر پیدا ہوسکتی ہے تو صرف آخرت پر یقین ہی سے ہوسکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں دیانت ایک ” پالیسی “ نہیں بلکہ ” فریضہ “ قرار پاتی ہے اور آدمی کے اس پر قائم رہنے یا نہ رہنے کا انحصار دنیا میں مفید ہونے یا غیر مفید ہونے پر نہیں رہتا۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 278 ۔ 279)
Ayah 83:2

الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:2 in the Quran reader

جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں

[الَّذِينَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَاسِ : وہ لوگ جو جب کبھی ناپ کرلیتے ہیں لوگوں سے ][ يَسْتَوْفُوْنَ : تو پورا لینا چاہتے ہیں ]
Ayah 83:3

وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ Open ayah 83:3 in the Quran reader

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں

[وَاِذَا كَالُوْهُمْ : اور جب کبھی ناپ کردیتے ہیں ان کو ][ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ : یا تول کردیتے ہیں ان کو ][ يُخْسِرُوْن؛تو کمی کرتے ہیں ]
Ayah 83:4

اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 83:4 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن،

[اَلَا يَظُنُّ اُولٰۗىِٕكَ : کیا گمان نہیں کرتے وہ لوگ ][ انهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ : کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں ]
Ayah 83:5

لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ Open ayah 83:5 in the Quran reader

یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟

[لِيَوْمٍ عَظِيْمٍ : ایک عظیم دن کے لیے ]
Ayah 83:6

یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 83:6 in the Quran reader

اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

[يَّوْمَ يَقُوْمُ النَاسُ : جس دن کھڑے ہوں گے لوگ ][ لِرَبِ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب کے سامنے ]
Ayah 83:7

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍؕ Open ayah 83:7 in the Quran reader

ہرگز نہیں، یقیناً بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے

[كَلَّآ ان كِتٰبَ الْفُجَّارِ : ہرگز نہیں ! بیشک نافرمانی کرنے والوں کی کتاب (نامہ اعمال)][ لَفِيْ سِجِّيْنٍ : یقینا سجین میں ہے ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 7 ۔ میں لفظ سِجِّیْنٍ آیا ہے جو سجن سے مشتق ہے جس کے معنی تنگ جگہ میں قید کرنے کے ہیں۔ اور احادیث و آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجین ایک خاص مقام کا نام ہے اور کفار وفجار کی ارواح کا مقام یہی ہے اور اسی مقام پر ان کے نامۂ اعمال رہتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اعمال نامہ اس جگہ محفوظ کر دئیے جاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی ایسی جامع کتاب ہو جس میں تمام کفار وفجار کے اعمال لکھ دئیے جاتے ہوں۔ اس کے آگے کِتبٌ مَّرْقُوْمٌ کے الفاظ آئے ہیں ان کے متعلق امام بغوی اور ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ جملہ مقام سجین کی تفسیر نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے جو کِتٰبُ الفجار آیا ہے اس کا بیان ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 83:8

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّیْنٌؕ Open ayah 83:8 in the Quran reader

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے؟

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌ: اور تو کیا جانے کیا ہے سجین ]
Ayah 83:9

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ Open ayah 83:9 in the Quran reader

ایک کتاب ہے لکھی ہوئی

[كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ: (وہ) ایک لکھی ہوئی کتاب ہے ]
Ayah 83:10

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 83:10 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ : تباہی ہے اس دن ][ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : جھٹلانے والوں کے لئے ]
Ayah 83:11

الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِؕ Open ayah 83:11 in the Quran reader

جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں

[الَّذِينَ يُكَذِّبُوْنَ : وہ لوگ جو جھٹلاتے ہیں ][ بِيَوْمِ الدِّيْنِ : بِیَوْمِ الدِّیْنِ (11) چ ]
Ayah 83:12

وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 83:12 in the Quran reader

اور اُسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے

[وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖٓ: اور نہیں جھٹلاتے اس کو ][ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ : مگر سارے حد سے بڑھنے والے گنہگار ]
Ayah 83:13

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 83:13 in the Quran reader

اُسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں

[اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا : جب کبھی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اس کو ہماری آیتیں ][ قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : تو وہ کہتا ہے پہلے لوگوں کے افسانے ہیں ] نوٹ۔ 5: آیت۔ 14 ۔ میں رَانَ کا لفظ رین سے مشتق ہے جس کے معنی زنگ اور میل کچیل کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کا زنگ لگ گیا ہے اور جس طرح زنگ لوہے کو کھا کر مٹی بنا دیتا ہے اسی طرح ان کے گناہوں کے زنگ نے ان کے دل کی اس صلاحیت کو ختم کردیا جس سے بھلے برے کی تمیز ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر اس نے توبہ کرلی تو یہ سیاہ نقطہ مٹ جاتا ہے اور دل اپنی اصلی حالت میں منور ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس نے توبہ نہ کی بلکہ اپنے گناہوں میں زیادتی کرتا چلا گیا تو یہ سیاہی اس کے سارے قلب پر چھا جاتی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 83:14

كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 83:14 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے

[كَلَّا بَلْ ۫ رَان عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ہرگز نہیں ! بلکہ چھا گیا ان کے دلوں پر ][ مَا كَانوْا يَكْسِبُوْنَ : وہ جو یہ لوگ کماتے تھے ] ر ی ن (ض) رَیْنًا کسی کا کسی پر غالب آنا۔ چھا جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔
Ayah 83:15

كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ Open ayah 83:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے

[كَلَّآ انهُمْ عَنْ رَّبِهِمْ : ہرگز نہیں ! بیشک یہ لوگ اپنے رب سے ][ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجوبُوْنَ : اس دن یقینا روکے ہوئے ہوں گے ]
Ayah 83:16

ثُمَّ اِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِؕ Open ayah 83:16 in the Quran reader

پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے

[ثُمَّ انهُمْ : پھر بیشک یہ لوگ ][ لَصَالُوا الْجَــحِيْمِ : یقینا گرنے والے ہیں جہنم میں ]
Ayah 83:17

ثُمَّ یُقَالُ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ Open ayah 83:17 in the Quran reader

پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

[ثُمَّ يُقَالُ : پھر ان سے کہا جائے گا ][ هٰذَا الَّذِي : یہ وہ ہے ][ كُنْتم بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ : تم لوگ جس کو جھٹلایا کرتے تھے ]
Ayah 83:18

كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَؕ Open ayah 83:18 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بے شک نیک آدمیوں کا نامہ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے

[كَلَّآ ان كِتٰبَ الْاَبْرَارِ : ہرگز نہیں ! بیشک نیکی کرنے والوں کی کتاب (اعمال نامہ)][ لَفِيْ عِلِيِّيْنَ : یقینا بلندیوں میں ہے ]
Ayah 83:19

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا عِلِّیُّوْنَؕ Open ayah 83:19 in the Quran reader

اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟

[وَمَآ اَدْرٰىكَ : اور تو کیا جانے ][ مَا عِلِيُّوْنَ : کیا ہیں (وہ) بلندیاں ]
Ayah 83:20

كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌۙ Open ayah 83:20 in the Quran reader

ایک لکھی ہوئی کتاب ہے

[كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ: (وہ) ایک لکھی ہوئی کتاب ہے ]
Ayah 83:21

یَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَۙ Open ayah 83:21 in the Quran reader

جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں

[يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ : موجود ہوتے ہیں اس پر قربت دیئے ہوئے (فرشتے)]
Ayah 83:22

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ Open ayah 83:22 in the Quran reader

بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے

[ان الْاَبْرَارَ : بیشک نیکی کرنے والے ][ لَفِيْ نَعِيْمٍ : یقینا دائمی خوشحالی میں ہوں گے ]
Ayah 83:23

عَلَى الْاَرَآئِكِ یَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 83:23 in the Quran reader

اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے

[عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ : تختوں پر (بیٹھے) دیکھتے ہوئے ]
Ayah 83:24

تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِیْمِۚ Open ayah 83:24 in the Quran reader

ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے

[تَعْرِفُ فِيْ وُجوهِهِمْ : تو پہچانے گا ان کے چہروں میں ][ نَضْرَةَ النَّعِيْمِ؛دائمی خوشحالی کی تروتازگی کو ]
Ayah 83:25

یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍۙ Open ayah 83:25 in the Quran reader

ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی

[يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ : وہ پلائے جائیں گے سربمہر کی ہوئی خالص (شراب) سے ]
Ayah 83:26

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ Open ayah 83:26 in the Quran reader

جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں

[خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ۭ: جس کی مہر مشک ہوگی ][ وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ : اور اس میں پس چاہیے کہ جان کھپائیں ][ الْمُتَنَافِسُوْنَ : جان کھپانے والے ] نوٹ۔ 1: تنافس کے معنی ہے کہ چند آدمیوں کا کسی خاص مرغوب و محبوب چیز کو حاصل کرنے کے لیے جھپٹنا اور دوڑنا تاکہ دوسروں سے پہلے وہ اس کو حاصل کرلیں۔ یہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے غفلت شعار انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ آج تم لوگ جن چیزوں کو مرغوب و مطلوب سمجھ کر ان کو حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہو، وہ ناقص اور فانی نعمتیں اس قابل نہیں کہ ان کو مقصود زندگی سمجھ کر ان کے لیے مسابقت کرو۔ بلکہ ان میں تو قناعت وایثار سے کام لے کر یہ سمجھ لو یہ چند روزہ راحت کا سامان ہاتھ سے نکل بھی گیا تو کچھ بڑے صدمے کی بات نہیں، یہ ایسا خسارہ نہیں جس کی تلافی نہ ہو سکے۔ البتہ تنافس اور مسابقت کرنے کی چیز یہ جنت کی نعمتیں ہیں جو ہر حیثیت سے مکمل بھی ہیں اور دائمی بھی۔ (معارف القرآن) مورخہ 2 شوال 1431 ھ بمطابق 12 ستمبر 2010 ء
Ayah 83:27

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِیْمٍۙ Open ayah 83:27 in the Quran reader

اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی

[وَمِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍ : اور اس (رحیق) کی ملاوٹ تسنیم سے ہوگی ]
Ayah 83:28

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَؕ Open ayah 83:28 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے

[عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ : (یعنی) ایک ایسا چشمہ ہے پئیں گے جس سے قربت دیئے ہوئے ]
Ayah 83:29

اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَكُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:29 in the Quran reader

مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے

[ان الَّذِينَ اَجْرَمُوْا : بیشک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیا ][ كَانوْا مِنَ الَّذِينَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ : وہ ان سے جو ایمان لائے ہنسی ٹھٹھا کرتے تھے ]
Ayah 83:30

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے

[وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ : اور جب گزرتے ان کے پاس سے ][ يَتَغَامَزُوْنَ : تو باہم ایک دوسرے کو آنکھ مارتے ]
Ayah 83:31

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے

[وَاِذَا انقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمُ : اور جب لوٹتے ہیں اپنے گھر والوں کی طرف ][ انقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ : تو لوٹتے ہیں اکڑ باز ہوتے ہوئے ]
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں

[وَاِذَا رَاَوْهُمْ : اور جب وہ (مجرم) لوگ دیکھتے ہیں ان (اہل ایمان) کو ][ قَالُوْٓا ان هٰٓؤُلَاۗءِ لَضَاۗلُّوْنَ : تو کہتے ہیں بیشک یہ لوگ یقینا بھٹکنے والے ہیں ]
Ayah 83:33

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

حالانکہ وہ اُن پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

[وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ : حالانکہ وہ (مجرم) لوگ نہیں بھیجے گئے ان (اہل ایمان) پر ][ حٰفِظِيْنَ : نگہبانی کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 83:34

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں

[فَالْيَوْمَ الَّذِينَ اٰمَنُوْا : تو آج کے دن وہ لوگ جو ایمان لائے ][ مِنَ الْكُفَّارِ : انکار کرنے والوں سے ][ يَضْحَكُوْنَ : ٹھٹھا کریں گے ]
Ayah 83:35

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں

[عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ : تختوں پر (بیٹھے) دیکھتے ہوئے ]
Ayah 83:36

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

مل گیا نا کافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے

[هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ : (تو) کیا بدلہ دے دیا گیا منکروں کو ][ مَا كَانوْا يَفْعَلُوْنَ : وہ (اس کا) جو وہ کرتے تھے ]