Ayah 82:1[اِذَا السَّمَاۗءُ انفَطَرَتْ : جب آسمان پھٹ جائے گا ]
نوٹ۔ 1: ظہورِ قیامت کے وقت آسمان کے پھٹ جانے کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا۔ دراصل قیامت کے بعد ایک بالکل نیا عالم نئے قوانین کے تحت ظہور میں آئے گا، اس وجہ سے اس عالم کہن کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس ٹوٹ پھوٹ کی شکل کیا ہوگی، اس کا صحیح تصور آج نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کی یاد دبانی اس لیے فرمائی گئی ہے کہ لوگوں کو جھنجھوڑا جائے کہ قیامت کی ہلچل ایسی ہوگی کہ یہ محکم چھت (یعنی آسمان) جس میں تم ڈھونڈے سے بھی کوئی رخنہ نہیں پاسکتے، بالکل رخنہ ہی رخنہ اور شگاف ہی شگاف بن کر رہ جائے گی۔ یہاں اس الجھن میں اپنے دماغ کو مت ڈالیئے کہ یہ آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے، یہ محض ایک خلا ہے یا کوئی ٹھوس چیز ہے، بلکہ اس بات پر یقین رکھیں کہ جس طرح آج اس کا مشاہدہ ہم ایک محکم چھت کی شکل میں کر رہے ہیں، اسی طرح قیامت کی ہلچل کے وقت اس میں شگاف ہی شگاف نظر آئیں گے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2: سورة تکویر میں فرمایا گیا ہے کہ سمندروں میں آگ بھڑکا دی جائے گی اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ سمندروں کو پھاڑ دیا جائے گا۔ دونوں آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے، اور یہ بات بھی نگاہ میں رکھی جائے کہ قرآن کی رو سے قیامت کے روز ایک ایسا زبردست زلزلہ آئے گا جو کسی علاقہ تک محدود نہیں ہوگا بلکہ پوری زمین بیک وقت ہلا ماری جائے گی، تو سمندروں کے پھٹنے اور ان میں آگ بھڑک اٹھنے کی کیفیت ہماری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ پہلے اس عظیم زلزلے کی وجہ سے سمندروں کی تہ پھٹ جائے گی اور ان کا پانی زمین کے اس اندرونی حصے میں اترنے لگے گا جہاں ہر وقت ایک بےانتہا گرم لاوا کھولتا رہتا ہے۔ پھر اس لاوے تک پہنچ کر پانی اپنے دو ابتدائی اجزاء کی شکل میں تحلیل ہوجائے گا جن میں سے ایک آکسیجن جلانے والی ہے اور دوسری ہائیڈروجن بھڑک اٹھنے والی ہے یوں تحلیل اور آتش افروزی کا ایک ایسا مسلسل ردعمل (Chain Reaction) شروع ہوجائے گا جس سے دنیا کے تمام سمندروں میں آگ لگ جائے گی۔ یہ ہمارا قیاس ہے باقی صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 3: جب قیامت کے وہ حالات پیش آچکیں گے جن کا ذکر شروع سورت میں کیا گیا ہے اس وقت ہر انسان جان لے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ آگے بھیجنے سے مراد اس پر عمل کرلینا ہے اور پیچھے چھوڑنے سے مراد ترک عمل ہے۔ تو قیامت کے روز ہر شخص جان لے گا کہ اس نے نیک وبد کیا کیا عمل کرلیے اور نیکی وبدی میں سے کیا چھوڑ دی تھی۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ آگے بھیجے ہوئے اعمال سے مراد وہ عمل ہوں جو اس نے خود کیے، خواہ نیک ہوں یا بد، اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے مراد وہ عمل ہوں جن کی رسم دنیا میں ڈال گئے۔ اگر وہ نیک کام ہیں تو ان کا ثواب اس کو ملتا رہے گا اور برے ہیں تو اس کی برائی اس کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی رہے گی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جس شخص نے اسلام میں کوئی اچھی سنت اور طریقہ جاری کرایا اس کا ثواب ہمیشہ اس کو ملتا رہے گا۔ اور جس نے کوئی بری رسم دنیا میں جاری کیا تو جب تک لوگ اس برے کام میں مبتلا ہوں گے اس کا گناہ اس شخص کے لیے بھی لکھا جاتا رہے گا۔ (معارف القرآن)
Ayah 82:2[وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ : اور جب ستارے جھڑ جائیں گے ]
Ayah 82:3[وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ : اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے ]
Ayah 82:4[وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ : اور جب قبریں ادھیڑی جائیں گی ]
پ ع ث ر
[بَعْثَرَۃً : (رباعی) کسی چیز کو الٹنا پلٹنا۔ کریدنا۔ اس میں سے کچھ نکالنے کے لیے۔ بُعْثِرَ ماضی مجہول ہے۔ کریدا جانا۔ اِذَا بُعْثِرً مَافِی الْقُبُوْرِ (جب کریدا جائے گا اس کو جو قبروں میں ہے) ۔ 100:9 ۔]
Ayah 82:5[عَلِمَتْ نَفْسٌ: تو جان لے گی ہر ایک جان اس کو ][ مَا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ : اس نے جو آگے کیا اور جو پیچھے کیا ]
Ayah 82:6[يٰٓاَيُّهَا الْانسَان مَا غَرَّكَ : اے انسان کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھ کو ][ بِرَبِكَ الْكَرِيْمِ؛تیرے کریم رب کے بارے میں ]
نوٹ۔ 4: آیت۔ 6 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ رب کریم کیا اس کا حقدار تھا کہ اس کے حلم پر مغرور ہو کر تو نافرمانیاں کرتا رہے اور اس کے لطف و کرم کا جواب کفرو طغیان سے دے۔ اس کا کرم دیکھ کر تو اور زیادہ شرمانا اور حلیم کے غصے سے بہت زیادہ ڈرنا چاہے تھا۔ بیشک وہ کریم ہے لیکن منتقم اور حکیم بھی ہے۔ پھر یہ دھوکا نہیں تو اور کیا ہے کہ اس کی ایک صفت کو لے کر دوسری صفات سے آنکھیں بند کرلی جائیں۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
اس دھوکے میں پڑنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ تیرا وجود خود بتارہا ہے کہ تو خود نہیں بن گیا ہے، تیرے ماں باپ نے بھی تجھے نہیں بنایا ہے، عناصر کے آپ سے آپ جڑ جانے سے بھی اتفاقاً تو انسان بن کر پیدا نہیں ہوگیا ہے، بلکہ ایک خدائے حکیم و توانا نے تجھے اس مکمل انسانی شکل میں ترتیب دیا ہے۔ تیرے سامنے ہر قسم کے جانور موجود ہیں جن کے مقابلے میں تیری بہترین ساخت اور تیری افضل و اشرف قوتیں صاف نمایاں ہیں۔ عقل کا تقاضہ یہ تھا کہ اس کو دیکھ کر تیرا سر باراحسان سے جھک جاتا اور اس رب کریم کے مقابلے میں تو کبھی نافرمانی کی جرأت نہ کرتا۔ تو خود جب کسی کا افسر ہوتا ہے تو اپنے اس ماتحت کو کمینہ سمجھتا ہے جو تیری شرافت اور نرم دلی کو کمزوری سمجھ کر تیرے سر چڑھ جائے۔ اس لیے تیری اپنی فطرت یہ گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ مالک کا کرم ہرگز اس کا موجب نہ ہونا چاہیے کہ بندہ اس کے مقابلے میں جری ہوجائے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 82:7[الَّذِي خَلَقَكَ : وہ جس نے پیدا کیا تجھ کو ][ فَسَوّٰىكَ : پھر اس نے نوک پلک درست کی تیری ][ فَعَدَلَكَ : پھر اس نے متناسب کیا تجھ کو ]
Ayah 82:8[فِيْٓ اَيِّ صُوْرَةٍ : جس صورت میں ][ مَا : جو (جیسا)][ شَاۗءَ : اس نے چاہا ][ رَكَّبَكَ : اس نے ترتیب دیا تجھ کو ]
نوٹ۔ 5: آیت۔ 8 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ تخلیق سب انسانوں کی ایک خاص وضع اور ہیئت پر ہونے کی وجہ سے سب میں اشتراک ہے، اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ سب ایک ہی شکل و صورت کے ہوتے، مگر حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ نے کروڑوں بلکہ اربوں انسانوں کی شکل و صورت میں ایسے امتیازات پیدا فرما دئیے جو ایک دوسرے کے مشابہ نہیں ہوتے بلکہ صاف اور نمایاں امتیاز رہتا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 82:9[كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ : ہرگز نہیں ! بلکہ تم لوگ جھٹلاتے ہو بدلے (جزا و سزا) کو ]
Ayah 82:10[وَان عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ : اور بیشک تم لوگوں پر یقینا محفوظ کرنے والے (مقرر) ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 10) اِنَّ کا اسم ہونے کی وجہ سے حٰفِظِّیْنَ حالت نصب میں ہے اس کی خبر محدوف ہے۔ عَلَیْکُمْ قائم مقام خبر ہے۔ لَحٰفِظِیْنَ پر لام تاکید ہے۔ لام تاکید عموماً اِنَّ کی خبر پر آتا ہے۔ لیکن خبر محذوف ہو تو اِنَّ کے اسم پر لے آتے ہیں۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 10 تا 12 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اس مغالطہ میں نہ رہنا کہ تمہاری جلوت وخلوت کی ساری باتوں سے کون باخبر ہوسکتا ہے کہ ایک دن ان کا محاسبہ کرنے بیٹھے۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک کے اوپر اپنے نگراں بیٹھا رکھے ہیں جو تمہارے ہر قول وفعل کو نوٹ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ نہایت معزز ہیں۔ ان فرشتوں کی صفت کِرَامًا، سے مقصود اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ یہ جس ڈیوٹی پر مامور ہیں اس کو نہایت فرضی شناسی، پورے احساس ذمہ داری اور کامل غیر جانبداری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اور جہاں کہیں بھی کرتے ہو، وہ سب ان پر واضح ہوتا ہے۔ یہاں صرف افعال کے جاننے کا ذکر ہے لیکن سورة ق آیت۔ 18 ۔ میں فرمایا نہیں بولتا ہے وہ کوئی بات مگر ایک مستعد نگراں اس کے پاس موجود ہوتا ہے۔ “ سورة ق میں یہ وضاحت بھی ہے کہ یہ فرشتے دو ہوتے ہیں اور دائیں بائیں دونوں طرف سے نگرانی کرتے ہیں۔ احادیث سے یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ ان میں تقسیم کار ہوتی ہے۔ ایک نیکیاں لکھنے پر مامور ہوتا ہے اور دوسرا بدیاں لکھنے پر (تدبر قرآن)
ان فرشتوں کا مرتب کردہ ریکارڈ ایک مکمل ریکارڈ ہے جس میں درج ہونے سے کوئی بات رہ نہیں گئی ہے۔ اسی کے متعلق سورة کہف کی آیت۔ 49 میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے روز مجرمین یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ ان کا جو نامۂ اعمال پیش کیا جا رہا ہے اس میں کوئی چھوٹی یا بڑی بات درج ہونے سے رہ نہیں گئی ہے، جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب کا سب جوں کا توں ان کے سامنے حاضر ہے۔ (تفہیم القرآن)
مورخہ 27 ۔ رمضان المبارک 1431 ئ بمطابق 7 ۔ ستمبر 2010 ء
Ayah 82:11[كِرَامًا كَاتِبِيْنَ : جو معزز ہیں، لکھنے والے ہیں ]
(آیت۔ 11) کِرامًا اور کَاتِبِیْنَ ، یہ دونوں حٰفِظِیْنَ کا بدل ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Ayah 82:12[يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ : وہ جانتے ہیں اس کو جو تم لوگ کرتے ہو ]
Ayah 82:13[ان الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ : بیشک نیک لوگ یقینا دائمی خوشحالی میں ہیں ]
(آیت۔ 13 ۔ 14) اَلْاَبْرَارَ اور اَلْفُجَّارَ ، یہ دونوں اِنَّ کے اسم ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔ ان کی خبریں محذوف ہیں۔ فِیْ نَعِیْمٍ اور فِیْ جَحِیْمٍ قائم مقام خبریں ہیں جن پر لام تاکید ہے۔
Ayah 82:14[وَان الْفُجَّارَ لَفِيْ جَحِيْمٍ : اور بیشک نافرمانی کرنے والے یقینا جہنم میں ہیں ]
Ayah 82:15[يَّصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّيْنِ : وہ لوگ گریں گے اس میں بدلے کے دن ]
Ayah 82:16[وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَاۗىِٕبِيْنَ : اور وہ لوگ اس (جہنم) سے چھپنے والے نہیں ہیں ]
Ayah 82:17[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ : اور تو کیا جانے کیا ہے بدلے کا دن ]
Ayah 82:18[ثُمَّ : پھر (مکرر)][ مَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ : تو کیا جانے کیا ہے بدلے کا دن ]
Ayah 82:19[يَوْمَ لَا تملِكُ : جس دن اختیار نہ رکھے گی ][ نَفْسٌ لِنَفْسٍ : کوئی جان کسی جان کے لیے ][ شَـيْــــًٔا ۭ: کسی چیز کا ][ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ : اور سارے معاملات اس دن ][ للّٰهِ : اللہ کے لیے ہوں گے ]