81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 81:1

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا

[اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ : جب سورج لپیٹ دیا جائے گا ] ترکیب : آیات۔ 1 تا 13 ۔ میں تمام جملے اِذَاسے شروع ہو رہے ہیں اس لیے ان میں افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا اور اِذَا کی وجہ سے یہ تمام جملے شرط ہیں، جبکہ آیت۔ 14 ۔ میں عَلِمَتْ نَفْسٌ جواب شرط ہے اس لیے عَلِمَتْ (ماضی) کا ترجمہ بھی مستقبل میں ہوگا۔ (آیت۔ 7) نُفُوْسٌ جمع ہے نَفَسٌ کی جس کے معنی ہیں، ” سانس۔ “ زندگی کا مدار سانس پر ہے اس لیے یہ جان کے لیے بھی آتا ہے اور جان والے یعنی شخص کے لیے بھی آتا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو طرح ترجمے کیے گئے ہیں۔ اول یہ کہ جانوں کو ان کے جسموں کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔ دوم یہ کہ ہم خیال اور ایک جیسے عمل کرنے والے اشخاص کو ایک ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔ ترجمہ میں ہم پہلی رائے کو ترجیح دیں گے۔ کیونکہ نَفَسٌ سے اگر جان مراد ہو تو یہ لفظ مؤنث اور اگر شخص مراد ہو تو یہ مذکر استعمال ہوتا ہے۔ اور یہاں زُوِّجَتْ مؤنث کا صیغہ آیا ہے اس لیے پہلی رائے کو ترجیح دی گئی ہے۔ نوٹ۔ 1: پچھلی دونوں سورتوں، النّٰزعت اور عبس میں جس حول قیامت سے ڈرایا گیا ہے، اس سورة میں اسی حول قیامت کی پوری تصویر ہے۔ (تدبر قرآن) ۔ پہلی آیت میں کُوِّرَتْ کا لفظ سورج کو بےنور کر دئیے جانے کے لیے ایک بےنظیر استعارہ ہے۔ عربی زبان میں تَکْوِیْر کے معنی لپیٹنے کے ہیں ۔ سر پر عمامہ (صافہ) باندھنے کے لیے تکویر العمامہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتا ہے اور پھر سرکے گرد اسے لپیٹا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اس روشنی کو جو سورج سے نکل کر سارے عالم میں پھیلی ہوئی ہے، عمامہ سے تشبیح دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہوجائے گا۔ (تفہیم القرآن) ۔ ظاہر ہے کہ جب سورج کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی تو سارا عالم تاریک ہوجائے گا۔ اگرچہ سورج کے چھپنے کا مشاہدہ ہمیں آج بھی ہر روز ہوتا رہتا ہے لیکن اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ یہ صورت صرف اس وجہ سے پیش آتی ہے کہ ہم اس سے اوٹ میں ہوجاتے ہیں۔ البتہ جب قیامت برپا ہوگی تو سورج کا سار نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا۔ کون اندازہ کرسکتا ہے اس تاریکی کا جب کہ سرے سے سورج ہی تاریک ہوجائے گا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 81:2

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے بکھر جائیں گے

[وَاِذَا النُّجومُ انكَدَرَتْ : اور جب تارے بکھر کر بےنور ہوجائیں گے ] ک د ر [کَدْرًا : (ن) گدلا ہونا، میلا ہونا۔] [اِنْکِدَارًا : (انفعال) کسی چیز کا بکھر کر بجھ جانا۔ بےنور ہوجانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔] دوسری آیت میں بتایا ہے کہ باہمی کشش ثقل کی وہ بندش جس نے اجرامِ فلکی کو اپنے اپنے مدار پر باندھ رکھا ہے وہ کھل جائے گی اور سب تارے اور سیارے کائنات میں منتشر ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ اِنْکِدَار میں کدورت کا مفہوم بھی شامل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف منتشر ہی نہیں ہوں گے بلکہ تاریک بھی ہوجائیں گے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 81:3

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

[وَاِذَا الْجبالُ سُيِّرَتْ : اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے ]
Ayah 81:4

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی

[وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ : اور جب حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 4 ۔ میں حاملہ اونٹنی کو چھوڑ دینے کی بات عربوں کو قیامت کی سختی کا تصور دلانے کے لیے ایک بہترین طرز بیان ہے۔ موجودہ زمانے کے ٹرک اور بسیں چلنے سے پہلے اہل عرب کے لیے اس اونٹنی سے زیادہ قیمتی مال اور کوئی نہ تھا جو بچہ جننے کے قریب ہو۔ اس حالت میں اس کی بہت زیادہ حفاظت اور دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ ایسی اونٹنیوں سے لوگوں کا غافل ہوجانا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس وقت کچھ ایسی سخت افتاد پڑے گی کہ انھیں اپنے عزیز ترین مال کی حفاظت کا بھی ہوش نہ رہے گا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 81:5

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے

[وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ؛اور جب وحشی جانور اکٹھا کیے جائیں گے ] و ح ش [وَحْشًا : (ض) انسیت نہ پانا۔ وحشت محسوس کرنا۔] [ وَحْشٌ ج وُحُوْشٌ۔ وہ جانور جو انسان سے مانوس نہ ہو۔ وحشی جانور۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5 ۔] نوٹ۔ 3: آیت۔ 5 ۔ میں وحشی جانوروں کے اکٹھا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان تو انسان، اس دن کے حول سے وحشی جانوروں پر بھی ایسی دہشت طاری ہوگی کہ ان کو جہاں بھی پناہ ملنے کی توقع ہوگی وہ سب وہیں اکٹھا ہوجائیں گے اور آپس کی فطری دشمنیاں بھول جائیں گے۔ جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب آجائے تو جنگلی جانور جس ٹیلے پر پناہ ملے اکٹھے ہوجاتے ہیں اور اس آفت کا حول ان پر ایسا طاری ہوتا ہے کہ بکری، شیر اور بھیڑیے پاس پاس کھڑے ہوتے ہیں لیکن کسی کو ہوش نہیں رہتا کہ ان کا شکار ان کی بغل میں ہے۔ یہی صورتحال خوفناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے وقت پیش آئے گی۔ (تدبر قرآن)
Ayah 81:6

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے

[وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ : اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 6 ۔ میں سمندر کو بھڑکائے جانے کے لیے لفظ سُجِّرَتْ استعمال کیا گیا ہے جو تسجیر سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے۔ تسجیر عربی زبان میں تندور کے اندر آگ بھڑکانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے روز سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ لیکن اگر پانی کی حقیقت نگاہ میں ہو تو اس میں کوئی چیز بھی قابل تعجب نہ رہے گی۔ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے کہ اس نے آکسیجن اور ہائیڈروجن دو ایسی گیسوں کو باہم ملایا جن میں سے ایک آگ بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے اور ان دونوں کی ترکیب سے پانی جیسا مادہ پیدا کیا جو آگ بجھانے والا ہے۔ اللہ کی قدرت کا ایک اشارہ اس بات کے لیے کافی ہے کہ وہ پانی کی اس ترکیب کو بدل ڈالے اور یہ دونوں گیسیں ایک دوسرے سے الگ ہو کر بھڑکنے اور بھڑکانے میں مشغول ہوجائیں جو ان کی اصل بنیادی خاصیت ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 81:7

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی

[وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ : اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑی جائیں گی ]
Ayah 81:8

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا

[وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ : اور جب زندہ دفن کی ہوئی سے پوچھا جائے گا ] و ء د [وَأدًا : (ض) کسی کو زندہ دفن کرنا۔] [ مَوْئُدْہٌ اسم المفعول کے مونث مفعولۃٌ کا وزن ہے۔ مَوْئُ وْدَۃٌ کو مَوْئٗ دَۃٌ لکھتے ہیں۔ زندہ دفن کی ہوئی۔ زیرمطالعہ آیت۔ 8 ۔] نوٹ۔ 5: جاہلیت عرب میں یہ رسم تھی کہ لڑکی کو اپنے لیے موجب عار سمجھتے تھے اور اس کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ اسلام نے یہ رسم بد مٹائی۔ آیات۔ 8 ۔ 9 ۔ میں ہے کہ ایسی لڑکیوں سے پوچھا جائے گا۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیامت تو نام ہی یوم الحساب اور یوم الجزاء کا ہے، اس میں تو ہر شخص سے اس کے تمام اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا اس جگہ احوال قیامت کے سلسلہ میں زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کے معاملے کو اتنی اہمیت کے ساتھ ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے۔ غور کرنے سے اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کو خود اس کے ماں باپ نے قتل کیا ہے۔ اس کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اس کی طرف سے دعویٰ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ چناچہ حشر کے میدان میں جو عدالت الٰہیہ قائم ہوگی اس میں ایسے مظالم کو بھی سامنے لایا جائے گا جس کے ظلم پر نہ کوئی شہادت ہے نہ اس مظلوم کا کوئی پرسانِ حال ہے۔ قتل اولاد گناہ کبیرہ اور ظلم عظیم ہے۔ چار ماہ کے بعد کسی حمل کو گرانا بھی اسی حکم میں ہے کیونکہ چوتھے مہینے میں حمل میں روح پڑجاتی ہے اور وہ زندہ انسان کے حکم میں ہوتا ہے۔ اور چار ماہ سے پہلے بھی اسقاط حمل، بدون اضطراری حالات کے، حرام ہے مگر پہلی صورت کی نسبت کم ہے کیونکہ اس میں کسی زندہ انسان کا قتل نہیں ہے۔ کوئی ایسی صورت اختیار کرنا جس سے حمل قرار نہ پائے، جیسے آج کل دنیا میں ضبط تولید (فیملی پلاننگ) کے نام سے اس کی مختلف صورتیں رائج ہوگئی ہیں اس کو بھی رسول اللہ ﷺ نے وَأْدَ خفی فرمایا ہے یعنی خفیہ طور سے بچے کو دفن کردینا۔ (مسلم، راوی حزامۃ بنت وھب) ۔ اور بعض دوسری روایات میں جو عزل یعنی ایسی تدبیر کرنا کہ نطفہ رحم میں نہ جائے، اس پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سکوت یا عدم ممانعت منقول ہے وہ ضرورت کے مواقع کے ساتھ مخصوص ہے۔ وہ بھی اس طرح کہ ہمیشہ کے لیے قطع نسل کی صورت نہ بنے۔ آج کل ضبط تولید کے نام سے جو دوائیں یا علاج کیے جاتے ہیں ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ ہمیشہ کے لیے نسل واولاد کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ اس کی کسی حال میں اجازت نہیں ہے۔ (معارف القرآن) فیملی پلاننگ کی مہم کے کارکنان عزل والی حدیث کا حوالہ دیتے ہیں لیکن وَأْدَ خفی والی حدیث کو صاف پی جاتے ہیں۔ ایک مغرب زدہ دانشور صاحب کو میں نے اس دوسری حدیث کا حوالہ دیا تو فرمایا کہ یہ حدیث نہیں ہے کیونکہ یہ عزل والی حدیث کی ضد ہے اور اللہ کے رسول ﷺ متضاد بات نہیں کرسکتے۔ احادیث ڈھائی سو سال کے بعد لکھی گئی ہیں اور یہ دوسری حدیث اس وقت کے کسی کٹھ ملا قسم کے تابعی نے اپنی طرف سے بڑھائی دی ہے۔ ان کے اس طرز عمل سے مجھے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ اول یہ کہ وَأْدَ خفی والی حدیث ان کے علم میں تھی۔ دوم یہ کہ وہ اپنی مہم کو کامیاب کرنے کی خواہش سے اس درجہ مغلوب ہوچکے ہیں کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے دروازے انہوں نے اپنے اوپر بند کرلیے ہیں۔ ورنہ اللہ اور اس کے رسول 1 کی مرضی ومنشا تلاش کرنے والوں کو ان احادیث کی تطبیق میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ اس بات کو یوں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سور کو حرام کیا ہے اور ساتھ ہی حالت اضطرار میں دو شرائط کے ساتھ سور کھانے کی رخصت بھی دی ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ سؤر کھاتے وقت اللہ اور اس کے رسول 1 سے بغاوت کا جذبہ نہ ہو۔ دوم یہ کہ حد سے تجاوز نہ کرے یعنی اضطرار کو ختم کرنے کے لیے جتنا کھانا ضروری ہو اس سے زیادہ نہ کھائے۔ یہی صورتحال ان دونوں احادیث کی ہے کہ عمومی حکم تو یہی ہے کہ منع حمل کی تدابیر اختیار کرنا بچے کو خفیہ طور پر دفن کرنا ہے اور گناہ ہے۔ البتہ حالت اضطرار میں کسی مخصوص شخص کے لیے رخصت ہوگی لیکن وہ ہوگی انھیں دو شرائط کے ساتھ۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو صاف نظر آجاتا ہے کہ فیملی پلاننگ کے لیے ایک محکمہ قائم کرنا، وقفہ وقفہ سے اس کے لیے مہم چلانا، اشتہارات کی بوچھاڑ کرنا، ہر سال اس کا یوم منانا، یہ سب اللہ اور اس کے رسول 1 کے خلاف کھلی بغاوت ہے اور حد سے تجاوز کرنا ہے۔ (مرتب)
Ayah 81:9

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟

[بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ : کس گناہ کے سبب سے وہ قتل کی گئی ]
Ayah 81:10

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے

[وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ : اور جب اوراق (اعمال نامے) کھولے جائیں گے ]
Ayah 81:11

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا

[وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ؛اور جب آسمان سے پردہ اتار لیا جائے گا ] ک ش ط [ کَشْطًا : (ض) کسی چیز سے اس کا ڈھکنا اتارنا۔ کسی کی کھال اتارنا۔ آیت۔ 11 ۔]
Ayah 81:12

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب جہنم دہکائی جائے گی

[وَاِذَا الْجَــحِيْمُ سُعِّرَتْ : اور جب دوزخ بھڑکائی جائے گی ]
Ayah 81:13

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی

[وَاِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ : اور جب جنت نزدیک لائی جائے گی ]
Ayah 81:14

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

[عَلِمَتْ نَفْسٌ: تو جان لے گی (ہر) ایک جان ][ مَآ اَحْضَرَتْ : اس کو جو اس نے حاضر کیا ]
Ayah 81:15

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں

[فَلَآ اُقْسِمُ : پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں ][ بِالْخُنَّسِ : پیچھے ہٹنے والوں (یعنی ستاروں) کی ] خ ن س [خَنْسًا : (ن) پیچھے ہٹنا۔ سکڑنا (لازم) پیچھے کرنا۔ سمیٹنا (متعدی) ۔] خانِسٌ ج خَنَّسٌ۔ پیچھے ہٹنے والا۔ سکڑنے والا۔ پیچھے کرنے والا۔ سمیٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 81:15 ۔ خَنَّاسٌ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ سے۔ باربار پیچھے ہٹنے والا۔ بار بار سکڑنے والا۔ آیت۔ 114 /4 ۔ ] ترکیب : (آیت۔ 15 تا 18) بِالْخُنَّسِ کے حرف جَرّبِ پر عطف ہونے کی وجہ سے اَلْجَوَارِ اور اَلْکُنَسِ حالت جر میں ہیں۔ وَالَّیْلِ اور وَالصُّبْحِ کی واو کو قسمیہ بھی مانا جاسکتا ہے اور عاطفہ بھی مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں اَلَّیْلِ اور اَلصُّبْح کی جَرّ بِ پر عطف ہونے کی وجہ سے مانی جائے گی۔ ہم انھیں واو عاطفہ مان کر ترجمہ کریں گے۔ نوٹ۔ 1: آیات۔ 15 تا 18 ۔ میں جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ جس بات پر کھائی گئی ہے وہ آگے کی آیات میں بیان کی گئی ہیں۔ مطلب اس قسم کا یہ ہے کہ محمد ﷺ نے تاریکی میں کوئی خواب نہیں دیکھا ہے بلکہ جب تارے چھپ گئے تھے، رات رخصت ہوگئی تھی اور روشن صبح نمودار ہوگئی تھی، اس وقت کھلے آسمان پر انہوں نے خدا کے فرشتے کو دیکھا تھا۔ اس لیے وہ جو کچھ بیان کر رہے ہیں وہ پورے ہوش گوش کے ساتھ دن کی روشنی میں پیش آنے والے تجربے پر مبنی ہے۔ (تفہیم القرآن) ان قسموں کی مناسبت آئندہ مضمون سے یہ ہے کہ ان ستاروں کا چلنا، ٹھہرنا اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے سابقہ انبیاء پر وحی آنے، اور ایک مدت تک ان کے نشان باقی رہنے، پھر منقطع ہو کر غائب ہوجانے کا۔ اور رات کا آنا نمونہ ہے اس تاریک دور کا جو خاتم المرسلین ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے دنیا پر گزرا کہ حق و باطل کی تمیز نہ رہی تھی اور وحی کے آثار بالکل مٹ چکے تھے۔ (یہ دور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کے بعد سے تقریباً چھ سو سال کا عرصہ ہے جب نزول وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ مرتب) اس کے بعد صبح کا دم بھرنا، حضور 1 کا اس جہاں میں تشریف لانا اور قرآن کا اترنا ہے کہ ہر چیز کو ہدایت کے نور سے دن کے مانند روشن کردیا گویا سابقہ انبیاء کا نور ستاروں کی طرح تھا اور اس نور اعظم (یعنی قرآن) کو آفتاب کہنا چاہیے۔ اور بعض علماء نے فرمایا کہ چلنا، لوٹنا اور چھپ جانا، فرشتے کے آنے، واپس جانے اور عالم ملکوت میں چھپنے کے مشابہ ہے۔ اور رات کا گزرنا اور صبح کا آنا، قرآن کے سبب سے ظلمت کفر دور ہوجانے اور نور ہدایت کے پوری طرح ظاہر ہوجانے کے مشابہ ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
Ayah 81:16

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

پلٹنے اور چھپ جانے والے تاروں کی

[الْجوارِ : چلنے والوں (یعنی سیاروں) کی ][ الْكُنَّسِ : چھپ جانے والوں (یعنی تاروں) کی ] ک ن س [کَنُوْسًا : (ن) کسی کا اپنی پناہ گاہ میں پناہ لینا۔ دہک جانا۔] کَانِسٌ ج کَنَّسٌ۔ پناہ لینے والا۔ دبک جانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔ ]
Ayah 81:17

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہوئی

[وَالَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ : اور رات کی جب وہ گزر جائے ]
Ayah 81:18

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا

[وَالصُّبْحِ : اور صبح کی ][ اِذَا تَنَفَّسَ : جب وہ سانس لے (یعنی روشن ہو)]
Ayah 81:19

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغام بر کا قول ہے

[انهٗ : بیشک یہ (قرآن)][ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ : یقینا ایک بزرگ رسول (جبریل (علیہ السلام) ) کا قول ہے ] (آیت۔ 19) اِنَّہٗ میں ہٗ کی ضمیر قرآن مجید کے لیے ہے۔
Ayah 81:20

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو بڑی توانائی رکھتا ہے، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے

[ذِيْ قُوَّةٍ : جو قوت والا ہے ][ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْن : عرش والے کے پاس رتبہ والا ہے ] (آیت۔ 20 ۔ 21) ذِیْ قُوۃٍ ۔ مَکِیْنٍ ۔ مُطَاعٍ اور اَمِیْنٍ ، یہ سب رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہیں اور یہ صفات بتارہی ہیں کہ گزشتہ آیت میں رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ نوٹ۔ 2: آیات۔ 20 ۔ 21 ۔ میں حضرت جبریل (علیہ السلام) کی مزید صفات بیان کی گئی ہیں تاکہ اچھی طرح واضح ہوجائے کہ قرآن کِس محفوظ ومامون اور پاکیزہ ذریعہ سے اترا ہوا کلام ہے۔ مُطَاعٍ یعنی جو فرشتے ان کی ماتحتی میں ہیں وہ سب بےچوں و چرا ان کی اطاعت کرتے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ سرِمُو ان کے احکام سے انحراف کرسکیں، ان کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکیں یا ان کے دئیے ہوئے احکام میں تحریف یا ترمیم کرسکیں۔ ثَمَّ اَمِیْن۔ یہاں ثُمَّ نہیں بلکہ ثَمَّ آیا ہے۔ ان دونوں کے استعمال میں فرق ہے۔ ثَمَّ کسی جگہ کی طرف خاص طور پر اشارے کے لیے بھی آتا ہے اور کسی صفت سے پہلے اس پر اہتمام سے زور دینے کے لیے بھی۔ یہاں یہ صفت امین سے پہلے آیا ہے۔ اس سے مقصود حضرت جبریل (علیہ السلام) کی اس صفت کی طرف خاص طور پر توجہ دلانا ہے۔ یعنی مذکورہ صفات کے ساتھ ان کی خاص اہمیت رکھنے والی صفت یہ بھی ہے کہ وہ امانتدار ہیں۔ اس صفت کا خاص اہتمام سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی یہی صفت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول 1 کے پاس جو کچھ لاتے ہیں اس میں کسی ملاوٹ یا کسی کمی بیشی کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ مورخہ 23 ۔ رمضان المبارک 1431 ھ بمطابق 3 ۔ ستمبر 2010 ء
Ayah 81:21

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

وہاں اُس کا حکم مانا جاتا ہے، وہ با اعتماد ہے

[مُّطَاعٍ : اس کی اطاعت کی جاتی ہے ][ ثَمَّ : وہیں ][ اَمِيْن : امانتدار (بھی) ہے ]
Ayah 81:22

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے

[وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍ : اور تم لوگوں کے ساتھی ﷺ مجنون نہیں ہیں ]
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اُس نے اُس پیغام بر کو روشن افق پر دیکھا ہے

[وَلَقَدْ رَاٰهُ : اور وہ ﷺ یقینا دیکھ چکے ہیں ان (جبریل (علیہ السلام) ) کو ][ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ : کھلے آسمان کے کنارے پر ] (آیت۔ 23) لَقَدْ رَاٰہُ میں فعل رَاٰ میں شامل ضمیر فاعلی ھُوَ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے، جبکہ اس کی ضمیر مفعولی حضرت جبریل (علیہ السلام) کے لیے ہے۔ جبکہ آیت۔ 25 ۔ میں ھُو کی ضمیر قرآن مجید کے لیے ہے۔
Ayah 81:24

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ غیب (کے اِس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملے میں بخیل نہیں ہے

[وَمَا هُوَ عَلَي الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ : اور وہ ﷺ غیب (بتانے) پر کنجوسی کرنے والے نہیں ہیں ] ض ن ن [ضَنًّا : (ض) بخل کرنا۔ [ ضَنِیْنٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ بخل کرنے والا۔ بخیل زیر مطالعہ آیت 24 ۔ ]
Ayah 81:25

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے

وَمَا هُوَ : اور نہیں ہے یہ (قرآن) ][ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ : کسی مردود شیطان کا قول ]
Ayah 81:26

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟

[فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَ : تو تم لوگ کہاں (بھٹکنے) جاتے ہو ]
Ayah 81:27

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے

[ان هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ: نہیں ہے یہ (قرآن) مگر ایک یاددہانی ][ لِلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لیے ]
Ayah 81:28

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو

[لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ : (خصوصاً ) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے ][ ان يَّسْتَــقِيْمَ : کہ وہ سیدھی راہ پر رہے ] (آیت۔ 28) ۔ لِمَنْ بدل ہے گزشتہ آیت میں لِلْعٰلَمِیْنَ کا۔ لیکن یہ بدل عام نہیں بلکہ بدل بعض ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ بدل مخصوصہ ہے یعنی یہ بدل ان لوگوں کے لیے جن کی خصوصیت آگے بیان ہوئی ہے۔ اردو میں بھی بدل بعض کا استعمال عام ہے۔ مثلاً ہم کہتے کہ انکم ٹیکس کے قوانین میں ہونے والی تبدیلیوں کو تمام ٹیکس دہندگان، خاص طور سے تنخواہ دار طبقہ اچھی طرح سمجھ لے۔ اسی طرح سے دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید ایک یاددہانی ہے تمام جہانوں کے لیے خاص طور سے ان کے لیے جو یہ چاہتے ہیں۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے

[وَمَا تَشَاۗءُوْنَ : اور تم لوگ کیا چاہو گے ][ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ (جو)][ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ : چاہے گا اللہ ][ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے ]