80. Surah Abasa

عبسHe frowned · 42 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 80:1

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ Open ayah 80:1 in the Quran reader

ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی

[عَبَسَ وَ تَوَلّىٰٓ: انھوں ﷺ نے تیوری چڑھائی اور منہ موڑا ] نوٹ۔ 1: عَبْسَ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہوجاتا ہے کہ فاعل نبی ﷺ ہیں۔ اَعْمٰی سے اشارہ یہاں عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک نابینا صحابی تھے۔ ایک دن نبی ﷺ قریش کے لیڈروں سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ 1 نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا۔ اسی اثنا میں عبداللہ بن ام مکتوم ؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کرسکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بےموقع آجانا حضور 1 کو ناگوار گزرا۔ اسی واقعہ کو جو اتفاق سے پیش آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو یہ تعلیم دینے کا ذریعہ بنا لیا کہ آپ 1 اپنی توجہ کا اصل مرکز ان صحابہ ؓ کو بنائیں جو اپنی اصلاح اور تربیت کی طلب میں آپ 1 کی مجلس میں آتے ہیں اور ان لوگوں کے درپے زیادہ نہ ہوں جو بےنیاز ہیں۔ (تدبر قرآن) اس موقع میں یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دوکام بیک وقت آگئے تھے۔ ایک مسلمان کی تعلیم اور اس کی دلجوئی اور دوسرے غیر مسلموں کی ہدایت کے لیے ان کی طرف توجہ۔ قرآن کریم کے اس ارشاد نے یہ واضح کردیا کہ پہلا کام دوسرے کام پر مقدم ہے۔ دوسرے کام کی وجہ سے پہلے کام میں تاخیر کرنا یا خلل ڈالنا درست نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعلیم اور ان کی اصلاح کی فکر، غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر سے اہم اور مقدم ہے۔ اس میں ایسے علماء کے لیے ایک اہم ہدایت ہے جو غیر مسلموں کو اسلام سے مانوس کرنے کی خاطر بعض ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جن سے عام مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات یا شکایات پیدا ہوجاتی ہیں۔ ان کو اس قرآنی ہدایت کے مطابق مسلمانوں کی اصلاح کو مقدم رکھنا چاہیے۔ (معارف القرآن)
Ayah 80:2

اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ Open ayah 80:2 in the Quran reader

اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آ گیا

[ان جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى: (اس لیے) کہ آئے ان ﷺ کے پاس وہ نابینا ؓ ]
Ayah 80:3

وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّهٗ یَزَّكّٰۤىۙ Open ayah 80:3 in the Quran reader

تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے

[وَمَا يُدْرِيْكَ : اور آپ ﷺ کو کیا خبر ][ لَعَلَهٗ يَزَّكّىٰٓ: شاید کہ وہ ؓ پاکیزگی حاصل کرتے ]
Ayah 80:4

اَوْ یَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 80:4 in the Quran reader

یا نصیحت پر دھیان دے، اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟

[اَوْ يَذَّكَّرُ : یا وہ یاددہانی حاصل کرتے ][ فَتَنْفَعَهُ : نتیجتاً نفع دیتی ان کو ][ الذِّكْرٰى: وہ عظیم نصیحت (یعنی قرآن)]
Ayah 80:5

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 80:5 in the Quran reader

جو شخص بے پروائی برتتا ہے

[اَمَا مَنِ اسْتَغْنٰى: وہ جو ہے جس نے بےپرواہی اختیار کی ]
Ayah 80:6

فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ Open ayah 80:6 in the Quran reader

اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

[فَانتَ لَهٗ : تو آپ ﷺ اس کے لیے ہی ][ تَصَدّٰى: متوجہ ہوئے ]
Ayah 80:7

وَ مَا عَلَیْكَ اَلَّا یَزَّكّٰىؕ Open ayah 80:7 in the Quran reader

حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

[وَمَا عَلَيْكَ؛اور آپ ﷺ پر نہیں ہے (کوئی الزام)][ اَلَّا يَزَّكّٰى: کہ وہ پاکیزگی حاصل نہیں کرتا ]
Ayah 80:8

وَ اَمَّا مَنْ جَآءَكَ یَسْعٰىۙ Open ayah 80:8 in the Quran reader

اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے

[وَاَمَا مَنْ : اور وہ جو ہے جو ][ جَاۗءَكَ يَسْعٰى: آیا آپ ﷺ کے پاس بھاگتا دوڑتا ]
Ayah 80:9

وَ هُوَ یَخْشٰىۙ Open ayah 80:9 in the Quran reader

اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے

[وَهُوَ يَخْشٰى: اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے ]
Ayah 80:10

فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰىۚ Open ayah 80:10 in the Quran reader

اس سے تم بے رخی برتتے ہو

[فَانتَ عَنْهُ تَلَهّٰى: تو آپ ﷺ نے اس سے غفلت برتی ]
Ayah 80:11

كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 80:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے

[كَلَّآ انهَا : ہرگز نہیں ! بیشک یہ (قرآن)][ تَذْكِرَةٌ: ایک یاددہانی ہے ]
Ayah 80:12

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ Open ayah 80:12 in the Quran reader

جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے

[فَمَنْ شَاۗءَ : پس جو چاہے ][ ذَكَرَهٗ : وہ یاد رکھے اس کو ]
Ayah 80:13

فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ Open ayah 80:13 in the Quran reader

یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں

[فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ : (اس کو لکھا گیا) معزز کیے ہوئے ایسے صحیفوں میں جو ] ترکیب : (آیات 13 تا 16) فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ سے پہلے فعل کُتِبَ محذوف ہے۔ اس کا نائب فاعل اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے جوتَذْکِرَۃٌ کے لیے ہے۔ واضح رہے کہ تَذْکِرَۃٌ مصدر ہے جو مذکر و مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے اس سے پہلے اِنَّھَا میں اس کے لیے ھَا کی مونث ضمیر آئی ہے اور اگلی آیت میں ذَکَرَہٗ میں اسی کے لیے ، کی مذکر ضمیر آئی ہے۔ صُحُفٍ جمع مکسر ہے، اس لیے اس کی صفت مُکَرَّمَۃٍ واحد مونث آئی ہے۔ آگے مَرْفُوْعَۃٍ اور مُطَھَّرَۃٍ بھی صُحُفٍ کی خصوصیات ہیں۔ سَفَرۃٍ نکرہ مخصوصہ ہے۔ جبکہ کِرَامٍ اور بَرَرَۃٍ اس کی خصوصیات ہیں۔ (آیت۔ 23) ۔ اس آیت کو گزشتہ آیت سے بھی متعلق مانا جاسکتا ہے اور اگلی آیت سے بھی اگر اس کو گزشتہ آیت سے متعلق مانا جائے تو یَقْضِ میں شامل ھُوَ کی ضمیر فاعلی کو شَائَ کے فاعل یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مانا جائے گا اور اَمَرَہٗ میں ہٗ کی ضمیر کو مَا کی ضمیر عائد مانا جائے گا۔ ابن کثیر (رح) نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔ (منقول از ترجمہ شیخ الہند (رح) ) اگر اس کو اگلی آیت سے متعلق مانا جائے تو پھر یَقْضِ کی ضمیر فاعلی آیت۔ 17 ۔ میں اَلْاِنْسَانُ کے لیے مانی جائے گی اور اَمَرَہٗ کی ضمیر مفعولی بھی اسی اَلْاِنْسَانُ کے لیے ہوگی۔
Ayah 80:14

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭۙ Open ayah 80:14 in the Quran reader

بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں

[مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۢ: بلندی دیئے ہوئے پاکیزگی دیئے ہوئے ہیں ]
Ayah 80:15

بِاَیْدِیْ سَفَرَةٍۙ Open ayah 80:15 in the Quran reader

معزز اور نیک کاتبوں کے

[بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ : کچھ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں سے جو ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 15 ۔ میں سَفَرَۃٍ کا لفظ سَافِرٌ کی جمع بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی کاتب کے ہیں۔ اس صورت میں اس سے مراد فرشتے، انبیاء (علیہ السلام) اور ان کی وحی لکھنے والے حضرات ہوں گے۔ اور یہ لفظ سَفِیْرٌ بمعنی قاصد کی جمع بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں رسل ملائکہ، انبیاء (علیہ السلام) اور وحی کی کتابت کرنے والے صحابہ ؓ کے ساتھ علمائِ امت بھی اس میں داخل ہوں گے، کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان سفیر اور قاصد ہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 80:16

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ Open ayah 80:16 in the Quran reader

ہاتھوں میں رہتے ہیں

[كِرَامٍۢ بَرَرَةٍ : بزرگی والے نیکی کرنے والے ہیں ]
Ayah 80:17

قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ Open ayah 80:17 in the Quran reader

لعنت ہو انسان پر، کیسا سخت منکر حق ہے یہ

[قُتِلَ الْانسَان : مارا جائے انسان ][ مَآ اَكْفَرَهٗ : کس قدر ناشکرا ہے وہ ]
Ayah 80:18

مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ Open ayah 80:18 in the Quran reader

کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟

[مِنْ اَيِّ شَيْءٍ : (سوچو تو) کس چیز سے ][ خَلَقَهٗ : اس نے پیدا کیا اس کو ]
Ayah 80:19

مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ Open ayah 80:19 in the Quran reader

نطفہ کی ایک بوند سے اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی

مِنْ نُّطْفَةٍ ۭ: (پانی کی) ایک بوند سے ][ خَلَقَهٗ : اس نے تخلیق کی اس کی ][ فَقَدَّرَهٗ : پھر اس نے تقدیر مقرر کی اس کی ] نوٹ۔ 3: آیت۔ 19 ۔ میں فَقَدَّرَہٗ کا مطلب یہ ہے کہ انسان ابھی ماں کے پیٹ میں بن رہا ہوتا ہے تو اس کی تقدیر طے کردی جاتی ہے۔ اس کی جنس کیا ہوگی۔ اس کا رنگ، قد، جسامت وغیر کیسی ہوگی۔ اس کی شکل و صورت اور آواز کیسی ہوگی۔ اس کے جسم کی طاقت اور ذہنی صلاحیتیں کیا ہوں گی۔ کس سرزمین، کس خاندان اور کس ماحول میں یہ پیدا ہوگا، پرورش اور تربیت پائے گا۔ اور کتنا وقت اسے زمین میں کام کرنے کے لیے دیا جائے گا۔ اس تقدیر سے یہ بال برابر بھی ہٹ نہیں سکتا اور نہ اس میں ذرہ برابر ردوبدل کرسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن) تقدیر کی مذکورہ وضاحت کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ تقدیر کے اٹل ہونے کا تصور اس پہلو سے درست ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی انسان کے دائرۂ اختیار کے باہر ہے۔ لیکن یہ تصور درست نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی تقدیر میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا (اعوذ باللہ من ذالک) یا نہیں کرتا۔ وہ علی کُلِ شَیْئٍ قَدِیْرً ہے، فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ہے۔ عام قاعدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کی جو تقدیر مقرر کردی ہے، اس میں وہ تبدیلی نہیں کرتا۔ لیکن جب چاہتا ہے، جس کے لیے چاہتا ہے اور جتنی چاہتا ہے تبدیلی کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تقدیر کو کوئی چیز نہیں بدل سکتی سوائے دعا کے اسی حوالے سے وہ احادیث بھی سمجھی جاسکتی ہیں جن میں عمر کے کم ہوجانے یا زیادہ ہوجانے کا ذکر ہے۔ (مرتب)
Ayah 80:20

ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ Open ayah 80:20 in the Quran reader

پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی

[ثُمَّ السَّبِيْلَ : پھر راہ کو ][ يَسَّرَهٗ : اس نے آسان کیا اس کے لیے ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 20 ۔ میں راستہ کو آسان کردینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں وہ تمام اسباب اور وسائل فراہم کیے جن سے یہ کام لے سکے۔ ورنہ اس کے جسم اور ذہن کی ساری قوتیں بےکار ثابت ہوتیں اگر خالق نے ان کو استعمال کرنے کے لیے زمین پر یہ سروسامان مہیا نہ کردیا ہوتا اور یہ امکانات پیدا نہ کر دئیے ہوتے۔ مزید برآں خالق نے اس کو یہ موقع بھی دیا کہ اپنے لیے خیر یا شر، شکر یا کفر، طاعت یا نافرمانی کی جو راہ بھی اختیار کرنا چاہے کرسکے۔ اس نے دونوں راستے اس کے سامنے کھول کر رکھ دئیے اور ہر راہ اس کے لیے ہموار کردی کہ جس پر بھی چلنا چاہے چلے۔ (تفہیم القرآن) خیر کی راہوں میں انسان کی طبیعت کو پسند نہ آنے والی چیزیں اور شر کی راہوں میں من بھاتی چیزیں تو اظہر من الشمس ہیں۔ اور ہر انسان ان راہوں کی اس ظاہری حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ لیکن ان راہوں کا انجام اتنا ظاہر نہیں ہے اور ظاہر بین نگاہوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ دونوں راہوں کے باطنی حقائق اور ان کے انجام کو ظاہر کرنے اور انسان کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل اور کتب کا سلسلہ قائم کیا جو نبی کریم ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن سے اپنے تکمیلی مرحلہ تک پہنچ گیا۔ اب انسان کی اخروی کامیابی کا راز اس میں ہے کہ وہ اپنی طبیعت اور اپنے موڈ کو لگام دے کر، انجام پر نظر رکھتے ہوئے زندگی کے سفر میں پیش آنے والی متبادل راہوں کا انتخاب کرتے ہوئے اپنا سفر مکمل کرے۔ اس انتخاب میں اللہ تعالیٰ کوئی مداخلت نہیں کرتا اور اس نے انسان کو اس ضمن میں مکمل خودمختاری دی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقدیر کی مجبوری کے باوجود انسان جوابدہ ہے اور جزاوسزا کا مستحق ہے۔ یہ نکتہ جن لوگوں کے سمجھ میں نہیں آتا، وہ پھر چیخ اٹھتے ہیں۔ ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی چاہے ہیں سو آپ کرے ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا یہ درست ہے کہ انسان اپنی تقدیر کے فریم ورک کے اندر زندگی کا سفر کرنے کا پابند ہے اور اپنے فریم ورک میں بال برابر تبدیلی کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ اس کی مجبوری کا دائرہ ہے۔ اور اس فریم ورک کے اندر سفر کرتے ہوئے متبادل راہوں کے انتخاب کی اسے مکمل آزادی ہے۔ یہ اس کی خودمختاری کا دائرہ ہے۔ (مرتب)
Ayah 80:21

ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ Open ayah 80:21 in the Quran reader

پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا

[ثُمَّ اَمَاتَهٗ : پھر اس نے موت دی اس کو ][ فَاَقْبَرَهٗ : تو اس نے دفن کرایا اس کو ]
Ayah 80:22

ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗؕ Open ayah 80:22 in the Quran reader

پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے

[ثُمَّ اِذَا شَاۗءَ : پھر جب وہ چاہے گا ][ انشَرَهٗ : تو وہ دوبارہ زندہ کرے گا اس کو ]
Ayah 80:23

كَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ Open ayah 80:23 in the Quran reader

ہرگز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا

[كَلَّا : ہرگز نہیں ][ لَمَا يَقْضِ : ابھی تک اس نے پورا نہیں کیا ][ مَآ : اس کو ][ اَمَرَهٗ : جس کا اس نے حکم دیا اسے ]
Ayah 80:24

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ Open ayah 80:24 in the Quran reader

پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے

[فَلْيَنْظُرِ الْانسَان : پس چاہیے کہ دیکھے انسان ][ اِلٰى طَعَامِهٖٓ : اپنے کھانے کی طرف ] نوٹ۔ 1: انسان اپنی غذا کے مسئلہ پر ذرا غور کی نگاہ ڈالے جس پر اس کی زندگی کا انحصار ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرتا ہے، پھر ضروریات کی نوعیت کے لحاظ سے کتنی گوناگوں شکلوں میں اس کو پھیلا دیتا ہے۔ اگر وہ اس پر غور کرے گا اور اس کی عقل میں فتور نہیں ہے تو نہایت آسانی سے یہ نکتہ اس کی سمجھ میں آجائے گا کہ ربوبیت کا یہ وسیع نظام تقاضہ کرتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہو اور اس سے پوچھا جائے کہ ان نعمتوں کا حق ادا کیا یا نہیں۔ (تدبر قرآن)
Ayah 80:25

اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّاۙ Open ayah 80:25 in the Quran reader

ہم نے خوب پانی لنڈھایا

[انا صَبَبْنَا الْمَاۗءَ صَبًّا : بیشک ہم نے ہی برسایا پانی جیسے برساتے ہیں ]
Ayah 80:26

ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ Open ayah 80:26 in the Quran reader

پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا

[ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا : پھر ہم نے پھاڑا، زمین کو جیسے پھاڑتے ہیں ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 26 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ وہ زمین کو چیر کر باہر نکل آتا۔ یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلے، پھل، سبزے، ترکاریاں وغیرہ نکالتا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) ) زمین کو پھاڑنے سے مراد اس کو اس طرح پھاڑنا ہے کہ جو بیج یا گٹھلیاں وغیرہ انسان اس کے اندر بوئے یا جو کسی اور طریقے سے زمین کے اندر پہنچ جائیں، وہ اپنی کونپلیں نکال سکیں۔ انسان اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا کہ وہ زمین میں ہل چلاتا ہے اور جو بیج خدا نے پیدا کر دئیے ہیں، انھیں وہ زمین میں اتار دیتا ہے۔ اس کے سوا سب کچھ خدا کا کام ہے۔ اسی نے بیشمار قسم کی نباتات کے بیج پیدا کیے ہیں۔ اسی نے ان بیجوں میں یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ زمین میں پہنچ کر وہ پھوٹیں اور ہر بیج سے اسی کی جنس کے نباتات اُگے۔ اور اسی نے زمین میں یہ صلاحیت پیدا کی ہے کہ پانی سے مل کر وہ ان بیجوں کو کھولے اور ہر جنس کی نباتات کے لیے اس کے مناسب حال غذا بہم پہنچا کر اسے نشو و نما دے خدا نے یہ انتظام نہ کیا ہوتا تو کیا انسان کوئی بھی غذا پاسکتا تھا۔ (تفہیم القرآن) مورخہ 5 ۔ رمضان المبارک 1431 ھ بمطابق 16 ۔ اگست 2010 ء
Ayah 80:27

فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا حَبًّاۙ Open ayah 80:27 in the Quran reader

پھر اُس کے اندر اگائے غلے

[فَانۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا؛تو ہم نے اگائے اس میں دانے (اناج)]
Ayah 80:28

وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ Open ayah 80:28 in the Quran reader

اور انگور اور ترکاریاں

[وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا؛اور انگور اور ترکاری ] ق ض ب [قَضْبًا : (ض) لمبے اور پھیلے ہوئے درخت اگنا۔ کاٹنا۔] [ قَضْبٌ ہر وہ درخت جس کی شاخیں لمبی ہو کر لٹک جائیں۔ سبزی ترکاری۔ زیرمطالعہ آیت۔ 28 ۔]
Ayah 80:29

وَّ زَیْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ Open ayah 80:29 in the Quran reader

اور زیتون اور کھجوریں

[وَّزَيْتُوْنًا وَّنَخْلًا : اور زیتون اور کھجوریں ]
Ayah 80:30

وَّ حَدَآئِقَ غُلْبًاۙ Open ayah 80:30 in the Quran reader

اور گھنے باغ

[وَّحَدَاۗىِٕقَ غُلْبًا : اور باغات موٹے تنے والے درختوں کے ]
Ayah 80:31

وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ Open ayah 80:31 in the Quran reader

اور طرح طرح کے پھل، اور چارے

[وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا : اور میوہ اور مویشی کا چارہ ] ء ب ب [اَبًّا : (ض) کسی کام کے لیے تیار ہونا۔] اَبٌّ ایسی گھاس جو کٹنے کے لیے تیار ہو۔ مویشی کا چارہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔]
Ayah 80:32

مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 80:32 in the Quran reader

تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان زیست کے طور پر

[مَّتَاعًا لَكُمْ وَلِانعامکُمْ : برتنے کا سامان ہوتے ہوئے تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے ]
Ayah 80:33

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ Open ayah 80:33 in the Quran reader

آخرکار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی

[فَاِذَا جَاۗءَتِ الصَّاۗخَّةُ : پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چیخ (نفخۂ صور)] ص خ خ [صَخًّا : (ن) کرخت آواز کا کان کو بہرا کردینا۔] [ صَاخَّۃٌ بہرا کردینے والی چیخ۔ زیر مطالعہ ۔ 33 ۔]
Ayah 80:34

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ Open ayah 80:34 in the Quran reader

اُس روز آدمی اپنے بھائی

[يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ : جس دن بھاگیں گے سارے مرد ][ مِنْ اَخِيْهِ : اپنے بھائی سے ]
Ayah 80:35

وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ Open ayah 80:35 in the Quran reader

اور اپنی ماں اور اپنے باپ

[وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ : اور اپنی ماں سے اور اپنے والد سے ]
Ayah 80:36

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ Open ayah 80:36 in the Quran reader

اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا

[وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ : اور اپنی ساتھ والی (بیوی) سے اور اپنے بیٹوں سے ]
Ayah 80:37

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ Open ayah 80:37 in the Quran reader

ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آ پڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا

[لِكُلِ امْرِۍ مِّنْهُمْ : ہر مرد کے لیے ان میں سے ][ يَوْمَىِٕذٍ شَان : اس دن ایک ایسی مصروفیت (فکر) ہوگی جو ][ يُّغْنِيْهِ : کافی ہوگی اس کو ]
Ayah 80:38

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader

کچھ چہرے اُس روز دمک رہے ہوں گے

[وُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ مُّسْفِرَةٌ: کچھ چہرے اس دن روشن ہونے والے ہیں ]
Ayah 80:39

ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader

ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے

[ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ: ہنسنے والے ہیں خوشی منانے والے ہیں ]
Ayah 80:40

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader

اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی

[وَوُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ : اور کچھ چہرے ہوں گے اس دن ][ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ: جن پر گردوغبار ہوگا ]