79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 79:1

وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ Open ayah 79:1 in the Quran reader

قسم ہے اُن (فرشتوں کی) جو ڈوب کر کھینچتے ہیں

[وَالنّٰزِعٰتِ : قسم ہے کھینچ نکالنے والیوں کی ][ غَرْقًا : ڈوب کر ] نوٹ۔ 1: یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن آگے کا مضمون اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کِن ہستیوں کے ہیں۔ لیکن صحابہ اکرام ؓ اور تابعین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وقوع قیامت اور حیات بعد الموت پر فرشتوں کی قسم کیوں کھائی گئی، جبکہ یہ خود بھی اسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح وہ چیز غیر محسوس ہے جس کے واقع ہونے پر ان کو بطور گواہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب فرشتوں کے وجود کے منکر نہ تھے۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ انسان کی جان فرشتے ہی نکالتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ فرشتوں کی حرکت انتہائی تیز ہے۔ اور ہر حکم بلاتاخیر بجا لاتے ہیں۔ وہ یہ بھی ماتے تھے کہ فرشتے کائنات کا انتظام اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے چلاتے ہیں، اپنی مرضی کے مالک نہیں ہیں۔ اس لیے یہاں پر استدلال اس بنا پر کیا گیا ہے کہ جب خدا کے حکم سے فرشتے تمہاری جان نکالتے ہیں تو اسی کے حکم سے وہ دوبارہ جان ڈال بھی سکتے ہیں۔ جب خدا کے حکم سے وہ کائنات کا انتظام چلا رہے ہیں تو اسی کے حکم سے وہ اس کائنات کو درہم برہم کر کے ایک دوسری دنیا بھی بنا سکتے ہیں۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: اس جگہ فرشتوں کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں جن کا تعلق انسان کی موت اور روح قبض کرنے سے ہے۔ مقصد تو قیامت کا حق ہونا بیان کرنا ہے لیکن شروع انسان کی موت سے کیا گیا کہ ہر انسان کی موت اس کے لیے ایک جزوی قیامت ہے۔ پہلی صفت اَلنّٰزِعٰتِ غَرْقًا ہے، یعنی سختی سے کھینچ کر نکالنے والے۔ اس سے مراد وہ عذاب کے فرشتے ہیں جو کافر کی روح نکالتے ہیں۔ دوسری صفت وَالنّٰشِطٰتِ ہے۔ یہ نَشَطَ سے مشتق ہے جس کے معنے بندھن کھول دینے کے ہیں۔ جس چیز میں پانی یا ہوا وغیرہ بھری ہو اس کا بندھن کھول دینے سے وہ چیز آسانی کے ساتھ نکل جاتی ہے۔ اس میں مومن کی روح نکلنے کے لیے تشبیہ ہے کہ جو فرشتے مومن کی روح قبض کرنے پر مقرر ہیں وہ آسانی سے اس کو قبض کرتے ہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کافر کو وقت نزع ہی برزخ کا عذاب سامنے آجاتا ہے۔ اس سے گھبرا کر اس کی روح بدن میں چھپنا چاہتی ہے تو فرشتے اسے کھینچ کر نکالتے ہیں۔ جبکہ مومن کی روح کے سامنے عالم برزخ کی نعمتیں آتی ہیں تو اس کی روح ان کی طرف جانا چاہتی ہے۔ (معارف لقرآن)
Ayah 79:2

وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ Open ayah 79:2 in the Quran reader

اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں

[وَّالنّٰشِطٰتِ : اور بند کھولنے والیوں کی ][ نَشْطًا : جیسے کھولنے کا حق ہے ] ن ش ط (ض۔ ن) نَشْطاً گرہ کھولنا۔ گرہ لگانا۔ بند کھولنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔ نَاشِطَۃٌ اسم الفاعل ہے۔ بند کھولنے والی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔
Ayah 79:3

وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ Open ayah 79:3 in the Quran reader

اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں

[وَّالسّٰبِحٰتِ : اور تیرنے والیوں کی ][ سَبْحًا : جیسے تیرتے ہیں ]
Ayah 79:4

فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًاۙ Open ayah 79:4 in the Quran reader

پھر (حکم بجا لانے میں) سبقت کرتے ہیں

[فَالسّٰبِقٰتِ : پھر سبقت کرنے والیوں کی ][ سَبْقًا : جیسے سبقت کرتے ہیں ]
Ayah 79:5

فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًاۘ Open ayah 79:5 in the Quran reader

پھر (احکام الٰہی کے مطابق) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں

[فَالْمُدَبِرٰتِ : پھر تدبیر کرنے والیوں کی ][ اَمْرًا : کسی (بھی) حکم کے لیے ]
Ayah 79:6

یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ Open ayah 79:6 in the Quran reader

جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا

[يَوْمَ تَرْجُفُ : جس دن لرزے گی ][ الرَّاجِفَةُ : وہ لرزنے والی ]
Ayah 79:7

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ Open ayah 79:7 in the Quran reader

اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا

[تَتْبَعُهَا : اس کے پیچھے آئے گی ][ الرَّادِفَةُ : وہ پیچھے لگنے والی ]
Ayah 79:8

قُلُوْبٌ یَّوْمَئِذٍ وَّاجِفَةٌۙ Open ayah 79:8 in the Quran reader

کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے

[قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ : کچھ دل اس دن ][ وَّاجِفَةٌ: مضطرب ہونے والے ہیں ]
Ayah 79:9

اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ Open ayah 79:9 in the Quran reader

نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی

[اَبْصَارُهَا : ان کی آنکھیں ][ خَاشِعَةٌ: جھکنے والی ہیں ]
Ayah 79:10

یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ Open ayah 79:10 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟

[يَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ کہتے ہیں ][ ءَانا لَمَرْدُوْدُوْنَ : کیا بیشک ہم ضرور لوٹائے جانے والے ہیں ][ فِي الْحَافِرَةِ : اسی قدم میں (اُلٹے پائوں)]
Ayah 79:11

ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ Open ayah 79:11 in the Quran reader

کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟"

[ءَاِذَا كُنَا : کیا جب ہم ہوگئے ][ عِظَامًا نَّخِرَةً : بُھر بُھری ہڈیاں ] ن خ ر [نَخَرًا : (س) بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہونا ] [ نَخِرَۃٌ صفت ہے۔ ریزہ ریزہ۔ بُھر بُھری۔ زیر مطالعہ آیت۔ 11 ۔ ]
Ayah 79:12

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ Open ayah 79:12 in the Quran reader

کہنے لگے "یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!"

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ][ تِلْكَ اِذًا : وہ تو پھر ][ كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ: خسارہ دینے والی باری ہوگی ]
Ayah 79:13

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 79:13 in the Quran reader

حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی

[فَانمَا ھِيَ : پھر وہ تو بس ][ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ: ایک (ہی) جھڑکی ہوگی ]
Ayah 79:14

فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ Open ayah 79:14 in the Quran reader

اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے

[فَاِذَا هُمْ : پھر جب ہی وہ لوگ ][ بِالسَّاهِرَةِ : اس میدان میں ہوں گے ] س ھـ ر سَھَرًا رات بھر جاگتے رہنا۔ سَاھِرَۃٌ رات بھر جاگنے والی۔ پھر اس سے مراد لیتے ہیں سطح زمین۔ میدان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14
Ayah 79:15

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 79:15 in the Quran reader

کیا تمہیں موسیٰؑ کے قصے کی خبر پہنچی ہے؟

[هَلْ اَتٰىكَ : کیا پہنچی آپ ﷺ کے پاس ][ حَدِيْثُ مُوْسٰى: موسیٰ (علیہ السلام) کی بات ] نوٹ۔ 1: سابقہ آیات میں عذاب قیامت کی تصویر تھی۔ اب یہ اس عذاب کی تاریخی شہادت کا حوالہ ہے جس سے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے۔ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت کا انتخاب فرمایا ہے جو سب سے زیادہ مشہور و معروف شہادت ہے۔ (تدبیر قرآن)
Ayah 79:16

اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىۚ Open ayah 79:16 in the Quran reader

جب اس کے رب نے اُسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا

[اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ : جب آواز دی ان (علیہ السلام) کو ان کے رب نے ][ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ : پاک کی ہوئی وادی میں ][ طُوًى: جو طوٰی (کہلاتی) ہے ] نوٹ۔ 2: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ تم اور ہارون، دونوں بھائی اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے اور خدا سے ڈرے۔ (طٰہٰ ۔ 44) ۔ اس نرم کلام کا ایک نمونہ تو یہاں آیت۔ 18 ۔ 19 ۔ میں دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مبلغ کو کسی بگڑے ہوئے آدمی کی ہدایت کے لیے کس حکمت کے ساتھ تبلیغ کرنی چاہیے۔ دوسرے نمونے سورة طٰہٰ ۔ آیات 49 تا 52، الشعرائ۔ 23 تا 28 ۔ اور القصص۔ 37 ۔ میں دیئے گئے ہیں۔ یہ منجملہ ان آیات کے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکمت تبلیغ کی تعلیم دی ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 3: ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صرف بنی اسرائیل کی رہائی کے لیے ہی فرعون کے پاس نہیں بھیجے گئے تھے، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، بلکہ ان کی بعثت کا پہلا مقصد فرعون اور اس کی قوم کو راہ راست دکھانا تھا اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ اگر وہ راہ راست قبول نہ کرے تو بنی اسرائیل کو (جو اس وقت کی مسلمان قوم تھے) اس کی غلامی سے چھڑا کر مصر سے نکال لائیں۔ یہ بات ان آیات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کیوں کہ ان میں سرے سے بنی اسرائیل کی رہائی کا ذکر ہی نہیں ہے۔ بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے سامنے صرف حق کی تبلیغ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ان مقامات سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) نے اسلام کی تبلیغ بھی کی ہے اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ بھی فرمایا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 79:17

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى٘ۖ Open ayah 79:17 in the Quran reader

کہ "فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے

[اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ : (اور کہا کہ) آپ (علیہ السلام) جائیں فرعون کی طرف ][ انهٗ طَغٰى: بیشک اس نے سرکشی کی ]
Ayah 79:18

فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰىۙ Open ayah 79:18 in the Quran reader

اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے

[فَقُلْ : پھر آپ (علیہ السلام) کہیں ][ هَلْ لَّكَ اِلٰٓى: کیا تیرے لیے اس کی طرف (کوئی رجحان ہے)][ ان تَـزَكّٰى : کہ تو تزکیہ حاصل کرے ]
Ayah 79:19

وَ اَهْدِیَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ Open ayah 79:19 in the Quran reader

اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟"

[وَاَهْدِيَكَ : اور (اس طرف) کہ میں تیری رہنمائی کروں ][ اِلٰى رَبِكَ : تیرے رب کی طرف ][ فَتَخْشٰى: نتیجتاً تو رعب محسوس کرے (اس کا)]
Ayah 79:20

فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:20 in the Quran reader

پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر) اُس کو بڑی نشانی دکھائی

[فَاَرٰىهُ : تو انھوں (علیہ السلام) نے دکھائی اس (فرعون) کو ][ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى: وہ سب سے بڑی نشانی ]
Ayah 79:21

فَكَذَّبَ وَعَصٰى٘ۖ Open ayah 79:21 in the Quran reader

مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا

[فَكَذَّبَ وَعَصٰى: پس اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی ]
Ayah 79:22

ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى٘ۖ Open ayah 79:22 in the Quran reader

پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا

[ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى: پھر اس نے پیٹھ پھیری بھاگ دوڑ کرتے ہوئے ]
Ayah 79:23

فَحَشَرَ فَنَادٰى٘ۖ Open ayah 79:23 in the Quran reader

اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا

[فَحَشَرَ فَنَادٰى: پھر اس نے اکٹھا کیا (سب کو) تو آواز دی ]
Ayah 79:24

فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ Open ayah 79:24 in the Quran reader

"میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں"

[فَقَالَ : پھر اس نے کہا ][ انا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى: میں تم لوگوں کا سب سے برتر پرورش کرنے والا ہوں ] نوٹ۔ 4: فرعون کا رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے، مثلاً الشعرائ۔ 29 ۔ القصص۔ 38 ۔ لیکن ان باتوں سے فرعون کا یہ مطلب نہ تھا، اور نہ ہی ہوسکتا تھا، کہ وہی کائنات کا خالق ہے۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر اور خود رب العالمین ہونے کا مدعی تھا۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو مذہبی معنوں میں لوگوں کا معبود قرار دیتا تھا۔ قرآن مجید ہی میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے، وہ خود دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا تھا۔ چناچہ اس کے اہل دربار نے ایک موقع پر اس کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یہ آزادی دیتے چلے جائیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ الاعراف۔ 127 ۔ پس درحقیقت وہ مذہبی معنی میں نہیں بلکہ سیاسی معنی میں اپنے آپ کو الٰہ اور رب اعلیٰ کہتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اقتدار اعلیٰ کا مالک میں ہوں، میرے سوا کسی کو میری مملکت میں حکم چلانے کا حق نہیں ہے اور میرے اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں ہے جس کا فرمان یہاں جاری ہوسکتا ہو۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 79:25

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ Open ayah 79:25 in the Quran reader

آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا

[فَاَخَذَهُ اللّٰهُ : تو پکڑا اس کو اللہ نے ][ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى: دنیا اور آخرت کی عبرتناک سزا میں ]
Ayah 79:26

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰى٢ؕ۠ Open ayah 79:26 in the Quran reader

درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے

[ان فِيْ ذٰلِكَ : بیشک اس میں ][ لَعِبْرَةً : یقینا ایک عبرت ہے ][ لِمَنْ يَّخْشٰى: اس کے لیے جو ڈرتا ہے (رب سے)]
Ayah 79:27

ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ Open ayah 79:27 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا

[ءَانتم اَشَدُّ : کیا تم لوگ زیادہ شدید ہو ][ خَلْقًا : بلحاظ تخلیق کرنے کے ][ اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ: یا یہ آسمان ][ بَنٰىهَا : اسی نے بنایا جس کو ] ترکیب : (آیت۔ 27) بَنٰچھَا میں فعل بَنٰی کی ضمیر مفعولی ھَا۔ اَلسَّمَائُ کے لیے ہے۔ نوٹ۔ 1: سورة البقرہ کی آیت۔ 29 ۔ اور حٰمٓ السجدہ کی آیات۔ 9 تا 12 ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ سات آسمان زمین کی پیدائش کے بعد بنائے گئے۔ اور النّٰزعٰت کی آیت۔ 30 ۔ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین آسمان کے بعد بچھائی گئی۔ اس کے جواب کئی طرح دئیے گئے ہیں۔ احقر کو ابوحیان کی تقریر پسند ہے یعنی ضروری نہیں کہ سابقہ آیات میں ثُمَّ اور زیر مطالعہ آیت میں بَعْدَ ذٰلِکَ ترافیٔ زمان (زمانے کے رخ یعنی ترتیب) کے لیے ہو۔ ممکن ہے ان الفاظ سے ترافیٔ فی الاخبار (خبروں کی ترتیب) یا ترافیٔ رُتبی (رتبے کی ترتیب) مراد لیں جیسے قرآن کی دوسری جگہوں میں یہ ہی معنی مراد لیے گئے ہیں۔ بہرحال قرآن کریم میں ترتیب زمانی کی ترتیب نہیں ہے۔ ہاں نعمت کے تذکرہ میں زمین کا اور عظمت و قدرت کے تذکرہ میں آسمان کا ذکر مقدم رکھا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) ۔ تفسیر آیات حٰم السجدہ) امام راغب اصفحانی (رح) نے دحٰی (مادہ ” د ح ی “ ) کے معنے کسی چیز کو اس کے مقر (جائے قرار) سے ہٹا دینے کے لکھے ہیں۔ تو شاید اس لفظ میں ادھر اشارہ ہو جو آج کل کی تحقیق ہے کہ زمین اصل میں کسی بڑے جرم فلکی کا ایک حصہ ہے جو اس سے الگ ہوگیا۔ واللہ اعلم۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) ۔ تفسیر آیت۔ النّٰزعٰت) اس کے بعد زمین کو بچھانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آسمان کے بعد زمین کو پیدا کیا۔ بلکہ یہ ایسا ہی طرز بیان ہے جس میں مقصود ایک بات کے بعد دوسری بات کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے، اگرچہ دونوں ایک ساتھ پائی جاتی ہوں۔ اس طرز بیان کی متعدد مثالیں خود قرآن میں موجود ہیں۔ مثلاً سورة القلم۔ آیت۔ 13 ۔ میں فرمایا عُتُلٍ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ (جفاکار ہے اس کے بعد بداصل ہے) ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے وہ جفا کار بنا اس کے بعد بداصل بنا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جفا کار ہے اور اس پر مزید یہ کہ بداصل بھی ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔ قرآن میں ترتیب زمانی کے ضمن میں آیت۔ 2:40، نوٹ۔ 1 (3) کو بھی دوبارہ دیکھ لیں تو بات مزید واضح ہوجائے گی۔ (مرتب)
Ayah 79:28

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ Open ayah 79:28 in the Quran reader

اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا

[رَفَعَ سَمْكَهَا : اور اس نے بلند کیا اس کی اٹھان کو ][ فَسَوّٰىهَا : پھر اس نے ہموار کیا اس کو ] س م ک [سَمْکاً : (ن) بلند کرنا۔ اونچا اٹھانا۔] [ سَمْکٌ اسم ذات ہے۔ چھت۔ ہر اونچی چیز کا قدوقامت۔ ابھار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 28 ۔] (آیت۔ 28 ۔ 29) سَمْکَھَا۔ سَوّٰچھَا۔ لَیْلَھَا۔ ضُحٰچھَا۔ ان سب میں بھی ھَا کی ضمیریں اَلسَّمَائُ کے لیے ہیں۔ نوٹ۔ 2: ان آیات میں (یعنی آیات۔ 27 تا 33 میں) قیامت اور حیات بعدالموت کے لیے دو حیثیتوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس خدا کی قدرت سے حیات بعدالموت کا برپا کرنا ہرگز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع اور عظیم کائنات اس حیرت انگریز توازن کے ساتھ اور یہ زمین اس سروسامان کے ساتھ بنائی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے کمال حکمت کے جو آثار اس کائنات اور اس زمین میں صریحاً نظر آ رہے ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بےمقصد نہیں ہو رہا ہے بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ اس کے پیچھے کارفرما ہے۔ یہ رات اور دن کا باقاعدگی سے آنا اس بات پر گواہ ہے کہ زمین کو آباد کرنے کے لیے یہ نظم کمال درجہ دانائی سے قائم کیا گیا ہے۔ خود اسی زمین میں وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں 24 گھنٹے کے اندر رات اور دن کا الٹ پھیر ہوجاتا ہے۔ اور وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں بہت لمبے دن اور بہت لمبی راتیں ہوتی ہیں۔ زمین کی آبادی کا بہت بڑا حصہ پہلی قسم کے خطوں میں اور جہاں رات اور دن جتنے زیادہ لمبے ہوتے جاتے ہیں، وہاں زندگی زیادہ سے زیادہ دشوار اور آبادی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چھ مہینے کے دن اور چھ مہینے کی راتیں رکھنے والے علاقے آبادی کے بالکل قابل نہیں ہیں۔ یہ دونوں نمونے اسی زمین پر دکھا کر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی شہادت پیش کردی ہے کہ رات اور دن کی آمدورفت کا یہ باقاعدہ انتظام کچھ اتفاقاً نہیں ہوگیا ہے، بلکہ یہ زمین کو آبادی کے قابل بنانے کے لیے بڑی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ایک اندازے کے مطابق کیا گیا ہے۔ اسی طرح زمین کو اس طرح بچھانا کہ وہ سکونت کے قابل بن سکے۔ اس میں وہ پانی پیدا کرنا جو انسان اور حیوان کے لیے پینے کے قابل اور نباتات کے لیے روئیدگی کے قابل ہو۔ یہ سارے کام اس بات کی صریح علامت ہیں کہ یہ بےمقصد کام نہیں ہیں۔ اب یہ ہر صاحب عقل کے سوچنے کی بات ہے کہ آخرت کا ہونا حکمت کا تقاضا ہے یا نہ ہونا ؟ کیوں کہ اس سے بڑی کوئی بےمقصد بات نہیں ہوسکتی کہ اس زمین میں انسان کو تصرف کے وسیع اختیارات دے کر اسے چھوڑ دیا جائے اور کبھی اس کا محاسبہ نہ کیا جائے۔
Ayah 79:29

وَ اَغْطَشَ لَیْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪ Open ayah 79:29 in the Quran reader

اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا

[ وَاَغْطَشَ لَيْلَهَا : اور اس نے تاریک کیا اس کی رات کو ][ وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا : اور اس نے نکالا اس کی روشنی کو ] غ ط ش [غَطَشاً : (س) کمزور نظر والا ہونا۔] [اِغْطَاشًا : (افعال) تاریک کرنا۔ زیرمطالعہ آیت۔ 29 ۔]
Ayah 79:30

وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ Open ayah 79:30 in the Quran reader

اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا

وَالْاَرْضَ : اور (اس نے بنایا) زمین کو ][ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد ][ دَحٰىهَا : اس نے پھیلایا اس کو ] د ح ی [دَحْیًا : (ف) کسی چیز کو پھیلانا۔ زیرمطالعہ آیت۔ 30 ۔] (آیت۔ 30) وَالْاَرْضَ کی نصب بنا رہی ہے کہ یہ فعل بَنٰیکا مفعول ہے۔ بَعْدَ ذٰلِکَ میں ذٰلِکَ کا اشارہ اَلسَّمَائُ کی طرف مانا جاسکتا ہے اور الْاَرْضَ کی طرف بھی۔ اگر اَلسَّمَائُ کی طرف مانا جائے تو مطلب ہوگا آسمان بنانے کے بعد زمین بنائی۔ اور اگر اَلْاَرْضَ کی طرف مانا جائے تو مطلب ہوگا زمین بنانے کے بعد اس کو پھیلا ۔
Ayah 79:31

اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪ Open ayah 79:31 in the Quran reader

اُس کے اندر سے اُس کا پانی اور چارہ نکالا

[اَخْرَجَ مِنْهَا مَاۗءَهَا : اس نے نکالا اس سے اس کا پانی ][ وَمَرْعٰىهَا : اور اس کا چارا ] (آیت۔ 31 ۔۔ 32) دَمٰچھَا۔ مِنْھَا۔ مَائَ ھْا ۔ مَرْعٰچھَا۔ اَرْسٰچھَا۔ ان سب میں ھا کی ضمیریں اَلْاَرْضَ کے لیے ہیں۔ فعل اَرْسیٰ دو مفعولوں کا تقاضہ کرتا ہے کس کو جمایا۔ کس میں جمایا۔ یہاں اَلْجِبَالَ فعل اَرْسیٰ کا مفعول مقدم اول ہے اور اس کے ساتھ ھَا کی ضمیر مفعولی مفعول ثانی ہے۔
Ayah 79:32

وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ Open ayah 79:32 in the Quran reader

اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے

[وَالْجبالَ اَرْسٰىهَا : اور پہاڑوں کو اس نے جمایا اس میں ]
Ayah 79:33

مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ Open ayah 79:33 in the Quran reader

سامان زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے

[مَتَاعًا : برتنے کا سامان ہوتے ہوئے ][ لَكُمْ وَلِانعامکُمْ : تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے ]
Ayah 79:34

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى٘ۖ Open ayah 79:34 in the Quran reader

پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا

[فَاِذَا جَاۗءَتِ : پھر جب آئے گی ][ الطَّاۗمَّةُ الْكُبْرٰى: وہ سب سے بڑی چھا جانے والی (قیامت تو یہ سب درہم برہم ہوجائے گا)] ط م م [طَمًّا : (ن) کسی کا کسی چیز کو ڈھانک لینا۔ کسی پر چھا جانا۔] [ طَامَّۃٌ اسم الفاعل ہے۔ چھا جانے والی۔ آفت، زیر مطالعہ آیت۔ 34 ۔] (آیت۔ 34 ۔ 35) ۔ فَاِذَا جَائَ تْ میں اِذَا شرطیہ ہے، اس کا جواب شرط محذوف ہے، کہ جب اَلطَّامَّۃُ الْکُبْریٰ آئے گی تو سابقہ آیات میں آسمان و زمین کی بناوٹ، سب درہم برہم ہوجائے گی۔ یَوْمَ اسی محذوف جواب شرط کا ظرف ہے۔
Ayah 79:35

یَوْمَ یَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰىۙ Open ayah 79:35 in the Quran reader

جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا

[يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْانسَان : اس دن یاد کرے گا انسان ][ مَا سَعٰى: اس کو جو اس نے دوڑ دھوپ کی ]
Ayah 79:36

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى Open ayah 79:36 in the Quran reader

اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی

[وَبُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ : اور ظاہر کی جائے گی دوزخ ][ لِمَنْ يَّرٰى: اس کے لیے جو دیکھے گا (یعنی دوزخی کے لیے)]
Ayah 79:37

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ Open ayah 79:37 in the Quran reader

تو جس نے سرکشی کی تھی

[فَاَمَا مَنْ طَغٰى: تو وہ جو ہے جس نے سرکشی کی ] نوٹ۔ 3: آیات۔ 37 تا 41 ۔ میں اہل دوزخ اور اہل جنت کی خاص خاص علامات کا بیان ہے جس سے ایک انسان دنیا ہی میں یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس ضابطہ کے مطابق میرا ٹھکانہ دوزخ میں ہے یا جنت میں۔ ضابطہ اس لیے کہا گیا ہے کہ کسی کی شفاعت سے یا بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کسی جہنمی کو وہاں سے نکال کے جنت میں پہنچا دینا ایک استثنائی حکم ہے اور جنت یا دوزخ میں ٹھکانے کا اصل ضابطہ وہی ہے جو ان آیات میں بیان فرمایا ہے۔ پہلے اہل جہنم کی خاص علامات بیان کی گئیں، وہ دو ہیں۔ اول طغیان یعنی اللہ اور اس کے رسول 1 کے احکام کی پابندی کرنے کی بجائے سرکشی کرنا۔ دوم دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا۔ یعنی جب ایسا کوئی کام سامنے آئے کہ اس کے اختیار کرنے سے دنیا میں تو آرام یا لذت ملتی ہے مگر آخرت میں اس پر عذاب مقرر ہے، اس وقت وہ دنیا کی لذت کو ترجیح دے کر آخرت کی فکر کو نظر انداز کر دے۔ جو شخص دنیا میں ان دوبلائوں میں مبتلا ہے اس کے لیے فرما دیا کہ جہنم ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد اہل جنت کی اسی طرح دو علامتیں بتائی ہیں۔ اول یہ کہ جس شخص کو دنیا میں اپنے ہر عمل ہر کام کے وقت یہ خوف لگا رہے کہ مجھے ایک روز اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر ان اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ دوم یہ کہ جس نے اپنے نفس کو قابو میں رکھا اور ناجائز خواہشوں سے اس کو روک دیا۔ جس نے دنیا میں یہ دو وصف حاصل کرلیے قرآن کریم نے اس کو یہ خوشخبری دی ہے کہ جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ مورخہ 27 ۔ شعبان 1431 ھ بمطابق 9 ۔ اگست 2010 ء
Ayah 79:38

وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ Open ayah 79:38 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی

[وَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : اور اس نے ترجیح دی دنیوی زندگی کو ]
Ayah 79:39

فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:39 in the Quran reader

دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی

[فَان الْجَــحِيْمَ : تو (اس کے لیے) یقینا دوزخ ][ ھِيَ الْمَاوٰى: ہی ٹھکانہ ہے ] (آیت۔ 39 ۔ فَاِنَّ کا اسم اَلْجَحِیْمَ ہے اور اَلْمَاْوٰی اس کی خبر معرفہ ہے اس لیے ھِیَ ضمیر فاصل آئی ہے جس سے حصر کا مفہوم پیدا ہوا ہے۔
Ayah 79:40

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ Open ayah 79:40 in the Quran reader

اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا

[وَاَمَا مَنْ خَافَ : اور وہ جو ہے جس نے خوف کیا ][ مَقَامَ رَبِهٖ : اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کے وقت کا ][ وَنَهَى النَّفْسَ : اور اس نے روکا (اپنے) جی کو ][ عَنِ الْهَوٰى: (من کی) چاہت سے ]