78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 78:1

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ Open ayah 78:1 in the Quran reader

یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟

[عَمَّ : کس چیز کے بارے میں ][ يَتَسَاۗءَلُوْنَ : یہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں ] نوٹ 1: عَمَّ دراصل دو حرفوں عن اور ما سے مرکب ہے۔ حرف مَا استفہام کے لیے آتا ہے۔ اس ترکیب میں حرف مَا سے الف ساقط کردیا جاتا ہے۔ معنی ہوئے کس چیز کے بارے میں۔ (معارف القرآن) نوٹ 2: مکہ معظمہ میں جب اوّل اوّل رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے ساتھ کسی کو خدائی میں شریک نہ مانا جائے۔ دوسری یہ کہ آپ 1 کو اللہ نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ تیسری یہ کہ اس دنیا کا ایک روز خاتمہ ہوجائے گا اور اس کے بعد ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں تمام اولین و آخرین دوبارہ زندہ کر کے اسی جسم کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جس میں رہ کر انہوں نے اس دنیا میں کام کیا تھا۔ پھر ان کے عقائد اور اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اس محاسبہ میں جو لوگ مومن اور صالح ثابت ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جائیں گے اور جو کافر وفاسق ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے۔ ان میں سے پہلی بات اگرچہ اہل مکہ کو سخت ناگوار تھی، لیکن بہرحال وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر نہ تھے، اس کے رب اعلیٰ اور خالق و رازق ہونے کو بھی مانتے تھے اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ دوسری جن جن ہستیوں کو وہ معبود قرار دیتے ہیں وہ اللہ ہی کی مخلوق ہیں۔ اس لیے جھگڑا صرف اس بات میں تھا کہ خدا کی خدائی میں ان ہستیوں کی کوئی شرکت ہے یا نہیں۔ دوسری بات کو مکہ کے لوگ ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن اس امر سے انکار کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ چالیس سال تک جو زندگی آپ 1 نے ان کے درمیان گزاری تھی اس میں انہوں نے کبھی آپ 1 کو جھوٹا یا فریب کار یا مطلبی نہ پایا تھا۔ اس لیے ہزار بہانے اور الزامات تراشنے کے باوجود انھیں دوسروں کو باور کرانے اور خود باور کرنے میں سخت مشکل پیش آرہی تھی کہ حضور 1 سارے معاملات میں تو راستباز ہیں اور صرف رسالت کے دعوے میں معاذ اللہ جھوٹے ہیں۔ اس طرح پہلی دو باتیں اہل مکہ کے لیے اتنی زیادہ الجھن کا باعث نہ تھیں جتنی تیسری بات تھی۔ انھوں نے سب سے زیادہ اسی کا مذاق اڑایا، سب سے زیادہ حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا اور اسے بالکل بعید از عقل اور ناممکن سمجھ کر جگہ جگہ اس کے ناقابل تصور ہونے کے چرچے شروع کر دئیے۔ مگر ان لوگوں کو اسلام کی راہ پر لانے کے لے یہ قطعی ناگزیر تھا کہ آخرت کا عقیدہ ان کے ذہن میں اتاراجائے کیونکہ اس عقیدے کو مانے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق اور باطل کے معاملہ میں ان کا طرز فکر سنجیدہ ہوسکتا، خیر و شر کے معاملہ میں ان کا معیار بدل سکتا اور دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اس راہ پر ایک قدم بھی چل سکتے جس پر اسلام ان کو چلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں زیادہ تر زور آخرت کا عقیدہ دلوں میں بٹھانے پر صرف کیا گیا ہے۔ البتہ اس کے لیے دلائل ایسے انداز سے دئیے گئے ہیں جن سے توحید کا تصور بھی خودبخود ذہن نشین ہوتا چلا جاتا ہے اور بیچ بیچ میں رسول اللہ ﷺ اور قرآن کے برحق ہونے کے دلائل بھی مختصراً دے دیے گئے ہیں۔ اس لیے اس دور کی سورتوں میں (سورۂ قیامہ سے نازعات تک) آخرت کے مضمون کی تکرار زیادہ ہے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 220 ۔ 221)
Ayah 78:2

عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 78:2 in the Quran reader

کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں

[عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ : اس عظیم خبر کے بارے میں ]
Ayah 78:3

الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ مُخْتَلِفُوْنَؕ Open ayah 78:3 in the Quran reader

جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟

[الَّذِي هُمْ فِيْهِ : وہ، یہ لوگ جس میں ][ مُخْـتَلِفُوْنَ : اختلاف کرنے والے ہیں ]
Ayah 78:4

كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 78:4 in the Quran reader

ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائیگا

[كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ : ہرگز نہیں ! یا یہ لوگ جان لیں گے ]
Ayah 78:5

ثُمَّ كَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ Open ayah 78:5 in the Quran reader

ہاں، ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا

[ثُمَّ : پھر (مکرر)][ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ : ہرگز نہیں ! یہ لوگ جان لیں گے ]
Ayah 78:6

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًاۙ Open ayah 78:6 in the Quran reader

کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا

[اَ لَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ : کیا ہم نے نہیں بنایا زمین کو ][ مِهٰدًا : آرادم دہ ٹھکانہ ]
Ayah 78:7

وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا۪ۙ Open ayah 78:7 in the Quran reader

اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا

[وَّالْجبالَ اَوْتَادًا : اور پہاڑوں کو میخیں ]
Ayah 78:8

وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ Open ayah 78:8 in the Quran reader

اور تمہیں (مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا

[وَّخَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا : اور ہم نے پیدا کئے تم لوگوں کے جوڑے جوڑے ]
Ayah 78:9

وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ Open ayah 78:9 in the Quran reader

اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا

[وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ : اور ہم نے بنایا تمہاری نیند کو ][ سُبَاتًا : آرام کے لیے ] نوٹ 3: آیت۔ 9 ۔ میں حق تعالیٰ نے انسان کی راحت کے سب سامانوں میں سے خاص طور پر نیند کا ذکر فرمایا ہے۔ غور کیجیے تو یہ ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ اور اس نعمت کو حق تعالیٰ نے پوری مخلوق کے لیے ایسا عام فرما دیا ہے کہ امیر، غریب، عالم، جاہل، بادشاہ اور مزدور سب کو یہ دولت بیک وقت عطا ہوتی ہے۔ بلکہ دنیا کے حالات کا تجزیہ کریں تو غریبوں اور محنت کشوں کو یہ نعمت جیسی حاصل ہوتی ہے وہ مالداروں اور دنیا کے بڑوں کو نصیب نہیں ہوتی۔ نیند کی نعمت گدوں، تکیوں یا کوٹھی بنگلوں کی فضا کے تابع نہیں ہے، یہ تو حق تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جو براہ راست اس کی طرف سے ملتی ہے۔ بعض اوقات مفلس کو بغیر کسی بستر تکیے کے، کھلی زمین پر یہ نعمت فراوانی سے دے دی جاتی ہے اور بعض اوقات سازوسامان والوں کو نہیں دی جاتی، ان کو خواب آ ور گولیاں کھا کر حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ گولیاں بھی کام نہیں کرتیں۔ پھر غور کرو کہ حق تعالیٰ نے ساری مخلوق کو یہ نعمت مفت اور بلا محنت دی ہے۔ پھر اس سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے اپنی رحمت کا ملہ سے اس نعمت کو جبری بنادیا ہے۔ انسان بعض اوقات کام کی کثرت سے مجبور ہو کر چاہتا ہے کہ رات بھر جاگتا رہے مگر رحمت حق اس پر جبراً نیند مسلط کر کے اس کو سلا دیتی ہے کہ دن بھر کی تھکان دور ہوجائے اور اس کے قویٰ مزید کام کے لیے تیز ہوجائیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 78:10

وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًاۙ Open ayah 78:10 in the Quran reader

اور رات کو پردہ پوش

[وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ : اور ہم نے بنایا رات کو ][ لِبَاسًا : ایک پردہ ]
Ayah 78:11

وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪ Open ayah 78:11 in the Quran reader

اور دن کو معاش کا وقت بنایا

[وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ : اور ہم نے بنایا دن کو ][ مَعَاشًا : زندگی گزارنے کا وقت ]
Ayah 78:12

وَّ بَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًاۙ Open ayah 78:12 in the Quran reader

اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے

[وَّبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ : اور ہم نے بنائے تمہارے اوپر ][ سَبْعًا شِدَادًا : سات مضبوط (آسمان)]
Ayah 78:13

وَّ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا۪ۙ Open ayah 78:13 in the Quran reader

اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا

[وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَاجًا : اور ہم نے بنایا ایک بہت روشن چراغ ] و ھ ج [ وَھْحًا : (ض) آگ یا سورج کا روشن ہونا ] [ وَھَاجٌ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ خوب روشن ہونے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 13 ۔] نوٹ 4: آیت ۔ 13 ۔ میں روشن چراغ سے مراد سورج ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے جس عظیم نشان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا قطر زمین کے قطر سے 109 گنا اور حجم زمین کے حجم سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا زیادہ بڑا ہے۔ اس کا درجۂ حرارت ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ ہے۔ زمین سے 9 کروڑ تیس لاکھ میل دور ہونے کے باوجود اس کی روشنی کا یہ حال ہے کہ انسان اگر برہنہ آنکھ سے اس کی طرف نظر جمانے کی کوشش کرے تو اپنی بینائی کھو بیٹھے۔ یہ اللہ ہی کی حکمت ہے کہ اس نے زمین کو اس سے ٹھیک اتنے فاصلے پر رکھا ہے کہ نہ اس سے بہت قریب ہونے کے باعث ہے انتہا گرم ہے اور نہ بہت دور ہونے کے باعث بےانتہا سرد۔ اسی وجہ سے یہاں انسان، حیوان اور نباتات کی زندگی ممکن ہوئی ہے۔ اسی سے قوت کے بےحساب خزانے نکل کر زمین پر پہنچ رہے ہیں۔ اسی سے فصلیں پک رہی ہیں اور ہر مخلوق کو غذا پہنچ رہی ہے۔ اسی کی حرارت سمندروں کے پانی کو گرم کر کے وہ بھاپیں اٹھاتی ہے جو ہوائوں کے ذریعہ سے زمین کے مختلف حصوں میں پھیلتی اور بارش کی شکل میں برستی ہیں۔ اس سورج میں اللہ تعالیٰ نے ایسی زبردست بھٹی سلگا رکھی ہے جو اربوں سال سے روشنی، حرارت اور مختلف اقسام کی شعاعیں سارے نظام شمسی میں پھینکے جا رہی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 78:14

وَّ اَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًاۙ Open ayah 78:14 in the Quran reader

اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی

[وَّانزَلْنَا مِنَ الْمُعْــصِرٰتِ : اور ہم نے اتارا بدلیوں میں سے ][ مَاۗءً ثَجَّاجًا : موسلا دھار پانی ] ث ج ج [ ثَجُوْجًا : (ن) پانی کا زور سے بہنا یا برسنا۔] [ تَجَّاجٌ فَعَّالٌ کے وزن پر مبالغہ ہے بہت زور سے بہنے ولا یا برسنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔]
Ayah 78:15

لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًاۙ Open ayah 78:15 in the Quran reader

تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی

[لِنُخْرِجَ بِهٖ : تاکہ ہم نکالیں اس سے ][ حَبًّا وَّنَبَاتًا : دانے اور سبزہ ]
Ayah 78:16

وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًاؕ Open ayah 78:16 in the Quran reader

اور گھنے باغ اگائیں؟

[وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا : اور کچھ گھنے باغات ]
Ayah 78:17

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ Open ayah 78:17 in the Quran reader

بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے

[ان يَوْمَ الْفَصْلِ : یقینا فیصلے کا دن ][ كَان مِيْقَاتًا : ہے ایک طے شدہ وقت ] نوٹ 1: یَوْمَ الْفَصْلِ سے مراد قیامت ہے۔ وہ ایک وقت اور متعین حد ہے جس پر یہ دنیا ختم ہوجائے گی جبکہ صور پھونکا جائے گا۔ اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخ صور دو مرتبہ ہوگا۔ پہلے نفخہ سے سارا عالم فنا ہوجائے گا اور دوسرے نفخہ سے پھر زندہ وقائم ہوجائے گا۔ اس دوسرے نفخہ کے وقت سارے عالم کے اگلے پچھلے انسان اپنے رب کے سامنے فوج در فوج ہو کر حاضر ہوں گے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ قیامت کے روز تین فوجوں میں تقسیم ہوں گے۔ ایک فوج ان لوگوں کی ہوگی جو پیٹ بھرے ہوئے لباس پہنے ہوئے سواریوں پر سوا ر میدان حشر میں آئیں گے، دوسری فوج پیادہ لوگوں کی ہوگی جو چل کر میدان میں آئیں گے اور تیسری فوج ان لوگوں کی ہوگی جن کو چہروں کے بل گھسیٹ کر میدان حشر میں لایا جائے گا۔ بعض روایات میں افواج کی تشریح دس قسم کی افواج سے کی گئی ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ حاضرین محشر کی بیشمار جماعتیں اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے ہوں گی۔ ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں، سب جمع ہوسکتے ہیں، (معارف القرآن)
Ayah 78:18

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ Open ayah 78:18 in the Quran reader

جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے

[يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ : جس دن پھونکا جائے گا صور میں ][ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا : تو تم لوگ آئو گے فوج در فوج ]
Ayah 78:19

وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ Open ayah 78:19 in the Quran reader

اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا

[وَّفُتِحَتِ السَّمَاۗءُ : اور کھولا جائے گا آسمان ][ فَكَانتْ اَبْوَابًا : تو وہ ہوگا دروازے دروازے ]
Ayah 78:20

وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ Open ayah 78:20 in the Quran reader

اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے

[وَّسُيِّرَتِ الْجبالُ : اور چلایا جائے گا پہاڑوں کو ][ فَكَانتْ سَرَابًا : تو وہ ہوں گے چمکتی ریت ]
Ayah 78:21

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ Open ayah 78:21 in the Quran reader

درحقیقت جہنم ایک گھات ہے

[ان جَهَنَّمَ كَانتْ مِرْصَادًا : بیشک جہنم ہے گھات لگانے کا مستقل ٹھکانہ ]
Ayah 78:22

لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًاۙ Open ayah 78:22 in the Quran reader

سرکشوں کا ٹھکانا

[لِلطَّاغِيْنَ مَاٰبًا : سرکشی کرنے والوں کے لیے واپس ہونے کی جگہ ہوتے ہوئے ]
Ayah 78:23

لّٰبِثِیْنَ فِیْهَاۤ اَحْقَابًاۚ Open ayah 78:23 in the Quran reader

جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

[لّٰبِثِيْنَ فِيْهَآ اَحْقَابًا : رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں مدتوں ] نوٹ 2: آیت 23 ۔ میں ہے کہ وہ لوگ اس میں مدتوں رہنے والے ہیں۔ مدتوں کے لیے لفظ احقاب استعمال کیا گیا ہے (یہ جمع الجمع ہے۔ اس کا واحد حُقْبٌ ہے۔ اس کی جمع حُقُبٌ ہے اور اس کی جمع اَحْقَابٌ ہے۔ مرتب) جس کے معنی ہیں پے در پے آنے والے طویل زمانے۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی ہوگی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہوگی کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں لیکن بہرحال کبھی نہ کبھی جا کر ختم ہوجائیں گی۔ لیکن یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ عربی لغت کے لحاظ سے حقب کے لفظ ہی میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ایک حقب کے پیچھے دوسرا حقب ہو۔ اس لیے احقاب لازماً ایسے ادوار ہی کے لیے بولا جائے گا جو پے در پے ایک دوسرے کے بعد آتے چلے جائیں اور کوئی دور بھی ایسا نہ ہو جس کے پیچھے دوسرا دور نہ آئے۔ دوسرے یہ کہ کسی موضوع کے متعلق قرآن مجید کی کسی آیت سے کوئی ایسا مفہوم لینا اصولاً غلط ہے جو اسی موضوع کے بارے میں قرآن کے دوسرے بیانات سے متصادم ہو۔ قرآن میں 34 مقامات پر اہل جہنم کے لیے خلود (ہمیشگی) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ایک جگہ صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ وہ چاہیں گے کہ جہنم سے نکل جائیں مگر وہ اس سے ہرگز نکلنے والے نہیں ہیں۔ (المائدہ۔ 37) ان تصریحات کے بعد لفظ احقاب کی بنیاد پر یہ کہنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ جہنم میں خدا کے باغیوں کا قیام دائمی نہیں ہوگا۔ (تفہیم القرآن) یہ بات اس لیے بھی غلط ہے کہ زبان سمجھنے کا طریقہ یہ ہے کہ مجمل کی شرح مفصل کی روشنی میں کرتے ہیں نہ کہ مفصل کی شرح مجمل کی روشنی میں۔ خَالِدِیْنَ فِیْھَا اَبْدَا کے الفاظ ظاہر ہے کہ مفصل ہیں اور لفظ اَحْقَابْ مجمل ہے۔ اس مجمل کو مفصل کی روشنی میں سمجھیں گے نہ کہ اس کے برعکس (تدبر قرآن)
Ayah 78:24

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ Open ayah 78:24 in the Quran reader

اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے

[لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا : وہ لوگ نہیں چکھیں گے اس میں ][ بَرْدًا وَّلَا شرابا : کوئی ٹھندک اور نہ کوئی پینے کی چیز ]
Ayah 78:25

اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًاۙ Open ayah 78:25 in the Quran reader

کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون

[اِلَّا حَمِيْمًا وَّغَسَّاقًا : سوائے گرم پانی اور پیپ کے ]
Ayah 78:26

جَزَآءً وِّفَاقًاؕ Open ayah 78:26 in the Quran reader

(اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ

[جَزَاۗءً وِّفَاقًا : جیسے کا تیسا بدلہ ہوتے ہوئے ]
Ayah 78:27

اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ Open ayah 78:27 in the Quran reader

وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے

[انهُمْ كَانوْا لَا يَرْجونَ حِسَابًا : بیشک یہ لوگ توقع نہیں کیا کرتے تھے کسی محاسبہ کی ]
Ayah 78:28

وَّ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابًاؕ Open ayah 78:28 in the Quran reader

اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلا دیا تھا

[وَّكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا : اور انھوں نے جھٹلایا ہماری نشانیوں کو ][ كِذَّابًا : بہت زیادہ جھٹلاتے ہوئے ]
Ayah 78:29

وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ كِتٰبًاۙ Open ayah 78:29 in the Quran reader

اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی

[وَكُلَّ شَيْءٍ : اور ہر چیز کو،][ اَحْصَيْنٰهُ : ہم نے احاطہ کیا اس کا ][ كِتٰبًا : بطور لکھی ہوئی ہونے کے ]
Ayah 78:30

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا۠ Open ayah 78:30 in the Quran reader

اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے

[فَذُوْقُوْا : پس تم لوگ چکھو ][ فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ : تو ہم ہرگز زیادہ نہیں کریں گے تم کو ][ اِلَّا عَذَابًا : مگر بلحاظ عذاب کے ]
Ayah 78:31

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ Open ayah 78:31 in the Quran reader

یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے

[ان لِلْمُتَّقِيْنَ : یقینا متقی لوگوں ہی کے لیے ][ مَفَازًا : مراد پانے کی ایک جگہ ہے ] ترکیب : (آیت۔ 31) مَفَازًا مبتدا مؤخر نکرہ ہے اور اِنَّ کا اسم ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے جو مَرْجُوْدٌ ہوسکتی ہے۔ لِلْمُتَّقِیْنَ قائم مقام خبر مقدم ہے۔
Ayah 78:32

حَدَآئِقَ وَ اَعْنَابًاۙ Open ayah 78:32 in the Quran reader

باغ اور انگور

[حَدَاۗىِٕقَ وَاَعْنَابًا : باغیچے ہیں اور انگور ہیں ]
Ayah 78:33

وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًاۙ Open ayah 78:33 in the Quran reader

اور نوخیر ہم سن لڑکیاں

[وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا : اور نوخیز ہم جولیاں ہیں ] (آیت۔ 23 تا 34) ۔ ان آیات کے الفاظ سابقہ آیت کے اِنَّ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں،
Ayah 78:34

وَّ كَاْسًا دِهَاقًاؕ Open ayah 78:34 in the Quran reader

اور چھلکتے ہوئے جام

[وَّكَاْسًا دِهَاقًا : اور چھلکتے جام ہیں ] د ھ ق [دَھْقًا : (ف) پیالہ بھرنا۔ پانی کو زور سے گرانا۔] [ دِھَاقٔ لبالب بھرا ہوا پیالہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 34 ۔]
Ayah 78:35

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا كِذّٰبًاۚ Open ayah 78:35 in the Quran reader

وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے

[لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا : وہ لوگ نہیں سنیں گے اس میں ][ لَغْوًا وَّلَا كِذّٰبًا : کوئی بےسود بات اور نہ کوئی جھٹلانا ] (آیت۔ 35) ۔ لَغْوًا اور کِذَّابًا، لا یَسْمَعُوْنَ کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Ayah 78:36

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ Open ayah 78:36 in the Quran reader

جزا اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے

[جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِكَ : بدلہ ہوتے ہوئے آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ][ عَطَاۗءً حِسَابًا : حساب کی ہوئی بخشش ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 36) ۔ جَزَائً اور عَطَائً حِسَابًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔ نوٹ 1: آیت۔ 36 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اوپر جنت کی جن نعمتوں کا ذکر آیا ہے یہ جزاء ہے مومنین کے لیے اور عطاء ہے ان کے رب کی طرف سے یہاں ان نعمتوں کو پہلے جزائے اعمال بتلایا گیا پھر عطائے ربانی۔ بظاہر ان دونوں میں تضاد ہے۔ جزاء اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے بدلے میں ہو۔ اور عطاء وہ ہے جو بلا کسی بدلے کے بطور انعام ہو۔ قرآن کریم نے ان دونوں لفظوں کو ایک جگہ جمع کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت میں داخل ہونا اور اس کی نعمتیں صرف صورت اور ظاہر کے اعتبار سے اہل جنت کے اعمال کی جزاء ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ خالص عطائے ربانی ہے، کیونکہ انسانی اعمال تو ان نعمتوں کا بھی بدلہ نہیں بن سکتے جو ان کو دنیا میں دے دی گئیں۔ اس لیے آخرت میں نعمتوں کا ملنا تو صرف حق تعالیٰ کا انعام اور عطائے محض ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے عمل سے جنت میں نہیں جاسکتا جب تک حق تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔ صحابۂ کرام ؓ نے عرض کیا کہ کیا آپ 1 بھی۔ آپ 1 نے فرمایا کہ ہاں میں بھی اپنے عمل سے جنت میں نہیں جاسکتا۔ لفظ حِسَابًا کے دو معنی کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ ایسی عطاء جو اس کی تمام ضرورتوں کے لیے کافی ہو۔ اور اس لفظ کے دوسرے معنی حساب کے موازنہ اور مقابلہ کے لیے بھی آتے ہیں۔ اس معنی میں آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ عطائے ربانی اہل جنت پر ان کے اعمال کے حساب سے مبذول ہوگی۔ اس عطاء میں درجات بحساب اخلاص اور احسانِ عمل کے ہوں گے جیسا کہ احادیث میں صحابہ کرام ؓ کے اعمال کا درجہ باقی امت کے اعمال کے مقابلے میں یہ قرار دیا ہے کہ صحابی اگر اللہ کی راہ میں ایک مد یعنی ایک سیر خرچ کرے اور غیر صحابی احد پہاڑ کے برابر خرچ کرے تو صحابی کا ایک مُد اس پہاڑ سے بڑھا ہوا رہے گا۔ (معارف القرآن) مورخہ 23 ۔ جمادی الثانی 1431 ھ بمطابق 7 ۔ جون 2010 ء
Ayah 78:37

رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ Open ayah 78:37 in the Quran reader

اُس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں

[رَّبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ][ وَمَا بَيْنَهُمَا : اور اس کا جو ان دونوں کے درمیان ہے ][ الرَّحْمٰنِ : جو انتہائی رحمت والا ہے ][ لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا : لوگ اختیار نہیں رکھتے اس سے خطاب کرنے کا ] (آیت۔ 37) اس آیت میں رَبِّ اور اَلرَّحْمٰنِ ، یہ دونوں گزشتہ آیت کے رَبِّکَ کا بدل ہونے کی وجہ سے حالت جرمہ میں ہیں۔
Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے

[يَوْمَ يَقُوْمُ : جس دن کھڑے ہوں گے ][ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ : وہ روح (جبریل (علیہ السلام) ) اور سارے فرشتے ][ صَفًّا : صف بنائے ہوئے ][ ٷ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ : لوگ بول نہیں پائیں گے سوائے اس کے ][ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ : اجازت دے گا جس کے لیے رحمن ][ وَقَالَ صَوَابًا : اور وہ کہے گا بےلاگ بات ]
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے

[ذٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۚ: یہ ہوگا وہ برحق دن ][ فَمَنْ شَاۗءَ : تو (اب) جس کا جی چاہے ][ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِهٖ مَاٰبًا : وہ بنا لے اپنے رب کی طرف واپس ہونے کی ایک جگہ ]
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آ لگا ہے جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا

[انآ انذَرْنٰكُمْ : بیشک ہم نے خبردار کردیا تم لوگوں کو ][ عَذَابًا قَرِيْبًا : ایک قریبی عذاب سے ][ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ : جس دن دیکھ لے گا ہر آدمی ][ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ : اس کو جو آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے ][ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ : اور کہے گا ہر کافر ][ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا : اے کاش میں ہوتا کوئی مٹی ] (آیت۔ 40) اَلْمَرْئُ اور اَلکَافِرُ دونوں پر لام جنس ہے۔