77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 77:1

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے اُن (ہواؤں) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں

[وَالْمُرْسَلٰتِ : قسم ہے بھیجی جانے والیوں (ہوائوں) کی ] [عُرْفًا : بھلائی ہوتے ہوئے ] نوٹ 1: اس سورت میں حق تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسمیں کھا کر قیامت کے یقینی طور پر آنے کا ذکر فرمایا ہے۔ ان چیزوں کا نام بیان کرنے کے بجائے ان کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ مرسلات۔ عاصفات۔ ناشرات۔ فارقات اور ملقیت الذکر۔ کسی حدیث میں بھی یہ تعین نہیں ہے کہ یہ کن چیزوں کی صفات ہیں۔ اس لیے صحابہ اور تابعین کی تفسیریں اس معاملہ میں مختلف ہوگئیں۔ بعض حضرات نے ان پانچوں صفات کا موصوف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور بعض نے ان کا موصوف ہوائوں کو قرار دیا ہے۔ جبکہ بعض حضرات نے ان کا موصوف انبیاء ورسل کو قرار دیا ہے۔ ابن کثیر (رح) نے فرمایا کہ شروع کی تین صفات ہوائوں کے لیے ہیں۔ ان تین میں ہوائوں کی قسم ہے۔ باقی دو صفتیں فرشتوں کے لیے ہیں تو یہ فرشتوں کی قسم ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 77:2

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں

[فَالْعٰصِفٰتِ : پھر قسم ہے جھونکا دینے والیوں کی ] [عَصْفًا : جیسے جھونکا دیتے ہیں ]
Ayah 77:3

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور (بادلوں کو) اٹھا کر پھیلاتی ہیں

[وَّالنّٰشِرٰتِ : اور قسم ہے پھیلانے والیوں کی ] [نَشْرًا : جیسے پھیلاتے ہیں ]
Ayah 77:4

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر (اُن کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں

[فَالْفٰرِقٰتِ : پھر قسم ہے الگ الگ کرنے والیوں کی ] [فَرْقًا : جیسے الگ الگ کرتے ہیں ]
Ayah 77:5

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر (دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں

[فَالْمُلْقِيٰتِ : پھر قسم ہے سامنے کرنے والیوں کی ] [ذِكْرًا : یاددہانی کو ]
Ayah 77:6

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر

[عُذْرًا : عذر ختم کرنے کے لیے ] [اَوْ نُذْرًا : یا خبردار کرنے کے لیے ]
Ayah 77:7

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے

[انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [تُوْعَدُوْنَ : جو تم لوگوں سے وعدہ کیا جاتا ہے ] [لَوَاقِـعٌ: یقینا واقع ہونے والا ہے ]
Ayah 77:8

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے

[فَاِذَا النُّجومُ طُمِسَتْ : پھر جب ستارے مٹا دیئے جائیں گے ]
Ayah 77:9

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا

[وَاِذَا السَّمَاۗءُ فُرِجَتْ : اور جب آسمان میں شگاف ڈالے جائیں گے ] نوٹ 2: ان آیات میں بارش لانے والی ہوائوں کی ترتیب یہ بیان کی گئی کہ پہلے پے در پے ہوائیں چلتی ہیں، پھر آندھی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں، پھر بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں، پھر انھیں پھاڑ کر جدا کرتی ہیں۔ اس کے بعد بارش کے نزول کا ذکر کرنے کے بجائے یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی یاد دلوں میں ڈالتی ہیں، عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر اگر ایک مدت تک بارش نہ ہوئی ہو اور لوگ پانی کے قطرے قطرے کو ترس رہے ہوں تو اس موقع پر کٹے سے کٹا کافر بھی خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اگر معمولی قحط ہو تو عام آدمی جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ دور نہیں ہے، وہ تو اللہ کو یاد کرے گا لیکن دوسرے لوگ (یعنی اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشور لوگ) سائنس بکھاریں گے اور کہیں گے کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے، فلاں فلاں اسباب سے بارش نہیں ہو رہی ہے، اتنی سی بات پر دعائیں مانگنے لگنا ضعیف الاعتقادی ہے۔ البتہ اگر طویل مدت تک قحط برپا رہے تو بڑے سے بڑے کافر کو خدا یاد آنے لگتا ہے۔ اور خدا سے دعا مانگتے ہیں کہ جو ہوائیں بادل اٹھا کر لا رہی ہیں ان سے پورے ملک میں بارش ہوجائے۔ یہ ہے عذر کے طور پر دلوں میں خدا کی یاد کا القائ۔ رہا نذر (ڈراوے) کے طور پر اس کا القاء تو یہ اس وقت ہوتا ہے جب آندھی طوفان عظیم بن جائے یا بارش اس قدر زور دار ہو کہ سیلاب بلا بن جائے اپنے وقت میں مضبوط سے مضبوط دل کا منکر بھی خدا کے آگے گڑگڑانے لگتا ہے اور اس وقت طوفان یا سیلاب کی ساری سائنٹیفیک توجیہات اس کے نہاں خانۂ دماغ سے فرار اختیار کر جاتی ہیں۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6، ص 579)
Ayah 77:10

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے

[وَاِذَا الْجبالُ نُسِفَتْ : اور جب پہاڑوں کو اکھاڑ کر اڑا دیا جائے گا ]
Ayah 77:11

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور رسولوں کی حاضری کا وقت آ پہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہو جائے گی)

[وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ : اور جب تمام رسول اکٹھا کیے جائیں گے ]
Ayah 77:12

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟

[لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْ : کس دن کے لیے مدت مقرر کی گئی ]
Ayah 77:13

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

فیصلے کے روز کے لیے

[لِيَوْمِ الْفَصْلِ : فیصلہ کرنے کے دن کے لیے ]
Ayah 77:14

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ : اور تو کیا جانے کیا ہے فیصلہ کرنے کا دن ]
Ayah 77:15

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے جس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]
Ayah 77:16

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

[اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِيْنَ : کیا ہم نے ہلاک نہیں کیا پہلوں کو ]
Ayah 77:17

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے

[ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ : پھر ہم ان کے پیچھے بھیجتے ہیں ] [الْاٰخِرِيْنَ : بعد والوں کو ]
Ayah 77:18

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں

[كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ : اس کے جیسا ہی ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ ]
Ayah 77:19

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے جس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]
Ayah 77:20

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا

[اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَاۗءٍ مَّهِيْنٍ : کیا ہم نے پیدا نہیں کیا تم کو ایک حقیر پانی سے ]
Ayah 77:21

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

اور ایک مقررہ مدت تک،

[فَجَــعَلْنٰهُ : پھر ہم نے رکھا اس (پانی) کو ] [فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ : ایک مضبوط ٹھکانے میں ]
Ayah 77:22

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟

[اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ : ایک طے شدہ اندازے (مدت) تک ]
Ayah 77:23

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں

[فَقَدَرْنَا : پھر ہم قابو یافتہ رہے ] [فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ : تو ہم کیا ہی اچھے قابو پانے والے ہیں ]
Ayah 77:24

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]
Ayah 77:25

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا

[اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا : کیا ہم نے نہیں بنایا زمین سمیٹنے کے لیے ] کت [کَفْتًا : (ض) ] کسی چیز کو جمع کر کے اپنے قبضہ میں لے لینا۔ سمیٹنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 25 ۔
Ayah 77:26

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی

[اَحْيَاۗءً : زندوں کو (اپنی پیٹھ پر)] [وَّاَمْوَاتًا : اور مردوں کو (اپنے پیٹ میں)]
Ayah 77:27

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟

[وَّجَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ شٰمِخٰتٍ : اور ہم نے بنائے اس میں اونچے پہاڑ ] [وَّاَسْقَيْنٰكُمْ مَاۗءً فُرَاتًا : اور ہم نے پینے کے لیے دیا تم کو شیریں پانی ] ش م خ [شَمْخًا : (ف) ] بلند ہونا۔ شَامِخَۃٌ اسم الفاعل کے وزن پر صفت ہے۔ بلند ہونے والی یعنی بلند۔ زیر مطالعہ آیت۔ 27 ۔
Ayah 77:28

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]
Ayah 77:29

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

چلو اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

[انــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا : تم لوگ چلو اس کی طرف ] [كُنْتم بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ : تم لوگ جس کو جھٹلایا کرتے تھے جس کو ]
Ayah 77:30

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

چلو اُس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے

[انـطَلِقُوْٓا اِلٰى ظِلٍّ : تم لوگ چلو ایک ایسے سائے کی طرف جو ] [ذِيْ ثَلٰثِ شُعَبٍ : تین شاخوں والا ہے ]
Ayah 77:31

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا

[لَّا ظَلِيْلٍ : جو نہ گھنی چھائوں ہے ] [وَّلَا يُغْنِيْ : اور جو فائدہ نہیں پہنچائے گا ] [مِنَ اللَّهَبِ : آگ کی لپٹ سے ] ل ھـ ب [لَھْبًا : (ف) ] آگ کا بھڑکنا۔ لَھَبٌ آگ کا شعلہ، بلند غبار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔
Ayah 77:32

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی

[انهَا تَرْمِيْ : بیشک وہ (آگ) پھینکتی ہے ] [بِشَرَرٍ : ایسی چنگاریاں جو ] [كَالْقَصْرِ : محل کے مانند ہیں ]
Ayah 77:33

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

(جو اچھلتی ہوئی یوں محسوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں

[كَانهٗ : جیسے کہ وہ (چنگاریاں)] [جِمٰلَتٌ صُفْرٌ: زرد اونٹ ہوں ]
Ayah 77:34

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ]
Ayah 77:35

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے

[هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ : یہ ان کے نہ بول سکنے کا دن ہے ] نوٹ 1: آیت۔ 35 ۔ 36 میں ایک ایسے دن کا ذکر ہے جب کافر لوگ نہ بول سکیں گے نہ کوئی عذر پیش کریں گے۔ یہ ان کی آخری حالت ہوگی جو جہنم میں داخلہ کے وقت ان پر طاری ہوگی۔ اس سے پہلے میدان حشر میں تو یہ لوگ بہت کچھ کہیں گے، بہت سی معذرتیں پیش کریں گے، ایک دوسرے پر اپنے قصوروں کا الزام ڈال کر خود بےقصور بننے کی کوشش کریں گے، اپنے گمراہ کرنے والے سرداروں اور پیشوائوں کو گالیاں دیں گے حتیٰ کہ بعض لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے جرائم کا انکار تک کر گزریں گے جیسا کہ قرآن مجید میں متعد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مگر جب تمام شہادتوں سے ان کا مجرم ہونا ثابت کردیا جائے گا اور جب ان کے ہاتھ پائوں اور ان کے اعضاء تک ان کے خلاف گواہی دے کر ثبوت جرم میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے تو ان کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ عذر پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صفائی کا موقع دیئے بغیر ان کے خلاف فیصلہ صادر کردیا جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جرم اس طرح قطعی حد تک ثابت کردیا جائے گا کہ ان کے لیے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہے گی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میں نے اس کو بولنے نہیں دیا یا میں نے اس کی زبان (بولتی) بند کردی۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے اس پر ایسی حجت تمام کی کہ اس کے لیے زبان کھولنے کا کوئی موقع باقی نہ رہا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 77:36

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عذر پیش کریں

[وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ : اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو ] [فَيَعْتَذِرُوْنَ : پس وہ معذرت نہ کرسکیں گے ] ترکیب : (آیت۔ 46) وَلَایُؤْذَنُ لَھُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ میں نون اعرابی کی موجودگی بتارہی ہے کہ اس کا فاسببیہ نہیں ہے۔ اگر یہ فاسببیہ ہوتا تو فَیَعْتَذِرُوْا آتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ فاعاطفہ ہے جو لَایُؤْذَنُ پر عطف ہے۔ ترجمہ میں اس کا لحاظ کرنا ہوگا۔ فا سببیہ کے طور پر جو ترجمے کیے گئے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ (حافظ حمد یار صاحب مرحوم)
Ayah 77:37

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے ]
Ayah 77:38

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہ فیصلے کا دن ہے ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے

[هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ : یہ فیصلہ کرنے کا دن ہے ] [جَمَعْنٰكُمْ وَالْاَوَّلِيْنَ : ہم نے جمع کیا تم کو اور پہلوں کو ]
Ayah 77:39

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو

[فَان كَان لَكُمْ كَيْدٌ: پھر اگر ہے تمہاری کوئی چالبازی ] [فَكِيْدُوْنِ : تو تم لوگ چالبازی کرو مجھ سے ]
Ayah 77:40

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

[وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ : تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے ]