Ayah 76:1[هَلْ اَتٰى عَلَي الْانسَان : کیا پہنچا (گزرا) انسان پر ] [حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ : کوئی ایسا وقت زمانے میں سے ] [لَمْ يَكُنْ : جب وہ تھا ہی نہیں ] [شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا : کوئی ذکر کی جانے والی چیز ]
نوٹ 1: اکثر مفسرین نے یہاں ھَلْ کو قَدْ کے معنی میں لیا ہے اور وہ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ بیشک انسان پر ایسا ایک وقت آیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظ ھَلْ عربی زبان میں ” کیا “ کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے۔ اور اس سے مقصود ہر حال میں سوال ہی نہیں ہوتا بلکہ مختلف مواقع پر یہ بظاہر سوالیہ لفظ مختلف معانی میں بولا جاتا ہے۔ مثلاً کبھی ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فلاں واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں تو پوچھتے ہیں کہ کیا یہ واقعہ ہوا ہے ؟ کبھی ہمارا مقصود سوال نہیں بلکہ کسی بات کا انکار کرنا ہوتا ہے اور یہ انکار ہم اس انداز میں کرتے ہیں کہ کیا یہ کام کوئی اور بھی کرسکتا ہے۔ (یعنی نہیں کرسکتا) ۔ کبھی ہم کسی بات کا اقرار کرانا چاہتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ کیا میں نے تمہاری رقم ادا کردی۔ اور کبھی ہمارا مقصود محض اقرار ہی کرانا نہیں ہوتا بلکہ سوال ہم اس غرض سے کرتے ہیں کہ مخاطب کے ذہن کو ایک اور بات سوچنے پر مجبور کردیں جو لازماً اقرار کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً ہم کسی سے پوچھتے ہیں کہ کیا میں نے تمہارے ساتھ کوئی برائی کی ہے۔ اس سے مقصود صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس بات کا اقرر کرے کہ آپ نے اس کے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ہے، بلکہ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے کہ جس نے میرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی اس کے ساتھ میں برائی کرنے میں کہاں تک حق بجانب ہوں۔ آیت زیر بحث میں سوالیہ فقرہ دراصل اسی آخری معنی میں ارشاد ہوا ہے۔ اس سے مقصود انسان سے صرف یہی اقرار کرانا نہیں ہے کہ فی الواقعہ اس پر ایک ایسا وقت گزرا ہے، بلکہ یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہے کہ جس خدا نے اس کی تخلیق کا آغاز ایسی حقیر سی حالت سے کر کے اسے پورا انسان بنا کھڑا کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے سے آخر کیوں عاجز ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 76:2[انا خَلَقْنَا الْانسَان : بیشک ہم نے پیدا کیا انسان کو ] [مِنْ نُّطْفَةٍ : ایک ایسی بوند سے جو ] [اَمْشَاجٍ : ملی جلی چیزوں سے تھی ] [نَّبْتَلِيْهِ : ہم (رحم مادر میں) الٹتے پلٹتے رہے اس (انسان) کو ] [فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا : پھر ہم نے بنایا اس کو سننے والا دیکھنے والا ]
م ش ج
[مَشْجًا : (ن) ] خلط ملط کرنا۔ ملانا۔
مَشِیْجٌ ج اَمْشَاجٌ مخلوط۔ ملا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔
نوٹ 2: مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ میں لفظ اَمْشَاجٍ جمع ہے مَشِیْجٌ کی (جبکہ نُطْفَۃٍ واحد ہے) اس کے معنی ملی جلی اور مخلوط چیز کے ہیں۔ اَمْشَاجٍ اگرچہ جمع ہے لیکن یہ ان الفاظ میں سے ہے جو جمع ہونے کے باوجود مفرد الفاظ کی صفت کے طور پر آئے ہیں۔ (تدبر قرآن)
اِمْشَاجٌٔ کے معنی مخلوط کے آتے ہیں اور یہاں ظاہر یہ ہے کہ مرد وزن کا مخلوط نطفہ مراد ہے جیسا کہ اکثر مفسرین نے فرمایا ہے۔ اور روح المعانی میں بعض مفسرین سے نقل کیا ہے کہ امشاج سے مراد اخلاطِ اربعہ یعنی خون، بلغم، سودا اور صفراء ہیں جن سے نطفہ مرکب ہوتا ہے۔ اور اگر غور کیا جائے تو یہ اخلاطِ اربعہ بھی اقسام غذا سے حاصل ہوتے ہیں۔ اور ہر انسان کی غذا میں غور کیا جائے تو اس میں دور دراز ملکوں اور خطوں کی آب وہوا کے اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک انسان کے موجودہ جسم کا تجزیہ اور تحلیل کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ ایسے اجزاء اور ذرات کا مجموعہ ہے جو دنیا کے گوشے گوشے میں بکھرے ہوئے تھے۔ قدرت کے نظام عجیب نے حیرت انگیز طریقہ پر ان کو اس کے وجود میں سمویا ہے۔ اگر امشاج کا یہ مطلب لیا جائے تو اس جگہ لفظ امشاج کے ذکر سے منکرین قیامت کے سب سے بڑے شبہ کا ازالہ بھی ہوجائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک قیامت قائم ہونے اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے میں سب سے بڑا اشکال یہی ہے کہ انسان مر کر مٹی اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر دنیا میں بکھر جاتا ہے، ان کو دوبارہ جمع کرنا پھر ان میں روح ڈالنا ان کے نزدیک گویا ناممکن ہے۔ امشاج کی اس تفسیر میں ان کے اس شبہ کا واضح جواب ہے کہ ابتدائی تخلیق انسانی میں بھی تو دنیا بھر کے اجزاء و ذرات شامل تھے۔ جس کو یہ ابتدائی تخلیق مشکل نہ ہوئی اس کے لیے اس کا دوبارہ پیدا کرنا کیوں مشکل ہوگیا۔ اس طرح اس جگہ لفظ امشاج کا اضافہ ایک مستقل فائدہ کے لیے ہوسکتا ہے۔ (معارف القرآن) ۔ کیوں کہ لفظ امشاج کے بغیر صرف لفظ نطفہ سے بھی بات مکمل ہوجاتی ہے۔ اس کے باوجود اگر اس پر لفظ امشاج کا اضافہ کیا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ زیب داستان کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا کوئی مقصد ہے۔ (مرتب)
نَبْتَلِیْہِ کو عام طور پر لوگوں نے بیان علت کے مفہوم میں لیا ہے، یعنی ہم نے انسان کو آزمانے کے لیے پیدا کیا۔ لیکن یہ اگر علت کے مفہوم میں ہوتا تو اس پر لام علت آنا تھا حالانکہ یہ حال کی صورت میں ہے اور حال کا مفہوم علت کے مفہوم سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ حال ہی کے مفہوم میں سے اور مطلب اس کا یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اسی طرح (یعنی اس حال میں۔ مرتب) پیدا کیا کہ درجہ بدرجہ اس کو مختلف اطوار و مراحل سے گزارتے ہوئے ایک سمیع وبصیر مخلوق کے درجے تک پہنچا دیا۔ ابتلاء کے معنی لغت میں جانچنے پرکھنے کے ہیں۔ آدمی جب کسی چیز کو جانچتا ہے تو اس کو مختلف پہلوئوں سے الٹ پلٹ کر اور ٹھونک بجا کر دیکھتا ہے۔ یہیں سے اس کے اندر ایک طور سے گزار کر دوسرے طور میں لے جانے کا مفہوم پیدا ہوا۔ یہاں یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔
انسان کی تخلیق جن اطوارومراحل سے گزر کر مرتبۂ تکمیل تک پہنچتی ہے اس کی وضاحت قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوئی ہے۔ مثلاً سورة حج کی آیت۔ 5 ۔ میں ہے کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر ایک نطفہ سے پھر خون کی ایک پھٹکی سے پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، کوئی تمام اور کوئی ناتمام۔ پھر ہم رحموں میں ٹھہراتے ہیں جتنا چاہتے ہیں ایک مدت معین تک پھر ہم تم کو بچے کی صورت میں باہر لاتے ہیں پھر ہم تم کو پروان چڑھاتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔ انہی اطوار و مراحل کی تفصیل سورة مومنون کی آیات۔ 12 تا 14 ۔ میں یوں آئی ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا مٹی کے جوہر سے پھر ہم نے اس کو رکھا ایک نطفہ کی صورت میں ایک محفوظ ٹھکانے میں پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کی پھٹکی کی شکل دی پھر خون کی پھٹکی کو مضغۂ گوشت بنایا پھر گوشت میں ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا پھر اس کو ایک بالکل دوسری ہی مخلوق کی صورت میں کھڑا کردیا۔
ان آیات میں جن اطوار و مراحل کی تفصیل ہے انہی کی طرف آیت زیر بحث میں اجمال کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے اور انہی مراحل سے درجہ بدرجہ گزارنے کے لیے لفظ نَبْتَلِیْہِ آیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس قطرے کو گہر ہونے تک بہت سے مرحلے طے کرنے پڑے ہیں اور ہر مرحلہ میں قدرت نے اس کو اچھی طرح جانچا پرکھا ہے کہ جس دور میں جو صلاحیت اس کے اندر پیدا ہونی چاہیے وہ پیدا ہوگئی یا نہیں۔ پھر وہ دور آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو سمع وبصر کی اعلیٰ صفات سے متصف ہستی بنادیا۔ یہاں پر سَمِیْعًا بَصِیْرًا انسان کی تمام اعلیٰ صفات کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ انہی صفات کے فیض سے انسان کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت پیدا ہوئی اور وہ اس قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس کا امتحان کرے کہ وہ خیر کی راہ اختیار کر کے اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنتا ہے یا شر کی راہ اختیار کر کے ناشکرا بن جاتا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ بھی نکلنا لازمی ہے ورنہ اس سارے اہتمام کا کیا مقصد جو انسان کی پیدائش کے لیے قدرت نے کیے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ 3: کوئی نیک کام کرنے کا عہد کرلینے کو نذر (منت) کہتے ہیں۔ وفادار بندوں (ابرار) کے اوصاف میں ایفائے نذر کو خاص طور سے نمایاں کیا گیا ہے۔ جو لوگ ایسی نذروں کو پورا کرنے کا بھی اہتمام کریں جو انہوں نے بطور خود اپنے اوپر واجب کی ہوں، ان سے ایسی نیکیوں کے اہتمام کی توقع بدرجۂ اولیٰ ہے جو ان کے رب نے ان پر واجب ٹھہرائی ہیں۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نذر کی اہمیت سابق ادیان میں بھی بہت رہی ہے اور عرب جاہلیت میں بھی اس کا بڑا اہتمام تھا۔ عربوں کے اندر اس کی زیادہ تر وجہ یہ تھی کہ دین کے طریقے ان کو واضح طور پر معلوم نہیں تھے اس لیے ان کے نیک لوگ نذروں کے ذریعے سے اس خلا کو بھرتے تھے۔ اسلام کے آجانے کے بعد جب شریعت کے اصول و فروع لوگوں کو معلوم ہوگئے تو اس کا دائرہ محدود ہوگیا۔ وہ نذریں جو مشرکانہ نوعیت کی تھیں، وہ تو بالکل ہی ختم کردی گئیں۔ جو نذریں تکلف مالایطاق نوعیت کی تھیں، وہ بھی یا تو منوع قرار پا گئیں یا ان کی اصلاح کردی گئی۔ یہ سورة چونکہ اس دور کی ہے جب شریعت کے احکام و آداب تفصیل سے معلوم نہیں ہوئے تھے، اس وجہ سے اس میں اس کا ذکر خاص اہمیت سے ہوا ہے۔ بعد میں جب شریعت کا پورا میثاق نازل ہوگیا تو اس کا دائرہ نہایت محدود ہوگیا۔ (تدبر قرآن)
فقہاء نے نذر کی چار قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اللہ سے یہ عہد کرے کہ وہ اس کی رضا کی خاطر فلاں نیک کام کرے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ اس بات کی نذر مانے کہ اگر اللہ نے میری فلاں حاجت پوری کردی تو میں شکرانے میں فلاں نیک کام کروں گا۔ ان دونوں قسم کی نذروں پر اتفاق ہے کہ اسے پورا کرنا واجب ہے۔ تیسرے یہ کہ آدمی کوئی ناجائز کام کرنے یا کوئی واجب کام نہ کرنے کا عہد کرلے۔ چوتھے یہ کہ آدمی کوئی مباح کام کرنے کو اپنے اوپر لازم کرلے یا کوئی مستحب کام نہ کرنے کا عہد کرلے۔ تیسری قسم کی نذر کے متعلق اتفاق ہے کہ وہ منعقد ہی نہیں ہوتی۔ چوتھی قسم کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے پورا کرنا چاہیے۔ بعض کہتے ہیں کہ قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ آدمی کو اختیار ہے، خواہ نذر پوری کر دے یا کفارہ ادا کر دے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 76:3[انا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ : بیشک ہم سجھا دیا اس کو یہ راستہ ] [اِمَا شَاكِرًا وَّاِمَا كَفُوْرًا : (اب) چاہے شکر کرنے والا ہو اور چاہے ناشکری کرنے والا ہو ]
Ayah 76:4[انآ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ : بیشک ہم نے تیار کیا کافروں کے لیے ] [سَلٰسِلَا۟ وَاَغْلٰلًا وَّسَعِيْرًا : زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ ]
Ayah 76:5[ان الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ : بیشک نیک لوگ پئیں گے ] [مِنْ كَاْسٍ : ایک ایسے جام سے ] [كَان مِزَاجُهَا : جس کی آمیزش ] [كَافُوْرًا : کافور ہے ]
م ز ج
(ن) مَزْجًا پینے کی چیز میں کچھ ملانا جیسے شراب میں پانی ملانا۔
مِزَاجٌ جو چیز ملائی جائے۔ ملاوٹ۔ آمیزش۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5
Ayah 76:6[عَيْنًا : جو ایک چشمہ ہے ] [يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ : پئیں گے جس سے اللہ کے بندے ] [يُفَجِّرُوْنَهَا : وہ لوگ جاری کریں گے اس کو ] [تَفْجِيْرًا : جیسے جاری کرنے کا حق ہے ]
Ayah 76:7[يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ : وہ لوگ (اس دنیا میں) پوری کرتے ہیں منت ] [وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا : اور ڈرتے ہیں ایک ایسے دن سے ] [كَان شَرُّهٗ : جس کا شر ] [مُسْـتَطِيْرًا : پھیل جانے والا ہے ]
Ayah 76:8[وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ : اور وہ لوگ کھلاتے ہیں کھانا ] [عَلٰي حُبِهٖ : اس (کھانے) کی محبت کے باوجود ] [مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا : مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو ]
Ayah 76:9[انمَا نُـطْعِمُكُمْ : (کہتے ہیں) ہم تو بس کھلاتے ہیں تم کو ] [لِوَجْهِ اللّٰهِ : اللہ کی توجہ (حاصل کرنے) کے لیے ] [لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ : ہم نہیں چاہتے تم سے ] [جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا : کوئی بدلہ اور نہ کوئی احسان ماننا ]
Ayah 76:10[انا نَخَافُ مِنْ رَّبِنَا : بیشک ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے ] [يَوْمًا : ایک ایسے دن سے جو ] [عَبُوْسًا : بہت ترش ہوگا ] [قَمْطَرِيْرًا : بہت شدید ہوگا ]
Ayah 76:11[فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ : تو بچایا ان کو اللہ نے ] [شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ : اس دن کے شر سے ] [وَلَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا : اور دی ان کو تازگی اور سرور ]
ترکیب : (آیت 11) فَوَ قٰھُمْ اور لَقّٰھُمْ میں ھُمْ کی ضمیریں آیت۔ 5 ۔ میں مذکور اَلْاَ بْرَارَ کے لیے ہے جبکہ ذٰالِکَ الْیَوْمِ میں اشارہ گزشتہ آیت میں مذکور یَوْمًا عَبُوْمًا کے لیے ہے۔
Ayah 76:12[وَجَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا : اور اس نے بدلے میں دیا ان کو بسبب اس کے جو وہ ثابت قدم رہے ] [جَنَّةً وَّحَرِيْرًا : ایک باغ اور باریک ریشم ]
Ayah 76:13[مُّتَّكِــــِٕيْنَ فِيْهَا : ٹیک لگا کر بیٹھنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] [عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ : آراستہ تختوں پر ] [لَا يَرَوْنَ فِيْهَا : وہ لوگ نہیں دیکھیں گے اس میں ] [شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْرًا : کوئی سورج (دھوپ) اور نہ کوئی ٹھٹھرن ]
نوٹ 1: آیت۔ 13 ۔ میں سورج اور زمہریر نہ دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ گرمی اور سردی دونوں کی اذیتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ان کے سورج میں روشنی اور قوت بخشی تو ہوگی مگر اس میں حدت اور تمازت نہ ہوگی۔ وہاں کا موسم معتدل اور پربہار رہے گا۔ خزاں کی نحوست اور باد زمہریر (یخ ٹھنڈی ہوا) اسے ان کو کبھی سابقہ پیش نہیں آئے گا۔ (تدبر قرآن)
اگلی آیت میں شاید درختوں کی شاخوں کو ظلال (سائے) سے تعبیر فرمایا ہے یا واقعی سایہ ہو۔ کیونکہ آفتاب کی دھوپ نہ سہی کوئی دوسری قسم کا نور ہوگا۔ اس کے سایہ میں بہشتی تفنن و تفریح کی غرض سے کبھی بیٹھنا چاہیں گے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
Ayah 76:14[وَدَانيَةً عَلَيْهِمْ : اور نزدیک ہونے (جھکنے) والے ہوتے ہوئے ان پر ] [ظِلٰلُهَا : اس کے سائے ] [وَذُلِـلَتْ قُـطُوْفُهَا : اور مطیع کیے (جھکائے) گئے اس کے پھل ] [تَذْلِيْلًا : جیسی جھکائے جانے کا حق ہے ]
(آیت۔ 14) دَانِیَۃً حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور یہ اسم الفاعل ہے۔ یہاں پر اس نے فعل کا عمل کیا ہے (دیکھیں آیت۔ 2: 54، نوٹ۔ 1) ظِلٰلُھَا اس کا فاعل ہے۔ ذُلِّلَتْ کا نائب فاعل قُطُوْفُھَا ہے۔ قُطُوْفٌ جمع مکسر ہے اس لیے فعل دُّلِّلَتْ واحد مؤنث آیا ہے۔
Ayah 76:15[وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ : اور گھمائے پھرائے جائیں گے ان کے گرد (خدّام)] [بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ : ایسے برتنوں کے ساتھ جو چاندی کے ہوں گے ] [وَّاَكْوَابٍ : اور ایسے آبخوروں کے ساتھ جو ] [كَانتْ قَوَا۩رِيْرَا۟: ہوں گے شیشے کے ]
(آیت۔ 15) بِاٰنِیۃٍ کے حرفِ جَرَّبِ پر عطف ہونے کی وجہ سے اَکْوَابٍ حالت جر میں آیا ہے۔ اٰنِیَۃٍ اور اَکْوَابٍ کو یُطَافُ کا نائب فاعل مان کر بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔ لیکن حافظ احمد یار صاحب کی رائے ہے کہ یُطَافُ کا نائب فاعل اس میں شامل ضمیر ہے جو خُدّام کے لیے ہے۔ ترجمہ شیخ الہند کے ترجمہ میں بھی اسی لحاظ سے ترجمہ ہے۔ ہم اسی کو ترجیح دیں گے۔ قَوَارِیْرُ غیر منصرف ہے۔ حالت نصب میں یہ قَوَارِیْرُ آتا ہے۔ یہاں الف کے اضافے کے ساتھ لکھنا قرآن کا مخصوص املا ہے۔
Ayah 76:16[قَوَا۩رِيْرَا۟ مِنْ فِضَّةٍ : (وہ) شیشے چاندی کے ہوں گے ] [قَدَّرُوْهَا : (خدّام ) اندازہ مقرر کریں گے جن کا ] [تَقْدِيْرًا : جیسے اندازہ کرنے کا حق ہے ]
نوٹ 2: آیت۔ 16 ۔ میں چاندی کے شیشے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوگی تو چاندی مگر شیشے کی طرح شفاف ہوگی۔ چاندی کی یہ قسم اس دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ یہ صرف جنت کی خصوصیت ہوگی کہ وہاں شیشے جیسی شفاف چاندی کے برتن اہل جنت کے دسترخوان پر ہوں گے۔
اور قَدَّرُوْ ھَا تَقْدِیْرًا کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے اس کی خواہش کے ٹھیک اندازے کے مطابق ساغر بھر بھر کر دئیے جائیں گے۔ نہ وہ اس کی خواہش سے کم ہوں گے نہ زیادہ۔ دوسرے الفاظ میں اہل جنت کے خدام اس قدر ہوشیار اور تمیزدار ہوں کہ وہ جس کی خدمت میں جام پیش کریں گے اس کے متعلق ان کو پورا اندازہ ہوگا کہ وہ کتنی شراب پینا چاہتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 76:17[وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا : وہ (ابرار) لوگ پلائے جائیں گے اس میں ] [كَاْسًا كَان مِزَاجُهَا : ایک ایسے پیالے سے جس کی ملاوٹ ] [زَنْجبيْلًا : ادرک ہے ]
Ayah 76:18[عَيْنًا فِيْهَا : جو ایک چشمہ ہے اس میں ] [تُسَمّٰى: اس کو نام دیا جائے گا ] [سَلْسَبِيْلًا : سلسبیل ]
Ayah 76:19[وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ : اور گھومیں پھریں گے ان کے گرد ] [وِلْدَان مُّخَلَّدُوْنَ : ہمیشگی دیئے ہوئے کم عمر لڑکے ] [اِذَا رَاَيْتَهُمْ : جب بھی تو دیکھے گا ان کو ] [حَسِبْتَهُمْ : تو تُو گمان کرے گا ان کو ] [لُؤْلُؤًا مَنْثُوْرًا : بکھیرے ہوئے موتی ]
Ayah 76:20[وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب بھی تو دیکھے گا ] [ثَمَّ رَاَيْتَ : تو وہیں تُو دیکھے گا ] [نَعِيْمًا : دائمی خوشحالی ] [وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور ایک بڑی بادشاہت ]
Ayah 76:21[عٰلِيَهُمْ : چڑھنے والے ہوتے ہوئے ان پر ] [ثِيَابُ سُـنْدُسٍ : کچھ باریک ریشم کے کپڑے ہوں گے ] [خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ: (وہ ) سبز اور بھڑکیلے ہوں گے ] [وَّحُلُّوْٓا : اور ان کو آراستہ کیا جائے گا ] [اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ : چاندی کے کنگنوں سے ] [وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ : اور پلائے گا ان کو ان کا رب ] [شرابا طَهُوْرًا : ایک نہایت پاکیزہ مشروب ]
(آیت۔ 21) ۔ عٰلِیْھُمْ میں اسم الفاعل عَالٍ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں عَالِیًا ہے مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ضم ہوئی تو عَالِیَ استعمال ہوا۔ یہ بھی یہاں فعل کا عمل کر رہا ہے۔ ثِیَابُ سُنْدُسٍ اس کا فاعل ہے۔ فُضْرٌ استَبرْقٌ صفت نہیں ہیں۔ اگرچہ یہ ثِیَابُ کی صفت ہوتے تو اَلخْضْرُ اور اَلْاِسْتَبْرَقُ آتے۔ کیونکہ ثیاب سندس اضافت کی وجہ سے معرفہ ہے جب موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ ہی ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ خبر ہیں اور ان کا مبتدا ھَی مخدوف ہے جو ثِیَابُ کے لیے ہے۔
نوٹ 3: آیت۔ 21 ۔ میں ہے وَسَقٰھُمْ رَبُّھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا۔ اس میں ایک نکتہ قابل توجہ ہے۔ پہلے آیت۔ 5 ۔ میں ہے یَغْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ وہ لوگ پئیں گے ایک ایسے جام سے) اس کے بعد آیت۔ 17 ۔ میں فرمایا یُسْقَوْنَ فِیْھَاکَاًسًا (ان لوگوں کو پینے کے لیے دیا جائے گا اس میں ایک ایسے جام سے) اور یہاں ارشاد ہوا کہ سَقٰھُمْ رَبُّھُمْ (پلائے گا ان کو ان کا رب) ۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے آسانی سے اس فرق کو سمجھ سکتے ہیں جو ان تینوں اسلوبوں یعنی یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ ، یُسْقَوْنَ کَا سًا اور سَقٰھُمْ رَبُّھُمْ میں ہے۔ (تدبر قرآن) (فرق یہ ہے کہ شَرِبَ ۔ یَشْرَبْ میں مفہوم یہ ہے کہ سامنے کسی چیز میں پینے کی کوئی چیز دیکھی یا کسی نہر یا دریا پر گزرا ہوا تو ہاتھ بڑھا کر خود پی لیا۔ جبکہ باب افعال میں اَسْقٰی۔ یُسْقِیْ کے معنی ہیں کسی کو پینے کی کوئی چیز دینا۔ یُسْقَوْنَ اس کا مضارع مجہول ہے۔ اس میں مفہوم یہ ہے کہ پینے کی چیز ان کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔ اور ثلاثی مجرّد میں سَقٰی۔ یَسْقِیْ کے معنی ہیں کسی کو پلانا، اس طرح سَقٰھُمْ رَبُّھُمْ میں مفہوم یہ ہے کہ ان کا رب خود ان کو پلائے گا۔ مرتب)
سوال یہ ہے کہ یہ فرق کیوں ہے۔ شاید یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ یہ ابرار درجہ بدرجہ قرب الٰہی کی منزلی طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ جائینگے کہ خود رب کریم ان کو شراب طہور کا جام پلائے گا۔ یہ شراب طہور کیا ہے، اس کا تصور اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے قرآن نے کوئی اس طرح کا تمثیلی اسلوب اختیار نہیں کیا جس طرح کا اسلوب اوپر چشمہ کافور اور چشمۂ زنجبیل کے لیے اختیار فرمایا۔ اس کو صرف رب کریم ہی جانتا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 76:22[ان هٰذَا : بیشک یہ ] [كَان لَكُمْ جَزَاۗءً : ہوگا تمہارے لیے ایک بدلہ ] [وَّكَان سَعْيُكُمْ : اور ہوگی تمہاری دوڑ دھوپ ] [مَّشْكُوْرًا : قدر کی ہوئی ]
(آیت۔ 22) اِنَّ کا اسم ھٰذَا ہے اور محلًّا حالت نصب میں ہے۔ اس کے آگے پورا جملہ کَانَ لَکُمْ جَزَائً ۔ اِنَّ کی خبر ہے اور محلًّا حالت رفع میں ہے۔ اس جملے میں کَانَ کا اسم اس میں شامل ھُوَ کی ضمیر ہے اور اس کی خبر ہونے کی وجہ سے جزائً حالت نصب میں ہے۔ اگلے جملے میں کَانَ کا اسم سَعْیُکُمْ ہے اور مَشْکُوْرًا اس کی خبر ہے۔ ان آیات میں قیامت کے حالات کا ذکر ہے۔ اس لیے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔ (دیکھیں آیت۔ 2:27، نوٹ۔ 3)
Ayah 76:23[انا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ : بیشک ہم نے ہی اتارا آپ ﷺ پر ] [الْقُرْاٰنَ : اس قرآن کو ] [تَنْزِيْلًا : جیسے جستہ جستہ اتارنے کا حق ہے ]
نوٹ 1: آیت۔ 23 ۔ میں مخاطب بظاہر نبی ﷺ ہیں لیکن دراصل روئے سخن کفار کی طرف ہے کفار مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ یہ قرآن خود سوچ سوچ کر بنا رہے ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرمان آتا تو اکٹھا ایک ہی مرتبہ آجاتا۔ قرآن میں بعض مقامات پر ان کا یہ اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں اسے نقل کیے بغیر اللہ تعالیٰ نے پورے زور کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس کے نازل کرنے والے ہم ہی ہیں یعنی محمد ﷺ اسکے مصنف نہیں ہیں۔ اور ہم ہی اس کو بتدریج نازل کر رہے ہیں۔ یہ ہماری حکمت کا تقاضہ ہے کہ اپنا پیغام بیک وقت ایک کتاب کی شکل میں نازل نہ کریں، بلکہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے بھیجیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 76:24[فَاصْبِرْ : پس آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ] [لِحُكْمِ رَبِكَ : اپنے رب کے حکم کے لیے (حقیقی حکم پر)] [وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ : اور کہنا مت مانیں ان میں سے ] [اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا : کسی گنہگار کا یا کسی ناشکرے کا ]
Ayah 76:25[وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِكَ : اور آپ ﷺ یاد کریں اپنے رب کے نام کو ] [بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا : صبح سویرے اور شام کے وقت ]
Ayah 76:26[وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ : اور رات میں سے پھر آپ ﷺ سجدہ کریں اس کو ] [وَسَبِحْهُ : اور آپ ﷺ تسبیح کریں اس کی ] [لَيْلًا طَوِيْلًا : طویل رات میں ]
Ayah 76:27[ان هٰٓؤُلَاۗءِ يُحِبُّوْنَ : بیشک یہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں ] [الْعَاجِلَةَ : جلد حاصل ہونے والی (دنیا) کو ] [وَيَذَرُوْنَ وَرَاۗءَهُمْ : اور وہ چھوڑتے ہیں اپنے (پیٹھ) پیچھے ] [يَوْمًا ثَــقِيْلًا : ایک بھاری دن (قیامت کی فکر) کو ]
Ayah 76:28[نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ : ہم نے ہی پیدا کیا ان کو ] [وَشَدَدْنَآ : اور ہم نے مضبوط کیا ] [اَسْرَهُمْ : ان کی بندش (جوڑبند) کو ] [وَاِذَا شِئْنَا : اور جب بھی ہم چاہیں گے ] [بَدَّلْنَآ اَمْثَالَهُمْ : ہم تبدیل کردیں گے (ان کو) ان کے جیسوں سے ] [تَبْدِيْلًا : جیسے تبدیل کرتے ہیں ]
نوٹ 2: آیت 28 ۔ میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ انسان اپنے ایک ایک جوڑ پر نظر ڈالے کہ بتقاضائے حکمت و راحت انسانی جوڑ دیکھنے میں نرم ونازک معلوم ہوتے ہیں اور نرم نرم پٹھوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جس کا طبعی تقاضا یہ تھا کہ سال دو سال ہی میں یہ جوڑوں کے بندھن اور اعصاب گھس جاتے اور ٹوٹ جاتے، خصوصاً جبکہ دن رات وہ حرکت میں رہتے ہیں اور موڑے توڑے جاتے ہیں۔ اتنی شبانہ روز حرکت کے ساتھ تو لوہے کے اسپرنگ بھی سال دو سال میں گھس کر ٹوٹ جاتے ہیں۔ ان نرم ونازک پٹھوں کو دیکھو کس طرح آعظاء کے جوڑوں کو باندھے ہوئے ہیں، نہ گھستے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں۔ انسان اپنی انگلیوں کے جوڑوں کو دیکھے اور حساب لگائے کہ عمر بھر میں ان جوڑوں نے کتنی حرکتیں کی ہیں، کیسے کیسے زور آور دبائو ان پر ڈالے گئے ہیں کہ اگر فولاد بھی ہوتا تو گھس گیا ہوتا مگر یہ جوڑ ہیں جو ستر اسی سال چلنے پر بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 76:29[ان هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ: بیشک یہ ایک یادہانی ہے ] [فَمَنْ شَاۗءَ : تو جو چاہے ] [اتَّخَذَ اِلٰى رَبِهٖ : وہ بنا لے اپنے رب کی طرف ] [سَبِيْلًا : ایک راستہ ]
نوٹ 3: آیات۔ 29 ۔ 30 ۔ میں تین باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے۔ دوسرے یہ کہ تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ بڑا حکیم وعلیم ہے۔ ان تینوں باتوں پر اگر اچھی طرح غور کیا جائے تو انسان کی آزادیٔ اختیار اور اللہ کی مشیت کا تعلق بخوبی سمجھ میں آجاتا ہے اور وہ تمام الجھنیں صاف ہوجاتی ہیں جو تقدیر کے مسئلہ میں بالعموم لوگوں کے ذہنوں میں پائی جاتی ہیں۔ پہلی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو اختیارات دیے گئے ہیں وہ صرف اس حد تک ہیں کہ یہاں زندگی بسر کرنے کے لیے جو مختلف راستے اس کے سامنے آتے ہیں ان میں سے کسی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرے۔ یہ انتخاب کی آزادی (Free dom of Choice) ہے جو اللہ نے انسان کو دی ہے۔ مثلاً ایک آدمی کے سامنے اپنی روزی حاصل کرنے کا سوال جب آتا ہے تو اس کے سامنے بہت سے راستے ہوتے ہیں جن میں سے کچھ حلال ہیں اور کچھ حرام ہیں۔ ان میں کسی ایک راستے کو انتخاب کرنے کا فیصلہ انسان کے اپنے انتخاب پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ اپنا رزق کس طریقے سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح اخلاق کے مختلف ڈھنگ ہیں۔ اس کو پوری آزادی ہے کہ وہ اچھے برے جس ڈھنگ کے اخلاق اختیار کرنا چاہے کرلے۔ ایسا ہی معاملہ دین و مذہب کا ہے کہ اس میں بھی بہت سے راستے انسان کے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ الحاد اور انکار خدا، شرک وبت پرستی، شرک و توحید کے مختلف مخلوطے، ایک وہ خالص خدا پرستی جس کی تعلیم قرآن دیتا ہے۔ یہ فیصلہ بھی انسان پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر جبراً اپنا کوئی فیصلہ نہیں ٹھونستا کہ وہ چاہتا تو ہو حلال روزی اور اللہ زبردستی اس کو حرام خور بنائے، یا وہ چاہتا تو ہو قرآن کی پیروی اور اللہ جبراً اسے ملحد یا مشرک یا کافر بنا دے۔
لیکن اس آزادیٔ انتخاب کے بعد یہ بات کہ انسان عملاً بھی وہی کچھ کرسکے جو وہ کرنا چاہتا ہے، اللہ کی مشیت اور اس کے اذن اور اس کی توفیق پر منحصر ہے۔ اگر اللہ کی مشیت یہ ہو کہ انسان کو وہ کام کرنے دے جس کے کرنے کی خواہش یا ارادہ یا فیصلہ اس نے کیا ہے، تب ہی وہ اس کو کرسکتا ہے ورنہ وہ چاہے کتنی بھی کوشش کرلے اللہ کے اذن کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔ یہی بات دوسری بات میں فرمائی گئی ہے۔ اس معاملہ کو یوں سمجھئے کہ اگر دنیا میں انسان کو سارے اختیارات دے دئیے گئے ہوتے اور یہ بات اس کی مرضی پر چھوڑی گئی ہوتی کہ وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے کر گزرے تو نظام عالم درہم برہم ہوجاتا۔ ایک قاتل دنیا کے تمام انسانوں کو قتل کردینے کے لیے کافی تھا ایک جیب کترا دنیا کے کسی آدمی کی جیب سلامت نہ چھوڑتا، ایک ڈاکو سے کسی کا گھر نہ بچ سکتا اگر ان میں سے ہر ایک کو من مانی کرنے کے پورے اختیارات حاصل ہوتے۔ اس لیے یہ بات اللہ نے اپنے ہی اختیار میں رکھی ہے کہ انسان صحیح یا غلط جس راستے پر بھی جانا چاہے اس پر اسے چلنے دے ۔
اس کے بعد تیسری بات اس غلط فہمی کو رفع کرتی ہے کہ اللہ کی یہ مشیت اَلَل ٹپ (Arbitrary) نہیں ہے۔ وہ دانا ہے اور سب کچھ جانتا ہے وہ جو کچھ بھی کرتا ہے علم اور دانائی کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ اپنے پورے علم اور پوری حکمت کے ساتھ یہ طے کرتا ہے کہ کس کو کیا توفیق دینی چاہیے اور کیا نہ دینی چاہیے۔ جس حدتک وہ انسان کو موقع دیتا ہے اور اسباب کو اس کے لیے سازگار بناتا ہے اسی حد تک وہ اپنی خواہش کے مطابق کام کرسکتا ہے خواہ وہ اچھا کام ہو یا برا کام ہو۔ ہدایت کا معاملہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم کی بنا پر جانتا ہے اور وہی اپنی حکمت کی بنا پر طے کرتا ہے کہ کون ہدایت کا مستحق ہے اور کون نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6، ص 576 ۔ 577)
Ayah 76:30[وَمَا تَشَاۗءُوْنَ : اور تم لوگ کیا چاہو گے ] [اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ جو ] [يَّشَاۗءَ اللّٰهُ : چاہے گا اللہ ] [ان اللّٰهَ كَان : بیشک اللہ ہے ] [عَلِيْمًا حَكِيْمًا : جاننے والا حکمت والا ]
Ayah 76:31[يُّدْخِلُ : وہ داخل کرتا ہے ] [مَنْ يَّشَاۗءُ : اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] [فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں ] [وَالظّٰلِمِيْنَ : اور ظلم (شرک) کرنے والوں کو ؟] [اَعَدَّ لَهُمْ : اس نے تیار کیا ان کے لیے ] [عَذَابًا اَلِيْمًا : ایک دردناک عذاب ]