75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی

[لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ : نہیں میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی ] نوٹ۔ 1: یہاں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس (ضمیر) کی قسم جس بات پر کھائی ہے اسے بیان نہیں کیا گیا کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے۔ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور پیدا کرے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات پر ان دو چیزوں کی قسم کس مناسبت سے کھائی گئی ہے۔ جہاں تک روز قیامت کا تعلق ہے، اس کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ پوری کائنات کا نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے۔ جتنا جتنا اس دنیا کے متعلق انسان کا علم بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی یہ امر یقینی ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس نظام کی ایک ابتدا ہے جس سے پہلے یہ نہ تھا اور لازماً اس کی ایک انتہا ہے جس کے بعد یہ نہ رہے گا۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقوع پر خود قیامت کی ہی قسم کھائی ہے لیکن روز قیامت کی قسم صرف اس امر کی دلیل ہے کہ ایک دن یہ نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ رہی یہ بات کہ اس کے بعد انسان دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، تو اس کے لیے دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی گئی ہے۔ کوئی انسان دنیا میں موجود نہیں ہے جو اپنے اندر ضمیر نام کی ایک چیز نہ رکھتا ہو۔ اس کا ضمیر اسے برائی کرنے اور بھلائی نہ کرنے پر ٹوکتا ضرور ہے۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ انسان ایک اخلاقی وجود ہے اور وہ خود اپنے آپ کو اپنے اچھے اور برے افعال کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ اب اگر انسان میں نفس لوامہ کی موجودگی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہی نفس لوامہ زندگی بعد موت کی ایک ایسی شہادت ہے جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ کیونکہ فطرت کا یہ تقاضہ کہ انسان کو اچھے اور برے اعمال کی جزا یا سزا ضرور ملنی چاہیے، زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہوسکتا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 75:2

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی

[وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ : اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں باربار ملامت کرنے والے نفس کی ] نوٹ۔ 2: نفس لوامہ سے مراد کوئی علیحدہ اور مستقل نفس نہیں ہے بلکہ یہ نفس انسانی ہی کا ایک پہلو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرما دیا ہے۔ اور اس کے لیے ضابطہ یہ ٹھہرایا ہے کہ جو اپنے نفس کو برائیوں سے پاک رکھے گا وہ فلاح پانے والا ہے اور جو اس کو برائیوں سے آلودہ رکھے گا وہ نامراد ہوگا۔ سورة الشمس میں اس کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے ” اور گواہ ہے نفس اور اس کی تشکیل۔ پس اس کو الہام کردی اس کی بدی اور نیکی۔ جس نے اس کو پاک رکھا اس نے فلاح پائی اور جس نے اس کو آلودہ رکھا وہ نامراد ہوا۔ “ (آیات 7 تا 10) ۔ اس تشکیل کی اس نوعیت کے سبب سے نفس بعض اوقات اپنی خواہشوں سے مغلوب ہو کر اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے اور وہ انسان کو کسی برائی پر آمادہ کردیتا ہے۔ نفس کے اس رجحان کو قرآن میں نفس امّارہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ (سورہ یوسف۔ 53) لیکن یہ نفس نیکیوں کا شعور بھی رکھتا ہے۔ اس وجہ سے جب تک اس کا توازن برقرار رہتا ہے اس وقت تک وہ اپنے آپ کو بھی برائی صادر ہونے پر ملامت کرتا ہے اور دوسروں کی برائیوں کو دیکھ کر بھی کڑھتا ہے اور بسا اوقات ملامت کرتا ہے۔ نفس کے اسی پہلو کو یہاں نفس امارہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نفس کے توازن کو درست رکھنے کی تدبیر اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ آدمی برابر اپنے رب اور روز جزاء و سزا کو یاد رکھے۔ یہ یاد نفس کے توازن کو درست رکھتی ہے اور وہ کبھی اپنی خواہشوں سے اتنا مغلوب نہیں ہوتا کہ بالکل اس کے آگے سپر انداز ہوجائے۔ اگر کبھی کوئی لغزش ہوجاتی ہے تو نفس لوامہ فوراً اس کو ٹوکتا ہے اور وہ متنبہ ہو کر توبہ وانابت سے اس داغ کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ جس نفس کے اندر یہ توازن پیدا ہوجائے قرآن نے اس کو نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ سورة الفجر۔ 27 ۔ (تدبر قرآن)
Ayah 75:3

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟

[اَيَحْسَبُ الْانسَان اَلَنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ : کیا گمان کرتا ہے انسان کہ ہم ہرگز جمع نہیں کریں گے اس کی ہڈیوں کو ] ترکیب : (آیت۔ 3) اَلَّنْ میں ہمزہ استفہام نہیں ہے۔ اگر یہ ہمزئہ استفہام ہوتا تو اَلَنْ آتا۔ لام پر تشدید بتارہی ہے کہ یہ دراصل اَنْ لَّنْ ہے اور اَنْ کا نون گرا ہوا ہے۔ قرآن مجید کے اس مقام پر اَنْ کے نون کو گرا کر لکھنا قرآن کا مخصوص املا ہے، ورنہ عام عربی میں اس کو اَنْ لَّنْ ہی لکھتے ہیں البتہ پڑھتے اَلَّنْ ہیں۔ نوٹ 3: آیات ۔ 3 ۔ 4 ۔ کا حاصل یہ ہے کہ تمہیں اس پر تعجب ہے کہ مَیّت کے ذرات منتشرہ اور بوسیدہ ہڈیوں کو جمع کیسے کیا جائے گا۔ حالانکہ یہ بات ایک مرتبہ مشاہدہ میں آچکی ہے کہ ہر انسان کا وجود جو دنیا میں پلتا اور بڑھتا ہے وہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں اور خطوں کے اجزاء اور ذرات کا مرکب ہوتا ہے۔ تو جس ذات قادر نے پہلی مرتبہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے ذرات کو ایک انسان کے وجود میں جمع کردیا تھا، اس کے لیے دوبارہ جمع کرنا کیوں مشکل ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم صرف اسی پر قادر نہیں ہیں کہ مَیّت کے سارے اجز اعضاء کو دوبارہ اسی طرح بنادیں بلکہ انسانی وجود کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی ہم ٹھیک اسی طرح کردیں گے جس طرح وہ پہلے تھی۔ اس میں بنان یعنی انگلیوں کے پوروں کا خاص ذکر فرمایا کہ وہ سب سے چھوٹے اجزاء ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو شاید انگلیوں کے پوروں کی تخصیص میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوا حق تعالیٰ نے ایک انسان کو دوسرے انسان سے ممتاز کرنے کے لیے اس کے سارے ہی بدن میں ایسی خصوصیات رکھی ہیں جن سے وہ پہچانا جاتا ہے اور دوسروں سے ممتاز ہوتا ہے۔ خصوصاً انسانی چہرہ جو چند انچ مربع سے زائد نہیں، اس کے اندر قدرت حق نے ایسے امتیازات رکھے ہیں کہ اربوں انسانوں میں ایک کا چہرہ دوسرے کے ساتھ اتنا نہیں ملتا کہ امتیاز باقی نہ رہے۔ انسان کی زبان اور حلقوم ایک ہی طرح ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ایسی ممتاز ہے کہ بچے، بوڑھے، عورت، مرد کی آوازیں الگ پہچانی جاتی ہیں۔ اور ہر انسان کی آواز الگ الگ پہچانی جاتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز انسان کے انگوٹھے اور انگلیوں کے پور ہیں کہ ان کے اوپر جو نقش و نگار خطوط کے جال کی صورت میں قدرت نے بنائے ہیں وہ کبھی ایک انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ نہیں ملتے۔ صرف آدھ انچ کی جگہ میں ایسے امتیازات کہ اربوں انسانوں میں یہ پور مشترک ہونے کے باوجود ایک کے خطوط دوسرے سے نہیں ملتے۔ قدیم وجدید ہر زمانے میں انگوٹھے کے نشان کو ایک امتیازی چیز قرار دے کر اس پر عدالتی فیصلے ہوتے رہے ہیں، اور اب فنی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ بات صرف انگوٹھے ہی میں نہیں بلکہ ہر انگلی کے پور کے خطوط بھی اسی طرح ممتاز ہوتے ہیں۔ یہ سمجھ لینے کے بعد بنان کے بیان کی تخصیص خودبخود سمجھ میں آجاتی ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ تمہیں تو اسی پر تعجب ہے کہ یہ انسان دوبارہ کیسے زندہ ہوگا۔ ذرا اس سے آگے سوچو اور غور کرو کہ وہ صرف زندہ ہی نہیں ہوگا بلکہ اپنی سابقہ شکل و صورت اور اس کے ہر امتیازی وصف کے ساتھ زندہ ہوگا۔ یہاں تک کہ انگوٹھے اور انگلیوں کے پوروں کے خطوط پہلی پیدائش میں جس طرح تھے، دوبارہ بھی بالکل وہی ہوں گے۔ (معارف القرآن)
Ayah 75:4

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں

[بَلٰى: کیوں نہیں (ہم ضرور جمع کریں گے)] [قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي ان : قادر ہوتے ہوئے اس پر کہ ] [نُّسَوِّيَ بَنَانهٗ : ہم درست کردیں اس کی پور پورکو ] (ایت۔ 4) قٰدِرُوْنَ کے بجائے قٰدِرِیْنَ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس لیے بَلٰی کے بعد لَنَجْمَعَنَّ محذوف مانا جاتا ہے۔ اس طرح جملہ کا اصل مفہوم ہے کہ کیوں نہیں ! ہم لازماً جمع کریں گے قادر ہوتے ہوئے اس پر کہ…
Ayah 75:5

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے

[بَلْ يُرِيْدُ الْانسَان : بلکہ چاہتا ہے انسان ] [لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ : کہ وہ اپنی مرضی چلائے اپنے آگے (آنے والے وقت میں بھی)]
Ayah 75:6

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے "آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن؟"

[يَسْــَٔـلُ اَيَّان يَوْمُ الْقِيٰمَةِ : وہ پوچھتا ہے کب ہوگا قیامت کا دن ]
Ayah 75:7

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے

[فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ : تو جب چندھیا جائے گی آنکھ ] نوٹ 4: آیات۔ 7 تا 9 ۔ میں قیامت کے پہلے مرحلے میں نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیان ہے۔ چاند کے بےنور ہوجانے اور چاند سورج کے مل کر ایک ہوجانے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف چاند ہی کی روشنی ختم نہ ہوگی جو سورج سے ماخوذ ہے، بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا اور بےنور ہوجانے میں دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین یکایک الٹی چل پڑے اور اس دن چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے۔ تیسرا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ چاند زمین کی کشش سے چھوٹ کر نکل جائے اور سورج میں جاپڑے۔ ممکن ہے اس کا کوئی اور مفہوم بھی ہو جس کو آج ہم نہیں سمجھ سکتے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 75:8

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند بے نور ہو جائیگا

[وَخَسَفَ الْقَمَرُ : اور گہنا جائے گا چاند ]
Ayah 75:9

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے

[وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ : اور اکٹھا کیے جائیں گے سورج اور چاند ]
Ayah 75:10

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اُس وقت یہی انسان کہے گا "کہاں بھاگ کر جاؤں؟"

[يَقُوْلُ الْانسَان يَوْمَىِٕذٍ : کہے گا انسان اس دن ] [اَيْنَ الْمَفَرُّ : کدھر ہے بھاگنے کی جگہ ]
Ayah 75:11

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی

[كَلَّا لَا وَزَرَ : ہرگز نہیں ! کوئی بھی پناہ گاہ نہیں ہے ] (آیت۔ 11) لَاوَزَرَ میں وَزَرَ ماضی کا صیغہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسم وَزَرٌ ہے۔ اس پر لائے نفیٔ جنس داخل ہونے کی وجہ سے یہ وَزَرَ ہوا ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2:2)
Ayah 75:12

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اُس روز تیرے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھیرنا ہوگا

[اِلٰى رَبِكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرُّ : تیرے رب کی طرف ہی اس دن ٹھہرنے کا ٹھکانہ ہے ]
Ayah 75:13

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا

[يُنَبَّؤُا الْانسَان يَوْمَىِٕذٍۢ: جتلا دیا جائے گا انسان کو اس دن ] [بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ : وہ جو اس نے آگے بھیجا اور (جو) اس نے پیچھے چھوڑا ] نوٹ 5: آیت۔ 13 ۔ میں ہے بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ۔ یہ بڑا جامع فقرہ ہے جس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں اور غالباً وہ سب ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کو اس روز یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اس نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجی تھی۔ اور یہ حساب بھی اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ اپنے اچھے یا برے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مدت ہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اسے وہ سب کچھ بتادیا جائے گا جو اسے کرنا چاہیے تھا مگر اس نے نہیں کیا اور جو کچھ نہ کرنا چاہیے تھا مگر اس نے کر ڈالا۔ تیسرے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ اس نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا اس کا پورا حساب تاریخ وار اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ چوتھے معنی یہ ہیں کہ جو نیکی یا بدی اس نے کی وہ بھی اسے بتادی جائے گی اور جس نیکی یا بدی کے کرنے سے وہ باز رہا اس سے بھی اسے آگا کیا جائے گا۔ (تفہیم القرآن) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جو نیک کام اپنی موت سے پہلے کرلیا وہ آگے بھیج دیا۔ اور جو نیک یا بد، مفید یا مضر کوئی طریقہ، کوئی رسم ایسی چھوڑی کہ اس کے بعد لوگ اس پر عمل کریں، وہ اس نے پیچھے چھوڑا۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے فرمایا کہ مَاقَدَّمَ سے مراد وہ عمل صالح جو اپنی زندگی میں کر گزرا اور مَا اَخَرَ سے مراد وہ عمل صالح ہے جس کو کرسکتا تھا مگر نہ کیا اور فرصت ضائع کردی۔ (معارف القرآن)
Ayah 75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے

[بَلِ الْانسَان عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ: بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب دیکھنے والا ہے ]
Ayah 75:15

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے

[وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ : اور اگرچہ وہ ڈالے (پیش کرے) اپنے بہانے ]
Ayah 75:16

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اے نبیؐ، اِس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو

[لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانكَ : آپ ﷺ حرکت نہ دیں اس (قرآن) کے ساتھ اپنی زبان کو ] [لِتَعْجَلَ بِهٖ : تاکہ آپ ﷺ جلدی یاد کریں اس کو ] ح ر ک [حَرَکًا : (ک) ] ہلنا۔ حرکت کرنا۔ (تفعیل) تَحْرِیْکًا ہلانا۔ حرکت دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔ نوٹ 1: آیت۔ 16 ۔ سے لے کر۔ 19 ۔ تک کی پوری عبارت ایک جملۂ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیچ میں توڑ کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت کے ابتدائی دور میں جبکہ آپ ﷺ کو وحی اخذ کرنے کی عادت اور مشق پوری طرح نہیں ہوئی تھی، آپ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ﷺ کو یہ اندیشہ لاحق ہوتا تھا کہ آپ ﷺ کو وہ کلام ٹھیک ٹھیک یاد رہ سکے گا یا نہیں۔ اس لیے آپ ﷺ وحی سننے کے ساتھ ساتھ اسے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگتے تھے۔ ایسی ہی صورت اس وقت پیش آئی جب حضرت جبریل (علیہ السلام) سورة قیامہ کی آیات آپ ﷺ کو سنا رہے تھے۔ چناچہ سلسلہ کلام کو توڑ کر آپ ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ ﷺ وحی کے الفاظ یاد کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ غور سے سنتے رہیں۔ اسے یاد کرا دینا اور بعد میں ٹھیک ٹھیک آپ ﷺ سے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ یہ فرمانے کے بعد اصل سلسلۂ کلام ” ہرگز نہیں ! اصل بات یہ ہے “ سے پھر شروع ہوجاتا ہے جو لوگ اس پس منظر سے واقف نہیں ہیں وہ اس مقام پر ان فقروں کو دیکھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس سلسلۂ کلام میں یہ بالکل بےجوڑ ہیں۔ لیکن اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد کلام میں کوئی بےربطی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک استاد درس دیتے ہوئے یہ دیکھے کہ طالب علم کسی اور طرف متوجہ ہے اور وہ درس کا سلسلہ روک کر طالب علم سے کہے کہ توجہ سے میری بات سنو اور اس کے آگے پھر اپنا درس شروع کر دے۔ ان آیات کے درمیان یہ فقرے بطور جملۂ معترضہ آنے کی جو تو توجیہہ ہم نے کی ہے وہ محض قیاس پر مبنی نہیں ہے بلکہ مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، طبرانی، بیہقی وغیرہ میں معتبر روایات سے اس کی یہی وجہ بیان ہوئی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 75:17

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اِس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے

[ان عَلَيْنَا جَمْعَهٗ : بیشک ہم پر ہے اس کا جمع کرنا (آپ ﷺ کے سینے میں)] [وَقُرْاٰنَه : اور (آسان کرنا) اس کا پڑھنا ] نوٹ 2: آیت ۔ 17 ۔ میں لفظ جمع ایک جامع لفظ ہے۔ اس سے مراد قرآن کو نبی ﷺ کے سینے میں محفوظ کرنا بھی ہے اور ان منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرونا بھی ہے۔ چناچہ نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برابر رہنمائی حاصل ہوتی رہی کہ مختلف مواقع پر نازل ہونے والی آیات کو الگ الگ سورتوں میں کس ترتیب سے آپ ﷺ جمع کرائیں۔ چناچہ اسی رہنمائی کی روشنی میں آپ ﷺ نے الگ الگ سورتوں میں ان کے مواقع کے تعین کے ساتھ آیات جمع کرنے کی ہدایت فرمائی اور جمع کرنے والوں نے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کی۔ اس کے علاوہ ایک مزید اہتمام اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہر رمضان میں نبی ﷺ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے ساتھ اتنے قرآن کا مذاکرہ فرماتے جتنا نازل ہوچکا ہوتا تاکہ کسی سہو ونسیان کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حیات مبارک کے آخری رمضان میں آپ ﷺ نے یہ مذاکرہ دو مرتبہ فرمایا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 75:18

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں اُس وقت تم اِس کی قرات کو غور سے سنتے رہو

[فَاِذَا قَرَانٰهُ : پھر جب بھی ہم (فرشتے کی زبان سے) پڑھیں اس کو ] [فَاتَّبِعْ : تو آپ ﷺ پیچھے پیچھے چلیں ] [قُرْاٰنَهٗ : اس کو پڑھے جانے کے ]
Ayah 75:19

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے

[ثُمَّ ان عَلَيْنَا بَيَانهٗ : پھر بیشک ہم پر ہے اس کا ظاہر کرنا ] نوٹ 3: آیت۔ 19 ۔ بڑی اہم آیت ہے جس سے چند ایسی اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں جنھیں آدمی اگر اچھی طرح سمجھ لے تو وہ ان گمراہیوں سے بچ سکتا ہے جو پہلے بھی بعض لوگ پھیلاتے رہے ہیں اور آج بھی پھیلا رہے ہیں۔ اولاً اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ ﷺ کو ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے۔ اس لیے کہ قرآن کے الفاظ اور اس کی مخصوص اصطلاحات کا جو مفہوم حضور ﷺ کو سمجھایا جاتا تھا وہ اگر قرآن ہی میں درج ہوتا تو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے، کیونکہ وہ تو پھر قرآن ہی میں مل جاتا۔ لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مطالب قرآن کی جو تفہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی جاتی تھی وہ بہرحال الفاظِ قرآن کے علاوہ تھی۔ یہ وحی خفی (وحی غیر متلو) کا ایک اور ثبوت ہے جو ہمیں قرآن سے ملتا ہے۔ (قرآن مجید سے اس کے مزید ثبوت ہم نے اپنی کتاب ” سنت کی آئینی حیثیت “ میں صفحات 94 ۔ 95 ۔ اور صفحات 118 تا 125 میں پیش کر دئیے ہیں۔ ) ثانیا قرآن کے احکام کی تشریح جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی تھی وہ اسی لیے بتائی گئی تھی کہ آپ ﷺ اپنے قول اور عمل سے اس کے مطابق لوگوں کو قرآن سمجھائیں اور قرآن کے احکام پر (اللہ کی مرضی کے مطابق۔ مرتب) عمل کرنا سکھائیں۔ اس لیے صرف ایک بیوقوف آدمی ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تشریحی علم کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے خود سورة نحل کی آیت۔ 44 ۔ میں فرمایا ہے : ” اور اے نبی ﷺ یہ ذکر ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح کرتے جائو جو ان کے لیے اتاری گئی ہے۔ “ اور قرآن میں چار جگہ اللہ نے صراحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کام صرف کتاب اللہ کی آیات سنا دینا ہی نہیں تھا بلکہ اس کتاب کی تعلیم دینا بھی تھا۔ (ان سب آیات کی تشریح ہم ” سنت کی آئینی حیثیت “ میں صفحہ 74 تا 77 میں تفصیل کے ساتھ کرچکے ہیں) ۔ اس کے بعد کوئی ایسا آدمی جو قرآن کو مانتا ہو اس بات کو تسلیم کرنے سے کیسے انکار کرسکتا ہے کہ قرآن کی مستند اور سرکاری تشریح صرف وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول اور عمل سے فرما دی ہے کیونکہ وہ آپ ﷺ کی ذاتی تشریح نہیں ہے بلکہ قرآن نازل کرنے والے خدا کی بتائی ہوئی تشریح ہے۔ ثالثاً قرآن کا سرسری مطالعہ بھی اگر کسی شخص نے کیا ہو تو وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس میں بکثرت باتیں ایسی ہیں جنھیں ایک عربی جاننے والا محض قرآن کے الفاظ پڑھ کر یہ نہیں جان سکتا کہ ان کا حقیقی مدعا کیا ہے اور ان میں جو حکم بیان کیا گیا ہے اس پر کیسے عمل کیا جائے۔ مثال کے طور پر لفظ صلوٰۃ ہے۔ محض عربی لغت کی مدد سے کوئی شخص اس کا مفہوم تک تعین نہیں کرسکتا۔ قرآن میں اس کا ذکر بار بار دیکھ کر وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس لفظ کو کسی خاص اصطلاحی معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور اس سے مراد کوئی خاص فعل ہے لیکن صرف قرآن پڑھ کر کوئی عربی جاننے والا یہ طے نہیں کرسکتا کہ وہ خاص فعل کیا ہے اور کس طرح اسے ادا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک معلم کو مقرر کر کے صلوٰۃ کے حکم کی تعمیل کرنے کا طریقہ پوری وضاحت کے ساتھ اسے سکھا دیا جس کی وجہ سے آج ڈیڑھ ہزار برس سے مسلمان نسل در نسل ساتھ اسے سکھا دیا جس کی وجہ سے آج ڈیڑھ ہزار برس سے مسلمان نسل در نسل نماز کے حکم پر یکساں عمل کر رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر صرف قرآن کے الفاظ ہی وحی نہیں فرمائے تھے بلکہ ان الفاظ کا مطلب بھی آپ ﷺ کو پوری طرح سمجھا دیا تھا۔ رابعًا قرآن کے الفاظ کی جو تشریح اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بتائی اور رسول ﷺ نے اپنے قول وعمل سے اس کی جو تعلیم امت کو دی، اس کو جاننے کا ذریعہ ہمارے پاس حدیث وسنت کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ حدیث سے مراد وہ روایات ہیں جو حضور ﷺ کے اقوال و افعال کے متعلق سند کے ساتھ اگلوں سے پچھلوں تک منتقل ہوئیں۔ اور سنت سے مراد وہ طریقہ ہے جو حضور ﷺ کی قولی وعملی تعلیم سے مسلم معاشرے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں رائج ہوا۔ اس ذریعہ علم کو جو شخص قبول کرنے سے انکار کرتا ہے وہ گویا یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت۔ 19 ۔ میں قرآن کا مطلب اپنے رسول کو سمجھا دینے کی جو ذمہ داری لی تھی اسے پورا کرنے میں معاذ اللہ وہ ناکام ہوگیا ہے۔ (والعیاذ باللہ) جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے حدیثیں گھڑ لی تھیں، تو ان کا یہ قول خود اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ آغاز اسلام میں پوری امت رسول اللہ ﷺ کے اقوال و اعمال کو قانون کا درجہ دیتی تھی، ورنہ گمراہی پھیلانے والوں کو جھوٹی حدیثیں گھڑنے کی کیا ضرورت تھی۔ جعل ساز لوگ وہی سکے جعلی بناتے ہیں جن کا بازار میں چلن ہو۔ جن نوٹوں کی بازار میں کوئی قیمت نہ ہو انھیں کون جعلی طور پر چھاپے گا۔ پھر ایسی بات کہنے والوں کو شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ اس امت سے اول روز سے اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ جس ذات پاک ﷺ کے اقوال و افعال قانون کا درجہ رکھتے ہیں اس کی طرف کوئی غلط بات منسوب نہ ہونے پائے۔ اس امت کے خیرخواہ لوگوں نے اس بات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا تھا کہ صحیح کو غلط سے ممیز کیا جائے۔ صحیح وغلط روایات کی تمیز کا یہ علم ایک بڑا ہی عظیم الشان علم ہے جو مسلمانوں کے سوا دنیا کی کسی قوم نے آج تک ایجاد نہیں کیا۔ سخت بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس علم کو حاصل کیے بغیر حدیث وسنت کو ناقابل اعتبار ٹھہراتے ہیں۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 169 تا 171 سے ماخوذ) نوٹ 4: اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی انسانی صلاحیت کے متعلق بات ہوچکی ہے۔ آیت نمبر 6:103، نوٹ۔ 1 ۔ دوبارہ دیکھ لیں۔
Ayah 75:20

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو

[كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ : ہرگز نہیں بلکہ تم لوگ پسند کرتے ہو ] [الْعَاجِلَةَ : جلدی حاصل ہونے والی (دنیا) کو ]
Ayah 75:21

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو

[وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ : اور تم لوگ چھوڑتے ہو پیچھے ہونے والی (آخرت) کو ]
Ayah 75:22

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہونگے

[وُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَاضِرَةٌ: کچھ چہرے اس دن ترو تازہ ہونے والے ہیں ] ن ض ر [نَضْرَۃً : (ن۔ س) ] تروتازہ ہونا۔ ملائم ہونا۔ خوبصورت ہونے والا۔ نَضْرَۃٌ اسم ذات بھی ہے۔ تروتازگی۔ ملائمیت، خوبصورتی۔ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ الْنَّعِیْمِ (تو پہچانے گا ان کے چہروں میں ہمیشگی کی تروتازگی کو) 83:24 ۔ نَاضِرَۃٌ اسم الفاعل ہے۔ تروتازہ ہونے والی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32 ۔
Ayah 75:23

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے

[اِلٰى رَبِهَا نَاظِرَةٌ: اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہیں ]
Ayah 75:24

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور کچھ چہرے اداس ہوں گے

[وَوُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍۢ بَاسِرَةٌ: اور کچھ چہرے اس دن مرجھانے والے ہیں ]
Ayah 75:25

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے

[تَظُنُّ ان يُّفْعَلَ : وہ گمان کریں گے کہ کیا جائے گا ] [بِهَا فَاقِرَةٌ: ان کے ساتھ (کمر) توڑنے والا کام ]
Ayah 75:26

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی

[كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ : ہرگز نہیں جب کبھی پہنچتی ہے (جان) ہنسلیوں تک ]
Ayah 75:27

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا

[وَقِيْلَ مَنْ : اور کہا جاتا ہے کون (کوئی)] [رَاقٍ : جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ]
Ayah 75:28

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے

[وَّظَنَّ انهُ الْفِرَاقُ : اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک دوسرے سے جدا ہونا ہے ]
Ayah 75:29

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی

[وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ : اور (جب ) لپٹتی ہے پنڈلی پنڈلی سے ]
Ayah 75:30

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا

[اِلٰى رَبِكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ : (تو وہ سمجھتا ہے) تیرے رب کی طرف اس دن ہانکا جانا ہے ]
Ayah 75:31

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

مگر اُس نے نہ سچ مانا، اور نہ نماز پڑھی

[فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى: پھر اس نے نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ] نوٹ 1: آیات۔ 31 تا 33 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا اس نے وہ سب کچھ سنا جو اوپر کی آیات میں بیان کیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ اپنے انکار پر ہی اڑا رہا اور یہ آیات سننے کے بعد اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا ہے اس میں یہ الفاظ کہ فَلَا صَدِّقَ وَلَا صَلَّی خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں۔ ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب کی صداقت تسلیم کرلینے کا اولین اور لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھے۔ اللہ کے دوسرے احکام کی تعمیل کی نوبت تو بعد میں آتی ہے، لیکن ایمان کے اقرار کے بعد کچھ زیادہ مدت نہیں گزرتی کہ نماز کا وقت آجاتا ہے۔ اس وقت معلوم ہوجاتا ہے کہ آدمی نے زبان سے جس چیز کے ماننے کا اقرار کیا ہے وہ کس حد تک اس کے دل کی آواز ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ 2: عربی زبان میں اِبِلٌ سُدًی اس اونٹ کے لیے بولتے ہیں جو یوں ہی چھوٹا پھر رہا ہو، جہاں چاہے چرتا پھرے اور کوئی اس کی نگرانی کرنے والا نہ ہو۔ اسی معنی میں ہم شتر بےمہار کا لفظ بولتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انسان نے اپنے آپ کو شتر بےمہار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خالق نے اسے زمین میں غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا ہے۔ کوئی فرض اس پر عائد نہ ہو۔ کوئی چیز اس کے لیے ممنوع نہ ہو۔ اور کوئی وقت ایسا آنے والا نہ ہو جب اس سے اس کے اعمال کی باز پرس کی جائے، یہی بات سورة المومنون کی آیت۔ 115 ۔ میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں کبھی ہماری طرف پلٹ کر نہیں آنا ہے۔ “ ان دونوں مقامات پر موت کے بعد کی زندگی کے واجب ہونے کی دلیل سوال کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا تم نے اپنے آپ کو جانور سمجھ رکھا ہے۔ کیا تمہیں اپنے میں اور جانور میں یہ کھلا فرق نظر نہیں آتا کہ وہ بےاختیار ہے اور تم بااختیار ہو۔ اس کے افعال میں اخلاقی حسن وقبح کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور تمہارے افعال میں یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے۔ پھر تم نے اپنے متعلق یہ کیسے سمجھ لیا کہ جس طرح جانور غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ ہے اسی طرح تم بھی ہو۔ جانور کے دوبارہ زندہ کر کے نہ اٹھانے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ اس پر اپنے کسی عمل کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی جس کی باز پرس کے لیے اسے دوبارہ زندہ کرنے کی حاجت ہو۔ لیکن تم حیات بعد موت سے کیسے معاف کیے جاسکتے ہو جبکہ مرتے دم تک تم ایسے اخلاقی افعال کرتے رہتے ہو جن کے نیک یا بد ہونے اور جزا یا سزا کے مستوجب ہونے کا خود تمہاری عقل حکم لگاتی ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ 3: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة قیامہ کی آخری آیت کی تلاوت کرے، اس کو یہ کلمات کہنے چاہیے۔ بَلٰی وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ الشّٰھِدِیْنَ یعنی بلاشبہ وہ اس پر قادر ہے اور میں بھی ان لوگوں میں داخل ہوں جو اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اس حدیث میں یہی الفاظ سورة والتین کی آخری آیت پڑھنے کے وقت بھی کہنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اسی حدیث میں یہ بھی فرمایا کہ جو شخص سورة مرسلٰت کی آخری آیت پر پہنچے تو اس کو اٰمَنَّا بِاللّٰہِ کہنا چاہیے۔
Ayah 75:32

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا

[وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى: اور لیکن (بلکہ) اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی ]
Ayah 75:33

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا

[ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ : پھر وہ گیا اپنے گھر والوں کی طرف ] [يَتمطّٰى: اکڑتا ہوا ] م ط ی [مَطَیًا : (س) ] لمبا ہونا۔ دراز ہونا۔ (تفعل) تَمَطُّیًا بتکلف دراز ہونا۔ اکڑ کر چلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 33 ۔
Ayah 75:34

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے

[اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى: (تباہی) زیادہ قریب ہے تیرے لیے، زیادہ قریب ]
Ayah 75:35

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

ہاں یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے

[ثُمَّ : پھر (I Repeat)] [اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى: (تباہی) زیادہ قریب ہے تیرے لیے، زیادہ قریب ]
Ayah 75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟

[اَيَحْسَبُ الْانسَان : کیا سمجھتا ہے انسان ] [ان يُّتْرَكَ : کہ وہ چھوڑ دیا جائے گا ] [سُدًى: (یوں ہی) بےلگام ]
Ayah 75:37

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟

[اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً : کیا وہ نہیں تھا ایک ایسی بوند ] [مِّنْ مَّنِيٍّ : کسی منی میں سے جو ] [يُّمْـنٰى: ٹپکائی گئی ]
Ayah 75:38

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے

[ثُمَّ كَان عَلَقَةً : پھر وہ تھا خون کا ایک لوتھڑا ] [فَخَلَقَ : تو اس نے بنایا (اس کو)] [فَسَوّٰى: پھر اس نے (ناک نقشہ) درست کیا ]
Ayah 75:39

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں

[فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ : پھر اس نے بنائے اس سے جوڑے ] [الذَّكَرَ وَالْانثٰى: مذکر اور مؤنث کے ]
Ayah 75:40

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کر دے؟

[اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ : کیا وہ قدرت رکھنے والا نہیں ہے ] [عَلٰٓي ان يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى: اس پر کہ وہ زندہ کرے مردوں کو ]