74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے

[يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ : اے کپڑے میں لپٹنے والے ] د ث ر [دُثُوْرًا : (ن) ] کپڑے کا میلا ہونا۔ بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونا۔ (تفعل) تَدَثُرا اِدَّثَّرًا۔ کپڑا اوڑھنا۔ کپڑے میں لپٹنا۔ مُدَّثِّرٌ اسم الفاعل ہے۔ کپڑے میں لپٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 1 ۔
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو اور خبردار کرو

[قُمْ فَانذِرْ : آپ ﷺ کھڑے ہوں پھر آپ ﷺ خبردار کریں (لوگوں کو)]
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو

[وَرَبَّكَ فَكَبِرْ : اور اپنے رب کی پھر آپ ﷺ بڑائی بیان کریں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 3 ۔ میں حکم دیا گیا کہ صرف اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے، قول سے بھی اور عمل سے بھی۔ اس جگہ لفظ رب اس لیے اختیار کیا گیا کہ یہ اس حکم کی علت ہے کیونکہ جو سارے جہان کا پالنے والا ہے صرف وہی ہر بڑائی اور کبریائی کا مستحق ہے (معارف القرآن) انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت میں توحید کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی صرف اللہ ہی کی کبریائی ویکتائی کا اعلان کہ اللہ کے سوا جو بھی کبریائی کے مدعی ہیں یا جن کی کبریائی کا دعوٰی کیا جاتا ہے، وہ سب باطل ہیں۔ ایک جاہلی معاشرہ میں یہ اعلان ساری خدائی سے لڑائی مول لینے کے ہم معنی تھا لیکن دین کی بنیاد چونکہ اسی کلمہ پر ہے اس لیے ہر نبی کو بےدرنگ یہ اعلان کرنا پڑا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑے پاک رکھو

[وَثِيَابَكَ فَطَهِرْ : اور اپنے کپڑوں کو پھر آپ ﷺ پاک رکھیں ] نوٹ۔ 2: وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ ۔ یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ ان کا ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو، کیونکہ جسم و لباس کی پاکیزگی اور روح کی پاکیزگی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک پاکیزہ روح گندے جسم اور ناپاک لباس میں نہیں رہ سکتی۔ رسول اللہ ﷺ جس معاشرے میں اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تھے وہ صرف عقائد اور اخلاق کی خرابیوں میں مبتلا نہ تھا بلکہ طہارت و نظافت کے بھی ابتدائی تصورات تک سے خالی تھا اور حضور ﷺ کا کام ان لوگوں کو ہر لحاظ سے پاکیزگی کا سبق سکھانا تھا۔ اس لیے ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنی ظاہری زندگی میں بھی طہارت کا ایک اعلیٰ معیار قائم فرمائیں۔ چناچہ یہ اسی ہدایت کا ثمرہ ہے کہ حضور ﷺ نے نوع انسانی کو طہارتِ جسم و لباس کی وہ مفصل تعلیم دی ہے جو زمانہ، جاہلیت کے اہل عرب تو درکنار، آج اس زمانے کی مہذب ترین قوموں کو بھی نصیب نہیں ہے، حتیٰ کہ دنیا کی بیشتر زبانوں میں ایسا کوئی لفظ تک نہیں پایا جاتا جو لفظ ” طہارت “ کا ہم معنی ہو۔ بخلاف اس کے اسلام کا حال یہ ہے کہ حدیث اور فقہہ کی کتابوں میں اسلامی احکام کا آغاز ہی کتاب الطہارت سے ہوتا ہے۔ ان الفاظ کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اپنا لباس صاف ستھرا رکھو۔ راہبانہ تصورات نے دنیا میں مذہبیت کا معیار یہ قرار دے رکھا تھا کہ آدمی جتنا زیادہ میلا کچیلا ہو، اتنا ہی زیادہ وہ مقدس ہوتا ہے۔ اگر کوئی ذرا اجلے کپڑے پہن لیتا تو سمجھا جاتا کہ وہ دنیا دار انسان ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے والے کے لیے یہ بات ضروری قرار دی گئی کہ اس کی ظاہری حالت بھی پاکیزہ اور نفیس ہو۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھو یعنی لباس صاف ستھرا تو ضرور ہو لیکن اس میں فخر و غرور، شان و شوکت اور نمائش کا شائبہ تک نہ ہونا چاہیے۔ چوتھا مفہوم یہ ہے کہ اپنا دامن پاک رکھو۔ اردو زبان کی طرح عربی زبان میں بھی پاک دامنی کے ہم معنی الفاظ اخلاقی برائیوں سے پاک ہونے اور عمدہ اخلاق سے آراستہ ہونے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ متعدد اکابر مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور گندگی سے دور رہو

[وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ : اور گندگی کو پس آپ ﷺ چھوڑ دیں ] نوٹ۔ 3: رُجْزٌ۔ رِجْزٌ اور رِجْسٌ تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس کا استعمال اس گندگی کے لیے ہوتا ہے جس کو دیکھ کر طبیعت میں ارتعاش اور گھن پیدا ہو۔ یوں تو اس سے ہر قسم کی گندگی مراد ہوسکتی ہے لیکن یہاں یہ خاص طور پر شرک کی گندگی کے لیے آیا ہے کہ اپنے دامن کو شرک کے چھینٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے شرک کی ناپاکی سے دور رہو۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے نہیں تھی کہ العیاذ باللہ آپ ﷺ کے کسی شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ مقصود صرف کفار و مشرکین کو آگاہ کرنا تھا کہ وہ جان لیں کہ جو خبردار کرنے والا ان کے پاس آیا ہے اس کا موقف ان کے دین شرک کے بارے میں کیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے اس باب میں کن ہدایات کے ساتھ مبعوث ہوا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے

[وَلَا تمنُنْ تَسْتَكْثِرُ : اور آپ ﷺ احسان مت کریں کثرت (بہت معاوضہ) چاہتے ہوئے ]
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو

[وَلِرَبِكَ فَاصْبِرْ : اور اپنے رب کے لیے پھر آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ]
Ayah 74:8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی

[فَاِذَا نُقِرَ فِي النَاقُوْرِ : پھر جب پھونکا جائے گا بگل میں ]
Ayah 74:9

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا

[فَذٰلِكَ يَوْمَىِٕذٍ : تو وہ (واقعہ) ایسے دن ہوگا جو ] [يَّوْمٌ عَسِيْرٌ: ایک دشوار دن ہے ] ترکیب : (آیت۔ 9 ۔ 10) فَذٰلِکَ کا اشارہ گذشتہ آیت میں اِذَا نُقِرَ کی طرف ہے۔ یَوْمَگذٍ نکرہ مخصوصہ ہے۔ یَوْمٌ عَسِیْرٌ (مرکب توصیفی) اور غَیْرُ یَسِیْرٍ (مرکب اضافی) دونوں اس کی خصوصیت ہیں۔
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں کے لیے ہلکا نہ ہوگا

[عَلَي الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ : کافروں پر کسی نرمی کے بغیر ہے ]
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے

[ذَرْنِيْ : آپ ﷺ چھوڑ دیں مجھ کو ] [وَمَنْ : اور اس کو جس کو ] [خَلَقْتُ وَحِيْدًا : میں نے پیدا کیا تنہا ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 11) ذَرْ فعل امر کا مفعول نِیْ کی ضمیر ہے اور مَنْ خَلْقُتُ کا مفعول مقدم ہے۔ جبکہ وَحِیْدًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اس کو خَلَقْتُ کی ضمیر فاعلی کا حال بھی مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں مطلب ہوگا کہ میں نے تنہا اس کو پیدا کیا۔ اس کام میں کوئی بھی میرا شریک نہیں اور اس کو مَنْ کا حال مانا جاسکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے دو مطلب ہوں گے۔ ایک یہ کہ ہر انسان (مَنْ واحد۔ جمع۔ مذکر۔ مؤنث سب کے لیے آتا ہے) ماں کے پیٹ سے اکیلا آتا ہے۔ مال و اولاد اور دیگر سازوسامان ساتھ نہیں لاتا۔ دوسرا یہ کہ اس کو اپنے ماں باپ کا اکلوتا پیدا کیا،
Ayah 74:12

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

بہت سا مال اُس کو دیا

[وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا : اور میں نے بنایا اس کے لیے بڑھایا ہوا مال ] (آیت۔ 12 ۔ 13) جَعَلْتُ کا مفعول مَالًا اور بَیِّنَ ہے۔ شُھُوْدًا کو جَعَلْتُ کا تیسرا مفعول بھی ماناجا سکتا ہے ایسی صورت میں مطلب ہوگا موقع پر حاضر رہنے والے یعنی نوکر چاکر، اور اس کو بَنِیْنَ کا حال بھی مانا جاسکتا ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب ) ۔ ہماری رائے ہے کہ چونکہ بَنِیْنَ اور شُھُوْدًا کے درمیان وائو عاطفہ نہیں ہے اس لیے بہتر ہے کہ شُھُوْدًا کو بَنِیْنَ حال مانا جائے۔
Ayah 74:13

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے

[وَّبَنِيْنَ شُهُوْدًا : اور بیٹے حاضر رہنے والے ]
Ayah 74:14

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی

[وَّمَهَّدْتُّ لَهٗ : اور میں نے ہموار کیا اس کے لیے (راہوں کو)] [تمهِيْدًا : جیسے ہموار کرتے ہیں ]
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں

[ثُمَّ يَطْمَعُ : پھر وہ للچاتا ہے ] [ان اَزِيْدَ : کہ میں زیادہ کروں ]
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے

[كَلَّا ۭ انهٗ كَان : ہرگز نہیں ! بیشک وہ تھا ] [لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا : ہماری آیتوں کی مخالفت کرنے والا ]
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواؤں گا

[سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًا : میں مبتلا کروں گا اس کو ایک دشوار چڑھائی میں ]
Ayah 74:18

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی

[انهٗ فَكَّرَ : بیشک اس نے غور و فکر کیا ] [وَقَدَّرَ : اور قدر و قیمت طے کی ]
Ayah 74:19

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

تو خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی

[فَقُتِلَ : تو مارا جائے (ستیاناس ہوجائے)] [كَيْفَ قَدَّرَ : کیسی اس نے قیمت طے کی ]
Ayah 74:20

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

ہاں، خدا کی مار اُس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی

[ثُمَّ : پھر (I Repeat)] [قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ : مارا جائے کیسی اس نے قیمت طے کی ]
Ayah 74:21

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا

[ثُمَّ نَــظَرَ : پھر اس نے نظر دوڑائی ]
Ayah 74:22

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا

[ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ : پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا ] ع ب س (ض) عَبْسًا ترش روئی کرنا۔ تیوری چڑھائی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 22 عَبُوْسٌ فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ صفت کے طور پر آتا ہے۔ انتہائی ترش رو۔ انتہائی بدمزاج۔ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا (بیشک ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے ایک ایسے دن سے جو انتہائی ترش، بہت شدید ہے) 76:10 ب س ر (ن) بُسُوْرًا (1) منہ بگاڑنا۔ منہ بسورنا (مایوسی سے) ۔ (2) چہرے کا اداس ہونا۔ چہرے کا مرجھانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 22 ۔ بَاسِرَۃٌ اسم الفاعل بَاسِرٌ کا مؤنث ہے۔ اداس ہونے والا۔ مرجھانے والا۔ وُجُوْہٌ یَّوْمَگذٍ بَاسِرَۃٌ (کچھ چہرے اس دن مرجھانے والے ہیں) 75:24
Ayah 74:23

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا

[ثُمَّ اَدْبَرَ : پھر اس نے پیٹھ پھیری ] [وَاسْتَكْبَرَ : اور بڑا بنا ]
Ayah 74:24

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

آخرکار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آ رہا ہے

[فَقَالَ ان هٰذَآ : تب اس نے کہا نہیں ہے یہ ] [اِلَّا سِحْرٌ: مگر ایک ایسا جادو جو ] [يُّؤْثَرُ : نقل کیا جاتا ہے ]
Ayah 74:25

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ تو یہ ایک انسانی کلام ہے

[ان هٰذَآ اِلَّا : نہیں ہے یہ مگر ] [قَوْلُ الْبَشَرِ : اس بشر کا قول ] نوٹ۔ 1: اس سورة کی پہلی سات آیات مکہ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ ہیں۔ سورة کا باقی ماندہ حصّہ آیت۔ 8 سے آخر تک اس وقت نازل ہوا جب اسلام کی علانیہ تبلیغ شروع ہوجانے کے بعد مکہ میں پہلی مرتبہ حج کا موقع آیا۔ اور مکہ کے لوگوں کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اس موقع پر تمام عرب سے حاجیوں کے قافلے آئیں گے، اگر محمد ﷺ نے ان قافلوں کی قیام گاہوں پر حاجیوں سے ملاقاتیں کیں اور اجتماعات میں قرآن جیسا مؤثر کلام سنایا تو عرب کے ہر گوشے تک ان کی دعوت پہنچ جائے گی اور نہ معلوم کون کون اس سے متاثر ہوجائے۔ اس لیے قریش کے سرداروں نے ایک کانفرنس کی جس میں طے کیا گیا کہ حاجیوں کے آتے ہی ان کے اندر رسول اللہ ﷺ کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جائے۔ اس پر اتفاق رائے ہوگیا تو ولید بن مغیرہ نے حاضرین سے کہا کہ اگر آپ لوگوں نے محمد ( ﷺ) کے متعلق مختلف باتیں لوگوں سے کہیں تو ہم سب کا اعتبار جاتا رہے گا۔ اس لیے کوئی ایک بات طے کرلو جسے سب بالاتفاق کہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا ہم کاہن کہیں گے۔ ولید نے کہا قرآن کو کاہنوں سے دور کی نسبت بھی نہیں ہے۔ کچھ نے کہا انھیں مجنون کہا جائے۔ ولید نے کہا کون باور کرے گا کہ محمد ( ﷺ) جو کلام پیش کرتے ہیں وہ دیوانگی کی بڑ ہے یا جنون کے دورے میں آدمی یہ باتیں کرسکتا ہے۔ لوگوں نے کہا اچھا تو پھر ہم شاعر کہیں گے۔ ولید نے کہا ہم شعر کی ساری اقسام سے واقف ہیں۔ اس کلام پر شاعری کی کسی قسم کا اطلاق بھی نہیں ہوسکتا۔ لوگ بولے تو ان کو ساحر کہا جائے۔ ولید نے کہا جادوگر اپنے جادو کے لیے جو طریقے اختیار کرتے ہیں، ان سے بھی ہم واقف ہیں۔ یہ بات بھی ان پر چسپاں نہیں ہوتی۔ پھر ولید نے کہا ان باتوں میں سے جو بات بھی تم کرو گے، لوگ اسے ناروا الزام سمجھیں گے۔ خدا کی قسم اس کلام میں بڑی حلاوت ہے۔ اس کی جڑ بڑی گہری اور اس کی ڈالیاں بڑی ثمردار ہیں۔ اس پر ابوجہل ولید کے سر ہوگیا اور اس نے کہا تمہاری قوم تم سے راضی نہ ہوگی جب تک تم محمد ( ﷺ) کے بارے میں کوئی بات نہ کہو۔ اس نے کہا اچھا مجھے سوچ لینے دو ۔ پھر سوچ سوچ کر بولا قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ تم عرب کے لوگوں سے کہو یہ شخص جادوگر ہے۔ یہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جو آدمی کو باپ۔ بھائی۔ بیوی۔ بچوں اور سارے خاندان سے جدا کردیتا ہے۔ ولید کی اس بات کو سب نے قبول کرلیا۔ پھر ایک منصوبہ کے مطابق حج کے زمانے میں قریش کے وفود حاجیوں کے درمیان پھیل گئے اور انھوں نے لوگوں کو خبردار کرنا شروع کیا کہ یہاں ایک ایسا شخص اٹھ کھڑا ہوا ہے جو بڑا جادوگر ہے اور اس کا جادو خاندانوں میں تفریق ڈال دیتا ہے، اس سے ہوشیار رہنا مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کا نام خود ہی سارے عرب میں مشہور کردیا۔ یہی واقعہ ہے جس پر اس سورة کے دوسرے حصّے یعنی آیت۔ 8 ۔ سے آخر تک ، میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن۔ ج 6 ۔ ص 138 تا 140 سے ماخوذ)
Ayah 74:26

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا

[سَاُصْلِيْهِ سَقَرَ : میں ڈالوں گا اس کو جھلسانے والی (دوزخ) میں ]
Ayah 74:27

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ؟

[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ : اور آپ ﷺ کیا جانیں کیا ہے جھلسانے والی ] ترکیب : (آیت۔ 27) سَقَرُ غیر منصرف ہے اور مؤنث سماعی بھی ہے۔ اس لیے آگے مُبْقِیْ ۔ تَذَرُ ۔ لَوَّاحَۃٌ اس کے لیے مؤنث کے صیغے آئے ہیں اور آگے اس کے لیے ضمیریں بھی مؤنث کی آئی ہیں۔
Ayah 74:28

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

نہ باقی رکھے نہ چھوڑے

[لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ : وہ باقی نہیں رہنے دیتی اور نہ چھوڑتی ہے ]
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

کھال جھلس دینے والی

[لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ : جھلسانے والی ہے انسانوں کو ] (آیت۔ 29) لَوَّاحَۃٌ خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھِیَ محذوف ہے۔ لِلْبَشَرِ متعلق خبر ہے اور اس پر لام جنس ہے اس لیے اس کا ترجمہ جمع میں ہوگا۔
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

انیس کارکن اُس پر مقرر ہیں

[عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ : اس پر انیس (فرشتے) ہیں ] (آیت۔ 30) عَلَیْھَا کی ضمیر سَقَرُ کے لیے ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 30 ۔ میں ہے کہ دوزخ پر انیس فرشتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہوگا اس کے افسرانیس فرشتے ہوں گے۔ جن میں سب سے بڑے ذمہ دار کا نام مالک ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 43:77، نوٹ۔ 1) ۔ حضرت شاہ عبد العزیز (رح) نے نہایت تفصیل سے انیس کے عدد کی حکمتیں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں۔ جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتے کی سرکردگی میں ہوگی۔ کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کے نہیں کرسکتے۔ لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ قوت اسی دائرے میں محدود ہے جس کام کے کرنے کے لیے وہ مامور ہوا ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے۔ مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچے کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ حضرت جبریل (علیہ السلام) چشم زدن میں وحی لاسکتے ہیں لیکن پانی برسانا ان کا کام نہیں ہے۔ جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا، آنکھ سن نہیں سکتی۔ اسی طرح اگر ایک فرشتہ عذاب کے واسطے دوزخیوں پر مقرر ہوتا تو اس سے ایک ہی قسم کا عذاب دوزخیوں پر ہوسکتا تھا۔ دوسری قسم کا عذاب جو اس کے دائرہ استعداد سے باہر ہے ممکن نہ تھا۔ اس لیے انیس قسم کے عذابوں کے لیے، جن کی تفصیل تفسیر عزیزی میں ہے، انیس ذمہ دار فرشتے مقرر ہوئے علماء نے اس عدد کی حکمتوں پر بہت کچھ کہا ہے مگر احقر کے نزدیک حضرت شاہ صاحب (رح) کا کلام بہت عمیق و لطیف ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) )
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو

[وَمَا جَعَلْنَآ : اور ہم نے نہیں بنایا (کسی کو)] [اَصْحٰبَ النَارِ : آگ والے (داروغہ)] [اِلَّا مَلٰۗىِٕكَةً : مگر کچھ فرشتوں کو ] [وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ : اور ہم نے نہیں بنایا ان کی گنتی کو ] [اِلَّا فِتْنَةً : مگر ایک آزمائش ] [لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا ] [لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ : تاکہ یقین حاصل کریں وہ لوگ جن کو ] [اُوْتُوا الْكِتٰبَ : دی گئی کتاب ] [وَيَزْدَادَ الَّذِينَ اٰمَنُوْٓا : اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ] [اِيْمَانا : بلحاظ ایمان کے ] [وَّلَا يَرْتَابَ الَّذِينَ : اور تاکہ شبہہ میں نہ پڑیں وہ لوگ جن کو ] [اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ : دی گئی کتاب اور مومن لوگ ] [وَلِيَقُوْلَ الَّذِينَ : اور تاکہ کہیں وہ لوگ ] [فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ: جن کے دلوں میں ایک روگ ہے ] [وَّالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر لوگ ] [مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ : کیا ارادہ کیا اللہ نے ] [بِهٰذَا مَثَلًا : اس (گنتی) سے بطور مثال کے ] [كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ : اس طرح پھسلا دیتا ہے اللہ ] [مَنْ يَّشَاۗءُ : اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] [وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ : اور وہ ہدایت دیتا ہے اس کو جس کو وہ چاہتا ہے ] [وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِكَ : اور نہیں جانتا آپ ﷺ کے رب کے لشکروں کو (کوئی بھی)] [اِلَّا هُوَ : مگر وہی ] [وَمَا ھِيَ : اور نہیں ہے یہ (سقر کی بات)] [اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ : مگر ایک یاددہانی انسانوں کے لیے ] (آیت۔ 31) لِیَسْتَیْقَنَ کے لام کَی پر عطف ہونے کی وجہ سے یَزْدَادَ اور یَرْتَابَ ، دونوں مضارع حالت نصب میں آئے ہیں کیونکہ لام کَی کے بعد اَنْ مقدر ہوتا ہے۔ وَمَاھِیَ ذِکْرٰی میں ھِیَ بھی سَقَرُ کے لیے ہے اور آیت۔ 26 ۔ سے اس کی جو بات چلی آرہی ہے اسے ذِکْرٰی کہا ہے۔ نوٹ۔ 2: اگلی آیت۔ 31 ۔ میں دوزخ کے کارکنوں کی تعداد بیان کرنے کی وجہ بیان کی گئی کہ یہ تعداد اس لئے بیان کی گئی کہ یہ ہر اس شخص کے لیے فتنہ بن جائے جو اپنے اندر کوئی کفر چھپائے بیٹھا ہو۔ اگر وہ خدا کی عظیم قدرتوں کے بارے میں یا وحی و رسالت کے بارے میں شک کا کوئی شائبہ بھی اپنے دل میں رکھتا ہے، تو یہ سنتے ہی کہ خدا کی اتنی بڑی جیل میں بیحد و حساب مجرموں کو صرف 19 سپاہی قابو میں رکھیں گے اور فرداً فرداً ایک ایک شخص کو عذاب بھی دیں گے، تو اس کا کفر فوراً کھل کر باہر آجائے گا۔ دوسری وجہ یہ بتائی گئی کہ اہل کتاب اس سے یقین حاصل کریں گے۔ بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ اہل کتاب کے ہاں چونکہ ان کی اپنی کتابوں میں جو دوزخ کے فرشتوں کی یہی تعداد بیان کی گئی ہے اس لیے یہ بات سن کر ان کو یقین آجائے گا کہ یہ بات فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی کی فرمائی ہوئی ہے۔ لیکن دو وجوہ سے یہ تفسیر صحیح نہیں ہے۔ اوّل یہ کہ یہود و نصارٰی کی کتابوں میں یہ بات کہیں نہیں ملتی کہ دوزخ کے فرشتوں کی تعداد۔ 19 ہے۔ دوسرے یہ کہ قرآن مجید میں بکثرت باتیں ایسی ہیں جو اہل کتاب کی مذہبی کتابوں میں بھی بیان کی گئی ہیں۔ لیکن وہ لوگ اس کی یہ توجیہ کردیتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ باتیں ان کی کتابوں سے نقل کرلی ہیں۔ ان وجوہ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میری زبان سے دوزخ کے انیس فرشتوں کا ذکر سنکر میرا خوب مذاق اڑایا جائے گا۔ اس کے باوجود بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی وحی میں بیان ہوئی تھی اسے انھوں نے کسی جھجھک کے بغیر لوگوں کے سامنے پیش کردیا اور کسی مذاق استھزاء کی پرواہ نہ کی۔ جہلائے عرب تو انبیاء کی اس شان سے ناواقف تھے، مگر اہل کتاب خوب جانتے تھے کہ انبیاء کا ہر زمانے میں یہی طریقہ رہا ہے کہ جو کچھ خدا کی طرف سے آتا تھا اسے وہ جوں کا توں لوگوں تک پہنچا دیتے تھے۔ اس بنا پر اہل کتاب سے یہ بات زیادہ متوقع تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل کو دیکھ کر انھیں یقین آجائے گا کہ ایسے سخت مخالف ماحول میں ایسی بظاہر انتہائی عجیب بات کو کسی جھجھک کے بغیر پیش کردینا ایک نبی ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 74:32

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی

[كَلَّا وَالْقَمَرِ : ہرگز نہیں ! قسم ہے چاند کی ]
Ayah 74:33

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے

[وَالَّيْلِ اِذْ اَدْبَرَ : قسم ہے رات کی جب اس نے پیٹھ پھیری ]
Ayah 74:34

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے

[وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ : قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے ]
Ayah 74:35

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے

[انهَا : بیشک یہ (بات)] [لَاِحْدَى الْكُبَرِ : یقینا بہت بڑی باتوں کی ایک ہے ] (آیت۔ 35 ۔ 36) اِنَّھَا لَاِحْدَی الْکُبَرِ میں اِنَّھَا کی ضمیر بھی سَقَرُ کے لیے ہے اور اَلْکُبَرِ ۔ کُبْرٰی کی جمع ہے۔ نَذِیْرًا۔ اِنَّھَا کا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ فَعِیْلٌ کے وزن پر آنے والے اسماء الصّفہ میں کبھی مذکر مؤنث میں فرق کرنے کے لیے تائے ثانیث لگاتے ہیں اور کبھی نہیں بھی لگاتے۔ اس لیے یہاں نَذِیْرَۃً کے بجائے نَذِیْرًا بھی درست ہے۔
Ayah 74:36

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

انسانوں کے لیے ڈراوا

[نَذِيْرًا لِلْبَشَرِ : خبردار کرنے والی ہوتے ہوئے انسانوں کے لیے ]
Ayah 74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے

[لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ : اس کے لیے جو چاہے تم میں سے ] [ان يَّتَقَدَّمَ : کہ وہ آگے بڑھے ] [اَوْ يَتَاَخَّرَ : یا (چاہے تو) پیچھے رہے ]
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر متنفس، اپنے کسب کے بدلے رہن ہے

[كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ : ہر جان، اس میں جو اس نے کمائی کی ] [رَهِيْنَةٌ: گروی رکھی ہوئی ہے ]
Ayah 74:39

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

دائیں بازو والوں کے سوا

[اِلَّآ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ : سوائے داہنی طرف والوں کے ]
Ayah 74:40

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

جو جنتوں میں ہوں گے وہاں وہ،

[فِيْ جَنّٰتٍ ۺ يَتَسَاۗءَلُوْنَ : (وہ لوگ) باغات میں ایک دوسرے سے پوچھیں گے ] نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیات ۔ 40 تا 48 ۔ میں جن مجرمین کا ذکر ہے ان کے متعلق یہ بات ذہن میں واضح کرلیں کہ یہ ملحدوں یا کافروں کا ذکر نہیں ہے بلکہ ایسے مسلمانوں کا ذکر ہے جو ایمانیات کو مانتے ہیں اور دل سے مانتے ہیں۔ آخرت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دنیاوی معاملات میں الجھتے وقت آخرت میں جوابدہی اور حساب کتاب کا خوف محسوس نہیں کرتے۔ اس طرح آخرت کی تکذیب عملی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے عمل میں کمزور ہیں۔ ٹی۔ وی دیکھ رہے ہیں یا کسی مجلس میں شخصیات پر گرما گرم بحث میں مبتلا ہیں، کسی کی غیبت ہے، کسی پر بہتان ہے یا روزہ رکھا ہوا ہے اور روزہ بہلانے کے لیے کلب میں بیٹھے تاش کھیل رہے ہیں، ایسے میں اذان کی آواز آجاتی ہے تو جلدی سے اپنا کام روک دیتے ہیں۔ اذان کا جواب دیتے ہیں اذان ختم ہونے کی دعا پڑھ کر منہ پر ہاتھ پھیر کے پھر شروع ہوجاتے ہیں اور نماز پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ البتہ اگر کبھی غیرت اسلامی کے مظاہرے کا موقع آجائے تو جلسہ جلوس، مارکٹائی، ڈکیتی اور قتل و غارتگری میں اسلام کی سربلندی کے لیے اس طرح شریک ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ حدود اور رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی ہدایات کو پیروں تلے روند کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔ اسلام کی خاطر ان کی سرفروشی کو دیکھ کر ہمارے جیسے کچے پکے مسلمان ان کو خود سے بہتر مسلمان سمجھتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے اگر معافی دے کر اپنی رحمت سے ہمیں جنت میں بھیج دیا یا رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے طفیل ہمیں دوزخ سے نکال کر جنت میں پہنچا دیا گیا، تو وہاں ہم ایسے سرفروشوں کو تلاش کریں گے اور ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ وہ جیالے کدھر ہیں، نظر نہیں آتے۔ پھر جب جنت کو چھوڑ کر دوزخ کا جائزہ لیں گے تو وہاں وہ نظر آجائیں گے اور ہم حیران ہو کر پوچھیں گے کہ حضرت آپ یہاں کیسے۔ اس وقت جو مکالمہ ہوگا، آیت۔ 47 ۔ تک میں اس کا بیان ہے اور آیت۔ 48 ۔ میں ایسے مجرموں کے لیے اللہ تعالیٰ کے حتمی فیصلے کا بیان ہے۔ (مرتب) وہ جو کہیں گے کہ ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں میں سے نہ تھے جنھوں نے خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتب کو مان کر خدا کا وہ اوّلین حق ادا کیا ہو جو ایک خدا پرست انسان پر عائد ہوتا ہے یعنی نماز۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نماز کوئی شخص اس وقت تک پڑھ ہی نہیں سکتا جب تک وہ ایمان نہ لایا ہو۔ اس لیے نمازیوں میں سے ہونا آپ سے آپ ایمان لانے والوں میں سے ہونے کو مستلزم ہے۔ لیکن نمازیوں میں سے نہ ہونے کو دوزخ میں جانے کا سبب قرار دے کر یہ بات واضح کردی گئی کہ ایمان لا کر بھی آدمی دوزخ سے نہیں بچ سکتا اگر وہ تارک نماز ہو۔ (تفہیم القرآن) مجرموں کے جواب کا آخری جملہ بہت اہم ہے جس میں انھوں نے کہا ” یہاں تک کہ آن پہنچا ہمارے پاس وہ یقین “ یعنی موت۔ ایک طرف اس میں حسرت ہے کہ قبل اس کے کہ ہم توبہ کرتے اور اپنی اصلاح کرتے، ہمارا وقت پورا ہوگیا اور ہمیں توبہ کا موقع نہیں ملا۔ دوسری طرف اس میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے جو اس عارضی دنیا میں اہل ایمان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے یعنی توبہ کا دروازہ۔ اور ہمارے لیے رہنمائی یہ ہے کہ کوئی پتہ نہیں توبہ کا دروازہ کب بند ہوجائے اس لیے ہر صاحب ایمان پر لازم ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً جائزہ لیتا رہے، اپنے اعمال کی اصلاح کرتا رہے اور محض اپنے ایمان کی پونجی کے بھروسے پر مت بیٹھا رہے۔ اس آیت میں موت کو الیقین اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دنیا میں جب انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے تو اس دنیا میں کھل جاتی ہے اور وہاں کی جن جن باتوں کی خبر انسان کو یہاں دی گئی ہے، وہ سب اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں۔ اس وقت اہل ایمان کا علم الیقین، عین الیقین میں ڈھل جاتا ہے اور اس وقت کٹر سے کٹر ملحد اور کافر بھی یقین لانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس یقین کی وادی کا دروازہ موت ہے۔ (مرتب) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ کے فرشتے، انبیائ، شہداء اور صالحین گنہگاروں کی شفاعت کریں گے اور وہ ان کی شفاعت سے جہنم سے نکال لیے جائیں گے سوائے ان چار قسم کے مجرمین کے جن کا ذکر یہاں آیا ہے۔ یعنی جو نماز اور زکوٰۃ کے تارک ہیں، جو اہل باطل کی اسلام کے خلاف باتوں میں ان کے شریک رہتے ہیں اور جو قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ (معارف القرآن) ہمارے جاننے والے چند اصحاب کو یہ بات تسلیم کرنے میں تردّد ہے کہ یہاں نکذب بیوم الدین سے مراد تکذیبِ عملی ہے جبکہ صوتحال یہ ہے کہ یہاں جتنے بھی جرائم کا ذکر ہے ان سب کا تعلق عمل سے ہے، کسی ایک کا بھی تعلق قول سے نہیں ہے۔ منکرِ صلوٰۃ اور منکر زکوٰۃ مجرم نہیں بلکہ کافر ہے۔ جب کہ تارک صلوٰۃ اور تارک زکوٰۃ کافر نہیں ہے مجرم ہے۔ جرم یہ ہے کہ وہ زبان سے ان کا اقرار کر رہا ہے اور اپنے عمل سے ان کی تکذیب کر رہا ہے۔ اسی طرح سے جو زبان سے آخرت کا اقرار کرے لیکن اس عقیدے کے عملی تقاضوں کو پورا نہ کرے وہ آخرت کے عقیدے کی عملی تکذیب کا مجرم ہے کافر نہیں ہے۔ ایک مسلمان جب خوض کرنے والوں کے ساتھ خوض کرتا ہے اور زندگی کے دیگر معاملات میں اللہ کی حکم عدولی کرتا ہے، اس وقت اس کے دل سے آخرت کا خوف نکل چکا ہوا ہے، چاہے زبان سے وہ آخرت کا اقرار کرتا ہو لیکن اپنے عمل سے وہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔ یہاں ایسے ہی لوگوں کا اعتراف جرم ہے۔ (مرتب) 18: جمادی الاوّل 1431 ھ بمطابق 3: مئی 2010 ء