73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے

[يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ : اے کپڑا لپیٹنے والے ] زم ل [زَمْلًا : (ن) ] کسی کو سواری پر پیچھے بٹھانا۔ (تفعل) تَزَمَّلًا اور اِزَّمُّلاً ۔ کپڑے کو اپنے اوپر لپیٹ لینا۔ مُزَّمِّلٌ اسم الفاعل ہے۔ لپیٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 1
Ayah 73:2

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم

[قُمِ الَّيْلَ : آپ ﷺ کھڑے رہیں رات کے وقت ] [اِلَّا قَلِيْلًا : سوائے تھوڑے (وقت) کے ] ترکیب : (آیت۔ 2) ۔ قُمْ ثلاثی مجرد سے فعل امر ہے، جو کہ لازم ہے، اس کا مفعول نہیں آتا۔ اس لیے اَلَّیْلَ ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 73:3

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

آدھی رات،

[نِّصْفَهٗٓ: جو اس (رات) کا آدھا ہے ] [اَوِ انقُصْ : یا آپ ﷺ (چاہیں تو) گھٹائیں ] [مِنْهُ قَلِيْلًا : اس (نصف) میں سے تھوڑا سا ] (آیت۔ 3 ۔ 4) قَلِیْلاً کا بدل ہونے کی وجہ سے نِصْفَہٗ حالت نصب میں ہے اور اس میں چہٗ کی ضمیر اَ لَّیْلَ کے لیے ہے۔ اُنْقُصْ مِنْہُ اور زِدْ عَلَیْہِ کی ضمیریں نِصْفَہٗ کے لیے ہیں۔
Ayah 73:4

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو

[اَوْ زِدْ عَلَيْهِ : یا آپ ﷺ (چاہیں تو) زیادہ کریں اس (نصف) پر ] [وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ : اور آپ ﷺ ترتیل سے پڑھیں قرآن کو ] [تَرْتِيْلًا : جیسا ترتیل کا حق ہے ] نوٹ۔ 1: ترتیل کا مطلب یہ ہے کہ تیز تیز رواں دواں مت پڑھو بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھہرو تاکہ ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم و مدّعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات وصفات کا ذکر ہے تو اس کے عظمت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس کی رحمت کا ذکر ہے تو دل جذباتِ تشکر سے لبریز ہوجائے۔ کہیں عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ رسول اللہ ﷺ کی قرأت کا طریقہ حضرت انس ؓ سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ آپ ﷺ الفاظ کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔ مثال کے طور پر انھوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ آپ ﷺ اللہ۔ رحمن اور رحیم کو مدّ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ بی بی ام سلمہ ؓ سے یہی سوال کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ حضور ﷺ ایک ایک آیت کو الگ الگ پڑھتے اور ہر آیت پر ٹھہرتے جاتے تھے۔ مثلاً اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ پڑھ کر رک جاتے، پھر اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پر ٹھہرتے اور اس کے بعد رک کر مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن کہتے۔ حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضور ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ کی قرأت کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دعا کا موقع آتا وہاں دعا مانگتے۔ (تفہیم القرآن) ترتیل میں تحسین صوت یعنی بقدر اختیار خوش آوازی سے پڑھنا بھی شامل ہے۔ (معارف القرآن) ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ قرآن لحن اور لَے سے پڑھتے تھے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں

[انا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ : بیشک ہم ڈالیں گے آپ ﷺ پر ] [قَوْلًا ثَـقِيْلًا : ایک وزنی قول ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 5 ۔ میں اس عظیم مقصد کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے قیام لیل کی یہ ہدایت دی گئی ہے۔ ارشاد ہوا کہ ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس بھاری بات کے تحمل کے لیے ایک پیشگی ریاضت اور تیاری کے طور پر یہ حکم ہوا، اس بھاری بات سے کیا مراد ہے، اس کے جواب میں مختلف اقوال منقول ہیں۔ زیادہ قرین قیاس رائے یہ ہے کہ اس سے مراد انذارِ عام ہے جس کا حکم اگلی سورة میں قُمْ فَاَنْذِرْ اور اس کے بعد جہادِ عظیم کی تیاری کے لیے دیا گیا جس سے آپ ﷺ کو صحابۂ کرام (رح) کو اقامت دین کی راہ میں سابقہ پیش آنے والا تھا۔ اقامتِ دین کی جدوجہد کی یہی وہ امتیازی خصوصیت ہے جو اس کو دوسری تمام تحریکات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کے لیے دوسرے وسائل و ذرائع کے فراہم ہونے سے پہلے معرفتِ رب، مستحکم ایمان، غیر متزلزل ایمان اور اپنے رب پر کامل اعتماد و توکل ضروری ہے۔ ان اوصاف کے حصول کا واحد ذریعہ نماز، اور بالخصوص شب کی نماز ہے۔ اسی چٹان پر اقامتِ دین کی جدوجہد کی بنیاد ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے

[ان نَاشِئَةَ الَّيْلِ : بیشک رات کا سو کر اٹھنا ] [هِيَ اَشَدُّ : یہ زیادہ سخت ہے ] [وَطْـاً : بلحاظ پامال کرنے کے ] [وَّاَقْوَمُ قِيْلًا : اور زیادہ سیدھی ہے بلحاظ بات کے ]
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیات ہیں

[ان لَكَ فِي النَّهَارِ : بیشک آپ ﷺ کے لیے دن میں ] [سَبْحًا طَوِيْلًا : طویل مصروفیت ہے ]
Ayah 73:8

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو

[وَاذْكُرِ : اور آپ ﷺ ذکر کریں ] [اسْمَ رَبِكَ : اپنے رب کے نام کا ] [وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ : اور سب سے الگ ہو کر آپ ﷺ لَو لگائیں ] [تَبْتِيْلًا : جیسا مسلسل الگ کیے جانے کا حق ہے ] ب ت ل [بَتَلًا : (ن۔ ض) کسی سے کوئی چیز کاٹ کر الگ کرنا۔ (تفعیل) تَبْتِیْلًا کسی سے کوئی چیز کاٹ کر مسلسل الگ رکھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ۔ (تفعل) تَبَتُّلًا کسی سے کٹ کر الگ ہونا۔ سب سے ٹوٹ کر اللہ سے لَو لگانا۔ زیر مطالعہ۔ آیت۔ 8 ۔ (آیت۔ 8) ۔ تَبَتَّلْ باب تفعل کا فعل امر ہے۔ اس کے مفعول مطلق کے طور پر باب تفعیل کا مصدر تَبْتِیْلًا آیا ہے لیکن یہ معروف نہیں بلکہ مجہول کے معنی میں ہے۔
Ayah 73:9

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو

[رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ : وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے ] [لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ : کوئی اِلٰہ نہیں سوائے اس کے ] [فَاتَّخِذْهُ : تو آپ ﷺ بنائیں اس کو ] [وَكِيْلًا : کام (بگڑی) بنانے والا ]
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ

[وَاصْبِرْ عَلٰي مَا : اور آپ ﷺ صبر کریں اس پر جو ] [يَقُوْلُوْنَ : یہ لوگ کہتے ہیں ] [وَاهْجُرْهُمْ : اور آپ ﷺ چھوڑ دیں ان کو ] [هَجْرًا جَمِيْلًا : جیسا خوبصورتی سے چھوڑنے کا حق ہے ] نوٹ۔ 3: چھوڑنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک چھوڑنا تو وہ ہے جو لعن طعن کے بعد فساد و انتقام کے جذبے کے ساتھ ہو اس طرح کا چھوڑنا عام دنیاداروں کا شیوہ ہے۔ انبیاء و صالحین یہ شیوہ اختیار نہیں کرتے۔ وہ خلق کی اصلاح کی کوشش اپنی کسی ذاتی منفعت کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی ہدایت اور اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ لوگ ان کی دل آزاری اور ناقدری کرتے ہیں تو انھیں غصہ یا نفرت کے بجائے ان کی محرومی اور بدانجامی پر صدمہ ہوتا ہے۔ وہ ان کے رویہ سے مجبور ہو کر ان کو چھوڑتے تو ہیں لیکن یہ چھوڑنا اسی طرح کا ہوتا ہے جس طرح ایک شریف باپ اپنے نالائق بیٹے کے رویہ پر خاموشی اور علیحدگی اختیار کرلیتا ہے۔ اس طرح کے چھوڑنے کو یہاں ھَجْرًا جَمِیْلًا سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اس طرح کی علیحدگی بعض اوقات مفید نتائج پیدا کرتی ہے۔ جن کے اندر خیر کی کوئی رمق ہوتی ہے وہ اس شریفانہ طرز عمل سے متاثر ہوتے ہیں اور اپنے رویہ کا جائزہ لینے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ (تدبر قرآن) ۔
Ayah 73:11

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اِن جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو اور اِنہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت پر رہنے دو

[وَذَرْنِيْ : اور آپ ﷺ چھوڑیں مجھ کو ] [وَالْمُكَذِّبِيْنَ : اور ان جھٹلانے والوں کو ] [اُولِي النَّعْمَةِ : جو خوشحالی والے ہیں ] [وَمَهِلْهُمْ : اور آپ ﷺ ڈھیل دیں ان کو ] [قَلِيْلًا : تھوڑی سی ]
Ayah 73:12

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ

[ان لَدَيْنَآ انكَالًا : بیشک ہمارے پاس بیڑیاں ہیں ] [وَّجَحِــيْمًا : اور دہکتی آگ ہے ]
Ayah 73:13

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب

[وَّطَعَامًا : اور ایک ایسا کھانا ہے جو ] [ذَا غُصَّةٍ : گلے میں اٹکنے والا ہے ] [وَّعَذَابًا اَلِـــيْمًا : اور ایک دردناک عذاب ہے ] غ ص ص [غَصَصًا : (س) ] کھانے یا پانی سے گلے میں پھندا لگنا۔ گلے میں اٹکنا۔ غُصَّۃٌ جس سے پھندا لگے۔ اٹکنے والی چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 13 ۔
Ayah 73:14

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

یہ اُس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں

[يَوْمَ تَرْجُفُ : جس دن کانپے گی ] [الْاَرْضُ وَالْجبالُ : یہ زمین اور سارے پہاڑ ] [وَكَانتِ الْجبالُ : اور ہوجائیں گے پہاڑ ] [كَثِيْبًا مَّهِيْلًا : بھربھری ریت کا ٹیلہ ] ک ث ب کَثْبًا جمع کرنا۔ اکٹھا کرنا (متعدی) جمع ہونا۔ اکٹھا ہونا (لازمی) کَثِیْبٌ فَعِیْلٌ کا وزن ہے۔ دائمی طور پر اکٹھا ہونے والا۔ ریت کا ٹیلا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔ ھـ ی ل [ھَیْلًا : (ض) مٹی ڈالنا۔ مٹی بکھیرنا۔ مَھِیْلً مَفْعُوْلٌ (اجوف یائی میں مَفِیْلٌ) کے وزن پر صفت ہے۔ بکھیری ہوئی۔ بھربھری مٹی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 (آیت۔ 14) کَانَتْ کا اسم اَلْجِبَالُ ہے جو کہ جمع ہے لیکن اس کے خبر کَثِیْبًا مَّھِیْلًا واحد لائی گئی ہے۔ یہ اسلوب اس حقیقت کی تاکید کے لیے اختیار کیا گیا ہے کہ بلا استثناء ہر ایک پہاڑ کَثِیْبًا مَّھِیْلًا ہوگا۔ مَھِیْلٌ مادہ ” م ھـ ل “ سے فَعِیْلٌ کا وزن نہیں ہے بلکہ یہ مادہ ” ھ ی ل “ کا اسم المفعول ہے ۔ یہ ہم پڑھ چکے ہیں کہ اجوف یائی کا اسم المفعول، مَفْعُوْلٌ کے وزن پر بھی آتا ہے اور مَفِیْلٌ کے وزن پر بھی جیسے مَبِیْعٌ (دیکھیں آسان عربی گرامر۔ حصّہ سوم۔ پیراگراف۔ 5:72) ۔ یہ مَفِیْلٌ کے وزن پر ہے۔
Ayah 73:15

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

تم لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا

[انآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ : بیشک ہم نے بھیجا تم لوگوں کی طرف ] [رَسُوْلًا ڏ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ : ایک ایسا رسول جو گواہی دینے والا ہے تم لوگوں پر ] [كَمَآ اَرْسَلْنَآ : جیسے کہ ہم نے بھیجا ] [اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا : فرعون کی طرف ایک رسول ]
Ayah 73:16

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

(پھر دیکھ لو کہ جب) فرعون نے اُس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا

[فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ : پھر نافرمانی کی فرعون نے ان رسول (علیہ السلام) کی ] [فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِيْلًا : تو ہم نے پکڑا اس کو ایک سخت پکڑ میں ]
Ayah 73:17

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اُس دن کیسے بچ جاؤ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

[فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ : پھر تم لوگ کیسے بچو گے ] [ان كَفَرْتم : اگر تم نے انکار کیا ] [يَوْمًا : ایک ایسے دن سے جو ] [يَّجْعَلُ الْوِلْدَان : بنا دے گا بچوں کو ] [شِيْبَۨا : بوڑھا ]
Ayah 73:18

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جا رہا ہوگا؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے

[السَّمَاۗءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ : آسمان پھٹنے والا ہے اس (دن) میں ] [كَان وَعْدُهٗ : اس کا وعدہ ہے ] [مَفْعُوْلًا : کیا ہوا ] (آیت۔ 18) اَلسَّمَائُ مبتدا ہے۔ اس کی خبر مُنْفَطِرَۃٌ مؤنث کے بجائے مذکر مُنْفَطِرٌ آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی میں اَلسَّمَائُ عام طور پر مؤنث استعمال ہوتا ہے لیکن چند قبیلے اس کو مذکر استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے عربی میں اس کا مؤنث اور مذکر، دونوں استعمال درست مانا جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے لکھنؤ والے دہی کو کھٹی کہتے ہیں اور دہلی والے کھٹا کہتے ہیں۔ دونوں اہل زبان ہیں۔ اس لیے اردو میں دہی کا مذکر اور مؤنث دونوں استعمال درست مانا جاتا ہے۔
Ayah 73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے

[ان هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ: بیشک یہ ایک یاددہانی ہے ] [فَمَنْ شَاۗءَ : پھر جو چاہے ] [اتَّخَذَ اِلٰى رَبِهٖ : وہ بنائے اپنے رب کی طرف ] [سَبِيْلًا : ایک راستہ ]
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

اے نبیؐ، تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے، اُسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کر سکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو اُسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہونگے، کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں، اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے

[ان رَبَّكَ يَعْلَمُ : بیشک آپ ﷺ کا رب جانتا ہے ] [انكَ تَقُوْمُ : کہ آپ ﷺ کھڑے ہوتے ہیں ] [اَدْنٰى: زیادہ قریب (تقریباً )] [مِنْ ثُلُـثَيِ الَّيْلِ : رات کے دوتہائی میں سے ] [وَنِصْفَهٗ : اور (کبھی) اس کے آدھے وقت ] [وَثُلُثَهٗ : اور (کبھی) اس کے ایک تہائی وقت ] [وَطَاۗىِٕفَةٌ: اور ایک گروہ (بھی)] [مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ : ان لوگوں میں سے جو آپ ﷺ کے ساتھ ہیں ] [وَاللّٰهُ يُقَدِّرُ : اور اللہ اندازہ مقرر کرتا ہے ] [الَّيْلَ وَالنَّهَارَ : رات کا اور دن کا ] [عَلِمَ ان لَّنْ تُحْصُوْهُ : اس نے جانا کہ تم لوگ ہرگز نہ نباہ سکو گے اس (قیام الیل) کو ] [فَتَابَ عَلَيْكُمْ : تو اس نے شفقت کی تم پر ] [فَاقْرَءُوْا : پس تم لوگ قرأت کرو ] [مَا تَيَسَّرَ : اتنی جتنی آسان ہو ] [مِنَ الْقُرْاٰنِ : قرآن میں سے ] [عَلِمَ ان سَيَكُوْنُ : اس نے جانا کہ ہوں گے ] [مِنْكُمْ مَّرْضٰى: تم میں سے کچھ مریض ] [وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ : اور کچھ دوسرے سفر کریں گے زمین میں ] [يَبْتَغُوْنَ : تلاش کرتے ہوئے ] [مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ : اللہ کے فضل میں سے (روزی)] [وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ : اور کچھ دوسرے قتال کریں گے ] [فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ میں ] [فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ : تو قرأت کرو اتنی جتنی آسان ہو اس میں سے ] [وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرو نماز کو ] [وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ : اور پہنچائو زکوٰۃ کو ] [وَاَقْرِضُوا اللّٰهَ : اور قرض دو اللہ کو ] [قَرْضًا حَسَنًا : ایک خوبصورت قرضہ ] [وَمَا تُقَدِّمُوْا لِانفُسِكُمْ : اور جو تم لوگ آگے بھیجو گے اپنے آپ کے لیے ] [مِّنْ خَيْرٍ : کوئی بھی نیکی ] [تَجِدُوْهُ : تو تم لوگ پائو گے اس کو ] [عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس ] [هُوَ خَيْرًا : وہی بہترین ہوتے ہوئے ] [وَّاَعْظَمَ اَجْرًا : اور عظیم ہوتے ہوئے بلحاظ اجر کے ] [وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ : اور مغفرت مانگو اللہ سے ] [ان اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ] [رَّحِيْمٌ: ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] ترکیب : ثُلْثَیِ دراصل ثُلُثَانِ تھا۔ اس پر مِنْ داخل ہوا تو یہ حالت جر میں ثُلُثَیْنِ ہوگیا۔ پھر یہ اَلَّیْل کا مضاف بنا تو نون اعرابی گرگیا اور یہ ثُلْثَیْ استعمال ہوا۔ نِصْفَہٗ اور ثُلُثَہٗ ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں اور ان کی چہٗ کی ضمیریں اَلَّیْل کے لیے ہیں۔ تُحْصُوْہُ میں ہُ کی ضمیر قِیَامُ الَّیْل کے لیے ہے۔ اَنْ مضارع کو نصب دیتا ہے لیکن اگر مضارع پر س آجائے تو پھر اَنْ کا عمل ساقط ہوجاتا ہے۔ اس لیے اَنْ سَیَکُوْنُ آیا ہے۔ مَاتُقَدِّمُوْا کا ما شرطیہ ہے۔ اس لیے تُقَدِّمُوْا مجزوم ہوا ہے۔ جبکہ تَجِدُوْا جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ خَیْرًا اور اَعْظَمَ کی نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے۔ نوٹ۔ 1: یہ آیت جس کے ذریعہ نماز تہجد کی فرضیت منسوخ ہوئی، شروع سورت کی آیات سے ایک سال یا آٹھ ماہ بعد نازل ہوئی ہے۔ مسند احمد، مسلم، ابودائود، ابن ماجہ اور نسائی میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اس سورت کے شروع میں قیام اللیل کو فرض کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام ؓ اس کی پابندی کرتے رہے۔ سورت کا آخری حصّہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں روک رکھا۔ سال بھر کے بعد آخری حصّہ نازل ہوا جس میں قیام اللیل کی فرضیت منسوخ ہو کر تخفیف ہوگئی اور اس کے بعد قیام اللیل صرف نفل و مستحب رہ گیا۔ (معارف القرآن) تفہیم القرآن میں اس رائے سے اختلاف کیا گیا ہے کہ یہ آخری آیت سورت کے نزول کے ایک سال بعد مکہ میں نازل ہوئی۔ صاحب تفہیم کی رائے ہے کہ یہ آخری آیت سورت کے نزول کے دس سال بعد مدینہ میں نازل ہوئی۔ اس کی سند میں ایک تابعی حضرت سعید بن جبیر (رح) کا قول نقل کیا ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ ” پہلے رکوع کا مضمون صاف بتارہا ہے کہ وہ مکہ معظمہ میں نازل ہوا ہے۔ اور وہاں بھی اس کا نزول ابتدائی دور میں ہوا ہے جبکہ حضور ﷺ کی نبوت کا آغاز ہونے پر زیادہ سے زیادہ چار سال گزرے ہوں گے۔ بخلاف اس کے یہ دوسرا رکوع اپنے مضامین کی صریح شہادت کے مطابق مدینہ کا نازل شدہ معلوم ہوتا ہے، جب کفار سے جنگ کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا اور زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم بھی آچکا تھا۔ “ لیکن میرا ذہن اس دلیل کو قبول کرنے سے معذور ہے۔ اس آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے میرا ذہن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ بی بی عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کے اقوال میں اور اس آیت کے مضامین میں کوئی بعد یا تضاد نہیں ہے۔ میں اپنی رائے نقل کر رہا ہوں تاکہ امانت ادا ہوجائے۔ سورة المزّمل کے پہلے رکوع کے نزول کے لگ بھگ ایک سال بعد جب یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس وقت صورتحال یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ آدھی آدھی رات، ایک ایک تہائی رات اور کبھی دو تہائی رات عبادت میں گزار کر قیام اللیل کے حکم کو نباہ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بات کا آغاز ہی اسی صورتحال کی تحسین سے کیا ہے۔ اور پھر اس حکم میں تخفیف کی وجہ بیان کی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اس تخفیف کی بنیاد نہ کسی ایسی صوتحال پر تھی جو اس وقت موجود تھی اور نہ کسی ایسے واقعہ پر تھی جو وقوع پذیر ہوچکا تھا بلکہ اس کی بنیاد ایسے حالات و واقعات پر تھی جو مستقبل میں پیش آنے والے تھے اور اللہ کو ان کا علم تھا۔ اس بات کو ذہن میں رکھ کر جب ہم آیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو کسی ابہام کے بغیر بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ تم لوگ قیام اللیل کے فرض کو ابھی تو نباہ رہے ہو لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آگے چل کر تم لوگ اسے ہرگز نہ نباہ سکو گے۔ اس لیے اس حکم کی فرضیت ختم ہے۔ اس کا نعم البدل یہ ہے کہ تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرو۔ جو لوگ رات میں عبادت کے لیے جاگیں ان کے لیے اب نصف شب کے لگ بھگ عبادت کرنا ضروری نہیں ہے۔ جو جتنی دیر آسانی سے عبادت کرسکے اور تلاوت کرسکے وہ کرلے۔ اور جو لوگ رات میں جاگ نہیں سکتے وہ دن میں تلاوت کا خصوصی اہتمام کریں۔ اس کے بعد ان چند وجوہات کا ذکر ہے جن کی وجہ سے یہ تخفیف کا حکم دیا گیا تھا۔ اس میں نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ بات کا آغاز اَنْ یَّکُوْنَ سے نہیں کیا گیا، کیونکہ اس میں حال اور مستقبل دونوں کے معنی ہیں۔ اس کے بجائے بات کا آغاز اَنْ سَیَکُوْنُ سے کیا گیا تاکہ حال کے معنی ختم ہوجائیں۔ اس لیے آیت کے متعلقہ جز کے معنی اب یہ نہیں رہے کہ تم میں کچھ مریض ہوجاتے ہیں کچھ تجارتی سفر کرتے ہیں اور کچھ قتال کرتے ہیں، بلکہ اب معنی صرف یہ رہ گئے کہ تم میں کچھ مریض ہوجائیں گے، کچھ تجارتی سفر کریں گے اور کچھ قتال کریں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آگے چل کر پیش آنے والے ایسے حالات کے پیش نظر یہ حکم اتارا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت بھی لوگ بیمار پڑتے تھے لیکن اس وقت لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ جیسے جیسے انسان مہذب ہوتا جائے گا، اس کے جسمانی نظام کی قوت مدافعت کمزور ہوتی جائے گی اور نت نئے امراض کا اضافہ ہوتا رہے گا۔ البتہ اللہ جانتا تھا۔ اس وقت بھی صحابۂ کرام ؓ معاشی اور تجارتی کام کرتے تھے لیکن قریش کے تجارتی قافلوں میں ان کی عدم شمولیت کی وجہ سے ان کے تجارتی سفر نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔ اور ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ صورتحال کبھی تبدیل ہوگی۔ لیکن اللہ جانتا تھا کہ نہ صرف ان کے تجارتی اسفار میں اضافہ ہونے والا ہے بلکہ ایک وقت وہ بھی آنے والا ہے جب اہل ایمان اندلس سے انڈونیشیا تک، یعنی اس وقت کی معلوم دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تجارتی سفر کریں گے۔ اس وقت صحابۂ کرام ؓ کو قتال کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن اللہ جانتا تھا کہ نہ صرف قتال کی اجازت دی جائے گی بلکہ ایک وقت وہ بھی آئے گا جب قتال فرض قرار دیا جائے گا۔ اس طرح مستقبل کی صورتحال کی طرف اشارے کر کے صحابۂ کرام ؓ کو تسلی بھی دی گئی اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ مستقبل کے یہ حالات اتنے یقینی ہیں کہ ان کی وجہ سے تخفیف کا حکم بھی نازل کیا جا رہا ہے۔ اس آیت کے زمانۂ نزول کے متعلق بی بی عائشہ صدیقہ ؓ اور ابن عباس ؓ کے اقوال پر شک کرنے کی دوسری وجہ آیت کا اگلا حصہ ہے جس میں مستقبل کی طرف اشارے کرنے کے بعد پھر قیام اللیل کے نعم البدل یعنی تلاوتِ قرآن کے ذکر کے ساتھ ہدایت دی گئی کہ نماز قائم رکھو، زکوٰۃ پہنچاتے رہو اور اللہ کو قرض حسن دیتے رہو۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نماز معراج میں اور زکوٰۃ ہجرت کے بعد فرض ہوئی ہے اس لیے یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن یہ دلیل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ معراج میں پانچ وقت کی نمازیں اپنے اوقات کے تعین کے ساتھ فرض ہوئی ہیں لیکن نماز کی ہدایت اس سے پہلے سے موجود تھی۔ مکی صورتوں میں جگہ جگہ واضح الفاظ میں یہ ہدایت موجود ہے۔ بات کو سمجھنے کے لیے ان شاء اللہ ایک ہی آیت کا حوالہ کافی ہوگا۔ سورة ھود کی آیت۔ 114 ۔ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اور آپ ﷺ قائم رکھیں نماز کو دن کے دونوں کناروں پر اور کچھ حصّوں میں رات میں سے۔ “ آیت کے اس جز کی تشریح تفہیم القرآن میں ان الفاظ میں کی گئی ہے۔ ” دن کے دونوں سروں پر سے مراد صبح اور مغرب ہے اور کچھ رات گزرنے پر سے مراد عشاء کا وقت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارشاد اس زمانے کا ہے جب نماز کے لیے ابھی پانچ وقت مقرر نہیں کیے گئے تھے۔ معراج کا واقعہ اس کے بعد پیش آیا جس میں پنج وقتہ نماز فرض ہوئی۔ “ اب کوئی ابہام نہیں رہتا کہ آیت زیر مطالعہ میں اس وقت کی ہدایت کے مطابق نماز قائم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اسی طرح سے زکوٰۃ کے قواعد و ضوابط کو آخری شکل یقینا مدینہ میں دی گئی ہے لیکن زکوٰۃ کا حکم پہلے سے موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد مکی سورتوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً سورة المؤمنون کی پہلی گیارہ آیات میں مومنوں کی صفات بیان کی گی ہیں۔ ان میں سے آیت نمبر۔ 4 ۔ میں ہے کہ وہ لوگ زکوٰۃ پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی تشریح میں ” ابن کثیر اور دیگر مفسرین کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت مکہ ہی میں ہوچکی تھی۔ مگر سرکاری طور پر اس کے وصول کرنے کا انتظام اور نصابات وغیرہ کی تفصیلات مدینہ جانے کے بعد جاری ہوئیں۔ “ (معارف القرآن) ان وجوہات کی بنا پر میر اذہن اس پر آمادہ نہیں ہوتا کہ جلیل القدر صحابۂ کرام کے اقوال کو چھوڑ کر ایک تابعی (رح) کے قول کو ترجیح دی جائے، اور وہ بھی آیات کے زمانۂ نزول کے بارے میں۔ نوٹ۔ 2: مَاتُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیج دیا وہ تمہارے لیے اس سے زیادہ نفع بخش ہے جو تم نے دنیا میں روک رکھا اور کسی بھلائی کے کام میں اللہ کی رضا کی خاطر خرچ نہ کیا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تم میں سے کون ہے جس کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب نہ ہو۔ فرمایا سوچ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارا حال واقعی یہی ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا اپنا مال تو وہ ہے جو تم نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیج دیا اور جو کچھ تم نے روک کر رکھا وہ تو وارث کا مال ہے۔ (تفہیم القرآن)