Ayah 72:1[قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ : آپ ﷺ کہیے وحی کیا گیا میری طرف ] [انهُ : کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [اسْتمعَ نَفَرٌ: دھیان سے سنا ایک ایسی ٹولی نے جو ] [مِّنَ الْجِنِّ : جنوں میں سے تھی ] [فَقَالُوْٓا انا سَمِعْنَا : پھر انھوں نے کہا بیشک ہم نے سنا ] [قُرْاٰنًا عَجبا : ایک عجیب پڑھی جانے والی چیز ]
ترکیب : آیات۔ 1 ۔ 3 ۔ 4 ۔ 6 ۔ میں اَنَّہٗ کے الفاظ آئے ہیں۔ ان ضمیروں کا کوئی مرجع نہیں ہے، اس لیے یہ سب ضمیر الشان ہیں۔ دیکھیں آیت۔ 2:85، نوٹ۔ 1 ۔ (آیت۔ 1) یہاں پر لفظ قُرْاٰنًا، کلام اللہ کے اسم علم کے طور پر نہیں بلکہ اپنے لغوی معنی میں آیا ہے، دیکھیں آیت۔ 2:185 ۔ مادہ ” ق ر ئ “ ۔
Ayah 72:2[يَّهْدِيْٓ اِلَى الرُّشْدِ : جو ہدایت دیتی ہے نیک راہ کی طرف ] [فَاٰمَنَا بِهٖ : تو ہم ایمان لائے اس پر ] [وَلَنْ نُّشْرِكَ : اور ہم ہرگز شریک نہیں کریں گے ] [بِرَبِنَآ اَحَدًا : اپنے رب کے ساتھ کسی ایک کو (بھی)]
Ayah 72:3[وَّانهٗ : اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [تَعٰلٰى جَدُّ رَبِنَا : بلند ہوئی ہمارے رب کی عظمت ] [مَا اتَّخَذَ : اس نے نہیں بنایا ] [صَاحِبَةً : کوئی ساتھی (بیوی)] [وَّلَا وَلَدًا : اور نہ کوئی اولاد ]
Ayah 72:4[وَّانهٗ : اور یہ کہ سچ یہ ہے کہ ] [كَان يَقُوْلُ : کہا کرتا تھا ] [سَفِيْهُنَا : ہم میں کا بیوقوف (سردار)] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر (باتیں)] [شَطَطًا : حد سے گزرتے ہوئے ]
نوٹ۔ 2: آیات۔ 4 ۔ 5 ۔ سے مراد یہ ہے کہ ایمان لانے والے جنات نے اب تک شرک و کفر میں مبتلا رہنے کا عذر یہ بیان کیا کہ ہماری قوم کے بےو قوف لوگ اللہ تعالیٰ کی شان میں بےسروپا باتیں کیا کرتے اور ہمیں یہ گمان نہ تھا کہ کوئی انسان یا جن اللہ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرسکتا ہے اس لیے ان بیوقوفوں کی باتوں میں آ کر آج تک ہم کفرو شرک میں مبتلا تھے۔ اب قرآن سنا تو حقیقت کھلی۔ (معارف القرآن)
ان آیات سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ جنات عوام کے طبقہ سے تھے ’ ان کے سردار جس ڈگر پر ان کو چلاتے رہے، اس پر وہ چلتے رہے۔ لیکن جب حقیقت ان پر واضح ہوگئی تو انھوں نے ان کی اطاعت کا قلاوہ اپنی گردنوں سے نکال پھینکا اور اللہ کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم پر چل پڑے۔ آنحضرت ﷺ کے واسطہ سے قریش کے عوام کو یہ باتیں اس لیے سنائی گئیں کہ ان کے اندر بھی اپنے احمق لیڈروں کے پھندے سے نکلنے اور اپنی عقل و بصیرت پر اعتماد کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 3: عربی لغت میں لفظ سَمَائٌ جس طرح آسمان کے لیے بولا جاتا ہے اسی طرح بادل پر بھی لفظ سَمَائٌ کا اطلاق عام اور معروف ہے۔ آیت۔ 8 ۔ میں بظاہر سَمَائٌ سے مراد یہی بادل ہے۔ اور جنات لوگوں کا آسمانی خبریں سننے کے لیے آسمان تک جانے کا مطلب یہی ہے کہ وہ بادلوں تک جاتے تھے اور وہاں سے آسمانی خبریں سنتے تھے۔ اس کی دلیل حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے۔ آپ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ فرشتے عنان سماء میں اترتے ہیں جس کے معنیٰ بادل کے ہیں۔ وہاں وہ ان فیصلوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان میں جاری فرمائے ہیں۔ یہاں سے شیاطین یہ خبریں چراتے ہیں اور سن کر کاہنوں کے پاس لاتے ہیں اور اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کر ان کو بتاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین کا آسمانی خبریں سن کر کاہنوں تک پہنچانے کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری تھا مگر رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت آسمانی وحی کی حفاظت کے لیے اس سلسلہ کو اس طرح بند کردیا گیا کہ جب کوئی شیطان خبریں سننے کے لیے اوپر آتا تو اس کی طرف شہاب ثاقب کا انگارہ پھینک کر اس کو دفع کردیا جاتا ہے۔ یہی وہ نیا حادثہ تھا جس کو تحقیق حال کے لیے دنیا کی مشرق و مغرب میں جنوں نے وفود بھیجے پھر مقام نخلہ میں رسول اللہ ﷺ سے قرآن سن کر جنوں کے ایک وفد کا ایمان لانا اس سورة میں ذکر فرمایا گیا۔ یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ شہاب ثاقب جس کو عرفِ عام میں ستارہ ٹوٹنا کہتے ہیں، یہ تو دنیا میں قدیم زمانے سے ہوتا آیا ہے، جب کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہد نبوی کی خصوصیت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شہاب ثاقب کا وجود تو ابتداء عالم سے ہے مگر اس آتشیں مادہ سے شیاطین کو دفع کرنے کا کام رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے شروع ہوا اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جتنے شہاب ثاقب نظر آتے ہیں، سب سے ہی یہ کام لیا جاتا ہو۔ (معارف القرآن)
Ayah 72:5[وَّانا ظَنَنَآ : اور یہ کہ ہم نے گمان کیا ] [ان لَّنْ تَقُوْلَ : کہ ہرگز نہیں کہیں گے ] [الْانسُ وَالْجِنُّ : انسان اور جن ] [عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : اللہ پر کوئی جھوٹ ]
(آیت۔ 5) یہاں تَقُوْلَ واحد مؤنث کا صیغہ ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ فاعل اگر اسم ظاہر ہو تو فعل ہمیشہ واحد آتا ہے، البتہ جنس میں اس کا صیغہ اسم ظاہر کی جنس کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسم ظاہر عاقل کی جمع مکسر ہو یا اسم الجمع ہو یا مؤنث غیر حقیقی ہو، تو پھر فعل واحد مذکر اور واحد مؤنث، دونوں طرح سے لانا جائز ہے۔ یہاں اَلْاِنْسُ وَالْجِنُّ اسم الجمع ہیں اس لیے واحد مؤنث کا صیغہ بھی جائز ہے۔
Ayah 72:6[وَّانهٗ : اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [كَان رِجَالٌ: تھے کچھ ایسے مرد ] [مِّنَ الْانسِ : انسانوں میں سے ] [يَعُوْذُوْنَ : جو پناہ پکڑتے تھے ] [بِرِجَالٍ : کچھ ایسے مردوں کی جو ] [مِّنَ الْجِنِّ : جنوں میں سے تھے ] [فَزَادُوْهُمْ : تو انھوں (انسانوں) نے زیادہ کیا ان (جنوں) کو ] [رَهَقًا : بلحاظ سر چڑھنے کے ]
(آیت۔ 6) فَزَادُوْھُمْ میں زَادُوْا کی ضمیر فاعلی رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ کے لیے بھی ہوسکتی ہے اور رِجَالٌ مِّنَ الْجِنِّ کے لیے بھی۔ اسی طرح ھُمْ کی ضمیر مفعولی کو بھی دونوں میں سے کسی کے لیے بھی ماننے کی گنجائش موجود ہے۔ دونوں طرح کے ترجمے درست مانے جائیں گے۔
Ayah 72:7[وَّانهُمْ ظَنُّوْا : اور یہ کہ ان (انسانوں) نے گمان کیا ] [كَمَا ظَنَنْتم : جیسے تم (جن) لوگوں نے گمان کیا ] [ان لَّنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ : ہرگز نہیں اٹھائے گا اللہ ] [اَحَدًا : کسی ایک کو (بھی قبر سے)]
(آیت۔ 7) وَاَتَّھُمْ ظِلُّوْا میں اَتَّھُمْ ضمیر الشان نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ہمیشہ واحد مذکر یا واحد مؤنث کی ضمیر سے آتی ہے۔ یہاں ھُمْ کی ضمیر اَنَّ کا اسم ہے اور ظَنُّوْا جملہ فعلیہ بن کر اَنَّ کی خبر ہے اور ھُمْ کی ضمیر انسانوں کے لیے ہے بَعَثَ کا اصل مفہوم ہے کسی کو اٹھا کر کسی طرف بھیجنا۔ اس لیے یہ لفظ اٹھانا اور بھیجنا، دونوں معانی میں آتا ہے۔ یہاں لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ کسی کو قبر سے نہیں اٹھائے گا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ اب کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ دونوں ترجمے درست ہوں گے۔
Ayah 72:8[وَّانا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ : اور یہ کہ ہم نے بیشک چھوا (ٹٹولا) آسمان کو ] [فَوَجَدْنٰهَا : تو ہم نے پایا اس کو ] [مُلِئَتْ : (کہ) اس کو بھر دیا گیا ] [حَرَسًا شَدِيْدًا : بڑے سخت محافظوں کے دستوں سے ] [وَّشُهُبًا : اور انگاروں سے ]
ح ر س
حَرْسًا حفاظت کرنا۔ پہرہ دینا۔
حَارِسٌ ج حَرَسٌ۔ فَاعِلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ حفاظت کرنے والا۔ چوکیدار۔ پہرے دار۔
حَرَسِیٌّ ج حَرَسٌ۔ اسم الجمع ہے۔ محافظوں کا دستہ۔ باڈی گارڈوں کا دستہ زیر مطالعہ آیت۔ 8 ۔
Ayah 72:9[وَّانا كُنَا نَقْعُدُ : اور یہ کہ ہم بیٹھا کرتے تھے ] [مِنْهَا مَقَاعِدَ : اس (آسمان) میں بیٹھنے کی جگہوں (مورچوں) پر ] [لِلسَّمْعِ : سننے کے لیے ] [فَمَنْ يَّسْتمعِ الْاٰنَ : پس جو (کوئی) سنتا ہے اب ] [يَجِدْ لَه : تو وہ پاتا ہے اپنے لیے ] [شِهَابًا رَّصَدًا : ایک گھات میں بیٹھنے والا انگارہ ]
نوٹ۔ 1: یہاں یہ جان لینا ضروری ہے کہ جنوں کی حقیقت کیا ہے تاکہ ذہن کسی الجھن کا شکار نہ ہو۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جن کسی حقیقی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بھی پرانے زمانے کے اوہام میں سے ایک بےبنیاد خیال ہے۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ اس طرز فکر سے متاثر ہیں، مگر قرآن کا انکار بھی نہیں کرسکتے، انھوں نے جن، ابلیس اور شیطان کے متعلق قرآن کے صاف صاف بیانات کو طرح طرح کی تاویلات کا تختۂ مشق بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد کوئی ایسی پوشیدہ مخلوق نہیں ہے جو اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہو، بلکہ کہیں تو اس سے مراد انسان کی اپنی بہیمی قوتیں ہیں جنھیں شیطان کہا گیا ہے اور کہیں اس سے مراد وحشی اور جنگلی اور پہاڑی قومیں ہیں اور کہیں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو چھپ چھپ کر قرآن سنا کرتے تھے۔ لیکن قرآن مجید کے ارشادات اس معاملہ میں اس قدر صاف اور صریح ہیں کہ ان تاویلات کے لیے ان کے اندر کوئی گنجائش نہیں ہے۔
قرآن میں بکثرت مقامات پر جن اور انسان کا ذکر اس حیثیت سے کیا گیا ہے کہ یہ دو الگ قسم کی مخلوقات ہیں۔ سورة رحمن تو پوری کی پوری اس پر ایسی صریح شہادت دیتی ہے کہ جنوں کو انسانوں کی کوئی قسم سمجھنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی۔ اعراف۔ 12، فجر۔ 26 ۔ 27، رحمن۔ 14 ۔ 15 میں صاف صاف بتایا گیا کہ انسان کا مادئہ تخلیق مٹی ہے اور جنوں کا مادئہ تخلیق آگ ہے۔ سورة حجر۔ 27 ۔ میں صراحت کی گئی کہ جن انسان سے پہلے پیدا کئے گئے اسی بات پر قصّہ آدم و ابلیس شہادت دیتا ہے جو قرآن میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کے وقت ابلیس موجود تھا۔ پھر سورة کہف۔ 50 ۔ میں بتایا گیا کہ ابلیس جنوں میں سے ہے۔ سورة اعراف۔ 27 ۔ میں صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ جن انسانوں کو دیکھتے ہیں مگر انسان ان کو نہیں دیکھتے۔ سورة حجر۔ 16 تا 18، سورة صافّٰات۔ 6 تا 10، اور سورة ملک۔ 5 ۔ میں بتایا گیا ہے کہ جن عالم بالا کی طرف پرواز کرسکتے ہیں مگر ایک حد سے آگے نہیں جاسکتے۔ اس سے اوپر جانے کی کوشش کریں تو انھیں روک دیا جاتا ہے۔ اس سے مشرکین کے اس خیال کی تردید کی گئی ہے کہ جن غیب کا علم رکھتے ہیں۔ اسی خیال کی تردید سورة سبا۔ 14 ۔ میں بھی کی گئی ہے۔ سورة بقرہ۔ 30 تا 34 ۔ اور سورة کہف۔ 50 ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی خلافت اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے اور انسان جنوں سے افضل مخلوق ہے اگرچہ بعض غیر معمولی طاقتیں جنوں کو بھی بخشی گئی ہیں، جن کی ایک مثال سورة نمل۔ 7 ۔ میں ملتی ہے۔ لیکن اس طرح بعض طاقتیں حیوانات کو بھی انسان سے زیادہ ملی ہیں اور وہ اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ جانوروں کو انسان پر فضیلت حاصل ہے۔ قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جن انسان کی طرح ایک بااختیار مخلوق ہے اور اس کو کفر و ایمان کا ویسا ہی اختیار دیا گیا ہے جیسا انسان کو دیا گیا ہے۔ قرآن میں یہ حقیقت بھی بیان کی گئی ہے کہ ابلیس نے تخلیقِ آدم کے وقت ہی یہ عزم کرلیا تھا کہ وہ نوع انسانی کو گمراہ کرے گا اور اسی وقت سے شیاطین جن انسان کو گمراہ کرنے کے در پے ہیں مگر وہ زبردستی کوئی کام کرانے کی طاقت نہیں رکھتے، بلکہ وہ اس کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں اور بدی و گمراہی کو خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔
ان تفصیلات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جن انسان سے الگ ایک دوسری ہی نوع کی پوشیدہ مخلوق ہیں۔ ان کی پراسرار صفات کی وجہ سے جاہل لوگوں نے ان کے متعلق بڑے مبالغہ آمیز تصورات قائم کر رکھے ہیں حتیٰ کہ ان کی پرستش تک کر ڈالی ہے۔ مگر قرآن نے ان کی اصل حقیقت پوری طرح کھول کر بیان کردی ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں۔ (تفہیم القرآن ج 6، ص 109 تا 1 11)
Ayah 72:10[وَّانا لَا نَدْرِيْٓ: اور یہ کہ ہم نہیں جانتے ] [اَشَرٌّ اُرِيْدَ : آیا کسی برائی (عذاب) کا ارادہ کیا گیا ] [بِمَنْ فِي الْاَرْضِ : ان کے بارے میں جو زمین میں ہیں ] [اَمْ اَرَادَ بِهِمْ : یا ارادہ کیا ان کے بارے میں ] [رَبُّهُمْ رَشَدًا : ان کے رب نے کسی بھلی راہ کا ]
ترکیب : (آیت۔ 10) لَا نَدْرِیْ کے آگے اَشَرٌّ سے لے کر رَشَدًا تک پورا جملہ نَدْرِیْ کا مفعول ہے۔ اُرِیْدَ ما ضی مجہول ہے اور اس کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے شَرٌّ حالت رفع میں ہے
نوٹ۔ 1: اس (آیت۔ 10) سے معلوم ہوا کہ عالم بالا میں اس قسم کے غیر معمولی انتظامات (جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے) دو ہی حالتوں میں کیے جاتے تھے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین پر کوئی عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا ہو اور منشائے الٰہی یہ ہو کہ اس کے نزول سے پہلے جن اس کی بھنک پا کر اپنے دوست انسانوں کو خبردار نہ کردیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ نے زمین میں کسی رسول کو مبعوث فرمایا ہو اور تحفظ کے ان انتظامات سے مقصود یہ ہو کہ رسول کی طرف جو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، ان میں نہ تو شیاطین کسی قسم کی خلل اندازی کرسکیں اور نہ قبل از وقت یہ معلوم کرسکیں کہ پیغمبر کو کیا ہدایات دی جا رہی ہیں۔ پس جنوں کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے آسمان میں یہ چوکی پہرے دیکھے تو ہمیں یہ معلوم کرنے کی فکر ہوئی کہ ان دونوں صورتوں میں سے کون سی صورت درپیش ہے۔ اسی تلاش میں ہم نکلے تھے کہ ہم نے وہ حیرت انگیز کلام سنا اور ہمیں معلوم ہوگیا کہ اللہ نے خلق خدا کو راہ راست دکھانے کے لیے ایک رسول مبعوث فرمایا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 72:11[وَّانا مِنَا الصّٰلِحُوْنَ : اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ (بھی) ہیں ] [وَمِنَا دُوْنَ ذٰلِكَ : اور ہم میں اس کے علاوہ (بھی) ہیں ] [كُنَا طَرَاۗىِٕقَ قِدَدًا : ہم تھے مختلف الرَّائے طریقوں پر ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 11 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اب تک تو نیکی اور بدی کے درمیان ہماری نگاہوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ برے اور بھلے دونوں ہماری نظروں میں یکساں تھے لیکن اس قرآن نے ہمارا یہ مغالطہ دور کردیا ہے اور یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ہمارے طریقے اور راہیں الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ ہم اس فرق کو ملحوظ رکھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کریں۔ ہمارے درمیان وصل و فصل کی بنیاد ایمان و کفر کو ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو ہمارے قبیلہ کا ہے وہ ہمارا ہے، چاہے کافر ہو یا مومن، نیک ہو یا بد۔ (تدبر قرآن)
Ayah 72:12[وَّانا ظَنَنَآ : اور یہ کہ ہم نے گمان کیا (سمجھ لیا)] [ان لَّنْ نُّعْجِزَ : کہ ہم ہرگز عاجز نہ کرسکیں گے ] [اللّٰهَ فِي الْاَرْضِ : اللہ کو زمین میں ] [وَلَنْ نُّعْجِزَهٗ : اور ہم ہرگز عاجز نہ کرسکیں گے اس کو ] [هَرَبًا : بلحاظ بھاگنے کے ]
ھـ ر ب
[ھَرْبًا : (ن) ] تیز چلنا۔ بھاگنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ۔
ح ر ی
[حَرْیًا : (ض) ] کسی چیز کا گھٹنا۔ کم ہونا۔
(تفعل) تَحَرٍّی دو چیزوں میں سے بہتر کو کوشش کر کے حاصل کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 14 ۔
Ayah 72:13[وَّانا لَمَا سَمِعْنَا : اور یہ کہ جب ہم نے سنا ] [الْهُدٰٓى: اس ہدایت (قرآن) کو ] [اٰمَنَا بِهٖ : تو ہم ایمان لائے اس پر ] [فَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِرَبِهٖ : پھر جو ایمان لاتا ہے اپنے رب پر ] [فَلَا يَخَافُ بَخْسًا : تو وہ خوف نہیں کرتا کسی حق تلفی کا ] [وَّلَا رَهَقًا : اور نہ کسی زیادتی کا ]
Ayah 72:14[وَّانا مِنَا الْمُسْلِمُوْنَ : اور یہ کہ ہم میں فرمانبرداری کرنے والے (بھی) ہیں ] [وَمِنَا الْقٰسِطُوْنَ : اور ہم میں بےانصافی کرنے والے (بھی) ہیں ] [فَمَنْ اَسْلَمَ : تو جس نے فرمانبرداری کی ] [فَاُولٰۗىِٕكَ تَحَرَّوْا : تو ان لوگوں نے پا لیا ] [رَشَدًا : بھلی راہ کو ]
Ayah 72:15[وَاَمَا الْقٰسِطُوْنَ : اور وہ جو ناانصافی کرنے والے ہیں ] [فَكَانوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا : تو وہ لوگ جہنم کے ایندھن ہیں ]
ح ط ب
[حَطْبًا : (ض) ] (1) لکڑی چننا (آگ جلانے کے لیے) (2) چغلی کھانا، افتراء باندھنا۔ (لڑائی کی آگ جلانے کے لیے)
حَطَبٌ اسم ذات ہے۔ (1) ایندھن۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔ (2) چغلی حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ (چغلی کو اٹھانے یعنی لیے پھرنے والی) 111:4 ۔
Ayah 72:16[وَّان : اور (وحی کیا گیا میری طرف) کہ ] [لَّوِ اسْتَــقَامُوْا : اگر وہ لوگ استقامت اختیار کرتے ] [عَلَي الطَّرِيْقَةِ : اس (سیدھے) راستے پر ] [لَاَسْقَيْنٰهُمْ : تو ہم ضرور پینے کے لئے دیتے ان کو ] [مَاۗءً غَدَقًا : وافر پانی ]
غ د ق
[غَدَقًا : (س) ] بارش کا خوب برسنا۔ کسی چیز کا وافر ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔
(آیت۔ 16) اَلطَّرِیْقَۃِ پر لام تعریف ہے اس کا معود ذہنی صحیح راستہ کو بھی مانا جاسکتا ہے اور غلط راستہ کو بھی، کیونکہ قرآن مجید میں دونوں طرح کی آزمائش کا ذکر ہے۔ سورة الانعام کی آیات 43 ۔ 44 میں نافرمانوں پر آخری عذاب نازل کرنے سے پہلے نعمتوں کے تمام دروازے کھولنے کا ذکر ہے اور سورة الانبیاء کی آیت۔ 35 ۔ میں اس اصول کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک و بد تمام انسانوں کو دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے۔ اس لیے یہاں اَلطَّرِیْقَۃِ سے صحیح اور غلط دونوں راستے مراد لینا ممکن ہے۔ البۃ اس سے پہلے اَسْتَقَا مُوْا آیا ہے اور استقامت کا لفظ عموماً صحیح راستہ کے یے آتا ہے۔ اس لیے ہماری ترجیح یہ ہے کہ یہاں صحیح راستہ مراد لیا جائے۔ (حافظ احمد یار صاحب)
پیچھے پہلی آیت میں فَقَالُوْا سے جنوں کا قول شروع ہوا تھا اور اس کے لیے مسلسل اَنَّا (کہ ہم) سے بات شروع ہوتی رہی ہے اب یہاں اَنَّا (کہ ہم) کے بجائے اَنْ (کہ) آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ آیت پر جنوں کا قول ختم ہوگیا اور اس اَنْ کا تعلق پہلی آیت کے قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ سے ہے۔
Ayah 72:17[لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ : تاکہ ہم آزمائیں ان کو اس (پانی کے استعمال) میں ] [وَمَنْ يُّعْرِضْ : اور جو اعراض کرے گا ] [عَنْ ذِكْرِ رَبِهٖ : اپنے رب کی یاد سے ] [يَسْلُكْهُ : تو وہ (رب) ڈال دے گا اس کو ] [عَذَابًا صَعَدًا : ایک چڑھائی والے (مسائل والے) عذاب میں ]
نوٹ۔ 3: مفتی محمد شفیع (رح) کے ایک کتابچے ” ذکر اللہ “ کے مطابق ذکر۔ ورد۔ تسبیح وغیرہ ذکر اللہ نہیں ہیں بلکہ ذریعہ ذکر ہیں یعنی یہ بندے کو ذکر اللہ کی منزل تک پہنچانے کے ذرائع ہیں۔ ذکر۔ ورد۔ تسبیح وغیرہ میں اللہ کو یاد کرنے والے کلمات کی تکرار کرتے ہوئے جب بندہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ زندگی کی گہما گہمی کے بیچ منجدھار میں معاملات کرتے وقت اسے اللہ کے احکام یاد آنے لگیں اور وہ ان کے مطابق معاملات کرے، تو یہ ذکر اللہ ہے۔ اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اس نے اللہ کو یاد کیا، اگرچہ اس کی نماز، روزہ (نفلی) وغیرہ کم ہوں اور جس نے احکامِ خداوندی کی خلاف ورزی کی اس نے اللہ کو بھلا دیا، اگرچہ اس کی نماز، روزہ (نفلی) تسبیحات وعیرہ زیادہ ہوں۔ (آیت 20:152، نوٹ۔ 1)
اس حوالہ سے اب اس بات کو سمجھ لیں کہ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔ میں ذِکْرِ رَبِّہٖ سے مراد یہی ذکر اللہ ہے، تسبیحات وغیرہ نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص فرض نماز، روزوں وغیرہ کا اہتمام تو کرتا ہے لیکن ذکر، ورد، تسبیح وغیرہ کا اہتمام نہیں کرتا تو وہ اس کے اضافی ثواب سے محروم رہے گا، لیکن اس بنیاد پر وہ عذاب کا مستحق نہیں ہوگا۔ عذاب کا مستحق تو وہ ہوگا جس نے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی، اگرچہ اس کی نماز، روزے، تسبیحات وغیرہ زیادہ ہوں۔
اللہ کی یاد سے یعنی اس کی قائم کردہ حدود و قیود سے اعراض کرتے ہوئے یعنی کَنّی کتراتے ہوئے زندگی بسر کرنے والے کی نقد سزا یہ ہے کہ اسے اسی دنیا میں عَذَابًا صَعْدًا میں جھونک دیا جاتا ہے۔ صَعِدَ ۔ یَصْعَدُ کے معنی ہیں سیڑھی پر چڑھنا۔ چڑھائی چڑھنا۔ اس میں آمی بلند سے بلند تر سطح پر پہنچتا رہتا ہے، اس لیے اس میں ترقی پذیری کا مفہوم پید اہوتا ہے اور چڑھائی چڑھنا مشقت طلب کام بھی ہے اس لیے اس میں مشکل کا مفہوم بھی ہے۔ لیکن یہاں عَذَابًا صَعَدًا کا واضح مفہوم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی زندگی الجھنوں، پریشانیوں اور مسائل کا شکا رہو کر رہ جاتی ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک پریشانی آتی رہتی ہے اور اسے زندگی میں اطمینان و سکون نصیب نہیں ہوتا اور اس کی زندگی ہانپنتے کانپتے ہی بسر ہوتی ہے۔ پھر جب اس دنیا میں آنکھ بند ہوتی ہے اور اس دنیا میں کھل جاتی ہے تو اس عذاب کی چوٹی سامنے آجاتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے جو ابدی اور حساب و کتاب کے وقت حسرت اور تاسف کی کیفیات۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کے عذاب سے اپنی پناہ میں رکھے۔
Ayah 72:18[وَّان : اور (وحی کیا گیا) کہ ] [الْمَسٰجِدَ للّٰهِ : تمام سجدہ گاہیں اللہ کے لیے ہیں ] [فَلَا تَدْعُوْا : پس تم لوگ مت پکارو ] [مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا : اللہ کے ساتھ کسی ایک کو ]
Ayah 72:19[وَّانهٗ : اور حقیقت یہ ہے کہ ] [لَمَا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ : جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ ] [يَدْعُوْهُ : اس کو پکارتے ہوئے ] [كَادُوْا يَكُوْنُوْنَ : لگتے تھے کہ وہ (جن) ہوجائیں گے ] [عَلَيْهِ : اس (بندے ﷺ ) پر ] [لِبَدًا : گھیرا ڈالنے والے گروہ در گروہ ]
ل ب د
[لُبُوْدًا : (ن) ] گھیرنا۔ چمٹنا۔ گتھ جانا۔
لِبْدَۃٌ ج۔ لِبْدٌ۔ تہہ بہ تہہ جمی ہوئی اون۔ لوگوں کا جوق در جوق جمع ہونے والا گروہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 19 ۔
لُبْدَۃٌ ج لُبَدٌ۔ شیر کی گردن کے بال جو بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر کسی چیز کی بہتات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یَقُوْلُ اَھْلَکْتُ مَالًا لُّبَدًا (وہ کہتا ہے میں نے ہلاک کیا یعنی خرچ کیا ڈھیروں مال :90:6 ۔
(آیت۔ 19) ۔ عَبْدُ اللّٰہِ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔ یَدْعُوْہُ حال ہے۔ یَکُوْنُوْنَ کی ضمیر فاعلی ھُمْ کو مشرکوں کے لیے بھی مانا گیا ہے لیکن سارا ذکر جنوں کا چلا آ رہا ہے اس لیے ہماری ترجیح ہے کہ اس کو جنوں کے لیے مانا جائے۔
Ayah 72:20[قُلْ انمَآ : آپ ﷺ کہہ دیں کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اَدْعُوْا رَبِيْ : میں پکارتا ہوں اپنے رب کو ] [وَلَآ اُشْرِكُ بِهٖٓ اَحَدًا : اور میں شریک نہیں کرتا اس کے ساتھ کسی ایک کو ]
Ayah 72:21[قُلْ انى: آپ ﷺ کہہ دیں کہ میں ] [لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ : اختیار نہیں رکھتا تم لوگوں کے لیے ] [ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا : کسی تکلیف کا اور نہ کسی بھلی راہ کا ]
Ayah 72:22[قُلْ انى لَنْ يُّجِيْرَنِيْ : آپ ﷺ کہیے کہ ہرگز نہیں بچائے گا مجھ کو ] [مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ: اللہ سے کوئی ایک بھی ] [وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ : اور میں ہرگز نہیں پائوں گا اس کے علاوہ ] [مُلْتَحَدًا : کوئی پناہ گاہ ]
ترکیب : (آیت 22) مُلْتَحَدًا باب افتعال سے اسم المفعول ہے جو یہاں اسم الظرف کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
Ayah 72:23[اِلَّا بَلٰـغًا : سوائے اس کے کہ پہنچانا (حق کو)] [مِّنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے ] [وَرِسٰلٰتِهٖ : اور اس کے پیغامات کو ] [وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ : اور جو نافرمانی کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی ] [فَان لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ : تو یقینا اس کے لے ہی جہنم کی آگ ہے ] [خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ : ایک حالت میں رہنے والے اس میں ] [اَبَدًا : ہمیشہ ہمیش ]
(آیت۔ 23) بَلٰغًا اور رِسٰلٰتِہٖ ، یہ دونوں لَنْ اَجِدَ مُلْتَحَدًا سے مستثنیٰ ہیں اور یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ اس لیے یہ دونوں حالت نصب میں ہیں۔ (دیکھیں آیت۔ 2:34، نوٹ۔ 1)
نوٹ۔ 1: آیت۔ 23 ۔ میں اِلَّا بَلٰغًا کا تعلق آیت۔ 21 ۔ میں لَا اَمْلِکَ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَارَشَدًا سے بھی مانا گیا ہے، ایسی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ میں نہ تمہارے مطالبہ پر تمہیں عذاب دکھا سکتا ہوں اور نہ تمہارے دلوں میں ہدایت اتار سکتا۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے وہ بےکم وکاست میں تمہیں پہنچا دوں اور اس کے حکموں سے تمہیں آگاہ کر دوں۔ (تدبر قرآن)
دوسری طرف اِلَّابِلٰغًا کا تعلق آیت۔ 22 ۔ میں لَنْ اَجِدَ مُلْتَحَدًا سے مانا گیا ہے۔ ایسی صورت میں مطلب یہ ہے کہ تمہارے برے بھلے کا اختیار رکھنا تو درکنار، مجھے خود اپنے برے بھلے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے اس سے بچانے والا کوئی نہیں ہے اور اس کی پکڑ سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی پناہ گاہ ہے تو بس یہ ہے کہ میں اپنی ابلاغ کی ذمہ داری کو کماحقہٗ ادا کر دوں۔ پھر میں اس کی گرفت سے بچ جائوں گا اور وہ لوگ پکڑے جائیں گے جو اس کی نافرمانی کریں گے (حافظ احمد یار صاحب مرحوم کا کیسٹ ترجمہ قرآن)
اس آیت میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر گناہ اور نافرمانی کی سزا ابدی جہنم ہے بلکہ جس سلسلۂ کلام میں یہ بات کہی گئی ہے اس کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے توحید کی جو دعوت دی گئی ہے اس کو جو شخص نہ مانے اور شرک سے باز نہ آئے تو اس کے لیے ابدی جہنم کی سزا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 72:24[حَتّىٰٓ اِذَا رَاَوْا : یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے ] [مَا يُوْعَدُوْنَ : اس کو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے ] [فَسَيَعْلَمُوْنَ : تو وہ لوگ جان لیں گے ] [مَنْ اَضْعَفُ : کہ کون زیادہ ضعیف ہے ] [نَاصِرًا : بلحاظ مدد گار کے ] [وَّاَقَلُّ عَدَدًا : اور زیادہ قلیل ہے بلحاظ گنتی کے ]
Ayah 72:25[قُلْ ان اَدْرِيْٓ: آپ ﷺ کہیے میں نہیں جانتا ] [اَقَرِيْبٌ: آیا قریب ہے ] [مَا تُوْعَدُوْنَ : وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے ] [اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِيْٓ: یا مقرر کرے گا اس کے لیے میرا رب ] [اَمَدًا : کوئی مدت ]
(آیت۔ 25 ۔ 26) ۔ رَبِّیْ پر یائے متکلم ہے اس لیے اس کی رفع، نصب ختم ہوگئی ہے۔ اس آیت میں یہ یَجْعَلُ کا فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ اس کا بدل ہے اس لیے عٰلِمُ حالت رفع میں آیا ہے۔
نوٹ۔ 2: آیت۔ 25 ۔ میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ جو لوگ آپ کو قیامت کا معیّن وقت بتلانے پر مجبور کرتے ہیں ان سے کہہ دیں کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے لیکن اس کے واقع ہونے کی صحیح تاریخ اللہ نے کسی کو نہیں بتلائی، اس لیے میں نہیں جانتا کہ وہ روز قیامت قریب آچکا ہے یا ابھی کچھ مدت باقی ہے۔ پھر اگلی آیت۔ 26 ۔ میں اس کی وجہ بتائی کہ قیامت کی تاریخ سے میری بیخبر ی اس لیے ہے کہ میں عالم الغیب نہیں ہوں بلکہ عالم الغیب ہونا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ یہاں الغیب کا الف لام، استغراقِ جنس کے لیے ہے۔ مقصود اس کلام سے علم غیب کلّی، جس سے جہان کا کوئی ذرّہ مخفی نہ ہو، کی غیر اللہ کے لیے نفی اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اثبات ہے۔ اس غیب کلّی پر وہ کسی کو غالب و قادر نہیں کرتا کہ کوئی جس غیب کو جب چاہے معلوم کرلے، البتہ منصب رسالت کے لیے جس قدر غیب کا علم کسی رسول کو دینا ضروری ہے وہ ان کو من جانب اللہ بذریعہ وحی دے دیا جاتا ہے اور وہ ایسے محفوظ طریقے سے دیا جاتا ہے کہ جب ان پر اللہ کی طرف سے کوئی وحی نازل ہوتی ہے تو اس کے ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے تاکہ شیاطین اس میں کوئی مداخلت نہ کرسکیں۔ اس میں اوّل تو لفظ ” رسول “ سے اس غیب کی نوعیت متعین کردی گئی جس کا علم رسول و نبی کو دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جو علم غیب رسول و نبی کو دیا جاتا ہے اس کی نوعیت متعین کردی کہ وہ فرشتوں کے ذریعے بھیجا جاتا ہے اور وحی لانے والے فرشتوں کے گرد دوسرے فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس علم غیب کا نبی و رسول کے لیے اثبات ہے وہ بعض اور مخصوص علم غیب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ استثناء اصطلاحی لفظوں میں استثناء منقطع ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 72:26[عٰلِمُ الْغَيْبِ : جو تمام غیب کا جاننے والا ہے ] [فَلَا يُظْهِرُ عَلٰي غَيْبِهٖٓ: تو وہ مطلع نہیں کرتا اپنے غیب پر ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ]
Ayah 72:27[اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى: سوائے اس کے جس کو اس نے پسند کیا ] [مِنْ رَّسُوْلٍ : کسی رسول میں سے ] [فَانهٗ يَسْلُكُ : پھر بیشک وہ چلاتا ہے ] [مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ : اس (رسول) کے آگے ] [وَمِنْ خَلْفِهٖ : اور اس کے پیچھے ] [رَصَدًا : پہرہ دینے والے ]
Ayah 72:28[لِيَعْلَمَ ان : تاکہ وہ جان لے کہ ] [قَدْ اَبْلَغُوْا : ان لوگوں (فرشتوں اور رسولوں) نے پہنچا دیے ہیں ] [رِسٰلٰتِ رَبِهِمْ : اپنے رب کے پیغامات ] [وَاَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ : اور اس نے احاطہ کیا اس کا جو ان کے پاس ہے ] [وَاَحْصٰى: اور اس نے شمار پورا کیا ] [كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز کا ] [عَدَدًا : بلحاظ گنتی کے ]