71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ) کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کر دے قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے

[اِنَّآ اَرْسَلْنَا : بیشک ہم نے بھیجا ] [نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖٓ: نوح کو ان کی قوم کی طرف ] [اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ : کہ آپ خبردار کریں اپنی قوم کو ] [مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَهُمْ : اس سے پہلے کہ پہنچے ان کے پاس ] [عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک دردناک عذاب ]
Ayah 71:2

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

ا س نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں

[قَالَ يٰقَوْمِ : انھوں نے کہا اے میری قوم ] [اِنِّىْ لَكُمْ : بیشک میں تمہارے لیے ] [نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]
Ayah 71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

(تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

[اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ : کہ تم لوگ بندگی کرو اللہ کی ] [وَاتَّقُوْهُ : اور تقوٰی اختیار کرو اس کا ] [وَاَطِيْعُوْنِ : اور اطاعت کرو میری ] ترکیب : (آیت۔ 3 ۔ 4) اُعْبُدُوْا، اِتَّقُوْا، اَطِیْعُوْا، فعل امر ہیں۔ ان کا جواب امر ہونے کی وجہ سے یَغْفِرْ اور یُؤَخِّرْ مجزوم ہوئے ہیں۔
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا کاش تمہیں اِس کا علم ہو"

[يَغْفِرْ لَكُمْ : تو وہ بخش دے گا تمہارے لیے ] [مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ : تمہارے گناہوں میں سے ] [وَيُؤَخِّرْكُمْ : اور وہ پیچھے کرے گا (مہلت دے گا) تم کو ] [اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى: ایک مقررہ مدت تک ] [اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ : بیشک اللہ کا (مقرر کردہ) وقت ] [اِذَا جَاۗءَ : جب آجائے ] [لَا يُؤَخَّرُ : تو وہ مؤخر نہیں کیا جاتا ] [لَوْ كُنْتم تَعْلَمُوْنَ : کاش تم لوگ جانتے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 4 ۔ میں حضرت نوح کی دعوت کے تین بنیادی ارکان بیان ہوتے ہیں، توحید، شریعتِ الٰہی کی پابندی اور رسول کی اطاعت۔ انہی تین ارکان پر تمام رسولوں کی دعوت مبنی رہی ہے۔ اس حوالہ سے آگے آیت۔ 4 ۔ میں فرمایا کہ اگر تم نے میری یہ تینوں باتیں مان لیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے ان جرائم کو معاف کر دے گا جن کے سبب سے تم عذاب کے مستحق قرار پائے ہو اور ایک معین مدت تک کے لیے تم کو اس دنیا میں رہنے بسنے کی مہلت مل جائے گی۔ یہاں لفظ من اپنے معروف معنیٰ یعنی تبعیض ہی کے لیے آیا ہے پوری بات گویا یوں ہے کہ اگر تم میری باتیں مان لو گے تو اللہ تمہارے وہ سارے گناہ معاف کر دے گا جو اب تک تم سے صادر ہوئے ہیں، یہ بات معلوم بھی ہے اور معقول بھی کہ کفر کے بعد ایمان کی زندگی اختیار کرنے سے آدمی کے وہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو کفر کی زندگی میں اس سے صادر ہوئے ہوتے ہیں۔ رہے وہ گناہ جن کا ارتکاب آدمی ایمان کی زندگی اختیار کرنے کے بعد کرتا ہے، تو ان کے معاف ہونے کے لیے ایک ضابطہ ہے جو سورة نساء کی آیت۔ 17 ۔ میں بیان ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے۔ ” کچھ نہیں سوائے اس کے کہ توبہ (قبول کرنا) اللہ پر ان لوگوں کے لیے ہے جو برا کام کرتے ہیں نادانی میں پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ تو یہ لوگ ہیں اللہ جن کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ “ اس آیت میں لفظ مِنْ اسی حقیقت کے اظہار کے لیے آیا ہے۔ اگر یہ مِنْ یہاں نہ ہوتا تو آیت کے یہ معنی بھی نکل سکتے تھے کہ تمہارے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ کفر کے بعد ایمان صرف پچھلے گناہوں کو گرانے والا بنتا ہے، آگے کے گناہوں کا گرانے والا نہیں بنتا۔ (تدبر قرآن) حرف مِنْ اکثر تبعیض کے لیے آتا ہے۔ اگر یہ معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے سے تمہارے وہ گناہ معاف ہوجائیں گے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔ کیونکہ حقوق العباد کی معافی کے لیے ایمان لانے کے بعد بھی یہ شرط ہے کہ جو حقوق ادائیگی کے قابل ہیں ان کو ادا کرے، جیسے مالی واجبات وغیرہ اور جو قابل ادائیگی نہیں ‘ جیسے زبان یا ہاتھ سے کسی کو ایذا پہنچانا، تو ان کو معاف کرائے۔ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ ایمان لانے سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اس میں بھی حقوق العباد کی ادائیگی یا معانی شرط ہے۔ (معارف القرآن) نوٹ۔ 3: وَیُؤَخِّرْکُمْ اِلیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی کا مطلب یہ ہے کہ تم ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس مدت تک دنیا میں مہلت دے گا جو تمہارے لیے مقرر ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ اگر ایمان نہ لائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ مدت مقررہ سے پہلے ہی تم پر عذاب لا کر ہلاک کر دے۔ معلوم ہوا کہ عمر کی مدت مقررہ میں بعض اوقات کوئی شرط ہوتی ہے کہ اس نے فلاں کام کرلیا تو اس کی عمر اتنی ہوگی اور نہ کیا تو اتنی کم کردی جائے گی۔ اللہ کی ناشکری سے عمر گھٹ جانا اور شکر گزاری سے عمر بڑھ جانا ، اسی طرح بعض اعمال مثلا والدین کی اطاعت و خدمت سے عمر میں ترقی ہونا جو احادیث سے ثابت ہے، اس کا یہی مطلب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قضائے الٰہی کو کوئی چیز بجز دعا کے نہیں روک سکتی اور کسی کی عمر میں زیادتی بجز برّ والدین کے نہیں ہوسکتی۔ برّ کے معنی ان کے ساتھ اچھا سلوک ہے اور اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ تقدیر معلق میں ان اعمال کی وجہ سے تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اس کی تشریح تفسیر مظہری میں یہ ہے کہ تقدیر اور قضائے الٰہی کی دو قسمیں ہیں، ایک مبرم یعنی قطعی اور دوسری معلق یعنی جو کسی شرط پر معلق ہو۔ قرآن کریم میں ان دونوں قسم کی قضا و تقدیر کا ذکر سورة الرعد کی آیت۔ 39 ۔ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ لوحِ محفوظ میں ترمیم و تبدیل کرتا رہتا ہے اور اللہ کے پاس اصل کتاب ہے۔ اس سے مراد وہ کتاب ہے جس میں تقدیر مبرم لکھی ہوئی ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 71:5

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

اُس نے عرض کیا "اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا

[قَالَ رَبِّ : انھوں نے کہا اے میرے رب ] [اِنِّىْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ : بیشک میں نے بلایا اپنی قوم کو ] [لَيْلًا وَّنَهَارًا : رات میں اور دن میں ] (آیت۔ 5) لَیْلًا اور نَھَارًا ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Ayah 71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

مگر میری پکار نے اُن کے فرار ہی میں اضافہ کیا

[فَلَمْ يَزِدْهُمْ : تو زیادہ نہیں کیا ان کو ] [دُعَاۗءِيْٓ: میرے بلانے نے ] [اِلَّا فِرَارًا : سوائے بھاگنے کے ] (آیت۔ 6) لَمْ یَزِدْ کا فاعل دُعَائِ ْی ہے اور اس کا مفعول ھُمْ کی ضمیر ہے۔ جبکہ فِرَ ارًا کی نصب تمیز ہونے کی وجہ سے ہے۔
Ayah 71:7

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تو اُنہیں معاف کر دے، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا

[وَاِنِّىْ كُلَّمَا : اور بیشک میں نے جب بھی ] [دَعَوْتُهُمْ : بلایا ان کو ] [لِتَغْفِرَ لَهُمْ : تاکہ تو بخش دے ان کے لیے (ان کے گناہ)] [جَعَلُوْٓا اَصَابِعَهُمْ : تو وہ رکھ لیتے ہیں اپنی انگلیاں ] [فِيْٓ اٰذَانهِمْ : اپنے کانوں میں ] [وَاسْتَغْشَوْا : اور خود کو ڈھانپتے ہیں ] [ثِيَابَهُمْ : اپنے کپڑوں سے ] [وَاَصَرُّوْا : اور اڑ جاتے ہیں ] [وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا : اور بڑائی چاہتے ہیں جیسے بڑائی کا حق ہے ] (آیت۔ 7) کُلَّمَا شرط ہے اس لیے اس کے آگے آنے والے افعال ماضی کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ اِسْتِکْبَارًا کی نصب مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے ہے۔
Ayah 71:8

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی

[ثُمَّ اِنِّىْ دَعَوْتُهُمْ : پھر بیشک میں نے بلایا ان کو ] [جِهَارًا : آواز بلند کرتے ہوئے ] (آیت۔ 8) جِھَارًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 71:9

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا

[ثُمَّ اِنِّىْٓ اَعْلَنْتُ لَهُمْ : پھر بیشک میں نے اعلان کیا ان کے لیے ] [وَاَسْرَرْتُ لَهُمْ : اور میں نے چپکے سے کہا ان سے ] [اِسْرَارًا : جیسے چپکے سے کہتے ہیں ] (آیت۔ 9) اِسْرَارًا مفعول مطلق ہے۔
Ayah 71:10

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

[فَقُلْتُ : تو میں نے کہا ] [اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ : تم لوگ مغفرت مانگو اپنے رب سے ] [اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا : بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے ] (آیت۔ 10) کَانَ کی خبر ہونے کی وجہ سے غَفَّارًا حالت نصب میں ہے۔ کَانَ کا ترجمہ حال میں ہوگا کیونکہ یہ آفاقی صداقت کا بیان ہے (دیکھیں آیت ۔ 2:49 نوٹ۔ 2) نوٹ۔ 4: آیت۔ 10 تا 12 ۔ جو بات کہی گئی ہے کہ اللہ سے مغفرت کے طلبگار بنو تو اللہ تعالیٰ تمہیں معیشت اور افرادی قوت کی فراوانی عطا فرمائے گا، یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف پیرائے میں بیان کی گئی ہے۔ مثلاً المائدہ۔ 66، الاعراف۔ 96، ھود۔ 3 ۔ 52، طٰہٰ ۔ 124 ۔ وغیرہ۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا سے بغاوت کی روش صرف آخرت میں ہی نہیں، دنیا میں بھی انسان کی زندگی تنگ کردیتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی قوم ایمان و تقوٰی اور احکام الٰہی کی اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے تو یہ آخرت ہی میں نافع نہیں بلکہ دنیا میں بھی اس پر نعمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ قرآن مجید کی اسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک مرتبہ قحط کے موقع پر حضرت عمر بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے بارش کے لیے تو دعا کی ہی نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے آسمان کے ان دروازوں کو کھٹکھٹا دیا ہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے اور پھر سورة نوح کی یہ آیات پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 71:11

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا

[يُّرْسِلِ : (مغفرت مانگو گے) تو وہ بھیجے گا ] [السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ : آسمان کو تم لوگوں پر ] [مِّدْرَارًا : لگاتار برسنے والا ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 11) یُرْسِلِ میں لام کی کسرہ بتارہی ہے کہ یہ مضارع مجزوم ہے اور سابقہ آیت میں فعل امر اِسْتَغْفِرُوْا کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے۔ اس کا مفعول اَلسَّمَاءَ ہے اور مِدْرَارًا حال ہے۔
Ayah 71:12

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا

[وَّيُمْدِدْكُمْ : اور وہ اعانت کرے گا تمہاری ] [بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ : اموال (معیشت) سے اور بیٹوں (افرادی قوت) سے ] [وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنّٰتٍ : اور وہ بنائے گا تمہارے لیے کچھ باغات ] [وَّيَجْعَلْ لَكُمْ انهٰرًا : اور بنائے گا تمہارے لیے کچھ نہریں ] (آیت۔ 12) یُمْدِدْ اور یَجْعَلْ بھی سابقہ فعل امر اِسْتَغْفِرُوْا کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں جبکہ جَنّٰتٍ اور اَنْھٰرًا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کے لیے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟

[مَا لَكُمْ : تم لوگوں کو کیا ہوا ہے ] [لَا تَرْجونَ للّٰهِ : (کہ) تم لوگ امید نہیں رکھتے اللہ سے ] [وَقَارًا : کسی عظمت کی ] (آیت۔ 13) تَرْجُوْنَ کا مفعول وَقَارًا ہے۔ نوٹ۔ 5: آیت۔ 13 ۔ 14 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی سے امید رکھنا چاہیے کہ اس کی فرمانبرداری کرو گے تو تم کو عزت و وقار عنایت فرمائے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی بڑائی کا اعتقاد کیوں نہیں رکھتے اور اس کی عظمت و جلال سے ڈرتے کیوں نہیں۔ (حالانکہ تمہارا اپنا وجود اس کی عظمت کی علامت کے طور پر کافی ہے) ۔ ماں کے پیٹ میں تم نے طرح طرح کے رنگ بدلے۔ اور اصلی مادے سے لے کر موت تک آدمی کتنی پلٹیاں کھاتا ہے، کتنے اطوار و ادوار اور اتار چڑھائو سے گزرتا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند)
Ayah 71:14

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے

[وَقَدْ خَلَقَكُمْ : حالانکہ اس نے پیدا کیا ہے تم لوگوں کو ] [اَطْوَارًا : مختلف حالتوں پر ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 14) اَطْوَارًا حال ہے۔ نوٹ۔ 1: سابقہ سورہ۔ المعارج۔ میں عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب اور پیغمبر ﷺ کو صبر و انتظار کی تلقین ہے۔ اس سورة میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کے مراحل، ان کے طویل صبر و انتظار اور بالآخر ان کی قوم کے مبتلائے عذاب ہونے کی سرگزشت اختصار کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور اس سے مقصود آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دینا ہے جس میں آپ ﷺ بھی دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو اپنی آخری منزل تک پہنچنے کے لیے صبر و انتظار کے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، ساتھ ہی آپ ﷺ کی قوم بھی دیکھ لے کہ اللہ تعالیٰ جلد بازوں کو ان کی جلد بازی اور طنز و طعن کے باوجود ڈھیل دیتا ہے لیکن بالآخر پکڑتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو کوئی چھڑانے والا نہیں ہوتا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 71:15

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے

[اَلَمْ تَرَوْا : کیا تم لوگوں نے غور ہی نہیں کیا ] [كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ : کیسے پیدا کیا اللہ نے ] [سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمانوں کو ] [طِبَاقًا : تہہ در تہہ ہوتے ہوئے ] نوٹ۔ 1: آیات۔ 15 ۔ 16 ۔ میں آسمان اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد آیات۔ 17 ۔ 18 ۔ میں زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سب سے پہلے زمین کی سب سے اشرف مخلوق یعنی انسان کو لیا ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا اور اگانے کے بعد پھر اسی میں تمہیں مرنے کے بعد لوٹا دیتا ہے۔ اور پھر اسی سے تمہیں ایک دن نکالے گا۔ یہ قرآن کی بلاغت کا اعجاز ہے کہ اس آیت میں جو دعوٰی ہے وہی اس دعوے کی نہایت واضح دلیل بھی ہے۔ اس کے مفہوم کو کھول دیجیے، تو بات یوں ہوگی کہ جس طرح زمین سے سبزہ اگتا ہے، اسی طرح اللہ نے تمہیں بھی اسی زمین سے اگایا ہے۔ اور جس طرح زمین سے اگنے والی چیزیں فنا ہو کر زمین میں مل جاتی ہیں، اسی طرح تم بھی مر کر زمین میں مٹی بن جاتے ہو۔ پھر جس طرح تم دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے فنا شدہ سبزوں کو از سر نو زندہ کردیتا ہے اسی طرح جب چاہے گا تمہیں بھی بغیر کسی زحمت کے اٹھا کھڑا کرے گا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 71:16

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور اُن میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا؟

[وَّجَعَلَ الْقَمَرَ : اور اس نے بنایا چاند کو ] [فِيْ هِنَّ نُوْرًا : ان (آسمانوں) میں ایک نور ہوتے ہوئے ] [وَّجَعَلَ الشَّمْسَ : اور اس نے بنایا سورج کو ] [سِرَاجًا : ایک چراغ ہوتے ہوئے ] ترکیب : (آیت۔ 16) فَعَلَ کے دو مفعول آتے ہیں۔ اس لحاظ سے نُوْرًا اور سِرَاجًا کو اس کا مفعول ثانی بھی مانا جاسکتا ہے اور علی الترتیب اَلْقَمَرَ اور الشَّمْسَ کا حال بھی مانا جاسکتا ہے۔ دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ ہم انھیں حال ماننے کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 71:17

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا

[وَاللّٰهُ انۢبَتَكُمْ : اور اللہ نے اگایا تم لوگوں کو ] [مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًا : زمین سے جیسے اگانے کا حق ہے ] (آیت۔ 17) اَنْبَتَ باب افعال ہے۔ اس کا مصدر اِنْبَاتًا ہے، لیکن یہاں مفعول مطلق کے طور پر اِنْبَاتًاکے بجائے ثلاثی مجرد کا مصدر نَبَاتًا آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابواب مزید فیہ کے افعال کا مفعول مطلق اسی باب کے مصدر سے بھی آسکتا ہے اور ثلاثی مجرد کے مصدر سے بھی۔
Ayah 71:18

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر وہ تمہیں اِسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اِس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا

[ثُمَّ يُعِيْدُكُمْ : پھر وہ واپس لے جائے گا تم لوگوں کو ] [فِيْهَا : اس (زمین) میں ] [وَيُخْرِجُكُمْ : اور وہ نکالے گا تم کو ] [اِخْرَاجًا : جیسے نکالنے کا حق ہے ] (آیت۔ 18) یہاں یُخْرِجُ بھی باب افعال ہے اور اس کا مفعول مطلق اسی باب کے مصدر اِخْرَاجًا سے ہی آیا ہے۔
Ayah 71:19

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا

[وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ : اور اللہ نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ] [بِسَاطًا : ایک بچھونا ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 19) یہاں بھی ہم بِسَاطًا کو جَعَلَ کا مفعول ثانی ماننے کے بجائے اسے اَلْاَرْضَ کا حال ماننے کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 71:20

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو"

[لِتَسْلُكُوْا مِنْهَا : تاکہ تم لوگ چلو اس (زمین) میں سے ] [سُبُلًا فِجَاجًا : کشادہ راستوں پر ]
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اُنہوں نے میری بات رد کر دی اور اُن (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پا کر اور زیادہ نامراد ہو گئے ہیں

[قَالَ نُوْحٌ رَّبِ : کہا نوح (علیہ السلام) نے اے میرے رب ] [انهُمْ عَصَوْنِيْ : بیشک ان لوگوں نے نافرمانی کی میری ] [وَاتَّبَعُوْا مَنْ : اور پیروی کی ان (سرداروں) کی ] [لَمْ يَزِدْهُ : زیادہ نہیں کیا جن کو ] [مَالُهٗ وَوَلَدُهٗٓ: ان کے مال اور ان کی اولاد نے ] [اِلَّا خَسَارًا : مگر بلحاظ خسارے کے ] (آیت۔ 21) لَمْ یَزِدْہُ کی ضمیر ہٗ دراصل مَنْ کی ضمیر عائد ہے۔ مَالُہٗ اور وَلَدُہٗ لَمْ یَزِدْ کے فاعل ہیں جبکہ خَسَارًا تمیز ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے، یہ بات ہم پڑھ چکے ہیں کہ مَنْ کا لفظ اصلا واحد ہے لیکن یہ واحد، تثنیہ، جمع، مذکر مؤنث سب کے لیے آتا ہے۔ اس آیت میں مَنْ جمع کے معنی میں ہے، البتہ لفظی رعایت کے تحت مَالُہٗ اور وَلَدُہٗ کے ساتھ واحد ضمیریں آئی ہیں، جبکہ معنوی رعایت کے تحت آگے کی آیات میں مَکَرُوْا۔ قَالُوْا۔ قَدْاَ ضَلُّوْا، سب جمع کے صیغے آئے ہیں۔ ان میں شامل ھُمْ کی فاعلی ضمیریں اسی مَنْ کے لیے ہیں۔ کیونکہ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ان (علیہ السلام) کی نافرمانی کرنے میں کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ قوم کے سرداروں کی پیروی کی تھی۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اِن لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے

[وَمَكَرُوْا : اور ان لوگوں (سرداروں) نے چال چلی ] [مَكْرًا كُبَّارًا : جیسے کوئی زبردست چال چلنے کا حق ہے ]
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اِنہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، اور نہ چھوڑو وَدّ اور سُواع کو، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو

[وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ : اور انھوں نے کہا تم لوگ ہرگز مت چھوڑنا اپنے خدائوں کو ] [وَلَا تَذَرُنَّ : اور تم لوگ ہرگز مت چھوڑنا ] [وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ : ودّ کو اور نہ سواع کو اور نہ یغوث کو ] [وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا : اور (نہ ہی) یعوق اور نسر کو ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 23 ۔ میں جن پانچ بتوں کا ذکر ہے ان کے متعلق امام بغوی نے نقل کیا ہے کہ یہ پانچوں دراصل اللہ کے نیک و صالح بندے تھے جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیانی زمانے میں گزرے تھے۔ بہت سے لوگ ان کے معتقد اور پیروکار تھے اور عرصہ دراز تک لوگوں نے انھیں کے نقش قدم پر عبادت اور اللہ کے احکام کی اطاعت جاری رکھی۔ پھر شیطان نے ان کو سمجھایا کہ تم اپنے جن بزرگوں کی پیروی کرتے ہوئے عبادت کرتے ہو، اگر عبادت کے وقت ان کی تصویریں سامنے رکھ لیا کرو تو تمہاری عبادت بڑی مکمل ہوجائے گی اور تم کو خشوع و خضوع حاصل ہوگا۔ لوگ اس کے فریب میں آگئے اور بزرگوں کے مجسمے بنا کر عبادت گاہ میں رکھنے لگے۔ مجسموں کو دیکھ کر بزرگوں کی یاد تازہ ہوجانے سے ایک خاص کیفیت محسوس کرنے لگے، یہاں تک کہ اسی حال میں یہ لوگ یکے بعد دیگرے مرگئے۔ جب نئی نسل نے ان کی جگہ لی تو شیطان نے ان کو یہ پڑھایا کہ تمہارے بزرگوں کے خدا اور معبود یہی بت تھے اور وہ انہی کی عبادت کرتے تھے۔ یہاں سے بت پرستی شروع ہوگئی۔ (معارف القرآن)
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تو بھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے"

[وَقَدْ اَضَلُّوْا : اور انھوں (سرداروں) نے گمراہ کیا ہے ] [كَثِيْرًا : بہتوں کو ] [وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ : اور تو زیادہ مت کر ظلم کرنے والوں کو ] [اِلَّا ضَلٰلًا : مگر بلحاظ گمراہی کے ]
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

اپنی خطاؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کیے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے، پھر انہوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا

[مِمَا : اس (سبب) سے جو ] [خَطِيْۗـــٰٔــتِهِمْ : ان کی خطائیں تھیں ] [اُغْرِقُوْا : ان کو غرق کیا گیا ] [فَاُدْخِلُوْا نَارًا : پھر ان کو داخل کیا گیا ایک آگ میں ] [فَلَمْ يَجِدُوْا لَهُمْ : پھر انھوں نے نہیں پایا اپنے لیے ] [مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [انصَارًا : کچھ (دوسرے) مدد کرنے والے ] نوٹ۔ 3: آیت۔ 25 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی خطائوں ، کفرو شرک کی وجہ سے پانی میں غرق کیے گئے تو آگ میں داخل ہوگئے۔ یہ متضاد عذاب کہ ڈوبے پانی میں اور نکلے آگ میں، حق تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں جہنم کی آگ تو مراد نہیں ہے کیونکہ اس میں داخلہ تو قیامت کے حساب کتاب کے بعد ہوگا۔ یہ برزخی آگ ہے جس میں داخل ہونے کی قرآن کریم نے خبر دی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عالم برزخ میں رہنے کے زمانے میں بھی مردوں پر عذاب ہوگا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جب قبر میں بدعمل کو عذاب ہوگا تو نیک عمل والوں کو ثواب اور نعمت بھی ملے گی۔ احادیث متواترہ میں قبر کے اندر عذاب و ثواب ہونے کا بیان اس کثرت اور وضاحت سے آیا ہے کہ انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے اس پر امت کا اجماع ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 71:26

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اِن کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ

[وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِ : اور کہا نوح (علیہ السلام) نے اے میرے رب ] [لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ : تو مت چھوڑ زمین پر ] [مِنَ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں میں سے (کسی کو)] [دَيَّارًا : رہتا بستا ہوا ] (آیت۔ 26) ۔ دَیَّارٌکا لفظ فَعَّالُ کے وزن پر نہیں ہے۔ کیونکہ اس وزن پر لفظ دَوَّارٌ بنے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل فَیْعَالٌ کے وزن پر ہے۔ اس وزن پر اصلی شکل دَیْوَارٌ بنتی ہے۔ پھر واو ، یا میں تبدیل ہو کر سابقہ یا میں مدغم ہوتی ہے تو دَیَّارٌ استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 71:27

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور اِن کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا

[انكَ ان تَذَرْهُمْ : بیشک اگر تو نے چھوڑا ان کو ] [يُضِلُّوْا عِبَادَكَ : تو وہ گمراہ کریں گے تیرے بندوں کو ] [وَلَا يَلِدُوْٓا : اور نہیں جنیں گے ] [اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا : مگر نافرمانی کرنے والا بڑا ہی ناشکرا ]
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

میرے رب، مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر"

[رَبِ اغْفِرْ لِيْ : اے میرے رب تو بخش دے میرے لیے ] [وَلِوَالِدَيَّ : اور میرے والدین کے لیے ] [وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ : اور اس کے لیے جو داخل ہوا میرے گھر میں ] [مُؤْمِنًا : ایمان لانے والا ہوتے ہوئے ] [وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ : اور ایمان لانے والوں ] [وَالْمُؤْمِنٰتِ : اور ایمان لانے والیوں کے لئے (گناہوں کو)] [وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيْنَ : اور تو زیادہ مت کر ظالموں کو ] [اِلَّا تَبَارًا : مگر بلحاظ بربادی کے ]