70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 70:1

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، (وہ عذاب) جو ضرور واقع ہونے والا ہے

[سَاَلَ سَاۗىِٕلٌۢ: مانگا ایک مانگنے والے نے ][ بِعَذَابٍ : ایک ایسا عذاب جو ][ وَّاقِع : واقع ہونے والا ہے ]
Ayah 70:2

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں کے لیے ہے، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں

[لِلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ : کافروں کے لیے نہیں ہے جس کو ][ دَافِعٌ: کوئی دفع کرنے والا ] ترکیب : (آیت۔ 2) لَیْسَ لَہٗ میں ہ کی ضمیر بِعَذَابٍ کے لیے ہے۔
Ayah 70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے

[مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ : جو بلندیوں والے اللہ (کی طرف) سے ہوگا ] (آیت۔ 3) مِنْ اللّٰہِ سے بھی مانا جاسکتا ہے۔ اس وقت معنی ہوں گے کہ اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا اور اس کا تعلق بِعَذَابٍ سے بھی مانا جاسکتا ہے۔ اس وقت معنی ہوں گے کہ وہ عذاب اللہ کی طرف سے واقع ہونے والا ہے۔ مِنَ اللّٰہِ سے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے دَافِعٌ سے اس کا متعلق قابل ترجیح تھا لیکن آگے کی عبارت کا تقاضہ ہے کہ اس کو بعذاب سے متعلق مانا جائے۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

ملائکہ اور روح اُس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے

[تَعْرُجُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ : چڑھیں گے فرشتے اور الرّوح (جبریل)][ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ : اس کی طرف ایک ایسے دن میں ][ كَان مِقْدَارُهٗ : ہے جس کے اندازے کا پیمانہ ][ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَـنَةٍ : پچاس ہزار سال ہے ] نوٹ۔ 1: ایک دن کا ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مفہوم ہے، اس کی ایک وضاحت آیت نمبر۔ 22:47، نوٹ۔ 2 : میں کی جا چکی ہے جبکہ ہمارے طلباء کے علم میں یہ بات بھی ہونی چاہیے کہ ہمارے مفسرین نے ان آیات کو کس طرح سمجھا ہے اور ان کی کیا وضاحت کی ہے۔ چناچہ اس موقع پر ہم مفسرین کے رائے نقل کر رہے ہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب جس کا اوپر ذکر آیا ہے، اس کا وقوع اس روز ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق سوال کیا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی کہ یہ دن کتنا دراز ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ یہ دن مومن پر اتنا ہلکا ہوگا کہ ایک نماز فرض ادا کرنے کے وقت سے بھی کم ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ یہ دن مومنین کے لیے اتنا ہوگا جتنا وقت ظہر و عصر کے درمیان ہوتا ہے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ اس دن کا یہ طول کہ پچاس ہزار سال کا ہوگا، ایک اضافی امر ہے، کہ کفار کے لیے اتنا دراز اور مومنوں کے لیے اتنا مختصر ہوگا۔ اس آیت میں ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی ہے، جبکہ سورة السجدہ کی آیت۔ 5 میں ایک ہزار سال آئے ہیں۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے۔ ” تدبیر کرتے ہیں امر الٰہی کی آسمان سے زمین تک۔ پھر چڑھتے ہیں اس کی طرف ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے عام شمار کے اعتبار سے۔ “ بظاہر ان دونوں آیتوں کے مضمون میں تضاد ہے۔ اس کا جواب گذشتہ روایات حدیث سے ہوگیا کہ اس دن کا طول مختلف گروہوں کے اعتبار سے مختلف ہوگا۔ کفار کے لیے پچاس ہزار سال کا اور مومنین صالحین کے لیے ایک نماز کا وقت۔ ان کے درمیان مختلف گروہ ہیں۔ ممکن ہے بعض کے لیے ایک ہزار سال کے برابر ہو۔ اور وقت کا دراز و مختصر ہونا، شدت و بےچینی اور عیش و آرام میں مختلف ہونا، مشہور و معروف ہے۔ سورة السجدہ کی جس آیت میں ایک ہزار سال کا دن بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک توجیہہ تفسیر مظہری میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اس آیت میں جس دن کا ذکر ہے وہ دنیا ہی کے دنوں کا ایک دن ہے، اس میں جبریل اور فرشتوں کا آسمان سے زمین پر آنا پھر زمین سے آسمان پر واپس جانا اتنی بڑی مسافت کو طے کرتا ہے کہ انسان اگر طے کرتا تو اس کو ایک ہزار سال لگتے کیونکہ احادیث میں آیا ہے کہ آسمان سے زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ اس طرح پانچ سو سال اوپر سے نیچے آنے کے اور پانچ سو واپس جانے کے، یہ کل ایک ہزار سال انسانی چال کے اعتبار سے ہیں ’ بالغرض اگر انسان اس مسافت کو طے کرتا تو آنے اور جانے میں ایک ہزار سال لگ جاتے۔ اگرچہ فرشتے اس مسافت کو بہت ہی مختصر وقت میں طے کرلیتے ہیں۔ تو سورة سجدہ میں دنیا ہی کے دنوں میں سے ایک دن کا بیان ہوا اور سورة معارج میں قیامت کے دن کا بیان ہے جو ایّام دنیا سے بہت بڑا ہوگا اور اس کی درازی اور کوتاہی مختلف لوگوں پر اپنے اپنے حالات کے اعتبار سے مختلف محسوس ہوگی۔ (معارف القرآن)
Ayah 70:5

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، صبر کرو، شائستہ صبر

[فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيْلًا : تو آپ صبر کریں جیسے خوبصورت صبر کرنا ہوتا ہے ]
Ayah 70:6

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ اُسے دور سمجھتے ہیں

[اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا : بیشک وہ لوگ دیکھتے ہیں اس (قیامت) کو دور ہوتے ہوئے ] (آیت۔ 6 ۔ 7) یَرَوْنَہٗ اور نسٰرہ دونوں کی ضمیر مفعولی یَوْمٍ کے لیے ہے جس سے مراد عَذَابٌ وَاقِعٌ والا دن یعنی قیامت ہے۔
Ayah 70:7

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں

[وَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا : اور ہم دیکھتے ہیں اس کو قریب ]
Ayah 70:8

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

(وہ عذاب اُس روز ہوگا) جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہو جائے گا

[يَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَاۗءُ : جس دن ہوجائے گا آسمان ][ كَالْمُهْلِ : پگھلی ہوئی دھات کی مانند ]
Ayah 70:9

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہو جائیں گے

[وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ : اور ہوجائیں گے پہاڑ ][ كَالْعِهْنِ : رنگی ہوئی اون کی مانند ] ع ھ ن [عَھْنًا : (ض) شاخ کا لچکنا اور ٹوٹنے کے قریب ہونا۔] عِھْنٌ رنگی ہوئی اون۔ آیت زیر مطالعہ۔ 9]
Ayah 70:10

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا

[وَلَا يَسْـَٔــلُ حَمِيْمٌ: اور نہیں پوچھے گا کوئی دوست ][ حَمِـيْمًا : کسی دوست سے (خیر خیریت)]
Ayah 70:11

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو

[يُّبَصَّرُوْنَهُمْ ۭ: ان (دوستوں) کو دکھائے جائیں گے وہ سب (دوست)][ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ : تمنا کریں گے سارے مجرم ][ لَوْ يَفْتَدِيْ : کاش وہ خود کو چھڑا لیں ][ مِنْ عَذَابِ يَوْمِىِٕذٍۢ: اس دن کے عذاب سے ][ بِبَنِيْهِ : بدلے میں دے کر اپنے بیٹے کو ] (آیت۔ 11) بَظَرَ (باب تفعیل) کے دو مفعول آتے ہیں۔ کس کو دکھایا اور کیا دکھایا۔ یہاں اس کا مضارع مجہول آیا ہے۔ یُبَصَّرُوْنَ میں شامل ھُمْ کی ضمیر اس کا مفعول اوّل ہے جواب نائب فاعل کہلائے گا اور یہ ضمیر حَمِیْمٌ کے لیے ہے۔ اس کے آگے ھُمْ کی ضمیر مفعولی اس کے مفعول ثانی کے لیے ہے۔ یہ ضمیر حَمِیْمًا کے لیے ہے۔
Ayah 70:12

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو

[وَصَاحِبَتِهٖ : اور اپنی ساتھ والی (بیوی) کو ][ وَاَخِيْهِ : اور اپنے بھائی کو ]
Ayah 70:13

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا

[وَفَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ : اور اپنے اس کنبے کو جو ][ تُـــــْٔوِيْهِ : ٹھکانہ دیتا تھا اس کو ]
Ayah 70:14

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دیدے اور یہ تدبیر اُسے نجات دلا دے

[وَمَنْ فِي الْاَرْضِ : اور ان کو جو زمین میں ہیں ][ جَمِيْعًا ۙ: سب کے سب کو ][ ثُمَّ يُنْجِيْهِ : پھر وہ (فدیہ دینا) نجات دلائے اس کو ]
Ayah 70:15

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی

[كَلَّا ۭ: ہرگز نہیں ][ اِنَّهَا لَظٰى: بیشک یہ آگ کی تپش ہے ] ل ظ ک [ لَظًی : (س) آگ کا بھڑکنا۔] لَظٰی آگ کا شعلہ جہنم کا اسم علم بھی ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 15 ۔] [ تَلَظُّیًا : (تفعل) غصّہ سے جل اٹھنا۔ فَاَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی (تو میں نے خبردار کردیا تم لوگوں ایک ایسی آگ جو غصّہ سے جل اٹھے گی) 92:14 ۔]
Ayah 70:16

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی

[نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى: اُدھیڑنے والی ہوتے ہوئے چمڑی کو ]
Ayah 70:17

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری

[تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ : وہ (تپش) بلائے گی اس کو جس نے پیٹھ پھیری)][ وَتَوَلّٰى: اور روگردانی کی ]
Ayah 70:18

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا

[وَجَمَعَ فَاَوْعٰى: اور جمع کیا (مال) پھر محفوظ رکھا ]
Ayah 70:19

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے

[اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ : بیشک تمام انسان پید اکیے گئے ][ هَلُوْعًا : بڑے بےصبرے ] ھـ ل ع [ھَلْعًا : (س) گھبرانا مشکل میں صبر نہ کرنا۔ بےصبرا ہونا۔] ھَلُوْعٌ فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ بہت گھبرانے والا۔ ذرا بھی صبر نہ کرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 19 ۔] (آیات 19 تا 21) ھَلُوْعًا۔ جَزُوْعًا۔ مَنُوْعًا، یہ تینوں فعول کے وزن پر مبالغے ہیں اور حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔ (آیت۔ 22) نوٹ۔ 1: جس بات کو ہم اپنی زبان میں یوں کہتے ہیں کہ یہ انسان کی فطری کمزوری ہے، اسی کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے کہ انسان ایسا پیدا کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مواقع پر نوع انسانی کی عام اخلاقی کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے والے اور راہ راست اختیار کرنے والے لوگوں کو ان سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اور یہی مضمون آگے کی آیات میں بھی آ رہا ہے۔ اس سے یہ حقیقت خودبخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ پیدائشی کمزوریاں ایسی نہیں ہیں کہ ان کو تبدیل نہ کیا جاسکے۔ بلکہ انسان اگر خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول کر کے اپنے نفس کی اصلاح کی کوشش کرے تو وہ ان کو دور کرسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن) اللہ تعالیٰ نے انسان کو متضاد داعیات کی کشمکش میں پید اکر کے اس سے یہ چاہا ہے کہ وہ خدا کے احکام کے مطابق جن کی تعلیم اس کو نبیوں کے ذریعہ سے دی گئی ہے، ان کے اندر توازن اور ہم آہنگی پید اکرے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے قوانین کا تابع بنائے۔ اس امتحان میں کامیابی ہی پر انسان کی تمام اخروی سعادت کا انحصار ہے۔ اختیار کا شرف بھی اس کو اس امتحان کے لیے عطا ہوا ہے۔ یہ امتحان مقصود نہ ہوتا تو انسان کو اختیار کے شرف سے مشرف کرنے کے کوئی معنی نہ ہوتے اور اس کو دوسری مخلوقات پر برتری حاصل کرنے کے بھی کوئی وجہ نہ ہوتی۔ (تدبر قرآن) نوٹ۔ 2: زیر مطالعہ آیات ہمہ جہت (Multi Dimentional) ہیں۔ ان کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے کے لیے آپ کو تفاسیر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہماری زیادہ تر توجہ آیات کے اس پہلو پر مرتکز رہے گی جس کا تعلق بےصبری کے علاج سے یا جدید اصطلاح میں جذباتی بلوغت کے حصول سے ہے۔ کسی شخص کو اپنے جذبات پر جتنا کنٹرول حاصل ہے، اتنی ہی جذباتی بلوغت اس نے حاصل کرلی ہے اور کوئی شخص جس حد تک اپنے جذبات کے قابو میں ہے، اتنا ہی وہ جذباتی لحاظ سے نابالغ ہے۔ اب نوٹ کریں کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ جسمانی، ذہنی اور جذباتی، تینوں لحاظ سے نابالغ ہوتا ہے۔ پھر جسمانی اور ذہنی بلوغت حاصل کرنے میں جسم کے قدرتی نظام اور انسانی کوشش، دونوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ لیکن جب انسان سوچنے سمجھنے اور نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے تو اس کے بعد جذباتی بلوغت حاصل کرنے کا انحصار انسانی کوشش پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسمانی بلوغت حاصل کرنے کا انحصار انسانی کوشش پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسمانی بلوغت تقریباً ہر شخص کو پندرہ سال کے لگ بھگ حاصل ہوجاتی ہے۔ ذہنی بلوغت کوئی شخص جتنی حاصل کرسکتا ہے، وہ تقریباً چالیس سال کی عمر تک حاصل کرلیتا ہے۔ لیکن جذباتی بلوغت کے لیے نہ تو عمر کی کوئی قید ہے اور نہ ہی یہ ہر شخص کو نصیب ہوتی ہے۔ کچھ لوگ کم عمری میں ہی جذباتی لحاظ سے بالغ ہوجاتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ اس کے بغیر ہی زندگی گزار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جذباتی بلوغت کا تقریباً کل کا کل انحصار انسان کی اپنی کوشش اور مشق پر ہے۔ اس ضمن میں پہلے یہ سمجھ لیں کہ ” اُخروی سعادت “ کے ساتھ ساتھ ہماری اس دنیا کی زندگی میں جذباتی بلوغت کی کیا اہمیت ہے۔ ماہرین نفسیات اب اس حقیقت کو تسلیم کرچکے ہیں کہ ذہانت کے ٹیسٹ (I.Q. Test) میں کسی کا زیادہ نمبر حاصل کرلینا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ ایسا شخص عملی زندگی میں کامیاب رہے گا۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ زندگی کی کامیابی میں ذہانت کا حصّہ صرف بیس فیصد ہے، جبکہ اسّی فیصد انحصار دیگر عوامل پر ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اہم عامل کو جذباتی ذہانت (emotional I.Q) کہا گیا ہے۔ (ریڈرز ڈائجسٹ، مئی 1996 ئ) ۔ اس اہمیت کے پیش نظر ہم جذبات پر کنٹرول حاصل کرنے کے طریقے آیات زیر مطالعہ سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ جذباتی بلوغت حاصل کرنے کے لیے ان آیات میں جن صفات کا ذکر ہے، ان کی ابتداء بھی نماز کے ذکر سے ہوتی ہے اور ان کا اختتام بھی نماز کے ذکر پر ہوا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ” نماز ہی سے تمام نیکیاں نشو و نما بھی پاتی ہیں اور وہی اپنے حصار میں ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ اگر نماز وجود میں نہ آئے تو دوسری نیکیاں بھی وجود میں نہیں آتیں۔ “ (تدبر قرآن ج 5 ص 300) ۔ اس کورس، جینے خا سلیقہ حصّہ اوّل میں نماز میں عمل خود تجویزی (Self suggestion) کے نظام اور انسانی عمل پر اس کے اثرات کے متعلق جو کچھ آپ نے پڑھا ہے، اسے ذہن میں تازہ کرلیں تو پھر آپ اس حقیقت کو قبول کرلیں گے کہ نماز تمام اچھی صلاحیتوں کی نرسری ہے۔ اب غور کریں کہ اس آیت میں پہلی صفت کے طور پر جو نماز کا ذکر آیا ہے، اس میں الفاظ کی بندش بہت معنی خیز ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جذباتی بلوغت حاصل کرنے کے لیے نماز پڑھنی چاہیے۔ نہ ہی یہ فرمایا کہ جو لوگ نماز پڑھتے ہیں وہ اس نقص سے مستثنیٰ ہوجاتے ہیں بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اس سے ایسے نمازی مستثنیٰ ہوتے ہیں جو اپنی نماز پر ” دائم “ ہوتے ہیں۔ ” حضرت عتبہ بن عامر سے نماز میں دائم رہنے کا مطلب پوچھا گیا کہ کیا اس کی مراد یہ ہے کہ جو ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں۔ انھوں نے فرمایا کہ نہیں یہ مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جو اول سے آخر تک اپنی نماز کی طرف متوجہ رہے۔ “ (معارف القرآن) اب دیکھیں ایک نمازی دن میں پانچ مرتبہ اور نماز کی ہر رکعت میں جب یہ کوشش کرتا ہے کہ غیر متعلق خیالات کو ذہن سے نکال کر وہ اپنی توجہ کو نماز پر مرکوز رکھے تو اس مسلسل مشق کی وجہ سے اس کی دو صلاحیتیں اجاگر ہو کر پختہ ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ذہن میں غیر متعلق یا ناپسندیدہ خیالات کی موجودگی کا احساس ہوجانا۔ دوسرے یہ استعداء حاصل ہوجانا کہ انسان جس خیال کو چاہے ذہن سے جھٹک دے اور جس خیال کو چاہے ذہن میں رہنے دے۔ نماز میں یہ صلاحیتیں حاصل کرلینے کے بعد زندگی کے معاملات میں انہیں استعمال کرنا کوئی مسئلہ نہیں رہتا۔ اب یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ جذبات پر کنٹرول حاصل کرنے کی یہ شاہ کلید (Master key) ہے، کیونکہ جیسے خیالات انسان کے ذہن میں ہوتے ہیں ویسے ہی جذبات اس کے اندر پروان چڑھتے ہیں۔ اس ضمن میں دوسری صفت یہ بیان ہوئی کہ سائل اور محروم کا حق ادا کرتے ہیں۔ اب نوٹ کریں کہ رزق کی مختلف اقسام میں سب سے قوی محبت مال کی محبت ہے۔ انفاق سے اس جذبہ کو کنٹرول کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد زندگی کے معاملات میں دیگر محبتوں اور رغبتوں پر کنٹرول حاصل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ خیالات اور جذبات پر کنٹرول حاصل کرنے کے یے جو طریقۂ کار اب تک سامنے آیا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کن خیالات کو غلط سمجھ کر ذہن سے نکالا جائے اور کن کو پروان چڑھایا جائے۔ اس سلسلہ میں درست فیصلہ کرنے میں، اصولی طور پر تو انسان کو کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہیے کیونکہ نیکی اور بدی کا شعور انسان کی فطرت میں ودیعت کر کے اسے دنیا کی امتحان گاہ میں بھیجا جاتا ہے۔ (سورۃ الشمس۔ 8) لیکن یہاں آ کر اس کی فطرت پر خواہشات اور مفادات کے پردے پڑجاتے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ انسان بدلے کے دن یعنی آخرت کے حساب کتاب کے یقین اور اللہ کے عذاب کے خوف کے ساتھ غور و فکر کرے تو پھر یہ پردے ہٹ جائیں گے اور اس کی فطرت اس کی رہنمائی کرے گی۔ پھر اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہوگا کہ کون سے خیالات اور جذبات پسندیدہ ہیں اور کون سے ناپسندیدہ ہیں۔ اس کے بعد بتایا گیا کہ بےصبری کی کمزوری سے مستثنیٰ لوگوں کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ جنس کے معاملہ میں وہ ایک نظم و ضبط (Sex Discipline) کے پابند ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسانی جذبوں میں جنس کا جذبہ سب سے زیادہ پرکشش ہے۔ اس لیے جو شخص اس کو کنٹرول کرلے اس کے لیے باقی جذبوں کو کنٹرول کرنا کوئی مسئلہ نہیں رہتا۔ چناچہ اس ضمن میں سب سے زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ جب بھی ذہن میں کوئی ایسا خیال آئے جو ایسے جنسی جذبے کو بیدار کرے جس کی اجازت نہیں ہے، تو اسے لازماً ذہن سے جھٹک کر ذہن کو دوسرے خیالات میں مصروف کرنے کی کوشش کرے۔ اس کوشش میں کامیابی کی استعداد حاصل کیے بغیر جنسی نظم و ضبط کی پابندی کرنا بہت مشکل ہے۔ اس کے بعد اگلی صفت یہ بیان ہوئی کہ بےصبری سے مستثنیٰ لوگ اپنی امانتوں اور عہد کا پاس کرتے ہیں۔ اس میں نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ واحد لفظ امانت کے بجائے اس کی جمع امانات استعمال کی گئی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امانت کی مختلف اقسام ہیں اور یہ لوگ ہر قسم کی امانت کا پاس کرتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ہمیں حواس خمسہ، عقل اور تفقہہ کی جو صلاحیتیں دی ہیں، وہ سب امانت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب واپس مانگتا ہے تو دینا پڑتا ہے۔ اس لیے واپس نہ کرنے والی خیانت کی تو ہمیں قدرت ہی نہیں ہے۔ البتہ انھیں استعمال کرنے کی اجازت کچھ حدود و قیود کے اتھ ملی ہے۔ جس نے ان کا لحاظ رکھتے ہوئے انھیں استعمال کیا اس نے امانت کا حق ادا کردیا۔ جس نے ان کا لحاظ نہیں رکھا اس نے خیانت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وارننگ دیۃ دی ہے کہ ان سب صلاحیتوں (کے استعمال) کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا۔ (سورئہ بنی اسرائیل۔ 36) ۔ اس کے علاوہ ہمارے تمام مال و اسباب بھی اس پہلو سے امانت ہیں کہ انھیں حاصل کرنے کی بھی اور انھیں استعمال کرنے کی اجازت بھی حدود قیود کے ساتھ ملی ہے۔ ان کے متعلق بھی قیامت کے دن پوچھا جائے گا (سورۃ تکاثر۔ 8) ۔ اب یہ بات بہت واضح ہے کہ جذبات پر کنٹرول حاصل کے کیے بغیر ان امانتوں کا حق ادا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح عہد و پیمان میں وہ سارے معاہدے شامل ہیں جو انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان، انسان اور انسان کے درمیان یا قوم اور قوم کے درمیان استوار کیے گئے ہوں۔ معاہدے تحریری بھی ہوتے ہیں اور زبانی بھی، لیکن بہت سے معاہدے صرف Implied ہوتے ہیں جیسے والدین اور اولاد، استاد اور شاگرد وغیرہ کے حقوق و فرائض۔ اسی طرح اگلی آیت میں شہادت (گواہی) کے بجائے جمع کا صیغہ شہادات استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ شہادت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ہر قسم کی شہادت کو قائم رکھنا واجب ہے۔ اس میں توحید و رسالت کی گواہی (کلمۂ شہادت) بھی شامل ہے، حدود شرعیہ کی شہادت بھی اور لوگوں کے باہمی معاملات جو کسی کے سامنے ہوئے ہوں، ان کی شہادت بھی۔ ان شہادتوں کو چھپانا اور ان میں کمی بیشی کرنا حرام ہے۔ ان کو صحیح صحیح قائم رکھنا اس آیت کی رو سے فرض ہے۔ (معارف القرآن) رسول اللہ ﷺ نے مختلف پیرائے میں ہم کو جذباتی بلوغت حاصل کرنے کی تلقین کی ہے ’ ہم صرف دو ارشادات نقل کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کا تابع بنا کر مت رکھو۔ یہ کہنا غلط ہے۔ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھلائی کریں گے اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ تم لوگ اپنے نفس کو ایک قاعدے کا پابند بنائوں۔ اگر لوگ نیکی کریں تو تم لوگ نیکی کرو اور اگر لوگ بدسلوکی کریں تو تم لوگ ظلم نہ کرو۔ (تفہیم القرآن۔ ج 2، ص 456) اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نبیٔ کریم ﷺ نے مسلمانوں کو React کرنے سے منع کیا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے۔ ان میں سے چار باتیں آپ نے یہ فرمائیں کہ میں خواہ کسی سے خوش ہوں یا ناراض، ہر حالت میں انصاف کی بات کہوں۔ جو میرا حق مارے میں اس کا حق ادا کروں۔ جو مجھے محروم کرے میں اسے عطا کروں۔ اور جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کر دوں۔ ایک اور حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو تجھ سے خیانت کرے، تو اس سے خیانت نہ کر۔ (تفہیم القرآن۔ ج 2، ص 456) ۔ ایک طرف یہ اسی ہدایت کی تشریح ہے کہ تم لوگ اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کا تابع مت بنائو۔ دورے طرف یہ ایک بالغ شخصیت کا کردار ہے جس کا کامل نمونہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ بات ختم کرنے سے پہلے ذہن میں یہ حقیقت واضح کرلیں کہ جسمانی اور ذہنی بلوغت سے شخصیت (Personality) بالغ نہیں ہوتی۔ بالغ شخصیت (Matured Personality) کے لیے جذباتی بلوغت ضروری ہے۔ (جینے کا سلیقہ حصہ چہارم صفحات 25 تا 37 سے ماخوذ) ۔
Ayah 70:20

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

[اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ : جب کبھی چھوتی ہے کسی کو برائی ][ جَزُوْعًا : تو واویلا کرنے والا ہے ]
Ayah 70:21

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

[وَاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ : اور جب کبھی چھوتی ہے کسی کو بھلائی ][ مَنُوْعًا : تو بہت کنجوسی کرنے والا ہے ]
Ayah 70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ لوگ (اِس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں

[اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ : سوائے ان نماز پڑھنے والوں کے ] اصول یہ ہے کہ جمع میں سے واحد کو مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے لیکن واحد میں سے جمع کو مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا۔ اس آیت میں المصلین جمع ہے جس کو الانسان میں سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الانسان پر لام تعریف نہیں بلکہ لام جلس ہے۔
Ayah 70:23

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں

[الَّذِينَ : جو ہیں کہ ][ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ : وہ لوگ اپنی نماز پر ][ دَاۗىِٕمُوْنَ : ہمیشہ (متوجہ) رہنے والے ہیں ]
Ayah 70:24

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

جن کے مالوں میں،

[وَالَّذِينَ فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ : اور وہ لوگ جن کے مالوں میں ][ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ: ایک معلوم (مقرر کردہ) حق ہے ]
Ayah 70:25

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سائل اور محروم کا ایک حق مقرر ہے

[لِلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ : مانگنے والے اور محروم کے لیے ]
Ayah 70:26

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

جو روز جزا کو برحق مانتے ہیں

[وَالَّذِينَ يُصَدِّقُوْنَ : اور وہ لوگ جو تصدیق کرتے ہیں ][ بِيَوْمِ الدِّيْنِ : بدلے کے دن کی ]
Ayah 70:27

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں

[وَالَّذِينَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِهِمْ : اور وہ جو ہیں کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ][ مُّشْفِقُوْنَ : ڈرنے والے ہیں ]
Ayah 70:28

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

کیونکہ اُن کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بے خوف ہو

[اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ : بیشک ان کے رب کا عذاب ][ غَيْرُ مَامُوْنٍ : بھروسہ کیا ہوا (کے قابل) نہیں ہے ] (آیت۔ 28) اَمِنَ ، یَامَنُ کے معروف معنی ہیں ” امن میں ہونا “۔ اس معنی میں یہ فعل لازم ہے جس کا مفعول مَامُوْنٌ نہیں آتا۔ لیکن نوٹ کریں کہ آیت۔ 2:3 کی لغت میں ہم بتا چکے ہیں کہ اس کے دوسرے معنی ” بھروسہ کرنا۔ اعتبار کرنا “ بھی ہیں۔ اس معنی میں یہ متعدی ہے اور مَامُوْنٌ کا لفظ اسی معنٰی میں آتا ہے۔
Ayah 70:29

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

[وَالَّذِينَ : اور وہ جو ہیں کہ ][ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ : وہ لوگ اپنی شرمگاہوں کی ][ حٰفِظُوْنَ : حفاظت کرنے والے ہیں ]
Ayah 70:30

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں

[اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ : سوائے اپنی بیویوں کے ][ اَوْ مَا مَلَكَتْ : یا جن کے مالک ہوئے ] [اَيْمَانُهُمْ : ان کے داہنے ہاتھ ][فَاِنَّهُمْ : تو بیشک وہ لوگ ][ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ : ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں ]
Ayah 70:31

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

[فَمَنِ ابْتَغٰى: پھر جس نے جستجو کی ][ وَرَاۗءَ ذٰلِكَ : اس کے علاوہ کی ][ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ : تو وہ لوگ ہی حد سے بڑھنے والے ہیں ]
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں

[وَالَّذِينَ : اور وہ جو ہیں کہ ][ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ : وہ لوگ اپنی امانتوں کی ][ وَعَهْدِهِمْ : اور اپنے قول و قرار کی ][ رٰعُوْنَ : نگرانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں

[وَالَّذِينَ : اور وہ جو ہیں کہ ][ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ : وہ لوگ اپنی گواہیوں پر ][ قَاۗىِٕمُوْنَ : ڈٹے رہنے والے ہیں ]
Ayah 70:34

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں

[وَالَّذِينَ : اور وہ جو ہیں کہ ][ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ : وہ لوگ اپنی نماز پر ][ يُحَافِظُوْنَ : مسلسل پہرہ دیتے ہیں ]
Ayah 70:35

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے

[اُولٰۗىِٕكَ فِيْ جَنّٰتٍ : وہ لوگ باغوں میں ][ مُّكْرَمُوْنَ : عزت دیئے ہوئے ہوں گے ] (آیت۔ 35) جنت حالت جر میں ہے۔ مُکْرَمُوْنَ اگر جَنّٰتٍ کی صفت ہوتا تو صیغہ مؤنث کا ہوتا اور حالت نصب میں ہوتا لیکن یہ حالت رفع میں آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اُولٰگکَ کی خبر ہے۔
Ayah 70:36

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، کیا بات ہے کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے،

[فَمَا : تو کیا ہے ][ لِ الَّذِينَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنھوں نے انکار کیا ][ قِبَلَكَ : (آتے ہیں) آپ کی طرف ][ مُهْطِعِيْنَ؛لپکنے (ڑھائی کرنے) والے ہوتے ہوئے ] ترکیب : (آیت۔ 36) فَمَالِ میں جو لام ہے یہ حروف جارہ والا لام ہے اور اس کا تعلق فما سے نہیں ہے بلکہ الذین سے ہے۔ اصل عبارت یوں ہے۔ فَمَا لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ جو کہ حرفِ جار لِ الگ لکھا گیا ہے اس لیے اَلَّذِیْنَ کا ہمزہ الوصل واپس آگیا ہے۔ اس آیت میں اس کو اس طرح لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ مُھْطِعِیْنَ اسم الفاعل ہے اور حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ نوٹ۔ 1: سابقہ آیات۔ 19 تا 35 ۔ میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگوں کو جنت میں جگہ ملے گی۔ قرآن کا یہ فیصلہ سن کر قریش کے مغروروں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ یہ کس طرح سن سکتے تھے کہ محمد ( ﷺ) اور ان کے مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور تمام عزتوں اور عظمتوں کے وارث، ساداتِ قریش دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ اس غصہ میں وہ ٹولیاں بنا بنا کر آنحضرت ﷺ کی تردید و توہین کے لیے دائیں بائیں سے آپ پر پل پڑے۔ زیر مطالعہ آیات میں اسی صورت حال کی تصویر اور ان مغروروں کی خود باختگی پر اظہار تعجب ہے۔ (تدبر قرآن) آیت۔ 38 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی جنت تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کی صافت ابھی ابھی بیان کی جا چکی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ جو حق بات سننا تک گوارہ نہیں کرتے اور حق کی آواز کو دبانے کے لیے دوڑے چلے آ رہے ہیں، جنت کے امیدوار ہوسکتے ہیں ؟ کیا خدا نے اپنی جنت ایسے ہی لوگوں کے لیے بنائی ہے ؟ اس مقام پر سورة القلم کی آیات۔ 34 تا 41 پیش نظر رکھنی چاہیں جن میں کفار مکہ کو ان کی اس بات کا جواب دیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: آیت۔ 39 ۔ کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ مضمونِ سابق کے ساتھ اس کا تعلق مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس مادے سے یہ لوگ بنے ہیں اس کے لحاظ سے تو سب انسان یکساں ہیں۔ اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد، ظالم و عادل، مجرم اور بےگناہ، سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے۔ لیکن معمولی عقل ہی یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بنا پر نہیں بلکہ اس کے اوصاف کے لحاظ سے ہونا چاہیے۔ اور اگر اس فقرے کو بعد کے مضمون کی تمہید سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہمارے عذاب سے محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ہم ان کو دنیا میں بھی جب چاہیں عذاب دے سکتے ہیں اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے بھی جب چاہیں اٹھا سکتے ہیں۔ یہ خود جانتے ہیں کہ نطفہ کی ایک حقیر سی بوند سے ان کی تخلیق کی ابتداء کر کے ہم نے ان کو چلتا پھرتا انسان بنایا ہے۔ اگر اپنی اس تخلیق پر یہ غور کرتے تو انھیں کبھی یہ غلط فہمی لاحق نہ ہوتی کہ ہم انھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 3: آیت۔ 40 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ مشرقوں اور مغریوں کا لفظ اس بنا پر استعمال کیا گیا ہے کہ سال کے دوران میں سورج ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع اور نئے زاویہ پر غروب ہوتا ہے۔ نیز زمین کے مختلف حصوں پر سورج الگ الگ اوقات میں پے در پے طلوع اور غروب ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان اعتبارات سے مشرق اور مغرب ایک نہیں ہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ ایک دوسرے اعتبار سے شمال اور جنبوب کے مقابلے میں ایک جیت مشرق ہے اور دوسری جیت مغرب ہے۔ اس بنا پر سورة شعراء کی آیت۔ 28 اور سورة مزمل کی آیت۔ 19 ۔ میں رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک اور لحاظ سے زمین کے دو مشرق اور دو مغرب ہیں کیونکہ جب زمین کے ایک نصف کُرے پر سورج غروب ہوتا ہے تو دوسرے پر طلوع ہوتا ہے۔ اس بنا پر سورة رحمن کی آیت۔ 17 ۔ میں رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبَّ الْمَغْرِبَیْنِ کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ (تفہیم القرآن) مورخہ 8 ۔ ربیع الاوّل 1431 ھ بمطابق 23 ۔ فروری 2010 ء
Ayah 70:37

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں؟

[عَنِ الْيَمِيْنِ : دائیں سے ][ وَعَنِ الشِّمَالِ : اور بائیں سے ][ عِزِيْنَ : گروہ در گروہ ہوتے ہوئے ] ع ز و [عَزْوًا : (ن) منسوب ہونا۔ اپنے آپ کو دوسرے کی طرف منسوب کرنا۔ خواہ یہ سچ ہو یا جھوٹ۔] [ عِزَۃٌ (یہ دراصل عِزَوٌ تھا۔ اس کی واؤ گری ہوئی ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ لام کلمہ کا حرف علّت کسی وجہ سے گراتے ہیں تو اس کی جگہ گول تا لگا دیتے ہیں۔ اس طرح یہ عِزَۃٌ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جمع عِزُوْن۔ عِزِیْنَ ، عِزِیْنَ آتی ہے) ۔ اس کے معنی ہیں گروہ یا جماعت۔ لیکن یہ ایسی جماعت کے لیے آتا ہے جس کے افراد بلحاظ نسبت یا بلحاظ مدد و تعاون ایک دوسرے کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 37 ۔]
Ayah 70:38

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا اِن میں سے ہر ایک یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟

[اَيَطْمَعُ : کیا امید رکھتا ہے ][ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ : ہر ایک شخص ان میں سے ][ ان يُّدْخَلَ : کہ وہ داخل کیا جائے گا ][ جَنَّةَ نَعِيْمٍ : سدا بہاری کے باغ میں ]
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا ہے اُسے یہ خود جانتے ہیں

[كَلَّا ۭ: ہرگز نہیں ][ انا خَلَقْنٰهُمْ : بیشک ہم نے پیدا کیا ان کو ][ مِّمَا يَعْلَمُوْنَ : اس سے جسے یہ لوگ جانتے ہیں ]
Ayah 70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، ہم اِس پر قادر ہیں

[فَلَآ : پس نہیں !][ اُقْسِمُ : میں قسم کھاتا ہوں ][ بِرَبِ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ : مشرقوں اور مغربوں کے رب کی ][ انا لَقٰدِرُوْنَ : بیشک ہم یقینا قدرت رکھنے والے ہیں ]