Ayah 69:1[اَلْحَاۗقَّةُ : وہ ثابت ہونے والی ]
نوٹ۔ 1: سابقہ سورة القلم سے اس سورة کو گہری مناسبت ہے۔ دونوں کا عمود (یعنی مرکزی موضوع) ایک ہی ہے یعنی اثبات عذاب (دنیا میں آنے والے عذاب) اور قیامت (دنیا کا خاتمہ) ۔ البتہ نہج استدلال دونوں میں الگ الگ ہے۔ قرآن کی عظمت و صداقت جس طرح سابق سورة میں واضح کی گئی ہے اور اس کی تکذیب کے نتائج سے ڈرایا گیا ہے، اسی طرح اس سورة میں بھی یہی مضمون زیر بحث آیا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ سابق سورة میں یہ مضمون تمہید کی حیثیت سے ہے اور اس سورة میں اختتام کے طور پر ہے۔ تذکیر و تعلیم کے پہلو سے ان دونوں اسلوبوں کی اہمیت الگ الگ ہے۔ (تدبیر قرآن)
نوٹ۔ 2: کفار مکہ چونکہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اس کے آنے کی خبر کو مذاق سمجھتے تھے اس لیے پہلے ان کو خبردار کیا گیا کہ وہ تو ہونی شدنی ہے، تم چاہے مانو یا نہ مانو، وہ بہرحال آ کر رہے گی۔ اس کے بعد ان کو بتایا گیا کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک پیش آنے والے واقعہ کی خبر کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں، بلکہ اس کا نہایت گہرا تعلق قوموں کے اخلاق اور پھر ان کے مستقبل سے ہے۔ تم سے پہلے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کر کے اسی دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور اس بات کو جھٹلا دیا کہ انسان کو آخرکار خدا کی عدالت میں اپنا حساب دینا ہوگا، وہ سخت اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوئی، یہاں تک کہ خدا کے عذاب نے آ کر دنیا کو اس وجود سے پاک کردیا۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 69:2[مَا الْحَاۗقَّةُ : کیا ہے وہ ثابت ہونے والی ]
Ayah 69:3[وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحَاۗقَّةُ : اور تم کیا جانو کیا ہے وہ ثابت ہونے والی (قیامت)]
Ayah 69:4كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌۢ: جھٹلایا ثمود نے اور عاد نے ][ بِالْقَارِعَةِ : اس کھٹکھٹانے والی (قیامت) کو ]
Ayah 69:5[فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا : پس وہ جو ثمود تھے تو ان کو ہلاک کیا گیا ][ بِالطَّاغِيَةِ : حد سے گزرنے والی (چنگھاڑ) سے ]
Ayah 69:6[وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا : اور وہ جو عاد تھے تو ان کو ہلاک کیا گیا ][ بِرِيْحٍ : ایک ایسی ہوا سے جو ][ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ : حد سے زیادہ تیز و تند تھی ]
Ayah 69:7[سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ : اس (اللہ) نے مطیع (مسلط) کیا اس (ہوا) کو ان لوگوں پر ][ سَبْعَ لَيَالٍ : سات راتوں ][ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ۙ: اور آٹھ دنوں تک ][ حُسُوْمًا ۙ: منحوس ہوتے ہوتے ][ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا : پس تو دیکھتا ہے اس قوم کو اس (سرزمین) میں ][ صَرْعٰى ۙ: پچھاڑے ہوئے ][ كَاَنَّهُمْ : جیسے کہ وہ ہوں ][ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ : کچھ اوندھی ہونے والی کھجوروں کے تنے ]
ح س م
[حَسْمًا : (ض) کسی چیز کو جڑ سے کاٹ دینا۔]
[ حُسُوْمٌ صفت سے۔ نا مبارک۔ منحوس۔ زیر مطالعہ آیت۔ 7]
ص ر ع
[صَرْعًا : (ف) زمین پر پٹخ دینا۔ پچھاڑنا ]
صَرِیْحٌ ج صَرْعٰی۔ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے اسم المفعول کے معنی ہیں۔ پٹخا ہوا۔ پچھاڑا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 7]
Ayah 69:8[فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ : تو کیا تو دیکھتا ہے ان لوگوں کی ][ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ : کوئی بھی باقی رہنے والی (جان)]
Ayah 69:9[وَجَاۗءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهٗ : اور آیا فرعون اور وہ لوگ جو اس سے پہلے تھے ][ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ : اور الٹنے والی بستیوں (والے)][ بِالْخَاطِئَةِ : (ہر ایک) خطا کرنے والی (جان) کے ساتھ ]
Ayah 69:10[فَعَصَوْا : پھر ان لوگوں نے نافرمانی کی ][ رَسُوْلَ رَبِّهِمْ : اپنے رب کے رسول کی ][ فَاَخَذَهُمْ : تو اس نے پکڑا ان کو ][ اَخْذَةً رَّابِيَةً : ایک اٹھنے والی (شدید) پکڑ میں ]
Ayah 69:11[اِنَّا لَمَّا : بیشک ہم نے، اس وقت جب ][ طَغَا الْمَاۗءُ : جوش میں آیا پانی ][ حَمَلْنٰكُمْ : سوار کیا تم لوگوں کو ][ فِي الْجَارِيَةِ : اس جاری ہونے والی (کشتی) میں ]
Ayah 69:12[لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ : تاکہ ہم بنائیں اس (کشتی) کو تمہارے لیے ][ تَذْكِرَةً : ایک یاددہانی ][ وَّتَعِيَهَآ : اور تاکہ یاد رکھے اس کو ][ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ : کوئی یاد رکھنے والا کان ]
Ayah 69:13[فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ : پھر جب پھونکا جائے گا صور میں ][ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ: ایک ہی بار پھونکنا ]
ترکیب : (آیت۔ 13) آگے قیامت کے واقعات کا ذکر ہے اس لیے (دیکھیں آیت۔ 2:27، نوٹ۔ 3) اور بات اِذَا شرطیہ سے شروع ہوا ہی، اس لیے بھی آگے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔ نُفِخَ کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے نَفْخَۃٌ حالت رفع میں ہے۔
نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیات کو پڑھتے ہوئے یہ بات ذہن میں ہونی چاہیے کہ قرآن مجید میں کہیں تو قیامت کے تین مراحل الگ الگ بیان کیے گئے ہیں جو یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں پیش آئیں گے۔ اور کہیں پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک کے واقعات کو سمیٹ کر یکجا بیان کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورة نمل آیت۔ 87 ۔ میں پہلے نفخ صور کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب تمام دنیا کے انسان یک لخت ایک ہولناک آواز سے گھبرا اٹھیں گے۔ اس وقت نظام عالم کے درہم برہم ہونے کی وہ کیفیات ان کی آنکھوں کے سامنے پیش آئیں گی جو سورة حج آیات۔ 1 ۔ 2، سورة یٰسین آیات۔ 59 ۔ 50، اور سورة تکویر آیات۔ 1 تا 6 ۔ میں بیان ہوئی ہیں۔ سورة زمر آیات 67 تا 70 ۔ میں دوسرے اور تیسرے نفخ صور کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ایک نفخ پر سب لوگ مر کر گرجائیں گے اور اس کے بعد جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو جب جی اٹھیں گے اور خدا کی عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔ سورة طٰہٰ آیات۔ 102 تا 112، سورة انبیاء آیات۔ 101 تا 103، سورة یٰسین آیات۔ 51 تا 53، اور سورة ق آیات۔ 20 تا 22 میں صرف تیسرے نفخ صور کا ذکر ہے۔ لیکن یہاں اور دوسرے مقامات پر قرآن میں پہلے نفخ صور سے لے کر جنت اور جہنم میں لوگوں کے داخل ہونے تک کے تمام واقعات کو ایک ہی سلسلہ میں بیان کردیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 2: قرآن مجید میں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں ان کا تعلق متشابہات سے ہے۔ ہمارے فہم سے قریب لانے کے لیے ان کو اپنے لفظوں میں بیان کیا جاتا ہے جن سے ان کا ایک تصور ہمارے ذہن میں قائم ہو سکے۔ یہ احوال ایک نادیدہ عالم کے ہیں، ان کا تصور دینے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ان کی اصل حقیقت کا جاننا اس عالم میں ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ چناچہ قرآن نے ان کے متعلق یہ ہدایت دی ہے کہ وہ جس طرح بیان ہوئے ہیں، اسی طرح ان پر اجمالی ایمان رکھا جائے۔ ان کی اصل حقیقت کے در پے نہ ہوا جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ آدمی کسی فتنہ میں پڑجائے۔ (تدبر قرآن)
قیامت کے روز عرش رحمن کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ بعض روایاتِ حدیث میں ہے کہ قیامت سے پہلے تو یہ کام چار فرشتوں کے سپرد ہے۔ قیامت کے روز ان کے ساتھ چار اور بڑھا دیئے جائیں گے۔ رہا یہ معاملہ کہ عرش رحمن کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت اور شکل و صورت کیا ہے اور فرشتوں کا اس کو اٹھانا کس صورت سے ہے، یہ سب چیزیں وہ ہیں کہ عقل انسانی ان کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ ان مباحت میں پڑنے، ان پر غور و فکر کرنے اور سوالات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ صحابہ اور تابعین کا مسلک اس جیسے تمام معاملات میں یہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جائے کہ اس سے جو کچھ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ حق ہے ار اس کی حقیقت و کیفیت نامعلوم ہے۔ (معارف القرآن)
نوٹ۔ 3: سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال کا دیا جانا ہی ظاہر کر دے گا کہ اس کا حساب بےباق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مجرم کی حیثیت سے نہیں بلکہ صالح انسان کی حیثیت سے پیش ہو رہا ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اعمال ناموں کی تقسیم کے وقت صالح انسان خود سیدھا ہاتھ بڑھا کر اپنا نامۂ اعمال لے گا، کیونکہ موت کے وقت سے میدان حشر میں حاضری تک اس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہوگا اس کی وجہ سے اس کو پہلے ہی یہ اطمینان حاصل ہوچکا ہوگا کہ میں یہاں انعام پانے کے لیے پیش ہو رہا ہوں نہ کہ سزا پانے کے لیے۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بڑی صراحت کے ساتھ بتائی گئی ہے کہ موت کے وقت ہی سے یہ بات انسان پر واضح ہوجاتی ہے کہ وہ نیک بخت آدمی کی حیثیت سے دوسرے عالم میں جا رہا ہے یا بدبخت آدمی کی حیثیت سے۔ پھر موت سے قیامت تک نیک انسان کے ساتھ مہمان کا سا معاملہ ہوتا ہے اور بدانسان کے ساتھ حوالاتی مجرم کا سا۔ اس کے بعد جب قیامت کے روز دوسری زندگی کا آغاز ہوتا ہے اسی وقت سے صالحین کی حالت و کیفیت کچھ اور ہوتی ہے جبکہ کفار، منافقین اور مجد کی کچھ اور۔
سورة انشقاق میں فرمایا گیا ہے ” اور جس کا نامۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ “ غالباً اس کی صورت یہ ہوگی کہ مجرم کو چونکہ پہلے ہی سے اپنے مجرم ہونے کا علم ہوگا اور وہ جانتا ہوگا کہ اس کے نامۂ اعمال میں اس کا سارا کچا چٹھا درج ہے اس لیے وہ نہایت بےدلی کے ساتھ اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر اسے لے گا اور فوراً پیٹھ کے پیچھے چھپالے گا تاکہ کوئی دوسرا اسے دیکھنے نہ پائے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 69:14[وَّحُمِلَتِ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ : اور اٹھائی جائے گی یہ زمین اور سارے پہاڑ ][ فَدُكَّتَا : پھروں دونوں کوٹ کر ہموار کیے جائیں گے ][ دَكَّةً وَّاحِدَةً : ایک ہی بار ہموار کرنا ]
(آیت۔ 14) دُکَّتَا تثنیہ مؤنث کا صیغہ ہے۔ اس کا نائب فاعل اس میں شامل ھُمَا کی ضمیر ہے جو اَلْاَرْضُ وَالْجِبَالُ کے لیے ہے اور محلاً حالت رفع میں ہے۔ دَکَّۃً اس کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ (آیت۔ 70) وَالْمَلْکُ پر الف لام کو لام تعریف بھی مانا جاسکتا ہے اور لام جنس بھی۔ ترجمے میں ہم لام جنس کو ترجیح دیں گے۔
Ayah 69:15[فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ : تو اس دن واقع ہوگی ][ الْوَاقِعَةُ : وہ واقع ہونے والی (قیامت)]
Ayah 69:16[وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ : اور پھٹ جائے گا آسمان ][ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ : تو وہ (آسمان) اس دن ][ وَّاهِيَةٌ : بوسیدہ ہوگا ]
و ھـ ی
[وَھْیًا : (ض۔ ح) کسی چیز کا بوسیدہ ہو کر پھٹ جانا۔ شگاف پڑنا۔ بوسیدہ ہونا۔]
وَاھٍی مؤنث وَاھِیَۃٌ۔ اسم الفاعل ہے۔ پھٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔]
Ayah 69:17[وَّالْمَلَكُ عَلٰٓي اَرْجَاۗىِٕهَا ۭ: اور فرشتے اس کے کنارون پر ہوں گے ][ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ : اور اٹھائیں گے تیرے رب کا عرش ][ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ : اپنے اوپر اس دن ][ ثَمٰنِيَةٌ: آٹھ (فرشتے)]
Ayah 69:18[يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ : اس دن تم لوگ سامنے لائے جائو گے ][ لَا تَخْفٰى: چھپی نہیں ہوگی ][ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ: تمہاری کوئی چھپنے والی (بات)]
(آیت۔ 18) ثلاثی مجرد اور باب افعال، دونوں کا مضارع مجہول ہم شکل ہوجاتا ہے۔ عبارت کا سیاق وسباق بتا رہے ہے کہ یہاں تُعْرِضُوْنَ بابِ افعال کا نہیں بلکہ ثلاثی مجرد کا مضارع مجہول ہے۔ خَفِیَ کے ساتھ صلہ کے استعمال سے مفہوم بدلتا ہے۔ خَفِیَ عَلَیْہِ (پوشیدہ ہوا اس پر یعنی اس سے پوشیدہ ہوا۔ ) خَفِیَ مِنْہُ ۔ (پوشیدہ ہوا اس سے یعنی اس کا کوئی کام پوشیدہ ہوا) ترجمہ کرتے وقت اردو محاورے کا لحاظ کرنا ہوگا
Ayah 69:19[فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ : پس وہ جو ہے جس کو دی گئی ][ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ ۙ: اس کی کتاب اس کے داہنے ہاتھ میں ][ فَيَقُوْلُ هَاۗؤُمُ : تو وہ کہے گا یہ لو ][ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ : پڑھو میری کتاب ]
(آیت۔ 19) اُوْتِیْ کا نائب فاعل مَنْ ہے جو محلا حالت رفع میں ہے، جبکہ کِتٰبَہٗ میں کتب مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ کِتٰبِیَہْ (دراصل کتابی ہے جس پر ہائے سکت لگی ہوئی ہے۔ (دیکھیں آیت 2:259، نوٹ۔ 2) ۔ اسی طرح آگے حِسَابِیَہْ ۔ مَالِیَہْ ۔ سُلْطٰنِیَہْ وغیرہ میں بھی ہائے متکلم کے آگے ہائے سکت لگی ہے۔ نوٹ کرلیں کہ ثائے ثانیث پر جب وقف کرتے ہیں تو وہ بھی با کی آواز دیتی ہے لیکن کتابت میں اس پر تا کے دو نقطے آتے ہیں جیسے رَاضِیَۃٍ ۔ عَالِیَۃٍ ۔ دَانِیَۃٍ ۔ اَلْقَاضِیَۃَ وغیرہ۔ جب کہ ہائے سکت نقطوں سے خالی ہوتی ہے۔
Ayah 69:20[اِنِّىْ ظَنَنْتُ : بیشک میں نے خیال کیا ][اَنِّىْ مُلٰقٍ : کہ میں ملاقات کرنے والا ہوں ][ حِسَابِيَهْ : اپنے حساب سے ]
Ayah 69:21[ فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ : تو وہ من بھاتی زندگی گزارنے میں ہے ]
Ayah 69:22[فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ : اونچا ہونے والے باغ میں ]
Ayah 69:23[قُطُوْفُهَا دَانيَةٌ: جس کے میوے قریب ہونے والے (جھکے ہوئے) ہوں گے ]
ق ط
[قَطْفًا : (ض) پھل چننا۔]
قِطْفٌ ج قُطُوْنٌ۔ اسم ذات ہے۔ پھل۔ میوہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔]
Ayah 69:24[كُلُوْا وَاشْرَبُوْا : (کھا جائے گا) تم لوگ کھائو اور پیو ][ هَنِيْۗئًۢا : خوشگوار ہوتے ہوئے ][ بِمَآ اَسْلَفْتُمْ : بسبب اس کے جو تم لوگوں نے آگے بھیجا ][ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ : گزرنے والے دنوں میں ]
Ayah 69:25[وَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ : اور وہ جو ہے جس کو دی گئی ][ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ : اس کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں ][ ڏ فَيَقُوْلُ : تو وہ کہے گا ][ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ : اے کاش مجھ کو دی ہی نہ جاتی ][ كِتٰبِيَهْ : میری کتاب ]
Ayah 69:26[وَلَمْ اَدْرِ : اور میں جانتا ہی نہ ][ مَا حِسَابِيَهْ : کیا ہے میرا حساب ]
Ayah 69:27[يٰلَيْتَهَا كَانتِ : اے کاش وہ (موت ہی) ہوتی ][ الْقَاضِيَةَ : فیصلہ کرنے (قصّہ چکانے) والی ]
(آیت۔ 27) کَانَتْ کا اسم اس میں شامل ھِیَ کی ضمیر ہے جب کہ اَلْقَاضِیَۃَ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 69:28[مَآ اَغْنٰى عَنِّيْ : کیا کام آیا میرے ][ مَالِيَهْ : میرا مال ]
Ayah 69:29[هَلَكَ عَنِّيْ : ہلاک (زائل) ہوا مجھ سے ][ سُلْطٰنِيَهْ : میرا اختیار ]
Ayah 69:30[خُذُوْهُ : (کہا جائے گا) پکڑو اس کو ][ فَغُلُّوْهُ : پھر طوق پہناؤ اس کو ]
Ayah 69:31[ثُمَّ الْجَحِيْمَ : پھر دہکتی آگ میں ][ صَلُّوْهُ : تم لوگ بھونو اس کو ]
Ayah 69:32[ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ : پھر ایک ایسی زنجیر میں ][ ذَرْعُهَا : جس کی لمبائی ][ سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا : ستر ہاتھ ہے ][ فَاسْلُكُوْهُ : تم لوگ ڈالو (جکڑو) اس کو ]
Ayah 69:33[اِنَّهٗ : بیشک وہ ][كَانَ لَا يُؤْمِنُ : ایمان نہیں لاتا تھا ][ بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِ : اس عظیم اللہ پر ]
Ayah 69:34[وَلَا يَحُضُّ : اور ترغیب نہیں دیتا تھا (کسی کو)][ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ : مسکین کے کھانا (کھلانے) پر ]
ح ض ض
(ن) حَضًّا کسی کام پر اکسانا۔ ترغیب دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 34 ۔
(تفاعل) تَحَاضًّا ایک دوسرے کو ترغیب دینا۔ وَلَاتَحٰفُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنَ (اور تم لوگ باہم ترغیب نہیں دیتے مسکین کے کھانا (کھلانے) پر۔ 89:18 ۔ تَحٰضُّوْنَ دراصل تَتَحٰضُّوْنَ ہے جس کی ایک تا گری ہوئی ہے۔
Ayah 69:35[فَلَيْسَ لَهُ : تو نہیں ہے اس کے لیے ][ الْيَوْمَ هٰهُنَا : آج یہاں ][ حَمِيْمٌ: کوئی گرم جوش (دوست)]
Ayah 69:36[وَّلَا طَعَامٌ: اور نہ چکھنے کی کوئی چیز ][ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍ : سوائے زخموں کے میل کچیل میں سے ]
Ayah 69:37[لَّا يَاْكُلُهٗٓ: نہیں کھاتے اس کو مگر ][ اِلَّا الْخَاطِـــُٔوْنَ : خطا (گناہ) کرنے والے ]
Ayah 69:38[فَلَآ : پس نہیں !][ اُقْسِمُ : میں قسم کھاتا ہوں ][ بِمَا تُبْصِرُوْنَ : اس کی جو تم لوگ دیکھتے ہو ]
نوٹ۔ 1: قسم سے پہلے اس طرح جو لا آیا کرتا ہے وہ نہ تو زائد ہوتا ہے اور نہ قسم کی نفی کے لیے، بلکہ یہ قسم سے پہلے مخاطب کی بات کی تردید کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں جہاں کوئی قسم کھائی گئی ہے بالعموم دعوے کی شہادت اور اس کی دلیل کے طور پر کھائی گئی ہے۔ یہاں اصل دعوٰی اثبات جزاء و سزا ہے۔ قیامت اور جزاء و سزا پر قرآن نے جو دلائل دیے ہیں وہ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکے ہیں اور اس سورة میں بھی زیر بحث آئے ہیں۔ ان پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کا تعلق آفاق وانفس کے ان شواہد سے بھی ہے جو آنکھوں سے دیکھے جاسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات اور آخرت کے ان احوال سے بھی ہے جو آنکھوں سے تو نہیں دیکھے جاسکتے لیکن عقل سے سمجھے جاسکتے ہیں۔ اسی سورة میں جزاء و سزا پر جو دلیل قائم کی گئی ہے وہ پہلے قوموں کی تاریخ اور ان کی تباہی کے آثار سے قائم کی گئی ہے۔ پھر عالم غیب کے وہ احوال سنائے گئے ہیں جن سے اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کو سابقہ پیش آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق اس عالم سے ہے جس کی گواہی تاریخ کے صفاحات اور زمین کے آثار میں موجود ہے۔ اور دوسرے کا تعلق اس نادیدہ عالم سے ہے جس کو ہرچند یہاں آنکھوں سے تو نہیں دیکھا جاسکتا لیکن عقل اس کو تسلیم کرتی ہے کیونکہ خالق کی صفات اور اس جہاں میں پیش آنے والے مکافاتِ عمل کے واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ انہی دو طرح کی دلیلوں کو گواہی میں پیش کر کے منکروں کو آگاہ فرمایا ہے کہ قرآن جس جزاء و سزا سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ اس عالم مشہود اور عالم غیر مشہود کے دلائل اس کی تائید میں ہیں۔ اس کو کسی شاعر کا کلام قرار دے کر جھٹلانے کو کوشش مت کرو۔ (تدبر قرآن)
Ayah 69:39[وَمَا لَا تُبْصِرُوْنَ : اور اس کی جو تم لوگ نہیں دیکھتے ]
Ayah 69:40[اِنَّهٗ : بیشک یہ (قرآن)][ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ : یقینا ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 40 میں رسول کریم سے مراد محمد ﷺ ہیں اور سورة تکویر (آیت۔ 19) میں اس سے مراد حضرت جبریل ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہاں قرآن کو رسول کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ کفار مکہ جبریل کو نہیں بلکہ محمد ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے جبکہ سورة تکویر میں قرآن کو رسول کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ وہ رسول بڑی قوت والا ہے، صاحب عرش کے ہاں بلند مرتبہ ہے، وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، وہ امانت دار ہے اور محمد ﷺ نے اس کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ قریب قریب یہی مضمون سورة نجم کی آیات۔ 5 تا 10 ۔ میں حضرت جبریل کے متعلق بیان ہوا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کو محمد ﷺ اور جبریل کا قول کس معنی میں کہا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگ اس کو حضور کی زبان نے اور حضور اسے جبریل کی زبان سے سن رہے تھے۔ اس لیے ایک لحاظ سے یہ حضور کا قول تھا اور دوسرے لحاظ سے جبریل کا قول، لیکن آگے چل کر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ فی الاصل یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ خود رسول کا لفظ بھی اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ان دونوں کا اپنا کلام نہیں ہے بلکہ پیغامبر ہونے کی حیثیت سے انھوں نے اس کو پیغام بھیجنے والے کی طرف سے پیش کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)