Ayah 69:41[وَمَا هُوَ : اور یہ (قرآن)][ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۭ: کسی شاعر کا کہا ہوا نہیں ہے ][ قَلِيْلًا مَّا : بہت ہی تھوڑاسا ][ تُؤْمِنُوْنَ : تم لوگ ایمان لاتے ہو ]
Ayah 69:42[وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۭ: اور نہ کسی کاہن کا کہا ہوا ہے ][ قَلِيْلًا مَّا : بہت ہی تھوڑی سی ][ تَذَكَّرُوْنَ : تم لوگ نصیحت پکڑتے ہو ]
Ayah 69:43[تَنْزِيْلٌ: (یہ) اتارا ہوا ہے ][ مِّنْ رَّبِ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہاں کے رب ( کی طرف ) سے ]
Ayah 69:44[وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا : اور اگر وہ غلط منسوب کرتے ہم پر ][ بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ : باتوں کی کوئی (بات)]
نوٹ۔ 3: آیات۔ 44 تا 47 ۔ میں ایک خاص واقعہ کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اگر خدانخواستہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے تو آپ کے ساتھ یہ معاملہ کیا جاتا۔ اس میں کوئی عام ضابطہ بیان نہیں کیا گیا کہ جو شخص بھی نبوت کا جھوٹا دعوٰی کرے، ہمیشہ اس کو ہلاک ہی کردیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعوٰی کیا لیکن ان پر کوئی ایسا عذاب نہیں آیا۔ (معارف القرآن)
اس کی مثال یوں سمجھو کہ جس طرح بادشاہ ایک شخص کو کسی منصب پر مامور کر کے اور سند و فرمان وغیرہ دے کر کسی طرف روانہ کرتے ہیں۔ اب اگر اس شخص سے اس خدمت میں کچھ خیانت ہوئی یا بادشاہ پر کچھ جھوٹ باندھنا اس سے ثابت ہوا تو اسی وقت بلاتوقف اس کا تدارک کرتے ہیں۔ لیکن اگر سڑک کوٹنے والا مزدور یا جھاڑو دینے والا بھنگی بکتا پھرے کہ گورنمنٹ کا میرے لیے یہ فرمان ہے یا میرے ذریعہ سے یہ احکام دیئے گئے ہیں، تو کون اس کی بات پر کان دھرتا ہے اور کون اس کے دعوئوں سے تعرض کرتا ہے۔ بہرحال آیت ہذا میں حضور کی نبوت پر استدلال نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ بتلایا گیا ہے کہ قرآن کریم خالص اللہ کا کلام ہے جس میں ایک حرف یا ایک شوشہ بھی نبی کریم ﷺ اپنی طرف سے شامل نہیں کرسکتے اور نہ آپ کی یہ شان ہے کہ کوئی بات اللہ کی طرف منسوب کردیں جو اس نے نہ کی ہو۔ تورات سفر استثناء کے اٹھارویں باب میں بیسواں فقرہ یہ ہے، لیکن وہ نبی ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ ہی قتل کیا جائے۔ “ (ترجمہ شیخ الہند)
مورخہ 17 ۔ صفر 1431 ھ بمطابق 2 ۔ فروری 2010 ء
Ayah 69:45[لَاَخَذْنَا مِنْهُ : تو ہم ضرور پکڑتے اس کو ][ بِالْيَمِيْنِ : داہنے ہاتھ (پوری طاقت) سے ]
ترکیب : (آیت۔ 45) اس میں یہ نہیں کہا کہ لَاَخَزْنَاہُ بلکہ ضمیر مفعولی کے ساتھ مِنْ لگا دیا ہے کیونکہ کسی کو جب پکڑتے ہیں تو اس کا پورا جسم نہیں پکڑتے بلکہ جسم کا کوئی حصہ جیسے گردن یا ہاتھ وغیرہ پکڑتے ہیں تو اس کا پورا جسم نہیں پکڑتے ہیں۔ بالیمین (داہنے ہاتھ سے) ۔ اس سے مراد ہے قوت سے۔ طاقت سے۔ (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماخوذ) ۔ اس آیت کے ترجمہ سے متعلق تدبر قرآن میں ہے کہ عام طور پر لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے ” ہم اس کا (پیغمبر کا) داہنا ہاتھ پکڑتے “ لیکن عربیّت کے قاعدے سے اس کا ترجمہ ہونا چاہیے ” ہم اس کو اپنے قوی بازو سے پکڑتے۔ “ اور تفسیر ابن جریر سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ (آیت۔ 47) لفظ اَحَدٌ میں کبھی جمع کا مفہوم ہوتا ہے۔ جیسے ہم کہیں کہ تم لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تم سب کے سب ایسے نہیں ہو۔ اس طرح اس جملہ میں لفظ ایک جمع کے مفہوم میں ہے۔ اس آیت میں بھی مِنْ اَحَدٍ جمع کے مفہوم میں ہے، اس لیے حَاجِزًا (واحد) کے بجائے حَاجِزِیْنَ (بھی) آیا ہے۔
Ayah 69:46[ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ : پھر ہم ضرور کاٹ دیتے اس سے ][ الْوَتِيْنَ : (اس کی) رگِ دل کو ]
Ayah 69:47[فَمَا مِنْكُمْ : تو نہ ہوتا تم میں سے ][ مِّنْ اَحَدٍ : کوئی ایک بھی ][ عَنْهُ حٰجِـزِيْنَ : اس سے روکنے والا ]
Ayah 69:48[وَاِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ: اور بیشک یہ (قرآن) یقینا ایک یاددہانی ہے ][لِّلْمُتَّقِيْنَ : متقی لوگوں کے لیے ]
Ayah 69:49[وَاِنَّا لَنَعْلَمُ : اور بیشک ہم یقینا جانتے ہیں ][اَنَّ مِنْكُمْ : کہ تم میں سے ][ مُّكَذِّبِيْنَ : کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں (اس کو)]
Ayah 69:50[وَاِنَّهٗ : اور بیشک یہ (جھٹلانا) ضرور ][ لَحَسْرَةٌ: ایک حسرت ہوگا ][ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں پر ]
Ayah 69:51[ووَاِنَّهٗ لَحَقُّ الْيَقِيْنِ : اور بیشک یہ یقین کرنے کا حقدار ہے ]
Ayah 69:52[فَسَبِّحْ : تو پھر تو تسبیح کر ][ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ : اپنے عظیم رب کے نام کی ]