Ayah 68:1[نۗ وَالْقَلَمِ : قسم ہے قلم کی ][ وَمَا يَسْطُرُوْنَ : اور اس کی جو وہ لکھتے ہیں ]
Ayah 68:2[مَآ انتَ بِنِعْمَةِ رَبِكَ : آپ اپنے رب کی نعمت کے سبب سے ][ بِمَجْنُوْن : کوئی مجنون نہیں ہیں ]
Ayah 68:3[وَاِنَّ لَكَ : اور بیشک آپ کے لیے ][ لَاَجْرًا : یقینا ایک ایسا اجر ہے جو ][ غَيْرَ مَمْنُوْنٍ : منقطع ہونے والا نہیں ہے ]
Ayah 68:4[وَاِنَّكَ : اور بیشک آپ ][ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ : یقینا عظیم اخلاقیات پر ہیں ]
نوٹ۔ 1: رسول کریم ﷺ کے وجود میں حق تعالیٰ نے تمام ہی اخلاق فاضلہ بدرجۂ کمال جمع فرما دیئے تھے۔ خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کام کے لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی اس پوری مدت میں جو کام میں نے کیا، آپ ﷺ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ایسا کیوں کیا اور جو کام نہیں کیا اس پر کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا۔ بی بی عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا بجز جہاد فی سبیل اللہ کے۔ ورنہ آپ نے نہ کسی خادم کو، نہ کسی عورت کو کبھی نہیں مارا۔ ان میں سے کسی سے خطا و لغزش بھی ہوئی تو اس کا انتقام نہیں لیا بجز اس کے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کو ہو تو شرعی سزا جاری فرمائی۔ آپ نہ فحش گو تھے نہ فحش کے پاس جاتے تھے، نہ بازار میں شوروشغب کرتے تھے۔ برائی کا بدلہ کبھی برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معافی اور درگزر کا معاملہ فرماتے تھے۔ اور حضرت ابودرداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میزانِ عمل میں خلق حسن کے برابر کسی عمل کا وزن نہیں ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ گالی گلوچ کرنے والے بدزبان سے بغض رکھتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان اپنے حسن خلق کی بدولت اس شخص کا درجہ حاصل کرلیتا ہے جو ہمیشہ رات کو عبادت میں جاگتا اور دن بھر روزہ رکھتا ہو۔ اور حضرت معاذ نے فرمایا کہ مجھے یمن کا عامل (گورنر) مقرر کر کے بھیجنے کے وقت آخری وصیت جو آپ نے مجھے اس وقت فرمائی جبکہ میں اپنا ایک پائوں رکاب میں رکھ چکا تھا، وہ یہ تھی کہ اے معاذ لوگوں سے حسن خلق کا برتائو کرنا۔ (معارف القرآن)
Ayah 68:5[فَسَتُبْصِرُ : پس آپ دیکھیں گے ][ وَيُبْصِرُوْنَ : اور یہ لوگ (بھی) دیکھ لیں گے ]
Ayah 68:6[بِاَىيِّكُمُ : تمہارے کس کے ساتھ ][ الْمَفْتُوْنُ : مبتلائِ فتنہ (شخص) ہے ]
Ayah 68:7[اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ : بیشک آپ کا رب ہی خوب جاننے والا ہے ][ بِمَنْ ضَلَّ : اس کو جو بھٹک گیا ][ عَنْ سَبِيْلِهٖ : اس کے راستے سے ][ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ : اور وہ ہی خوب جاننے والا ہے ہدایت پانے والوں کو ]
Ayah 68:8[فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ : تو آپ کہنا مت مانیں جھٹلانے والوں کا ]
Ayah 68:9[وَدُّوْا : ان لوگوں نے خواہش کی ][ لَوْ تُدْهِنُ : کاش آپ ڈھیلے پڑیں ][ فَيُدْهِنُوْنَ : تو وہ لوگ بھی ڈھیلے پڑیں گے ]
Ayah 68:10[وَلَا تُطِعْ : تو آپ کہنا مت مانیں ][ كُلَّ حَلَّافٍ : کسی بھی بہت قسم کھانے والے کا ][ مَّهِيْنٍ : کسی بےوقعت کا ]
نوٹ۔ 2: آیت۔ 10 ۔ کو سابقہ آیت فَلَا تُطِعِ الْمُکَنِّہ بِیْنَ پر عطف کر کے تاکید کے ساتھ پھر تنبیہہ فرمائی کہ تم ہر لپاٹیے ذلیل کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ یہ اشارہ کسی خاص شخص کی طرف نہیں ہے بلکہ قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی پستی کی تصویر آگے کی چند آیتوں میں کھینچ دی گئی ہے اور مقصود یہ دکھانا ہے کہ ایک طرف پیغمبر کا بےمثال خلق عظیم ہے اور دوسری طرف قریش کے لیڈروں کا یہ کردار ہے جو بیان ہو رہا ہے۔ ان دونوں کو سامنے رکھ کر ہر منصف مزاج فیصلہ کرسکتا ہے کہ کون کس انجام سے دوچار ہونے والا ہے۔
یہ بات کہ یہاں کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا کردار بیان ہو رہا ہے، مختلف پہلوئوں سے واضح ہے۔ (1) اس کا عطف اَلْمُکَنِّہ بِیْنَ پر ہے اور مکذبین سے مراد ظاہر ہے کہ کوئی متعین شخص نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت ہے۔ (2) لفظ کل بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کسی متعین شخص کا کردار زیر بحث نہیں ہے بلکہ جماعت کا کردار ہے۔ (3) یہاں جو کردار بیان ہوا ہے وہ قریش کی پوری قیادت پر تو ٹھیک ٹھیک منطبق ہوجاتا ہے لیکن ہر بات اگر کسی ایک شخص پر منطبق کرنے کی کوشش کی جائے تو تکلف کرنا پڑے گا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 68:11[هَمَّازٍ : کسی کثرت سے طعنہ دینے والے کا ][ مَّشَّاۗءٍۢ: بہت چلنے والا ][ بِنَمِيْمٍ : چغلی کے ساتھ ]
Ayah 68:12[مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ : بہت منع کرنے والا کسی بھی بھلائی سے ][ مُعْتَدٍ : زیادتی کرنے والا ][ اَثِيْمٍ : پکا گنہگار ]
Ayah 68:13[عُتُلٍّۢ: بدمزاج ][ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد (ساتھ)][ زَنِيْمٍ : بدذات بھی ]
Ayah 68:14[ااَنْ كَانَ : (اس لیے) کہ وہ ہوا ][ ذَا مَالٍ وَّبَنِيْنَ : مال اور بیٹوں والا ]
Ayah 68:15[اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ : جب بھی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اس کو ][ اٰيٰتُنَا : ہماری آیتیں ][ قَالَ : تو وہ کہتا ہے ][ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ : پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں ]
Ayah 68:16[سَنَسِمُهٗ : ہم داغ دیں گے اس کو ][ عَلَي الْخُرْطُوْمِ : سونڈ (ناک) پر ]
Ayah 68:17[اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ : بیشک ہم نے آزمائش میں ڈالا ان کو ][ كَمَا بَلَوْنَآ : جیسے ہم نے آزمایا ][ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ ۚ: باغ والوں کو ][ اِذْ اَقْسَمُوْا : جب انھوں نے قسم کھائی ][ لَيَصْرِمُنَّهَا : ہم لازماً کاٹیں گے اس (باغ کی فصل) کو ][ مُصْبِحِيْنَ : صبح کرنے والے ہوتے ہوئے ]
ص ر م
[ صَرْمًا : (ض) (1) کسی چیز کا ٹوٹنا (لازم) کسی چیز کو کاٹنا (متعدی) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17 ۔]
ترکیب : (آیت۔ 17) بَلَوْنٰھُمْ میں ھُمْ کی ضمیر اہل مکہ کے لیے ہے۔ اَقْسَمُوْا میں شامل ھُمْ کی ضمیر فاعلی اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ کے لیے ہے۔
نوٹ۔ 1: بَلَوْنٰھُمْ میں ضمیر ھُمْ کا مرجع ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہوں گے جن کا کردار اوپر زیر بحث آیا ہے۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ وہ کردار کسی معین شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا ہے، ورنہ جمع کی جگہ واحد ضمیر آتی۔ اسی طرح یہاں زبان کا ایک دوسرا نکتہ بھی قابل لحاظ ہے۔ یہاں لفظ اَلْجَنَّۃِ پر الف لام داخل ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص باغ والوں کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ تمثیلات میں لام تعریف یا اَلَّذِیْ اور اَلَّتِیْ وغیرہ جو آتے ہیں تو اس سے مقصود یہ نہیں ہوتا کہ کوئی معین ذات مدنظر ہے بلکہ اس سے مقصود صرف صورت حال کو مشخص و مصور کرنا ہوتا ہے تاکہ قاری کے سامنے واقعہ کی پوری تفصیل آجائے۔ اس وجہ سے یہاں کسی خاص باغ کے مالکوں کی جستجو کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خاکہ ہے جس میں قریش کے لیڈروں کے ذہن اور ان کے انجام کی تصویر اس طرح کھینچ دی گئی ہے کہ اس کا کوئی گوشہ مخفی نہیں رہ گیا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 68:18[وَلَا يَسْتَثْنُوْنَ : اور انھوں نے استثناء (ان شاء اللہ) نہیں کہا ]
نوٹ۔ 2: لَایَسْتَثْنُوْنَ کے معنی استثناء نہ کرنے کے ہیں اور مراد اس استثناء سے ان شاء اللہ کہنا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے استثناء سے مراد یہ لیا ہے کہ ہم پورا پورا غلہ اور پھل لے آئیں گے اور فقراء کا حصہ مستثنیٰ نہیں کریں گے۔ (معارف القرآن)
Ayah 68:19[فَطَافَ عَلَيْهَا : تو گھوم گیا اس (باغ) پر ][ طَاۗىِٕفٌ: ایک گھومنے والا (بگولہ)][ مِّنْ رَّبِكَ : آپ کے رب (کی طرف) سے ][ وَ : اس حال میں کہ ][ هُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ : وہ لوگ نیند کرنے والے تھے ]
Ayah 68:20[فَاَصْبَحَتْ : نتیجۃً وہ (باغ) صبح کو ہوگیا ][ كَالصَّرِيْمِ : کاٹے ہوئے کھیت کی مانند ]
[ صَرِیْمٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے اسم المفعول کے معنی میں۔ کاٹا ہوا۔ پھر اس فصل کے لیے بھی آتا ہے جو کاٹ لی گئی ہو اور اس زمین کے لیے بھی جس کی فصل کاٹ لی گئی ہو۔ زیر مطالعہ آیت۔ 20 ۔]
Ayah 68:21[فَتَنَادَوْا : تو انھوں نے ایک دوسرے کو پکارا ][ مُصْبِحِيْنَ؛صبح سویرے ]
Ayah 68:22[اَنِ اغْدُوْا : کہ تم لوگ سویرے پہنچو ][ عَلٰي حَرْثِكُمْ : اپنی کھیتی پر ][ اِنْ كُنْتم صٰرِمِيْنَ : اگر تم لوگ ہو کاٹنے والے ]
[صَارِمٌ اسما الفاعل ہے۔ کاٹنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 22 ۔]
Ayah 68:23[فَانْطَلَقُوْا : تو وہ لوگ چلے ][ وَهُمْ يَتَخَافَتُوْنَ : ار وہ لوگ باہم سرگوشی کرتے تھے ]
Ayah 68:24[اَنْ لَّا يَدْخُلَنَّهَا : کہ چاہیے کہ ہرگز داخل نہ ہو اس (باغ) میں ][ الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ : آج تم پر ][ مِّسْكِيْنٌ: کوئی مسکین ]
(آیت۔ 24) یہاں پر لَا یَرْخُلَنَّ کے دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو مضارع منفی مانا جائے جس نون ثقیلہ داخل ہوا ہے۔ ایسی صورت میں ترجمہ ہوگا ” ہرگز داخل نہیں ہوگا۔ “ دوسرا یہ کہ اس کو لائے نہی غائب لایدخل مانا جائے جس پر نون ثقیلہ داخل ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ ہوگا ” چاہے کہ ہرگز داخل نہ ہو۔ “ سیاق وسباق کے لحاظ سے دوسرے امکان کو ترجیح دینا بہتر ہے۔
Ayah 68:25[وَّغَدَوْا : اور وہ سویرے نکلے ][ عَلٰي حَرْدٍ قٰدِرِيْنَ : ایک ارادہ پر قادر ہوتے ہوئے ]
ح ر د
[صَرْدًا : (ض) (1) منع کرنا۔ (2) ارادہ کرنا۔]
[ صَرْدٌ اسم ذات بھی ہے۔ ارادہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 25 ۔]
Ayah 68:26[فَلَمَّا رَاَوْهَا : پھر جب انھوں نے دیکھا اس (باغ) کو ][ قَالُوْٓا اِنَّا لَضَاۗلُّوْنَ : تو کہا بیشک ہم یقینا راستہ بھولنے والے ہیں ]
Ayah 68:27[بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ : (نہیں) بلکہ ہم محروم کیے گئے ہیں ]
Ayah 68:28[قَالَ اَوْسَطُهُمْ : کہا ان کے زیادہ افضل نے ][ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ : کیا میں نے نہیں کہا تھا تم لوگوں سے ][ لَوْلَا تُـسَبِّحُوْنَ : کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے (اللہ کی)]
Ayah 68:29[قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَآ : انھوں نے کہا ہمارے رب کی پاکیزگی ہے ][ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ : بیشک ہم تھے ظلم کرنے والے ]
Ayah 68:30[فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ : تو سامنے ہوا ان کا کوئی کسی پر ][ يَّتَلَاوَمُوْنَ : باہم ملامت کرتے ہوئے ]
Ayah 68:31[قَالُوْا يٰوَيْلَنَآ : انھوں نے کہا ہائے ہماری بربادی ][ اِنَّا كُنَّا طٰغِيْنَ : ہم تھے حد سے بڑھنے والے ]
Ayah 68:32[عَسٰى رَبُّنَآ : امید ہے ہمارے رب سے ][ اَنْ يُّبْدِلَنَا : کہ وہ بدلے میں دے ہم کو ][ خَيْرًا مِّنْهَآ : زیادہ بھلا اس (باغ) سے ][ اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا : بیشک ہم اپنے رب کی طرف ][ رٰغِبُوْنَ : رغبت کرنے والے ہیں ]
Ayah 68:33[كَذٰلِكَ الْعَذَابُ ۭ: ایسا ہوتا ہے (دنیوی) عذاب ][ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا عذاب (تو)][ اَكْبَرُ ۘ: سب سے بڑا ہے ][ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ : کاش یہ لوگ جانتے ہوتے ]
Ayah 68:34[اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ : بیشک متقی لوگوں کے لیے ان کے رب کے پاس ][ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ : دائمی نعمتوں کے باغات ہیں ]
ترکیب : قاعدہ یہ ہے کہ جملہ کے شروع میں اَنَّ (بیشک) آتا ہے اور جملہ کے درمیان میں ان (کہ) آتا ہے۔ اس قاعدے کا ایک استثناء ہم آیت۔ 2:25، نوٹ۔ 2 ۔ میں پڑھ چکے ہیں کہ قَالَ یا اس کے مشتقات سے شروع ہونے والے جملوں کے درمیان میں اِنَّ آتا ہے لیکن ایسی صورت میں اس کے معنیٰ ” کہ “ ہوتے ہیں۔ اس قاعدے کا دوسرا استثناء یہ ہے کہ ان کی خبر پر اگر لام تاکید آ رہا ہو تو اس کی جگہ ان آتا ہے لیکن اس کے معنی اِنَّ (کہ) کے بھی ہوتے ہیں۔ اس حوالہ سے نوٹ کریں کہ آیت۔ 38 ۔ 39 ۔ میں لما میں ما پر لام تاکید آیا ہے اس لیے ان سے پہلے ان آیا ہے لیکن ان کے معنی ” کہ “ ہی ہیں۔ تَخَیَّرُوْنَ اگر باب تفعیل سے ہوتا تو تُخَیِّرُوْنَ آتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ باب تفعل سے تَتَخَیَّرُوْنَ ہے جس کی ایک تا گری ہوئی ہے۔
نوٹ۔ 1: ان آیات میں نیک بندوں کی جزاء کا ذکر ہے اور اس کے بعد مشرکین کے ایک اور باطل دعوے کا ری ہے۔ کفار مکہ کیا کرتے تھے کہ اول تو قیامت آنے والی نہیں ہے اور دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب کا قصہ سب افسانہ ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو ہمیں وہاں بھی ایسی ہی نعمتیں ملیں گی جیسے دنیا میں ملی ہیں۔ اس کا جواب دیا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نیک بندوں اور محرموں کو برابر کر دے گا۔ یہ کیسا عجیب و غریب فیصلہ ہے جس کی نہ کوئی سند نہ دلیل نہ کسی آسمانی کتاب سے اس کا ثبوت اور نہ ہی اللہ کی طرف سے کوئی وعدہ وعید کہ وہاں بھی تمہیں نعمت دے گا۔
ان آیات کے مذکورہ طرز استدلال سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کا آنا حساب کتاب کا ہونا اور نیک و بد کی جزاء و سزا، یہ سب عقلاً ضروری ہے (یعنی انسانی عقل اس کا تقاضہ کرتی ہے) دنیا میں ہر شخص اس کا مشاہدہ کرتا ہے اور کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں عموماً بدکار اور ظالم نفع میں رہتے ہیں اور مزے اڑاتے ہیں۔ پھر وہ نہ خوف خدا کو جانیں، نہ آخرت کو مانیں، نہ کسی شرم و حیا کے پابند ہوں اور اپنے نفس کی خواہشات کو جس طرح چاہیں پورا کرتے ہیں جبکہ نیک آدمی اوّل تو خدا سے ڈرتا ہے اور اگر وہ نہ ہو تو برادری کی شرم و حیا سے مغلوب ہوجاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ دنیا کے کارخانے میں تو بدکار اور بدمعاش کامیاب اور نیک شریف آدمی ناکام نظر آٹا ہے۔ اب اگر آگے بھی کوئی ایسا وقت نہ آئے جس میں حق اور ناحق کا صحیح انصاف ہو، نیک کو اچھا بدلہ ملے اور بدکو سزا ملے تو پھر اوّل تو کسی برائی کو برائی کہنا لغو اور بےمعنیٰ ہوجاتا ہے اور دوم یہ کہ پھر عدل و انصاف کے کوئی معنیٰ باقی نہیں رہتے۔ جو لوگ خدا کے وجود کے قائل ہیں وہ اس کا کیا جواب دیں گے کہ خدا تعالیٰ کا انصاف کہاں گیا۔
رہا یہ خیال کہ دنیا میں مجرم پکڑا جاتا ہے اور سزا پاتا ہے۔ اس طرح شریف آدمی کا امتیاز اسی دنیا میں واضح ہوجاتا ہے اور عدل و انصاف حکومتوں کے قوانین سے قائم ہوجاتا ہے (تو پھر دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب اور جزاء و سزا کی کیا ضرورت ہے۔ مرتب) اور اس لیے غلط ہے کہ اوّل تو ہر جگہ اور ہر حال میں حکومت کی نگرانی ہو ہی نہیں سکتی، جہاں ہوجاوے وہاں عدالتی ثبوت ہر جگہ بہم پہنچانا آسان نہیں اور جہاں ثبوت بھی بہم پہنچ جائے تو زور و زر اور رشوت و سفارش اور دبائو کے کتنے چور دروازے ہیں جن سے مجرم نکل بھاگتا ہے۔ اس دنیا کی حکومتی اور عدالتی جرم و سزا کا جائزہ لیا جائے تو یہاں پر سزا صرف وہ جسے عقل اور بےسہارا آدمی پاتا ہے جو کوئی چور دروازہ نہ نکال سکے۔ باقی سب مجرم آزاد پھرتے ہیں۔ قرآن مجید کے الفاظ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً ایک ایسا وقت آنا ضروری ہے جب سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لیے کوئی چور دروازہ نہ ہو۔ (معارف القرآن)
Ayah 68:35[اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ : تو کیا ہم بنائیں گے فرمانبرداروں کو ][ كَالْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کے جیسا ]
Ayah 68:36[مَا لَكُمْ ۪: تمہیں کیا ہے ][ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ : کیسا تم لوگ فیصلہ کرتے ہو ]
Ayah 68:37[اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ: یا تمہارے لیے کوئی ایسی (آسمانی) کتاب ہے ][ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَ : جس میں تم سبق پڑھتے ہو ]
Ayah 68:38[اِنَّ لَكُمْ فِيْهِ : کہ تمہارے لیے اس (کتاب) میں ][ لَمَا : ضرور وہ ہے جو ][ تَخَيَّرُوْنَ : تم لوگ اپنے لیے پسند کرتے ہو ]
Ayah 68:39[اَمْ لَكُمْ اَيْمَانٌ عَلَيْنَا : یا تمہارے لیے ہم پر ایسی قسمیں ہیں جو ][ بَالِغَةٌ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ: پہنچنے والی ہیں قیامت کے دن تک ][ اِنَّ لَكُمْ : کہ تمہارے لیے ][ لَمَا : ضرور وہ ہوگا جو ][ تَحْكُمُوْنَ : تم لوگ آڈر دو گے ]
Ayah 68:40[سَلْهُمْ اَيُّهُمْ : آپ پوچھیں ان سے کہ ان کا کون ][ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌ: اس کی ضمانت دینے والا ہے ]