67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

[تَبٰرَكَ الَّذِي : بابرکت ہوئی وہ (ذات)][ بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ][ الْمُلْكُ ۡ: ساری بادشاہت ہے ][ وَهُوَ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز پر ][ قَدِيْرُ : قدرت رکھنے والا ہے ] نوٹ۔ 1: حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سورة عذاب کو روکنے والی اور عذاب سے نجات دلانے والی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب سے بچائے گی۔ (معارف القرآن)
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی

[الَّذِي خَلَقَ : جس نے پیدا کیا ][ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ : موت کو اور حیات کو ][ لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ وہ جانچے تم لگوں کو (کہ)][ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ : تم لوگوں کا کون زیادہ اچھا ہے ][ عَمَلًا : بلحاظ عمل کے ][ ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْر : اور وہ ہی بالا دست ہے بےانتہا بخشنے والا ہے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 2 میں ہے کہ اس نے پیدا کیا موت اور قیامت کو۔ حیات کے لیے پیدا کرنے کا لفظ تو اپنی جگہ ظاہ رہے، کہ حیات ایک وجودی چیز ہے۔ لیکن موت جو بظاہر ایک عدم کا نام ہے، اس کے ساتھ تخلیق کا تعلق کس طرح ہوا۔ اس کے جواب میں ائمہ تفسیر سے متعدد اقوال منقول ہیں۔ سب سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ موت عدم محض کا نام نہیں ہے بلکہ روح اور بدن کا تعلق منقطع کر کے روح کو ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقل کرنے کا نام ہے اور یہ ایک وجودی چیز ہے۔ غرض جس طرح حیات ایک حال (یعنی حالت) سے جو جسم انسانی پر طاری ہوتا ہے، اسی طرح موت بھی ایک ایسا ہی حال ہے۔ (معارف القرآن) ۔ اس دنیا میں انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اس نے اس لیے شروع کیا ہے کہ ان کا امتحان لے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں بہت سی حقیقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ اوّل یہ کہ موت اور حیات اسی کی طرف سے ہے، کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا ہے نہ موت دینے والا۔ دوسرے یہ کہ انسان جیسی مخلوق، جیسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے، اس کی نہ زندگی ہے نہ مقصد ہے نہ موت۔ خالق نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا۔ تیسرے یہ کہ اسی امتحان کی غرض سے کالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کر کے اپنی اچھائی یا برائی کا اظہار کرسکے۔ چوتھے یہ کہ خالق ہی اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا بُرا۔ اعمال کی اچھائی اور برائی کا معیار تجویز کرنا امتحان دینے والوں کا کام نہیں ہے بلکہ امتحان پہلے والے کا کام ہے۔ اس لیے جو بھی امتحان میں کامیاب ہونا چاہے اسے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ امتحان لینے والے کے نزدیک حسن عمل کیا ہے۔ پانچواں نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جس کا جیسا عمل ہوگا اسی کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 67:3

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟

[الَّذِي خَلَقَ : جس نے پیدا کیا ][ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمانوں کو ][ طِبَاقًا ۭ: تلے اوپر ہوتے ہوئے ][ مَا تَرٰى: تو نہیں دیکھے گا ][ فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمان کی تخلیق میں ][ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ: کسی طرح بھی ہم آہنگ نہ ہونا ][ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ: پس تو لوٹا بصارت کو ][ هَلْ تَرٰى: کیا تو دیکھتا ہے ][ مِنْ فُطُوْرٍ : کچھ بھی شگاف ]
Ayah 67:4

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

بار بار نگاہ دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی

[ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر تو لوٹا بصارت کو ][ كَرَّتَيْنِ : دوبارہ ][ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تو پلٹ آئے گی تیری طرف بصارت ][ خَاسِئًا : تھکی ماندی ہوتے ہوئے ][ وَّهُوَ حَسِيْرٌ: اس مال میں کہ وہ ناکام ہوگی ]
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے

[وَلَقَدْ زَيَّنَا : اور بیشک ہم نے سجایا ہے ][ السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا : نزدیکی (دنیوی) آسمان کو ] بِمَصَابِيْحَ : چراغوں سے ][ وَجَعَلْنٰهَا : اور ہم نے بنایا ان (چراغوں) کو ][ رُجومًا : سنگسار کرنے کے ذرائع ][ لِلشَّـيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے ][ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ : اور ہم نے تیار کیا ان کے لیے ][ عَذَابَ السَّعِيْرِ : بھڑکتی آگ کا عذاب ] نوٹ۔ 3: آیت۔ 6 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بیحد و حساب شہاب ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری سے گھومتے رہتے ہیں اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے، وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالم بالا میں جاسکیں۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو یہ شہاب ثاقب انہیں مار بھگاتے ہیں۔ رہا یہ سوال کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے، تو اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات اب تک انسان کے علم میں آئے ہیں اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں ان کی بناء پر سائنس دانوں میں سب سے زیادہ مقبول نظریہ یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے میں آ کر ادھر کا رخ کرلیتے ہیں۔ (تفہیم القرآن) ۔
Ayah 67:6

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے

[وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان کے لیے جنھوں نے انکار کیا ][ بِرَبِهِمْ : اپنے رب کا ][ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۭ: جہنم کا عذاب ہے ][ وَبِئْسَ : اور بہت بری ہے (وہ)][ الْمَصِيْرُ : لوٹنے کی جگہ ]
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اسکے دھاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی

[اِذَآ اُلْقُوْا فِيْهَا : جب وہ ڈالے جائیں گے اس میں ][ سَمِعُوْالَهَا : تو وہ سنیں گے اس میں ][ شَهِيْقًا : رینکنے والی آواز ][ وَّهِىَ تَفُوْر : اس حال میں کہ وہ ابلتی ہوگی ] ترکیب : (آیت۔ 7 ۔ 8) اِذَا اور کُلَّمَا حرف شرط ہیں۔ اس لیے افعال ماضی کا ترجمہ مستبقل میں ہوگا۔ تُمَیِّزُ کی پہچان یہ ہے کہ نہ تو یہ تَمَیَّزَ (باب تفعل کا ماضی) ہے اور نہ ہی یہ تُمَیِّزُ (باب تفعیل کا مضارع) ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات تفعل کا مضارع تَتَمَیَّرُ ہے جس کی ایک تا گری ہوئی ہے۔ خَازِنٌ کی جمع خَزَنَۃٌ ہے۔ یہاں یہ سَئَلَ کا فاعل اسم ظاہر ہے اس لیے فاعل جمع ہونے کے باوجود فعل سَئَلَ واحد آیا ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 7 میں شَھِیْقٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ خود جہنم کی آواز ہوگی، اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آرہی ہوگی جہاں ان سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ اس دوسرے مفہوم کی تائید سورة ہود کی آیت۔ 106 سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں یہ دوزخی لوگ ہانپیں گے اور پھنکاریں گے اور پہلے مفہوم کی تائید سورة فرقان کی آیت۔ 12 ۔ سے ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے۔ اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی ہوگا اور جہنمیوں کا بھی۔ (تفہیم القرآن) ۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

شدت غضب سے پھٹی جاتی ہو گی ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟"

[تَكَادُ تمــيَّزُ : قریب ہے کہ وہ پھٹ پڑے گی ][ مِنَ الْغَيْظِ ۭ: شدید غصّہ سے ][ كُلَمَآ : جب کبھی بھی ][ اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ: ڈالا جائے گا اس میں کسی گروہ کو ][ سَاَلَهُمْ : تو پوچھیں گے ان سے ][ خَزَنَــتُهَآ : اس (جہنم) کے داروغہ لوگ ][ اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں پہنچا تمہارے پاس ][ نَذِيْرٌ: کوئی خبردار کرنے والا ]
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے "ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو"

[قَالُوْا بَلٰي : وہ لوگ کہیں گے کیوں نہیں ][ قَدْ جَاۗءَنَا : آچکا تھا ہمارے پاس ][ نَذِيْرٌ: ایک خبردار کرنے والا ][ ڏ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا : تو ہم نے جھٹلایا اور ہم نے کہا ][ مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں اتارا اللہ نے ][ مِنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ][ ښ ان انتم اِلَّا : نہیں ہو تم (خبردار کرنے والے) لوگ مگر ][ فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : ایک بڑی گمراہی میں ] (آیت۔ 9) قَالُوْا سے پہلے کوئی حرف شرط نہیں ہے لیکن پھر بھی فعل ماضی کا ترجمہ مستبقل میں ہوگا کیونکہ یہ قیامت کا بیان ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 2:28، نوٹ۔ 13) ۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ میں اِنْ کے بعد اِلَّا آ رہا ہے۔ اس سے معلوم ہا کہ یہ اِنْ نافیہ ہے۔
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے "کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے"

[وَقَالُوْا : اور وہ (جہنمی) لوگ کہیں گے ][ لَوْ كُنَا نَسْمَعُ : کاش ہم سنا کرتے ][ اَوْ نَعقل : یا عقل استعمال کیا کرتے ][ مَا كُنَا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : تو ہم نہ ہوتے آگ والوں میں ] (آیت۔ 10) اس آیت کے مختلف ترجمے ممکن ہیں۔ لَوْ کو شرطیہ (اگر) مان کر بھی ترجمہ ہو ہے اور اسے تمنی (کاش) مان کر بھی ترجمہ ہوسکتا ہے۔ دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ اسی طرح کُنَّا نَسْمَعُ کو ماضی استمراری بھی مانا جاسکتا ہے اور کُنَّا کو فعل ناقص مان لیں تو اس میں شامل نَحْنُ کی ضمیر اس کا اسم اور نَسْمَعُ اس کی خبر ہوگی۔ دونوں ترجمے درست ہوں گے۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر

[فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ۚ: پھر وہ لوگ اعتراف کریں گے اپنے گناہ کا ][ فَسُحْقًا : (تو ثابت ہوگی) دوری (رحمت سے)][ لِاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : آگ والوں کے لیے ] (آیت۔ 11) سُحْقًا کسی فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر

[ان الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ : بیشک جو لوگ مرعوب رہتے ہیں اپنے رب سے ][ بِالْغَيْبِ : اَن دیکھے میں ][ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ: اس کے لیے مغفرت ہے ][ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ: اور بڑا اجر ہے ]
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے

[وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ : اور تم لوگ چھپائو اپنی بات کو ][ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ ۭ: یا نمایاں کرو اس کو ][ انهٗ عَلِيْمٌۢ: بیشک وہ (تو) جاننے والا ہے ][ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں والی (بات) کو (بھی)]
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر ہے

[اَ : کیا ][لَا يَعْلَمُ : نہیں جانے گا ][ مَنْ خَلَقَ ۭ: وہ جس نے پیدا کیا ][ وَهُوَ اللَّطِيْفُ : دو آنحالیکہ وہی باریک بین ہے ][ الْخَبِيْرُ : باخبر ہے ] (آیت۔ 14) اس کے بھی دو ترجمے ممکن ہیں، ایک یہ کہ ان کو حرف تنبیہ (خبردار۔ سن لو) مان کر ترجمہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ ہمزہ کو استفہامیہ (کیا) مان کر اور لَا یَعْلَمُ کو فعل نفی مان کر ترجمہ کیا جائے۔ دونوں ترجمے درست ہوں گے۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے

[هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ : وہ، وہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ][ ذَلُوْلًا : رام (تابعدار) کی ہوئی ][ فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا : پس تم لوگ چلو اس کے کندھوں (راستوں) میں ][ وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۭ: اور کھائو اس (اللہ) کے رزق میں سے ][ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ : اور اس ہی کی طرف دوبارہ اٹھنا ہے ] ترکیب : (آیت۔ 15) ئِ زْقِہٖ کی ضمیر ھُوَ الَّذِیْ کے لیے ہے۔ اگر اَلْاَرْضَ کے لیے ہوتی تو رِزْقَھَا آتا۔ نوٹ۔ 1: فرمایا کہ زمین کو تمہارے لیے ہم نے ایسا مطیع بنادیا کہ تم اس کے مونڈھوں (کندھوں) پر چڑھتے پھرو۔ مطلب یہ ہے کہ زمین کو حق تعالیٰ نے ایک ایسا قوام (مادہ) بخشا ہے کہ نہ تو پانی کی طرح بہنے والا ہے، نہ روئی اور کیچڑ کی طرح دبنے والا، کیونکہ زمین ایسی ہوتی تو اس پر کسی انسان کا ٹھہرنا ممکن نہ ہوتا۔ اسی طرح زمین کو لوہے یا پتھر کی طرح سخت بھی نہیں بنایا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس میں درخت اور کھیتی نہ بوئی جاسکتی، کنویں اور نہریں نہ کھودی جا سکتیں اور اس کو کھود کر اونچی عمارتوں کی بنیاد نہ رکھی جاسکتی۔ اس قوام (نرم مادے) کے ساتھ اس کو ایسا سکون بخشا کہ اس پر عمارتیں ٹھہر سکیں اور چلنے پھرنے والوں کو لغزش نہ ہو۔ (معارف القرآن) ۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟

[ءَاَمِنْتم : کیا تم لوگ امن میں (نڈر) ہوگئے ][ مَنْ فِي السَّمَاۗءِ : اس سے جو آسمان میں ہے ][ ان يَّخْسِفَ : (اِس سے) کہ وہ دھنسا دے ][ بِكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے ساتھ زمین کو ][ فَاِذَا هِيَ تموْرُ : پھر جب ہی وہ کپکپاتی ہو ] نوٹ۔ 2: مَنْ فِی السَّمَائِ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتا ہے تو اس کا ذہن آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اسی بات کو ملحوظ رکھ کے یہاں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہاں عَنْ فِی السَّمَائِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس میں اس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کو آسمان میں مقیم قرار دیتا ہے۔ یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہوسکتا ہے جب کہ اسی سورة ملک کے آغاز میں فرمایا جا چکا ہے کہ جس نے تہہ بہ تہہ سات آسمان پید اکیے اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (پس تم جدھر بھی رخ کرو اس طرح اللہ کا رخ ہے) (تفہیم القرآن)
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے

[اَمْ اَمِنْتم : یا تم لوگ امن میں ہوگئے ][ مَنْ فِي السَّمَاۗءِ : اس سے جو آسمان میں ہے ][ ان يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ : کہ وہ بھیج دے تم لوگوں پر ][ حَاصِبًا ۭ: کنکریاں مارنے والی تند ہوا ][ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ : پھر تم جان لو گے (کہ) کیسا تھا ][ نَذِيْرِ : میرا خبردار کرنے والا ] (آیت۔ 17 ۔ 18) نَذِیْرِ اور نَکِیْرِ کی ر پر کسرہ بتارہی ہے کہ ان کے آگے یائے متکلم محذوف ہیں اور یہ دراصل نَذِیْرِیْ اور نَکِیْرِیْ ہیں۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی

[وَلَقَدْ كَذَّبَ : اور بیشک جھٹلا چکے ہیں ][ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ : وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ][ فَكَيْفَ كَان : تو (دیکھو کہ) کیسا تھا ][ نَكِيْرِ : میرا عدم عرفان ]
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا یہ لو گ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو وہی ہر چیز کا نگہبان ہے

[اَوَلَمْ يَرَوْا : اور کیا انھوں نے غور ہی نہیں کیا ][ اِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ : پرندوں کی طرف اپنے اوپر ][ صٰۗفّٰتٍ : صف بچھانے (پھیلانے) والے ہوتے ہوئے ][ وَّيَقْبِضْنَ : اور سمیٹتے ہوئے ][ ڪ مَا يُمْسِكُـهُنَّ : نہیں تھامتا ان کو (کوئی)][ اِلَّا الرَّحْمٰنُ ۭ : سوائے رحمن کی ][ انهٗ بِكُلِ شَيْءٍۢ: بیشک وہ ہر چیز کو ][ بَصِيْرٌ: دیکھنے والا ہے ]
Ayah 67:20

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بتاؤ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں

[اَمَنْ هٰذَا الَّذِي : یا کون یہ ہے جو (کہ)][ هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ : وہ ہو ایسا لشکر تمہارے لیے ][ يَنْصُرُكُمْ : جو مدد کرے تمہاری ][ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ۭ: رحمن کے بجائے ][ ان الْكٰفِرُوْنَ : نہیں ہیں کافر لوگ ][ اِلَّا فِيْ غُرُوْر : مگر کچھ فریبوں میں (مبتلا)] (آیت۔ 20) اَمَّنْ دراصل اَمْ مَنْ ہے جس کو ملا کر لکھا گیا ہے۔
Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

یا پھر بتاؤ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمان اپنا رزق روک لے؟ دراصل یہ لوگ سر کشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں

[اَمَنْ هٰذَا الَّذِي؛یا کون یہ ہے جو ][ يَرْزُقُكُمْ : روزی دے تم کو ][ ان اَمْسَكَ رِزْقَهٗ ۚ: اگر وہ (رحمن) روک لے اپنا رزق ][ بَلْ لَّجوا : بلکہ وہ لوگ اڑے رہے ][ فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی کرنے میں ][ وَّنُفُوْرٍ : اور بیزاریوں میں ] (آیت۔ 21) اَمْسَکَ میں شامل ھُوَ کی ضمیر کو اگر قریبی مرجع ھٰذَا الَّذِیْ کے لیے مانیں تو جملہ بےمعنی ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ضمیر اَلرَّحْمٰن کے لیے ہے۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟

[اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : تو کیا وہ جو چلتا ہے ][ مُكِبًّا : اوندھا کرنے والا ہوتے ہوئے (خود کو)][ عَلٰي وَجْهِهٖٓ: اپنے چہرے کے بل ][ اَهْدٰٓى: زیادہ ہدایت پر ہے ][ اَمَنْ يَّمْشِيْ : یا وہ جو چلتا ہے ][ سَوِيًّا : کامل (سیدھا) ہوتے ہوئے ][ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : ایک سیدھے راستے پر ] (آیت۔ 22) یَمْشِیْ فعل لازم ہے۔ اس لیے مُکِبًا اور سَوِیًّا اس کے مفعول نہیں ہوسکتے بلکہ یہ حال ہیں۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 22 ۔ میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ان لوگوں پر یہ آیت کی راہ کیوں نہیں کھل رہی ہے اور سمجھانے کے باوجود یہ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شائد کوئی چیز کھانے کی مل جائے۔ اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کے بجائے ان کی خواہش ہے اور یہ سرجھکائے، آنکھیں بند کیے اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ ہیں پاسکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے انسان کو مستوی القامت پیدا کیا، جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا۔ لیکن بہت سے انسان جانوروں ہی کی روش کی تقلید کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اس اعلیٰ خصوصیت کو کھو بیٹھتے ہیں جو انسان کا اصلی شرف ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خواہش کے پیچھے چلنے والوں کی مثال قرآن میں جگہ جگہ جانوروں سے دی گئی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو

[قُلْ : آپ کہیے ][ هُوَ الَّذِيٓ انشَاَكُمْ : وہ، وہ ہے جس نے اٹھایا تم لوگوں کو ][ وَجَعَلَ لَكُمُ : اور بنائے تمہارے لیے ][ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۭ: سماعت اور بصارتیں اور دل ][ قَلِيْلًا مَا تَشْكُرُوْنَ : بہت تھوڑا تم لوگ شکر کرتے ہو ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 23 ۔ میں اعضاء انسانی میں ان تین اعضاء کا ذکر ہے جن پر علم و ادراک اور شعور موقوف ہے۔ فلاسفہ نے علم و ادراک کے پانچ ذریعے بیان کیے ہیں جن کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ ان پانچ چیزوں میں سے صرف دو کا ذکر کیا ہے یعنی کان اور آنکھ۔ وجہ یہ ہے کہ سونگھنے، چکھنے اور چھونے سے بہت کم چیزوں کا علم انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کی معلومات کا بڑا مدار سننے اور دیکھنے پر ہے۔ اور ان میں بھی سننے کو مقدم کیا گیا ہے۔ غور کرو تو معلوم ہوگا کہ انسان کو اپنی عمر میں جتنی معلومات ہوتی ہیں ان میں سنی ہوئی چیزیں بہ نسبت دیکھی ہوئی چیزوں کے بدرجہا زائد ہوتی ہیں۔ بیشتر معلومات انسانی انہیں دوراہوں سے حاصل ہوتی ہیں اور تیسری چیز قلب کو بتلایا ہے کہ وہ علم کا اصل مرکز اور بنیاد ہے، کانوں سے سنی ہوئی اور آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیزوں کا علم بھی قلب پر موقوف ہے۔ جبکہ فلاسفہ (یعنی فلسفی لوگ) دماغ کو اس کا مرکز مانتے ہیں۔ (معارف القرآن) ۔ جو اس خمسہ سے حاصل شدہ معلومات کے ضمن میں دماغ یعنی عقل اور دل، دونوں کا اپنا اپنا ایک رول ہے جس کی وضاہت آیت۔ 7:172، نوٹ۔ 2 میں کی جا چکی ہے۔ اسے دوبارہ دیکھ لیں۔ (مرتب)
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے

[قُلْ هُوَ الَّذِي : آپ کہیے وہ، وہ ہے جس نے ][ ذَرَاَكُمْ فِي الْاَرْضِ : بکھیرا تم لوگوں کو زمین میں ][ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : اور اس کی طرف ہی تم لوگ اکٹھا کیے جائو گے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 24 ۔ میں اس حقیقت کی یاد دہانی کردی ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرندے اس کی حفاظت کرتے ہیں تو ہر دیکھنے والا بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا۔ آکر یہ واضح حقیقت خدا کے متعلق تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔ اگر تم عقل سے کام لو (آیت۔ 23 کے حوالے سے) تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جس خدا نے تم کو زمین میں بویا (پھیلایا) ہے اور تمہاری پرورش کر رہا ہے وہ تم کو یونہی نہیں چھوڑ رکھے گا، بلکہ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ کر اپنے کھلیان میں جمع کرے گا۔ پھر اس کے دانے کو بھس سے الگ کرے گا اور اس کو کھتے میں جمع کر کے بھس کو جلا دے گا۔ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے یہاں جو حقیقت نہایت سادہ لفظوں میں بیان کردی ہے، قدیم ضحیفوں خصوصاً انجیل میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں "اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟"

[وَيَقُوْلُوْنَ : اور یہ لوگ کہتے ہیں ][ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ : کب ہے یہ وعدہ ][ ان كُنْتم صٰدِقِيْنَ : اگر تم لوگ سچے ہو ]
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

کہو، "اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں"

[قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ : آپ کہیے یہ علم تو بس ][ عِنْدَ اللّٰهِ ۠: اللہ کے پاس ہے ][ وَاِنَّمَآ اَنَا : اور میں تو صرف ][ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: ایک کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں ]
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو اُن سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے، اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے

[فَلَمَا رَاَوْهُ : پھر جب وہ دیکھیں گے اس (وعدہ) کو ][ زُلْفَةً : قریب میں ][ سِيْۗـــــَٔتْ : تو بگاڑے جائیں گے ][ وُجوهُ الَّذِينَ كَفَرُوْا : ان لوگوں کے چہرے جنھوں نے کفر کیا ][ وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِي : اور کہا جائے گا یہ ہے وہ ][ كُنْتم بِهٖ تَدَّعُوْنَ : تم لوگ جس کو مانگا کرتے تھے ]
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟

[قُلْ اَرَءَيْتُمْ : آپ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا ][اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کر دے مجھ کو اللہ ][ وَمَنْ مَّعِيَ : اور ان کو (بھی) جو میرے ساتھ ہیں ][ اَوْ رَحِمَنَا ۙ: یا رحم کرے ہم پر ][ فَمَنْ يُّجِيْرُ الْكٰفِرِيْنَ : تو کون بچائے گا کافروں کو ][ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : ایک دردناک عذاب سے ]
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے

[قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ : آپ کہیے وہی رحمن ہے ][ اٰمَنَا بِهٖ : ہم ایمان لائے جس پر ][ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۚ : اور اس پر ہی ہم نے بھروسہ کیا ][ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ : پس تم لوگ جان لو گے کون وہ ہے جو ][ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : ایک کھلی گمراہی میں ہے ]
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا؟

[قُلْ اَرَءَيْتم : آپ کہیے کیا تم لوگوں نے غور کیا ][ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ : اگر ہوجائے تمہارا پانی ][ غَوْرًا : زمین میں جذب ][ فَمَنْ يَاْتِيْكُمْ : تو کون لائے گا تمہارے پاس ][ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ : کچھ رواں پانی۔] نوٹ۔ 3: آخر سورة میں (آیت۔ 30) پھر ایک جملہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ زمین پر بسنے والو اور اس کو کھود کر کنویں بنانے والو اور اس کے پانی سے اپنے پینے پلانے اور نباتات اگانے کا کام لینے والو، اس بات کو مت بھولو کہ یہ سب چیزیں کوئی تمہاری ذاتی جاگیر نہیں ہیں، بلکہ صرف حق تعالیٰ کا عطیہ ہیں۔ پانی اس نے برسایا، پانی کو برف کی شکل میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس نے لاد دیا، پھر برف کو آہستہ آہستہ پگھلا کر پہاڑوں کے عروق کے ذریعہ زمین کے اندر اس نے اتارا اور بغیر کسی پائپ لائن کے پوری زمین میں اس کا ایسا جال پھیلا دیا کہ جہاں چاہو زمین کھود کر پانی نکال لو۔ مگر یہ پانی اس نے زمین کی اوپری سطح پر رکھا ہے جس کو چند فٹ یا چند گز زمین کھود کر نکالا جاسکتا ہے۔ یہ مالک و خالق کا عطیہ ہے اگر وہ چاہے تو اس پانی کو زمین کی نیچے کی سطح پر اتار دے جہاں تک تمہاری رسائی ممکن نہ ہو۔ تو تمہاری کون سی طاقت ہے جو اس بھاری پانی کو حاصل کرسکے۔ حدیث میں ہے کہ جب آدمی اس آیت کی تلاوت کرے تو اس کو سوچنا چاہیے اَللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْن۔ یعنی اللہ ہی پھر اس کو لاسکتا ہے، ہماری کسی کی طاقت نہیں۔ (معارف القرآن) مورخہ 24: محرم 1431 ھ بمطابق 11 ۔ جنوری 2010 ء