Ayah 66:1[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ : اے نبی آپ کیوں حرام کرتے ہیں ] [مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ : اس کو جسے حلال کیا اللہ نے آپ کے لیے ] [تَبْتَغِيْ : آپ جستجو کرتے ہیں ] [مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ : اپنی ازواج کے راضی ہونے کی ] [وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: اور اللہ بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 66:2[قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ : فرض کردیا ہے اللہ نے آپ لوگوں کے لیے ] [تَحِلَّةَ اَيْمَانكُمْ : اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کو ] [وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ : اور اللہ ہی آپ لوگوں کا کارساز ہے ] [وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ : اور وہ ہی جاننے والا ہے حکمت والا ہے ]
نوٹ۔ 1: حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد تمام ازواج مطہرات کے پاس چکر لگاتے تھے۔ ایک موقعہ پر آپ حضرت زینب کے ہاں زیادہ دیر تک بیٹھنے لگے، کیونکہ ان کے ہاں کہیں سے شہد آیا ہوا تھا اور آپ وہاں سہد کا شربت نوش فرماتے تھے۔ حضرت عائسہ کا بیان ہے کہ مجھ کو اس پر رشک آیا اور میں نے حضرت حفصہ، حضرت سودہ اور حضرت صفیہ سے مل کر یہ طے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آپ آئیں وہ آپ سے یہ کہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ مغافیر ایک قسم کا پھول ہوتا ہے جس میں کچھ ساند ہوتی ہے اور اگر شہد کی مکھی اس سے شہد حاصل کرے تو اس کے اندر بھی اس ساند کا اثر آجاتا ہے۔ جب متعدد بیویوں نے یہ کہا تو آپ نے یہ عہد کرلیا اب یہ شہد استعمال نہیں کریں گے۔ (تفہیم القرآن) آیت۔ 1 میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
نوٹ۔ 2: اوپر کی آیت میں خطاب صرف نبی ﷺ سے تھا جبکہ آیت۔ 2 ۔ میں عام مسلمانوں سے خطاب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ٹوکنے سے اصل مقصود یہ تھا کہ اس کے سبب سے امت کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ چناچہ اس آیت میں تمام مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر کسی جائز چیز کو حرام کرنے کی قسم کھا بیٹھے تو اللہ نے اس کے لیے یہ ضروری ٹھہرایا ہے کہ وہ اس قسم کو توڑ دے۔ اور کفارہ کا حکم المائدہ کی آیت۔ 89 ۔ میں بیان ہوچکا ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 66:3[وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ : اور جب رازدارانہ بتائی نبی نے ] [اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ : اپنی ازواج کو کسی کو ] [حَدِيْثًا : ایک بات ] [فَلَمَا نَبَّاَتْ : پھر جب انھوں (زوجہ) نے بتادیا (کسی کو)] [بِهٖ : اس (راز) کے بارے میں ] [وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ : اور آگاہ کیا ان کو اللہ نے ] [عَلَيْهِ : اس (راز فاش ہونے) پر ] [عَرَّفَ : تو آپ نے بتایا ] [بَعْضَهٗ : اس (آگاہی) کے بعض کو ] [وَاَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ : اور اعراض کیا بعض سے ] [فَلَمَا نَبَّاَهَا : پھر جب آپ نے جتلایا ان (زوجہ) کو ] [بِهٖ : اس کے بارے میں ] [قَالَتْ : تو انھوں (زوجہ) نے کہا ] [مَنْ انۢبَاَكَ هٰذَا : کس نے خبر دی آپ کو اس کی ] [قَالَ نَبَّانيَ : آپ نے کہا بتلایا مجھ کو ] [الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ : اس علیم خبیر (ہستی) نے ]
ترکیب : (آیت۔ 3) نبات کا فاعل اس میں شاملھی کی ضمیر سے جو بعض ازواجہ کے لیے ہے۔ اس کا مفعول یہاں مذکور نہیں ہے جبکہ بہ کی ضمیر راز والی بات کے لیے ہے۔ اظھر کے ساتھ ہُ کی ضمیر مفعولی نبی کے لیے ہے اور علیہ کی ضمیر راز فاش کرنے والی بات کے لیے ہے۔ عسرف کا فاعل اس میں شامل ھو کی ضمیر ہے جو نبی کے لیے ہے۔ بعضہ کی ضمیر اللہ کی دی ہوئی آگاہی کے لیے ہے۔ فلما نباھا بہ میں نبا کا فاعل ھو کی ضمیر ہے جو نبی کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ ھا کی ضمیر مفعولی بعض ازواجہ کے لیے ہے اور بہ کی ضمیر راز فاش کرنے والی بات کے لیے ہے۔
نوٹ۔ 3: آیت۔ 3 ۔ میں قرآن نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے کہ حضور نے کیا راز کی بات کہی اور کس بیوی سے کہی۔ قرآن نے اس کو پردے ہی میں رکھا ہے۔ اس وجہ سے ہم اس راز کے در پے ہونا جائز نہیں سمجھتے۔ حضور کی ازواج ہمارے لیے مائوں کی منزلت میں ہیں۔ بیٹوں کے لیے یہ بات کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنی مائوں کے رازوں کے کھوج میں لگیں۔ بالخصوص جب کہ اس راز کے انکشاف سے اس آیت کے فہم میں کوئی مدد بھی نہ مل رہی ہو۔ یہاں راز کو فاش کرنے پر ہی تنبیہ کی گئی ہے اب اگر ہم اس کے در پے ہوں گے تو اس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ جس چیز سے روکا گیا ہے، ہم نے اسی کا ارتکاب کیا۔ (تدبر قرآن)
راز ظاہر کرنے پر یہاں اس لیے ٹوکا گیا ہے کہ نہ صرف ازواج مطہرات بلکہ مسلم معاشرے کے تمام ذمہ دار لوگوں کی بیویوں کو رازوں کی حفاظت کی تربیت دی جائے۔ آیت میں اس سوال کو قطعی نظرانداز کردیا گیا ہے کہ جس راز کی بات کو افشا کیا گیا تھا وہ کوئی اہمیت رکھتی ہے یا نہیں اور اس کے افشا سے کسی نقصان کا خطرہ تھا یا نہیں۔ گرفت اس امر پر کی گئی ہے کہ راز کی بات کو دوسرے سے بیان کردیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی ذمہ دار ہستی کے گھر والوں میں اگر یہ کمزوری موجود ہو تو آج ایک غیر اہم راز افشا ہوا ہے، کل کوئی اہم راز افشا ہوسکتا ہے۔ کسی وقت بھی یہ کمزوری کسی بڑے خطرے کا سبب بن سکتی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 66:4[ان تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ : اگر تم دونوں توبہ کرو اللہ کی طرف ] [فَقَدْ صَغَتْ : تو مائل تو ہوچکے ہیں ] [قُلُوْبُكُمَا : تم دونوں کے دل ] [وَان تَظٰهَرَا : اور اگر تم دونوں باہم مدد کرو گی ] [عَلَيْهِ : اِن (نبی) کے خلاف ] [فَان اللّٰهَ : تو بیشک اللہ (جو) ہے ] [هُوَ مَوْلٰىهُ : وہ ہے ان کا کارساز ] [وَجبرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ : اور جبریل اور مومنوں کا صالح (بھی)] [وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ : اور فرشتے ] [بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ظَهِيْرٌ: مددگار ہیں ]
(آیت۔ 4) ان تتوبا شرط ہے اور فقہ صفت جواب شرط ہے۔ ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ وان تظھرا علیہ میں تظھرا باب تفاعل میں فعل ماضی کے مثنیہ مذکر غائب کا صیغہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مضارع کے تثنیہ مؤنث غائب کا صیغہ تنظھران ہے۔ باب تفعل اور تفاعل کے مضارع کے جن صیغوں دو تا آجاتی ہیں وہاں ایک تا کو گرا دینا جائز ہے۔ اس لیے یہاں ایک تا گری ہوئی ہے اور ان شرطیہ کی وجہ سے نون اعرابی گرا ہوا ہے۔
Ayah 66:5[عَسٰى رَبُّهٗٓ: قریب ہے ان کا رب ] [ان طَلَّقَكُنَّ : اگر وہ طلاق دیں تم عورتوں کو ] [ان يُّبْدِلَهٗٓ: کہ وہ بدلہ میں دے ان کو ] [اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ : ایسی بیویاں جو بہتر ہوں گی تم سے ] [مُسْلِمٰتٍ : حق کو قبول کرنے والیاں ] [مُّؤْمِنٰتٍ : ایمان لانے والیاں ] [قٰنِتٰتٍ : اطاعت کو لازم کرنے والیاں ] [تٰۗىِٕبٰتٍ : توبہ کرنے والیاں ] [عٰبِدٰتٍ : عبادت کرنے والیاں ] [سٰۗىِٕحٰتٍ : روزے دار ہونے والیاں ] [ثَيِّبٰتٍ : شوہر آشنا ہونے والیاں ہوتے ہوئے ] [وَّاَبْكَارًا : اور (یا) کنواریاں ہوتے ہوئے ]
(آیت۔ 5) یبدلہ میں لہ پر حرف جارّہ والا لا) نہیں ہے بلکہ یہ فعل کے مادہ ” ب د ل “ والا لام ہے۔ یعنی یہ دراصل یبدل ہ ہے۔ مسلمت سگحت تک کو صفات کے درمیان میں کہیں بھی واو نہیں آئی ہے لیکن تیبت اور ابکارا کے درمیان وائو لائی گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مسلمت سے سگحت تک کی تمام صفات کسی ایک قانون میں بیک وقت جمع ہوسکتی ہیں لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی خاتون ایک ہی وقت میں ثیبت میں سے بھی ہو اور ابکارا میں سے بھی۔ اس توجیہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے کس طرح قرآن کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف کی چھان پھٹک کی ہے اور تدبر قرآن کا حق ادا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کی عرق ریزیوں سے کماحقہ استفادہ کریں۔
Ayah 66:6[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ] [قُوْٓا : تم لوگ بچائو ] [انفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا : اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو ایک ایسی آگ سے ] [وَّقُوْدُهَا : جس کا ایندھن ] [النَاسُ وَالْحِجَارَةُ : انسان اور پتھر ہیں ] [عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ: اس (آگ) پر ایسے فرشتے (مقرر) ہیں جو ] [غِلَاظٌ شِدَادٌ: انتہائی سخت ہیں ] [لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ : وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی ] [مَآ اَمَرَهُمْ : اس میں جو اس نے حکم دیا ان کو ] [وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ : اور کرتے ہیں وہ (ہی) جو انھیں حکم دیا گیا ]
Ayah 66:7[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوْا : اے لوگوں جنھوں نے انکار کیا ] [لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ : تم لوگ بہانے مت گھڑو آج کے دن ] [انمَا تُجْزَوْنَ مَا : تم کو تو بس بدلہ دیا جاتا ہے وہی جو ] [كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کیا کرتے تھے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 7 ۔ بتارہی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے اس کو بھی وہ اپنی حدِّ استطاعت تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان نہیں اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو، ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔ اس کو صرف یہی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے بچے دنیا میں خوشحال ہوں، بلکہ اس سے بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ آخرت میں جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ ” تم میں سے ہر ایک راعی (چرواہا) ہے اور ہر ایک اپنی رعیت (گلے) کے بارے میں جوابدہ ہے۔ حکمراں راعی ہے اور وہ اپنی رعیت …رعایا) کے معاملہ میں جوابدہ ہے۔ مرد اپنے گھر والوں کا راعی ہے اور وہ ان کے بارے میں جوابدہ ہے۔ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی راعی ہے اور وہ ان کے بارے میں جوابدہ ہے۔ “ (تفہیم القرآن)
Ayah 66:8[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ] [تُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ : تم لوگ توبہ کرو اللہ سے ] [تَوْبَةً نَّصُوْحًا : انتہائی خالص توبہ ] [عَسٰى رَبُّكُمْ : قریب ہے تمہارا رب ] [ان يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ : کہ وہ دور کر دے تم سے ] [سَيِّاٰتِكُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [وَيُدْخِلَكُمْ : اور وہ داخل کر دے تم کو ] [جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہیں جن کے دامن سے نہریں ] [يَوْمَ : اس دن جب ] [لَا يُخْزِي اللّٰهُ : رسوا نہیں کرے گا اللہ ] [النَّبِيَّ : ان نبی کو ] [وَالَّذِينَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ : اور ان کو جو ایمان لائے ان کے ساتھ ] [نُوْرُهُمْ يَسْعٰى: ان کا نور دوڑتا ہوگا ] [بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانهِمْ : ان کے آگے اور ان کے داہنی جانب ] [يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ : وہ لوگ کہتے ہوں گے اے ہمارے رب ] [اَتممْ لَنَا نُوْرَنَا : تو پورا کر دے ہمارے لیے ہمارے نور کو ] [وَاغْفِرْ لَنَا : اور تو بخش ہمارے لیے (ہمارے گناہوں کو)] [انكَ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ قَدِيْرٌ : بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ]
نوٹ۔ 2: تَوْبَۃً نَصُوْصًا کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ ریا اور نمود سے خالص ہو۔ محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوفِ عذاب سے گناہ پر نادم ہو کر توبہ کی ہو۔ حضرت علی سے سوال کیا گیا کہ توبہ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا جس میں چھ چیزیں جمع ہوں۔ (1) اپنے گذشتہ برے عمل پر ندامت (2) جو فرائض واجبات اللہ تعالیٰ کے چھوٹے ہوں ان کی قضا (3) کسی کا مال وغیرہ ظلماً لیا تھا تو اس کی واپسی۔ (4) کسی کو ہاتھ یا زبان سے تکلیف پہنچائی تھی تو اس سے معافی (5) آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ (6) اور یہ کہ جس طرح اس نے اپنے نفس کو اللہ کی نافرمانی کرتے دیکھا، اسی طرح اب وہ اسے اللہ کی اطاعت کرتے دیکھ لے۔ حضرت علی نے جو توبہ کی شرائط بیان کی ہیں وہ سب کے ہی نزدیک مسلم ہیں۔ بعض نے مختصر اور بعض نے مفصل بیان کردیا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 66:9[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ : اے نبی آپ جہاد کریں ] [الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ : کافروں سے اور منافقوں سے ] [وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ : اور آپ سختی کریں ان پر ] [وَمَاوٰىهُمْ جَهَنَّمُ : اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ] [وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنی بری ہے (وہ) لوٹنے کی جگہ ]
Ayah 66:10[ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا : بیان کرتا ہے اللہ ایک مثال ] [لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا : ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا ] [امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ : نوح کی عورت (بیوی) اور لوط کی عورت (بیوی) کی ] [كَانتَا : وہ دونوں تھیں ] [تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ : ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے تحت ] [فَخَانتٰهُمَا : پھر ان دونوں (خواتین) نے خیانت کی ان دونوں (بندوں) سے ] [فَلَمْ يُغْنِيَا : تو وہ دونوں (بندے) کام نہ آئے ] [عَنْهُمَا : ان دونوں (خواتین) کے ] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے (چھڑانے میں)] [شَيْــــًٔا : کچھ بھی ] [وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَارَ : اور کہا گیا تم دونوں داخل ہو آگ میں ] [مَعَ الدّٰخِلِيْنَ : داخل ہونے والوں کے ساتھ ]
ترکیب : (آیت۔ 10) ضرب کا مفعول ہونے کی وجہ سے مثلاً حالت نصب میں سے، جبکہ امرات کی نصب مثلا کا بدل ہونے کی وجہ سے ہے۔ ایک نوٹ کرنے والی بات یہ ہے ان آیات زیر مطالعہ میں تینوں جگہ امراۃ کو گول تے سے لکھنے کے بجائے لمبی تے سے امرات لکھا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کوئی ۔ 16 ۔ 17 ۔ مقامات پر اس کو لمبی تے سے لکھا گیا ہے۔ عام رائے یہ ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن قاری حضرات کا کہنا ہے کہ قراءت میں فرق پڑتا ہے۔ جہاں یہ لفظ گول تے سے لکھا ہے وہاں اگر سانس ٹوٹنے کی وجہ سے وقف کرنا ہو تو چھوٹی ہا کی آواز کے ساتھ امراہ کہہ کر وقف کریں گی۔ اور جہاں یہ لمبی تے سے لکھا ہے وہاں تا کی آواز کے ساتھ امرات کہہ کر وقف کریں گے پھر پیچھے سے ملا کر پڑھنا شروع کریں گے۔
لیکن حال ہی میں اس کی ایک اور وجہ سامنے آئی ہے۔ اسلام سے پانچ سو سال قبل کی نبطیوں کی INSCRIPTIONS (کندہ تحریریں) دریافت ہوئی ہیں، جہاں سے عربی رسم الخط آیا ہے۔ ان کے ہاں گول تے (ۃ) کو لمبی تے (ت) سے لکھنا ثابت ہے۔ اس لیے عربی زبان کے عبوری دور میں لمبی اور گول تا میں تمیز کرنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا۔ بعد میں کوفہ اور بصرہ میں جب عربی گرامر مرتب کرنے کا کام ہوا، اس وقت یکسانیت پیدا کرنے کی غرض سے اس کے بھی قاعدے طے کیے گئے۔
دوسری بات یہ نوٹ کریں کہ صالحین (جمع کا صیغہ) نہیں آیا ہے بلکہ صالحین (تثنیہ کا صیغہ) آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ عباد نا کی صفت نہیں ہے بلکہ عبدین کی صفت ہے۔ یغنیا میں شامل ھما کو ضمیر فاعلی عبدین کے لیے ہے جبکہ عنھما کی ضمیر دونوں خواتین کے لیے ہے۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 10 میں خیانت اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ بدکاری کی مرتکب ہوئی تھیں بلکہ اس معنی میں ہے کہ انھوں نے ایمان کی راہ میں حضرت نوح اور حضرت لوط کا ساتھ نہ دیا بلکہ ان کے مقابلہ میں دشمنانِ دین کا ساتھ دیتی رہیں۔ (تفہیم القرآن)
اس آیت میں مثال پیش کی ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کام آنے والی چیز آدمی کا اپنا عمل ہے۔ جس کے پاس حسن عمل کی پونجی نہیں ہوگی اس کو کسی بڑے سے بڑے کی نسبت بھی کچھ نفع پہنچانے والی نہیں بن سکے گی۔ آخرت کی جوابدہی سے سب سے زیادہ بےپرواہی اہل مذاہب کے اندر اس وہم نے پیدا کی کہ انھوں نے خیال کیا کہ وہ اللہ کے محبوبوں اور برگزیدہ لوگوں کی اولاد ہیں ‘ اس وجہ سے دوزخ کی آگ ان کو نہیں چھوئے گی۔ یہود اور نصارٰی اسی فتنہ میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی زیر مطالعہ آیات میں یہ امر خاص توجہ کے لائق ہے کہ برائی کی مثال کے لیے بھی عورتوں ہی کا انتخاب کیا ہے اور بھلائی کی مثال کے لیے بھی انہی کے نام لیے ہیں۔ اس سے مقصود اس عام غلط فہمی کو رفع کرنا ہے کہ تمام برائی کا سرچشمہ عورت ہی ہے۔ اپنی خلقت کے اعتبار سے عورت بھی خیر و شر دونوں صلاحیتوں کی حامل ہے۔ اس کا انحصار اس کے ارادہ اور اختیار کے استعمال پر ہے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2: یہ سورة اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں چند واقعات کی طرف اشارہ کر کے چند اہم مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
1 ۔ ایک یہ کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے حدود مقرر کرنے کے اختیارات قطعی طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ عام انسان تو درکنار، خود اللہ کے نبی ﷺ کی طرف بھی اس کا کوئی حصّہ منتقل نہیں کیا گیا۔
2 ۔ دوسرے یہ کہ انسانی معاشرہ میں نبی کا مقام انتہائی نازک مقام ہے۔ ایک معمولی سی بات جو کسی دوسرے انسان کی زندگی میں چنداں اہمیت نہیں رکھتی، نبی کی زندگی میں اگر پیش آجائے تو وہ قانون کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء (علیہم السلام) کی زندگی پر کڑی نگرانی رکھی گئی ہے کہ ان کا کوئی ادنیٰ اقدام بھی منشاء الٰہی سے ہٹا ہوا نہ ہو۔ ایسا کوئی فعل گر نبی سے کبھی صادر ہوا ہے تو اس کی اصلاح کردی گئی ہے تاکہ اسلامی قانون اور اس کے اصول اپنی بالکل صحیح صورت میں نہ صرف خدا کی کتاب بلکہ نبی کے اسود حسنہ کی صورت میں بھی خدا کے بندوں تک پہنچ جائیں۔
3 ۔ تیسری بات جو مذکورہ بالا نکتہ سے خودبخود نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ذرا سی بات پر جب نبی ﷺ کو ٹوک دیا گیا اور نہ صرف اس کی اصلاح کی گئی بلکہ اسے ریکارڈ پر بھی لے آیا گیا، تو یہ چیز ہمارے دل میں قطعی طور پر یہ اطمینان پیدا کردیتی ہے کہ حیات طیبہ میں جو اعمال و افعال اور جو احکام و ہدایات ہمیں اب ملتے ہیں، اور جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت یا اصلاح ریکارڈ پر موجود نہیں ہے وہ سرا سر اللہ کی مرضی سے پوری مطابقت رکھتے ہیں۔
4 ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ جس رسول مقدس کی عزت و حرمت کو اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں کے حق میں لازمۂ ایمان قرار دیتا ہے اور جن ازواج مطہرات کو اللہ تعالیٰ خود اہل ایمان کی ماں قرار دیتا ہے، انہی کو اس نے اس سورة میں تنبیہہ فرمائی ہے اور پھر یہ خفیہ طور پر نہیں کی گئی بلکہ اس کتاب میں درج کردی گئی جسے تمام امت کو ہمیشہ تلاوت کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ کتاب الل ہیں اس ذکر کا منشا یہ نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور امہات المؤمنین کو اہل ایمان کی نگاہوں میں گرا دینا چاہتا تھا۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآن پاک کی یہ سورة پڑھ کر کسی مسلمان کے دل سے ان کا احترام اٹھ نہیں گیا۔ اب قرآن میں یہ ذکر لانے کی مصلحت اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اپنے بزرگوں کے احترام کی صحیح حدود سے آشنا کرنا چاہتا ہے۔ نبی کا احترام اس بنا پر نہیں ہے کہ اس سے لغرش کا صدور ناممکن ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ وہ مہر ھئی الٰہی کا مکمل نمائندہ ہے۔ اسی طرح سے صحابہ کرام ہوں یا ازواج مطہرات، یہ سب انسان تھے، فرشتے یا فوق البشر نہ تھے۔ ان سے غلطیوں کا صدور ہوسکتا تھا۔ ان کو جو مرتبہ بھی حاصل ہوا اس وجہ سے حاصل ہوا کہ اللہ کی رہنمائی اور اللہ کے رسول کی تربیت نے ان کو انسانیت کا بہترین نمونہ بنادیا تھا۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ کے عہد مبارک میں صحابہ یا ازواج مطہرات سے بشریت کی بنا پر جب بھی کسی غلطی کا صدور ہوا، تو اس پر ٹوکا گیا۔ ان کی بعض غلطیوں کی اصلاح حضور نے کی جن کا ذکر احادیث میں بکثرت آیا ہے اور بعض غلطیوں کا ذکر قرآن مجید میں کر کے اللہ تعالیٰ نے خود ان کی اصلاح کی تاکہ مسلمان بھی بزرگوں کے احترام کا کوئی ایسا مبالغہ آمیز تصور نہ قائم کرلیں جو انھیں انسانیت کے مقام سے اٹھ کر دیویوں اور دیوتائوں کے مقام پر پہنچا دیں۔
5 ۔ پانچویں بات جو اس سورة میں کھول کر بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کا دین بالکل بےلاگ ہے۔ اس میں ہر شخص کے لیے صرف وہی کچھ ہے جس کا وہ اپنے ایمان و اعمال کے لحاظ سے مستحق ہو۔ کسی بڑی سے بڑی بستی کے ساتھ نسبت بھی اس کے لیے قطعاً نافع نہیں ہے اور کسی بری سے بری ہستی کے ساتھ نسبت بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اس معاملہ میں تین قسم کی عورتوں کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ ایک مثال حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کی ہے۔ انبیاء کی بیویاں ہونا ان کے کچھ کام نہ آیا اور وہ جہنم کی مستحق ہویں۔ دوسری مثال فرعون کی بیوی کی ہے، جو اگرچہ ایک بدترین دشمن خدا کی بیوی تھیں لیکن اس جیسے کافر کی بیوی ہونا بھی ان کے لیے کسی نقصان کا موجب نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت کا مستحق بنادیا۔ تیسری مثال حضرت مریم کی ہے جنھیں یہ مرتبۂ عظیم اس لیے ملا کہ اللہ نے جس شدید آزمائش میں انھیں ڈالنے کا فیصلہ فرمایا تھا اس کے لیے انھوں نے سرتسلیم خم کردیا۔ اور ایک سچی مومنہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ برداشت کرنا قبول کرلیا جو اللہ کی مرضی پوری کرنے کے لیے برداشت کرنا ناگزیر تھا۔ تب اللہ نے ان کو شیدۃ النساء فی الجنۃ کے مرتبہ عالی پر سرفراز فرمایا۔
ان امور کے علاوہ ایک اور اہم حقیقت جو اس سورة سے ہمیں معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ کے پاس صرف وہی علم نہیں آتا تھا جو قرآن مجید میں درج ہے، بلکہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے دوسری باتوں کا علم بھی دیا جاتا تھا جو قرآن مجید میں درج ہے، بلکہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے دوسری باتوں کا علم بھی دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی صریح دلیل اس سورة کی آیت۔ 3 ۔ ہے۔ اس میں نبی ﷺ نے ایک اپنی ایک زوجہ محترمہ کو بتایا کہ راز فاش کرنے کی خبر ان کو اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں وہ آیت کہاں ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خبر دی تھی۔ اگر ایسی کوئی آیت قرآن میں نہیں ہے تو یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی نبی ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔ اس سے منکرین حدیث کا یہ دعوٰی بالکل باطل ہوجاتا ہے کہ آپ پر قرآن کے سوا اور کوئی وحی نہیں آتی تھی۔
Ayah 66:11[وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا : اور بیان کرتا ہے اللہ ایک مثال ] [لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا : ان کے لیے جو ایمان لائے ] [امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ : فرعون کی عورت (بیوی) کی ] [اِذْ قَالَتْ رَبِ : جب اس (خاتون) نے کہا اے میرے رب ] [ابْنِ لِيْ : تو تعمیر کر دے میرے لیے ] [عِنْدَكَ : اپنے پاس ] [بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ : ایک گھر جنت میں ] [وَنَجِّــنِيْ : اور تو نجات دے مجھ کو ] [مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ : فرعون اور اس کے عمل سے ] [وَنَجِّــنِيْ : اور تو نجات دے مجھ کو ] [مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : اس طالم قوم سے ]
(آیت۔ 11) کانت مؤنث ہے اس لحاظ سے اس کی خبر من القنثت آنی چاہیے تھی مگر مذکر قانتین آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانتون کے لفظ میں مرد اور عورت سب شامل ہیں اس لیے قانتین لانا بھی جائز ہے۔ (حافظ احمد یار صاحب مرحوم کے ترجمہ قرآن کیسٹ سے ماخوذ۔ ان کیسٹوں کی ریکارڈنگ 1987 ء یا 1988 ء میں ہوئی تھی)
Ayah 66:12[وَمَرْيَمَ : اور مریم کی (مثال)] [ابْنَتَ عِمْرٰنَ : جو عمران کی بیٹی تھیں ] [الَّتِيْٓ: وہ (بیٹی) جنھوں نے ] [اَحْصَنَتْ : حفاظت کی ] [فَرْجَهَا : اپنی عصمت کی ] [فَنَفَخْنَا فِيْهِ : تو ہم نے پھونکا اس میں ] [مِنْ رُّوْحِنَا : اپنی روح میں سے ] [وَصَدَّقَتْ : اور انھوں نے تصدیق کی ] [بِكَلِمٰتِ رَبِهَا : اپنے رب کے فرمانوں کی ] [وَكُتُبِهٖ : اور اس کی کتابوں کی ] [وَكَانتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ : اور وہ تھیں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ]